Chitral Times

صوبائی حکومت شعبہ صحت کوعصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عوام کی خدمات تک رسائی آسان بنانے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیراعلیِ

Posted on

صوبائی حکومت شعبہ صحت کوعصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عوام کی خدمات تک رسائی آسان بنانے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہاہے کہ صوبائی حکومت شعبہ صحت کوعصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عوام کی خدمات تک رسائی آسان بنانے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے جس کا مقصد صحت کے نظام کو عوامی ضروریات اور توقعات کے مطابق بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے درجنوں اقدامات اٹھا ئے ہیں ، جن میں ڈاکٹروں کو مقامی سطح پر تربیت دینے کےلئے سٹیٹ آف دی آرٹ کلینکل سکلز لیب کا قیام، صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں ماڈیولر آپریشن تھیٹرزکاقیام ، صوبے کے نان ٹیچنگ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری اور اس طرح کے دیگر اقدامات شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں محمود خان نے کہاکہ صوبہ بھر میں نان ٹیچنگ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرنے کیلئے منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کی تکمیل سے لوگوں کو مقامی سطح پر معیاری علاج معالجے کی سہولیات میسر ہو نگی۔اس کے علاوہ رورل ہیلتھ سنٹرز اور بنیادی مراکز صحت کو بھی 24 گھنٹے چلانے کیلئے منصوبہ ترتیب دیا گیاہے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت نے عوامی خدمت اور فلاح کو اپنا شعار بنایا اور شعبہ صحت سمیت تمام شعبہ جات میں عوامی ضروریات اور توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبے شروع کئے۔ یاد رہے کہ رواں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شعبہ صحت کے 132 منصوبے شامل کئے گئے ہیں جن میں 91 جاری اور41 نئے ہیں جبکہ رواں سال کے بجٹ میں25 ارب روپے صحت کار ڈ پلس اور 10 ارب روپے مفت ادویات کی فراہمی کیلئے بھی رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے کے مختلف اضلاع میں چار نئے میڈیکل کالجز قائم کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران تین ہزار سے زائد ڈاکٹرز بھرتی کئے گئے ہیں جن میں سپیشلسٹ بھی شامل ہیں جبکہ دیگر اقدامات میں پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو فعال بنانا ، خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں نئے او پی ڈی بلاک کا قیام ، ایل آر ایچ میں الائیڈ اینڈ سرجیکل بلاک کو فعال بنانا ، فاونٹین ہاو س پشاور،حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں آرتھوپیڈک اینڈ سپائن سرجری بلاک، با چا خان میڈیکل کمپلیکس صوابی کی اپ گریڈیشن، باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ایکسڈنٹ اینڈ ایمرجنسی اور برن یونٹ کاقیام، ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال چارسدہ کوفعال بنانا، سید وکالج آ ف ڈینٹسری کا قیام، نان ٹیچنگ ڈی ایچ کیوز کی ری ویمپنگ، لیڈی ریڈنگ اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ماڈیولر آپریشن تھیٹرز کا قیام، سوات میں پیراپلیجک سنٹر کا قیام ،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بٹ خیلہ میں برن اینڈ ٹراما سنٹر، تھیلی سیمیا سنٹر، کارڈیالوجی یونٹ کا قیام اور اس طرح کے درجنوں اقدامات شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے دورافتادہ علاقوں میں بھی صحت سہولیات کی بہتری پر کام کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو مقامی سطح پر معیاری صحت سہولیات دستیاب ہوں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
70165

صوبائی حکومت تمام اضلاع کی یکساں ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت کام کر رہی ہے جس کا مقصد صوبے کو دیرپاترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔وزیراعلیِ

صوبائی حکومت تمام اضلاع کی یکساں ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت کام کر رہی ہے جس کا  ممقصد صوبے کو دیرپاترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔وزیراعلیِ محمود خان

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مخلصانہ قیادت ، عوام دوست پالیسیوں اور عوام پر براہ راست سرمایہ کاری کے باعث خیبرپختونخوا ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور آنے والے وقت میں خیبرپختونخوا ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک فلاحی ریاست کے قیام کیلئے رول ماڈل کے طور پر سامنے آئے گا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے سرمایہ کاری اور صنعتکاری کو فروغ دینے کیلئے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہے جس کے باعث روزگار کے کثیر مواقع پیدا کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام اضلاع کی یکساں ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت کام کر رہی ہے جس کا مقصد صوبے کو دیرپاترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، اور عوام کو ان کی دہلیز پر بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے ۔وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ متعدد چیلنجز کے باوجود ان کی حکومت نے سابقہ فاٹا کے انضمام کو نہ صرف کامیاب بنایا ہے بلکہ ان علاقوں کی ترقی کے لیے بھی ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت کام جاری ہے۔ تاہم اس معاملے میں موجودہ وفاقی حکومت کا کردار انتہائی مایوس کن ہے۔

 

وفاق کی جانب سے ضم اضلاع کے لیے ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی تشویشناک ہے جو کہ دہائیوں سے جاری استحصال کی روایت کو برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اگرچہ صوبائی حکومت قبائلی عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اپنی استعداد سے بڑھ کر کام کر رہی ہے اور آئندہ بھی جاری رکھے گی تاہم وفاق کو اس سلسلے میں اپنا کردار ایمانداری سے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم کوئی خیرات یا تعاون نہیں مانگ رہے بلکہ عوام کے جائز حق کی بات کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا اب جبکہ قبائلی اضلاع صوبے کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں تو انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان اضلاع کو بندوبستی اضلاع کے برابر لاکھڑا کرنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈر ز اپنے حصے کی ذمہ داریاں بروقت ادا کریںاور خصوصی طور پر وفاق کی طرف سے ضم اضلاع کیلئے ترقیاتی فنڈ کی عدم ادائیگی یا تاخیر صوبائی حکومت کے لئے مالی مسائل کا موجب ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پورے صوبے کی یکساں ترقی کے بغیر ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے جس کے لیے ہر ضلع اور ہر طبقے پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ عوام کو بوقت ضرورت فوری ریلیف کی فراہمی کیلئے شارٹ ٹرم اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں جو صوبائی حکومت کی حکمت عملی کا مستقل حصہ ہےں تاہم مسائل کے کل وقتی حل کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے۔

 

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اس خلاءکو پر کرنے کیلئے مختلف شعبوں میں طویل المدتی ترقیاتی اقدامات شروع کیے ، جن پر عملدرآمدکے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجود حکومت نے سیاحت کو بطور صنعت متعارف کرایا جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سیاحوںکیلئے بھی ایک ٹوریسٹ ڈیسٹینیشن بن چکا ہے جو کہ آنے والے وقت میں ملکی معیشت کو تقویت دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔اسی طرح صوبے میں موجود قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے بھی متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں شعبہ صنعت کی جدید خطوط پر ترقی بڑی اہمت کی حامل ہے۔ صوبائی حکومت نے ناصرف بیمارصنعتوں کی بحالی ممکن بنائی ہے بلکہ نئی صنعتوں کے قیام کیلئے بھی تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں۔ صوبے میں چھوٹی اور بڑی صنعتوں کے قیام سے نہ صرف روزگار کے مواقع میسر ہوئے ہیں بلکہ خیبر پختونخوا شعبہ صنعت میں بھی نجی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے بارے ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکولز، کالجز اور ہسپتالوں میں اساتذہ، ڈاکٹروں اور دیگر وسائل کی کمی کو تقریباً ختم کیا جا چکا ہے جس کے باعث ان اداروں پر عوامی اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا دوبارہ انتخاب عوامی اطمینان کا ثبوت ہے اور ہم عوامی توقعات کے مطابق دن رات محنت کر کے فلاحی ریاست کے قیام کی طرف گامزن ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
67911

صوبائی حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق عوامی فلاح کے جاری منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کےلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعلیِ 

Posted on

صوبائی حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق عوامی فلاح کے جاری منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کےلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ نااہل سیاسی ٹولے کی تمام تر سازشوں کے باوجود پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے ، امپورٹڈ حکمران عوام میں اپنا اعتماد کھوچکے ہیں اور اپنی سیاسی ساکھ بچانے کےلئے تمام تر حربے استعمال کر چکے ہیں، اب عوام کے سامنے جانے کیلئے ان کے پاس کوئی جواز باقی نہیں رہا۔یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کےلئے سیلاب اور دیگر قومی مسائل پر بھی سیاست کررہے ہیں تاہم عوام ان کی حقیقت بخوبی جان گئے ہیں اور ان کے مکروہ ارادوں سے واقف ہےں۔ پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت اور باشعور عوام کے تعاون سے ملک و قوم کی حقیقی آزادی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ مرکز میں بھی دوبارہ حکومت بنائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاو ¿س پشاور میں دیر اور بنوں سے دو مختلف شمولیتی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 

بنوں سے صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمد وزیر کی قیادت میں آزاد حیثیت میں منتخب ویلج کونسل چیئرمین نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور پی ٹی آئی میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا۔ اسی طرح ضلع دیر سے سابق رکن قومی اسمبلی بشیر خان کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے سابقہ امیدوار اقبال خان اور جماعت اسلامی کے رحیم گل خان سمیت دیگر کارکنوں نے بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کی کیپ اور مفلر پہنا کر نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مفادپرست سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی ان سے نالا ںہےں اور پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ محمود خان نے کہا کہ پی ٹی آئی صحیح معنوں میں عوام کی واحد نمائندہ جماعت ہے جو عمران خان کی قیادت میں ملک و قو م کی حقیقی آزادی کیلئے کوشاں ہے اور اب عوام بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں کہ جب تک ملکی سیاست سے بدعنوانی اورمفاد پرستی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ اب قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا اور امپورٹڈ حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے عمران خان کی حقیقی آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار دلجمعی سے ادا کرنا ہوگا۔

 

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر خیبرپختونخوا میں جاری ترقیاتی حکمت عملی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وفاق کی طرف سے کمٹمنٹ کے مطابق فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے صوبائی حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے مگر اس کے باوجود صوبے میں جاری عوامی فلاح کے منصوبوں پر پیشرفت میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق عوامی فلاح کے جاری منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کےلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ہمار ااصل ہدف عوام کو خدمات اور سہولیات کی فراہمی ہے اور اس مقصد کیلئے مختلف اضلاع میں متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے عوام کی سہولت کیلئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایااور اضلاع کی سطح پر سماجی خدمات کے اداروں کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جن کے نتائج ہر سطح پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

chitraltimes cm kp mahmood khan with banu nazimin

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
66846

صوبائی حکومت  کا13 کھرب سے زائد کا تاریخی بجٹ اسمبلی سے منظور، پوری ٹیم کو مبارکباد۔ وزیر اعلیِ محمود خان

Posted on

صوبائی حکومت  کا13 کھرب سے زائد کا تاریخی بجٹ اسمبلی سے منظور، پوری ٹیم کو مبارکباد۔ وزیر اعلیِ محمود خان

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبائی اسمبلی سے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے پانچویں بجٹ کی منظوری پر اپنی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے13 کھرب سے زائد کا تاریخی بجٹ پیش کیا ہے ۔ اس طرح کا متوازن اور عوام دوست بجٹ صوبے کی تاریخ میں کبھی پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ بجٹ کی منظوری کے عمل میں صوبائی اسمبلی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے خوشگوار ماحول میں بجٹ کی منظوری پر اپوزیشن ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُنہوں نے کہاہے کہ صوبائی حکومت نئے بجٹ کے سلسلے میں اپوزیشن کی مثبت تنقید کا خیر مقدم کرتی ہے اور اس سلسلے میں اُن کی تجاویز پر ضرور عمل درآمد کرے گی ۔ وہ جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کررہے تھے ۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیا کہ پاکستان کے قیام کے 75 سالوں میں سے 40 سال صرف دو جماعتوں کی حکومت رہی لیکن اُنہوں نے اس ملک کے قیام کے مقا صد کے حصول کیلئے کچھ بھی نہیں کیااور اُلٹا ملک کی بدحالی کا الزام پاکستان تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت پر ڈال رہے ہیں۔

 

پاکستان تحریک انصاف کو جب اقتدار ملا تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن وزیراعظم عمران خان نے دن رات محنت کرکے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ، معیشت کو درست سمت پر ڈال دیا لیکن بدقسمتی سے ہماری منتخب حکومت پر رات کے اندھیرے میں ڈاکہ ڈالا گیا اور ہماری منتخب حکومت ختم کرکے ملک پر ایک امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی ۔ محمود خان نے مزید کہاکہ عمران خان کی حکومت اس لئے ختم کی گئی کہ اُنہوںنے ملک کی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی ،اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد منظورکروائی ، کشمیر کاز کی موثر انداز میں وکالت کی ، غریبوں کیلئے پناہ گاہیں اور لنگر خانے قائم کئے، ملک میں 10 بڑے ڈیموں پر کام شروع کیا اور اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کی طرف پیش قدمی کی اور آئی ایم ایف کا کشکول توڑنے کی بات کی۔ بیرونی سازش کے تحتعمران خان کی حکومت ختم کی گئی لیکن بیرونی سازش کے تحت جو لوگ اقتدار میں آئے ہیں اُن میں ملک کو چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ اُن کے پاس کوئی پالیسی ہے ۔ وہ صرف این آراو لینے اور اپنے کیسزکو ختم کرنے کیلئے اقتدار میں آئے ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر میں بے تحاشا کمی آرہی ہے ، پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور امپورٹڈ حکمران عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مزید ٹیکسز بڑھا رہے ہیں ۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ وزیراعظم آئے روز عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں کبھی وہ کپڑے بیچ کر لوگوں کو سستا آٹا دینے کے بیانات دے رہے ہیں۔اُنہیں صوبے کے عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کیلئے کپڑے بیچنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بارڈر پر پھاٹک لگا کر آٹے کی سپلائی بند نہ کریں۔ امپورٹڈ وزیراعظم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ خیبرپختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے اور یہاں کے عوام بھی پاکستانی ہیں۔ وفاق کی طرف سے ضم اضلاع کے فنڈز میں کٹوتی پر ردعمل کا اظہا ر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ وفاقی حکومت ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کو بڑھانے کی بجائے اُن میں کمی کر رہی ہے ۔ صحت کارڈ اسکیم کے فنڈز کو بند کر رہی ہے اور پی ایس ڈی پی میں پہلے سے شامل خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کو نکال رہی ہے جو خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع کے عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے لیکن ہم کسی صورت اس ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گے اور صوبے کے عوام کا حق حاصل کرنے کیلئے ہر فورم پر آواز اُٹھائیں گے ۔

 

اُنہوں نے اپوزیشن اراکین پر زور دیا کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر صوبے کے حقوق کیلئے صوبائی حکومت کا ساتھ دیں۔ نئے بجٹ کی اہم خصوصیات کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نئے بجٹ میں ترقیاتی منصوبو ں کیلئے 418 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس کا 92 فیصد حصہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر خر چ کیا جائے گا تاکہ ان کا فائدہ جلد سے جلد عوام تک پہنچ سکے ۔نئے مالی سال کے دوران انصاف فوڈ کارڈ، کسان کارڈ،صحت کارڈ اور ویٹ سبسڈی کی صورت میں 200 ارب روپے براہ راست عوام پرلگائے جائیں گے ۔اسی طرح نوجوانوں کو خودروزگار بنانے اور چھوٹی صنعتوں کوفروغ دینے پر 25 ارب روپے خر چ کئے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نئے بجٹ میں 63 ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے گاجبکہ مقامی حکومتوں کو 37 ارب روپے کے خطیر ترقیاتی فنڈ ز دیئے جائیں گے جن سے لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے ۔ اپنی حکومت کی چارسالہ کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صحت کے شعبے میں تین ہزار سے زائد ڈاکٹرز بھرتی کئے گئے ،صحت کارڈ کے تحت لوگوں کے مفت علاج پر 31 ارب روپے خرچ کئے گئے ۔ اس کے علاوہ پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی سمیت متعدد میگا منصوبوں کو مکمل کرکے فعال کیا گیا ۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں 45 ہزار اساتذہ بھرتی کئے گئے جبکہ مزید 25 ہزار ٹیچرز اور تین ہزار سکول لیڈرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے ،76 کالجوں کو اپ گریڈ کیا گیا اور 38 نئے کالج قائم کئے گئے ۔

 

محمود خان نے کہاکہ سوات موٹروے فیز ون مکمل کیا گیا، صوبے میں ایک ہزار کلومیٹر سے زائد نئی سڑکیں اور38 پل تعمیر کئے گئے جبکہ دو ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کو بحال کیا گیا ۔ اسی طرح آبپاشی کے شعبے میں ساڑھے چار لاکھ میٹر سے زیادہ ایریگیشن چینلز،35 چھوٹے ڈیمز، 57 چیک ڈیمز اور222 ایریگیشن ٹیوب ویلز تعمیر کئے گئے۔ سیاحت کے شعبے میں اپنی حکومت کی چارسالہ کارکردگی کا ذکرکرتے ہوئے محمود خان نے کہاکہ اس مقصد کیلئے کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ تین ڈویلپمنٹ اتھارٹیز قائم کی گئیں ۔ سوات اور ایبٹ آباد میں ٹوارزم پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ ٹوارزم روڈز کی تعمیر اور کیمپنگ پاڈز کے قیام اور انٹگرٹیڈٹوارزم زونز کے قیام پر پیشرفت جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کھیلوں کی سرگرمیوں کا فروغ شروع دن سے پاکستان تحریک انصاف حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے ۔ اس مقصد کیلئے یونین کونسل کی سطح تک پلے گراﺅنڈز کے قیام پر پیشرفت جاری ہے ۔ ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم اور حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کی اپ گریڈیشن کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ کالام میں بین الاقوامی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر پر بھی پیشرفت جاری ہے ۔

 

توانائی کے شعبے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت نے پن بجلی کی پیداوار کو 120 میگاواٹ سے 200 میگاواٹ تک بڑھایا ہے ،7370 مساجد،8,000 سکولز ،6,000 گھرانوں اور 53 مراکز صحت کو شمسی توانائی فراہم کی گئی جبکہ بجلی کی ترسیل کیلئے گرڈ کمپنی اینڈ ٹرانسمیشن لائن قائم کی گئی ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ گزشتہ چارسالوں میں صنعتوں کی ترقی کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں روزگار کے 24,000 سے زائد کے مواقع پیدا ہوئے ہیںجبکہ صوبائی حکومت نے دوبئی ایکسپو میں کامیاب شرکت کرکے غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ 8 ارب ڈالر کے 44 ایم او یوز پر دستخط کئے ہیں جن کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخوا فوڈ سکیورٹی پالیسی بنانے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے ، صوبے میں لائیو سٹاک کی ترقی کیلئے خصوصی پروگرام کا اجراءکیا گیا ہے جبکہ کسان کارڈ کے ذریعے کسانوں کو مختلف قسم کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ صوبائی حکومت نے بلین ٹری کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیا ہے جبکہ 10 بلین ٹری منصوبے کے تحت 569 ملین پودے لگائے گئے ہیں جن کے نتیجے میں صوبے کے گرین کور میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

محمود خان نے کہاکہ خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جس نے تحصیل کی سطح تک ریسکیو سروسز کو توسیع دی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے کے ایک لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبے میں تربیت فراہم کرنے کیلئے آٹھ ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جبکہ 15 ہزار سے زائد نوجوانوں کو ڈیجیٹل سکلز کی تربیت فراہم کی گئی ہے ۔ محمود خان نے مزید کہاکہ بی آر ٹی کا منصوبہ پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک بہترین منصوبہ ہے جس پر روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، سوات ایکسپرس وے فیزٹو، پشاور ڈی آئی خان موٹروے ، دیر ایکسپریس وے ، چترال شندور روڈ، درابن اسپیشل اکنامک زون، چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال، نیو پشاور ویلی سٹی، پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت چار بڑے ہسپتال صوبائی حکومت کے بڑے اہم منصوبے ہیں جن پر عنقریب کام کا آغاز کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے مزدوروں کی کم ازکم ماہانہ اُجرت 21 ہزار روپے سے بڑھا کر 26 ہزار روپے کرنے ، مانسہرہ، بونیر، چارسدہ اور کرک میں میڈیکل کالجز کے قیام ، لائیو سٹاک کے ویٹرنری اسسٹنٹ کو اپ گریڈکرنے ،طلباءسے لئے جانے والے ہر قسم کی بورڈ امتحانی فیسیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
62807

صوبائی حکومت نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اضلاع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر پلے گراﺅنڈ ز کے قیام اور کھیلوں کی دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔وزیراعلیِ 

Posted on

صوبائی حکومت نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اضلاع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر پلے گراﺅنڈ ز کے قیام اور کھیلوں کی دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کو اپنی حکومت کی ترجیحات کااہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اضلاع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر پلے گراﺅنڈ ز کے قیام اور کھیلوں کی دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے اور اس مقصد کیلئے اربوں روپے مالیت کے متعدد منصوبوں پر پیشرفت جاری ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے میں بہت زیادہ مدد ملے گی اور اس طرح نوجوانوں کی صلاحیتیں مثبت سرگرمیوں میں صرف ہوں گی اور ایک صحت مند معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے گا۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے بدھ کے روزیونین کونسل کی سطح پر پلے گراﺅنڈز کے قیام سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں یونین کونسل کی سطح پر پلے گراﺅنڈ ز تعمیر کرنے کے منصوبے پر اب تک کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیااور ان پلے گراﺅنڈ ز کی تعمیر کیلئے موزوں اراضی کے حصول کا طریقہ کار اور منصوبے پر عمل درآمد سمیت دیگر متعلقہ اُمور سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹر ی سپورٹس محمد طاہر اورکزئی، سیکرٹری پلاننگ شاہ محمود، ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس خالد خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ منصوبے کے مختلف پہلوﺅں کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ منصوبہ تقریباً تین ارب روپے کی لاگت سے مالی سال 2024-25 میں مکمل کیا جائے گا جس کے تحت یونین کونسل کی سطح پر دو مختلف کیٹگریز کے پلے گراﺅنڈ تعمیر کئے جائیں گے ، پہلی کیٹگری کے پلے گراﺅنڈ زجن کیلئے زمین کی خریداری درکار ہو، 28 ملین روپے کی لاگت جبکہ دوسری کیٹگری کے پلے گراﺅنڈ جن کیلئے زمین کی خریداری درکار نہ ہو 15 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔

 

مزید بتایا گیا کہ منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق ہر یونین کونسلز میں ایک پلے گراﺅنڈ تعمیر کیا جائے گا تاہم ضرورت کی بنیاد پر بعض یونین کونسل میں ایک سے زیادہ پلے گراﺅنڈ ز بھی تعمیر کئے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کو صوبائی حکومت کی اسپورٹس پالیسی کی روشنی میں نوجوانوں کو اُن کی دہلیز پر کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر بروقت عمل درآمد شروع کرنے اور اس کی مقررہ مدت کے اند ر تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز مقرر کر کے اُن کے مطابق عملی پیشرفت کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ صوبے کے نوجوان بغیر کسی تاخیر کے کھیلوں کی ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ ان پلے گراﺅنڈز کی تعمیر کیلئے موزوں اراضی کی نشاندہی اور خریداری سمیت منصوبے پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ اسپورٹس کے حکام کو ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کے منصوبے پر کام اسی سال جولائی کے آخر تک مکمل کرنے کیلئے بھی ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت، کھیل اور اُمور نوجوانان کے اُمور کو مزید بہتر انداز میں چلانے کیلئے ایک اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں کھیل اور اُمور نوجوانان کو محکمہ سیاحت سے الگ کرکے ایک الگ محکمے کا درجہ دینے کی تجویز پر غور کیا گیا تاکہ ان الگ الگ شعبوں کے اُمور مزید بہتر اور پیشہ وارانہ انداز میں انجام دیئے جاسکیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ایک مہینے کے اندر قابل عمل پلان تشکیل دے کر پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو محکمہ زراعت اور لائیو سٹاک کو بھی دو الگ محکموں میں تقسیم کرنے کیلئے ہوم ورک تیار کرنے کی ہدایت کی ۔

 

 

دریں اثنا بنوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش نوجوان گانا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے محنت کش اور باصلاحیت نوجوان آصف کو وزیر اعلی ہاوس بلا لیا۔ وزیر اعلی نے محنت کش نوجوان کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں مالی امداد کا چیک دیا۔ نوجوان آصف محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے اور شوقیہ طور پر گانا گاتا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے محنت کش نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لئے محکمہ ثقافت کو ضروری اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعلی سے ملاقات کے موقع پر نوجواں نے وزیر اعلی سے چیرمین پی ٹی آئی عمران سے ملاقات کروانے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر وزیر اعلی نے عمران خان سے انکی ملاقات کروانے کی یقین دہانی کرائی۔ نوجواں آصف نے سی ایم ہاوس بلانے اور مالی امداد کرنے پر وزیر اعلی محمود خان کا شکریہ ادا کیا۔

chitraltimes cm kpk giving cheque to asif of banu

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
62103

صوبائی حکومت کے تمام محکموں اور نیم سرکاری اداروں کے پی او ایل اخراجات میں 35 فیصد کمی کا فیصلہ ۔وزیراعلیِ 

Posted on

صوبائی حکومت کے تمام محکموں اور نیم سرکاری اداروں کے پی او ایل اخراجات میں 35 فیصد کمی کا فیصلہ ۔وزیراعلیِ

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں حالیہ بے تحاشہ اضافے کے تناظر میںایک اہم اقدام کے طور پر صوبائی حکومت کے تمام محکموں اور نیم سرکاری اداروں کے پی او ایل اخراجات میں 35 فیصد کمی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی پہلے سے جاری کفایت شعاری پالیسی کے تحت بہتر عوامی مفاد میں کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے جس میں تمام سرکاری محکموں اور نیم سرکاری اداروں کے پی اوایل اخراجات میں 35 فیصد کٹ لگانے کیلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے صوبائی حکومت کے وسائل پر اضافی بوجھ بڑھ رہا ہے جسے کنٹرول کرنے کےلئے پی او ایل اخراجات میں کمی کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوامی وسائل کا زیادہ سے زیادہ حصہ عوامی مفاد کے اقدامات پر خرچ کئے جائیں۔ مراسلے میں وزیراعلیٰ کے اس فیصلے پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنانے اور اس سلسلے میںمانیٹرنگ کا ایک موثر نظام بھی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے اس فیصلے پر عملدرآمد کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو ماہانہ ساڑھے بارہ کروڑ جبکہ سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی بچت ہوگی۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ محمود خان کے وژن کے مطابق پہلے ہی سے کفایت شعاری پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت صوبائی حکومت کے اخراجات میں کمی کیلئے متعدد اقدامات ا ±ٹھائے جارہے ہیں اور سرکاری محکموں کے پی اویل اخراجات میں کمی اسی کفایت شعاری پالیسی کی ایک اہم کڑی ہو گی۔
<><><><><><><>

 

پختون سمگلر نہیں بلکہ سرحدوں کے محافظ ہیں۔وزیراعلیِ

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ اور نا اہل حکمران خیبرپختونخوا میں آٹے اور گندم کی سرحد پار سمگلنگ کی باتیں کرکے یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ پختون اسمگلر ہیں مگر میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ پختون سمگلر نہیں بلکہ سرحدوں کے محافظ ہیں جنہوں نے اس ملک میں امن کےلئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آٹا یا گندم سرحد پار سمگل ہو بھی رہا ہے تو بارڈر منیجمنٹ کے تمام ادارے وفاقی حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں نہ کہ صوبائی حکومت کے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس اسمگلنگ میں وفاق میں بیٹھے امپورٹڈ حکمران خودبھی ملوث ہیں۔

وہ جمعہ کے روز بونیر میں پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکمرانوں نے پنجاب میں آٹے کی ایک قیمت مقرر کی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کیلئے کوئی اور قیمت مقرر کی ہے جو ان کی طرف سے خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے اور اپنے حقوق چھین کر رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امپورٹڈ وزیراعظم صرف اور صرف پنجاب کی باتیں کرتے ہیں، اسے دوسرے صوبوں کی نہ کوئی فکر ہے اور نہ وہ ان کےلئے کچھ کر رہے ہیں جبکہ ہمارے قائد عمران خان کو تمام وفاقی اکائیوں کی فکر ہے اوروہ تمام وفاقی اکائیوں کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ نااہل حکمرانوں نے غریب عوام پر مہنگائی کا پہاڑ گرادیا ہے ، آئے روز اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں انہی وسائل سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کر رکھا تھا اور عوام کو ریلیف دینے کےلئے متعدد پروگرامز بھی چلا رہا تھالیکن موجودہ حکمرانوں کو غریب عوام کی کوئی پرواہ نہیں، ان کے پاس عوام کودینے کےلئے کچھ نہیں اور وہ صرف اپنی چوری چھپانے میں مصروف ہیں۔
<<><><><><><><><>>

chitraltimes imran khan and cm mahmood khan addressing public gathering Bunre

وزیراعلیِ کا پولیس کانسٹیبل کی شہادت پر افسوس کا اظہار

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گزشتہ روز صوابی میں اشتہاریوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس کانسٹیبل کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلیٰ نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت شہید کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔

دریں اثناءوزیر اعلیٰ نے شمالی وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار کی شہادت پر بھی تعزیت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے شہید اہلکار کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
61948