Chitraltimes Banner

صحت کارڈ پلس پروگرام  کےتحت خیبرپختونخوا میں گزشتہ 2برس میں علاج کرنے والوں کی تعداد 1452250رہی جن میں 776397خواتین اور675853مردوں نے ہسپتالوں سے رجوع کیا۔ محکمہ صحت حکام

Posted on

صحت کارڈ پلس پروگرام  کےتحت خیبرپختونخوا میں گزشتہ 2برس میں علاج کرنے والوں کی تعداد 1452250رہی جن میں 776397خواتین اور675853مردوں نے ہسپتالوں سے رجوع کیا۔ محکمہ صحت حکام

پشاور(چترال ٹایمزرپورٹ)صحت کارڈ پلس پروگرام میں ضرور خامیاں ہو سکتی ہیں تاہم اس پروگرام کے تحت مفت صحت طبعی سہولیات عوام کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ پلس پروگرام کے حوالے سے تمام شکایات پر انکوائری ہوتی ہے اور اسپتال کے قصور وار ہونے پر پہلی بار انہیں انتباہ کیا جاتا ہے،دوسری بار شکایت پر معطلی ہوتی ہے اور تیسری شکایت پر اسپتال کیساتھ معاہدہ ختم کیا جاتا ہے۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا حکام کے مطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ 2برس میں علاج کرنے والوں کی تعداد 1452250رہی جن میں 776397خواتین اور675853مردوں نے ہسپتالوں سے رجوع کیا۔ صحت کارڈ پلس حکام کے مطابق سب سے زیادہ بیمار افراد کا علاج پشاور میں ہوا جن کی تعداد155251رہی ان میں خواتین کی تعداد79ہزاراور مردوں کی تعداد 75965رہی،سوات میں 1لاکھ34ہزار 309ہے جن میں 76ہزار 991خواتین اور مرد 57ہزار 318ہے،صوابی میں 1لاکھ 2ہزار655افراد کا علاج ہوا جن میں 54ہزار خواتین اور48ہزار مرد ہیں،مردان میں 73ہزار خواتین اور 55ہزار مردوں کا علاج ہوا،ایبٹ آباد میں 40ہزار خواتین اور39ہزار کاعلاج کیا گیا،باجوڑ میں 7ہزارخواتین اور5800مردوں کا علاج کیا گیا،چارسدہ میں 48ہزار خواتین اور 42ہزار مردوں کا علاج کیا گیا،لوئر دیر میں 54ہزار خواتین اور42ہزار مردوں کا علاج کیا گیا،نوشہرہ میں 34ہزار خواتین اور 30ہزار مرد ہسپتال میں علاج کیلئے آئے۔اعدادوشمار کی مطابق88ہزار435امراض قلب میں مبتلا افراد ہسپتالوں میں زیر علاج رہے جن پر ریکارڈ11ارب33کروڑروپے خرچ کئے گئے جبکہ2لاکھ46ہزارافراد کا ڈائیلاسزکیا گیا جن پر1ارب92لاکھ روپے خرچ ہو گئے۔

آغاخان یونیورسٹی کی جانب سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ کے تحت 63 فیصد مریضوں نے نجی جبکہ 37 فیصد نے سرکاری ہسپتالوں سے علاج کیا۔ اسی طرح 65 فیصد مریضوں نے ضلعی، 35 فیصد نے بڑے ہسپتالوں سے علاج کرایا جبکہ 63 فیصد مریض مقامی ہسپتال میں علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔تیس فیصد دیگر اضلاع، 6.2 فیصد لوگوں نے دیگر صوبوں کے ہسپتالوں سے علاج کرایا۔سروے رپورٹ کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ 10 فیصد شہری صحت کارڈ کی سہولت سے تاحال محروم ہیں، علاج سے محروم 44 فیصد شہریوں کو ڈومیسائل یا شہریت کے مسائل درپیش ہیں۔سروے میں بتایا گیا کہ 84 فیصد شہریوں نے علاج میں او پی ڈی شامل کرنے کی تجویز دی یے، سروے رپورٹ میں اخراجات کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک مریض کے علاج پر اوسطا 31 ہزار 395 روپے خرچہ آتا ہے، اخراجات نجی ہسپتالوں کے مقابلے میں 20 سے 40 فیصد مہنگے ہیں۔

سروے میں سفارشات پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صحت کارڈ پلس پالیسی بورڈ میں شہریوں کو شامل کیا جائے اورتکنیکی خامیوں کو دور کرکے دور افتادہ علاقوں میں ہسپتالوں کی استعداد کار بہتر بنائی جائے۔صحت کارڈ پلس خیبر پختونخوا حکام کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ پہ علاج کے لیے خرچہ آتا ہے جو سٹیٹ لائف ادا کرتا ہے اور سٹیٹ لائف کو پیسے حکومت دیتی ہے لیکن جب سٹیٹ لائف کو بروقت پیسوں کی ادائیگی نہیں ہوتی تو وہ ایک نوٹس جاری کرتے ہیں اور اس کے بعد میڈیا میں بھی یہ خبر پھیل جاتی ہے تاہم یہ صرف نوٹس ہوتا ہے اور مفت علاج کا سلسلہ جاری ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سٹیٹ لائف کو بروقت پیسوں کی ادائیگی ہوجائے تو نوٹس نہیں آئیں گے تاہم جب بھی نوٹس آتا ہے تو حکومت متحرک ہوجاتی ہے اور پیسوں کی ادائیگی کردی جاتی ہے. انہوں نے کہا ہے کہ صحت کارڈ پلس کی سہولیات معطل ہونے کے حوالے سے نوٹسز مستقبل میں بھی آتے رہیں گے تاہم اس پہ علاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔حکام کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب تک صحت کارڈ پر 22 لاکھ سے زائد افراد کا علاج کیا جا چکا ہے جبکہ مالی سال 22۔23 میں اب تک 13 لاکھ صحت کارڈ سے مستفید ہوچکے ہیں۔

حکام کے مطابق صحت کارڈ اپنی نوعیت کا ایک بہت اچھا منصوبہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کو علاج کی مفت ملی ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو شاید بہت سارے غریب لوگ علاج سے محروم رہ جاتے۔حکام نے بتایا کہ جن ہسپتالوں میں صحت کارڈ پہ علاج ہوتا ہے وہاں سٹیٹ لائف کا فیسلیٹشن ڈیسک ہوتا ہے جہاں لوگ جاکر شکایات درج کرواسکتے ہیں، وہاں فوری طور پر شکایات کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 080089898 پر بھی لوگ کال کرسکتے ہیں، یہ ٹول فری نمبر 24 گھنٹے فعال ہوتا ہے،بڑے ہسپتالوں میں شکایات بکسز میں بھی لوگ کمپلینٹ ڈال سکتے ہیں۔ محکمہ صحت خیبرپختونخوا حکا م کا کہنا ہے کہ عوام صحت کارڈ کے حوالے سے پریشان نہ ہو یہ منصوبہ جاری رہے گا اور لوگوں کو علاج کی مفت سہولیات ملتی رہیں گی،کینیڈا، یورپ کے کچھ ممالک، آسٹریلیا اور جاپان کے بعد خیبر پختونخوا پہلا صوبہ بن گیا جہاں صحت کی سہولت اب مفت ہوگی، کسی کے مذہب، ذات اور سیاسی وابستگی کی پرواہ کئے بغیر ہر خیبرپختونخوا کی شہری کو دس لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس فراہم کی جائی گی۔تیمارداروں کے مطابق حکومت اس پروگرام کی عوام تک رسائی کو مزید سادہ اور آسان بنا سکتی ہے۔صحت سہولت پروگرام کے تحت ایک خاندان کے تمام افراد کے لیے 10 لاکھ روپے سالانہ مقرر کیے گئے ہیں، تاہم اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ گھر کے کسی ایک فرد پر یہ تمام رقم خرچ نہیں کی جاتی بلکہ اس میں خاندان کے ہر فرد کے لیے ایک حد مقرر کر دی گئی ہے۔اس پروگرام کی دستیاب معلومات کے مطابق ترجیحی علاج میں بیماریوں کی فہرست یہ ہے۔صحت کارڈ پلس پروگرام کا آغاز پہلی مرتبہ 2015 میں ہوا تھا، اس دوران خیبر پختونخوا کی تین فیصد آبادی کو یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔ 2016 میں یہ پروگرام دوسرے مرحلے میں داخل ہوا اور 2017 میں 64 فی صد آبادی کو یہ سہولت مہیا کی گئی تھی جو اب تک جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے عوام کے لئے باقاعدہ نئے چینل پی ٹی وی نیشنل پشاور کی نشریات شروع کردی گئی ہیں،مریم اورنگزیب کا ٹویٹ

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ )وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کی ہدایت پر خیبر پختونخوا کے عوام کو 24 گھنٹے تفریح، حالات حاضرہ اور خبروں سے باخبر رکھنے کے لئے باقاعدہ نئے چینل پی ٹی وی نیشنل پشاور کی نشریات شروع کردی گئی ہیں۔ہفتہ کو اپنے ایک ٹویٹ میں وفاقی وزیراطلاعات نے کہاہے کہ پی ٹی وی نیشنل پشاور پر خیبر پختونخواہ کے عوام کے لئے 24 گھنٹے پشتو زبان میں ڈرامے، موسیقی، حالات حاضرہ کے پروگرامز اور خبروں سمیت بہترین نشریات دیکھنے کو ملیں گی۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی وی نیشنل پشاور کی نشریات یوٹیوب پر بھی 24 گھنٹے ناظرین دیکھ سکتے ہیں۔

پرویز خٹک سمیت پی ٹی آئی چھوڑنے والے سینئر سیاستدانوں کے لیگی قیادت سے رابطے

لاہور(سی ایم لنکس)پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے والے سینئر سیاست دانوں اور پاکستان مسلم لیگ ن میں رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سابق سینئر رہنما پرویز خٹک کے مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے بیک ڈور رابطے ہیں اور مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں سے پی ٹی آئی کی سابقہ قیادت کی پارٹی میں شمولیت کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔پرویز خٹک کی پارٹی میں شمولیت پر ن لیگ کے صدر کے پی کے امیر مقام بھی راضی ہیں اور اگر معاملات طے پا گئے تو پرویز خٹک شہباز شریف اور مریم نواز کی موجودگی میں پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک مسلم لیگ ن میں آئے تو خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد کو ساتھ لائیں گے۔ اگر مسلم لیگ ن سے معاملات طے نہ پائے تو پرویز خٹک جمعیت علمائے اسلام(ف) سمیت دیگر سے معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ پرویز خٹک کی جانب سے پی ٹی آئی کے اندر سے اپنا الگ گروپ بنانے کی بھی کوشش جاری ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
76702

صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت صحت کی مفت سہولیات کا سلسلہ بحال کردیا گیا ہے، ڈاکٹر عابد جمیل

Posted on

صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت صحت کی مفت سہولیات کا سلسلہ بحال کردیا گیا ہے، ڈاکٹر عابد جمیل

وفاق کے ذمہ خیبر پختون خواکے 238 ارب روپے بقایاجات ہیں جسکی عدم ادائیگی کیوجہ سے صوبے میں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، نگران مشیر صحت

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ کیمشیر برائے صحت خیبر پختون خوا ڈاکٹر عابد جمیل نے کہا ہے کہ صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت صحت کی مفت سہولیات کا سلسلہ بحال کردیا گیا ہے اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس نے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا ہے۔ حکومت نے اسٹیٹ لائف کو 2 ارب روپے جاری کردیئے جبکہ مزید 2 ارب روپے عید کے فوری بعد جاری کئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سہولیات فراہم کرنا موجودہ نگراں حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ صحت کارڈ پروگرام کو ختم نہیں کیا گیا تھا بلکہ وفاقی حکومت کی جانب سے کچھ مالی معاملات کیوجہ سے اسٹیٹ لائف انشورنس کو واجبات کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی تھی۔ نگراں وزیر اعلی محمد اعظم خان کی خصوصی ہدایت پر 2 ارب روپے جاری کرنے کے بعد پروگرام بحال کیا گیا ہے۔ مشیر صحت نے کہا کہ وفاق کیساتھ معاشی معاملات کا مسئلہ نگراں وزیر اعلی اعظم خان کے نوٹس میں لایا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت مفت سہولیات کی بندش کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت محمود اسلم، سپیشل سیکرٹری صحت عطا ء الرحمان اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر صحت کارڈ پروگرام ریاض تنولی بھی موجود تھے۔ مشیر صحت نے کہا کہ وفاق کے ذمہ خیبر پختون خواکے 238 ارب روپے بقایاجات ہیں جسکی عدم ادائیگی کیوجہ سے صوبے میں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ نگراں وزیر اعلی محمد اعظم خان مسلسل وفاق کیساتھ اس معاملے کو اٹھارہے ہیں۔

نگراں مشیر صحت ڈاکٹر عابد جمیل نے کہا کہ موجودہ نگراں حکومت صحت کارڈ بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے لیکن پروگرام میں شفافیت لانے کے لئے بعض اقدامات ضرورکریں گے تاکہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ایسی مثال نہیں ملتی ہے جہاں پوری کی پوری آبادی کو 100 فیصد مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہو۔ 100 فیصد آبادی کی بجائے اگر صرف مستحق افراد تک پروگرام کو محدود کیا جائے تو صوبے کو معاشی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑیں گا۔ مشیر صحت نے مزید بتایا کہ صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت 66 فیصد پرائیوٹ ہسپتالوں جبکہ 34 فیصد سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ پرائیوٹ ہسپتالوں میں کچھ غیر معیاری ہسپتال بھی شامل ہیں جو سہولت کے اہل نہیں ہے مگر پچھلی حکومت میں انکو صحت کارڈ پلس کی سہولت دی گئی ہے۔ نگراں حکومت  اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر غور کررہی ہے تاکہ پروگرام کی شفافیت کو یقینی بنائی جاسکے۔ محکمہ صحت اور ہیلتھ کئیر کمیشن کے افسران پر مشتمل کمیٹی بنائی جائیگی جو ہسپتالوں کی چھان بین کر نے کے بعد فیصلہ کریگی کہ کونسا ہسپتال صحت کارڈ پلس پروگرام کا اہل ہے اور کونسا ہسپتال نہیں ہے۔

chitraltimes kp sehat saholat card resumtion

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
73706