Chitral Times

شھید ذولفقارعلی بھٹو دور سے اج تک ۔ تحریر :عطاواللہ جان عسکری

Posted on

شھید ذولفقارعلی بھٹو دور سے اج تک ۔ تحریر :عطاواللہ جان عسکری

قسط نمبر ١

1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد جب میں دس کا تھا تو مجھے وہ ایام یاد ہیں کہ جب بھی ریڈیو اَن ہو جاتا تو ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کا چرچا سننے کو ملتا ۔ملکی سیاست میں نوزائدہ جمہوریت پروان چڑ ھ چکی تھی۔ملک کی معیشت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔غربت مٹ چکی تھی۔عوام کو سستے داموں اشیاء خوردونوش کی چیزیں ہر چھوٹے بڑے علاقوں میں راشن کارڈ کی صورت میں دستیاب تھیں۔غریب عوام بھٹو کی حکومت کو دل سے تسلیم کر بیٹھی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے بھٹو کی حیرت انگیز شخصیت کو نا صرف بین الا قوامی طور پر سراہا گیا بلکہ بھٹو کی شخصیت کو عالم اسلام کے لیے بھی ایک عظیم لیڈر کے طور پر تسلیم کیا گیا۔لیکن جلد ہی ذولفقارعلی بھٹو کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کے بین چڑھا دی گئی ۔اسطرح دنیا کی اس عظیم لیڈر کو ایک جھوٹی مقدمے کے تحت تختہ دار پر چڑھا دی گئی اور بھٹو کو شھید کردیا گیا۔شھید نے قوم کو جو منشور دیا تھا اج تک جیالوں کی سیاست ان ہی نظریات کے گرد گھومتی ہے اور بھٹو ازم کے حصول میں جیالوں کا نعرہ کہ” تم کتنے بھٹو ماروگے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا ” شھید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے, اج بھی فضاء میں گونج اُٹھتی ہے”۔ لیکن جسطرح قیام پاکستان کے دوران مسلمانوں کے بعض نام نہاد گروہ نے قیام پاکستان کی مخالفت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا تھا مگر اج انہی کے باقیات ملک کی سیاح و سفید پر غالب نظر اتے ہیں ۔بلکل اسطرح پاکستان پیپلز پارٹی کے پرانے دشمنوں کےباقیات اج پیپلز پارٹی کے اہم عہدوں کے اوپر براجمان نظر اتے ہیں۔

ہم نے سیاسی تربیت پیپلز پارٹی کے معتبر رہنماؤں سے سیکھی ہے ۔جن کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے ورکروں کے قریب رہیں۔ان کی بات سنیں۔ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ سابق ایم پی اے اور سابق ایم این اے سید عبدالغفور شاہ کے ساتھ الیکشن مہم کے دوران یہ دیکھنے کو ملا کہ بہت سے معتبر شخصیات انھیں اپنے مہمان بنانے کے لیے دعوت دے رہے تھے۔لیکن انھوں نے جیالوں کی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوۓ کبھی انھیں میزبانی کا شرف نہیں بخشا۔کیوںکہ ان لوگوں کا تعلق مختلف پارٹیوں سے ہوتا تھا۔وہ صرف جیالوں کے گھر قیام کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتےاور ان کی باتیں غور سے سنتے۔لیکن اج کل ایسا نہیں ہے بلکہ مخالفین کو پارٹی کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کی پیشکش ہورہی ہیں۔یعنی منزل ان کو مل رہی ہے جو کبھی ہمسفر نہیں رہے۔

یہ لوگ ہوا کا رخ دیکھ کر پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی ذاتی مفاد کی خاطر استعمال کر تے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اج جیالوں کی کثرت میں کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔پرانے جیالوں کو پیچھے دھکیلا جارہا ہے اور مختلف پارٹیوں سے چھلانگ مارنے والے موقع شناسوں کو پارٹی کے اندر اعلی عہدوں پر فائز کیا جارہا ہے۔پارٹی ٹکٹ کو میرٹ کے اوپر دینے کے لیے تیار نظرنہیں اتےہیں۔ بلکہ جیالوں کے مطابق پارٹی ٹکٹ کو جمہورہت کے لیے قربانی دینے والے شھداءکی خون سے رنگین کر کے ذاتی مفاد کے عوض فروخت کیاجا رہاہے۔

 

ضیاءالحق کے طویل مارشل لا کے بعد جب ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوا تو چترال میں پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کے مالی حالات بلکل نگفتبہ تھی۔ پارٹی ان کی تھوڑی بہت معاونت تو کی لیکن یہ لوگ خود بھی عوام کے اندر مقبول لیڈر تھے ۔ جس کی وجہ سے وہ الیکشن جیت پاۓ۔حلانکہ ان کے مقابلے میں ضیاء دور کے مراعات یافتہ لوگوں نے کافی دولت جمع کر رکھی تھی اور اُس وقت کے عام انتخابات میں عوام کی ووٹ کو خریدنے کے لئے اُس دولت کو پانی کی طرح بہایا گیا۔ لیکن پھر بھی الیکشن ہار بیٹھے۔ پیشتر یہ کہ یہ لوگ ضیاء دور حکومت میں شامل ہوکر کئی دہائیوں تک پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔لیکن جیالے ڈٹے رہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو جتوانے میں بڑے اہم کردار ادا کیا۔لیکن اج ایسا نہیں ہے ۔اس کے بہت سے وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر اُٹھاۓ جانے والی سوالات تھے ۔ اس کے علاوہ قیادت اور ورکروں کے مابین رابطے کی فقدان اور قیادت کے حصول میں رسہ کشی وغیرہ وہ اقدام تھے جو پارٹی کو کمزور بنانے میں مدد گار ثابت ہوۓ۔جس کی وجہ سے پارٹی کے ہائی کمان کو مداخلت کرنے کا موقع مل گیا اور ان لوگوں کو پارٹی میں شامل کردیا گیا ہے جو کسی زمانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں میں سے ہیں ۔جن کو سفارش کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر نا صرف شامل کیا گیا ہے بلکہ اگلے الیکشن میں انھیں پارٹی ٹکٹ سے نوازنے کے لئے صوبائی قیادت کی کوششیں بھی جاری ہے۔جبکہ اس حوالے سے جیالوں کی تحفظات کو یک جنبش قلم مسترد کیا گیا ہے۔

 

ذرائع کا یہ بھی کہنا کہ جو بھی اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے گا اس کی پارٹی رکنیت کو معطل کیا جاۓ گا۔ اگرچہ جیالوں کی اکثریت اس فیصلے کے خلاف ہے ۔ اگر صوبائی قیادت کی جانب سےاس مسلے پر عدم دلچسپی برقرار رہی تو حسب روایت اگلے الیکشن میں بھی پارٹی کے لیے چترالNA1 قومی اور صوبائی جیسی اہم سیٹیں مشکل میں پڑجائنگی۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پیچھلے الیکشنز کے دوران دیر جیسے اہم سیٹوں کو جتوانے میں صوبائی قیادت کی حکمت عملی بری طرح کیوں ناکام ہوئی؟انھیں چترال پر زیادہ توجہ دینے کے بجاۓ دیر کے نشستوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔چترال کے مقامی سیاست سے مقامی لوگ خوب باخبر ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ چترال کے سیاسی مسلے کو کسی ایک شخص کے فیصلے پر نہیں چھوڑی جاسکتی ہے , چاہے اس فرد کا متعلقہ شخص کے ساتھ پرانی سیاسی یا کاروباری تعلق ہی کیوں نہ ہو۔اس قسم کے ذاتی مفادات پر مبنی فیصلے پہلے بھی ازماۓ گیے تھے جو باراور ثابت نہیں ہوۓ۔ بلکہ پارٹی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑی۔بعد میں ان شکست خوردہ لوگوں نے پلٹ کر بھی پارٹی کی جانب دیکھنے کو گوارہ محسوس نہیں کیا اور نہ کبھی پارٹی کی کسی مٹینگ میں شریک ہوۓ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71434