Chitral Times

سپریم کورٹ نے الیکشن 90 دن سے آگے لے جانا غیر آئینی قرار دیا: علی ظفر

Posted on

سپریم کورٹ نے الیکشن 90 دن سے آگے لے جانا غیر آئینی قرار دیا: علی ظفر

اسلام آباد(سی ایم لنکس)پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن کو 90 دن سے آگے لے جانے کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کے بغیر جمہوریت چل سکتی ہے نہ آئین۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا کہ 90 دن میں الیکشن کرائے جائیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کا شیڈول جاری ہو گیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے الیکشن ملتوی کر دیا۔

دونوں فریق مذاکرات دوبارہ شروع کریں: سپریم کورٹ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ آف پاکستان میں پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کرانے کے حکم پر الیکشن کمیشن کی نظرِ ثانی کی اپیل کی سماعت آئندہ ہفتے منگل تک ملتوی کر دی گئی۔چیف جسٹس پاکستان نے حکومت اور پی ٹی آئی دونوں فریقوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر اس بینچ کا حصہ تھے۔عدالت نے سیاسی جماعتوں سمیت فریقین، اٹارنی جنرل، پنجاب اور خیبر پختون خوا کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کر دیے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیتے ہیں، اس کیس میں صوبوں کو نوٹس جاری کریں گے۔چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ دلائل میں کتنا وقت لیں گے؟ الیکشن کمیشن کی نظرِ ثانی کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ مجھے 2 سے 3 دن درکار ہوں گے۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ آئین کا قتل کر دیا گیا ہے، ملکی آبادی کا 10 کروڑ حصہ نمائندگی سے محروم ہے۔

 

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں انتخابات کا وقت ابھی ہے، پریشان کن ہے کہ جس طرح سیاسی طاقت استعمال ہو رہی ہے، باہر دیکھیں کیا ماحول ہے، دو اہم چیزیں فنڈز اور سیکیورٹی کی تھیں، آج آپ نے درخواست میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کا پنڈورا باکس کھولا ہے، یہ آپ کے مرکزی کیس میں مو قف نہیں تھا، سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر کسی اور کو بات کرنا چاہیے، وفاقی حکومت کو ان معاملات پر عدالت آنا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں ا?ئی، نظرِ ثانی کا آپشن آپ کے پاس تھا جو آپ نے استعمال کیا، ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جا رہا ہے، باہر دیکھیں انسٹالیشنز کو آگ لگائی جا رہی ہے، اللّٰہ تعالیٰ مشکل وقت میں صبر کی تلقین کرتا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظر آتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں نگراں حکومت غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مشکلات میں ردِعمل نہیں دیا جاتا، صبر کیا جاتا ہے، اس وقت صورتِ حال بہت تناؤ کا شکار ہے، میں نے لوگوں کی گولیوں سے زخمی تصاویر دیکھی ہیں، الیکشن جمہوریت کا تسلسل ہے، اخلاقی برتری کے لیے انتظامیہ اور اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ بہتر اخلاقی قدر تلاش کریں۔وکیل علی ظفر نے کہا کہ آئین پر عمل درآمد سب کا فرض ہے، لوگ آئین کے عمل داری اور خلاف ورزی کے درمیان کھڑے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ ضروری ہے، میں نے لوگوں کو گولیاں لگنے کی فوٹیج دیکھی ہے، انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں، ایگزیکٹیو اور اپوزیشن اخلاقیات کا اعلیٰ معیار برقرار رکھیں، اس ماحول میں آئین پر عمل درآمد کیسے کرایا جائے؟ ایک طرف سے بھی اخلاقیات کی پاسداری کی جاتی تو عدالت دوسری طرف کو الزام دیتی۔وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے مذاکرات کا کہا، میرے مذاکراتی ٹیم کے دونوں ساتھی گرفتار ہو گئے، اب مذاکرات ختم ہوکر بات آئین کی عمل داری پر آگئی ہے۔

 

 

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل صاحب! آپ مذاکرات دوبارہ شروع کیوں نہیں کرتے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ مذاکرات بالکل شروع ہونے چاہئیں، میں ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے مذاکرات کی بات کی، دونوں جانب سلجھے ہوئے لوگ موجود ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سے تنازع کو بڑھایا جا رہا ہے، لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں، اداروں کی تذلیل ہو رہی ہے، تنصیبات کو جلایا جا رہا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مذاکرات کو مزید وقت مل جاتا تو بہتر ہوتا، 2 مئی کو مذاکرات ختم کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کچھ ہوا تھا اچانک کہ مذاکرات ختم ہوئے؟وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ انتخابات کی تاریخ پر بات نہیں بن رہی تھی۔اٹارنی جنرل نے علی ظفر سے مخاطب ہو کر کہا کہ نے ایسے نہ کریں علی صاحب! چیف جسٹس نے آپ کو کہا ہے کہ جو پچھلے ہفتے ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔علی ظفر نے کہا کہ پچھلے ہفتے نام کی جمہوری حکومت نے سابق وزیرِ اعظم کو احاطہء عدالت سے گرفتار کیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ یہ بھی دیکھیں کہ اس کے بعد کیا کیا ہوا ہے، گرفتاری کے معاملے کو عدالت نے درست کر دیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے اٹارنی جنرل اور علی ظفر سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ دونوں سینئر وکلا ہیں، مذاکرات دوبارہ شروع کریں، جو بیانیہ دونوں جانب سے بنایا جا رہا ہے اس کا حل نکالیں، علی ظفر درست کہہ رہے ہیں کہ بال حکومت کی کورٹ میں ہے، حکومت مذاکرات کی دعوت دے تو علی ظفر بھی اپنی قیادت سے بات کریں، سپریم کورٹ پاکستانی عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے موجود ہے، بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے امن ہونا ضروری ہے، اکانومی منجمد ہے، کل موٹر وے پر سفر کیا وہ خالی تھی، لوگ باہر نہیں نکل رہے، چپ ہو کر بیٹھ گئے ہیں، باہر شدید پْرتشدد ماحول ہے، دیکھیں باہر کیا ہو رہا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظر آتی ہے، بد ترین دشمن کے بارے میں بھی زبانوں کو کنٹرول کرنا چاہیے۔

 

وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہائی کورٹ پر حملہ ہوا، سب خوفزدہ ہوئے، چیف جسٹس صاحب آپ بھی خوفزدہ ہو گئے ہوں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اٹارنی جنرل مذاکراتی ٹیم کو باہر لائیں، صورتِ حال خراب نہ ہو، سپریم کورٹ عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے، معیشت کا پہیہ رک جائے تو زیادہ خرابی ہو گی، جس طرح کے پْرتشدد واقعات سن رہے ہیں تشویش ناک ہے، آئین 90 دن میں الیکشن کا کہتا ہے، آپ کا خیال ہے کہ ہم بھول گئے ہیں؟ علی ظفر صاحب! آپ ہائی مورل گراؤنڈ پر جائیں، اگر تفریق زدہ معاشرہ ہو گا تو انتخابات کے نتائج کون قبول کرے گا؟ میرا پیغام ہے کہ دونوں جانب سے اخلاقیات کا اعلیٰ معیار قائم کیا جائے، قانون پر عمل تبھی ہو گا جب امن ہو، مسٹر اٹارنی جنرل! آپ اپنے کلائنٹ سے بات کر لیں، حکومت نے الیکشن کمیشن کی طرح کی باتیں کیں لیکن عدالت سے رجوع نہیں کیا، آئین میں 90 دن ہیں تو 90 ہیں، 14 مئی کا حکم تھا تو 14 مئی ہی پر عمل ہونا تھا، عدالت کو اپنے کنڈکٹ پر مطمئن کریں، دونوں طرف میچیور سیاسی جماعتیں ہیں، اگلے ہفتے اس کیس کی سماعت کریں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2 مئی کو مذاکرات کے عمل سے پی ٹی آئی پیچھے ہٹ گئی تھی، انہوں نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی نہ معذرت کی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت نے صرف آئین نہیں حالات کو بھی دیکھنا ہے، باہر کے حالات دیکھ رہے ہیں اس لیے فی الحال سماعت جلدی نہیں رکھنا چاہتے، الیکشن کمیشن کی درخواست میں اچھے نکات ہیں، وفاقی حکومت یہ نکتہ اٹھا سکتی تھی لیکن انہوں نے نظرِ ثانی کی اپیل دائر ہی نہیں کی۔تحریکِ انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ نظرِ ثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے، نظرِ ثانی درخواست میں نئے نکات نہیں اٹھائے جا سکتے۔

 

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ درخواست قابلِ سماعت ہونے پر الیکشن کمیشن کا مو قف سننا چاہتے ہیں، بعض نکات غور طلب ہیں، ان پر فیصلہ کریں گے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ نظرِ ثانی کا دائرہ محدود نہیں ہوتا، آئینی مقدمات میں دائرہ اختیار محدود نہیں ہو سکتا۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ 14 مئی گزر چکا ہے، آئین کا انتقال ہو چکا ہے، نگراں حکومتیں اب غیر آئینی ہو چکیں، عدالت اپنے فیصلے پر عمل کرائے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فیصلہ حتمی ہو جائے پھر عمل درآمد کرائیں گے، کل ایک اہم معاملے کی سماعت ہے، جلدی تب کرتے جب معلوم ہوتا کہ الیکشن کا وقت آگیا ہے، جس انداز میں سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں یہ درست نہیں، لوگ جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، ادارے خطرات اور دھمکیوں کی زد میں ہیں، سرکاری اور نجی املاک کا نقصان ہو رہا ہے، امن و امان کو برقرار رکھنے میں حصہ ڈالیں، مشکل وقت میں صبر کرنا ہوتا ہے ناں کہ جھگڑا، لوگ آج دیواریں پھلانگ رہے تھے، حکومت ناکام نظر آئی، ہم اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے، اداروں کا احترام کرنا ہو گا۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ تحریکِ انصاف کی پوری قیادت گرفتار ہے اس ماحول میں کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں؟ اب مذاکرات نہیں صرف آئین پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فروری میں ایک فریق آئین کی خلاف ورزی کر رہا تھا، علی ظفر صاحب! سپریم کورٹ سے ریلیف لینے کے لیے عدالت کنڈکٹ دیکھتی ہے، آپ اپنا کنڈکٹ دیکھیں، اداروں کی تذلیل کی جا رہی اور تنصیبات کو جلایا جا رہا ہے، جب جنگی حالات ہوں تو قانون خاموش ہو جاتا ہے، اس بارے میں جسٹس اجمل میاں کی انتہائی اہم ججمنٹ موجود ہے، عدالت فریقین کا کنڈکٹ دیکھ کر ہی ریلیف دیتی ہے، 14 مئی سے پہلے کیا کیا گیا، یہ بھی دیکھنا ہے۔عدالت نے سیاسی جماعتوں سمیت فریقین، اٹارنی جنرل، پنجاب اور خیبر پختون خوا کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کر دیے اور کیس کی سماعت آئندہ ہفتے منگل کے دن تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے3 مئی کو پنجاب کے انتخابات 14 مئی کو کرانے کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں الیکشن کمیشن نے مو قف اپنایا تھا کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74494

سپریم کورٹ کا حکومت کو الیکشن کیلیے 27 اپریل تک فنڈز دینے کا حکم

Posted on

سپریم کورٹ کا حکومت کو الیکشن کیلیے 27 اپریل تک فنڈز دینے کا حکم

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کی ملک بھر میں ایک ساتھ الیکشن کروانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے حکومت کو 27 اپریل تک فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے پر امن، منصفانہ اور شفاف انتخابات پر زور دیا، درخواست گزار کے مطابق عام انتخابات میں شرکت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی احترام اور مفاہمت ہونی چاہیے۔درخواست گزار کے مطابق 1970,1977 کے انتخابات کے برعکس ایک وقت انتخابات ہونے کے زیادہ بہتر نتائج نکلے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بادی النظرمیں درخواست گزار کا موقف مناسب ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ سیاسی مذاکرات کو عدالت کے 14 مئی کے حکم سے بچنے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا، ہم درخواست گزار کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی انتخابات اکتوبر میں کروانے کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 14مئی کو انتخابات کروانے کا حکم حتمی ہو چکا، قومی اسمبلی سے انتخابات کے لیے رقم کے بل کے مسترد ہونے کے سنگین آئینی نتائج ہیں، بل مسترد ہونے کا ایک ممکنہ اثر یہ ہے کہ حکومت پارلیمان میں اپنی اکثریت کھو چکی ہے۔سپریم کورٹ کے حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اکثریت کھونے کے ممکنات کو اٹارنی جنرل نے یکسر مسترد کردیا ہے۔

 

 

اٹارنی جنرل کے مطابق وزیر اعظم اور کابینہ پر پارلیمان کی اکثریت کا اعتماد ہے۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتی حکم عدولی اور اس سے انحراف کے سنگین نتائج ہیں، اٹارنی جنرل عدالتی حکم عدولی کے نتائج بارے حکومت کو بتائیں تاکہ اس کا تدارک ہو سکے۔سپیریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ وزارت دفاع کی درخواست ناقابل سماعت ہونے کی بنا پر نمٹائی جا رہی ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی مذاکرات کو عدالت کے 14 مئی کے حکم سے بچنے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا، ہم درخواست گزار کی کاوشوں کو سراہتے ہیں، 14مئی کو انتخابات کروانے کا حکم حتمی ہو چکا، جمہوریت اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد ہے، انتخابات بل کے مسترد ہونے کے سنجیدہ نتائج ہیں، آئین کے مطابق وزیر اعظم کو اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد لازم ہے، قومی اسمبلی سے رقم کے بل کے مسترد ہونے کے سنگین آئینی نتائج ہیں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بل مسترد ہونے کا ایک ممکنہ اثر یہ ہے کہ حکومت پارلیمان میں اپنی اکثریت کھو چکی ہے، اکثریت کھونے کے ممکنات کو اٹارنی جنرل نے یکسر مسترد کردیا، اٹارنی جنرل کے مطابق وزیر اعظم اور کابینہ پر پارلیمان کی اکثریت کا اعتماد ہے۔ ڈیماندڈ مسترد ہونے کی صورت حال کو جلد تبدیل کیا جا سکتا ہے جبکہ عدالتی حکم عدولی اور اس سے انحراف کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

 

 

سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ اٹارنی جنرل عدالتی حکم عدولی کے نتائج بارے حکومت کو بتائیں تاکہ اس کا تدارک ہو سکے۔واضح رہے کہ 18 اپریل کو وزارت دفاع نے سپریم کورٹ سے پنجاب میں الیکشن کا حکم واپس لینے اور ملک بھر میں ایک ساتھ الیکشن کرانے کی استدعا کی تھی۔وزارت دفاع نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ دہشتگردوں اور شرپسندوں کی جانب سے انتخابی مہم پر حملوں کا خدشہ ہے، قومی،بلوچستان اور سندھ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے پر ہی انتخابات کرائے جائیں۔وزارت دفاع نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ انتخابات کیلیے 3 لاکھ 85 ہزار سے زائد آرمڈ فورس اور رینجرز کے جوانوں کی خدمات درکار ہوں گی، سیاسی حالات کے پیش نظر اضافی نفری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ موجودہ صورت حال کی روشنی میں پولیس سیکیورٹی انتظامات کیلیے ناکافی ہوگی جبکہ کے پی اور بلوچستان میں جاری آپریشنز کی وجہ سے جوانوں کو فوری ہٹانا ممکن نہیں ہے، ان دونوں صوبوں میں آپریشنز کی وجہ سے ہی پنجاب اور سندھ کی صورت حال بہتر ہے اگر جوانوں کو ہٹایا گیا تو پنجاب اور سندھ میں امن و امان کی صورت حال خراب ہوجائے گی۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر کے آغاز تک سیکیورٹی فورسز دستیاب ہوں گی۔اس سے قبل الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو فنڈ نہ ملنے سمیت ساری صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے رپورٹ سپریم کورٹ رجسٹرار کو جمع کرادی تھی جبکہ اسٹیٹ بینک نے بھی اپنی رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں الیکشن کمیشن کو رقم منتقل نہ کرنے کی وجوہات بیان کی گئی تھیں۔اسٹیٹ بینک نے سپریم کورٹ رجسٹرار میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا تھا کہ حکومت نے پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت اسٹیٹ بینک کو فنڈ کے اجرا سے روکا ہے۔ علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے بھی اپنی رپورٹ اٹارنی جنرل آفس کے ذریعے جمع کرائی تھی جس میں وفاقی کابینہ کے فیصلے اور پارلیمان کو معاملہ بھجوانے کی تفصیلات شامل تھیں۔وزارت خزانہ کی رپورٹ میں عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک کو فراہم کردہ معاونت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تھا جبکہ فنڈز منتقلی پر قانونی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔

 

 

جولائی میں ملک بھر میں انتخابات ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(سی ایم لنکس)چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ جولائی میں ملک بھر میں انتخابات ہو سکتے ہیں پنجاب میں فصلوں کی کٹائی اور حج کے بعد انتخابات کی تاریخ رکھ لیں۔ سپریم کورٹ میں ملک بھر میں بیک وقت عام انتخابات سے متعلق درخواست کی سماعت دوسرے روز بھی جاری ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے اور عدالت نے سماعت میں آج شام چار بجے تک وقفہ کیا ہے۔ اب تک کی سماعت میں ملک کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے عدالت میں پیش ہوکر اپنا موقف پیش کیا۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل عثمان انور، درخواست گزار کے وکیل شاہ خاور اور سیاسی جماعتوں کے وکلا بھی پیش ہوئے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ 14 مئی ہے۔ عدالتی فیصلے کو اگنور نہیں کیا جاسکتا۔ عدالتی فیصلہ واپس لینا مذاق نہیں ہے۔

 

عدالت اپنا 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے گی۔ عدالتی فیصلے ہٹانے کا طریقہ کار ہے وہ 30 دن بھی گزر گئے۔ کسی نے عدالتی فیصلہ چیلنج نہیں کیا۔ آج کسی سیاسی لیڈر نے فیصلے کو غلط نہیں کہا اور اور یقین ہے کوئی رکن اسمبلی عدالتی فیصلے کے خلاف نہیں جانا چاہتا۔چیف جسٹس نے سیاسی جماعتوں کو آج شام 4 بجے تک سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے متعلق مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ 4 بجے دوبارہ کیس کی سماعت کریں گے۔ مشاورت کرکے چار بجے تک عدالت کو آگاہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک تجویز ہے کہ عدالت کارروائی آج ختم کر دے۔ تمام سیاسی قائدین نے آج آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے۔ آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے۔ آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی۔ آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اسکی تشریح نہیں کی گئی۔ 1970 اور 1971 کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے۔ سراج الحق، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے، بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے۔ اسمبلی میں ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی۔ حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کوئی اور تھی لیکن یاد رکھنا چاہییکہ عدالتی فیصلہ موجود ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں ہٹ دھرمی نہیں ہو سکتی۔ دو طرفہ لین دین سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے اچھی کوشش کی ہے لیکن گزارش ہو گی پارٹی سربراہان عید کے بعد نہیں آج بیٹھیں۔ جولائی میں بڑی عید ہوگی اس کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں اور عید کے بعد انتخابات کی تجویز سراج الحق کی ہے۔جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عید کے دوران بھی مولانا فضل الرحمان سے بات کریں گے۔اس سے قبل آج صبح جب چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآن پاک کی تلاوت سے سماعت کا دوبارہ آغاز کیا اور کہا کہ مولا کریم ہمیں نیک لوگوں میں شامل کردیں اور پچھلے ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں انہوں نے اچھا اور نیک کام شروع کیا۔ ہم اس کام میں آپ کے لیے دعاگو ہیں کہ کامیاب ہوں اور توقع ہے مولانا فضل الرحمان بھی لچک دکھائیں گے۔وزارت داخلہ کے وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کیلیے ضروری ہے الیکشن ایک ہی دن ہوں۔ بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادت عدالت میں موجود ہے۔ مناسب ہو گا عدالت تمام قائدین کو سن لے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ صف اول کی سیاسی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے جس پر میں ان کا مشکور ہوں۔ قوم میں اس وقت اضطراب ہے، قیادت یہ مسئلہ حل کرے تو سکون ہو جائے گا۔ کیونکہ عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں بنتی ہیں سیاسی قائدین افہام وتفہیم سے مسئلہ حل کرے تو برکت ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت دفاع کی بھی یہی استدعا ہے کہ الیکشن ایک دن میں ہوں۔ درخواست گزار بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایک ساتھ الیکشن ہوں، اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ اٹھایا لیکن سیاست کی نذرہوگیا۔ فاروق ایچ نائیک بھی چاہتے تھے لیکن بائیکاٹ ہوگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائد بھی مذاکرات کو سراہتے ہیں۔ ن لیگ نے بھی مذاکرات کی تجویز کو سراہا ہے۔

 

اس موقع پر پیپلز پارٹی کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی سیاسی اتحاد کا مشترکہ مؤقف ہے کہ 90 دن میں انتخابات کا وقت گزر چکا ہے۔ عدالت دو مرتبہ 90 دن سے تاریخ آگے بڑھا چکی ہے۔ سیاسی جماعتیں پہلے ہی ایک ساتھ انتخابات پر کام شروع کرچکی ہیں۔ بلاول بھٹو نے اسی سلسلے میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ہے اور عید کے فوری بعد سیاسی ڈائیلاگ حکومتی اتحاد کے اندر مکمل کرینگے۔پیپلز پارٹی کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی سے پھر مذاکرات کرینگے تاکہ ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو۔ کوشش ہوگی کہ ان ڈائیلاگ سے سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو۔ الیکشن ایک ہی دن اور جتنی جلدی ممکن ہو ہونے چاہئیں۔ ملک بھر میں نگراں حکومتوں کے ذریعے انتخابات ہونے چاہئیں جب کہ سیاسی معاملات پارٹیوں کے درمیان طے ہونے چاہئیں۔ سیاسی معاملے میں کسی ادارے کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔فاروق نائیک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آج پارٹی ٹکٹ جمع کروانے کا آخری دن ہے۔ عدالتی حکم کے بعد الیکشن کمیشن تاریخ نہیں بڑھا سکتا۔ پارٹی ٹکٹ کے لیے وقت میں اضافہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ 13 دن کی تاخیر ہوئی تب عدالت نے حکم دیا۔ الیکشن

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
73711

سپریم کورٹ کا حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے الیکشن کی تاریخ دینے کا مشورہ

Posted on

سپریم کورٹ کا حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے الیکشن کی تاریخ دینے کا مشورہ

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ ) سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت میں حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے الیکشن کی ایک تاریخ دینے کا مشورہ دے دیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نظام کو آئین کے تحت مفلوج کرنے کی اجازت نہیں۔ انتخابات کروانا لازم ہے۔سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پنجاب اور خیبر پختوانخوا میں انتخابات میں تاخیر پر از خود نوٹس کی سماعت کررہا ہے۔ بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تاریخ دے گا کون؟ الیکشن کمیشن کی تاریخ آنے پر ہی باقی بات ہوگی۔ اگر قانون میں تاریخ دینے کا معاملہ واضح کردیا جاتا تو آج یہاں نہ کھڑے ہوتے۔چیف جسٹس نے عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ 90 روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے۔اٹارنی جنرل سے کہیں گے آئینی نکات پر معاونت کریں۔صدر کے صوابدیدی اورایڈوائس پراستعمال کرنے والے اختیارات میں فرق ہے۔سپریم کورٹ کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی 90 روز کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔

 

اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نگران وزیراعلیٰ الیکشن کی تاریخ دینے کی ایڈوائس گورنر کو دے سکتا ہے؟ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کرسکتا ہے؟اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدرعابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ اور نگران سیٹ اپ کا اعلان ایک ساتھ ہوتا ہے۔ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے نگران وزیر اعلی کا نہیں۔عابد زبیری نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے انتخابات 90 روز میں ہی ہونے ہیں۔اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا عدالتی حکم میں سے سپریم کورٹ بار کے صدر کا نام نکال دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ بار ایسویشن کو ادارے کے طور پر جانتے ہیں۔ عابد زبیری نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کا وکیل ہوں کسی سیاسی جماعت کا نہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جو عدالت میں لکھوایا جاتا ہے وہ عدالتی حکم نامہ نہیں ہوتا جب ججز دستخط کردیں تو وہ حکم نامہ بنتا ہے۔

 

عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ اور نگران سیٹ اپ کا اعلان ایک ساتھ ہوتا ہے۔ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے نگران وزیر اعلی کا نہیں۔ اتنے دنوں سے اعلان نہیں کیا گیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں حکومت آئینی زمہ داری پوری نہیں کررہی؟ 90 روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے۔اٹارنی جنرل سے کہیں گے آئینی نکات پر معاونت کریں۔جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا 52 دنوں کا مارجن رکھا جائیگا۔عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت نے مشاورت کیلئے خط لکھے ہیں جس پرجسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں۔ آئین میں توکہیں مشاورت کا ذکر نہیں۔ نگران حکومت بھی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے۔جسٹس جمال نے ریمارکس میں کہا کہ صدر کے اختیارات برارہ راست آئین نے نہیں بتائے۔ آئین میں اختیارات نہیں توپھر قانون کے تحت اقدام ہوگا۔ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کرینگے صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کہ گورنر تاریخ نہیں دے رہا صدر بھی ایڈوائس کا پابند ہے تو الیکشن کیسے ہوگا؟ کیا وزیر اعظم ایڈوائس نہ دے تو صدر الیکشن ایکٹ کے تحت اختیار استعمال نہیں کرسکتا۔

 

پارلیمان نے الیکشن ایکٹ میں صدر کو اختیار تفویض کیا ہے۔عابد زبیری نے کہا کہ تفویض کردہ اختیارات استعمال کرنے کیلیے ایڈوائس کی ضرورت نہیں۔ الیکشن ہر صورت میں 90 روز میں ہونا ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر الیکشن کی تاریخ صرف قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر دے سکتے ہیں۔دوسری صورت میں ملک بھر میں انتخابات ہوں تو ہی صدر تاریخ دے سکتے ہیں۔ گورنر اسمبلی تحلیل کے اگلے دن انتخابات کا کہہ دے تو الیکشن کمیشن نہیں مانے گا۔ الیکشنز کو 90 روز سے آگے نہیں لیکر جانا چاہیے۔جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ کیا انتخابی مہم کا دورانیہ کم نہیں کیا جاسکتا جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلیے وقت درکار ہوتا ہے۔ انتخابی مہم کا دورانیہ دو ہفتے تک کیا جاسکتا ہے۔جسٹس منیب نے کہا کہٓئین پر عمل کرنا زیادہ ضروری ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا اگر انتخابات 90 دن میں ہی ہونا لازمی ہیں تو 1988 کا الیکشن مشکوک ہوگا؟ سال 2018 کا الیکشن بھی مقررہ مدت کے بعد ہوا تھا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تاریخ دے گا کون؟ الیکشن کمیشن کی تاریخ آنے پر ہی باقی بات ہوگی۔ اگر قانون میں تاریخ دینے کا معاملہ واضح کردیا جاتا تو آج یہاں نہ کھڑے ہوتے۔

 

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتخابات پر متحرک ہونا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔الیکشن کمیشن کا کام تھا مکمل تیاری کے ساتھ دوبارہ گورنرز سے رجوع کرتا۔گورنر خیبرپختونخواہ کے مطابق دیگر اداروں سے رجوع کرکے تاریخ کا تعین کیا جائے۔کیا گورنر کے پی سے تاریخ کیلئے بات ہوئی ہے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے گورنر سے ملاقات کی۔ گورنر کے پی کو یاد دہانی کا خط بھی لکھا تھا۔ گورنر کے پی نے مشاورت کے لیے تاریخ نہیں دی اوردیگر اداروں سے رجوع کرنے کو کہا۔وکیل گورنر کے پی نے کہا کہ گورنر نے اسمبلی وزیراعلی کی ایڈوائس پر تحلیل کی۔ گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو تاریخ دینے کا مجاز ہے۔الیکشن کمیشن نے تین فروری کو گورنر کو صوبائی حکومت سے رجوع کا کہا۔ خط میں الیکشن کمیشن نے اپنی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ نظام کو آئین کے تحت مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انتخابات کروانا لازم ہے۔ اولین ترجیح ا?ئین کے تحت چلنا ہے۔ الیکشن کی تاریخ کے بعد رکاوٹیں دور کی جاسکتی ہیں۔ اگر کوئی بڑا مسئلہ ہو تو آپ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی بھی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانے کا اختیار نہیں، ٹھوس وجوہات کا جائزہ لیکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے، آرٹیکل 254 وقت میں تاخیر پر پردہ ڈالتا ہے، مگر لائسنس نہیں دیتا کہ الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو، الیکشن بروقت نہ ہوئے تو استحکام نہیں آئے گا، حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے، آج صرف تاریخ طے کرنے کا معاملہ دیکھنا ہے، اگر نوے روز سے تاخیر والی تاریخ آئی تو کوئی چیلنج کردیگا۔عدالت نے حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے ایک تاریخ دینے کا مشورہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ کربھی دیں تو مقدمہ بازی چلتی رہے گی جو عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے مہنگی ہوگی۔سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت سے ہدایت لینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین سے مشورہ کرکے الیکشن کی متوقع تاریخ سے آگاہ کریں۔فاروق ایچ نائیک نے کل تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کرنی ہے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آج مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں،عدالت کا سارا کام اس مقدمہ کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔عدالت نے سماعت میں چار بجے تک وقفہ کر دیا۔

 

 

عمران خان نے سیشن کورٹ سے درخواستِ ضمانت واپس لے لی، ہائیکورٹ میں دائر

اسلام آباد(سی ایم لنکس)توشہ خانہ فیصلے پر احتجاج کے تناظر میں عمران خان پر درج مقدمے میں بڑی پیش رفت ہوگئی۔عمران خان نے سیشن کورٹ سے ضمانت کی درخواست واپس لے لی اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کردی۔ عمران خان نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے درخواست دائر کی۔ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست ضمانت پر تین اعتراضات عائد کر دئیے۔رجسٹرار آفس نے اعتراض اٹھایا کہ عمران خان کے دستخط پٹیشن پر دو جگہوں پر مختلف ہیں، عمران خان نے بائیو میٹرک تصدیق نہیں کرائی، ضمانت قبل از گرفتاری ڈائریکٹ ہائیکورٹ میں کیسے دائر ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ محسن شاہ نواز رانجھا کی مدعیت میں عمران خان پر تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
72056

سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز میں کمی ریکارڈ، 2 فروری 2022 سے 25 فروری 2023 کے دوران کل 24 ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا گیا

Posted on

سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز میں کمی ریکارڈ، 2 فروری 2022 سے 25 فروری 2023 کے دوران کل 24 ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا گیا

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا کیسز میں کمی ہوئی ہے، 2 فروری 2022 سے 25 فروری 2023 کے دوران مجموعی طور پر 24,303 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا جبکہ مذکورہ مدت کے دوران 22,018 نئے کیسز سامنے آئے۔ہفتہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کر دہ پریس ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں 2,285 کی کمی ہوئی ہے جو کہ 54,735 سے کم ہو کر 52,450 رہ گئی ہے۔فروری 2023 کو ختم ہونے والی سالانہ مدت میں فیصلہ کیے جانے والے مقدمات کی تعداد 2018 کے بعد سب سے زیادہ ہے جب کل 16,961 کیسز نمٹائے گئے۔اس کا مثبت نتیجہ سپریم کورٹ کے معزز ججز کی غیر معمولی محنت، کیس مینجمنٹ سسٹم کا تعارف اور کیس لوڈ کی ضروریات کے مطابق بنچوں کی تشکیل کا مظہر ہے۔

 

فل کورٹ تشکیل، جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر کو شامل نہ کیا جائے: حکومت کی نئی درخواست دائر

اسلام آباد(سی ایم لنکس) حکومت میں شامل تین بڑی سیاسی جماعتوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کردی۔مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی اور جے یو ائی کی جانب سے سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر کی گئی ہے۔حکومتی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فل کورٹ تشکیل دیتے ہوے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو شامل نہ کیا جائے۔دونوں ججز پہلے ہی پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات پر اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔تین بڑی سیاسی جماعتوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس عائشہ ملک سمیت دیگر ججز پر مشتمل فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
71938

سپریم کورٹ نے نیب سے 23 سال کے ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا

Posted on

سپریم کورٹ نے نیب سے 23 سال کے ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم کے خلاف مقدمے میں گزشتہ 23 سال کے ہائی پروفائل کرپشن کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ نیب قانون میں حالیہ ترامیم کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بے نامی دار کی تعریف انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے۔ جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو، وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کیسز میں بھی بے نامی کا معاملہ تھا۔ معاشی پالیساں ایسی ہونی چاہییں کہ بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معاشی پالیسیوں کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔ اگر کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو قانون میں مکمل شفاف ٹرائل کا طریقہ کار موجود ہے۔

 

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معیشت پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ عوام کے اثاثوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے تحاشا قرض لینے کی وجہ سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قرضوں کا غلط استعمال ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ زیادہ تر غیر ضروری اخراجات ایلیٹ کلاس کی عیاشی پر ہوئے۔ ملک میں 70 سے 80 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عدالت حکومت کو قرض لینے سے نہیں روک سکتی۔ معیشت کے حوالے سے فیصلے کرنا ماہرین ہی کا کام ہے۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمیں پہلے یہ بتائیں کہ نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟۔ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی کہ اتنی کرپشن ہوگی تو نیب دیکھے گا۔ سوال یہ ہے کہ ایک عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ نیب قانون سے زیر التوا مقدمات والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی نظیر موجود ہے جہاں شہری کی درخواست پر عدالت نے سابقہ قانون کو بحال کیا ہو؟۔ شہری کی درخواست پر عدالت پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ پبلک منی کے معاملے پر عدالت قانون سازی کالعدم قرار دے سکتی ہے۔عوام کا پیسہ کرپشن کی نذر ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔بعد ازاں عدالت نے ریکارڈ طلب کیا کہ اب تک کتنے ایسے کرپشن کے کیسز ہیں، جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئیں؟ اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے؟،نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں؟۔عدالت نے نیب سے 1999ء سے لے کر جون 2022ء تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

 

 

سپریم کورٹ: زیتون بی بی کو 46سال بعد وراثتی حق مل گیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس)ڈیرہ اسماعیل (ڈی آئی) خان کی رہائشی زیتون بی بی کو 46 سال بعد وراثتی حق مل گیا۔سپریم کورٹ نے زیتون بی بی کا والد کی جائیداد میں حصہ تسلیم کرلیا اور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف بھائیوں کی اپیل خارج کردی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے اس دوران استفسار کیا کہ کم عمر بہن اپنے بھائیوں کو جائیداد کیسے تحفے میں دے سکتی ہے؟سپریم کورٹ کے جج نے مزید کہا کہ ریکارڈ کے مطابق بہن کی جانب سے وکیل نے بیان دیا، پوچھتے ہیں کمسن لڑکی کی جانب سے کوئی وکیل کیسے بیان دے سکتا ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے یہ بھی کہا کہ بھائیوں نے کبھی بہن کو جائیداد گفٹ دی ہے؟ ہر بار بہن ہی کیوں گفٹ دے۔سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ گفٹ ڈیڈ میں کہیں آفر قبولیت کا ذکر نہیں تو اس کی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جب بہن نابالغ تھی تو بھائیوں نے کیسے بہن سے ساری جائیداد لے لی۔زیتون بی بی نے جائیداد میں حصہ کیلیے 2005 میں سول کورٹ میں کیس دائر کیا تھا، 2012 میں سیشن عدالت، 2017 میں پشاور ہائیکورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ دیا۔خاتون کے بھائیوں نے 2018 میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جو آج خارج ہو گئی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
66824

سپریم کورٹ کا چیف کمشنر اسلام آباد کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کیلئے مناسب جگہ فراہم کرنے کا حکم

Posted on

سپریم کورٹ کا چیف کمشنر اسلام آباد کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کیلئے مناسب جگہ فراہم کرنے کا حکم

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ نے چیف کمشنر اسلام آباد کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کے لئے مناسب جگہ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے لانگ مارچ روکنے کے خلاف پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کی درخواست کی سماعت کی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے، اسکولز اور ٹرانسپورٹ بند ہے، تمام امتحانات ملتوی، سڑکیں اور کاروبار بند کر دیے گئے ہیں، معاشی لحاظ سے ملک نازک دوراہے پر ہے اور دیوالیہ ہونے کے در پر ہے، کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا؟، بنیادی طور پر حکومت کاروبار زندگی ہی بند کرنا چاہ رہی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ معیشت کے حوالے سے عدالت کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے، میڈیا کو ریمارکس چلانے سے روکا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال تو ہر انسان کو معلوم ہے۔اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ مجھے تفصیلات کا علم نہیں، معلومات لینے کا وقت دیں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپکو ملکی حالات کا علم نہیں؟ سپریم کورٹ کا آدھا عملہ راستے بند ہونے کی وجہ سے پہنچ نہیں سکا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ خونی مارچ کی دھمکی دی گئی ہے، میں بنیادی طور پر راستوں کی بندش کے خلاف ہوں، لیکن عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں، راستوں کی بندش کو سیاق و سباق کے مطابق دیکھا جائے، مسلح افراد کو احتجاج کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ خیبرپختون خوا کے سوا سارے ملک کی شاہراہوں کو بند کردیا گیا ہے، لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، گھروں میں گھسا جا رہا ہے، حکومتی اقدامات غیر آئینی ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ماضی میں بھی احتجاج کیلئے جگہ مختص کی گئی تھی، میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے احتجاج کی اجازت کیلئے درخواست دی تھی، اس پر کیا فیصلہ ہوا۔صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار شعیب شاہین نے کہا کہ پولیس وکلاء کو بھی گھروں میں گھس کر گرفتار کر رہی ہے،  سابق جج ناصرہ جاوید کے گھر بھی رات گئے چھاپہ مارا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں۔شعیب شاہین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان دو مرتبہ سرینگر ہائی وے پر دھرنا دے چکے ہیں، بلاول بھٹو بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ کر چکے ہیں، اب بھی مظاہرین کیلئے جگہ مختص کی جا سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے چیف کمشنر اسلام آباد،ڈی سی اسلام آباد، آئی جی سیکریٹری داخلہ اور ایڈووکیٹ جنرلز کو طلب کرتے ہوئے تمام افسران سے صوتحال پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التواء کیس میں جاری احکامات بھی طلب کرلئے۔سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کے لئے متبادل جگہ دینے کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد کو انتظامات کرنے کی ہدایت کردی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے چیف کمشنر اسلام آباد کو حکم دیا کہ لانگ مارچ کے لئے مناسب جگہ فراہم کی جائے، لانگ مارچ کی جگہ تک رسائی کے لیے ٹریفک پلان ترتیب دیا جائے، پی ٹی آئی والے اپنا احتجاج کریں اور گھروں کو جائیں، حکومت سے توقع رکھتے ہیں راستوں کی بندش ختم کرے گی، پی ٹی آئی سے یقین دہانی بھی لیں گے۔

عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری کو قیادت سے ہدایت لینے کے لیے اڑھائی بجے تک کا وقت دیدیا۔ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف اور ضلعی انتظامیہ کو متبادل جگہ کے تعین کی ہدایت کرتے ہوئے متبادل جگہ کا انتظام کرکے آگاہ کیا جائے، اڑھائی بجے تک متبادل جگہ کا تعین کرکے آگاہ کیا جائے، پی ٹی آئی قیادت کو مذاکرات کیلئے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ کی سرزنش بھی کی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آئی جی صاحب پولیس کے کارناموں کا وزن بہت زیادہ ہے، کیا آپ کو معلوم ہے آپ پہلے ہی کتنا وزن اٹھائے ہوئے ہیں، کنٹرول میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات کو استعمال کریں۔عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور پولیس کو فوری طور پر پالیسی پر نظرثانی کی ہدایت بھی کی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ا?ئی جی اسلام آباد ریاست کے ملازم ہیں، عوام اور وکلا کو حراساں نہ کیا جائے، احتجاج کرنے والے بھی آپ کے اپنے لوگ ہیں، کچھ ہوا تو ذمہ داری ائی جی اسلام آباد پر ہوگی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ احتجاج پر امن ہوگا، املاک کو نقصان نہ پہنچے، نہ تشدد نہ ٹریفک بلاک ہو، سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر،آئی جی اور اٹارنی جنرل معاملئے کا حل نکالیں،

پی ٹی آئی کے وکیل ہدایات لیکر انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں، سب بہاریں پاکستان کے ساتھ ہیں، اگر پی ٹی آئی کو گرفتاری کا خدشہ ہے تو لسٹ دے دیں، جنھیں گرفتاریوں کا خدشہ ہے انھیں تحفظ دینگے، سیاسی جماعتوں کے مفاد ہیں لیکن عوام اور ملک کے سامنے سیاسی مفادات کی کوئی حیثیت نہیں، آپس کی لڑائیوں میں ملک کی بہاروں کو خزاں میں تبدیل نہ کریں، سیاست میں آج ایک اور کل دوسرا ہوگا، انتظامیہ مکمل پلان پیش کرے کہ احتجاج بھی ہو اور راستے بھی بند نہ ہوں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے، حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان پر خودکش حملے کا خطرہ ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ان سے کہا کہ آپ اصل ایشو سے دور جا رہے ہیں، کیا پولیس چھاپے مار کر لیڈرز اور کارکنوں کو حفاظتی تحویل میں لے رہی ہے؟ راتوں کو گھروں میں چھاپے مارنے کا کیا مقصد ہے، حکومت کو سرینگر ہائی وے کا مسئلہ ہے تو لاہور سرگودھا اور باقی ملک کیوں بند ہے؟۔جسٹس مظاہر علی اکبر نے ہدایت کی کہ وزارت داخلہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ سپریم کورٹ میں کیس کی مزید سماعت سہہ پہر تک ملتوی کردی گئی۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
61605