Chitral Times

سوشل میڈیا پر ہتک گردی….(محمد افضل چترالی)

فیس بک کا قیام فروری 2004ء میں Mark Zuckerberg اور ان کے چند ساتھیوں نے ملکر عمل میں لائے, جس کا مقصد تعلیمی معاملات پر ایک دوسرے کیساتھ رابطہ کاری کرنا تھا- شروع میں ہارورڈ کے اشرافیہ طبقے کے سٹوڈنٹس کیلئے یہ نیٹ ورک بنایا گیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دیگر اسکولز بھی اسےمستفید ہونے لگے اور اب یہ دنیا بھر میں رابطہ کاری کا بہت بڑا ذریعہ بن چکا ہے, جس پر ایک بلین سے زائد افراد اپنے سرگرمیوں, خیالات اور تجربات کا اظہار کر رہے ہیں-


دنیا میں جو بھی نئی چیز تخلیق کی جاتی ہے اس کا بنیادی مقصد انسانیت کی ضروریات کے پیش نظر سہولت یا آسانی فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن پھر ہم جیسے لوگ ہی ہیں جو ان سہولیات کو انسانی فلاح و بہبود کے لئے بروئے کار لانے کے بجائے اپنے مذموم مقاصد مثلاً نفرت, منافرت, لسانیت, علاقیت, فرقہ واریت پھیلانے, گالم گلوچ, دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے, عزت شکنی, بہتان گردی اور دل کے بڑاس نکالنے وغیرہ جیسے مکروہ عزائم کیلئے استعمال کرتے ہیں- شاید ہماری ذہنیت پہلے بھی متعصبانہ ہو مگر ذرائع ابلاغ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پبلک کے سامنے نہیں آرہے تھے- موجودہ وقت جب ہم فیسبک اور دیگر میڈیا نیٹ ورکس پر نظر ڈالتے ہیں تو نہیں لگتا کہ ہم کسی مہذب معاشرے کا حصہ یا اس عظیم ہستی کے امتی ہیں جو دونوں جہانوں کیلئے سراپا مثال بناکر بھیجے گئے تھے اور ہمارے لئے زندگی گزارنے کے تمام ضابطہ اخلاق چھوڑ کر اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں- لیکن ہمارے دعوے بہت بڑے, نعرہ اسلام اور فلاحی معاشرے کا, باتیں مکہ اور مدینے کی, ماہ سیام کے دوران نمود و نمائش کا اظہار ایسے کرتے ہیں جیسا باقی گیارہ مہینے فرشتہ بں کر رہیں گے لیکن عملاً اس کا مظاہرہ کتنا کرتے ہیں ان کا عکس ریگولر اور سوشل میڈیا پر پیش کئے جانے والے ہماری سرگرمیوں سے واضح نظر اتا ہے-


اگر بغور جائزہ لیا جائے تو انسانی رویوں کا دارومدار اور ذمہ داری کسی حد تک خاندان بطور ابتدائی اکائی, درسگاہ اور معاشرے پر ہے جہاں ہم پرورش پاتے ہیں اور وہاں سے اچھے اور برے میں تمیز کی صلاحیت اور تربیت حاصل کیا جانا چاہئے- نیز جب انسان جب کسی عملی یا پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھتا ہے تو وہ پلیٹ فارم بھی تجربہ حاصل کرنے ایک ذریعہ ہے- اسلامی اور سماجی اقدار مثلاً کسی کی عزت, احترام اور بنیادی حقوق کی پاسداری کا احساس سوشل میڈیا پر بیہودہ اور انتہائی غلیظ, شرانگیز مواد یا تصاویر کو “کٹ پیسٹ” کرکے نظریاتی یا سیاسی مخالفین کو جس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے وہ ہر لحاظ سے قابل افسوس اور قابل مذمت ہے- اس طرح کے کام صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جن کی تربیت میں کمی یا پرورش میں حرام کمائی اثرات ہوں- حلال رزق سے پرورش یافتہ افراد اس طرح کی غلیظ ترین سرگرمیوں کا سوچ بھی نہیں سکتے-


یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کو بامقصد اور مثبت طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے, جیساکہ نئی نسل کو اسلامی اور سماجی اقدار سے روشناس کروانا, معاشرتی بہبود کے حوالے سے نوجوانوں کے ممکنہ ذمہ داری اور کردارکو اجاگرکرنا, رضاکارانہ سرگرمیوں میں شمولیت کی اہمیت اور غیر صحمتمند سرگرمیوں کے نقصانات سے آگاہی فراہم کرنا اور مثبت سیاسی رجحانات کے فوائد جیسے موضوعات کو زیر بحث لاکر صحتمند معاشرے کو ممکن بنانا وغیرہ- اگرچہ نظریاتی اختلافات کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن ہمارےملک میں سیاسی مخالفین کی کردار کشی کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کو جاتا ہے لیکن دورِحاضر میں سوشل میڈیا پر جو نفرت اور ہتک امیز مواد مخالفین کےخلاف پوسٹ کئے جاتے ہیں اس کا نظیر نہیں ملتا-


اسلامی جمہوریہ پاکستان میں “اسلامی اقدار” کی پاسداری اور “جمہورریت” کی بالادستی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا- دنیا کے مہذب اور ترقی پسند معاشروں میں عزت و احترام کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ روّیہ امن و سلامتی جو اسلام کا آفاقی فلسفہ ہے, خوشحالی اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے- کیا خوب ہوتا کہ ریاستِ مدینہ کے سپاہی بھی دوسروں کیلئے “رول ماڈل” کا کردار ادا کرتے- لیکن بدقسمتی سے اسی عہد میں عدم برداشت کا لاوا جس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے امید کی روشنی اسی رفتار سے ماند پڑ رہی ہے- محترم وزیر اعظم صاحب جس طرح ریاست مدینہ کا اظہار فرماتے رہتے ہیں سمجھ نہیں آرہا کہ موجودہ سیاسی اور سماجی رویّوں کو ریاست مدینہ کے مجموعی ڈھانچے میں نصب کرنے کیلئے کس طرح کے گنجائش پیدا کرسکیں گے؟ تکثریت اور جمہوریت میں اختلاف رائے کو معاشرے کا حسن سمجھا جاتا ہے لیکن اس حسن کو جس طرح زبان کی قنچی, قلم کے انگارے سے جلایا جارہا ہے وہ ہرگز ہرگز ملک اور معاشرے کیلئے فائدہ مند نہیں-


“ہمارا پیغام ہے محبت واخوت جہاں تک پہنچے”

سوشل میڈیا پر ہتک گردی....(محمد افضل چترالی)
IMG 20201217 WA0012
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
43502