Chitral Times

سانس کی گونچ___! شاہ عالم علیمی

Posted on

 

چاندنی رات میں

دریا کے کنارے

جمی ہوئی برف کے اوپر کھڑا

وہ آسماں کی طرف سر اٹھا کر

ایک اہ بھر کر کچھ کہہ رہا تھا

کیا کہہ رہا تھا خود اسے کچھ سمجھ نہ ایا

ایک آہ

جو کائنات میں گونچ رہا تھا

یہ سٹرنگ تھیوری میں مدد گار ثابت ہوگا؛

ایک سائنسدان نے سوچا

نہیں یہ افلاطون کے خیال جیسا اپنا وجود رکھتا ہے؛ ایک فلاسفی نے اعلان کیا

وہ ایک آہ تھا اور کچھ نہیں

کائنات میں گونچ رہا تھا

شاید اس کے دل کی بات ہو

یا کوئی شکایت ہو

یا کوئی آرزو ہو کوئی فریاد ہو

دل کا کیا ہے کچھ بھی کہتا ہے؛

وہ مسکراتے ہوئے واپس مڑا

اب ٹھنڈی رات کو چاندنی میں

وہ برف کو تکتے ہوئے جارہا تھا

خیالوں سے خالی دل مگر خیالوں میں گم

پہاڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے

طائر شب کی صدا نے جیسے اس کو نیند سے جگا دیا

تیز تیز قدم چلنے لگا

ہاتھ اوور کوٹ کے جیبوں میں دبائے

سوچنے لگا چلو کوئی تو جاگ رہا ہے

میں اکیلا نہیں ہوں

کوئی تو جاگ رہا ہے

سرد راتوں میں

جمی برف میں

چاندنی کے سائے میں

میں اکیلا تو نہیں!

Posted in شعر و شاعریTagged
18018