Chitral Times

داد بیداد ۔ افغانستان بمقابلہ باقی دنیا ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ۔افغا نستان بمقا بلہ با قی دنیا ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

امریکہ میں مقیم افغا ن دانشور اور نا ول نگار خا لد حسینی کا درد بھر اخط پڑھنے کو ملا خا لد حسینی نے امریکہ، یو رپ اور با قی دنیا میں بسنے والے لو گوں کی بھاری اکثریت کی طرح افغا نستان میں امارت اسلا می کی فتو حا ت پر گہرے غم اور تشویش کا اظہار کیا ہے وہ خود افغا ن ہے مسلمان ہے اس کے وا لدین نے 1980کی دہائی میں کمیو نسٹو ں کی فتح سے تنگ آ کر ملک چھوڑ نے کا فیصلہ کیا اور امریکہ میں پنا ہ گزین ہوئے کم و بیش 40سال بعد خا لد حسینی کو امارت اسلا می کی فتو حات سے خوف آتا ہے

وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کو 40سال پہلے کمیو نسٹوں سے دشمنی تھی اب 40سال گزر نے کے بعد وہ مسلما نوں سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں ان کو ڈر اور خوف ہے کہ افغا نستان میں امارت اسلا می کیوں قائم ہورہی ہے؟ انسا نی حقوق اور شہری آزادی کے قوانین کا تقا ضا یہ ہے کہ امریکہ، یورپ اور افغا نستان کے لئے ایک ہی معیار ہونا چا ہئیے مگر ایسا نہیں ہے امریکہ اور یورپ میں انسا نی حقوق اور شہری آزادی کا جو معیار ہے اس کے مطا بق امریکہ کی آ مش برادری کو ان کی مر ضی کے مطا بق جینے کا حق دیا گیا ہے، بر طا نیہ کی ویلش برادری اپنی مر ضی کی زندگی گذار رہی ہے،

کینڈا میں مینو نا ئٹ نا م کا قبیلہ ہے جس کو اپنی مر ضی کی زند گی گذار نے کا پور احق دیا گیا ہے لیکن جب افغا نستان کے تین کروڑ عوام اپنی مر ضی کی زندگی جینا چاہتے ہیں تو امریکہ اور یو رپ میں خطرے کی گھنٹیاں بجا ئی جاتی ہیں وہاں رہنے والے افغا نی بھی چیخ اُٹھتے ہیں کہ ایسا کیو ں ہو رہا ہے؟ یہ لبر ل اور کنزر ویٹیو کی بحث نہیں یہ قدامت پسند اور ترقی پسند کی بحث نہیں یہ صرف انسا نی حقوق کے دہرے معیار کی بحث ہے تم پوری دنیا کے لئے الگ معیار اور افغا نستان کے لئے الگ معیار کیو ں رکھتے ہو؟ امریکہ میں آمش (Amish) عیسائی قبیلہ جدید دور کی ترقی کو قبول نہیں کر تا،

سڑک اور بجلی کو قبول نہیں کر تا کھیتی باڑی کے لئے مشینوں کے استعمال کو قبول نہیں کر تا، سکول، کا لج، اور یو نیور سٹی کی تعلیم کو نہیں مانتا امریکی آئین نے اس قبیلے کو اپنی مرضی کی زندگی جینے کا حق دیا ہے ان پر جبر کر کے جدیدیت اور ترقی کو مسلط کرنے کی اجا زت نہیں بر طا نیہ کے ولیعہد شہزادہ چارلس کو پرنس آف ویلز کا خطا ب دیا گیا ہے ویلز کی آبا دی ویلش کہلا تی ہے ویلش (Walsh) ایک الگ قبیلہ ہے جو انگریزی زبان، انگریزی سکول اور ذرائع ابلا غ میں انگریز ی کے استعمال کا مخا لف ہے ویلش کو بر طا نیہ کے قا نو ن نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ویلش زبان میں تعلیم، اخبار، ریڈیو اور ٹی وی پر و گرام چلا ئیں بازاروں شاہرا ہوں اور دفتروں کے سائن بور ڈ انگریزی کی جگہ ویلش زبان میں لکھوائیں

یہ ان کا بنیا دی انسا نی حق ہے جسے حکومت نے بھی اور بر طا نیہ کے عوام نے بھی خو شی سے تسلیم کیا ہے اسی طرح کینڈا میں ایک مذہبی اقلیت رہتی ہے اس کو مینو نا ئٹ (Mennonite) کہتے ہیں یہ عیسا ئیوں کا الگ گروہ ہے کینڈا کے آئین میں اس کو مکمل آزادی حا صل ہے یہ لوگ الگ تھلگ نہیں رہتے کینڈا، امریکہ اور افریقہ میں جہاں بھی رہتے ہیں آبا دی میں گُھل مل کر بستے ہیں اور اپنے عقائد پر عمل کرتے ہیں یورپ اور امریکہ کے ذرائع ابلا غ نے کبھی ان کو خوف اور بد امنی کی علا مت قرار نہیں دیا اگر افغا نستا ن کی آبا دی امریکہ سے 7ہزار کلو میٹر دور سمندر پا ر پہاڑی وادیوں میں اپنے مذہب اسلا م کی تعلیما ت کے مطا بق زند گی گذار نا چا ہتی ہے تو باقی دنیا کو کیاتکلیف ہے؟

تم نے جو حق آمش کو دیا ہے، ویلش کو دیا ہے، مینو نا ئٹ کود یا ہے وہی حق افغا ن کو کیوں نہیں دیتے خا لد حسینی کی عمر کے افغا ن دا نشور خود اپنی قوم کو، اپنے ہم وطنوں کو ان کی مر ضی کے مطا بق جینے کا حق کیوں نہیں دیتے؟ ایک گوشے سے آواز آتی ہے کہ افغا نوں نے اسلحہ اٹھا یا ہوا ہے جواب یہ ہے کہ امریکہ اور 29یو رپی ملکوں نے اسلحہ لیکر افغا نستا ن پر حملہ کیا تو جواب میں افغا نوں کو اسلحہ اٹھا نے کی ضرورت پڑی آج بھی مخا لف فریق امن سے رہنے دے تو افغا ن امن کو سینے سے لگا ئینگے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51537

داد بیداد ۔ ایک اچھا ماڈل ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ ایک اچھا ماڈل ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شکوہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ اچھی با توں کو نظر انداز کرتے ہیں لیکن یہ پورا سچ نہیں اچھی باتیں منظر عام پرا ٓ ئیں تو ان کی بہت پذیرائی ہو تی ہے آج کا کا لم ایک ایسے سر کار ی سکول کے بارے میں ہے جو کسی بڑے سے بڑے پرائیویٹ سکول کا مقا بلہ کرتا ہے یہ ایک اچھا ما ڈل ہے اور اس کو ماڈل بنا نے کا سہرا عوام کے سر ہے عوام اگر سکول پر تو جہ دیں تو ہر سر کاری سکول اچھا نمو نہ بن سکتا ہے پشاور یا اسلا م اباد میں بیٹھا ہوا کوئی افیسر یا وزیر اس طرح کا کوئی کا ر نا مہ انجام نہیں دے سکتا .

گورنمنٹ ہائیر سیکینڈری سکول فتح پور تحصیل مٹہ ضلع سوات تمام پا کستان کے سرکاری سکو لوں کے لئے اچھی مثال ہے عوام نے اس کو کس طرح اچھی مثال بنا دیا؟ اس کی مختصر سی کہا نی ہے عوام سکول کی حا لت پر تشویش میں مبتلا تھے خدا نے عوام کی فر یا د سن لی اور ان کو مکین خا ن کی صورت میں ایک پرنسپل کی خد مات حا صل ہوئیں عوام چاہتے تھے کہ ان کے بچے گھر کی دہلیز پر سر کاری سکول میں بڑے پرائیویٹ اداروں کے برابر یا ان سے بہتر تعلیم حا صل کریں.

نیا پرنسپل آیا تو اُس نے عوام کے سامنے اپنا منصو بہ رکھا پرنسپل کا منصو بہ عوامی خوا ہشات کے عین مطا بق تھا ان کے منصو بے کے چار حصے تھے پہلا حصہ یہ تھا سکول کے اوقات بڑھا ئے جا ئیں دو گھٹنے کے اضا فے سے نصاب کی دہرائی کا مو قع ملے گا دوسرا حصہ یہ تھا غیر حا ضری صفر ہو، تیسرا حصہ یہ تھا کہ ما ہا نہ امتحا نات لئے جا ئیں اور امتحا نات کے نتا ئج والدین کو بھیجدئیے جا ئیں والدین ان نتا ئج پر اپنی رائے دیدیں ان کی رائے کو دیکھ کر اسباق اور امتحا نات کی تر تیب میں بہتری لائی جا ئیگی اس منصو بے کا چوتھاحصہ یہ تھا کہ مقا می طور پر وسائل پیدا کر کے لا ئبریری،سامان ورزش اور لیبارٹری کی حا لت بہتر بنا ئی جا ئے نیز سکول کے بنیا دی ڈھا نچے کو بہتر کر کے قرب و جوار سے روزا نہ گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ سفر کر کے آنے والے طلباء کے لئے ہا سٹل کی سہو لت فرا ہم کی جا ئے عوام نے اس منصو بے سے اتفاق کیا .

دیا نت داری، اما نت داری اور صدا قت سے اس پر عمل در آمد کا آغا ز ہوا پہلے چھ مہینوں میں عوام نے سکول کی سہو لیات اور تعلیمی پرو گرام پر اطمینان کا اظہار کیا ایک سال بعد پرنسپل نے جس طرح کی قر با نی کا مطا لبہ کیا عوام نے اس طرح کی قر با نی دی پہلے یہ بات سامنے آئی کہ سکول میں پرائیویٹ فنڈ بھی آتا تھا، سپورٹس فنڈ بھی آتا تھا، پی ٹی سی فنڈ بھی آتا تھا ان وسائل کا منا سب استعمال نہیں دیکھا گیا تھا کام کا آغا ز کمر ہ جما عت سے ہوا جہاں اسا تذہ اور طلباء کی سو فیصد حا ضری کو یقینی بنا یا گیا نصاب کے مطا بق اسباق چھ مہینے میں مکمل کئے گئے اگلے چھ مہینوں میں اسباق اور مشقوں کی دو بار دہرائی کروائی گئی ما ہا نہ ٹیسٹوں کے لئے خو ش خطی پر تو جہ دی گئی.

انگریزی اور اردو میں طلباء کی خو ش خطی بہت بہتر ہوئی پہلے سال دو نتیجے سامنے آئے طلباء نے سکول میں دلچسپی لی عوام نے سکول کو وقت دیا اور سکول کی بہتری کے لئے ما لی قر با نی پر کمر بستہ ہوگئے ان دو نتا ئج نے آگے کا سفر آسان کر دیا دوسرے سال ہا سٹل کی تعمیر شروع ہو ئی اور سر کاری سکول کو رہا ئشی درس گا ہ کا در جہ دیا گیا ایک بورڈ نگ سکول میں تعلیم و تر بیت کا جو ما حول ہو نا چا ہئیے وہ ما حول فرا ہم کیا گیا اس مر حلے پر ایک دلچسپ مسئلہ پیدا ہو امسئلہ یہ تھا کہ نو یں اور گیا ر ھویں جما عتوں کے دا خلے با قاعدہ ٹیسٹ کے زریعے ہو نے لگے، سیا ستدا نوں اور افیسروں کی طرف سے فیل ہو نے والوں کو دا خل کرنے کے لئے دباؤ بڑ ھا یا گیا.

پر نسپل اور ان کے سٹاف نے دباؤ کو مسترد کیا تو طا قتور لو گوں نے پر نسپل کو تبدیل کر دیا پرنسپل کی تبدیلی کا سن کر عوام مشتعل ہو ئے اور تبدیلی کو منسوخ کروا دیا اس کے بعد تین اور موا قع ایسے آ گئے جب بھی وزیر یا ایم پی اے نے پرنسپل کو سکول سے الگ کرنے کا حکمنا مہ جا ری کر وا یا تو عوام نے اس حکمنا مے کی دھجیاں اڑا دیں سکول کی دن دوگنی را ت چو گنی تر قی کا سفر جا ری رہا مکین خا ن صاحب اپنی تصویر چھپوا نا نہیں چا ہتے اپنے کام کی تشہیر میں دلچسپی نہیں رکھتے اپنے سکول کو ما ڈل اور نمو نہ بھی نہیں کہتے.

مو لوی عبد الحق نے اورنگ اباد دکن میں ایک ما لی کا خا کہ لکھا نا م تھا اُس کا نا م دیو، اس نے کبھی نا م کی فکر نہیں کی اپنے کام سے کام رکھا اس کی پہچان نا م کی جگہ کا م ہی بن گیا فتح پور سوات کے مثا لی سکول کا پر نسپل بھی نا م سے زیا دہ کام سے دلچسپی رکھتا ہے

ہم جیسے لو گوں کے سامنے ایک سوال ہے اور یہ سوال فتح پور کے مثا لی عوام کے سامنے بھی ہے کیا مکین خا ن کا سکول ان کی ریٹا ئر منٹ کے بعد بھی ایسا ہی مثا لی رہے گا؟ اس سوال کا جواب سسٹم نہیں دے سکتا، حکومت نہیں دے سکتی عوام ہی جوا ب دے سکتے ہیں عوام اگر اسی طرح بیدار اور مستعد رہے تو سکول اسی طرح اپنی مثا لی حیثیت کو بر قرار رکھے گا بس اس کو سسٹم سے، حکومت سے اور کا م چوروں سے بچا کر رکھنا ہو گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51331

داد بیداد ۔ کاروان انقلا ب ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ کاروان انقلا ب ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

جماعت اسلا می کا ایک اور کاروان انقلا ب آج خیبر پختونخوا کے شہروں اور قصبوں سے گذر رہا ہے یہ کاروان ندی اور دریا کی طرح شما ل سے جنوب کی طرف رواں دواں ہے چترال سے اس کا آغا ز ہوا 9دن بعد جنو بی وزیر ستان میں اس کا اختتام ہو گا دعوت و تبلیغ کے بزرگ کہتے ہیں کہ گشت کے آخیر میں یہ ہر گز مت کہو کہ گشت ختم ہوا بلکہ یوں کہو کہ محلہ ختم ہوا گشت تو قیا مت تک جا ری ہے کاروان کا راستہ ختم ہوا پھر نئے راستے ہو نگے اور اپنا کارواں ہو گا علا مہ اقبال کا ایک شعر قاضی حسین احمد کبھی کبھی سنا یا کر تے تھے ؎


کونسی وادی میں ہے کو نسی رہ گذر میں ہے!
عشق بلا خیز کا قا فلہ سخت جاں!


انہوں نے پا کستان کی سیا ست میں ”دھر نا“ متعارف کرا یا 1989ء میں اس وقت کی حکومت کے خلا ف پا کستان کی تاریخ کا پہلا دھر نا دیا یہ کنٹینر کے بغیر دھر نا تھا جس میں تین کا رکن شہید ہوئے اور وسط مدتی انتخا بات کی راہ ہموار ہوئی اسلا می جمہو ری اتحا د و جو د میں آئی اور تاریخ بن گئی آج میں سوچتا ہوں تو ”دھر نے“ کی طرح کاروان انقلاب بھی نیا نا م ہے نیا تصور ہے نیا طریقہ ہے چترال سے وزیر ستان تک 83مقا مات پر جلسے ہو نگے تقریر یں ہو نگی 9دنوں تک ما حول کو خوب گر ما یا جائے گا علا مہ اقبال نے اس کو شا ہین کی زبان سے یو ں ادا کیا ہے ؎


پلٹ کر جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہا نہ


فو جی نظم و نسق میں لہو گرم رکھنے کووارم اپ (Warm up) کہتے ہیں اس مقصد کے لئے فو جی مشقیں کرائی جا تی ہیں جو امن کے زما نے میں جنگ کا ما حول پیدا کر کے افیسروں اور جوا نوں کو تازہ دم رکھنے کے کام آتی ہیں کاروان انقلا ب کو جو انوں کی سر گرمی کا عنوان دیا گیا ہے جما عت اسلا می کی ذیلی تنظیم جے آئی یوتھ کے زیر اہتمام یہ سر گرمی ہو رہی ہے امیر جما عت اسلا می سراج الحق کا کہنا یہ ہے کہ ملک کی آبا دی کا 66فیصد نو جواں پر مشتمل ہے اور نو جوانوں کی تائید کے بغیر کوئی انقلا ب بر پا نہیں ہو سکتا ؎


یہ دور اپنے بَراہیم کی تلا ش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الٰہ الااللہ


یقینا صنم کدے کو ڈھا نے والا نو جوانوں میں پیدا ہوگا تین دنوں سے مختلف ذرائع ابلاغ پر صدیق الرحمن پراچہ،زبیر احمد گوندل اور مشتاق احمد خا ن سمیت کاروان کے دیگر مقررین کی جو تقریریں سننے کو مل رہی ہیں ان میں ایک ہی پیغام ہے کہ اُٹھو اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نا فذ کر کے دکھا ؤ اس پیغام کو سن کر ذہن میں ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب ”پا کستان کی سیا سی جما عتیں“ کا خا کہ ابھر تا ہے کتاب میں فاضل مصنف نے پا کستان کی منہ زور بیورو کریسی کا بڑا افسر ہو تے ہوئے ملک کی تما م سیا سی جماعتوں کا تفصیلی جا ئزہ لیا ہے اور جما عت اسلا می کو ایک مکمل سیا سی جماعت قرار دیا ہے جس کا اپنا فنڈ ہے فنڈ کا حساب اور آڈٹ ہے جس کا الگ انتخا بی نظام ہے ہر 3سال بعد انتخا بات ہو تے ہیں زندگی کے مختلف شعبوں کے لئے جس کی ذیلی تنظیمیں ہیں

کسانوں، مزدوروں، وکیلوں، ڈاکٹروں اور اسا تذہ کے ساتھ طلبہ کی بھی ذیلی تنظیم ہے نو جوا ں کے لئے الگ تنظیم کا اضا فہ اب کیا گیا کتاب پڑھنے کے بعد ایک ستم ظریف نے جملہ چُست کیا کا ش ووٹر وں کی بھی ذیلی تنظیم ہو تی اور 22کروڑ کی آبادی میں دوچار کروڑ ووٹر ہو تے تو کتنا مزہ آتا انیس نے کہا تھا خلو ص کے بندوں میں کمی ہو تی ہے

ستم ظریف بڑے جلد باز ہو تے ہیں ہم ستم ظریفوں کی طرح جلد بازی کے قائل نہیں جما عت اسلا می چترال کے سابق امیر اور سابق ضلع نا ظم حا جی مغفرت شاہ کہتے ہیں کہ جماعت اسلا می جس دعوت کو لیکر اٹھی ہے اس دعوت کا تقا ضا ہے کہ اس کی قیا دت اب علما ئے کرام کے ہاتھوں میں ہو اور جما عت اسلا می کی صفوں میں علمائے کرام کی کوئی کمی نہیں.

پشاور کے مو لا نا محمد اسما عیل فہم القرآن کے پر وگرام کے لئے کسی شہر یا قصبے میں جا تے ہیں تو صبح کی اذان کے ساتھ 10ہزار سے لیکر 15ہزار تک کا مجمع اُن کا درس سننے کے لئے جمع ہو جا تا ہے نو جوانوں کے جذبے کے ساتھ اگر علمائے دین کی قیا دت ہو تو سونے پر سہا گہ کا کام دے گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51242

داد بیداد ۔ ہمسا یہ اور جعرافیہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اقوام متحدہ کی سلا متی کو نسل میں افغا نستان کے امن عمل پر بحث ہوئی بحث کا آغا ز کر تے ہوئے افغا نستا ن کے مستقل مندوب نے پا کستان پر الزام لگا یا کہ طا لبان کو پا کستان کی حدود سے مسلح کر کے سر کار ی فو ج اور اہم تنصیبات پر حملے کے لئے بھیجا جا تا ہے انہوں نے 10منٹ کی تقریر میں 7منٹ پا کستان پر الزام ترا شی میں لگا یا جواب میں پا کستا نی مندوب منیر اکر م نے پریس کا نفر نس کر کے افغا نستا ن کے الزا مات کی پُر زور تر دید کی سلا متی کونسل کا خصوصی اجلا س افغا نستا ن کی درخواست پر بلا یا گیا تھا افغا نستان نے اس اجلا س کو پا کستان پر الزام ترا شی کے لئے استعمال کیا پا کستان سلا متی کو نسل کے غیر مستقل ار کا ن میں شا مل نہیں ہے نو مبر 2018ء میں ایشیا سے ایک ممبر کا انتخا ب ہو رہا تھا.

چار اسلا می مما لک بھی اُمید وار تھے بھارت بھی اُمیدوار تھا پا کستان نے جنرل اسمبلی میں اپنا ووٹ بھارت کے حق میں استعمال کر کے خود اپنے پاوں پر کلہا ڑی ما ر نے کا مظا ہرہ کیا 2021ء میں سلا متی کو نسل کی صدارت کا فال بھارت کے نا م نکلا کیونکہ صدارت باری باری ہر ممبر کو ملتی ہے جمعہ 6اگست کو خصو صی اجلا س کی صدارت بھارت کے سفیر ایس جے شنکر کر رہے تھے افغا نستا ن کے سفیر محمد حنیف اتمار نے دو روز پہلے بھارتی سفیر سے تفصیلی ملا قات کی چنا نچہ اجلا س میں پا کستان پر الزام لگا نے سے پہلے پا کستان کے خلاف ما حول بنا یا جا چکا تھا پا کستانی سفیر اجلا س میں مو جود نہیں تھا اس وجہ سے اس کو پریس کا نفرنس کا سہا را لینا پڑا ہمارے لئے افغا نستا ن اور بھارت کا گٹھ جو ڑ نیا نہیں ہے 14اگست 1947ء سے 6اگست 2021ء تک 74سالوں میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا.

جب ہمارے ان دو ہمسا یوں نے پا کستان کے حق میں خیر سگا لی کا کوئی پیغا م دیا ہو بھارت اور افغا نستا ن نے روز اول سے پا کستان کو ہمسا یہ نہیں ما نا بلکہ دشمن کا در جہ دیا دونوں نے پا کستا ن کی سر حدوں کو تسلیم نہیں کیادونوں نے ہمارے وجو د کو تسلیم نہیں کیا ہمارے دونوں ہمسا یوں کو اس بات کا علم نہیں کہ ہمسا یہ اور پڑو سی کا تعلق تاریخ یا سیا سیات سے نہیں ہمسا یہ اور پڑو سی کا تعلق جعرا فیہ سے ہے کوئی ملک کسی خا ص وجہ سے چا ہے تو تا ریخ اور سیا سی نظر یے کو مسخ کر سکتا ہے تبدیل کر سکتا ہے مگر کوئی ملک ہزار بار خواہش کر ے ہزار بار زور لگا ئے تب بھی جعرا فیے کو تبدیل نہیں کر سکتا بھارت لا کھ جتن کرے پھر بھی متحدہ عرب امارات کو اٹھا کر اپنی مغربی سرحد پر پا کستان کی جگہ نہیں رکھ سکتا افغا نستان لا کھ جتن کرے پھر بھی بھارت کو اٹھا کر پا کستان کی جگہ اپنی مشرقی سر حد پر نہیں رکھ سکتا

جعرافیہ اور محل وقوع جیسا ہے ایسا ہی رہے گاا فغا نستا ن اسلامی امارت بن سکتا ہے، کمیو نسٹ ملک بن سکتا ہے ہر صورت میں اس کا مشرقی ہمسا یہ پا کستان ہی ہو گا کوئی اور ملک نہیں ہو گا 1978ء میں کمیو نسٹ افغا نستان سے فرار ہو نے والے مہا جرین پا نج وقتوں کے نما زی تھے علماء اور پا کباز لو گ تھے ان کو پا کستان نے پنا ہ دے دی مہا جر کیمپ مہیا کئے اپنے شہر، دیہا ت، بازار اور مسجدیں ان کے لئے کھول دیئے دل و جا ن سے اُن کی خد مت کی 2021ء میں اگر اما رت اسلا می کی حکومت بنی تو کمیو نسٹوں کو افغا نستا ن چھوڑ نا پڑے گا امریکہ نے اعلا ن کیا ہے کہ اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ، انکی کا بینہ، جر گہ ارا کین اور تر جما نوں کو امریکہ میں پنا ہ دی جا ئیگی امریکہ نے 4لاکھ افغا نیوں کو پنا ہ دینے کے لئے بجٹ بھی مختص کیا ہوا ہے

اس طرح نیٹو اتحا د کے دوسرے مما لک بھی محدود تعداد میں افغا ن مہا جرین کو پنا ہ دینگے اب بھی 70لا کھ سے لیکر ایک کروڑ تک کی تعداد میں مہا جرین پا کستان اور ایران میں پنا ہ ڈھونڈ لینگے ایران کی نسبت مہا جرین کا زیا دہ بوجھ پا کستان پر پڑے گا سلا متی کونسل میں پا کستان پر الزام تراشی کرنے والے سفیر محمد حنیف اتمار کو یقین ہے کہ وہ امریکہ میں پنا ہ حا صل کرے گا افغا ن صدر اشرف غنی اور ان کی کا بینہ کو بھی امریکہ پر بھروسہ ہے لیکن دوسرے لو گوں کا یہ حال نہیں امریکہ اور نیٹو مما لک ہر افغا نی کو پنا ہ نہیں دینگے افغا ن شہریوں کی بڑی تعداد ہمسا یہ ملکوں کا رُخ کریگی پا کستان کو ایک بارپھر افغا ن مہا جرین کی میز با نی کرنی پڑے گی اس لئے افغا ن حکومت کو پا کستان پر الزا مات کی بو چھا ڑ کر نے سے پہلے 100بار سو چنا چا ہئیے ہمسا یہ تاریخ اور نظریہ نہیں جسے تم مسخ کر سکو، ہمسا یہ تمہا را جعرافیہ ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہو گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51212

داد بیداد ۔ جمع اور تفریق ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پچاس اور ساٹھ کی دہا ئیوں میں ریا ضی کو حساب کہتے تھے پلس اور ما ئنس کو جمع تفریق کہتے تھے طلباء یس سر کی جگہ حا ضر جناب کہہ کر حا ضری لگواتے تھے اب یہ باتیں بھلا دی گئی ہیں 5اگست کو یو م استحصال کشمیر منا نے کی خبروں کو دیکھ اور سُن یا پڑھ کر پہلا سوال ذہن میں یہ ابھر ا کہ گذشتہ 3سالوں میں حکومت کی کا ر کر دگی جمع کے خا نے میں لکھی جا ئیگی یا تفریق کے خا نے میں ڈال دی جائیگی.

2018ء میں تحریک انصاف کی حکومت آئی مخدوم شاہ محمود قریشی وزیر خا ر جہ بنے تو بھارت سلا متی کونسل کا غیر مستقل ممبر نہیں تھا نو مبر 2018ء میں غیر مستقل ممبر کے لئے ووٹنگ ہوئی تو پا کستان نے چار اسلا می مما لک کو مستر د کر کے بھارت کو ووٹ دیکر سلا متی کونسل کا غیر مستقل رکن بنا یا 9ما ہ بعد بھار ت 5اگست 2019کو مقبوضہ کشمیر کی خصو صی حیثیت کو ختم کر نے کے لئے آئین کے دفعہ 370اور 35اے کو ختم کیا پا کستان سلا متی کو نسل میں بھارت کے خلا ف قرار داد لا نے میں نا کام ہوا ہیو من رائٹ کو نسل میں بھارت کے خلاف قرار داد پا س نہ ہو سکی

چنا نچہ مقبو ضہ کشمیر سر ی نگر، جموں اور لداخ سمیت بھارت کا صو بہ قرار دیا گیا 2021ء میں اس واقعے کو دوسال پو رے ہو گئے تو بھارت نے اس اہم مو قع پر ایک سال کے لئے سلا متی کو نسل کی صدارت سنبھا ل لی گویا ہمارے لئے سلا متی کو نسل کے دروازے پر تا لہ لگا دیا گیا ہماری حکومت کہتی ہے کہ یہ سب کچھ ہماری کا میاب خا رجہ پا لیسی کا نتیجہ ہے ملک میں حزب اختلا ف کی آواز کو نیب اور ایف آئی اے کی پے درپے کاروائیوں نے کچل کر رکھ دیا ہے ٹیلی وژن اور اخبارات پر سنسر شپ عائد کی گئی ہے جرء ت اور ہمت کر کے حقائق پر سے پر دہ ہٹا نے والے صحا فیوں کو قو می دھا رے کے میڈیا سے بے دخل کیا گیا ہے اس لئے حکومت کی کار کر دگی پر سوال اٹھا نے کا کوئی فورم نہیں بچا ہے لے دے کے گرین سٹیزن میڈیا ہے جو مظلوموں کی آواز ہے.

خا رجہ محا ذ پر حکومت کی حیران کن کار کر دگی اس بات سے بھی عیا ں ہو چکی ہے کہ قو می سلا متی کے امریکی مشیر ڈاکٹر معید یو سف نے امریکی تھنک ٹینک میں اپنے دیرینہ تعلقات کا سہا را لیتے ہوئے دو دن پہلے شکوہ کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈ ن نے افغا نستا ن مسئلے کے حل کے لئے ہمارے وزیر اعظم عمران خا ن کو فون تک نہیں کیا آخر وہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے؟ قو می سلا متی کے امریکی مشیر کے تازہ ترین بیان سے اخبار نو یسوں کے خا مو ش گروہ کو وزیر اعظم عمران خا ن کا دو سال پرا نا بیاں یا د آیا وزیر اعظم نے اپنے ”پر مغز“ بیاں میں ارشاد فر ما یا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر ا مو دی کو بار بار فون کر تا ہوں وہ میرا فو ن نہیں اُٹھا تا اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے؟

گویا دفاعی لحا ظ سے ہمارا واسطہ جن دو مما لک کے ساتھ ہے ان میں سے ایک کا صدر ہمارے وزیر اعظم کو فو ن نہیں کر تا دوسرے ملک کا وزیر اعظم ہمارے ہر دلعزیز لیڈر کا فو ن نہیں اٹھا تا یہ ہمارے دفتر خا ر جہ کی شاندار کا ر کر دگی ہے ایک اور خبر یہ ہے کہ سعو دی عرب نے کویڈ 19-سے نجا ت کے بعد 57میں سے 48اسلا می ملکوں کے زائرین کو عمرے کی اجا زت دی ہے 9بلیک لسٹ مما لک کے زائرین کو اجا زت نہیں دی اور ہماری کا میاب خا ر جہ پا لیسی کی بدولت پا کستان اُنہی نا پسندیدہ یا بلیک لسٹ مما لک میں شا مل ہوا ہے اب اس کو جمع کے خا نے میں ڈال دیا جا ئے یا تفریق کے زمرے میں رکھا جائے؟

5۔اگست کا یو م استحصال بہت زبردست تھا سول سو سائیٹی اور قو می نما ئیند وں کا ذکر آنے سے پہلے خبر دی گئی کہ وزیر خا ر جہ نے دفتر خا ر جہ کے افسروں کی ریلی نکا لی افیسروں نے کتبے اٹھا ئے ہوئے تھے اور وزیر خا ر جہ نے بینر کا ایک سرا پکڑا ہوا تھا ریلی کے شر کا ء دو سال پہلے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو صو بہ بنا نے کے خلا ف احتجا ج کر رہے تھے

وزیر خا ر جہ پُر جو ش نعرے لگا رہے تھے 5۔ اگست کے ظالما نہ اقدام کے خلا ف دفتر خا ر جہ نے ایک قو می نغمہ بھی ریلیز کیا اور قوم سے ایک منٹ خا مو شی کی استد عا کی قوم ایک منٹ کی خا مو شی کے دوران سوچ میں پڑ گئی کہ ہماری حکومت نے دو سال خا مو شی اختیار کی بھارت پر اس کا اثر نہیں ہوا دو سال پورے ہونے پر مراد بیک اور صمد یا زید اور بکر کی ایک منٹ خا مو شی کا دشمن پرکیا اثر ہو گا؟

قوم کو یا د ہے 5۔اگست 2019کی چلچلا تی دھوپ میں حکومت کے کہنے پر ہم نے 10منٹ دھوپ میں کھڑے ہو کر زبر دست احتجا ج کیا تھا،5۔ اگست 2020کو ہم نے گا نا بھی ریلیز کیا تھا مگر دشمن کے کا نوں پر جوں تک نہیں رینگی اب پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ سر کار کی اس کا رکر دگی کو مثبت لکھا جا ئے یا منفی قرار دیا جا ئے نا طقہ سر بہ گریباں ہے کیا کہئیے خا مہ انگشت بہ دنداں ہے کیا کہیے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
51207

داد بیداد ۔ منزل ہے کہاں تیری! ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ منزل ہے کہاں تیری! ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

حکومت نے اپنے منشور کے مطا بق نئے تعلیمی سال سے یکساں نصاب تعلیم متعارف کر انے کا فیصلہ کیا ہے تحریک انصاف کے منشور میں اس بات کی ضما نت دی گئی ہے کہ قوم کو ایک رخ دینے اور اس کی ایک واضح منزل متعین کر نے کے لئے نظام تعلیم کا یکساں ہو نا ضروری ہے آج ہمارے جو بچے یکساں نظام تعلیم کے تحت علم و ہنر سیکھینگے تعلیم و تر بیت حا صل کرینگے کل کو وہ بچے فکر ی ہم آہنگی، ذہنی ہم آہنگی اور خیال کی پختگی کے ساتھ ایک قوم بن جا ئینگے ان کی ذہنی اور فکری رخ ایک ہو گا ان کی منزل ایک ہو گی منشور بنا تے وقت پارٹی کے با نی عمران خا ن نے کمیٹی کے سامنے چین کی مثا ل دی تھی

یہ وہ قوم ہے جس نے ایک نظریہ، ایک سوچ اور ایک ہی فکر سے اپنے نو نہا لوں کو مزین کیا آگے جا کر نو نہا لوں کی یہ نسل ایک عظیم قوم بن گئی تمہید لمبی ہو گئی مگر یہ تمہید سے زیا دہ عنوان کا تعارف ہے منزل کو ڈھونڈ نے اور پا نے کے لئے قوم کے سامنے واضح رُخ یا ڈائریکشن ہو نا چا ہئیے وطن عزیز پا کستان کے نو نہا ل اس وقت 13مختلف طرز کے سکو لوں اور مدرسوں میں 13اقسام کے نصاب پڑھ رہے ہیں ان کا ذہنی اور فکر ی رُخ 13مختلف اطراف کی طرف ہیں اور وہ 13مختلف منزلوں کی طرف گامزن ہیں گویا ایک ہی ملک میں 13قومیں پروان چڑھ رہی ہیں مسلکی اور نسلی تعصبات پر مبنی سوچ اور فکر کو شمار کیا جا ئے تو یہ تعداد 29بنتی ہے قومی اسمبلی کی 34اور سینیٹ کی 7قائمہ کمیٹیوں کی مثال کو سامنے رکھیں.

یہ بیحد اہم کمیٹیاں ہیں ان کا کام قا نون سازی ہے جب کوئی مسودہ قانون ان میں سے کسی کمیٹی کے سامنے آتا ہے تو تجربے میں یہ بات آجا تی ہے کہ کمیٹی کے ممبران میں سے ایک تہا ئی کو انگریزی کے سوا کوئی زبان نہیں آتی بقیہ دو تہا ئی ممبروں میں آدھے کا رخ شما ل کی طرف ہے آدھے کی نظر جنوب کی طرف ہے خوا تین کے حقوق کا بل ہو یا گھنا و نے جر ائم کی سزا وں کا بل ہو، سود سے پا ک معیشت کا بل ہو یا مسا وات پر مبنی نظام معیشت کا قانون زیر بحث ہو یا کوئی اور اہم مسئلہ ہو 34یا 14شر کاء میں سے کوئی بھی دو اراکین ہم خیال نظر نہیں آتے جن کی تعلیم اکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ کے نصاب پر ہوئی ہے ان کو اردو پڑ ھنا اور لکھنا نہیں آتا.

جن کی تعلیم در س نظا می کے 6الگ الگ مدرسوں میں ہوئی ہے وہ انگریزی نہیں جا نتے اردو اور انگریزی سے جو ثقا فت اور فکر وابستہ ہے وہ الگ الگ ہے ان دونوں انتہا وں کے درمیان تیسرا طبقہ ہے جس کی تعلیم و تر بیت سات اقسام کے سستے پرائیویٹ سکو لوں اور سر کاری تعلیمی اداروں میں ہوئی ہے اس طبقے کا رُخ الگ الگ ہے یہ نو جوا ن سات مختلف جوانب کی طرف روان ہیں ان کے سامنے 7الگ الگ منزلیں ہیں یہ لو گ جب کسی قائمہ کمیٹی میں، کسی اسمبلی میں، کسی سیا سی پارٹی میں یا کسی حکومت کی کا بینہ میں یکجا ہو تے ہیں تو ان کی نظر کسی مشترک مقصد پر نہیں ہو تی یہ لو گ 13مختلف اطراف پر نظر رکھتے ہیں ان کی میٹنگ میں قوم نظر نہیں آتی ہجوم یا منڈلی کا گما ن ہو تا ہے اس ہجوم کو آخر کو نسی چیز قوم بنا ئے گی؟

جواب یہ ہے کہ صرف اور صرف یکساں نصاب تعلیم اس کو قوم بنا سکتی ہے آپ ایک سیا سی جما عت کی مثال لے لیں جس کے نصف ارکا ن اردو اخبار نہیں پڑ ھ سکتے، بقیہ نصف انگریزی اخبار نہیں پڑھ سکتے ان کی سوچ اور فکر کس طرح یکساں ہو گی ان میں فکر ی ہم آہنگی کہاں سے آئے گی؟ چین، جا پا ن، تر کی، ایران اور کو ریا نے منتشر سوچ کے ساتھ تر قی نہیں کی، پرا گندہ خیا لات اور بھٹکے ہوئے نظر یات کے ساتھ تر قی نہیں کی ان قو موں کے لیڈروں نے پہلے یکساں نظام تعلیم دیا، نظر یا تی اور فکری ہم آہنگی دی پھر اس نظریے کی بنیا د پر قوم بن گئی قوم کو ایک رُخ ملا ایک منزل مل گئی اب یہ آسا ن کا م نہیں ہے ما ہا نہ ایک لا کھ روپے ٹیوشن فیس لینے والے پرائیویٹ سکو لوں کو 2ہزار ما ہا نہ فیس لینے والوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا بہت مشکل ہے اور پرائیوٹ سکو لوں کے پورے سسٹم کو سر کا ری سکو لوں کے نظام سے ہم آہنگ کرنا ما ونٹ ایورسٹ کی چو ٹی کو سر کرنے کے مترا دف ہے .

اگر 6اقسام کے مسلکی مدارس کو آپس میں ہم آہنگ کرنا با لکل نا ممکن ہے تومدارس کے نظام کو سکولوں اور کا لجوں کے سسٹم سے ہم آہنگ کرنا گو یا پہاڑکھو د نے اور دوھ کی نہر لا نے کے برابر ہے اس میں تعلیمی ما ہرین کا بھی کر دار ہو گا، سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کا بھی حصہ ہو گا اور سب سے بڑھ کر سیا سی رہنما وں کے عزم کی ضرورت ہو گی سب یکجا ہو جائیں تو قوم کو رخ بھی ملے گا منزل بھی ملے گی پھر کوئی نہیں پو چھے گا ”منزل ہے کہاں تیری“۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged ,
51142

داد بیداد ۔ ڈیپ فریزر ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اخبارات میں خبر لگی ہے کہ بڑی عید اور قر با نی کے دن نزدیک آتے ہی ڈیپ فریزر کے نر خوں میں دگنا اضا فہ ہوا قر با نی کا گوشت اور ڈیپ فریزر لا زم و ملزوم گر دا نے جا تے ہیں سید نا ابرا ہیم ؑ کے زما نے میں قر با نی کا گوشت پہلے ہی دن ختم ہوتا ہو گا آج سے 1442سال پہلے بنی کریم ﷺ اور صحا بہ کر ام ؓ بھی قر با نی کا گوشت سر دیوں میں دوسرے دن اور گر میوں میں پہلے ہی دن تقسیم کر کے ختم کر تے تھے اس وجہ سے نہیں کہ ان کے پا س ڈیپ فریزر نہیں تھے بلکہ اس وجہ سے کہ یہ شریعت مطہرہ کا تقا ضا ہے یہ قر با نی کا فلسفہ ہے.

یہ اللہ تعالیٰ کا منشا ہے اور یہ اسلا می تعلیمات کی روح کے مطا بق احسن عمل ہے آج ہمارے پہا ڑی علا قوں کے دیہا ت میں لو گ بھیڑ بکریاں پا لتے ہیں سب لو گ دولت مند اور صاحب نصاب نہیں ہو تے جس گھر چھ سات بھیڑ یں ہو تی ہیں اس گھر کے لو گ ہر سال بھیڑ کا ایک بچہ قر با نی کی نیت سے رکھتے ہیں تیسرے سال قر با نی کے تین دنبے ہو جا تے ہیں ایک دنبہ قر با ن ہو تا ہے اس کی جگہ نیا بچہ لے لیتا ہے اور زنجیر کا یہ سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹتا قدیم لا یام سے علما ء نے ان کو یہ بات سکھا ئی ہے کہ قر با نی کا گو شت تین حصوں میں تقسیم کرو ایک حصہ گھر والوں کا دوسرا حصہ قریبی رشتہ داروں کا اور تیسرا حصہ غر با ء، مسا کین اور نا دار لو گوں کا ہو نا چا ہئیے علما ء نے اجا زت دی ہے کہ اپنی سہو لت کے مطا بق کچا گوشت تقسیم کرو یا اسے پکا کر تقسیم کرو گاوں والے گوشت کو چا ول یا گندم کے دا نوں کے ساتھ پکا کر سارا دن لو گوں کو کھلا تے ہیں گھروں میں بھیجتے ہیں.

شا م تک گوشت کی ایک ایک بوٹی حقداروں کو پہنچتی ہے اگر 50گھرا نوں والے گاوں میں 10گھرا نوں نے قر با نی کا ذبیحہ کیا تو 50گھرا نوں کو اس کا گوشت ملا مر د، عورت، بوڑھا، بچہ، بیمار اور معذور کو ئی بھی گوشت سے محروم نہیں ٹھہرا اگر کچا گوشت تقسیم کرنا ہو تو اسی تر تیب سے ہر گھرا نے میں دو وقت کے سا لن کا گوشت پہنچا دیا جا تا ہے، اب بجلی آگئی ہے فریج اور فریزر گھروں میں رکھے ہوئے ہیں مگر لو گ علما ء کی تر بیت کے اثر سے قر با نی کے گوشت کو دوسروں کی اما نت سمجھ کر تقسیم کر تے ہیں تقسیم کر کے کھنگال نہیں ہو تے اگر دنبے کا دو تہا ئی دوسرے کو دیتے ہیں تو دوسرے گھروں سے اتنا ہی گوشت اُس گھر میں بھی آجا تا ہے وہ اس میں بھی غر با اور مسا کین کا حصہ نکا لتے ہیں لیکن یہ پہا ڑوں کے دامن میں رہنے والے چرواہوں اور گلہ با نوں کی قر با نی کا طریقہ ہے.

تر قیا فتہ قصبوں اور شہروں میں ایسی قر با نی اب نہیں ہو تی محلے میں دیکھا جا تا ہے کہ کس کے گھر سے بکرے کی را ن بھیجی گئی اس کو جواب میں دُنبے کی ران بھیجی جائیگی رشتہ داروں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو گا غریب اور مسکین کے لئے سو باتوں کی ایک بات رکھی گئی ہے ”با با معاف کرو“ گھر کی قر با نی کا ایک تہا ئی گوشت اگر محلے میں نا م پیدا کرنے اور بدلہ چکا نے کے لئے بھیج دیا گیا تو اتنا ہی گوشت ہمسا یے کے متمول گھروں سے بھی آیا تھا یہ گوشت سارے کا سارا ڈیپ فریزر کی روزی ہے منجمد کرنے والی اس مشین کے رزق میں جتنا گوشت لکھا تھا سب اس کو مل گیا اب آنے والے مہینوں میں اس گوشت کو افیسروں اور متمول دوستوں کے ساتھ دعوتوں میں اڑا یا جا ئے گا ماں باپ کا یہ طرز عمل بچوں کے لئے مثا ل بن جا تا ہے روایت قائم ہو جا تی ہے.

اس مثال کی پیروی کی جا تی ہے اس روا یت کی پاسداری کی جا تی ہے شاعر کے کلا م میں تصر ف کی اجا زت ہو تو یوں کہا جا سکتا ہے شریعت خرا فات میں کھو گئی یہ امت روایا ت میں کھو گئی نئی حکا یت یہ ہے کہ دو جگری دوستوں نے قر با نی کی ایک نے تقسیم کیا دوسرے نے فریزر میں ڈال دیا رات اُس نے خواب دیکھا کہ تقسیم کرنے والے کا بکرا اس کو مل گیا ہے اس نے کہا میرا بکر ا مجھے کیوں نہیں ملا؟ غیب سے آواز آئی تمہارا بکرا فریزر میں پڑا ہوا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
50636

داد بیداد – 1971کا پشاور – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ایک دوست کے ساتھ آ سا ما ئی دروازے کے اندر دا خل ہو کر دیکھا تو دروازہ نہیں تھا دوست نے کہا آسا ما ئی دروازہ کد ھر ہے؟ دوست کو بتا یا یہی جگہ ہے جہاں دروازہ تھا وقت کی نا قدری نے دروازہ غا ئب کر دیا اندر شہر کی سیر کرو دائیں ہاتھ مڑ کر دالگران کے راستے قصہ خوا نی میں دا خل ہو جا ؤ پھر میں تمہیں بتا و نگا کہ 1971میں پشاور کیسا تھا؟ ”نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں“ پچاس سال پہلے مسجدوں کے دروازوں پر ایک ہی تختی ہو تی تھی ”اپنے چپل کی خود حفا ظت کریں“ اب دو تختیاں ہو تی ہیں ایک پر چپل کی حفا ظت لکھی ہے دوسری تختی پر نئی عبارت در ج ہے ”مو بائل فو ن بند کریں“ آج قصہ خوا نی کا پورا نقشہ بدل گیا ہے

پورے بازار میں ”تا ج سوذا“ کے سوا نصف صدی پہلے کی کوئی دکا ن آپ کو نہیں ملے گی مسا فروں کے ٹھہر نے کی سب سے اچھی جگہ دو منزلہ سرائے ہوتی تھی سرائے میں چار پا ئی کا ملنا بہت بڑی بات تھی شہر میں کوئی نیا ہو ٹل بنتا تو ہو ٹل کے بورڈ پر جلی حروف میں فلش سسٹم کا اشتہار لکھ دیا جا تا گو یا پر تعیش زند گی کی یہ نعمت ہر جگہ دستیا ب نہیں تھی اُس زما نے میں نیٹ کیفے کا نا م کسی نے نہیں سنا تھا جدید چا ئے خا نوں کو کیفے کہا جا تا تھا سینما روڈ پر خور شید کیفے اور خیبر بازار میں کیسینو کیفے ہو ا کر تے تھے یہاں فر ما ئش پر گرا مو فو ن ریکارڈ سننے کی سہو لت ہو تی تھی

ایک مہما ن کا غذ کے ٹکڑ ے پر فلم بڑی بہن یا مغل اعظم کا کوئی گا نا لکھ کر دے دیتا دوسرا مہمان فلم اوارہ کا گا نا لکھ دیتا تیسرا مہمان فلم سر فروش کا گا نا لکھ دیتا باری باری ہر ایک کی فر ما ئش پوری کی جا تی سارا دن رونق لگی رہتی رات دیر تک کیفے کھلے رہتے کا بلی چوک میں تانگے کھڑے ہو تے دو روپے میں چھ سواری صدر تک جا تے، جی ٹی ایس کی ڈبل ڈیکر بس روڈ ویز ہا وس ہشتنگری سے اسلا میہ کا لج تک جا تی تھی دو سواریوں کا ایک روپیہ کرا یہ تھا طا لب علموں کے لئے نصف کرایے کی رعا یت تھی ایک روپے میں چا رسواری منزل مقصود پر پہنچتے تھے.

مو لا نا حا لی نے کیا بات کہی وقت پیری اور شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں پشاور شہر اور صدر میں سات سینما گھر تھے پھر امان سینما گھر تعمیر ہوا تو تعداد آٹھ ہو گئی فلموں کے ٹکٹ کے لئے ٹکٹ گھر کی کھڑکیوں پر ہجوم لگتا تھا کوئی فلم زیا دہ مقبول ہو تی اور کئی ہفتے چلتی تو اشتہار میں لکھ دیا جا تا ”دسواں کھڑ کی توڑ ہفتہ“ ٹکٹ دینے والے با بو یا گیٹ کیپر سے واقفیت بہت بڑی بات ہو تی تھی سینما دیکھنا عمو ماً نو جوا نوں اور اوباش لو گوں کا شغل سمجھا جا تا تھا اگر کوئی داڑھی والا فلم دیکھنے جا تا تو چادر سے منہ اور داڑھی کو چھپا لیتا تھا پھر ٹی وی آیا پھر وی سی پی آگیا اس کے بعد کیبل اور ڈی ٹی ایچ آیا، یو ٹیوب کے کما لات دیکھنے میں آئے نہ سینما گھروں کی حا جت رہی نہ ٹکٹ گھروں کی ضرورت رہی نہ ٹکٹ گھر کے با بو اور گیٹ کیپر کی منت اور تر لے رہے.

اب مو نچھوں والا بھی گھر بیٹھے عیا شی کے مزے لوٹ رہا ہے اور داڑھی والا بھی گھر بیٹھے فلم دیکھ رہا ہے اگر چہ داڑھی اور منہ چھپا نے کو ما سک عام ہو گیا ہے تا ہم اس کی چنداں حا جت نہیں پلک جھپکنے میں 50بر س بیت گئے 1971کے پشاور کا ہارڈ وئیر بھی تبدیل ہوا، سافٹ وئیر بھی تبدیل ہوا چنا نچہ اب دیکھی بھا لی صورت پہچا نی نہیں جا تی آج ہم دیکھتے ہیں آئے روز جنا ح پارک کے قریب اسمبلی چوک پر احتجا جی جلسے اور جلو س ہو تے ہیں آنسو گیس کی شیلنگ ہو تی ہے.

انگریزوں نے پشاور میں کوئی اسمبلی ہا ل نہیں بنا یا تھا فیلڈ مار شل ایوب خا ن کی بنا ئی ہوئی رورل اکیڈ یمی کی عمارت میں اسمبلی کے اجلاس ہو تے تھے اور یہ عما رت شہر سے کوسوں دُور واقع تھی آج یہ جا ن کر حیرت ہو تی ہے کہ انگریز جمہوریت پر فخر کرتے تھے پختونوں کے لئے اسمبلی کی کوئی عما رت انہوں نے کیوں نہیں بنا ئی؟ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ انہوں نے سوچ سمجھ کر نہیں بنا ئی میں اپنے دوست کے ہمراہ واپس آسا ما ئی دروازے کے قریب پہنچ گیا ہوں لیکن میرا دل نصف صدی پہلے کے پشاور میں بھٹک رہا ہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
50387

داد بیداد – واخان خبروں میں – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد – واخان خبروں میں – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

آج کل واخان خبروں میں ہے افغا نستان کے مشرق میں چین، تا جکستان اور پا کستان کی سر حد پر واقع واخان کی پٹی 1993سے خبروں کا مو ضوع بنتی آرہی ہے افغا نستان کے نقشے پر واخا ن کی سر حدی پٹی کسی جا نور کی زبان یا دم کی طرح باہر نکلی ہوئی ہے اس وجہ سے انگریزوں نے اس کو افغا نستان کی زبان کا نا م بھی دیا ہے افغا نستان کی دُم بھی لکھا ہے جو چا ہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے تازہ ترین خبروں کے مطا بق افغا ن جنگجووں کے مختصر قافلے نے ولا یت بد خشان کی ولسوالی واخا ن میں ڈیرہ ڈال دیا ہے افغا ن فو جیوں نے مزا حمت نہیں کی،

واخا ن کے عوام نے جنگجووں کا خیر مقدم کر تے ہوئے نعرہ تکبیر اور امارت اسلا می کے نعرے لگا ئے سفید جھنڈے لہرا ئے 1994ء میں واخا ن کے لو گوں نے احمد شاہ مسعود کے جنگجووں کے حملوں سے تنگ آکر چترال اور گلگت کی طرف ہجرت کی تھی یہ لو گ مہا جرین کے کسی بڑے گروپ کا حصہ نہیں بنے اور حا لات معمول پر آتے ہی وطن واپس چلے گئے افغا ن جنگجووں کی طرف سے واخا ن پٹی پر تازہ ترین قبضے کی باز گشت امریکی اور بر طا نوی میڈیا میں بھی سنا ئی دے رہی ہے پا کستان، بھا رت اور چین کے ذرائع ابلا غ نے بھی اس کو بے حد اہمیت دی ہے اس اہمیت کی متعدد وجو ہات ہیں

پہلی وجہ یہ ہے کہ 6000مر بع کلو میٹر کے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے اس علا قے کی وخی آبادی صرف 15000ہے تاریخ میں اس آبادی نے کبھی کسی حملہ آور کی مزا حمت نہیں کی البتہ واخا ن کے شما ل اور شما ل مشرق کی طرف پا میر یعنی بام دنیا کی کر غیز آبا دی کو جنگجو ہو نے کی شہرت حا صل ہے 1979ء میں شور وی انقلا ب اور تا جکستان کی طرف سے خطرہ درپیش ہونے پر پا میر کے لو گوں نے گلگت اور چترال کے راستے ہجر ت کی پامیر کے خا ن رحمان قل کی سر براہی میں کر غیز مہا جرین اپنے ما ل مویشیوں کے ساتھ راولپنڈی پہنچے جہاں سے تر کی نے دیو ہیکل جہا زوں میں ان کو ما ل مویشیوں سمیت اُٹھا یا اور تر کی میں مستقل آبا د کیا کاراکر غیز قبیلے کا ایک سردار عبد الغنی حا مد کر زئی کے زما نے میں واپس آکر اپنی جا ئیداد وں اور چرا گاہوں کا قبضہ دوبارہ حا صل کیا کر زئی کی حکومت میں بد خشان سے شاہ منصور نا دری کو کا بینہ میں جگہ دی گئی تھی.

یہ بات قا بل ذکر ہے کہ بد خشان اور واخا ن کی آبا دی اسما عیلیہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے جبکہ پا میر کے کر غیز حنفی فقہ کے پیرو کار ہیں عرف عام میں بھی حنفی کہلا تے ہیں واخان کی لمبا ئی 360کلو میٹر جبکہ چوڑا ئی کم سے کم 15اور زیا دہ سے زیا دہ 60کلو میٹر ہے یہ علا قہ سطح سمندر سے 10ہزار فٹ بلندی پر واقع ہو نے کی وجہ سے زراعت کے لئے مو زوں نہیں محدود پیما نے پر صرف جو کی کا شت ہو تی ہے لو گوں کے گھروں میں خو ش گاو یعنی یا ک اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پا لے جا تے ہیں وسیع وعریض ایلا ق (چرا گاہ) سے بھر پور استفادہ کیا جا تا ہے 1893ء میں واخا ن اس وقت خبروں میں آیا جب ہندوستان کی برطا نوی حکومت، زار روس اور افغا ن با د شاہ امیر عبد الرحمن خا ن کے درمیاں ایک معا ہدے کے تحت وا خا ن کی پٹی کو بفرزون یعنی غیر جا نبدار علا قہ قرار دیا گیا اس وجہ سے تما م فریق اس علا قے سے بحفاظت گذر سکتے تھے

اس سے پہلے واخان کو سلک روٹ یعنی شاہراہ ریشم کی وجہ سے تاریخی شہرت حا صل تھی چینی تا جروں کے کاروان تاش قرغن سے واخجیر اور سومہ تاش کے راستے واخا ن میں داخل ہوتے تھے اور گاز خان کے مقام پر آب پنجہ کو عبور کر کے دریائے آمو کے طاس سے ہوکر درواز اور روشان کے راستے مغرب کا رخ کر تے تھے مو جو دہ حا لا ت میں واخا ن کی پٹی اگرخا نہ جنگی سے محفوظ رہی یا کا بل کی کسی مستحکم حکومت کا حصہ بنی تو چین، پا کستان، تا جکستان کو براہ راست فائدہ ہو گا بین الاقوامی تجا رت کا ایسا ہی راستہ بنے گا جیسا ما ضی میں تھا اگر خدا ناخواستہ واخا ن کو خا نہ جنگی کی نذر کر دیا گیا تو تا جکستان اور پا کستان کے لئے اپنی سر حدات کو محفوظ بنانا مشکل ہو جا ئے گا واخا ن کے خطے میں ہندو کش کے پہا ڑی سلسلے میں اب سر حدی باڑ نہیں لگا ئی گئی ہنزہ اور چترال کے راستے در انداز ی ہوتی رہے گی واخان کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ خوروگ میں قائم یو نیورسٹی آف سنٹرل ایشا تک ہمارے طلبہ اور اساتذہ کی رسائی ممکن ہو جائیگی نیز تا جکستان اور تر کمنستان سے بجلی کی لا ئن اور گیس کے پا ئپ لائن لا نے میں سر حدی رکا وٹ ختم ہو گی اللہ کرے کہ واخا ن کی پٹی آنے والی خا نہ جنگی سے محفوظ رہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
50329

داد بیداد – کیفر کردار کہاں واقع ہے؟ – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اسلام اباد میں ایک بار پھر ایک خا تون کی ابرو ریزی ہو ئی حکومت نے ایک بار پھر کہہ دیا کہ مجرموں کو کیفر کر دار تک پہنچا یا جا ئے گا حکومتیں ہر گھنا ونی واردات کے بعد دعویٰ کر تی ہیں کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا یا جا ئے گا لیکن ہم نے نہیں دیکھا کہ کسی مجرم کو کیفر کر دار تک پہنچا یا گیا ہو ہمارے دوست شاہ جی عمر کے لحا ظ سے 70کے یبیٹے میں ہیں ایک دنیا دیکھی ہے گرم و سرد چشیدہ بھی ہیں گر گ باراں دیدہ بھی مگر بھو لے اتنے ہیں کہ ان کو کیفر کر دار کا محل وقو ع اور جعرا فیہ معلو م نہیں رات بھر ی محفل میں پو چھ رہے تھے

مجھے بتا ؤ یہ کیفر کردار نا می جگہ کہاں واقع ہے مجرم کو وہاں پہنچا نے کے لئے جہاز چا ہئیے، ریل کا ٹکٹ چا ہئیے یا عام بس اور فلا ئنگ کو چ کے ذریعے بھی مجرم کو کیفر کردار تک لے جا یا جا سکتا ہے؟ اگر حکو متوں کے پا س ٹکٹ کے پیسے نہیں ہیں وہاں تک جا نے کے لئے کوئی ٹرانسپورٹ نہیں ملتی یا فلمی گیت کی رو سے ”نہ گاڑی ہے نہ گھوڑا ہے وہاں پیدل ہی جا نا ہے“ تو پھر حکومتیں یہ اعلا ن کیوں کر تی ہیں کہ مجر م کو کیفر کردار تک پہنچا یا جا ئے گا؟ اس جگہ کا بار بار نا م لینے سے حکو متوں پر عوام کا اعتما د اُٹھ جا تا ہے عوام حکومتوں کی باتوں کا یقین ہی نہیں کر تے اور یہ کسی بھی حکومت کا بہت بڑا نقصان ہے تفنن بر طرف یہ طنزو مزاج نہیں بلکہ حقیقیت ہے کہ کیفر کردار کا نا م سن، سن کر ہمارے کا ن پک گئے ہیں

کسی مجر م کو کیفر کردار تک پہنچتے نہیں دیکھا بعض اوقات گماں ہو تا ہے کہ کیفر کردار بھی آب حیات یا ہمااور ققنس نا می پر ندوں کی طرح خیا لی جگہ ہو گی جسے کسی نے نہیں دیکھا حقیقیت یہ ہے کہ کیفر کردار کا لفظ دو فارسی الفاظ کا مر کب ہے کیفر کے معنی انجام اور کر دار کے معنی کر توت اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت مجرم کو اس کے کر توت کا انجام دکھا ئے گی یعنی قانون کے مطا بق سزا ئے موت دے کر عبرت کا نشان بنا ئیگی یہ تر کیب ایران، توران اور قدیم ہندوستان کے باد شا ہوں کی تر کیب ہے اُ س زما نے میں مجر م کو چند دنوں کی رسمی کاروائی کے بعد پھا نسی دی جا تی تھی اس عمل کو ”کیفر کردار تک پہنچا نا“ کہتے ہیں

یعنی مجرم اپنے کر توت کے انجا م کو پہنچ گیا اگر غور کیا جا ئے تو کیفر کردار دور نہیں وہاں تک کسی کو پہنچا نے کے لئے ہوائی جہاز یا ریل کی بھی ضرورت نہیں حکومت اور کیفر کردار کے درمیاں قانون کی مو شگا فیاں حا ئل ہو چکی ہیں مثلا ً مجرم نے اندھیری رات کو کسی کے گھر پر حملہ کیا 4افراد کو قتل کیا اور موقع واردات پر اسلحہ کے ساتھ پکڑا گیا پو لیس کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کیا،

مجسٹریٹ کے سامنے بھی اقرار کیا باد شاہوں کے زما نے میں اس کو 4بار پھا نسی دی جا تی تھی اس کی جا ئداد ضبط کر کے مقتو لوں کے ورثا کو دی جا تی تھی یہ کیفر کر دار تھا اب مجرموں کا دفاعی وکیل آجا تا ہے وہ پو لیس کی گوا ہی کو نہیں ما نتا، مقتو لین کے ور ثا کی گوا ہی اس کی نظر میں قا بل قبول نہیں ڈاکٹر کی رپورٹ کو معتبر نہیں ما نا جا تا دفا عی وکیل استعاثہ کے مقدمے کو مشکوک قرار دیتا ہے اور شک کا فائدہ انگریز کے قانون میں بھی ملزم کو دیا جا تا ہے شر عی قوانین میں بھی شک کا فائدہ ملزم کو دینا جا ئز ہے چنا نچہ شک کا فائدہ دے کر ملزم کو بر ی کیا جاتا ہے

کیفر کر دار نظروں سے اوجھل ہو تا ہے ملزم با ہر آکر دو چار ایسی وار دا تیں اور بھی کر لیتا ہے 16دسمبر 2014کے روز آر می پبلک سکول پشاور کا ہو لنا ک واقعہ پیش آیا تو حکومت اور حزب اختلا ف نے مل کر فو جی عدا لتوں کا قا نون منظور کر وا یا اس قانون کے تحت فو جی عدا لتیں قائم ہو ئیں 20سال پرا نے واقعات کی فائلیں بھی فو جی عدالتوں کو بھیجی گئیں 2015کے دوران سزا ئے موت پر عملدرآمد شروع ہوا تو لو گوں نے سکھ کا سانس لیا 1994اور 1996میں کسی گئی وارداتوں کے مجرموں کو بھی اس دوران کیفر کر دار تک پہنچا یا گیا یہ ایک اچھا تجربہ تھا اس قانون کا دائرہ اثر محدود تھا اس کی مدت ختم ہونے کے بعد کیفر کردار ایک بار پھر سینکڑو ں سالوں کی مسافت پر چلا گیا ہے مجرموں کو کیفر کر دار تک پہنچا نے کے لئے ایک بارپھر غیر معمو لی حا لات کے مطا بق خصو صی قوا نین لا نے پڑینگے ورنہ کیفر کر دار کسی کو نظر نہیں آئے گا سب پو چھتے پھرینگے کیفر کر دار کہاں واقع ہے؟

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
50225

داد بیداد – اختیارات کی منتقلی – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد – اختیارات کی منتقلی – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خیبر پختو نخوا کی حکومت نے نئے ما لی سال کے پہلے دن بجٹ میں دیئے گئے فنڈ محکموں کو جاری کر کے ایک اچھا قدم اٹھا یا ہے اس اقدام کی وجہ سے تر قیا تی عمل تیز ہو گا اور بجٹ میں دیئے گئے منصو بے وقت پر مکمل ہو نگے سر ما یے کی گردش سے غربت میں کمی آئیگی اور تر قیا تی کا موں کی وجہ سے خد مات کی فرا ہمی کے نظم و نسق یعنی سروس ڈیلیوری میں آسا نی ہو گی جب فنڈ آگئے تو پتہ لگا کہ اضلا ع کی سطح پر مختلف شعبوں کے ذمہ دار افیسروں کے اختیارات ان سے لیکر اوپر یعنی با لا ئی بلکہ بہت ہی با لائی حکام کو منتقل کئے گئے ہیں فیلڈ کا ذمہ دار افیسر مو قع پر مسا ئل کو حل کر نے کے لئے کوئی بھی منا سب فیصلہ کرنے کا مجا ز نہیں ہے اس مسئلے پر جب غور ہو گا تو دو باتیں سا منے آئینگی.

پہلی بات یہ ہو گی کہ نظم و نسق کی بہتری کے لئے اختیار ات کی نچلی سطح پر منتقلی ہو نی چا ہئیے یا نہیں؟ دوسری بات یہ ہو گی کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی میں رکا وٹ کیا ہے؟ دونوں با توں کا ایک ہی جواب ہے یہ پوری دنیا کے تجربات کا نچوڑ ہے کہ سروس ڈیلیوری کی بہتری کے لئے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی بہت ضروری ہے اور دنیا بھر میں جو اچھی مثالیں ملتی ہیں اُن مثا لوں میں فیلڈ افیسر وں کے پاس زیا دہ سے زیا دہ اختیارات ہو تے ہیں فیلڈ افیسر فنڈ کا ایک حصہ کسی دوسری مد میں خر چ کر نے کا مجا ز ہو تو کام میں آسا نی ہو تی ہے فیلڈ افیسر ما تحت عملے کو تر قی دینے، تبدیل کر نے یا سزا دینے کے وسیع اختیار ات رکھتا ہو تو دفتری نظم و نسق بہتر ہو تا ہے.

وطن عزیز پا کستان اور صو بہ خیبر پختونخوا میں انتظا می اختیار ات کی تین مثا لیں مو جو د ہیں 1947سے پہلے انگریزوں نے فیلڈ افیسروں کو لا محدود اختیارات دیئے تھے اُس دور میں فیلڈ افیسر اپنی انسپکشن رپورٹ کے ذریعے ما تحت عملے کو ملا زمت سے بر طرف کر سکتا تھا اس کی تر قی روک سکتا تھا اس کی تنزلی کا حکم دے سکتا تھا اس کو تبدیلی کی سزا بھی دے سکتا تھا 1947کے بعد 1958تک فیلڈ افیسروں کے اختیارات میں کمی نہیں آئی ما رشل لا ء کے دور میں فیلڈ افیسروں کے اختیارات کو محدود کیا گیا یہ اختیار ات با لا ئی حکام کو دے دیے گئے اس لئے نظم و نسق کی حا لت روز بروز خراب ہو نے لگی 2001ء میں جنرل مشرف نے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا بے مثال نظام متعارف کرا یا جس کے تحت ضلع کی سطح پر تر قیا تی عمل، ملا زمین کی تقرری اور ترقی کے معا ملا ت طے پا نے لگے اس نظام کو ڈیو لو شن پلا ن کا نا م دیا گیا.

2008کے بعد کسی متبا دل حکم یا نئے قانون کے بغیر اس نظام کو ختم کر کے اختیارات ایک بار پھر صو بائی دارالحکو مت کو منتقل کئے گئے وفا قی محکموں کے معا ملے میں تما م اختیارات اسلا م اباد والوں کو دید یے گئے اس کی ذمہ داری کسی ایک حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ طا قتور بیورو کریسی کا آہنی پنجہ ذمہ دار ہے صو بائی اور وفاقی حکو متوں والے اعلیٰ حکام اگرچہ نیا قانون بنا نے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تا ہم وہ نچلی سطح پر فیلڈ افیسروں کو اختیارات دینا اپنی شا ن و شو کت اور باد شا ہت کی تو ہین سمجھتے ہیں اس لئے غیر تحریری قانون کے ذریعے اختیارا ت اپنے پا س رکھتے ہیں.

ڈی ایچ او ہسپتا ل کا معا ئنہ کر تا ہے لیکن غیر حا ضر سٹاف کے خلا ف کچھ بھی نہیں کر سکتا سکول کا چو کیدار اگر ڈیو ٹی سے غیر حا ضر ہو تو ڈسٹرکٹ ایجو کیشن افیسر اس کی ایک مہینے کی تنخوا کا ٹنے، اس کو برطر ف کر نے یا تبدیل کر نے کا اختیار نہیں رکھتا پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے واٹر ٹینک کی والو چوری ہو جا ئے تو ایگزیکٹیو انجینئر والو مین کو بر طرف نہیں کر سکتا، اس کی جگہ نیا والو لگا نے کے لئے صو با ئی دارلحکو مت سے منظوری لینے کا پا بند ہے واپڈ ا کا ٹرا نسفار مر جل جا ئے تو مو قع پر مو جو د اسسٹنٹ ڈائر یکٹر یا سب ڈویژنل افیسر اس کی مر مت کر نے کا مجا ز نہیں ہے. وہ ڈویژنل انجینئر کو رپورٹ کر تا ہے، ڈویژ نل انجینئر چیف انجینئر سے منظوری لیتا ہے.

اس کا غذ ی کا روائی میں سال سے زیا دہ وقت لگتا ہے اس لئے صارفین سے کہا جا تا ہے کہ چندہ کر کے ڈیڑھ لا کھ روپے جو ڑ لو اور بازار سے اپنے ٹرانسفار مر کی مرمت کراؤ جب تک فیلڈ افیسر کو 2008سے پہلے والے اختیارات نہیں ملینگے، جب تک ڈسٹرک ایجو کیشن افیسر ایک ٹیچر کو نو کری سے بر طرف کرنے کا مجا ز نہیں ہو گا جب تک ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر کو تبدیل یا بر طرف کر نے کا مجا ز نہیں ہوگا تب تک نظم و نسق درست نہیں ہو سکتا اور جب تک این ڈی ایم اے کے لا محدود اختیا رات اور کھر بوں روپے فنڈ اضلا ع کی سطح پر ڈپٹی کمشنروں کو نہیں دیئے جا تے تب تک سروس ڈیلیوری نظر نہیں آئیگی اختیار ات کی نچلی سطح پر منتقلی عوام کی ضرورت اور وقت کا تقا ضا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
50164

داد بیداد – کمپیو ٹر اپریٹر کا الا ونس – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد – کمپیو ٹر اپریٹر کا الا ونس – ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

حکومت کہتی ہے کہ سب کے ساتھ مسا ویا نہ سلوک ہو گا سب کو انصاف ملے گا رواں ما لی سال کے بجٹ میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے سر کا ری ملا زمین کے لئے متعدد مرا عات کا اعلا ن کیا ان میں انفار میشن ٹیکنا لو جی سے وا بستہ ملا زمین کے لئے پر و فیشنل الا ونس کا اعلا ن بھی شا مل ہے حکومت نے آئی ٹی پر و فیشنل الا ونس کا نو ٹی فیکیشن بھی جا ری کر دیا صو بے میں آئی پر و فیشنل 47کیڈر اور نا موں سے پہچا نے جا تے ہیں جو سکیل 20تک تنخوا لیتے ہیں ان میں دو تہا ئی کا تعلق کمپیو ٹر اپریٹر کے کیڈر سے ہے یہ و ہ کیڈر ہے جو انسا نی محنت اور کمپیو ٹر کی مصنو عی ذہا نت کے درمیاں پُل کا کام دیتاہے مینو یل کا غذ آتا ہے تو کمپیو ٹر اپریٹر اس کا غذ کا مواد کمپیو ٹر کے حوالے کر تا ہے

پھر اس کا ڈیٹا بیس بنا کر دفتر کے حوالے کر تا ہے با قی 46کیڈر کے ملا زمین اس ڈیٹا بیس پر کام کر تے ہیں کمپیوٹر اپریٹر سارا دن کام کی وجہ سے جسما نی صحت کے مسا ئل سے بھی دو چار ہو تا ہے اور بسا اوقات بینا ئی کی کمزوری کا شکا ر ہوجا تا ہے دفتری نظام کی آٹو میشن کا بنیا دی کام اس کے سپر د ہے حا لیہ کو رونا وبا ء کے دوران نیشنل سنٹر آف اپریشن اینڈ کما نڈ (NCOC) کی طرف سے وزیر منصو بہ بند ی اسد عمر کو رونا کی روز مرہ صورت حال، پورے ملک سے یو میہ ٹیسٹ، صحت یا ب افراد کی تعداد، جا ن بحق ہو نے والوں کی تعداد اور مثبت ٹیسٹوں کی شرح کے جو اعداد و شما ر جا ری کر تے ہیں یہ اعداد و شمار کمپیو ٹر اپریٹر فرا ہم کر تا ہے ای ٹینڈ ر، ای ٹر انسفر، ای کا مرس کے سارے کام کمپیوٹر اپریٹر کر تا ہے

اس اہمیت کے پیش نظر صوا با ئی حکومت نے آئی ٹی پر و فشنل الا ونس کا وعدہ مو جو دہ بجٹ میں پورا کیا مگر نو ٹی فیکیشن جا ری کر تے وقت ایسی بھول چوک ہو ئی کہ سکیل 17سے لیکر سکیل 20تک سب کو آئی ٹی پر وفیشنل الا ونس دیا گیا صرف کمپیوٹر اپریٹر سکیل 16کو اس الا ونس سے محروم رکھا گیا نو ٹی فیکیشن میں تفصیل کے ساتھ 46کیڈر کے افیسروں کے نا م دیئے گئے ہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیل 17سے سکرٹری سکیل 20تک سب کا نا م لیا گیا ہے اوپر عنوان دیا گیا ہے آئی ٹی پرو فیشنل الا ونس سکیل 17سے اوپر کے ملا زمین کو ملے گا انسا نی حقوق کی کتاب میں اس کو امتیا زی سلوک Discriminationکہا جا تا ہے ڈاکٹر شیرین مزا ری اس لفظ کو سن کر سیخ پا ہو جاتی ہیں .

وزیر اعظم عمران خان نے سو بار کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی طبقے کے خلا ف امتیا زی سلو ک کو برداشت نہیں کر یگی صو بے کے طول و عرض میں کا م کر نے والے کمپیو ٹر اپریٹر وں نے پر یس کلب پشاور کے سامنے پر امن مظا ہر ہ بھی کیا ہے اپنا احتجا ج ریکارڈ کرا یا ہے وزیر خزا نہ تیمور سلیم جھگڑ سے اس نا انصافی کے ازالے کا مطا لبہ کیا ہے متا ثرین نے مو قف اختیار کیا ہے کہ ہیلتھ پرو فیشنل الا ونس سکیل 12سے سکیل 20تک سب کو بلا امتیاز ملتا ہے، جو ڈیشل الا ونس تما م ملا زمین کو کسی تفریق، امتیاز اور Dicicriminationکے بغیر ملتا ہے،

آئی ٹی الا ونس کی باری آگئی تو سکیل 16کو پر وفیشنل الا ونس سے کیو ں محروم رکھا گیا؟ یہ افیسر تعلیمی قابلیت اور تجربے کے اعتبار سے سکیل 17سے کم نہیں ہیں بعض معا ملا میں اُن کے اُستاد ہیں دراصل آئی ٹی کا شعبہ صوبے میں سب سے زیا دہ نظر انداز شعبہ ہے اور کمپیو ٹر اپریٹر کے طور ڈیوٹی دینے والے ایم ایس سی، ایم سی ایس اور بی ایس کمپیوٹر سائنس کی ڈگر یاں رکھنے والے سافٹ وئیر انجینئر یتیم کی حیثیت رکھتے ہیں سکیل 17کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی ان کو اچھوت قرار دے کر اپنے سے الگ کر تا ہے

کمپیو ٹر اپریٹر کا سروس سٹر کچر بھی نہیں ہے کمپیوٹر اپریٹروں نے وزیر خزا نہ، وزیر اعلیٰ اور شکا یات سننے والی کمیٹی سے مطا لبہ کیا ہے کہ 8جو لا ئی کے نو ٹی فیکیشن کو منسوخ کر کے کمپیوٹر اپریٹر سکیل 16کو ملا کر تما م آئی ٹی پر و فشنلز کو یکساں طور پر پر و فیشنل الا ونس دیا جا ئے تا کہ ہڑ تال، لا ٹھی چارج اور گرفتا ری کی نو بت نہ آئے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
50133

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔سمندر پار کا غم۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔سمندر پار کا غم۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

یہ زما نہ وبا کا زما نہ ہے وبا کے خلاف ویکسین کا زما نہ ہے ملک کے اندر بسنے والے ارام سے ہیں تا ہم سمندر پا رمزدوری اور روز گار کے لئے جا نے والے پا کستانیوں کا غم ہم سے برداشت نہیں ہوتا سیا سی اور سما جی شخصیات اپیل کر تے ہیں سما جی تنظیمیں اپیل کرتی ہیں اور سیز پا کستا نیوں کی تنظیم فر یاد کر تی ہے چو نکہ حکومت کی ساری مشنیری آزاد کشمیر کے انتخا بات کی مہم میں لگی ہوئی ہے اس لئے اپیل اور فر یاد کی شنوائی نہیں ہوتی ”سر پھوڑ تی پھر تی ہے نا دان فر یاد جو در در جاتی ہے“پا کستان سے یو رپ، امریکہ، جا پا ن، چین اور روس تک سفر کر نے والے شہریوں سے ویکسین ”سینو فام“ کے سر ٹیفیکیٹ کو قبول کیا جا تا ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب اما رات کے حکمران چینی ویکسین کو قبول نہیں کر تے ہم کہتے ہیں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے چینی ویکسین کو منظور کیا ہے

ہمارے عر ب بھا ئی جو اب دیتے ہیں ہم عالمی ادارہ صحت (WHO) کو نہیں ما نتے کوئی یو رپی یا امریکی ویکسین دکھا ؤ ہمارے ہاں عرب بھا ئیوں کے پسندیدہ ویکسین دستیاب نہیں ہیں بڑی محنت سے ہماری حکومت نے اپنی ویکسین ”پا ک ویک“ تیا ر ی کر لی ہے مگر ہمارے عرب بھا ئیوں کو وہ بھی منظورنہیں اس وقت 3لا کھ پا کستا نی ایسے ہیں جو عرب مما لک سے چھٹی پر آئے ہوئے تھے واپسی سے پہلے انہوں نے چینی ویکسین کے دونوں ڈوز (Dose) لگا ئے تھے لیکن اپنے کا م پر جا نے سے عا جز آگئے ہیں اُن کا روز گار چھن جا نے کا خو ف پیدا ہو گیا ہے آذاد کشمیر میں 25جو لا ئی کو انتخا بات ہو نگے اگست میں حکومت بنے گی تب تک ہمارے سمندر پا ر پا کستانیوں کی بڑی تعداد روز گار سے محروم ہو چکی ہو گی دیر، سوات، چترال، کر ک، وزیر ستان اور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے لا کھوں پا کستانی اس کشمکش اور خو ف میں مبتلا ہیں حکومت اعلا ن کر تی ہے کہ ہم سمندر پا ر پا کستا نیوں کو ووٹ کا حق دینگے

وہ لو گ مطا لبہ کرتے ہیں کہ ووٹ کو گو لی مارو ہمیں واپس اپنے باعزت روز گار پر جا نے میں مدد دو، سعو دی عرب اور متحدہ عرب اما رات کے حکمرا نوں سے سفارتی ذرائع سے رابطہ کر واور چینی ویکسین کو منظور کراؤ اگر مو جودہ حا لات میں آپ کی سفا رت کاری نا کام ہو چکی ہے تو پھر امریکہ یا یورپ سے ایسی ویکسین لاؤ جو عرب شیخوں کو پسند ہو جسے عرب ملکوں کے حکمرا ن بلا جھجک تسلیم کریں یو رپ اور امریکہ کے لئے ان کے ہاں نر م اور گرم گوشہ پا یا جا تا ہے ایک سول انجینئر اگر پا کستان سے ریا ض یا دوبئی جا تا ہے تو اس کو 5لا کھ روپے کے برابر تنخواہ دی جا تی ہے اگر اس کا بھا ئی اسی ڈگری کو لیکر امریکہ یا یورپ سے دو بئی یا ریا ض آتا ہے تو 75لا کھ روپے کے برا بر تنخواہ لیتا ہے شیخوں کا منظور نظر ٹھہر تا ہے اس وقت پا کستان کے ہسپتا لوں اور یکسینیشن کے مر اکز میں چین کی ویکسین دستیاب ہے پا کستا نی ویکسین بھی بعض مرا کز میں فرا ہم کی جا رہی ہے موڈرنا اور اسٹرا زینیکا نا می دونوں ویکسین دستیا ب نہیں ہیں

عرب شیخوں کی پسندیدہ ویکسین فا ئز ر با یو ٹیک پا کستا ن میں خا ص خا ص جگہوں پر دستیاب ہے پچھلے ما ہ ملا کنڈ ڈویژن کے شہریوں سے کہا گیا کہ سیدو شریف جا کر مذکورہ ویکسین کے ڈوز لگا ئیں چترال، دیر، با جوڑ اور دوسری جگہوں سے 300شہری سیدو شریف پہنچے تو بتا یا گیا کہ ویکسین ختم ہو گئی ہے با خبر حلقوں نے خبر دی کہ پشاور میں دستیاب ہے وہاں جا نے کے بعد پتہ لگا کہ با ٰخبر حلقے ”بے خبر“ تھے وہاں بھی فا ئزر با یوٹیک ختم ہو چکی ہے سمندر پا ر مزدوری کر نے والا پا کستا نی حیراں ہو جا تا ہے کہ دل کو رووں یا پیٹوں جگر کو میں، مقدور ہو تو ساتھ رکھو ں نو حہ گر کو میں اب سمندر پار پا کستا نی ایک دوسرے سے پو چھتے ہیں کہ زلفی بخاری کے جا نے کے بعد یہ شعبہ کس کے حوالے کیا گیا ہے؟بعض لو گ کہتے ہیں کہ یہ شعبہ وزیر خار جہ شاہ محمود قریشی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے بعض لو گوں کا خیال ہے کہ یہ ڈاکٹر فیصل سلطا ن کا شعبہ ہے

بعض کہتے ہیں کہ ایسے مواقع پر کام آنے والا شخص صرف شیخ رشید ہے ایک مو ثر طبقے کا خیال ہے کہ مو لا نا طا ہر اشرفی ولی عہد پر نس محمد بن سلما ن کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات سے کا م لیکر چینی ویکسین کو سند قبو لیت سے نواز دینگے ہمارا خیال ہے کہ ”نواز“ کا لفظ سارے کیئے کرایے پر پا نی پھیر دے گا مو لا نا طاہر اشرفی کو بیچ میں لاؤ چینی ویکسین کو منظور کراؤ یہ سب سے آسا ن راستہ ہے ایک دوست کا کہنا ہے کہ سٹیزن پور ٹل پر شکا یت در ج کرو سال ڈیڑھ سال بعد کوئی نتیجہ سامنے آئے گا، دوسرے دوست کا مشورہ ہے ٹویٹر یا انسٹا گرام پر جا ؤ براہ راست وزیر اعظم عمران خا ن سے اپیل کر وگے تو بات سُنی جا ئیگی وزیر اعظم اپنا خصو صی ایلچی ریا ض اور دو بئی روانہ کر ے گا ہفتہ دس دن بعد چینی ویکسین کو سند قبولیت مل جائیگی شاہ جی کہتے ہیں تم بڑے ستم ظریف ہو کام کی بات سب سے آخر میں بتا تے ہو طریقہ یہی ہے جو آپ نے آخیر میں بتا ئی ہے سمندر پا ر کا غم ہمارا اپنا غم ہے اٹھو وزیر اعظم کا دا من پکڑو اور شیخوں کو رام کرو حبیبی حبیبی!

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
49980

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔ شُتربے مہار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔شُتربے مہار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی


امریکی جریدے کی تازہ ترین اشاعت میں مختلف شعبہ ہائے زند گی کے 17ما ہرین نے سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام، واٹس ایپ وغیرہ کو شُتر بے مہار کا نام دے کر انسا نیت کے لئے مو جودہ دور کا سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے پرو سینڈ نگز آف دی نیشنل اکیڈیمی آف سائنسز (PNAS) میں کمسٹری، زوالو جی، انوائر نمنٹ، سائیکا لو جی، نیو را لو جی،کرائسس کنٹرول اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے 17اعلیٰ مہا رتوں کے حا مل دا نشوروں نے خبر دار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ممبر ملکوں نے مربوط اور منظم پرو گرام کی مدد سے سوشل میڈیا کو لگا م دینے کے سخت ترین قوا نین وضع نہ کئیے تو محض دو سو (200) سر ما یہ داروں کے سر ما یے کو بچا نے کے لئے دنیا میں ساڑھے چھ ارب انسا نوں کا جینا دو بھر کر دیا جا ئے گا

ما ہرین نے یہ بھی خیال ظاہر کیا ہے کہ سوشل میڈیا انسا نیت کے لئے ایٹمی اور کیمیا وی ہتھیا روں سے زیا دہ خطرہ ہے یہ دنیا کے سیلا بوں سے بھی زیا دہ خطر ہ ہے آتش فشاں پہاڑوں اور گلیشر کی پھٹنے والی جھیلوں سے بھی زیا دہ خطرہ ہے نفسیات اور اعصا بی بیماریوں کے ما ہرین نے رائے دی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک غلط خبر یا فتنہ انگیز بات کو ایک منٹ میں 5لا کھ لو گ دیکھتے، پڑھتے اور سنتے ہیں 24گھنٹوں میں اس خبر کے صارفین کی تعداد 50لا کھ سے متجا وز ہو تی ہے ایک جماعت، پارٹی، گروہ یا قبیلے کے خلاف اگر نفرت انگیز خبر پھیلا ئی گئی تو 24گھنٹوں میں لا کھوں انسا نوں کی جا نوں کا ضیاع ہو سکتا ہے ما ہرین کی ان ارا ء کو پڑھ کر کسی کو تعجب نہیں ہوگا سو شل میڈیا کے ذریعے دولت کما نے والے 200سر ما یہ داروں میں سے 160کا تعلق امریکہ اور یو رپ سے ہے بل گیٹس اور ما رک زکر برگ کے نا موں سے پوری دنیا واقف ہے

اس بات پر ما ہرین کو داد دینی چا ہئیے کہ انہوں نے خود اپنی اولا د کو نا جا ئز اولاد تسلیم کیا اور یہ بھی ما ن لیا کہ یہ اولاد پا گل ہے کسی بھی وقت انسا نیت کو ایٹمی ہتھیار وں سے کئی گنا زیا دہ نقصان پہنچا سکتی ہے چین، روس، ایران اور سعودی عرب نے سوشل میڈیا کو پا بندیوں میں جکڑ دیا ہے وہاں سے مارک زکر برگ، بل گیٹس اور دیگر سر ما یہ داروں کو ایک پا ئی کی آمدن نہیں ملتی ان ملکوں میں شہریوں کی جا ن و ما ل بھی سوشل میڈیا کے شر سے محفوظ ہے وطن عزیز پا کستان میں سوشل میڈیا کی تین قبا حتیں سامنے آئی ہیں پہلی قباحت یہ ہے کہ سو شل میڈیا پر جھوٹی خبر پھیلا کر لو گوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے بد امنی، فحا شی اور عر یا نی پھیلا ئی جا رہی ہے دوسری قباحت یہ ہے سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ اور ٹرینڈ چلا کر بے گنا ہ شہریوں کی جا ن لی جا رہی ہے ان کی املا ک کو آگ لگا یا جا رہا ہے تیسری بڑی قباحت یہ ہے کہ 3سال سے لیکر 14سال تک کے بچے، بچیاں سوشل میڈیا پر رات دن مصروف رہنے کی وجہ سے ان کی تعلیم و تر بیت کے سنہرے ما ہ وسال ضا ئع ہو جا تے ہیں ایک کا میاب اور دانشور نل سامنے آنے کی جگہ ایک پرا کندہ، پا گل اور دما غی توازن سے عاری نسل پروان چڑھ رہی ہے

یہ نسل سوشل میڈیا پر اس قدر مصروف رہتی ہے کہ ماں، باپ اور بھا ئی بہنوں کو پہچاننے سے انکار کر تی ہے گذشتہ اختتا م ہفتہ سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹوک (Tik Tok) پر پا بندی کا حکم سنا یا لیکن اس حکم پر عمل در آمد نہیں ہوا گذشتہ سال پا کستان ٹیلی کمیو نیکیشن اتھار ٹی (PTA) نے پب جی (Pubg) نا می کمپیو ٹر گیم پر پا بندی لگا ئی مگر دو ما ہ بعد پا بندی کا حکم واپس لینا پڑا چند سال پہلے حکومت نے فیس بک پر پا بندی لگا ئی لیکن جلد ہی اس حکم کو منسوخ کر نا پڑا مو جو دہ وبائی مرض (Covid-19) کے دوران سوشل میڈیا پر روز کوئی نہ کوئی جھوٹی خبر پھیلا ئی جا تی ہے فتنہ انگیز پرو پیگینڈا کیا جا تا ہے امریکہ بر طا نیہ اور دیگر مما لک سے جعلی ڈاکٹروں کی ارا ء پیش کر کے لو گوں کو سما جی فاصلے اور ویکسین کے خلا ف اکسا یا جا تا ہے حکومت اس طرح کے شر انگیز پرو پیگینڈ ے کو بند نہیں کر سکتی PNASکے تازہ ترین رپورٹ کی روشنی میں حکومت کو چین، روس اور ایران کی طرح سوشل میڈیا کے شتر بے مہار کو لگا م دینی چا ہئیے۔

داد بیداد

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
49940

داد بیداد۔۔۔۔۔۔استعفیٰ کی دھمکی۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد

سند ھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے رکن فردوس شمیم نقوی نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے 3سالوں میں حلقے کے اندر کوئی کام نہیں کیا یہی حا لت رہی تو اگلے دو سا لوں میں بھی حلقے کے عوام کی کوئی خد مت نہیں کر سکوں گا اس لئے میرا یہ استعفیٰ منظور کیا جا ئے میں وہ اما نت حلقے کے عوام کو واپس کر تا ہوں جو حلقے کے عوام نے 2018ء میں مجھے سونپ دیا تھا آئینی ما ہرین کے مطا بق ایک ممبر کا استعفیٰ دینا اتنا سادہ معا ملہ نہیں.

سر دست اسمبلی کا سپیکر اس پیش کش کو دھمکی تصور کر کے ممبر کو اپنے چیمبر بلا ئے گا اُس کی معروضا ت کو سنے گا اور اس کو استعفیٰ واپس لینے پر اما دہ کرنے کی حتی المقدور کو شش کرے گا اس کے بعد اگر ممبر نہ ما نے تو اس کا استعفیٰ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جا ئے گا پھر اس کی نشست خا لی ہو جا ئیگی اس کے بعد ضمنی انتخا بات کے ذریعے نیا ممبر اس کی جگہ لے سکیگا فردوس شمیم نقوی نے ایک پتہ پھینک دیا ہے اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے وقت آنے پر پتہ لگے گا سر دست اس خبر سے دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ اسمبلیوں کے اندر اور سر کارسسٹم میں ممبران اسمبلی کو خو شگوار فضا میسر نہیں ہے.

اراکین اسمبلی کی معقول تعداد اپنی کار کر دگی سے مطمئن نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ اراکین اسمبلی جن حلقوں سے منتخب ہو کر آئے تھے ان حلقوں کے ووٹر بھی اپنے نما ئیندوں کی کار کر دگی سے مطمئن نہیں ہیں گو یا آگ ہے دونوں طرف برابر لگی ہوئی فردوس شمیم نقوی کا تعلق حزب اختلاف سے ہے حزب اقتدار میں بھی ایسے ارا کین اسمبلی مو جو د ہیں جو بار بار اسمبلی کے فلور پر اپنی بے اطمینا نی کا اظہار کر تے نظر آتے ہیں پشاور سے رکن اسمبلی نو ر عا لم خا ن ایڈو کیٹ اور اٹک سے رکن اسمبلی میجر طاہر صادق کی مثا لیں سامنے ہیں پنجا ب اسمبلی اور بلو چستان اسمبلی میں بھی ایسے ارا کین مو جو د ہو نگے خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں بھی ایسے ممبروں کی کمی نہیں ہو گی.

وجہ یہ ہے کہ ارا کین اسمبلی کا کر دار متعین نہیں ان کے حقوق اور فرائض متعین نہیں حلقے کے عوام کی تو قعات کچھ اور ہیں، حکومت کی تر جیحا ت کچھ اور ہیں رکن اسمبلی چکی کے دو پاٹوں میں انا ج کے دا نے کی طرح پھنس جا تا ہے اور اس کی اچھی خا صی پسائی ہو جا تی ہے مقننہ کی کتاب میں رکن اسمبلی کا جو کر دار اجا گر کیا گیا ہے وہ قا نون سازی کے حوالے سے ہے بجٹ کی منظوری بھی قا نون سازی میں شا مل ہے حلقے میں سڑ کوں کی مر مت، پلو ں کی تعمیر اور درجہ چہا رم کے ملا زمین کی بھر تی یا افسروں کی تبدیلی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہو نا چا ہئیے حلقے کے عوام کو الیکشن کے دنوں میں جو کچھ بتا یا گیا تھا وہ یہ ہے کہ اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد ان کا نما ئیند ہ سڑ کیں بنا ئے گا، نا لیاں بنا ئے گا، نلکے لگا ئے گا .

بجلی بھی لا ئے گا، گیس بھی لا کر دے گا اپنی مر ضی کے افیسر لگا ئے گا تھوک کے حساب سے لو گوں کو نئی ملا زمتیں فراہم کرے گا تین سال بعد وعدوں اور طفل تسلیوں کا یہ ہار اس کے گلے پڑ جا تا ہے وزیر اعظم عمران خا ن نے 22سال محنت کر کے عوام کو قائل کیا تھا کہ سڑ کیں بنا نا، نلکے لگا نا، بجلی اور گیس لے کر آنا، نا لیاں بنانا ویلچ کو نسل کا کام ہے مقا می حکومت کی ذمہ دار ی ہے رکن اسمبلی کا ان کا موں سے کوئی تعلق نہیں ہو گا.

اسمبلی کا ممبر قانون سازی کا ذمہ دار ہو گا پھر پبلک کے پر زور اصرار پر آدھے سے زیا دہ اراکین اسمبلی کو دس دس کروڑ روپے کے تر قیا تی فنڈ دے دیئے گئے، مقا می حکومتوں کو ختم کر دیا گیا چنا نچہ عوام کی تو قعات آسما نوں کو چھو نے لگیں اراکین اسمبلی کو شدید عوامی دباؤ کا سامنا کر نا پڑا فردوس شمیم نقوی کا استعفیٰ ایسے ہی حالات میں خبروں کی زینت بن گیا ہے شا ہ جی کہتے ہیں کہ استعفیٰ دینے کا خیال بُرا نہیں بقیہ دو سال کسی اور کو مو قع ملنا چا ہئیے ہمارا خیا ل یہ ہے کہ دال میں کچھ نہ کچھ کا لا ضرور ہے اگر رکن اسمبلی مطمئن نہیں اگر حلقے کے عوام مطمئن نہیں تو پورے سسٹم پر سوال اٹھتا ہے ہمیں اس سوال کا جواب چا ہئیے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
49893

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔آدھا گلا س۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

وزیر اعظم عمران نے پا ک امریکہ تعلقات اور افغا نستا ن کی صورت حا ل پر گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ پا کستان نے امریکہ کے اتحا دی کی حیثیت سے اپنا فرض نبھا یا ہے ما ضی کی حکو متوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر امریکہ کی مدد کی ہے کیونکہ افغا نستا ن میں پا ئیدار امن اور افغا ن عوام کی خو شحا لی پا کستان کے مفا د میں ہے یہ ایسا نقطہ نظر ہے جو سفارتی معا ملا ت میں پا کستان کے ہر موقف کی تصدیق کر ے گا اگر خا ر جہ تعلقات کے حوالے سے ما ضی کی حکومتوں پر کیچڑ اچھا لا جا ئے گا تو اس کا نقصان مو جو دہ حکومت کے مو قف کو پہنچتا ہے ایسے بیان کے لئے انگر یزی اور اردو میں گلا س کی مثا ل دی جا تی ہے.

اگر گلا س آد ھا بھر ا ہو اہے تو غیر محتاط آد می کہے گا آد ھا گلا س خا لی ہے جبکہ محتاط اور ہو شیا ر آد می کہے گا آدھا گلا س بھر ا ہوا ہے اخبارات میں فینا نشل ایکشن ٹا سک فورس (فیٹف (FATF) کے تا زہ اعلا میے کی خبر آئی ہے خبر کے مطا بق فیٹف کے صدرنے پا کستا ن کے اقداما ت کی تعریف کر تے ہوئے اعلا ن کیا ہے کہ پا کستا ن اگلے حکم تک گر ے لسٹ میں رہے گا اس خبر کو دو طرح سے پیش کیا جا تا ہے وفا قی وزیر حما د اظہر محتاط زبا ن میں یہ بات کہی ہے کہ پا کستا ن بلیک لسٹ میں جا نے سے محفوظ ہو ا ہے اب بلیک لسٹ میں جا نے کا کوئی حد شہ یا خطرہ نہیں کیونکہ فیٹف کے قوا عد کی رو سے پا کستا ن نے قا بل اطمینا ن اور تسلی بخش اقدا مات کئے ہیں جن کی مدد سے دہشت گر د تنظیموں کو ما لی امداد ملنے کے امکا نا ت ختم ہو گئے ہیں ان اقدامات پر فیٹف کے بورڈ نے پا کستان کی تعریف کی ہے اور حکومت کو شا باش دی ہے .

البتہ آئیند ہ دو سا لوں کے لئے چند نا گزیر اقدامات بھی تجویز کئے ہیں ان اقدامات کا تعلق منی لا نڈرنگ کی مختلف صو رتوں اور دہشت گر دی میں ملوث تنظیموں کی بعض قا بل اعتراض سر گر میوں سے ہے مثلا ً یو ر پی مما لک کے خلا ف انتہا پسند ی کی حا لیہ لہر نے پا کستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا یا ہے انتہا پسند ی کی ایسی لہروں کا سد باب ہو نا چا ہئیے اسی طرح منی لا نڈرنگ کے وا قعات کی جو خبر یں پا کستا نی اخبارات میں تسلسل کے ساتھ آرہی ہیں ان خبروں نے پا کستا ن کی معا شی پا لیسیوں پر سوا لیہ نشا ن چھوڑا ہے مستقبل میں منی لا نڈرنگ پر مکمل پا بند ی کا قا بل عمل طریقہ کار وضع ہو نا چا ہئیے.

اگر چہ وفا قی وزیر حماد اظہر نے فٹیف کے فیصلے کو مثبت پیرا یہ اظہار کا جا مہ پہنا یا ہے تا ہم اس فیصلے میں ”بہت کچھ کر نے“ کے اشا رے مو جود ہیں ما ضی میں ایسے اشاروں کو”ڈو مور“ کا نا م دیا جا تا تھا اس کے ازالے کی ایک صورت یہ ہے کہ حکو متی وزراء سیا سی مخا لفین پر الزا مات لگا نے کے لئے منی لا نڈرنگ کا سہا را لینا بند کریں اس الزام سے اندرون ملک حکومت کی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے مگر خار جہ محا ذ پر حکومت کو سبکی، ندا مت اور خفت کا سامنا کر نا پڑ تا ہے فیٹف جیسے ادارے ایسے الزا مات کو پا کستان کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں.

آدھا گلا س بھرا ہے کی ایک مثال مذہبی ہم آہنگی کے لئے وزیر اعظم کے معا ون خصو صی مو لا نا طا ہر اشرفی کا بیان ہے اپنے بیان میں انہوں نے سعو دی عرب کے تا زہ ترین فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت بیرون ملک سے آنے والے حجا ج پر پا بند ی لگا کر 25لا کھ زا ئرین کی جگہ 65ہزار ملکی زائرین تک حج کو محدود کیا گیا ہے اس فیصلے کا خیر مقدم کر تے ہوئے مو لا نا اشرفی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ولی عہد پر نس محمد بن سلما ن کی دور اندیش پا لیسیوں کا مظہر ہے کو رونا کے عا لمی وباء کے پیش نظر ایسی پا لیسی کی ضرورت تھی اگر معا ون خصو صی کا بیان نہ آتا تو کئی لو گ حج کی سعادت سے محرومی کا ذکر کر کے سعودی وزارت حج کو تنقید کا نشا نہ بنا تے تا ہم بر وقت آدھا گلا س بھرا ہوا دکھا کر معا ون خصو صی نے اس خد شے کا سد باب کیا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
49624

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔تا جکستان کی سر حد پر پیش قدمی۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

افغا نستا ن کے باغی جنگجو وں نے قندوز سے 50کلو میٹر دور شیر خا ن بندر نا می سر حدی السوالی پر اپنا پر چم لہرا کر عملاًتا جکستان کی سرحد پر بڑی پیش قدمی کی ہے اور یہ پیش قدمی ایسے وقت پر ہوئی ہے جب افغا نستان سے امریکی فو ج کے انخلا کا منصو بہ روبہ عمل آنے والا ہے اطلا عات کے مطا بق افغا نستا ن کی سر کاری فو ج کے اہلکار وں نے چو کیاں خا لی کر کے تا جکستا ن کی طرف بھا گنے کا راستہ اختیار کیا اور السوا لی پر جنگجووں نے آسا نی سے قبضہ جما لیا اب تک افغا نستا ن کے 75فیصد رقبے پر جنگجو وں کا قبضہ ہو چکا ہے41اضلاع پر با غیوں کا قبضہ افغا ن حکومت نے تسلیم کر لیا ہے چند بڑے شہروں کے سوا کسی بھی اہم ولا یت یا السو الی پر اشرف غنی کی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے دفاعی تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی فو ج کے انخلا کے بعد افغا نستا ن میں باغی جنگجووں کی حکومت بنے گی پڑو سی مما لک کو اس کے لئے ذہنی طور پر تیا ر ی کر نی چا ہئیے.

ایران اور تا جکستان نے افغا نستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش ظا ہر کی ہے روس کے وزیر دفاع نے افغا نستا ن میں نئی خا نہ جنگی کی پیش گو ئی کی ہے پا کستان کے وزیر اعظم عمران خا ن نے خبر دار کیا ہے کہ سیا سی مفا ہمت اور متفقہ قومی حکومت کے قیا م کے بغیر افغا نستا ن سے امریکی فو جیوں کا انخلا علا قے کے لئے تبا ہ کن ہو گا اگر افغا نستا ن ایک بار پھر خا نہ جنگی کا شکار ہوا تو پورا علا قہ عدم استحکام کا شکار ہو گا خو د امریکہ کو اس بات کا شدت سے احساس ہوا ہے کہ خار جی فو جوں کے انخلا ء کے بعد کا بل میں اس کی حما یت یا فتہ حکومت دم توڑ دے گی باغی جنگجو اقتدار میں آکر ایک بار پھر پورے دورائیے کی امریکی پا لیسیوں کا انتقام لینا شروع کرینگے.

اس متوقع خا نہ جنگی میں اپنے اتحا دیوں کی مدد کے لئے امریکہ کو پڑو سی مما لک میں اڈے لینے کی ضرورت پڑیگی تا کہ افغا نستا ن میں امریکی مفا دات کا تحفظ یقینی بنا یا جا سکے اس نکتے پر ہماری تو جہ 1978سے مر کوز ہے اور اب بھی یہی نکتہ سب سے اہم ہے 24اپریل 1978کو پر چم پارٹی کے سر گرم کار کن امیر خیبر کا قتل ہوا تو کا بل میں مقیم اخبار نویسوں نے امریکی ایجنسی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا امریکیوں نے اس الزام خلق پارٹی پر لگا یا امیر خیبر کی لا ش کو سڑک پر رکھ کر دھر نا دیا گیا تین دن بعد 27اپریل 1978کو اس دھر نے کے نتیجے میں انقلاب آیا ڈگروال عبد القادر نے چند دنوں کے لئے اقتدار سنبھا لا پھر اقتدار خلق پارٹی کے ہاتھ میں آیا امریکیوں نے سعودی عرب اور پا کستان کی مدد سے افغا نوں کو گھروں سے نکا ل کر مہا جر کیمپوں میں ڈالنے کے لئے ایران، اور پاکستان پہنچا دیا ڈیورنڈ لا ئن کا تقدس پا ما ل کیا اور سر حد کے دونوں طرف ہیرو ئین کی ہزاروں فیکٹر یاں لگا کر اپنا کارو بار شروع کیا .

افغا نستا ن میں امریکہ کی 43سا لہ اربوں ڈا لر کی سر ما یہ کاری ضا ئع نہیں گئی اس سر ما یے سے امریکہ نے افغا نستا ن میں اپنے پنجے گاڑ لئے حزب اقتدار اور حزب اختلا ف میں اپنے پکے اتحا دی ڈھونڈ لئے تعجب کی بات نہیں ہو گی کل کلا ں اگر خبر آجائے کہ تا جکستا ن کی سر حد پر شیر خا ن بندر کے علا قے پر جنگجو ں کا قبضہ اس لیے کرا یا کہ امریکی حکام افغا نستا ن کے ہمسا یہ مما لک کے اندر خو ف ہراس پیدا کر نا چا ہتے ہیں اور یہ تا ثر دینا چا ہتے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو اتحا دی افغا نستا ن سے فو جی انخلا کے حق میں ہیں مگر حا لا ت اس کی اجا زت نہیں دیتے اگر خد ا نا خواستہ امریکہ اور نیٹو اتحا د کی فو جیں نکل گئیں تو افغا نستا ن ایک بار پھر جنگجووں کے قبضے میں جا ئے گا اور ہمسا یہ مما لک کے لئے عدم استحکام کا باعث بنے گا اس لئے خطے کے مفاد میں امن عالم کی خا طر امریکہ کو مجبو راً فو جی انخلا ء کے منصو بے پر نظر ثا نی کی ضرورت پڑے گی دوحہ مذاکرات کی سیا ہی خشک ہو نے سے پہلے دو حہ معا ہدے کی خلا ف ور زی کا الزام امریکہ کو نہیں دیا جا ئے گا ؎
خنجر پہ کوئی داغ نہ دامن پہ کوئی چھینٹ
تم قتل کرو ہویا کرامات کرو ہو


ویسے سچ پو چھیئے تو دوحہ معا ہدہ بھی ڈھیلا ڈھا لا معا ہدہ تھا جس میں امریکہ فریق نہیں تھا، افغا ن حکومت فریق نہیں تھی ملا برادر اور زلمے خلیل زاد کے درمیان معا ہدہ ہوا تھا دونوں کی شنا خت اور حیثیت مشکوک تھی دونوں افغا نی تھے مگر کسی کی نما ئیند گی نہیں کرتے تھے با غی جنگجو وں کی تا زہ ترین پیش قدمی ثا بت کرتی ہے کہ دوحہ معا ہدہ نا کا م ہو نے جا رہا ہے خار جی فو جوں کے انخلا پر سوالیہ نشا ن لگ چکا ہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
49535

داد بیداد۔۔۔۔۔۔آخری دن۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

سر کاری سڑ کوں، پلوں اور عما رتوں کی مر مت کا مہینہ جون کا مہینہ ہوتا ہے اس مہینے دس سالوں کا کام نہا یت تیزی اور چا بکدستی کے ساتھ کیا اور کرایا جا تا ہے کیونکہ 30جو ن کا آخری دن آنے سے پہلے سارے کام مکمل کر نے ہوتے ہیں بلوں کو پاس کر کے 30جو ن کی رات 12بجے تک بینکوں سے پیسہ نکا لنا ہوتا ہے بہت اچھی حکو متیں آئیں بہت اچھے حکمرا ن آئے کسی نے بھی جو لا ئی یا اگست کے مہینے میں ایم اینڈ آر کا فنڈ خر چ نہیں کیا دسمبر یا مارچ کے مہینے میں ایم اینڈ آر کا فنڈ خر چ نہیں کیا یہ کام جو ن کے مہینے کے لئے ملتوی رکھا اس میں جا نے کیا حکمت ہے جو ن کا مہینہ حساب کتاب کے لحاظ سے مقدس مہینہ شمار ہو تا ہے اور جو ن کا آخری دن سب کی نظر میں مقدس ترین دن ہوتا ہے

بعض من چلے اس کو اکا ونٹ آفس کا دن بھی کہتے ہیں اکا ونٹ آفس اگر بل کو پا س نہ کرے چیک پر دستخط نہ ہو تو فنڈ واپس چلا جاتا ہے کام اگر مکمل بھی ہوا ہو اس کا بل نہیں ملتا اس لئے بل والے ہر ممکن کو شش کر کے اس دن اپنا بل پا س کرواتے ہیں چا ہے بل کے لئے دل اور جا ن کی بازی لگا نی پڑے تب بھی وہ قر با نی دینے سے نہیں چو کتے فرنگی سامراج کی 100سا لہ حکومت میں ما لی سال یکم جو لا ئی سے شروع ہو کر اگلے سال 30جو ن کو ختم ہو تا تھا اور ما لی سال کو دو سا لوں میں تقسیم کیا گیا تھا قیام پا کستان کے بعد یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تا ہم فرنگی دور میں ایم اینڈ آر کا فنڈ صرف جون کے مہینے میں نہیں ملتا تھا یہ فنڈ فروری اور ما رچ میں بھی مل جا تا تھا اکتو بر اور نو مبر میں بھی مل جا تا تھا اُس زما نے میں فنڈ جاری کرنے پر کوئی کمیشن نہیں تھا دفتری اصول کے تحت فنڈ مفت میں جا ری ہو تا تھا بل پا س کر نے پر کوئی کمیشن نہیں تھا

بل بھی مفت میں پا س ہوتا تھا البتہ بل بنا نے والا دفتری قواعد و ضوابط کی پا سداری کر کے ضروری دستا ویزات بل کے ساتھ منسلک کرتا تھا دستا ویزات کو دیکھ کر بل پر اعتراض کر کے واپس بھیجا جاتا یا بلا تردد پا س کیا جاتا تھا بل بنا نے والے دفترکا عملہ ہزاروں اور لا کھوں روپے کا بل بینک سے نقد صورت میں وصول کر کے کام پر لگا تا بل پاس کر نے والا اپنی تنخوا ہ پر گزارہ کرتا تھا فرنگی کے جا نے کے بعد رفتہ رفتہ دفتر ی کا موں میں با لا ئی آمدنی کا رواج شروع ہو ا بل پا س کرنے والوں نے کہنا شروع کیا ہمارا حصہ کہاں؟ فنڈ جاری کر نے والوں نے مطا لبہ شروع کیا ہمیں کیا ملے گا؟ اس طرز عمل نے جہاں تر قیاتی کا موں کا معیار گرا دیا وہاں سر کاری خزا نے سے آنے والے فنڈ کے درست استعمال پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا خیبر پختونخوا کی صو بائی حکومت نے وزیر اعظم عمران خا ن کے وژن اور تحریک انصاف کے منشور کے مطا بق سر کاری خزا نے کا ایک ایک پیسہ بچا نے کا عزم کر رکھا ہے وزیر اعلیٰ محمود خان اور وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے تر قیا تی کا موں اور سر کاری سکیموں کی مر مت کو معیار کے لحاظ سے اعلیٰ پیما نے کا کام ثا بت کر نے کا تہیہ کیا ہوا ہے

اپنی بجٹ تقریر اور بجٹ کے بعد اپنی پریس کا نفرنس میں وزیر خزانہ نے کئی انقلا بی اور اصلا حی اقدامات کی طرف اشارہ کیا ہے ان اقدامات کے نتیجے میں اگر تر قیا تی اور مرمتی کام سارا سال جاری رکھنے کا طریقہ ازما یا جا ئے تو بہتر ہو گا اور عوام کو تبدیلی کا ثمر نظر آئے گا ٹھیکہ دار طبقہ بھی سکھ کا سانس لے گا، دفتری عملہ بھی دیا نت داری کیساتھ اپنا فرض نبھا ئے گا اس سال 8جو ن کو ایم اینڈ آر کے نا م سے فنڈ ریلیز ہوئے 22دنوں میں سڑ کوں، پلوں اور عما رتوں کی مرمت مکمل کر کے 30جون کو بل پا س کرنا ہے کام کے معیار کااندازہ کوئی بھی لگا سکتا ہے اگر اگلے سال کے بجٹ میں تر قیاتی سکیموں کے ساتھ ایم اینڈ آر (مینٹے ننس اینڈ ریپیر) کا فنڈ 10جو لا ئی کو ریلیز کیا گیا تو اگست میں کام شروع ہو گا اگلے سال مارچ یا اپریل تک کام مکمل ہو گا جون کے مہینے کے لئے کوئی بل نہیں بچے گا اگر فنڈ ریلیز کرتے وقت کمیشن لینے کا سلسلہ بند ہوا تو ٹھیکہ دار کو احساس ہو جائے گا کہ بد یا نتی کی گنجا ئش نہیں اور بل پا س کر تے وقت بھی کمیشن دینا نہیں پڑے گا وہ فنڈ کا 80فیصد سکیم پر لگا ئے گا 20فیصد کی حق حلا ل مزدوری حا صل کرے گا اب تر قیا تی فنڈ کا 65فیصد دفتر میں خر چ ہوتا ہے اس لئے کام کا کوئی معیار نہیں ہوتا ساری تو جہ آخری دن کمیشن دے کر بل پاس کرنے پر مر کوز ہو تی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
49482

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خواب غفلت کا شکوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

بجٹ کی مثال بُز کشی کے قدیم کھیل کی طرح ہے جس میں گھڑ سوار ایک دنبے پر جھپٹتے ہیں جو طا قتور ہوتا ہے وہ دنبے کو اچک لیتا ہے اور سر پٹ گھوڑا دوڑا کر اپنی فتح کا اعلا ن کرتا ہے یہ بُز کشی مو جودہ سال اپنے عروج کو پہنچ گئی جب قو می اسمبلی میں بجٹ کی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیئے گئے بلو چستان اسمبلی کو تا لہ لگا یا گیا جن کو حصہ نہیں ملا وہ لو گ اپنے غصے پر قا بو نہ رکھ سکے اور جن کو حصہ ملا وہ مست ہا تھی کی طرح آپے سے با ہر ہوئے جو حلقے اور علا قے تر قیا تی فنڈ اور منصو بوں سے محروم رہے ان کا گنا ہ یہ تھا کہ خواب غفلت میں پڑے تھے اور خواب غفلت کا کوئی شکوہ بھی نہیں تھا اس کی شکا یت بھی نہیں تھی مثلا حلقہ نمبرایک کے گیس پلا نٹ منسوخ ہوگئے

پختہ سڑک کی جا ری سکیم کو بند کر دیا گیا، بجلی کی تر سیل کے کام ادھورا چھوڑ دیئے گئے کیونکہ لو گوں نے خدا کے نا م پر علما ء کو ووٹ دیا علما ء حزب اختلا ف میں بیٹھ گئے سزا کس کو ملی اُس حلقے کے 7لا کھ عوام کو ملی یہ خواب غفلت کی سزا ہے اور خواب غفلت کی ایسی ہی سزا ملتی ہے افغا نستا ن کے ایک باد شاہ کا قصہ کہا نیوں کی کتا بوں میں آتا ہے باد شاہ رعا یا سے بیگار لیتا تھا قلعے کی موٹی اور اونچی دیواریں بن رہی تھی جو شخص کام کے دوران بیماری کی شکا یت کر کے سستی دکھا تا اس کو دیوار میں لگا کر ہمیشہ کے لئے دفن کیا جاتا یعنی زندہ دیوار میں چُن دیا جا تا اس طرح 600بندے زندہ دیوار وں میں چُن دیئے گئے ایک دن ایک شخص کو بخار چڑھا تو اُس کو گھر پر لٹا کر اس کی بیوی بر قعہ اوڑھ کر کدال بغل میں دبا کر بیگار پر چلی گئی کام پر جا کر اُس نے بر قعہ ایک طرف رکھ دیا اور کام میں مصروف ہوئی صحت مند اور تنو مند خا تون تھی مردوں کے شا نہ بشا نہ کام کر رہی تھی اتنے میں باد شاہ خو د کام کا معائینہ کر نے کے لئے آگیا

باد شاہ کو آتے دیکھ کر خا تون نے بر قعہ اوڑھ لیا اور کام میں مگن ہوئی باد شاہ نے خا تون سے پو چھا تم دو ہزار مردوں کے مجمع میں بر قعہ کے بغیر کام کر رہی تھی مجھے آتے ہوئے دیکھ کر تم نے بر قعہ اوڑھ کر کس لئے پرد ہ کیا؟ خا تون نے جواب دیا کہ یہ جو 2000بیگاری ہیں ان میں مرد کوئی نہیں سب میری طرح عورتیں ہیں تم آگئے تو مجھے احساس ہوا کہ اب ایک مر د آگیا ہے اس لئے میں نے بر قعہ اوڑھ کر پر دہ کیا آج کے دور کی بڑی حقیقت یہ ہے کہ مردوں میں مر دا نہ پن نہیں رہا لو گ ظلم سہتے ہیں، نا انصا فی کو بر داشت کر تے ہیں اور خا موش رہتے ہیں ظلم کے خلا ف آواز بلند کرنے سے اجتما عی مفاد حا صل ہوتا ہے خا موش رہنے والا اپنا انفرادی مفاد حا صل کر تا ہے گو یا انفرادی مفا دات کے چکر میں قوم بکھر جا تی ہے

ملک لٹ جا تا ہے حکومت کی عملداری نا بود ہو جا تی ہے ہر شخص اپنا اُلّو سیدھا کر کے اپنے آپ کو مطمئن کر تا ہے جس طرح چیونٹی دانہ لیکر اپنے بل میں گھس جا تی ہے بجٹ کے مو سم میں ہم دیکھتے ہیں ہر شخص اپنا مفاد دیکھتا ہے کوئی ایسا شہری نہیں ملتا جو اجتما عی مفاد کے لئے آواز اٹھا تا ہو جو ن ایلیا نے گذشتہ صدی میں ایک شہرہ آفاق نظم لکھی تھی نظم کا عنوان ہے ”ولا یت خا ئبان“ دو مسافر بریر ابن سلا مہ اور یاسر ابن جُندُب ایک نئے ملک میں دا خل ہو کر سرائے سین میں ٹھہر تے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اس ملک کے سارے لو گ گہری نیند کی کیفیت سے دو چار ہیں خرا ٹے ہی خراٹے سنا ئی دیتے ہیں

ایک تیسرا مسا فر ملتا ہے وہ ان کو بتا تا ہے کہ اس ملک کی ہوا میں بھی نیند لا نے والی تا ثیر ہے پا نی بھی خواب آورہے اس ملک کے باد شاہ نے ایسا پختہ انتظام کیا ہے کہ کوئی شہری خواب سے بیدار نہ ہو کوئی شہری نیند سے نہ جا گے اگر لو گ جا گ گئے اور شہر ی حقوق ما نگنے لگے تو پھر باد شاہ کی باد شاہ ہت کا کوئی مزہ نہیں رہے گا اس گفتگو کے دوران دونوں مسافر وں پر نیند کا غلبہ ہوا تیسرا مسا فر بھی خرا ٹے لینے لگا ہم بھی ولایت خا ئبان کے با سی ہیں ہماری آواز کوئی نہیں صر ف خرا ٹے ہیں یہ خواب غفلت کا شکوہ ہے جو حکومت کے ایوا نوں سے ٹکرا کر پا ش پا ش ہو جا تا ہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
49447

داد بیداد……….آ فت، کشمیراور چترال …….. ڈا کٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

آزاد کشمیر کا تا زہ ترین زلزلہ بہت بڑی قد رتی آفت ہے 38اموات، 400سے زیا دہ زخمی اور کھر بوں کی جا ئداد، سڑ کوں، نہروں اور دیگر سکیموں کا نقصان، پھر بحا لی کے کام میں نا کامی، اللہ جانے آگے کیا ہو گا؟ چترال میں 8جو لائی کو سیلاب آیا آب پا شی کی 4سکیموں کو بہا لے گیا آب نو شی کی ایک سکیم اس کی زد میں آگئی ڈھا ئی مہینے گذر کئے بحا لی کا کام شروع نہیں ہوا 80ہزار کی آبا دی کے لئے پینے کا پا نی نہیں ہے ڈیڑ ھ لا کھ کی آ بادی آب پا شی کی سکیموں سے محروم ہے کھڑی فصلیں بر باد ہو گئیں۔ سیب، انگور، انا راور آخروٹ کے بڑے بڑے با غا ت کھنڈ رات میں تبدیل ہوئے لو گوں نے با ربار روڈ بلا ک کرکے احتجا ج کیا مقا می انتظا میہ بے بس ہے صو بائی حکومت کے اختیارات ختم کر دیئے گئے ہیں دکھ کی بات صرف یہ نہیں کہ آزاد کشمیر کے ضلع میر پور اور دوسری جگہوں میں زلزلے نے تبا ہی پھیلا ئی دکھ اور افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ اختیارات کی مر کزیت نے آفت زدہ لو گوں کی بحا لی اور امداد کا راستہ بند کیا ہے آزاد کشمیر کی مقا می انتظا میہ اسلا م اباد کی منظوری کے بغیر ہسپتال میں زخمیوں کے لئے ”کینو لا“ بھی نہیں دے سکتی یہ اُس کے دائر ہ اختیار میں نہیں ہے چترال میں 47کروڑ روپے کی لا گت سے 6سال پہلے مکمل ہونے وا لی گو لین گول واٹر سپلائی سکیم 8جو لا ئی کو متاثر ہو ئی یہ پبلک ہیلتھ انجینئر نگ کے محکمے کی سکیم تھی صو بائی حکومت نے سکیم کی دوبارہ بحا لی کے لئے 329ملین روپے کا فنڈ ریلیز کیا لیکن سکیم کا ٹینڈر اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اسلام اباد سے منظور ی نہ ملے یا اسلام اباد کا دفتر خود ٹینڈر طلب نہ کرے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ قدرتی آفت کو انگریزی میں ڈیزاسٹر کہا جا ئے گا ڈیزاسٹر کی صورت میں اسلام اباد کا ایک دفتر ذمہ دار ہو گا اس کا نام نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (NDMA) ہے ڈپٹی کمشنر، ایگزیکٹیو انجینئر، چیف انجینئر اور چیف سکرٹری کا کوئی اختیار نہیں یہ کام اُن کے دائرہ کار سے با ہر ہے اگر NDMAکے بجائے مقا می محکمے، مقا می دفتر یا مقا می افیسر کے ذریعے ایک پا ئی خر چ کی گئی تو وہ کر پشن میں شمار ہو گی ”نا زی پا کستان“ کا گسٹا پو یعنی نیب (NAB) حر کت میں آئے گا پھر چر ا غوں میں روشنی نہیں رہے گی 2005سے پہلے ایسا نہیں تھا 2005کے زلزلے کے بعد قدرتی آفت کی صورت میں مصیبت زدہ، غم زدہ اور آفت زدہ لو گوں کی امداد کا کام مقا می حکام اور متعلقہ اداروں سے لیکر اسلام اباد میں ایک دفتر کو دیدیا گیا بالا کوٹ کی نئی سٹی کا منصو بہ اس وجہ سے نا کام ہوا جب بھی قدرتی آفت آتی ہے لو گ بے یارو مد د گا ہو کر دہا ئی دیتے ہیں 2005سے پہلے ضلعی سطح پر ایمر جنسی رسپانس سسٹم(ERS) ہوتا تھا کنٹن جنسی پلان ہوتا تھا اس پلا ن کے تحت ضلع کے اندر مقامی حکام فوراً آفت زدہ عوام کی امداد کے لئے پہنچ جا تے تھے وسائل کو استعمال کر کے بنیا دی ضروریات فراہم کرتے تھے انگریزوں کے دور سے یہ طریقہ رائج تھا اور بہت کامیاب تھا سٹینڈرڈ اوپر ٹینگ پرو سیجر (SOP) یہ تھا کہ ڈپٹی کمشنر ریلیف کے کام کا ذمہ دار ہوتا تھا تما م محکمے ان کے ما تحت ہو تے تھے وہ صو بائی حکومت سے وسائل حا صل کرکے ان محکموں کے ذریعے بحا لی کا کام کرواتا تھا یہ طریقہ آسان تھا کیونکہ لو گ ڈپٹی کمشنر سے رجوع کرتے ہیں اُس کے پاس وسائل اور اختیارات نہ ہوں تو وہ کس طرح لو گو ں کی مدد کرے گا NDMAکا طریقہ کار اتنا پیچیدہ اور طویل ہے کہ ایک تباہ شدہ پائپ لائن کی بحالی کے لئے ٹینڈر طلب کرنے میں دو سال لگتے ہیں جبکہ لو گ بوند بوند پا نی کو ترس رہے ہو تے ہیں اس وجہ سے مقا می پریس کلب میں جب گفتگو ہوتی ہے تو NDMAکو محتصر کر کے ”نیشنل ڈیزاسٹر“کا نام دیا جا تا ہے تو می اخبار کے ایک نا مہ نگا ر نے منیجمنٹ اتھارٹی کی جگہ ”مس منیجمنٹ اتھار ٹی“ لکھ کر دل کی بھڑا س نکا لی تھی جیو فزیکل سروے کی رو سے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بعض اضلا ع خصو صا ً چترال، مانسہرہ، دیر،سوات، بٹگرام وغیرہ قدرتی آفتوں کی سرخ لکیر کے اوپر واقع ہیں کسی بھی وقت کوئی بھی آفت آسکتی ہے بعض ایسی آفتیں ہیں جنکی پیش گوئی سے بھی جدید آلا ت اور ٹیکنا لو جی والے ادارے عا جز آگئے ہیں اس لئے قدرتی آفتوں سے نمٹنے کا سا بقہ طریقہ بحا ل کرنے کی اشد ضرورت ہے قدرتی آفتوں سے نمٹنے کا کام مر کزیت کا تقا ضا نہیں کر تا اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا تقا ضا کر تا ہے اس وقت جو اختیارات اسلام اباد میں قا ئم بڑے دفتر کے گریڈ 22کے افیسر کے پاس ہیں وہ اختیارات مقا می نا ئب تحصیلدار کو دیدے جائیں تو مسا ئل فو راً حل ہو سکتے ہیں کیونکہ گریڈ 22کا افیسر مو قع پر مو جو د نہیں نا ئب تحصیلدار مو قع پر مو جو د ہے 2005سے اب تک 14سا لوں میں جتنے زلزلے اور سیلاب آئے ہر مو قع پر اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے چاہئیں مو جو دہ حکومت اگر NDMAکو تحلیل کر کے وسائل اور اختیارات مقا می انتظا میہ کو دیدے تو یہ قوم پر حکومت کا احسان ہو گا قدرتی آفات سے متا ثرہ لو گ حکومت کو دعائیں دینگے .

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , ,
26558

دادبیداد ……….. برن اینڈ ٹرا ما یو نٹ ………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

وزیر اعلیٰ محمود خان نے مرا کز صحت کو آ لات کی فرا ہمی کا حکم دیا ہے اس خبر کے ساتھ دوسری خبر چھپی ہے جو بیحد اہم ہے شافیہ بی بی بنت حسن خان نویں جما عت میں پڑھتی تھی آتشز دگی میں بری طرح جھلس گئی اس کو چترال سے پشاور لے جا یا گیا مگر جا نبر نہ ہو سکی ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر قریبی ہسپتال میں برن سنٹر ہو تا اور 6گھنٹے کے اندر علا ج ہو تا تو اس کی جا ن بچائی جا سکتی تھی مگر 15سالہ بیما ر کو 10گھنٹے کا سفر کر کے صو بائی دار لحکومت پہنچا یا گیا تھا حقیقت یہ ہے کہ پشاور میں بھی سپیشلائز ڈ علا ج کی سہو لت آگ میں جھلسنے وا لی بیمار کے لئے مو جو د نہیں ہے ایسے بیما روں کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کھا ریاں ریفر کیا جا تا ہے تا ہم شافیہ بی بی نے پشاور کے ہسپتال میں جان دیدی برینس چترال سے تعلق رکھنے والی شافیہ بی بی کی کہا نی دلچسپ مر حلے میں اُس وقت دا خل ہوئی جب اخبار نو یسوں کے ایک وفد کو بتا یا گیا کہ چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں امیر حیدر خان ہو تی نے انٹر نیشنل این جی او WISHکے ما لی اور تکنیکی تعاون سے ملک کا جدید ترین برن اینڈ ٹرا ما یو نٹ (Burn and Trauma Unit)تعمیر کرا یا تھا مشینری بھی منگوا ئی تھی تمام سہو لتیں دی ہو ئی تھی یہاں تک کہ بجلی کی کمی سے بچنے کے لئے سو لر سسٹم بھی لگوا لیاتھا 2013ء میں نئی حکومت آگئی 2015ء میں یو نٹ کی تعمیر اور مشنری کی تنصیب کا کام مکمل ہوا لیکن نئی حکومت نے برن اینڈ ٹرا ما یو نٹ کا چارج لینے، ڈاکٹر مہیا کرنے اور اس شعبے کو چلا نے سے انکار کیا انگریزی محا ورے کی رو سے ”سٹیٹ آف دی آرٹ“ عمارت 4سا لوں سے خا لی پڑی ہے اسی طرح 2014ء میں تعمیر ہو نے وا لی دو عمارتیں خا لی پڑی ہیں ایک عمارت دل کے مریضوں کے یونٹ کے لئے تعمیر ہوئی تھی دوسری عما رت میں یو را لوجی یونٹ قائم ہونے وا لا تھا 2003ء میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتال کو کٹیگری ”بی“ کا درجہ دینے کے بعد ہسپتال کو 4نئے یو نٹ دیئے گئے تھے کارڈ یک کیر یونٹ، یورا لو جی اینڈ کڈنی یونٹ، آرتھو پیڈ ک یو نٹ اور برن اینڈ ٹرا ما یو نٹ ان نئی سہو لیات میں شامل تھے 2014ء میں امراض چشم کا پرانا یونٹ بھی بند کر دیا گیا 2013ء میں ہسپتال کے فضلے کو ٹھکا نے لگانے کے لئے آغا خان ہیلتھ سروس نے 3کروڑ روپے کی جدید مشینری یعنی انسے نی ریٹر (Incenirater)کا تحفہ دیاتھا اس کی تنصیب کر کے فضلے کو ٹھکانے لگانے پر دو لاکھ روپے کے معمو لی اخرا جا ت کا تخمینہ تھا گذشتہ 6سالوں میں ہسپتال کے لئے تخفے میں دی گئی مشنیری کی تنصیب نہیں ہوئی یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے اس کے لئے 2013سے پہلے دو اہم کمیٹیا ں کام کر تی تھی ایک کمیٹی ڈیڈک کے نا م سے پہچانی جا تی ہے اس کمیٹی میں بجٹ کے لئے تجا ویز اور بجٹ کو خرچ کرنے کے اصول و ضوابط پر عملدر آمد نیز تر قیاتی تر جیحا ت طے کی جا تی ہیں یہ کمیٹی گذشتہ 6سا لوں سے غیر فعال ہے برائے نا م میٹنگوں میں نئی ضروریات، عوا می مسائل اور انتظا می محکموں (Line departments) کے مسا ئل پر بات کرنے اور صو بائی حکومت کو تجا ویز دینے کا سسٹم بند کر دیا گیا ہے صوبائی حکومت کا خیال ہے کہ نئی تجا ویز آنے سے نئے و سائل کی ضرورت پڑتی ہے اس لئے کوئی تجویز اوپر نہ بھیجی جائے وزیر اعلیٰ محمود خان کے علم میں سوات کے عوامی مسا ئل باربار لائے جاتے ہیں دوسرے اضلاع کے سلگتے مسا ئل نہیں لائے جا تے گزشتہ 6سالوں سے جو تر قیاتی کام بند پڑے ہیں یا ادھورے چھوڑدیے گئے ہیں، ان کا تذکرہ نہیں ہو تا ضلع کے اندر صحت کے مسا ئل پر نظر رکھنے کے لئے ڈپٹی کمشنر چترال، ڈسٹرک ہیلتھ افیسر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پر مشتمل خصو صی کمیٹی امیر حیدر خان ہو تی کے دور میں قائم ہوئی تھی اُس کمیٹی کو بھی غیر فعال کردیا گیا ہے کیونکہ کمیٹی میں صحت کی سہو لیات کا ذکر ہوتا تھا نئی تجا ویز آتی تھیں صو بائی حکومت کو تعا ون، گرانٹ، نئی آسا میوں کی منظوری وغیرہ کے لئے سفا رشات بھیجی جا تی تھیں چھوٹے مو ٹے مسائل انتظا می اقدا م ات کے ذریعے حل کئے جا تے تھے اگر یہ کمیٹی فعال ہو تی تو برن اینڈ ٹرا ما سنٹر کی رپورٹ صوبائی حکومت کو بھیجی جا تی نئی آسامیوں کی منظوری لی جا تی یا پہلے سے دستیاب آسا میوں پر سپیشلائز ڈ سٹاف کا تقرر کیا جا تا 15سالہ شافیہ بی بی دختر حسن خان کی طرح سینکڑوں مریضوں کا علا ج ہو چکا ہووتا DHQہسپتال چترال کے برن اینڈٹرا مایونٹ کے تا لے اگر کھول دیئے جا ئیں تو یہ ایسا یونٹ ہے جو ملا کنڈ ڈویژن کے 9اضلاع کو جھلسے ہوئے مریضوں کے علا ج کی سہو لت فرا ہم کر سکتا ہے لیکن،لیکن کے بعد بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کیا وزیر اعلیٰ کے حکم سے DHQہسپتا لوں میں صحت کی بنیا دی سہو لیات فرا ہم کی جائینگی؟ مو جو دہ حا لا ت میں جواب مشکل ہے اگر کور کمانڈر پشاور، جی او سی ملا کنڈ اور کمانڈر ٹا سک فورس چترال نے جرمن امداداورWISH انٹر نیشنل کے تعا ون سے DHQہسپتال چترال میں 4سال پہلے مکمل ہونے والے برن اینڈ ٹرا ما یو نٹ کو کھلوا نے اور اس میں علا ج کی سہو لیات مہیا کرنے میں دلچسپی نہیں لی تو اگلے 4سالوں تک یہ یونٹ بند رہے گا ؎
میں نے چاند اورستاروں کی تمنا کی تھی
مجھے رات کی سیا ہی کے سوا کچھ نہ ملا

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
24471