Chitral Times

داد بیداد ۔ اُمید اور آس ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ اُمید اور آس ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

وہ لو گ خو ش نصیب تھے جن کے دور میں ذرائع ابلا غ نہیں تھے اس طرح گاوں اور محلے سے با ہر کی کوئی خبر ان کے کا نوں تک نہیں پہنچتی تھی ان کو خواہ مخواہ کا دکھ اور غم نہیں ہوتا تھا ان کو کبھی یہ غم نہیں ہوا کہ امریکہ کی ایک بڑی ریا ست میں سفید فام دہشت گرد نے 3شہریوں کو قتل کر کے خود کو بھی گو لی مار دی ان لو گوں نے کبھی یہ خبر نہیں سنی کہ ایک ہزار کلو میٹر دور کسی شہر میں شو ہر نے بیوی اور بچوں کو مو ت کے گھا ٹ اتار نے کے بعد خو د کشی کی ایسی خبریں دن رات سن کر خواہ مخواہ اور بلا وجہ آدمی رنجیدہ ہوتا ہے بقول امیر مینا ئی بر چھی چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے آج سے 200سال پہلے دنیا کے کسی بھی حصے میں ذرائع ابلا غ کی مو جودہ سہو لیات نہیں تھیں، آج سے 100سال پہلے بر صغیر پا ک و ہند میں ایسی کوئی سہو لت نہیں تھی آج سے 50سال پہلے پا کستان میں ذرائع ابلا غ بہت محدود تھے

 

اس لئے لو گ خو ش حال تھے بلڈ پریشر، سردرد اور فالج کی بیماریاں نہیں تھیں آج بھی ایسے لو گ مو جو د ہیں جو سکون اور راحت کی تلا ش میں چند دنوں کے لئے گر مائی چراگاہوں پر جا تے ہیں جہاں 14000فٹ کی بلندی پر کوئی سگنل نہیں ہو تا باہر کی کوئی آواز نہیں آتی چنا نچہ سکون کے چند دن گذار کر خو شی اور مسرت حا صل ہو تی ہے، ذرائع ابلا غ کو پوری دنیا میں نعمت کا در جہ دیا جا تا ہے ہم ذرائع ابلا غ سے بیزار کیوں ہیں؟ اس سوال کے 101جوا ب ہو سکتے ہیں پشتو محا ورہ ”سل خبری سر یو“ کے مصداق مختصر اور جا مع جواب یہ ہے کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلا غ نا امیدی اور خوف پھیلا نے کا دھندہ نہیں کر تے دنیا میں ذرائع ابلاغ کو اچھی خبروں کی تلا ش ہو تی ہے ہمارے ذرائع ابلا غ کو بری خبروں کی جستجورہتی ہے دنیا کے ذرائع ابلا غ اور ہمارے ذرائع ابلا غ میں یہ بنیا دی فرق ہے جو ہمیں خبروں سے بیزار کر تا ہے آپ سنگا پور اور جا پا ن کے ذرائع ابلا غ کو دو ہفتوں کے لئے دیکھتے اور سنتے رہیں دو ہفتوں میں ایک بار بھی باد شاہ، وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کی تقریر یا خبر نہیں آئیگی کسی سیا سی پارٹی کے جلسے کی خبر یا سیاسی لیڈر کی پریس کا نفرنس کی فو ٹیچ نہیں آئیگی،ہمارے ذرائع ابلا غ میں ان کے سوا کوئی دوسری خبر ہوتی ہی نہیں سو شل میڈیا بھی ان خبروں کو آگے پھیلا تا ہے

 

اس لئے نا امیدی اور ما یو سی پھیلتی ہے، حا لا نکہ ملک کے اندر اُمید اور آس کی بے شمار خبریں مو جو د ہو تی ہے تعلیمی اداروں کی اچھی خبریں، صحت عامہ کے شعبے میں نئے تجربات، صنعت و حر فت کے شعبے میں نئی کا میا بیاں، کھیلوں کے شعبے میں نئی پیش رفت سے متعلق خبروں کی کوئی کمی نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ذرائع ابلا غ نے آپس میں بُری خبروں کا مقا بلہ رکھا ہوا ہے ایک معصوم بچی کے قتل کا واقعہ دس دنوں تک تسلسل کے ساتھ دکھائی جا تی ہے کسی قابل اور لائق بچی کی کوئی بری کا میا بی کبھی نہیں دکھائی جا تی ہم کوئی اچھی خبر کبھی نہیں دیکھی ایسی کوئی خبر ہم نے مثبت سر گر میوں کی کوئی خبر ہم نے نہیں پڑھی پا کستان ملٹری اکیڈ یمی کا کول ہے، پی اے ایف اکیڈیمی رسالپور ہے پا کستان نیول اکیڈیمی ہے ان کی قابل فخر سر گر میوں کو خبر کا در جہ نہیں دیا جا تا، سیا لکوٹ میں کھیلوں کا بہترین سامان بنتا ہے سر جیکل آلا ت بنتے ہیں سیالکوٹ کے تا جروں نے نجی شعبے میں اپنا ائیر پورٹ تعمیر کیا ہے

 

ایسی مثبت سر گر می وں کی کوئی خبر نہیں بنتی، حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ہری پور، گدون انڈسٹریل اسٹیٹ صوابی سے لیکر نوری اباد کراچی تک ہزاروں کا ر خا نوں میں بہترین مال تیار ہوتا ہے فیصل اباد اور گوجرانوالہ کو دنیا میں مانچسٹر سے تشبیہہ دی جا تی ہے مگر ہم ان کا میاب مثا لوں سے بے خبر ہیں تقریر کرنے والوں نے قوم کو 23مذہبی گروہوں اور 18قومیتوں میں تقسیم کر دیا ہے اس کے باوجود پا ک فو ج اور افسر شاہی کی انتظا می صلا حیتوں نے ملک کو مضبوط اور متحد رکھا ہے یہ اُمید اور آس کی بڑی وجہ ہے مگر ہم 200سال پہلے گزرے ہوئے لو گوں کی طرح خو ش نصیب نہیں ہمیں روزانہ نا امیدی کی طرف دھکیلا جا تا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
78500

داد بیداد ۔ پائیدار ترقی کی تلا ش ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ پائیدار ترقی کی تلا ش ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پائیدار ترقی مو جود دور کا اہم مسئلہ ہے ترقی یا فتہ قو موں نے ہزار سال پہلے پائیدار ترقی کے لئے منصو بہ بندی کی تھی، ترقی پذیر مما لک اس وقت منصوبہ بندی میں لگے ہوئے ہیں وطن عزیز پا کستان دونوں گروپوں سے باہر ہے ہم اُس گروپ میں شا مل ہیں جو اب تک پائیدار ترقی کی منصو بہ بندی بھی نہیں کر پائے بر طا نیہ، امریکہ، جر منی، سوئٹزر لینڈ، جا پا ن اور چین میں جنگلات، با غات اور انا ج اگا نے والی زمینات کو پائیدار ترقی کا ایک ستون قراردیا گیا ہے اس کا دوسرا ستون تاریخی عما رات، ثقا فتی ورثہ اور ما حولیاتی تحفظ ہے، تیسرا ستون افرادی قوت کی ترقی مر دوں اور عوتوں کے مسا وی حقوق کو قرار دیا جا تا ہے اس کا چو تھا ستون سما جی تحفظ اور بنیا دی ڈھا نچہ کی فراہمی ہے ان تما م کا موں میں منا سب توازن اور اعتدال کو پائیدار ترقی کہا جا تا ہے اگر کسی جگہ تاریخی قلعہ، یا مزار یا عبادت گاہ کو منہدم کر کے سکول بنا یا گیاتو اس کو پائیدار ترقی کا نا م نہیں دیا جا ئے گا،

اگر کسی جگہ جنگل کو کا ٹ کر سڑک بنا ئی گئی تو اس کو پائیدار ترقی نہیں سمجھا جا ئے گا، اگر کسی مقام پر معدنی وسائل کو ضا ئع کر کے ہسپتال یا کا لج بنا یا گیا تو اس کو پائیدار تر قی نہیں کہا جائیگا اگر کسی جگہ بہت بڑا ہو ٹل یا پلا زہ بن گیا اور اس کا نکا سی پا نی دریا میں ڈالا گیا تو اس کا شمار پائیدار ترقی میں نہیں ہو گا اگر کسی مقا م پر بڑا ہسپتال بن گیا اور اس کی ساری غلا ظتیں قریبی آبادی کو جا نے والے راستے پر ڈال دی گئیں تو یہ پائیدار ترقی کے بر عکس کا م ہو گا یہ ایک نا زک اور لطیف مو ضوع ہے اس کو پہلی بار 1971ء میں برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو (Rio De Genero) میں منعقد ہ ما حو لیا تی کا نفرنس میں زیر غور لا یا گیا گذشتہ نصف صدی کے اندر اس پر بہت زیا دہ کا م ہوا ہے ما حو لیا تی تحفظ کے ما ہرین کہتے ہیں کہ جس طرح سڑ ک، سکول، پل اور ہسپتال انسا نی آبا دی کی ضروریات ہیں اس طرح مٹی، پا نی اور ہوا کو آلو دگی سے بچا نا دوسری مخلو قات کی ضروریات کا در جہ رکھتی ہیں دنیا کے حسن کو بر قرار رکھنے کے لئے پو دوں اور جڑی بو ٹیوں کا تحفظ بھی لا زم ہے پر ندوں اور کیڑے مکوڑوں کا تحفظ بھی ضروری ہے،

جنگلی حیات، شیر، چیتے، بندر، لنگور، بھیڑیے اور ریچھ کا تحفظ اور ان کی افزائش نسل کا ساما ن بھی لازم ہے یہ سب مل کر ہمارا ماحو لیاتی نظام تشکیل دیتے ہیں یہ سب ہمارے ایکو سسٹم (Eco system) کے اجزار ہیں 1982میں ایک بار پھر ریوڈی جنریرو میں ما حو لیاتی کا نفرنس ہوئی 1992میں بیجنگ میں ریو پلس کے نا م سے ما حو لیاتی کا نفر نس ہوئی 2000ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اگلے 15سالوں کے لئے پائیدار ترقی کے اہداف مقرر کر کے ممبر ملکوں کو ان اہداف کے حصول کا پابند بنایا ان کا نا م میلینم ڈیو لپمنٹ گو لز (MDGs) رکھا گیا 2016ء میں جا ئزہ رپورٹ آنے کے بعد اگلے 15سالوں کے لئے نئے اہداف رکھے گئے ان کو پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کا نا م دیا گیا انگریزی میں پائیدار ترقی کو سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ (Sustainable development) کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی قوم اپنے قدرتی ماحول، اپنے تاریخی ورثے اور اپنے قدرتی وسائل کو بر باد کر کے کا رخا نے پلا زے اور عما رتیں کھڑی کرنے کو ترقی کا نا م نہ دے سڑک، ہسپتال، کا لج اور سکول بے شک بنا ئے مگر قدرتی ما حول کو سب سے پہلے تحفظ دے، سر ی لنکا، بنگلہ دیش، تا جکستا ن اور نیپال جیسے مما لک نے پائیدار ترقی کے اہداف کو حا صل کر لیا ہے پا کستان اور افغا نستا ن اب تک اس معا ملے میں سب سے پیچھے ہیں 2030 کے لئے جو اہدف رکھے گئے ہیں ان کو حا صل کرنے کے لئے ہمیں سرکا ری اور عوامی سطح پر آگا ہی پھیلا نے کی ضرورت ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
61960

داد بیداد ۔ علم و دانش کی تلا ش ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ علم و دانش کی تلا ش ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلا عات بیرسٹر محمد علی سیف نے پشاور یو نیورسٹی کے شعبہ ابلا غیات کے دورے میں اہم بات کہی ہے انہوں نے صو با ئی حکو مت کی اس خواہش کا اظہار کیاکہ سر کا ری پا لیسی اور عملی اقدامات میں توازن پیدا کرنے کے لئے علم و دانش کی تلا ش کر کے علم و فضل والے لو گوں کو حکومت کی پا لیسیوں سے آگاہ کیا جا ئے اور جا معات میں زیر تعلیم طلبا ء اور طا لبات کو مختلف سر گر میوں میں تر بیت کے موا قع فراہم کر کے افرادی قوت سے بہتر انداز میں کا م لیا جا ئے .

حکومت کی یہ خواہش جا معات کے اندر تدریس اور تحقیق سے وابستہ اعلیٰ تعلیم یا فتہ شہریوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کے اعلیٰ عہدے پر فائز شخصیت نے اکیڈ یمیا یعنی علم و فضل اور دانش رکھنے والے شہریوں کو توجہ کے لا ئق گردا نا اور ان کی رائے لینے پر تو جہ دی شعبہ ابلا غیات یعنی جنرنلز م ڈیپارٹمنٹ کے چیر مین پرو فیسر ڈاکٹر فیض اللہ جا ن نے شعبے کی سر گرمیوں میں تحقیق و تدریس کے معیار سے معاون خصوصی کو آگاہ کیا بیرسٹر محمد علی سیف نے حکومت کی طرف سے یو نیورسٹی کے طلبہ کے لئے کاروبار کے مواقع اور سر کاری، نیم سرکاری اداروں میں تجربے کے مواقع دینے کی پا لیسی پر روشنی ڈالی اور طلبہ کو اس پا لیسی سے فائدہ اٹھا کر انٹر پرینیورشپ اور انٹرن شپ میں حصہ لینے کی دعوت دی .

پشاور یو نیورسٹی کے شعبہ ابلا غیات کے ساتھ ہمارا تعلق چار دہا ئیوں پر محیط ہے یا دش بخیر ڈاکٹرشاہ جہان سید جن دنوں چیئر مین تھے اس دور سے ہمارا رابطہ رہا ہے شعبہ ابلا غیات نے کمیو نیٹی ریڈیو کے ذریعے بڑی خد مت انجا م دی ہے مختلف اداروں کے تعاون سے شعبہ ابلا غیات میں ضلعی نا مہ نگاروں کے لئے ورکشاپ، سمینار اور آگا ہی و تر بیت کے دیگر پرو گرام بھی منعقد ہوتے آرہے ہیں وزیر اعلیٰ کے معا ون خصو صی نے یو نیورسٹی کے ایک اہم شعبے کا دورہ کر کے روایت سے ہٹ کر خیر سگا لی دکھا ئی ہے اس پر مو صوف کو بھر پور داد ملنی چا ہئیے ورنہ ہمارے ہاں وزراروایت سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کرتے.

ایک زما نے میں مو لا نا کوثر نیا زی وفاق میں وزیر اطلا عات تھے اپنے ذا تی علم و فضل اورا پنی بے پنا ہ خطیبا نہ صلا حیتوں کے باوجود مو صوف نے حکومت اور حکمرا ن کی شان میں ایک تقریر تیار کی تھی جسے ہر شہر کی تقریب میں دہرا تے تھے ایک دن ایسا لطیفہ ہوا کہ مو لا نا نے صبح کے وقت راولپنڈی میں تقریر کی شام کو ایبٹ اباد میں تقریب سے خطاب کیا ایبٹ اباد کے نا مہ نگارنے جو خبر قو می اخبار کو بھیجی اس میں شہرکا نا م،تقریب، میز بان تنظیم کا نام لکھ کر خبر کا ابتدائیہ تحریر کیا اس کے بعد لکھا ”باقی وزیر صاحب کی پنڈی والی تقریر لگا دیجئیے“ اگلے روز اخبار میں خبر کا ابتدائیہ ہو بہو اسی طرح شائع ہوا ڈیسک انچارچ ”باقی وزیر صاحب“ والا جملہ حذف کرنا بھول گیا تھا صحا فت کو ریا ست کا چو تھا ستون کہا جا تا ہے اس لئے مقننہ، انتظا میہ اور عدلیہ کے برابر صحا فت کو اہمیت حا صل ہے معاون خصو صی برائے اطلا عات کی طرف سے جا معہ پشاور کے شعبہ ابلا غیا ت کا دورہ بارش کا پہلا قطرہ ہے خدا کرے باران رحمت کی طرح یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
57115

داد بیداد ۔ شہر گر دی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پشاور شہر کو ہر شخص اپنے زاویے سے دیکھتا ہے کسی کوپشاورکے پیشے نظر آتے ہیں کسی کو دریا ئے باڑو کے کنا رے صفائی والی کہا نیاں یا د آتی ہیں کسی کو شہر کے قدیم دروازے یا د آتے ہیں کسی کو آتہیں دال گراں بٹیر بازاں،نعل بندی وغیرہ نا موں سے مو سوم تاریخی محلے نظر آتے ہیں، کسی کو تالاب، نوشو با با اور طورہ قل بائے جیسے نا مو ں کی مساجد نظر آتی ہیں کوئی کہتا ہے پشاور قلعہ بالا حصار اور مسجد مہابت خان کا نا م ہے میں نے پشاور میں ایسی شخصیت کو دیکھا ہے جو پشاور کو بے نا م اور بے چہرہ لو گوں کے زاویے سے دیکھتا تھا خاجی معراج الدین سول سروس کے صو فی افیسر تھے اتورا کے دن فارغ ہو تے تو کہتے آؤ ”شہر گردی“ کریں انکی اپنی اصلا حات اور ترا کیب ہو تی تھیں اپنے دوستوں کے گروپ کو ”سلسلہ، خوراکیہ“ کہتے تھے، بے روز گار نو جوا نوں کو ”انا ج دشمن عنا صر“کا نا م دیتے تھے شہر گردی کے لئے ان کو ایک ہم خیال دوست کی ضرورت ہو تی تھی اور میری خو ش قسمتی یہ تھی کہ وہ مجھے شہر گردی میں ہمر کا بی کے قابل سمجھتے تھے .

ہمر کا بی کے اداب میں سے ایک ادب یہ تھا کہ ان سے کوئی بات پوچھی نہ جا ئے جو کچھ وہ بتا ئیں اس کو غور سے سن لیا جا ئے اور سرہلا نے کا فریضہ انجا م دیا جا ئے شہر گر دی میں موٹر کا استعمال منع تھا پیدل چلنے کو وہ گیارہ نمبر کی مو ٹر کار کہتے تھے ہم پیدل نکلتے تو کبھی ہشتنگری سے داخل ہو کر گنج در وازے پر پہنچ جا تے کبھی کا بلی سے داخل ہو کر نمک منڈی سے ہوتے ہوئے رام داس تک گلیوں کی خا ک چھا نتے کبھی پیپل منڈی سے داخل ہو کر ڈبگری تک تنگ گلیوں سے گزر نے کا لطف اٹھا تے ان میں ایک گلی چمڑے کے تا جروں کی تھی معراج صاحب کا گو ہر مقصود اس گلی میں بھی ملتا تھا ان گلیوں کی خا ک چھاننا بے مقصد نہیں تھا.

شہر میں چند بے نا م اور بے چہرہ لو گ تھے جن کے بارے میں اُن کا پختہ یقین تھا کہ شہر پر حکمرانی کسی سیا ستدان یا افیسر کی نہیں بلکہ ان بے نا م، بے چہرہ لو گوں کی حکمرانی ہے چلتے چلتے ایک مو چی کے پا س رک جا تے سلا م کر کے خیریت دریا فت کر تے تھوڑی دیر زمین پر ان کے پا س بیٹھتے مو سم پر گفتگو کر تے ایک لفا فہ ان کے ہاتھ میں تھما دیتے اور اجا زت لے لیتے تھوڑی دیر چلنے کے بعد رک جا تے اور کہتے یہ مو چی برگزیدہ ہستیوں میں سے ہے.

اس نے جو کہا کہ اچھا مو سم آنے والا ہے اس سے مراد عالم اسلا م کا غلبہ ہے آگے کسی تنگ گلی میں ایک ٹھیلے والے کے پا س رک جاتے کوئی پھل خرید لیتے بڑا نوٹ دیکر ریز گاری واپس نہ لیتے پھل بھی گلی میں کھیلنے والے بچوں میں بانٹ دیتے تھوڑی دور جا کر ٹھیلے والے کے بارے میں خبر دیتے کہ ان کا در جہ متصرف اور ولی کے درمیان ہے شب جمعہ کو پیران پیر کی زیا رت ہوتی ہے اگلے ہفتے کے لئے احکا مات ملتے ہیں، چلتے چلتے ایک دھو بی کی دکا ن پر سستا نے کے لئے ٹھہر جا تے ٹو ٹے بنچ پر بھیٹتے دھو بی کے شاگرد کو پیسے دیکر مٹھا ئی لا نے کے لئے بھیجدیتے اور دھو بی سے حا لات حا ضرہ پر گفتگو کر تے مٹھا ئی لا نے والے سے ریز گاری واپس نہ لیتے مٹھا ئی دھو بی کو دیدیتے اور با ہر نکل کر مجھے بتا تے کہ اس کے ذمے شہریوں کی حفاظت ہے.

یہ روحا نی سلسلے کا کوتوال ہے اس نے جن خبروں کا حوالہ دیا ان سے مراد عالم بالا کی خبریں تھیں اس طرح شہر بھر میں دس بارہ بے چہرہ، بے نا م لو گ تھے جن کو وہ خد ارسیدہ ولی مانتے تھے شہر گردی میں ایسے ایسے واقعات کے اشارے ملتے تھے جن کو سال دو سال بعد ہم نے میڈیا پردیکھنا اور سننا تھا یہ لو گ آج بھی شہر میں مو جود ہیں ان کو پہچا ننے والے آج بھی پہچانتے ہیں مگر ہم نے شہر گردی کرانے والا رہبر کھو دیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
56279

داد بیداد ۔ پشاور کا گھنٹہ گھر۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

پشاور اور فیصل اباد کے گھنٹہ گھروں کو ملکی سیا ست، صحا فت اور ادب میں خا ص مقا م حا صل ہے 1962ء میں ایک لطیفہ مشہور ہوا تھا لطیفہ یہ تھا کہ آئین میں صدر کی ذات گرامی کو گھنٹہ گھر کا در جہ دیا گیا ہے جو چاروں طرف نظر آتا ہے پشاور کا گھنٹہ گھر ایسی جگہ پر ایستادہ ہے جو شہر کا دل کہلا تا ہے اس کے ایک طرف تحصیل گورکٹھڑی ہے دوسری طرف محلہ سیٹھیاں کا تاریخی مقا م ہے تیسری طرف چوک یا د گار اور مسجد مہا بت خا ن واقع ہے چوتھے سمت پر قصہ خوانی کا مشہور بازار ہے .

گھنٹہ گھر سے کریم پورہ کا مشہور بازار شروع ہوتا ہے جو ہشت نگری تک جا تا ہے گھنٹہ گھر آج سے 600سال پہلے وقت دیکھنے اور وقت معلوم کرنے کا واحد ذریعہ تھا پھر گھڑ یوں کا زما نہ آیا گھروں، دکا نوں اور مسجدوں میں گھڑیاں نصب کی گئیں، لو گوں نے جیبی گھڑیوں سے اپنی جیبوں کو سجا یا، کلا ئیوں پر ہاتھوں کی گھڑیاں آگئیں پھر زما نہ بدل گیا، مو با ئل فون آگئے تو جیبوں اور ہاتھوں کی گھڑیاں بھی فراموش کر دی گئیں پشاور کا گھنٹہ گھر اب ریفرنس اور حوالے کے طور پر زبان پر آتا ہے لو گ کہتے ہیں مینا بازار کو گھنٹہ گھر سے راستہ جا تا ہے لو گ بتاتے ہیں کہ ریتی بازار گھنٹہ گھر کے قریب واقع ہے،

لوگ کہتے ہیں تازہ مچھلی گھنٹہ گھر میں دستیاب ہے مجھے گھنٹہ گھر کی جو روایت پسند ہے وہ خدا ترسی،فیا ضی،مہمان نوازی اور سخا وت کی روایت ہے گھنٹہ گھر کے تندوروں پر غریبوں، نا داروں، مسافروں، معذوروں، یتیموں اور بیواووں کی قطاریں نظر آتی ہیں ان کو ہر شام گھنٹہ گھر، محلہ سیٹھیاں کریم پورہ ریتی بازار اور موچی لڑہ کے مخیر سوداگر اللہ کے نا م پر روٹیاں تقسیم کرتے ہیں گھنٹہ گھر کا یہ منظر دیکھنے والا ہوتا ہے اور دیکھنے والوں کو مدینہ منورہ کے شہریوں کی فیا ضی یا د آجا تی ہے مجھے پشاور کا گھنٹہ گھر کئی حوالوں سے یا د آتا ہے میرے دوست منورشاہ یہاں رہتے ہیں،

میں سات سال چوک یاد گار کی عظمت بلڈنگ میں رہا اور گھنٹہ گھر سے دودھ لے جا کر چائے بنا تا رہا گھنٹہ گھر کا دودھ مجھے رہ رہ کر یا د آتا ہے گو کہ گھنٹہ گھر نزدیک نہیں تھا پھر بھی میں دودھ کے لئے گھنٹہ گھر آجا تا تھا میرے دوست امان اللہ ریتی بازار میں رہتے تھے انہوں نے پہلے دن مجھے گھنٹہ گھر کا راستہ دکھا یا پھر یہ راستہ مجھ سے کبھی نہیں بھولا مجھے مو چی لڑہ کا بازار بھی گھنٹہ گھر کے حوالے سے یا دہے موچی لڑہ کی مسجد میں ہم جمعہ پڑھنے آتے تھے مولا نا پیر محمد چشتی یہاں اوقاف کی مسجد میں جمعہ پڑھا تے تھے نما ز اور دعا کے بعد ہمیں قھوہ پلا تے تھے .

مولا نا محمد افضل یہاں پنج وقتہ نما زوں کی اما مت کراتے تھے مر نج مرنجاں شخصیت کے ما لک تھے مو چی لڑہ کے اندر جو توں کی دکا نیں تھیں بازار کی پُشت پر قصائیوں کے تھڑوں پر چھوٹے سری پا یے خوب صورت ترتیب سے سجا ئے جا تے تھے شہرکے مشہور وکلا ء ڈاکٹر ز اور پرو فیسر اتوار کے روز بیگمات کے ساتھ اس بازار میں آکر من پسند خریداریوں کا لطف اٹھا تے تھے یہ گلی گھنٹہ گھر کی طرف نکلتی ہے چوک یاد گار اور پیپل منڈی کی طرف سے آنے کا راستہ تنگ ہے پارکنگ کی جگہ نہیں اس لئے لو گ گھنٹہ گھر سے ہو کر آتے تھے اب بھی گھنٹہ گھر کا وہی ہے چلن ہے گھنٹہ رہی ہے ہم ویسے نہیں رہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
56085

داد بیداد ۔ قاری شبیراحمد نقشبندی۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

قاری شبیراحمد نقشبندی کا شما ر خیبر پختونخوا کے نا مور علما ء و مشائخ میں ہوتا ہے آپ پیر ذولفقار احمد نقشبندی کے خلیفہ مجا ز اور قاسم بنو ی نقشبندی کے پیر بھا ئی تھے ان کا تعلق چترال میں اخونزاد گان کے خا ندان سے تھا اس خاندان میں ما ضی قریب کے علماء میں مو لا نا محمد یو سف فاضل دیو بند اور مو لا نا محمد علی نما یاں بز ر گوں میں شا مل رہے ہیں آپ کے والد گرا می حا فظ علیم احمد عرف عام میں اخو ند کہلا تے تھے، شا ہی قلعہ کی اندرونی مسجد کے اما م تھے بعد میں آپ کو قلعہ سے متصل شا ہی مسجد کی اما مت پر فائز کیا گیا، والد گرا می کی زند گی میں ہی قا ری شبیر احمد نقشبندی اس منصب پر فائز ہوئے ساتھ ساتھ شا ہی جا مع مسجد کے ساتھ ملحق دار لعلوم اسلا میہ میں قرات اور حفظ پڑھا تے تھے اور مجلس ذکر بھی منعقد کر تے تھے جس میں دور دور سے آپ کے مرید شریک ہوا کر تے تھے۔

انتقال


قاری شبیر احمد نقشبندی نے ابتدائی تعلیم گھر پر حا صل کی سٹیٹ ہا ئی سکول چترال میں آٹھ سال زیر تعلیم رہے اس کے بعد لا ہور چھا ونی کے مدرسہ تجویدالقرآن میں استاذ القراء قاری احمد الدین کے سامنے زانو ئے تلمذ تہہ کیا حفظ و قراء ت کی تکمیل کی اور روحا نی فیوض و بر کات کے لئے مو لا نا فضل علی نقشبندی ؒکے خلیفہ مجا ز حضرت مو لا نا محمد مستجا ب نقشبندی ؒکے دست حق پر ست پر بیعت کی آپ مو لا نا عبد الغفور مدنی ؒ کے پیر بھا ئی تھے اور بلا د اسلا میہ میں شہر ت رکھتے تھے مولا نا محمد مستجا ب ؒ کی وفات کے بعد پیر ذولفقار احمد نقشبندی کے سلسلہ ارادت میں منسلک ہوئے اور خر قہ خلا فت سے نواز ے گئے قاری شبیر صاحب کو ان کی مخصوص عادات کی وجہ سے ہر طبقہ خیال میں مقبو لیت حا صل تھی آپ ہنس مکھ اور ہشاش بشاش مزاج رکھتے تھے لو گوں کے غم میں شریک ہوتے تھے خو شی میں سب کو دعا دیتے تھے.

ادیبوں، شاعروں اور صحا فیوں سے ملتے تو ہلکی پھلکی گفتگو میں ادبی چٹکلے اور لطیفے بھی سنا تے آپ کے معمو لا ت میں صوم داودی اہم معمول تھا رمضا ن المبارک میں اکثر اعتکاف کے لئے بیت اللہ شریف کا انتخا ب کر تے پچھلے دو سالوں میں کورونا کی وجہ سے عمرہ کی سعادت حا صل نہ ہوئی تو شاہی جا مع مسجد میں مہینہ بھر کا اعتکا ف کیا آپ کم گو تھے مگر پُر گو تھے مجلس ذکر کے آغاز پر مختصر خطاب میں دنیا کی بے ثبا تی کا ذکر کر کے فکر آخرت کی دعوت دیتے، اخلا ص اور عمل دونوں کو لا زم و ملزوم گردانتے اور معمو لات کی پا بندی پر زور دیتے تھے آپ کی وفات سے زُہد، تقویٰ، ذکر و اذکار، تزکیہ قلب اور روحا نی علوم و فیوضات کا ایک بات بند ہوا اس طرح جو خلا پیدا ہوا وہ دیر تک پُر نہیں ہو سکے گا.

آپ کی وفات کی جا نکا ہ خبر سن کر دور دور سے آپ کے مرید اور متوسلین نے چترال کا رخ کیا پو لو گراونڈ کا وسیع و عریض احا طہ شرکا ء سے بھر گیا اس میدان میں 30ہزار کا مجمع سما سکتا ہے اور چھوٹے سے قصبے میں یہ بہت بڑا مجمع ہوا کر تا ہے آپ کی وصیت کے مطا بق آپ کے بھتیجے مولا نا حا فظ اشرف علی نے نما ز جنا زہ پڑھا ئی دوسرے بھتیجے حا فظ قاری احمد علی کو شا ہی مسجد کی اما مت تفویض کی گئی پسماندگان میں دو بھائی سراج احمد،فرید احمد۔ ایک بیوہ اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑ گئے۔ ہر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است جریدہ عالم دوامِ ما

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
55987

داد بیداد ۔ پرانی سیا ست گری خوار ہے۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

علا مہ اقبا ل کے کلا م میں ہر مکتب فکر کو اس کے ذوق کا مواد مل جا تا ہے جس طرح ترقی پسند کلا م اقبال سے حوالے دے دے کر اپنی بات منوا نا چاہتے ہیں اس طرح رجعت پسندوں کو بھی کلا م اقبال سے ان کے مطلب کا مواد ہاتھ آجا تا ہے جمہوریت پسند بھی کلا م اقبال کا سہا را لیتے ہیں آمریت پر عقیدہ رکھنے والے بھی کلا م اقبال سے استفادہ کر تے ہیں پا کستان کی مو جو دہ سیا سی صورت حال پر علا مہ اقبال نے کم و بیش 90سال پہلے جو تبصرہ کیا وہ آج کا تجزیہ نگا ر بھی نہیں کر سکتا اور خو بی یہ ہے کہ صرف دو مصرعوں میں معا نی کا سمندر نظر آتا ہے علا مہ اقبال نے کہا تھا ؎


پرانی سیا ست گری خوار ہے
زمین میر وسلطان سے بیزار ہے


2021ء میں پا کستان کے عوام و خواص سیا سی جما عتوں، سیا سی لیڈروں، سیا سی سر گر میوں جلسوں، جلو سوں، ریلیوں اور ہنگا موں سے اکتا ہٹ کا شکار ہو چکے ہیں اس اکتا ہٹ اور بیزا ری کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاعر مشرق کا شعر ہمارے زما نے کے لئے ہے اور کلا سیکی ادب پارہ ایسا ہی ہو تا ہے علا مہ اقبا ل نے قدیم باد شا ہوں کی تاریخ کا گہرا مطا لعہ کیا تھا اقبال کا تصور تاریخ ڈاکٹر راشد حمید کی تحقیق کا مو ضوع رہا ہے اور اس مو ضوع پر ان کی کتا ب حوالے کی کتاب بن چکی ہے باد شاہ کا دربار مخصوص اطوار واداب کے لئے شہرت رکھتا تھا مثلاً باد شاہ کے دربار میں ملک اور قوم کا ذکر نہیں ہوتا تھا باد شاہ، ملکہ معظمہ، ان کے ولی عہد سمیت دیگر شہزادوں کا ذکر ہو تا تھا .

دربار میں حا ضری دینے والوں میں سے جو درباری باد شاہ کی زیا دہ تعریف کرتا اس کو بڑا عہدہ ملتا تھا اور بڑے عہدے کے لا لچ میں چا لاک درباری باد شاہ کوعقل کل ثا بت کرنے پر زور خطا بت صرف کرتے تھے باد شاہ کو دن رات یہ باور کرایا جا تا تھا کہ اس دنیا میں آپ جیسی شخصیت کوئی نہیں تما م خو بیاں آپ کی ذات میں ہیں شاہی دربار کی دوسری خصو صیت یہ تھی کہ دربار یوں کا ایک اہم کا م تاج و تخت کے دعویداروں کا قلع قمع کرنا تھا، درباری باد شاہ کے کا ن بھر نے کے لئے تاج و تخت کے دعویداروں کے خلا ف قصے کہا نیاں تراش کر لا تے تھے بعض دعویدار وں کو عمر بھر کے لئے زندان میں ڈالتے تھے.

بعض کو جلا وطن کر تے تھے اور بعض کو قتل کر وادیتے تھے تا کہ باد شا ہ سلا مت کے تاج و تخت پر کوئی دعویٰ داری نہ کر سکے یہ پرا نی سیا ست گری تھی باد شاہ ہوں کے درباروں میں یہی سیا ست چلتی تھی علا مہ اقبال نے اس طرز سیا ست کو ”خوار“ کا نا م دیا میرو سلطان باد شاہ ہت کے دو استعارے ہیں مو جودہ دور کو جمہوری دور کہا جا تا ہے شا ید ہو گا، امریکہ، بر طا نیہ، فرانس، جر منی وغیرہ میں جمہوری دور ہو گا تیسری دنیا کے مما لک میں جمہوری دور ہم نے بہت کم دیکھا ہے بلکہ جمہوری لباس میں باد شا ہت دیکھی ہے ہر سیا سی جما عت کا سر براہ باد شاہ ہو تا ہے وہ اپنا دربار لگا تا ہے.

اُس کے دربار میں مکھن پا لش کا دور چلتا ہے مکھن پا لش میں جو بازی لے جا ئے وہ مقرب ہوتا ہے ہر جما عت کا لیڈر تاج و تخت کے دعویداروں کی سر کو بی کر تا ہے اور درباری اس غم میں غلطاں ہو تے ہیں کہ لیڈر کے بد خوا ہوں اور دشمنوں سے کب اور کہاں دو دو ہاتھ کریں یہاں بھی باد شاہ کے دربار کی طرح ملک اور قوم کا ذکر نہیں ہو تا اس لئے 1956ء میں باد شاہ اور دربار یوں کے جو بیا نات تھے وہ 2021میں بھی نہیں بدلے اس لئے عوام اور خواص بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں گویا ”پرانی سیا ست گری خوار ہے“

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
55880

داد بیداد ۔ عینک کی چوری ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

خبر آئی ہے کہ پنجا ب کے ضلع وہا ڑی میں ڈپٹی کمشنر کے دفترکا احا طہ قائد اعظم کے مجسمے کی وجہ سے مشہور ہے گزشتہ روز ایک ستم ظریف چور نے سیڑھی لگا کر قائد اعظم کے مجسمے پر بنی ہوئی عینک کو اتارا اور چرا کر لے گیا پو لیس چور کی گرفتاری کے لئے جگہ جگہ چھا پے مار رہی ہے اس اثنا میں ڈپٹی کمشنر نے کما ل پھر تی دکھا تے ہوئے مجسمہ ساز کو بلا یا اور نئی عینک بنوا کر مجسمے کو لگوائی تا کہ مجسمہ اپنی اصلی صورت میں جلوہ گر ہو خبر نگار نے خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا نہ ہی خبر سے متعلق کوئی اضا فی یا ضمنی معلو مات دی، خبر نہا یت افسوسنا ک ہے.

اس کے بعض پہلو اتنے افسوسنا ک ہیں کہ ملزم کے لئے سزائے مو ت کا مطا لبہ کرنا پڑے گا تاہم خبر میں تفنن طبع کا ایک پہلو بھی پو شیدہ ہے چور نے چوری کے لئے ڈپٹی کمشنر کے دفتری احا طے کا انتخا ب کیو ں کیا اور اس احا طے میں قائد اعظم کے مجسمے کو کس بنیا د پر چُن لیا پھر مجسمے کی عینک چور کی نظر میں قا بل تو جہ اور لا ئق سرقہ کس لئے ٹھہری؟ ایسے بے شمار سوالات ہیں بادی النظر میں عینک کا چور گلی محلے کا اوباش یا معمو لی اچکا، چور نہیں لگتا بلکہ وہ ایک طبقہ خیال کا نما ئندہ اور ایک گہرے فلسفے کا پر چارک لگتا ہے اُس نے عینک نہیں چرائی پا کستانی قوم کوا یک اہم پیغام دیا ہے.

نا معلوم چور نے سو چا ہو گا کہ قائد اعظم کی تصویر والے نوٹ ہر روز دفتروں میں رشوت اور کمیشن کے لئے ادھر سے اُدھر کئے جا تے ہیں اپنی تصویر کی بے حر متی دیکھ کر قائد اعظم کی روح ہر روز ”تڑپ“رہی ہو گی چور نے سوچا ہو گا کہ کم از کم وہاڑی کے ڈی سی آفس میں بابائے قوم کو روزانہ کی اس اذیت سے نجا ت دلا نے کا آسا ن اور تیز بہدف نسخہ یہ ہے کہ اس کی عینک چرائی جا ئے عینک نہ ہو گی تو اپنی تصویر کی بے حر متی کو نہیں دیکھ پائے گا اور با بائے قوم کی روح اذیت کی اس ناروا کیفیت سے بچ جائیگی عینک کی چوری کا فلسفیا نہ پہلو بھی ہے اس کا تعلق دو قو می نظریے سے ہے نا معلوم چور کسی ایسے طبقے کا نما ئندہ ہو گا جو دو قومی نظریے کی مو جودہ تشریح اور تو ضیح سے خو ش نہیں یہ طبقہ قائد اعظم کو با با ئے قوم نہیں مانتا اس لئے چور نے سوچا ہو گا کہ دو قو می نظریہ اس کی عینک کا کما ل ہے جو ایک آنکھ کی عینک تھی اور مجسمے میں بھی وہی عینک لگا ئی گئی تھی.

نا معلو م چور کا خیال ہو گا کہ اس عینک کو مجسمے سے الگ کرنے کی صورت میں دو قو می نظریہ بھی دُھند لا جا ئے گا مگر یہ چور کا خیال خا م ہے اگر وہ پورا مجسمہ چرا لے جا تا تب بھی دو قو می نظریے پر اس چوری کا کوئی اثر نہ پڑ تا متحدہ ہندوستا ن میں دو قو می نظریہ ایک حقیقت کا اظہار تھا مو جو دہ دور کا بھارت اس حقیقت کی گوا ہی دے رہا ہے جہاں ہندو اکثریت نے مسلما ن اقلیت کا جینا دو بھر کر دیا ہے اور ہر روز اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ مسلمان اور ہندو ملکر ایک ملک میں نہیں رہ سکتے وہا ڑی کی خبر میں جس نا معلو م چور کا ذکر ہے وہ ما ہر قا نو ن اور فن مقدمہ با زی میں طا ق نظر آتا ہے نا معلو م چور کو معل.

وم ہے کہ ہما رے قانون کے اندر ضا بطہ فو جداری میں چور کی جو سزا لکھی ہے اس میں مجسمے کی عینک چرانے کا کوئی ذکر نہیں ملزم کو اگر پکڑ کر عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تو وکیل صفا ئی کہے گا کہ یہ قا بل دست اندا زی پو لیس نہیں قانون میں مجسمے کا کوئی ذکر نہیں، مجسمے کی عینک کا کوئی حوا لہ نہیں قا نون کی نظر میں مجسمے پر سیڑھی لگا نا اور عینک چرا نا جر م نہیں وکیل صفا ئی کے دلا ئل کے بعد عدالت ملزم کو ”با عزت بری کریگی“

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
55813

داد بیداد ۔ فیصلہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

نور مقدم قتل کا مقدمہ عدالت میں لا یا گیا ہے فیصلہ مشکل ہے کیونکہ مقدمے کا ایک فریق امریکی شہری ہے اس کو سزا دینے کا اختیار کسی کو حا صل نہیں مو صوف کو پا گل ثا بت کر نے پر زور دیا جا رہا ہے پر یا نتھا کمار قتل کا مقدمہ ابھی تک عدالت میں نہیں آیا اگر عدالت میں آگیا تو فیصلہ کرنا مشکل ہو گا 5دنوں کے اندر مقدمے کو اتنا الجھا یا گیا ہے کہ سر پیر کا پتہ نہیں چلتا پو لیس نے آنسو گیس استعمال نہیں کی، ہوائی فائر نگ نہیں کی، ہجوم کی مزا خمت میں کوئی پو لیس والا زخمی یا فو ت نہیں ہوا فیصلہ سے پہلے فیصلے کی راہ میں رکا وٹ ڈالنے کے لئے تین کہا نیاں لا ئی گئی ہیں پہلی کہا نی یہ ہے کہ پو لیس نے فیکٹری کو آگ لگانے نہیں دیا، دوسری کہا نی یہ ہے کہ مشتعل ہجوم کے ہا تھوں میں پیٹرول کی بو تلیں تھیں، تیسری کہا نی یہ ہے کہ ملک عدنان کو ہیرو بنا یا گیا اس نے اپنی جا ن پر کھیل کر انسا نیت کی مثال قائم کی کیا اُس نے سر ی لنکا کے شہری کی جا ن بچائی؟نہیں یار یہ ممکن نہیں تھا کیا اُس نے لا ش کو جلا نے سے بچا یا؟

نہیں یار یہ بھی ممکن نہیں تھا پھر بہادر، دلیر اور تمغہ شجا عت کے حقدار شہری نے اپنی جا ن پر کھیل کر کیا کار نا مہ انجا م دیا؟ اس کا جواب کسی کے پا س نہیں کہا نی کو الجھا نے اور فیصلہ کی راہ میں روڑے اٹکا نے کے لئے ایسی بے سروپا کہا نیاں تراشی جا رہی ہیں 5دنوں میں کسی نے یہ مطا لبہ نہیں کیا کہ سری لنکن شہری کے قتل کا مقدمہ فو جی عدالت میں چلا یا جائے مقدمے کا فیصلہ فو جی عدالت کے بغیر نہیں ہو سکتا کسی نے یہ مطا لبہ نہیں کیا کہ واقعے کے پیچھے پڑوسی ملک کے خفیہ کر دار کو تلا ش کر کے غیر ملکی ایجنٹوں کو بے نقاب کیا جا ئے دراصل ایسا ہونا چاہئیے اور بڑا مطا لبہ یہ بھی ہے کہ ہجوم میں سے پکڑے گئے 131ملزموں کے ساتھ موقع پر مو جود پو لیس کو بھی شامل تفتیش کیا جا ئے .

فیکٹری کے ما لک کو بھی گرفتار کیا جا ئے لیکن اب تک ایسے مطا لبات سامنے نہیں آئے جو فیصلہ کرنے میں مدد گار ثا بت ہو سکتے ہوں ہجوم کے ہاتھوں سری لنکا کے شہری کا قتل کسی بھی بڑے سانحے کے برابر سانحہ تھا اس کو سنجیدہ لینا چاہئیے تھا اب بھی اس کو سنجیدہ لینے کا وقت ہے اگر یہ مقدمہ عدالتوں میں 45سالوں تک چلتا رہا تو نہ صرف سری لنکا کی حکومت اور سارک مما لک کے سامنے ہماری ساکھ خراب ہو گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہم کسی کو منہ دکھا نے کے قابل نہیں رہینگے مجھے وہ دن نہیں بھولتا جب ایران کے ایک شہر میں خود کش دھما کہ ہوا چند شہری مارے گئے،

اگلے روز تین مجرموں کو عین دھما کے کی جگہ پر لا کر پھا نسی دی گئی ان کی لا شیں 7دنوں تک لٹکتی رہیں پھر ایران میں ایسا واقعہ نہیں ہوا ریا ست اگرا نصاف کرنا چا ہے، عدالتیں اگر مقدمے کا فیصلہ کرنا چا ہیں تو 24گھنٹے کی مہلت کا فی ہے 24گھنٹوں میں فیصلہ بھی ہو سکتا ہے انصاف بھی ہو سکتا ہے اور انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آسکتا ہے مو جو دہ حالات میں صرف فو جی عدالت ہی انصاف کے تقا ضوں کو پورا کر سکتی ہے مجھے عدالتوں میں زیر التوا ء 21لا کھ مقدمات میں سے ایک مقدمہ یاد آرہا ہے

جس کا فیصلہ 1976سے التوا ء کا شکار تھا خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ عالمی حدت، گلو بل وار منگ آگئی، پا نی کے بہت سارے چشمے خشک ہوئے جس چشمے کا مقدمہ 1976ء سے 2020تک زیر سما عت تھا وہ چشمہ بھی خشک ہوا مقدمہ خو د بخود ختم ہوا ”نہ رہے با نس نہ بجے بانسری“ تفصیل اس اجما ل کی یہ ہے کہ چشمے کے پا نی پر جھگڑا ہوا مقدمہ نائب تحصیلدار کی عدالت میں آیا چلتے چلتے سپریم کورٹ تک گیا تین بار ریمانڈ ہوکر واپس نا ئب تحصیلدار کے پاس آیا چوتھی بار سپریم کورٹ سے ریمانڈ ہو کر پھر آنے والا تھا کہ چشمہ خُشک ہو گیا 44سال لگے تھے.

فریقین نے اس مقدمے پر ایک کروڑ 10لا کھ روپیہ لگا یا تھا عدالت سے فیصلہ آنے کی تو قع نہیں تھی قدرت نے فیصلہ سنا دیا نو رمقدم اور پریا نتھا کمار قتل کے دونوں مقدمات ہماری ریا ست کے لئے ازما ئش کا در جہ رکھتے ہیں ایک مقدمے میں غیر ملکی شہری نے پا کستانی لڑ کی کو بیدر دی سے قتل کیا سفارت خا نہ قاتل کو چھڑا نا چا ہتا ہے دوسرے مقدمے میں پا کستانی ہجوم نے سری لنکا کے شہری کو قتل کیا ایک گھنٹہ بعد اُس کی لا ش کو آگ لگا دی سری لنکا کے سفارت کار قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں فیصلہ صرف فو جی عدالت میں ہو سکتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
55780

داد بیداد ۔ چہ دلا وراست ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ چہ دلا وراست ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

فارسی میں ایک مصر عہ ”چہ دلاوراست دزدے کہ بکف چراغ دارد“ کیسا بہادر چور ہے جو ہا تھ میں چراغ لیکے آیا ہے یہ مصر عہ امارت اسلا می افغا نستان کے وسائل پر ڈاکہ ما ر نے والے مما لک اور عا لمی اداروں پر صادق آتا ہے تازہ ترین خبروں کے مطا بق مغر بی مما لک اور ان کے زیر سایہ عالمی اداروں نے امارت اسلا می افغا نستان کے 7ارب ڈالر ادا کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ عالمی امداد کے ڈیڑھ ارب ڈالر میں سے صرف 50کروڑ ڈالر اس شرط پر ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے کہ یہ رقم امارت اسلا می کے حکام کو نہیں ملے گی غیر ملکی این جی اوز کو ملے گی اور اس کو افغا ن عوام کے ساتھ ہمدردی کا نا م دیا جا ئے گا افغا ن عوام کے نا م پر جو فنڈ آئے گا وہ افغا ن عوام کو نہیں ملے گا .

یا د رہے گزشتہ ما ہ اقوام متحدہ کے سکر ٹری جنرل اور عالمی ادارہ خوراک کے سر براہ نے خبر دار کیا تھا کہ افغا نستان میں انسا نی المیہ جنم لینے کا خطرہ ہے گویا عالمی سطح پر اس بات کا احساس کیا گیا ہے کہ افغا ن عوام ایک بڑے بحران سے گزر نے والے ہیں یہ ما لیات کا بحران بھی ہو گا غذائی قلت کا بحران بھی ہو سکتا ہے اس احساس کے باو جو د عا لمی اداروں کا رویہ دیکھئیے افغا نستا ن کا اپنا 7ارب ڈالر کا فنڈ منجمد کیا ہوا ہے اس کو ہا تھ لگا نا منع ہے امداد اور خیرات کے نا م پر حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر جو ڈیڑھ ارب ڈالر بر آمد کئے گئے ہیں وہ بھی نہیں دے رہے اس رقم کا ایک تہا ئی حصہ ملے گا مگر افغا ن حکومت کو نہیں ملے گا بلکہ یورپ اور امریکہ کے این جی اوز کو ملے گا جو افغا ن عوام کی مدد کرنے میں پُل کا کر دار ادا کرینگے.

ان اداروں اور تنظیموں کا جو طریقہ کار یا سچ پو چھیئے تو طریقہ واردات ہے وہ بیحد جا ذب نظر اور دلچسپ ہے عالمی ادارے اس بہا نے سے اپنی امداد ایک ہا تھ سے دیکر دوسرے ہاتھ سے واپس لینا چاہتے ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اس کا ایک آز مو دہ فارمو لہ ہے جس کے تحت یہ امداد واپس ان کی جیبوں میں جا تی ہے بڑے خوبصورت نعرے ایجا د کئے گئے ہیں خوب صورت فقرے تراشے گئے ہیں اور دلکش اصطلاحا ت کے ساتھ نت نئی تر کیبات وضع کی گئی ہیں سٹیک ہو لڈر، بیس لائن، نیڈ اسسمنٹ، انسیشن، ایم اینڈآر ٹولز وغیرہ پر زور دیا جا ئے گا، کنسلٹنٹ بھر تی کئے جا ئینگے جو یورپ اور امریکہ سے آئینگے، دفتری مشینری خرید ی جا ئیگی،

گاڑیاں منگو ا ئی جا ئینگی، بڑے ہوٹلوں کے ساتھ مختلف سر گر میوں کے لئے معا ہدے ہو نگے اس طرح امدادی فنڈ کا 50فیصد کا م شروع ہونے سے پہلے خر چ ہو جا ئے گا یعنی واپس انہی کی جیب میں جا ئے گا اس کے بعد کا م شروع ہو گیا تو امدادی فنڈ کا 35فیصد با ہر سے آنے والوں کی تنخوا ہوں کے ساتھ دفتری اخراجات پر صرف ہو گا 10فیصد مڈ ٹرم مشن اور آڈٹ پر لگا یا جا ئے گا جو بچے گا وہ 5فیصد کے برابر ہو گا اور یہ افغا ن عوام کو ملے گا .

اس کو ثا بت کر نے اور دکھا نے کے لئے بل بورڈ ز، سائن بورڈ اور اشتہا رات لگا ئے جائینگے یہ گونگے کا راشن فراڈیے کے ہاتھ میں دینے کے مترا دف ہے باد شاہ نے گونگے کا راشن مقرر کیا اور ایک مکار سپا ہی کے ذمے لگا یا کہ راشن وقت پر گونگے کو کھلا ؤ، سپا ہی سارا راشن خود کھا تا تھا گونگے کے ہونٹوں پر سا لن کا مصا لحہ لگا تا تھا لو گوں کو دکھا تا تھا گونگے نے راشن کھا یا ہے دیکھو ہونٹوں پر سا لن کا مصا لحہ لگا ہوا ہے چنا نچہ افغا نیوں کے ہاں پہلے سے فارسی کا مصرعہ مشہور ہے ”چہ دلا وراست دزدے کہ بکف چراغ دارد“

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
55642

داد بیداد ۔ آدھا گلا س مسئلہ ہے ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

استاد کی عمر 76بر س ہے شاگرد 32بر س کا ہے استاد نے کار ل مارکس کو 1968ء میں پڑھا تھا شاگرد نے 2010میں کار ل مارکس کو پڑھا، چی گویرا کو اپنا آئیڈیل بنا یا پھر لینن اور ما زو ے تنگ سے لیکر فیدل کا سترو تک ہر سامراج دشمن کو اپنا آئیڈیل قرار دیا ایک بڑے ادارے میں اہم عہدے پر فائز ہے استاد کے ساتھ اکثر بحث و تکر ار کی نوبت آتی ہے جب پا کستا نی سو سائٹی، ملکی سیا ست اور معیشت کا ذکر آتا ہے تو شاگرد کا پارہ چڑھ جا تا ہے استاد کہتا ہے زندگی اعتدال کا نا م ہے، اعتدال سے جو ہٹ گیا زندگی کی لذت سے محروم ہوا، شاگرد کہتا ہے یہ بھی کوئی زندگی ہے ایک شخص کار خا نے کا ما لک ہے.

دوسرا شخص اسی کار خا نے میں مزدوری کر تا ہے مہینے کے آخر میں ما لک 2ارب روپے کما تا ہے مزدور کو 20ہزار روپے ملتے ہیں یہ بھی کوئی زندگی ہے ایک شخص افسر ہے اُس کو گاڑی ملی ہے ڈرائیور ملا ہے، سجا سجا یا گھر ملا ہے دوسرا شخص دربان ہے وہ سائیکل پر دفتر آتا ہے یہ بھلا کونسی زندیگ ہے؟ استاد کہتا ہے کتا بی دنیا سے با ہر آجا وگے تو تمہا را واسطہ عملی دنیا سے پڑے گا عملی دنیا میں سر ما یہ دار اور افیسر کی بھی ضرورت ہے، جج اور جرنیل کی بھی ضرورت ہے، مزدور، ڈرائیور اور در بان کی بھی ضرورت ہے سب کو مزدور بنا و گے تو انتظام اور اہتما م کون کرے گا؟ سب کو سر ما یہ دار بنا و گے تو راج، مزدوراور مستری کہاں سے لاؤ گے؟ شاگرد نہیں مانتا وہ کہتا ہے شہر کی بڑی عما رتیں چند لو گوں کی ملکیت کیوں ہیں؟ ملک کی زمینوں پر چند خا ندانوں کا قبضہ کیوں ہے؟

استاد کہتا ہے یہ فطرت کا اصول ہے لینن اور سٹا لن نے اس اصول کی نفی کی تو لوگ قحط سے دوچار ہوئے گور با چوف کو 70سال بعد فطرت کے اصولوں کی طرف رجوع کر کے ملک کو بچا نا پڑا ماؤ اور فید ل کا سترو نے فطرت کے اصو لوں سے انحراف نہیں کیا ان کا نظام بدلتے حا لات کے ساتھ خود بخود بدلتا رہا یہ فطرت کا اصول ہے کہ اعتدال دیر پا ہو تا ہے افراط و تفریط کی عمر مختصر ہو تی ہے شاگرد نے عالمی ادب کا مطا لعہ ایک مخصوص عینک کے ساتھ کیا ہے اس لئے وہ ”ففتھ جنریشن وار“ جیسے جدید نظریات کا قائل نہیں وہ اس بات کا بھی قائل نہیں کہ دشمن نے ملک کو نقصان پہنچا نے اور قومی وحدت کو کمزور کرنے کے لئے مختلف گروہوں کے در میان نفرت کی دیوار یں حا ئل کر رکھی ہے شاگر د کی نظر میں آدھا گلا سی خا لی ہی ہو تا ہے.

وہ نہیں ما نتا کہ دشمن نے نفرت کی دیوار حا ئل کر کے کا لج اور یو نیور سٹی والوں کو مسجد اور مدرسہ والوں سے دور کر دیا، قانون دانوں اور ججوں میں نفرت کی دیوار حا ئل کر دی، سیا ست دانوں کو صحا فیوں سے بد ظن کر دیا مفتی والوں کو خا کی والوں سے دور کر دیا کوچہ وبازار میں ڈاکٹر وں، انجینروں، اعلیٰ انتظا می افیسروں، سرما یہ داروں اور جا گیر داروں کے خلا نفرت آمیز گفتگو کی داغ بیل ڈال دی ”مسٹر“ کو مو لا نا کے مقا بلے پر کمر بستہ کیا اور مولانا کو ”مسٹر“ کے خلاف صف اراء کر دیا استاد کو پس منظر کی یہ کاروائیاں نظر آتی ہیں مگر شاگرد کو نظر نہیں آتیں وہ آئیڈیل کی تلا ش میں سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیا ر ہے کیونکہ اُس نے انقلا بی لٹریچر پڑھا ہے مذاق تھوڑی ہے استاد اور شاگرد کے درمیاں خیالات کی یہ کشمکش آج کل گھر گھر کی کہا نی ہے لیڈروں کے بیا نات اور سیا سی افراتفری سے اس کشمکش میں روز بروز اضا فہ ہو رہا ہے اس کشمکش کا بنیا دی مسئلہ آدھا گلا س ہے آدھا گلا س خا لی کی جگہ پر نظر آئے تو کشمکش ختم ہو گی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
55307

داد بیداد ۔ تقریری مقا بلہ۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ملک کے نا مور اور مشہور تعلیمی اداروں میں مبا حثے اور تقریری مقا بلے کے لئے طلبااور طا لبات کو پر وگرام سے5منٹ پہلے مو ضوع دیا جا تا ہے 5منٹ کے اندر اپنا ذہن بنا کر نا م لکھوا نا پڑ تا ہے پھر روسٹرم سے نا م پکا ر نے پر ہر ایک کو فی البد یہہ اظہار خیال کر نا پڑتا ہے اس میں طا لب علم اور طا لبہ کی ذہنی استعداد، قابلیت اور بولنے کی صلا حیت سامنے آتی ہے لا ہور، مری، اسلا م اباد اور نو شہر ہ کے معیا ری پرائیویٹ سکولوں میں اس پر عمل ہوتا ہے اور یہ سب کے علم میں ہے لیکن سر کاری سکولوں اور کا لجوں میں اس پر عمل نہیں ہوتا سر کاری سکولوں اور کا لجوں میں مبا حثہ یا تقریر ی مقا بلہ ہو تو اساتذہ کی لکھی ہوئی تقریریں طلبہ کو رٹہ کے ذریعے یا د کروائی جا تی ہیں.

اصل مقا بلہ طلبہ کے درمیان نہیں ہو تا بلکہ اساتذہ کے درمیان ہو تا ہے بارہ ربیع الاول کو ایک بڑے نشر یاتی ادارے میں تقریری مقا بلہ کے منصف حضرات پر اُس وقت کڑی ازما ئش آئی جب ایک سکول سے ساتویں جما عت کی طا لبہ روسٹرم پر آئی اس کو جو تقریر لکھ کر دی گئی تھی وہ شستہ ادبی زبان میں تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس میں محفل میلا د کے ساتھ ساتھ 12ربیع الاول کی اہمیت کو بھی چیلنج کیا گیا تھا لکھنے والے نے تاریخ طبری، تاریخ مسعودی، تفسیر ابن کثیر اور صحیح بخا ری کے حوالے جا بجا لکھے ہوئے تھے یہ تقریر کسی بھی طرح ساتویں جما عت کے طا لبہ کی تقریر نہیں لگتی تھی تا ہم طا لبہ نے اس کو خوب یا د کیا تھا آ نکھوں اور ہاتھوں کے اشاروں سے بھی خوب کام لیتی تھی سامعین اور حا ضرین سے باربار داد وصول کر تی تھی.

کسی بھی منصف یا جج کے لئے اس کو نظر انداز کرنا مشکل تھا مو ضوع سے ہٹ کر بولنے پر اس کو نظر انداز کرنا پڑا ساتھ نوٹ بھی لکھنا پڑا کہ لکھنے والے نے مو ضوع کو نظر انداز کیا ا س لئے طا لبہ کے نمبر کم آئے ہمارے دوست پرو فیسر شمس النظر فاطمی نے ایک بار ارباب بست و کشاد کی مو جود گی میں تجویز دی کہ سر کاری سکولوں میں تقریری مقا بلے لا ہور اور مری کے تعلیمی اداروں کی طرح فی البدیہہ کر ائے جائیں اگر یہ ممکن نہ ہو تو اسا تذہ کی لکھی ہوئی تقریروں کا مقا بلہ بند کیا جائے اس کا کوئی فائدہ نہیں.

ایک بڑے پر و گرام کے مو قع پر ان کو بحیثیت منصف یا جج اظہار خیا ل کی دعوت دی گئی تو انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ اس مقا بلے کی 8تقریروں میں سے 4میر ی لکھی ہوئی تھیں اور 4عبید الرحمن کے قلم کے شہکار تھیں 3ججوں میں سے دو جج وہ لو گ تھے جن کی لکھی ہوئی تقریر وں کا مقا بلہ تھا حا ضرین سے داد سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے دو تقریر یں مو ضوع کے حق میں اور دو تقریریں ایوان کی رائے کے خلا ف لکھ کر دیئے تھے میرے دوست عبید الرحمن کا طریقہ واردات بھی اس سے مختلف نہ تھا اگر صو بائی اور ضلعی سطح کے حکام کسی جگہ مل بیٹھیں مشا ورت اور میٹنگ کریں پھر فیصلہ کریں کہ لا ہور اور مری کے مشہور تعلیمی اداروں کی طرح سرکاری سکولوں میں بھی تقریری مقا بلہ یا مبا حثہ کے لئے مو ضوع پرو گر ام سے 5منٹ پہلے دیا جا ئے گا طلبا اور طا لبات فی البدیہہ تقریروں کے ذریعے فن کا مظا ہر ہ کرینگی تو اس فیصلہ سے تعلیمی نظام میں ہم نصا بی سر گر میوں کو نئی زند گی اور نئی جہت ملے گی طلباء اور طا لبات کی صلا حیتیوں کو جا نچنے کا مو قع ملے گا تقریری مقا بلہ صحیح معنوں میں تقریری مقا بلہ ہو گا اس پر جھوٹ اور فریب کا ملمع نہیں ہو گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
54929

داد بیداد ۔ خوراک کی کمی کا خد شہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

دو خبریں ایک ساتھ آئی ہیں پہلی خبر یہ ہے کہ عالمی ادارہ خوراک (WFP)نے افغا نستا ن میں خوراک کی کمی سے پیدا ہو نے والے قحط کی پیشگوئی کی ہے دوسری خبر یہ ہے کہ ٹریڈنگ کار پوریشن آف پا کستان نے صو بہ خیبر پختونخوا کو گندم کی فرا ہمی سے معذرت کر تے ہوئے 11ارب 94کروڑ روپے کے سابقہ بقا یا جا ت کی فوری ادائیگی کا مطا لبہ کیا ہے گویا ڈیورنڈ لائن کے ”دونوں طرف آگ ہے برابر لگی ہوئی“ اور یہ کوئی دوسری آگ نہیں پیٹ کے جہنم کی آگ ہے اقوام متحدہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اس خد شے کا اظہار کیا ہے کہ اگلے سال کی دوسری ششما ہی تک افغا نستا ن کی 55فیصد آبادی یعنی 2کروڑ 30لا کھ افراد کو شدید قحط کی صورت حال کا سامنا ہو گا.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذائی اجنا س کی قلت کے ساتھ ساتھ غر بت اور بے روز گاری کی شرح میں بھی مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے گزشتہ ڈھا ئی مہینوں کی غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر افغا نستان میں 30لا کھ ہنر مند مزدور اور کاریگر بے روز گار ی سے دو چار ہوئے ہیں یہ آنے والے سال کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے عالمی نشر یا تی ادارہ بی بی سی نے اپنے حا لیہ پروگرام میں عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے (David Beasley) کا بیان نشر کیا ہے بیان میں عالمی ادارہ خوراک کے سر براہ نے امریکہ، یو رپ اور دیگر خوشحال یا متمول اقوام سے انسا نیت کے نا م پر درد مندانہ اپیل کی ہے کہ افغا نستان میں قحط کا شکار ہونے والے بچوں اور بچیوں کو اپنے بچوں اور بچیوں کی نظر سے دیکھو اور دل کھول کر اس مد میں امداد فراہم کرو تا کہ 60کروڑ 80لا کھ ڈالر کی مطلو بہ رقم مہیا ہو سکے.

نیوز ڈیسک کی رپورٹ یہ ہے کہ افغا نستا ن4کروڑ کی ابادی کا زرخیز ملک ہے اس ملک کی زمین 1978تک سونا اگلتی تھی گندم، جوار، چاول، جو اور دالوں کی زبردست فصلیں ہوتی تھیں یہ ملک انگور، انار، بادام، تر بوز، کشمش وغیرہ کے لئے مشہور تھا 43سالوں کی خا نہ جنگی اور 20سالوں کی براہ راست امریکی حکمرا نی کے بعد ملک کی 55فیصد آبادی قحط سے کیوں دو چار ہوئی؟ اس کے تین بڑے اسباب تھے پہلا سبب یہ تھا کہ افغا نستان کے دیہی اور شہری علا قوں سے ایک کروڑ کے لگ بھگ ابادی وطن چھوڑ کر نقل مکا نی پر مجبور ہوئی ان میں سے 50لا کھ افغا نی اب بھی وطن سے با ہر ہیں اس نقل مکا نی نے زراعت اور با غبا نی کو متا ثر کیا دوسرا سبب یہ تھا کہ 2001میں چار مہینوں تک بی-

52طیا روں کی کارپٹ بمباری میں ہر مو آب(Moab) اور ڈیزی کٹر (Dezycutter) بم نے 20فٹ کی گہرائی اور دوہزار مر بع فٹ کے احا طے تک زمین کو فصل اور سبزے کے لئے نا کا رہ بنا دیا رہی سہی کسر بارودی سرنگوں نے پوری کی تیسرا سبب یہ تھا کہ انا ج اور با غا ت کی جگہ پوست کی کا شت کو فروغ حا صل ہوا چنا نچہ افغا نستان اپنی خوراک کی ضروریات کے لئے بیرونی امداد کا محتاج ہوا دوخبروں کی روشنی میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف قحط کے شدید خدشات ہیں، اگر ہماری صو بائی حکومت نے اپنے ذمے کم و بیش 12ارب روپے کے واجبات ادا کئے تو ہم قحط سے بچ سکتے ہیں تا ہم افغانستان میں خوراک کی کمی کا خد شہ بر قرار رہے گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
54697

داد بیداد ۔ قصہ خوانی کا گوشہ ادب ۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ قصہ خوانی کا گوشہ ادب ۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

پرو فیسر صاحب اپنی الما ری سے جو کتاب نکا لتے ہیں اس پر گوشہ ادب کی مہر لگی ہوتی ہے ایک دن طا لب علموں نے پو چھا سر! قصہ خوانی میں اس نا م کا کوئی سائن بورڈ نہیں ملتا پرو فیسر نے کہا یہ سائن بورڈ نہیں صرف مہر ہے اور مہر لگانے والا ممتاز عسکر ی تھا اس کے نا م کا بھی کوئی سائن بورڈ نہیں ملے گا یہ ایسی کہا نی ہے جس کو سمیٹ لیجئے تو دو جملوں میں آتی ہے اور پھیلا ئیے تو ہزار داستان ہے شبقدر چارسدہ سے بختیار احمد مر حوم 1910ء میں پشاور آکر بس گئے کتا بوں کی دیدہ زیب جلد بندی سے کاروبار شروع کیا.

اس کے بعد کتا بوں کے تاجر بن گئے کتا بوں سے رشتہ جوڑ نے کے ساتھ ساتھ برصغیر کی خا کسار تحریک سے بھی رشتہ جوڑ لیا علا مہ عنا یت اللہ مشرقی کے مرید، مداح اور سپا ہی بن گئے خا کسار کی خا کی وردی اور خا کسار کا بیلچہ ان کے دو نشان بن گئے علا مہ مشرقی کی کتاب تذکرہ انہوں نے گویا گھول کر پی لیا صراط مستقیم کو زند گی بھر کے لئے اپنا یا خا کسار کا رسا لہ الا صلا ح لا ہور سے ان کے نا م آتا تھا صفدر سلیمی اس کے مدیر اعلیٰ تھے 1957ء میں اپنی وفات تک صفدر سلیمی سے بھی تعلق قائم رکھا ان کے تین بیٹے ہوئے نیاز احمد، اقبال احمد اور ممتاز احمد، نیاز صاحب سیرو سیا حت کے دلدادہ تھے پوری دنیا گھوم آئے اقبال احمد نے ”مصاحب شہ“ کا پیشہ اختیار کیا. سول سروس کے افیسر بنے جبکہ ممتاز احمد نے عسکری کا تخلص اپنا یا بختیار سنز کے نا م سے باپ کے کاروبار کو سنبھا لا مگر اس انداز اور اسلو ب سے کاروبارکیا کہ اس کو کاروبار سے زیا دہ شوق، ذوق، سلوک، محبت اور الفت و مو دت کا ذریعہ بنا یا .

گو شۂ ادب ان کی دکا ن کا وہ گو شہ تھا جہاں امیر خسرو اور میر انیس سے لیکر پر وین شا کر اور جون ایلیا تک بر صغیر کے نا مور ادیبوں اور شاعروں کی شہکار کتا بیں رکھی جا تی تھیں مجھے ڈاکٹر سید امجد حسین، ڈاکٹر ظہور احمد اعوان، پرو فیسر خا طر غز نوی، رضا ہمدانی اور فارغ بخا ری کی کتا بیں گو شۂ ادب ہی سے ہاتھ آگئیں استاد بشیر اور شعیب خا ن سے میری واقفیت کا ذریعہ بھی گوشہ ادب ہی تھا، شعیب خا ن نے میرے کا لموں کا مجمو عہ پرواز شائع کیا تو گوشہ ادب کی وسا طت سے مجھ تک پہنچا یا ممتاز عسکری اپنی ذات میں انجمن تھے آدھ گھنٹہ ان کے شوروم میں بیٹھنے والا شہر کے بیسیوں ادیبوں، شاعروں اور دا نشوروں سے ملا قات کا شرف حا صل کرتا تھا آپ خو د بھی بڑے پا یے کے مفکر اور دانشور تھے.

جب لکھتے تھے تو مختصر جملوں میں بڑی بڑی با تیں لکھ ڈالتے تھے زاہد حسین انجم کے نا م لکھے گئے خط میں کئی بڑی باتیں آسان اسلوب میں لکھی ہوئی ہیں مثلاً اپنے دیس میں غریب بھیک ما نگتا ہے، متوسط طبقہ قرض ما نگتا ہے اور امیر مزید مانگتا ہے اس کے بعد لکھتے ہیں اپنے دیس میں رہنے کے لئے امیر ہو نا اتنا ہی ضروری ہے جتنا پردیس میں رہنے کے لئے پا سپورٹ پر ویزہ لگنا لا زمی ہو تا ہے خط کا اخری جملہ دریا کو لا کر ایک کوزے میں ڈال دیتا ہے ”اب جدید طرز کی فر دوسی رہائشی بستیوں میں نما ئشی مکین اجتما عی طور پر انفرادی زندگی گذار تے ہیں“

ایک مختصر خط میں پا نچ بڑی حقیقتیں سما گئی ہیں خیبر پختونخوا کے جواں مر گ شاعر غلا م محمد قاصر کی وفات کے روز آپ نے ایک جملہ لکھ کر اپنی میز پر شیشے کے نیچے رکھ دیا جملہ یہ ہے ”خوشبو جب اپنے حسن کا اظہار نہیں کر پا تی تو بکھر جا تی ہے غلا م محمد قاصر بھی خو شبو سے کم نہ تھے جب اظہار ذات میں اطمینان نہ ملا تو خو شبو کی طرح حسین یا دیں چمن کو دے کر خود بکھر گئے جنگل کو چل دیے سارے سپیرے بین لئے، بستی میں رہنے والے سانپ بہت ہی زہریلے تھے (قاصر) قصہ خوا نی کا گو شہ ادب ممتاز عسکری مر حوم کا نادر و نا یا ب گو شہ تھا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
54660

داد بیداد ۔ معدوم ہونے والی زبان۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ معدوم ہونے والی زبان۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اخبارات میں سوات کی تحصیل بحرین کے تاریخی گاوں مغل مار سے ایک صحا فی کی تحقیقا تی رپورٹ آئی ہے رپورٹ میں ہند آر یا ئی زبان بدیشی کی معدومیت کا ذکر ہے تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ 2021ء میں بدیشی زبان کے بولنے والے تین افراد زندہ ہیں جنکی عمریں 20اور 60سال کے درمیاں بتائی جا تی ہیں اخبارات میں جو تصویر یں آئی ہیں ان میں محبت خا ن سفید ریش ہیں ایک بزرگ کی داڑھی سیا ہ ہے نو جوان کلین شیو نظر آ رہا ہے علا قے کی مغزز شخصیت مو لا نا شعیب نے صحا فی کو بتا یا کہ بدیشی ہزار ہا سا لوں سے یہاں بو لی جا تی تھی قرب جوار میں تور والی، گاوری اور پشتو زبا نیں بو لی جا تی ہیں .

اس وقت بدیشی بولنے والوں کی آبادی 4ہزار سے اوپر ہے مگر 40گھرانوں میں سے صرف تین گھرا نوں کے اندر تین افراد ایسے ہیں جو آپس میں بدیشی بولتے ہیں باتی کوئی بدیشی نہیں بولتا اگر کوئی آفت آگئی یا قدرتی موت سے یہ تین افراد دم توڑ گئے تو بدیشی زبان ختم ہو جائیگی علماء کہتے ہیں کہ جسطرح پرندوں، جا نوروں، پودوں اور درختوں کی انواع و اقسام اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کی نشا نیاں ہیں اسی طرح زبانوں کی انواع و اقسام میں بھی قدرت کی بڑی نشا نی ہے اور قرآن میں اس کا ذکر آیا ہے ایک زبان کا معدوم ہونا دنیا میں قدرت کی ایک بڑی نشا نی کی معدومیت ہو گی اخبار بین حلقوں کو یا د ہو گا 13سال پہلے 2008ء میں ایک رپورٹ آئی تھی کہ نیپال کی حکومت نے ایک معمر خاتون سومہ دیوی کی زبان کو محفوظ رکھنے کے لئے دنیا کے تحقیقی اداروں کے تعاون سے اس بڑھیا کے گاوں میں ریسرچ لیبارٹری، پریس اور مر کز تحقیق قائم کیا تھا 20عالمی اداروں کے 100سے زیا دہ ما ہرین اس گاوں میں 30سا لوں سے مقیم تھے

ان میں سے بعض اس بڑھیا کی صحت، ان کے خوراک، ان کی ورزش اور علا ج معا لجے پر ما مور تھے، بعض کے ذمے یہ کام لگا یا گیا تھا کہ خا تون کے پاس بیٹھ کر اس کی مادری زبان ڈیورا (Dura) کی کہانیاں ریکارڈ کریں، بعض کے ذمے گیتوں کی ریکارڈنگ تھی بعض کے ذمے خاتون کی زبان سے اس کی مادری زبان کے ذخیرہ الفاظ، اسماء، افعال، ضرب لامثال وغیرہ کی ریکارڈنگ کا کام تھا 2008ء میں سومہ دیوی کی عمر 82سال تھی ان کے انتقال کے بعد ڈیورا زبان کی بہت بڑی لائبریری وجو د میں آگئی جس میں معدوم ہونے والی زبا ن کی کہا نیاں بھی محفوظ ہیں گیت اور ذخیرہ الفاظ بھی محفوظ ہیں سومہ دیوی ایک مثال تھی اس مثال کو سامنے رکھ کر اگر حکومت پا کستان کا کوئی ادارہ کوشش کرے تو بدیشی زبان کے تین بولنے والوں کے لئے دنیا بھر سے کئی بڑی تنظیمیں سوات آسکتی ہیں ما نسہرہ کی ایک معدوم ہونے والی زبان کو محفوظ کرنے کے لئے نا رتھ ٹیکساس کی امریکی یو نیورسٹی نے ایک نو جوان کو سکا لر شپ دے کر امریکہ بلا یا ہے

نو جوان کو ڈگری دینے کے بعد ما نسہرہ کے پہا ڑی گاوں میں ریسرچ لیبارٹری قائم کی جا ئیگی یہ نو جوان با ہر سے آنے والے محققین کی مدد کرے گا اگر خیبر پختونخوا کی حکومت نے بدیشی زبان کے بچے کھچے الفاظ اور ادبی و لسا نی مواد کو محفوظ کرنے کے لئے محبت خان کی مدد سے سوات کی تحصیل بحرین کے گاوں مغل مار میں مر کز تحقیق قائم کیا تو سویڈن، ناروے، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، امریکہ، چین، روس اور جا پان سے بڑے بڑے ادارے سوات آئینگے جس طرح 1980ء کے عشرے میں ڈاکٹر جون بارٹ اور لیلی گرین کے آنے کے بعد گاوری اور تور والی زبانوں کو تحریر میں لا نے پر کام کا آغا ز ہو ا مقا می ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کی ٹو لیاں وجود میں آگئیں اسی طرح بدیشی زبان کو معدومیت سے بچا نے کے لئے سنجیدہ اور مر بوط کا م کا آغا ز ہو جا ئے گا اور قدرت کی ایک اہم نشا نی معدومیت کے خطرے سے بچ جا ئیگی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
54428

داد بیداد ۔ بد امنی کی نئی لہر۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

افریقی مما لک سوڈان اور ما لی سے بد امنی کی خبریں آرہی ہیں مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی ہے اسرائیل نے فلسطینی رفاہی تنظیموں اور امدادی اداروں کے اثا ثے منجمد کر دیئے ہیں سعودی عرب اور کویت سمیت عرب ریا ستوں نے لبنا ن کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیئے ہیں تر کی نے 10مما لک کے سفیروں کو ملک سے نکا ل دیا ہے ان ہنگا مہ خیز خبروں کے دوران امریکی حکمران ڈیمو کریٹک پارٹی کے سینیر لیڈر سابق وزیر خار جہ اور مو جودہ نما ئندہ خصو صی جا ن کیری نے سعودی عرب کا دورہ کر کے عرب ریا ستوں کے سر براہ اجلا س میں شر کت کی ہے سر براہ اجلا س میں یمن، شام، لبنا ن، ایران اور افغا نستان کے خلاف سخت مو قف اختیار کرنے کا عزم ظا ہر کیا گیا .

ان حا لا ت میں سینیر سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ افریقہ اور ایشیا کے جنگ زدہ مما لک کوا یک بار پھر نئی جنگ کی بھٹی میں جھو نک دینے کے لئے سٹیج تیار کیا جا رہا ہے آئیندہ برسوں میں امن کی اُمید نہیں بد امنی کے خد شات بہت زیا دہ ہیں یہ سفارت کا روں کی مایو سی نہیں بلکہ حا لات کا جبر ہے اور حا لات کو دیکھ کر آنے والی بد امنی کی لہر کا اندازہ لگا یا جا رہا ہے افسوس نا ک بات یہ ہے کہ مادی ترقی، سائنسی ایجا دات اور ٹیکنا لو جی پر دست رس کے باو جو د بیسویں صدی امن سے محروم رہی، اکیسویں صدی آئی تو عراق اور افغا نستان کے ساتھ ساتھ شام، یمن اور دیگر مما لک بھی جنگ کی لپیٹ میں آگئے ایک عالمی مفکر کا قول ہے انسان نے پرندے کی طرح ہوا وں میں اڑنا سیکھا مچھلیوں کی طرح سمندروں میں تیرنا سیکھا لیکن انسا نوں کی طرح زمین پر امن کیساتھ رہنا نہیں سیکھا .

ایک مشہور شخصیت کا قول ہے اگر تم نے تعلیم حا صل کر کے شہری آبا دیوں پر بمباری کرنے،سکولوں کو منہدم کرنے، ہسپتا لوں میں مریضوں کو بموں سے اڑا دینے کی مہا رت حا صل کی تو تمہاری تعلیم سے کسی جنگل میں بکر یاں چرانے والے چرواہے کا ان پڑھ ہونا لا کھ در جہ بہتر ہے ہمارے دوست پرو فیسر فاطمی کہتے ہیں کہ دنیا بارھویں صدی کی طرف واپس جارہی ہے اگر اس رفتار سے واپسی کا سفر جاری رہا تو بہت جلد ہم لو گ چنگیز خا ن کے دور میں داخل ہو جائینگے یہ بات صداقت سے خا لی نہیں تا ہم اس پر اضا فہ بھی کیا جا سکتا ہے اضا فہ یوں ہو گا کہ چنگیز خا ن کا دور مو جودہ زما نے سے افضل اور بہتر تھا اُس دور میں فوج کے مقا بلے پر آنے والا فو جی ما را جا تا تھا.

گھر میں بیٹھا ہوا بوڑھا، نا بینا یا بیمار قتل نہیں ہوتا تھا مو جو دہ تر قی یا فتہ زما نے میں سکول میں پڑھنے والے معصوم بچے، ہسپتال میں بستر پر پڑے ہوئے بے حال بیمار اور گھروں میں بے خبر بیٹھے ہوئے بزرگ اور خواتین قتل کر دی جا تی ہیں راکٹ، میزائیل اور بم آسمان کی بلندیوں سے گرتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ نشا نے پر کون ہے؟ چنگیز خا ن صرف دشمن کو مار تا تھا آج کا سائنسدان بے گنا ہ اور معصوم شہریوں کی جا ن لے لیتا ہے.

نیا عالمی منظر نا مہ اس بات کی شہا دت دیتا ہے کہ گزشتہ نصف صدی کی تباہ کن جنگوں کے بعد 2021ء میں بھی کسی عالمی رہنما کو امن کے قیا م کی فکر نہیں ہے عالمی رہنما وں کی ملا قات جہاں بھی ہو تی ہے جنگ کے لئے محا ذ کھو لنے پر غور ہوتا ہے اور ہر ملا قات کے بعد جنگ کا نیا محا ذ کھل جا تا ہے ایک شیطا نی چکر ہے جس میں اسلحہ بنا نے والی کمپنیوں کے ساتھ پرو پگینڈہ کرنے والی کمپنیاں آگے بڑھتی ہیں سیا ستدان میدان میں آکر دونوں کمپنیوں کے کارو بار کو ما ل و دولت فراہم کر تے ہیں چنا نچہ ایک محاذ پر جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوتے ہی دوسرے محا ذ پر جنگ کی نئی آگ بھڑکا ئی جا تی ہے آج کل ما لی، سوڈان، یمن اور شام کے بعد افغا نستان کو ایک بار پھر جنگ کی آگ میں جھونکنے کا انتظام ہو رہا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
54284

داد بیداد ۔ او دور کے مسافر! ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

جب کوئی قریبی دوست وفات پا تا ہے فلمی گیت کا مصر عہ یا دا آتا ہے ”او دور کے مسافر ہم کو بھی ساتھ لے لے ہم رہ گئے اکیلے“ قریبی دوست افسا نہ نگار، تدوین کار،ا دیب شاعر، مترجم اور ما ہر تعلیم گل مراد خا ن حسرت کی وفات ایسا ہی سانحہ ہے آپ سکول کیڈر کے افیسر تھے مختلف تدریسی اور انتظا می عہدوں پر فرائض انجا م دیے چند سال ضلع دیر با لا کے ڈسٹرکٹ ایجو کیشن افیسر بھی رہے ایک دقیقہ رس محقق اور ایک معا ملہ فہم دوست تھے خیبر پختونخوا کے تعلیمی حلقوں میں ان کا نا م عزت و احترام کے ساتھ لیا جا تا تھا 75سال کی عمر میں پشاور کے بڑے ہسپتال میں زیر علا ج رہنے کے بعد 25اکتو بر کی سہ پہر کو انتقال کر گئے انہیں اپر چترال کے گاوں پارکو سپ میں واقع ان کے آبا ئی قبر ستان میں سپر د خا ک کیا گیا.

آپ 1946میں علاقے کے مخیر شخصیت مدرس،سیا سی، سما جی و دینی رہنما شکور رفیع کے ہاں پیدا ہوئے سٹیٹ ہا ئی سکول چترال سے میٹرک کا امتحا ن پا س کیا اُس زما نے میں کسی کا بیٹا میٹرک پا س کر تا تو سر کاری افیسر اُس کے گھر جا کر والدین کی منت سما جت کر کے اس کو سر کاری ملا زمت دیتے تھے چنا نچہ اُس وقت کے افیسر تعلیم محمد جناب شاہ (تمغہ خد مت) نے ان کی والد کی رضا مندی حا صل کر کے ان کو ریا ستی سکول میں استاد مقرر کیا اپنی ذا تی قابلیت سے اُس نے ملا زمت کے دوران جے وی، ایس وی اور دیگر کورس بھی کر لیے بی اے کا امتحا ن بھی دیا بی ایڈ کے لئے پشاور یو نیورسٹی کے ادارہ تعلیم و تحقیق میں داخلہ لیکر اعلیٰ نمبروں سے ڈگری حا صل کی اس کے بعد پبلک سروس کمیشن کا امتحا ن پا س کر کے ہیڈ ما سٹر کا عہدہ بھی حا صل کیا مشہور ما ہر تعلیم شیر ولی خا ن اسیر آپ کے برادر نسبتی بھی ہیں، شاگرد بھی رہ چکے ہیں اور گہرے دوست بھی ہیں ایک مجلس میں بات چل نکلی تو اہل مجلس کو بتا یا کہ حسرت کی جو انی صبح کے تارے کی طرح روشن اور بے داغ گذری ہے ان کے دامن پر جھوٹ، فریب اور خیا نت کا کوئی داغ نہیں دوستوں کی محفل میں ان کو قرون اولیٰ کے بزر گوں کی نشا نی کہہ کر یا د کیا جا تا تھا.

ہم نے انہیں دفتر میں نظم و ضبط کا پا بند، نجی زند گی میں سنجیدہ گی اور متا نت کے ساتھ خو ش مزا جی اور خوش طبعی کا پیکر پا یا ان کا خا ندان یخشے بارھویں صدی میں چینی تر کستان سے نقل مکا نی کر کے چترال آیا مشہور صو فی شاہ رضا ئے ولی اور سلطنت رئیسہ کے با نی شاہ نا در رئیس بھی اُسی دور میں چترال وارد ہوئے تھے اویغر زبان میں یخشی کا مطلب ہے خو ب، اعلیٰ اور اچھا اس حوالے سے ان کا قبیلہ آج بھی یخشے کہلا تا ہے گل مراد خا ن حسرت نے کھوار زبان میں شا عری بھی کی افسا نے بھی لکھے ان کے افسا نوں کا مجمو عہ ”چیلیکیو چھا ع“ بید کی ٹہنیوں کا سایہ 2019میں شائع ہوا.

آپ نے انجمن ترقی کھوار کے پلیٹ فارم سے منعقد ہو نے والے تین سیمینار وں کی رودادوں کو الگ الگ جلدوں میں مرتب کر کے شائع کیا دو بین لاقوامی کا نفرنسوں میں چترال کی ثقا فت پر تحقیقی مقا لے پیش کئے کانفرنس کی رودادیں اکسفورڈ یو نیور سٹی پر یس نے شا ئع کی آخری تحقیقی مقا لہ آپ نے سہ ما ہی ادبیات کے ڈائمنڈ جو بلی نمبر کے لئے کھوار افسا نہ کے ارتقا پر لکھا ہے جو زیر طبع ہے داغستا نی شاعر اور مصنف رسول حمزہ کی سوا نح عمری میرا داغستان کا تر جمہ کھوار میں کر رہے تھے کتاب میں ان کی دلچسپی کی وجہ سے یہ تھی کہ داغستان اور چترال کی ثقا فتوں اور لغتوں میں حیرت انگیز مما ثلت پا ئی جا تی ہے گل مرادخا ن حسرت کی وفات حسرت آیات سے خیبر پختونخوا کا صوبہ ایک علمی اور ادبی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔

انتقال پرملال

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
54107

داد بیداد ۔ معدنیات کی دولت ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

ایک بڑھیا کی کہا نی ہے بڑھیا اپنی جھو نپڑی میں اکیلی رہتی تھی بیٹا ہر مہینے اس کو روزمرہ ضروریات کے لئے معقول رقم ایک لفا فے میں ڈال کر پہنچا تاتھا بڑھیا لفا فے کو چوم کر اپنی پیشانی سے لگا تی تھی آنکھوں پر مل کر دوبارہ دیکھتی تھی اور ایک صندوق میں ڈال کر تا لہ لگا تی تھی وقت اس طرح کسمپرسی کی حا لت میں گذرتا رپا یہاں تک کہ بڑھیا کی مو ت واقع ہوئی، لو گوں نے بڑھیا کو دفنا نے کے بعد صندوق کھو لا تو اس میں درجنوں لفا فے تھے اور لفا فوں میں لا کھوں روپے تھے جو بڑھیا نے چوم کر پیار اور محبت سے رکھے ہوئے تھے بیٹے نے اس لئے بھیجا تھا کہ بڑھیا کی زندگی میں کوئی سہو لت ہو لیکن ان لفا فوں سے بڑھیا کی زند گی میں کوئی سہو لت نہیں آئی وطن عزیز پا کستان میں بلو چستان کے ریکو ڈک سے لیکر سند ھ کے تھر کول اور چترال کے فولاد، یو رینیم یا سونے کے معدنی ذخا ئر تک سوئی اور کر ک کے گیس سے لیکر سندھ اور بلو چستان کے تیل تک ہر قسم کی دولت قدرت کی طرف سے مو جو د ہے لیکن ہم نے 72سالوں سے ان کو صندوق میں بند کر کے تا لا لگا یا ہوا ہے اور قومی زندگی مر زا غالب کی طرح یو ں گذر تی ہے ؎
قرض کی پیتے تھے مئے اور کہتے تھے ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن


ہماری حکومتوں نے ریکو ڈک میں سونے کے ذخا ئر سے اتنا فائدہ نہیں اُٹھا یا جتنا ہم نے کروڑوں ڈالروں میں اس کا جر ما نہ اداکیا ہے ایسے میں خیبر پختونخوا کی صو بائی حکومت نے معدنیات سے فائدہ اٹھا نے کے لئے انقلا بی قدم اٹھا تے ہوئے معدنیات سے مالا مال پہاڑوں اور صحراوں کی لیز(Lease) کا آن لا ئن سسٹم متعارف کرایا ہے خیبر پختونخوا کی سرکاری ویب سائیٹ پر معدنیات کی لیز کے قواعد وضوابط کے ساتھ نقشے اور روابط (maps & coordinates) بھی دیئے گئے ہیں کسی دفتر کا چکر لگا نے کی ضرورت نہیں کسی کی مٹھی گرم کرنے کی حا جت نہیں معدنیات کی لیز میں دلچسپی رکھنے والے کاروباری شہری اس ویب سائیٹ سے معلو مات حا صل کر کے جگہ پسند کر کے آن لا ئن در خواست جمع کر سکتے ہیں یوں گھر بیٹھ کر کاروباری خواتین اور حضرات سونے، فولاد، گیس، تیل اور یو رینیم کے قیمتی ذخا ئر کے ما لک بن سکتے ہیں

گذشتہ ڈیڑھ سال کا تجربہ اور مشا ہدہ یہ ہے کہ امریکی، بر طانوی اور چینی کمپنیاں آن لائن فارم جمع کر کے لا کھوں مر بع کلو میٹر کے رقبوں کا لیز لے لیتی ہیں پا کستانی سرمایہ کار اس میں دلچسپی نہیں لیتے مقا می لو گ شکا یت کر تے ہیں کہ ہمارے پاس سر ما یہ نہیں لیز حا صل کرنے کے بعد ہمیں کیا ملے گا، سرحد چیمبر آف کا مر س اینڈانڈسٹری کے کوارڈینیٹر سرتاج احمد کا کہنا ہے کہ ہماری مثال اُس بڑھیا سے مختلف نہیں جو نو ٹوں سے بھرے لفا فوں کو صندوق میں ڈال کر تا لا لگا تی تھی اور مر تے دم تک غربت، نا داری اور بے چار گی کا رونا روتی تھی دولت اس کے گھر میں مو جود تھی مگر وہ اس دولت سے کا م لینا نہیں جا نتی تھی امریکی کمپنی معدنیات کے 6ہزار مربع کلو میٹر رقبے کے لئے فارم جمع کر تی ہے چینی کمپنی معدنی ذخا ئر کے 5ہزار مر بع کلو میٹر رقبے کے لئے فارم جمع کر تی ہے پا کستانی سر ما یہ کار 300مربع کلو میٹر رقبے پر نظر رکھتا ہے جبکہ مقا می درخواست گذار بڑی مشکل سے کوارڈنیٹ نکال کر 40مر بع کلو میٹر رقبے کے لئے فارم جمع کر تا ہے اس میں وسائل اور دولت کا مسئلہ نہیں درخواست گذار کے دما غ میں خلل ہے وہ 50مر بع کلو میٹر سے آگے سوچنے کی صلا حیت نہیں رکھتا وہ اس بات سے واقف نہیں کہ لیز لینے کے بعد کسی بڑی کمپنی کے ساتھ شراکت اختیار کر کے جوائنٹ وینچر کے ذریعے وہ اربوں کی سرمایہ کاری میں حصہ دار بن سکتا ہے معدنیات کی لیز کے لئے آن لا ئن درخواستوں کی سہو لت صو بائی حکومت کا بڑا کار نا مہ ہے مستقبل میں اس کے دور رس نتائج برآمد ہو نگے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
53996

داد بیداد ۔زوال۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔زوال۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ما ضی پر ستی ایک بیما ری ہے اس نفسیا تی عارضے کو انگریزی میں نا سٹلجیا کہتے ہیں اس بیما ری کا مریض زما نہ حال سے نا لا ں رہتا ہے ما ضی کو یا د کر تا ہے اور ہر وقت ما ضی کی یا دوں میں کھو یا رہتا ہے اگر آپ کہدیں آج مو سم خو شگوار ہے تو وہ 100سال پہلے کے مو سم کی کہا نی سنا ئے گا آپ اگر کہہ دیں آج پا کستان کو بڑی کا میا بی ملی ہے تو وہ 50سال پہلے کی کسی کا میا بی کا قصہ لے کر بیٹھ جا ئے گا اس کو زما نہ حال کے ہر بڑے کا م سے زما نہ ما ضی کا چھوٹا واقعہ بھی اچھا لگیگا آج کل یہ بیما ری بہت عام ہے شہر کے بڑے محلے کے لو گوں کو عوامی مسا ئل کے حل پر تجاویز دینے کے لئے مقا می سکول کی عما رت میں بلا یا گیا سر کاری حکا م اور اخبار نویس بھی مو جو د تھے محلے کے 20عما ئدین کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی ان میں سے 18عما ئدین نے اپنی تقریروں میں گذرے ہوئے دور کے ملک صاحبان، جا جی صاحبان، مولوی صاحبان اور بی ٹی کے ممبروں کا ذکر کیا ان کی تقریر وں کا خلا صہ یہ تھا کہ ہمارا محلہ قیا دت سے محروم ہے مو جو دہ قیا دت مسا ئل حل کرنے میں نا کام ہوگئی ہے.

جن دو معززین نے ما ضی کی ”درخشان روایات“ کا ذکر نہیں کیا ان کا تعلق ”مو جودہ قیادت“ سے تھا یہ ایک محلے کی کہا نی نہیں ہر گاوں کی کہا نی ہے سطح سمندر سے 9000فٹ کی بلندی پر واقع پہا ڑی گاوں کی آبادی اگر ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے تو ان میں سے 900لو گ گذر ے ہوئے ممبروں اور ملکوں کو یا د کر کے مو جو دہ قیا دت پر نفریں بھیجتے ہیں شہر کے محلے میں واقع سکول کی تقریب میں باہر سے آیا ہوا مہمان بھی بیٹھا تھا مہمان جہا ندیدہ اور تجربہ کار تھا اُس نے محلے کے عما ئدین کی اجا زت سے اظہار خیال کر تے ہوئے بڑے پتے کی ایک بات کہی اُس نے کہا آپ لو گ اللہ پاک کا شکر ادا کریں آپ کو آزاد وطن ملا ہے ہمارے اباو اجداد غلا می کی زند گی گزار کر فوت ہوئے آپ مو جو دہ دور کی جن محرومیوں کا ذکر کر تے ہیں ان کا تعلق صرف آپ کے محلے سے نہیں یہ محرومیاں ہر شہر، ہر گاوں اور ہر محلے میں پا ئی جا تی ہیں .

وجہ یہ ہے کہ ہمارا طرز بود وباش بدل گیا ہے ہماری ضروریات بڑھ گئی ہے 100سال پہلے یا 50سال پہلے ایسی ضروریات نہیں تھیں بجلی اور گیس کے مسا ئل نہیں تھے وائی فائی اور فو جی کا نا م کسی نے نہیں سنا تھا نہ ڈالر کے ریٹ سے کسی کو سرو کارتھا نہ سٹاک ایکسچنج سے کسی کا لینا دینا تھا ہم کو مو دہدہ دور کی بیش بہا نعمتوں پر ہر وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چا ہئیے مہمان مقرر نے اگر چہ تصویر کا دوسرا رخ سامنے رکھ دیا لیکن یہ بھی پورا سچ نہیں زوال آیا ہے اور زوال کی رفتار بڑھ رہی ہے.

مختار مسعود کی کتاب آواز دوست 1976ء میں پہلی بار شائع ہوئی اسکا ایک باب ”آٹو گراف بک“ ہے مصنف لکھتا ہے کہ میرے والد کی وصیت تھی ہر کسی کا آٹو گرا ف نہ لیا کرو صرف بڑی شخصیات کا آٹو گراف لیا کر و انہوں نے 1976ء میں آٹو گراف بک کو بند کیا وہ لکھتا ہے کہ زمین بانجھ ہو گئی ہے دھر تی نے عظیم شخصیات پیدا کر نا بند کردیا ہے وہ ایوب خا ن اور بھٹو کی حکو متوں میں بڑا افسر تھا مگر اُس نے ایوب خا ن اور بھٹو کا آٹو گراف نہیں لیا وہ لکھتا ہے کوئی ٹا ئن بی اور عطا ء اللہ شاہ بخا ری جیسی شخصیت نظر آتی تو آٹو گراف بک کو بند نہ کر تا محلے کے بزرگ اپنے محلے میں قیا دت کے زوال کا رونا رورہے تھے .

ہم نے سوچا پورے ملک کی قیا دت زوال کے دور سے گذر رہی ہے عالم اسلا م کی قیا دت زوال پذیر ہے محمد علی جناح، علا مہ اقبال، سلطان محمد شاہ آغا خا ن سوم، نواب بہا در یا رجنگ، عطاء اللہ شاہ بخا ری جیسے نا بغہ روز گار لو گ پھر پید انہیں ہوئے سوئیگا ر نو اور مصطفٰے کمال اتاترک جیسے لیڈر پیدا نہیں ہوئے دنیا کے نقشے پر نظر دوڑا ئیں تو فیڈ ل کا سترو عظیم شخصیات کی فہرست کا دوسرا آخری شخص تھا ان کے بعد صرف نیلسن منڈیلا آیا اور عظیم شخصیات کا باب بند ہوا بات ہمارے ملک، محلے اور گاوں پر ختم نہیں ہو تی پوری دنیا بانجھ پن کا شکار ہے عالم اسلا م پر بھی بانجھ پن طاری ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
53855

داد بیداد ۔ کا بل کا منظر نا مہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

بین الاقوامی تعلقات کے علم میں دارلحکومت کا نا م لیکر ملک مراد لیا جا تا ہے یہ اصطلا ح اردو ادب میں مجاز مر سل کہلا تی ہے چنا نچہ کا بل سے مراد افغا نستا ن ہے اگر چہ اس کا نام ”نیا افغانستان“ نہیں رکھا گیا تا ہم افغا نستان میں تبدیلی آگئی ہے امارت اسلا می نے اقتدار سنبھال لیا ہے ملک میں ظاہر شاہ کے وقت کا دستور نا فذ کیا گیا ہے لیکن دو مہینے گذر نے کے با جود کسی ملک نے افغا نستا ن کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اسلا می کا نفرنس کی تنظیم کے 57ممبر ممالک امارت اسلا می افغا نستان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے امریکہ کے حکم کے منتظر ہیں.

ہم ایسے دور سے گذر رہے ہیں جب جا بر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے پہلے جا بر سلطان سے اجا زت لینے کی ضرورت پڑتی ہے اور جب تک جا بر سلطان اجا زت نہ دے کلمہ حق کو موخر کیا جا تا ہے امارت اسلا می افغا نستان کی حکومت جا بر سلطان کی حکومت کے ملبے پر قائم ہو ئی ہے اس لئے جا بر سلطان کبھی اس کو تسلیم کرنے کی اجا زت نہیں دے گا ایک بڑی یو نیور سٹی کے اڈیٹو ریم میں ایک دانشور کا لیکچر تھا دانشور بین الاقوامی تعلقات کے اخلا قی اقدار پر گفتگو کر رہے تھے ان کی گفتگو کا خلا صہ یہ تھا کہ بین لا قوامی تعلقات میں قو موں کے ساتھ بر تاؤ کے کڑے اصول ہیں کوئی قوم ان سے انخراف نہیں کر سکتی.

گفتگو کے اختتام پر ایک طا لب علم نے سوال کیا سر! کیا وجہ ہے 2002میں مشرقی تیمور آزاد ہوا وہاں عیسائی حکومت قائم ہوئی تو ایک ہفتے کے اندر امریکہ اور بر طا نیہ سمیت 60ممالک نے اس کو تسلیم کیا، افغا نستان میں امارت اسلا می کی حکومت کو دو مہینے گذر گئے کسی ایک ملک نے بھی اس کو تسلیم نہیں کیا آخر کیوں؟بین لاقوامی تعلقات کے اخلا قی اقدار کا تقا ضا کیا ہے؟ سوال سن کر دانشور تھوڑا سا سٹپٹا گیا اس نے اپنی پیشا نی سے پسینہ پونچھ لیا پا نی کا گلا س ہونٹوں سے لگا یاپا نی پی کر بولا بات کہنے کی نہیں مگر بعض اوقات اس کا ذکر بھی کر نا پڑتا ہے ہماری دنیا مذہبی گروہوں میں بٹ چکی ہے.

مشرقی تیمور کے عسائیوں نے انڈو نیشیا کے مسلما نوں سے آزادی کا مطا لبہ کیا عیسائی مما لک نے ان کا ساتھ دیا، اقوام متحدہ نے جھٹ پٹ رائے شما ری کرائی اور مشرقی تیمور کی آزادی کے بعد عیسائی حکومت بنی تو عیسا ئی مما لک نے فوراً اس کو تسلیم کیا اس کے بعد تما م مما لک نے تسلیم کیا مشرقی تیمور میں علٰحیدگی پسند جنگجووں کو ہیرو تسلیم کیا گیا کار لوس بیلو اور سنا نہ گُسماؤ کو امن کا نو بل انعام دیا گیا فلسطین اور کشمیر میں مسلما ن آزادی کا مطا لبہ کرے تو اس کو دہشت گر د قرار دیا جا تا ہے دانشور نے ان کہی بات بڑے سلیقے سے کہہ دی کا بل سے آنے والی خبروں کے مطا بق اما رت اسلا می کو چار بڑے مسائل کا سامنا ہے بینکو ں کا نظام معطل ہے جو تجا رت پراثر انداز ہورہا ہے،

خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے،ترقیا تی کام بند ہیں مزدوری نہیں ہے، غر بت اور بے روز گاری میں روز بروز اضا فہ ہو رہا ہے مذہبی منا فرت پھیل رہی ہے انسا نی المیہ جنم لینے والا ہے امریکہ، یو رپی یونین اور اقوام متحدہ نے امدادی سر گر میوں پر پا بند ی لگا ئی ہے عالمی طاقتوں کے چند شرائط ہیں جن کو ما ننے کے لئے اما رت اسلا می کی قیا دت اما دہ نہیں گزشتہ دو ہفتوں میں ایک مخصوص فرقے کی مسجدوں پر خو د کش حملے ہوئے ہیں نما ز جمعہ کے دوران ہو نے والے حملوں میں ڈیڑھ سو نما زی شہید اور دو سو سے زیا دہ زخمی یا معذور ہوئے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو فرقہ ورانہ کشید گی پیدا ہو گی بعید نہیں کہ نسلی منا فرت کی آگ بھی بھڑک اُٹھے ان مسا ئل سے نمٹنے کے لئے 57اسلا می ملکوں کے تعاون کی ضرورت ہے اسلا می ملکوں نے تسلیم کیا تو پوری دنیا امارتاسلا می افغا نستان کو تسلیم کریگی کا بل کا منظر نا مہ گو مگو کی کیفیت سے دو چار ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
53683

داد بیداد ۔والنٹیر اور کاروباری قرضہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

صحا فیوں اور کا لم نویسوں کو ہر روز کسی نہ کسی کی ایسی کا ل آتی ہے جس میں و النٹیر کی تنخوا کے بارے میں شکا یت ہوتی ہے نو جوا ن کا باپ، چچا یا بھا ئی شکا یت کر تا ہے کہ نو جوان نے ڈبل ایم اے کیا ہے بی ایڈ اور ایم ایڈ بھی ہے چا ر مہینوں سے والنٹیر بھر تی ہوا ہے انٹر ویو میں فر سٹ آیا تھا اب تک ایک بھی تنخوا نہیں ملی ہم پریشان ہیں تنخوا کب ملیگی؟ نو کری کب پکی ہو گی؟ کا لم نویس جواب دیتا ہے اس جوان سے پو چھیں والنٹیرکس کو کہتے ہیں اگر معنی نہیں آتے تو انگریزی سے اردو میں ترجمہ والی کوئی لغت کھول کر دیکھیں نو جوان کو معلوم ہوگا کہ والنٹیر مفت کا م کر نے والے کو کہتے ہیں اس کا اردو مترا دف رضا کار ہے رضا کار وہ جوان ہوتا ہے جو اپنی خو شی سے مفت کا م کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے اور راضی ہو کر مفت کا م کر تا ہے یہ کا م مستقل ہے مگر تنخوا ہ کے بغیر ہے .

اگر کسی افیسر نے نو جوان کا انٹر ویو لیا اور نمبر دیدیے تو اس نے غلطی کی ہے رضا کار کا کوئی انٹر ویو نہیں ہوتا وہ رضا کار ہے اور بس لیکن یہ بات کسی ایک کی سمجھ میں بھی نہیں آتی اگر دو چار بندے ما یوس ہو کر فون کر نا چھوڑ دیتے ہیں تو دو چار ایسے بندے فو ن کر تے ہیں جو ما یو س نہیں ہوئے پہاڑی علا قے سے تعلق رکھنے والا ایک شہری کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کو دو بچوں کے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر 80کلو میٹر کے فاصلے سے انٹر ویو کے لئے لا یا تھا سکول میں پڑھا نے کے لئے روز انہ 4کلو میٹر سفر کر تی ہے ہم بڑے خو ش تھے کہ والنٹیربھر تی ہو گئی اب تنخوا ہ کے بغیر کیسے ڈیو ٹی کر یگی؟ ہم نے معزز شہری کو سمجھا یا کہ آپ کو انگریزی زبان کی وجہ سے مغا لطہ ہو ا ہے آپ کی بیٹی کو پتہ ہے کہ والنٹیر مفت کا م کر تی ہے مفت کا م کے لئے 80کلو میٹر پہاڑی راستوں پر سفر کرکے انٹر ویو دینا بھی غلط تھا روزانہ 4کلو میٹر سفر کر کے سکول جا نا بھی دا نش مندی نہیں مگر کس کس کو یہ بات سمجھا ئی جا ئے اور کیسے سمجھا ئی جا ئے دو سال پہلے ٹائیگر کی بات آگئی تھی.

جو انوں نے جو ق در جوق ٹائیگر بننا قبول کیا والدین کو مبا رک باد کے پیغا مات مو صو ل ہوئے بعض نے دوستوں کو مٹھا ئی بھی کھلا ئی بعض نو جوانوں کے رشتے اس بنیا د پر طے ہوئے کہ ٹائیگر فوس میں بھر تی ہوا ہے نکا ح اور رخصتی کے بعد معلوم ہوا کہ ٹائیگر فورس کی کوئی تنخوا ہ، الا ونس، وغیرہ نہیں ہے اب اس کے والدین خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس بہا نے سے بیٹے کی شادی ہو گئی روزی دینا اللہ تعا لیٰ کا کا م ہے ویسے بھی دے دیگا یہاں بھی انگریزی زبان آڑے آگئی تھی دیہا تیوں کو پتہ نہیں تھا کہ ٹائیگر فورس رضا کار تنظیم ہے، مجا ہد فورس یا فرنٹیر فورس یا رینجر فورس کی طرح تنخوا ہ اور پنشن والی نو کری نہیں یہی حال ”سٹارٹ اپ“ کا ہے نو جوانوں کو کاروبار اور روزگار کے لئے آسان شرائط پر حکومت جو قرضے دے رہی ہے اس کا نا م ”سٹارٹ اپ“ رکھا گیا ہے

دیہاتی لو گوں کو پتہ ہی نہیں کہ سٹارٹ اپ کیا ہے یہی حال اکنا مک زون اور ما ربل سٹی کا ہے حکومت کہتی ہے اکنا مک زون بنے گا، ما ربل سٹی بنے گی عوام حیران ہیں کہ یہ کس جا نور کے نا م ہیں؟ پلا ٹ لینے کے لئے کرا چی اور ملتا ن سے لو گ آتے ہیں مقا می لو گ پلا ٹوں سے بے خبر ہیں سوال یہ ہے کہ حکومت جا ن بوجھ کر بے چا رے عوام پر انگریزی کا بوجھ ڈال رہی ہے یا حکومت کو اس بات کا علم نہیں کہ ہمارے دیہات میں والنٹیر کو ملا زم سمجھا جا تا ہے ٹائیگر فورس کو فو جی ملا زمت قرار دیا جا تا ہے اگر حکومت کے علم میں یہ بات لا ئی گئی تو عوام کے مفاد میں انگریزی نا موں کے اردو تر جمے رائج کریگی اردو نا موں کو لوگ پہچانینگے رضا کار تنخوا نہیں ما نگے گا ٹائیگر فورس والا پہلی فرصت میں روز گار تلا ش کرے گا اور سٹارٹ اپ کی جگہ اردو میں کاروباری قرضہ لکھا گیا تو نو جوانوں کی بڑی تعداد اس سہو لت سے فائدہ اٹھائیگی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
53538

داد بیداد ۔ایک اور پیش گوئی۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ایک سیا سی گرو نے کہا ہے کہ آنے والے 120دن پا کستان کی تاریخ میں اہم ہیں مر حوم پیرشاہ مردان شاہ پگاڑا بہت پیش گوئیاں کیا کر تے تھے ان کی جدائی کے بعد حا فظ حسین احمد اور شیخ رشید رہ گئے ہیں دونوں کی پیشگو ئیوں کو لوگ سنجیدہ لیتے ہیں سندھ کے منظور وسان کبھی کبھا ر پیش گوئی کر تے ہیں مگر انہیں کوئی سنجیدہ نہیں لیتا جب سیا سی گرو کی تازہ پیشگوئی پرنٹ اورا لیکٹرا نک میڈیا میں آئی سب نے سر جوڑ لئیے اور چہ میگو ئیوں کا آغا ز کیا کسی نے کہا نیا چیر مین نیب آنے والا ہو گا، کسی نے بے پر کی اڑا ئی کسی بڑے کی قر با نی دی جائیگی بعض دوستوں نے رائے دی بلدیا تی انتخا بات ملکی سیا ست کے مستقبل کا رُخ متعین کرینگے

بعض دوستوں نے کہا امارت اسلا می افغا نستان کو تسلیم کرنے کے مسئلے پر پھڈا ہو گا کسی بزر جمہر نے دور کی کوڑی لا تے ہوئے کہا پا کستان واپس امریکہ کے کیمپ میں جا ئے گا بعض دوستوں نے رائے دی پا کستان دو قریبی مما لک چین اور روس کے ساتھ ملکر نیا بلا ک بنا ئے گا غرض جتنے منہ اتنی باتیں لیکن گُر ونے جو کچھ کہا وہ پتھر کی لکیر ہے سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل ہے اگلے 120دنوں میں اور کچھ ہو یا نہ ہو 2021کا آخری سورج غروب ہو کر 2022کا نیا سورج طلوع ہو گا 2022کے دوسرے مہینے پا کستان میں بہار کا مو سم اپنے عروج پر ہو گا مگر یہ تو ہر سال ہو تا ہے اس میں پیش گوئی کا کوئی کمال نہیں 120دنوں کی کوئی اہمیت نہیں پھر مسئلہ کیا ہے؟

پر انے زما نے کی کہا نی ہے لو گ پیدل سفر کر تے تھے مسجدوں میں رات گزار تے تھے ایک شخص اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ سفر کر رہا تھا رات گزار نے کے لئے مسجد میں گیا مسجد میں اور بھی مسا فر سوئے ہوئے تھے نئے مسا فر کا باپ بہت کھانستا تھا وہ کھا نستا تو مسجد کے ایک کو نے سے آواز آتی کھانسو مت، آئیندہ کھانسنے کی آواز آئی تو مسجد سے با ہر نکال کر دروازہ بند کر وں گا یہ پیش گوئی تھی یا دھمکی تھی بوڑھا شخص ڈر گیا مگر کھا نسی قا بو نہیں ہو رہی تھی اُس نے بیٹے سے کہا دیکھو آواز دینے والا کون ہے اس کو بتاؤ میرا باپ بیمار ہے، بیٹے نے کہا غم مت کر و یہ خد اکا گھر ہے سونے والے سو ئینگے، کھا نسنے والے کھا نسینگے بولنے والے بو لتے رہینگے ایسی باتوں کی پروا مت کرو یہ صرف باتیں ہیں اگر ہم نے مو جو دہ دور میں ایسی باتوں پر تو جہ دی اور ان باتو ں کو سنجیدہ لیا تو ہماری نیندیں بر باد ہو جائیگی

محفوظ راستہ یہ ہے کہ کسی بھی گرو کی کسی پیش گوئی کو سنجیدہ نہ لیا جا ئے کیونکہ سیا ست کے کوچے میں خد مت نہیں رہی صرف گپ شپ رہ گئی ہے اور گپ شپ ایسی ہی پیشگو ئیوں سے آگے بڑھتی ہے چند سال پہلے پیشگوئی آئی تھی کہ قر با نی سے پہلے قر با نی ہو گی قر با نی آئی مگر جس قربا نی کی پیش گوئی کی جا رہی تھی وہ کسی نے نہیں دیکھی ایک سال فروری کے مہینے میں پیشگو ئی کی گئی کہ مارچ سے پہلے ڈبل مارچ ہو گا مگر ڈبل مارچ نہیں ہوا یہاں تک مارچ کا مہینہ بھی ڈبل مارچ کے بغیر گزر گیا 120دنوں کے اہم ہونے کی پیشگو ئی کا ایک فائدہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس پیشگو ئی کے منظر عام پر آنے کے بعد لو گ مہنگا ئی، نا انصافی، ظلم اور جبر کو بھول کر 120دنوں کی بتی کے پیچھے لگ چکے ہیں گیس اور بجلی کی گرانی، ڈالر کی اونچی اڑان اور تیل کی آسمان سے باتیں کرنے والی قیمتوں سے لو گوں کی تو جہ ہٹ چکی ہے اب ہم آنے والے 120دنوں کے شوق میں محو ہو چکے ہیں خدا کرے 120دن خیر سے گذر یں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
53448

داد بیداد ۔حملہ ہی حملہ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پو لیو، کو رونا اور ڈینگی کے حملے جاری تھے اوپر سے پنڈو را حملہ آور ہوا ہے اب جا ن عزیز پر بنی ہوئی ہے کس کس حملے کو کیسے روکا جائے اور کس حملہ آور پر کیسا وار کیا جا ئے کہ وار خطا نہ جا ئے ہمارے دوستوں کا کہنا ہے کہ خیر گذری گر میوں کے اختتام کا سیزن آیا چاہتا ہے ورنہ ڈینگی اور پنڈورا کے ساتھ ملخ اور چوہوں کے حملے بھی ہو جا تے اب کم از کم دو دشمنوں سے جا ن چھوٹ گئی ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ پولیو انسا نی نسل کا سب سے مو ذ ی دشمن ہے مگر ہمارے دشمنوں کا خیال ہے کہ پو لیو کو کھلی اجا زت ملنی چا ہئیے پو لیو کے انسداد ی قطروں کے خلا ف سیسہ پلا ئی ہوئی دیوار بن جاؤ اسی طرح شعبہ صحت کے ما ہرین کا کہنا ہے کہ کورونا طویل وباء ہے سال دو سال بعد ختم ہو نے والی بیما ری نہیں اس کے خلا ف ویکسین لگاؤ ما سک پہنے رکھو اور سما جی فاصلوں کی کڑی پا بندی کرو دوسری طرف ہمارے دشمنوں نے جال بچھا ئی ہے کہ کورونا کوئی بیما ری نہیں ویکسین اور ما سک کی ضرورت نہیں سما جی فاصلوں کی حا جت نہیں مو ت کا دن اٹل ہے اس کو ٹا لنے کی طا قت کوئی نہیں رکھتا .

تم لا پرواہی کرو اور قسمت کو الزام دو ہماری حکو متوں نے کئی سالوں کی محنت، کو شش اور ویکسی نیشن کے ذریعے ملیریا کو ختم کیا یہ کا م مچھروں کے طبع نا زک پر گراں گذرا چنا نچہ مچھروں نے اپنے بڑے بھا ئی کو بلا یا اُس نے ڈینگی پھیلا یا اس نیک کا م میں مچھروں کے بڑے بھا ئی کو میو نسپلیٹی کی پوری مدد حا صل ہے محکمہ صحت کے حکا م کا مکمل تعاون حا صل ہے اور صو بائی حکومت کی تائید بھی حا صل ہے عوام کی طرف سے بھی بھر پور تعاون کا مظا ہرہ دیکھنے میں آرہا ہے ہمارے ایک دوست نے خواجہ حسن نظا می کے طرز پر اخبار کے مدیر کو ایک خط لکھا ہے خط کا آخری حصہ بہت دلچسپ ہے ڈینگی کے حملوں کا پس منظر اور پیش منظر بیان کر کے ہسپتالوں کی حا لت اور ڈاکٹروں پر پو لیس کی لا ٹھی چارج کا حوالہ دینے کے بعد خط میں لکھا ہے کہ مچھروں کی سپریم کونسل کے اجلاس میں تحصیل اور ٹاون کو نسلوں کے حکام کا شکریہ ادا کر نے کے لئے قرار داد منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام کا تعاون اسی طرح جاری رہا تو مچھروں کی سپریم کونسل ڈینگی کا تحفہ لیکر گھر گھر پہنچے گی اور ہر گھر کے دروازے پر دستک دے گی.

ہم نے ابھی خط کو پوری طرح نہیں پڑھا تھا کہ اوپر سے پنڈورا کے حملے کی خبر آگئی پہلے ہم نے پنڈورا کو بھی ڈینگی کا چچا زاد بھا ئی خیال کیا مگر جلد ہی ہمیں معلوم ہوا کہ اس کی نسل الگ ہے قدیم داستانوں اور کہا نیوں میں آتا ہے کہ شہزادی جنات کے باد شا ہ کی قید میں چلی گئی شہزادہ اس کو ڈھونڈ تے ڈھونڈتے ایک بڑھیا کے پاس گئی بڑھیا نے اس کو صندوق دے کر کہا اس میں وہ نسخہ ہے جو شہزادی کو رہا ئی دلا ئیگا صندوق کو کھو لا تو اندر سے دوسرا صندوق نکلا اس کو کھولا توپھر صندوق بر آمد ہوا 100صندوقوں کو کھولنے کے بعد نسخہ ہاتھ آیا انگریزی میں دیو ما لا ئی کہا نی کے اس صندوق کو پنڈورا ) Pandora)کا صندوق کہا جا تا ہے خیبر پختونخوا کی قدیم زبان کھوار میں پنڈوروایسی شکل کو کہتے ہیں جو گول مٹول ہو اس گول مٹول شکل پر کوئی کیڑا سفر کرے تو واپس اُسی جگہ پہنچے گا جہاں سے چلا تھا پنڈورا کے ڈھنڈ ورے میں دنیا بھر کی اہم شخصیات کے بد عنوا نیوں کے رازوں کا انکشاف ہوا ہے مگر یہ گول دائرے کا چکر ہے چند مہینوں کے لئے گپ شپ کا سا مان ہے آخر میں وہی ہو گا جو پا نا مہ کے انکشا فات کے بعد ہوا تھا یعنی کھودا پہاڑ نکلا چوہا سو ہمارے نصیب میں حملہ لکھا ہے چاہے ڈینگی یا کورونا کا ہو یا پنڈورا کا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
53288

داد بیداد ۔ سو شل ٹیکنا لو جی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خبروں میں روحا نی جمہوریت کا ذکر آیا تو بہت سے لو گوں نے سوشل ٹیکنا لو جی کا نا م لیا رو حا نی جمہوریت کی تر کیب بھی نئی ہے سوشل ٹیکنا لو جی کا نا م بھی نیا ہے ہمیں جمہوریت سے بھی محبت ہے روحا نیت بھی ہمیں پسند ہے مگر دونوں کو یکجا کر کے ہم نے کبھی نہیں پر کھا با لکل اسی طرح ہم لو گوں کو سوشل ہو نا اچھا لگتا ہے ٹیکنا لو جی سے ہمیں پیار ہے لیکن سو شل ٹیکنا لو جی سے ہم کو ڈر لگتا ہے ہزار بار کوئی کہہ دے آپ نے گھبرا نا نہیں مگر ہم گھبرا جا تے ہیں نا قا بل بر داشت گھبر اہٹ کا شکار ہوتے ہیں ہما رے دوست فاطمی کہتے ہیں مغل اعظم جلا ل الدین اکبر خو ش قسمت تھے.

ان کے دور میں فوٹو شاپ کی ٹیکنا لو جی نہیں تھی مغل با د شاہ شا ہجہان بھی خو ش نصیب تھے ان کے دور میں کوئی پا رلیمنٹ کوئی اسمبلی نہیں تھی پلا ننگ کمیشن نہیں تھا اگر یہ معا ملا ت اُس وقت ہو تے تو وہ نہ تا ج محل بنا تے نہ شا ہجہان آبادکو اباد کرتے نہ خو بصورت مسا جد اور با غات تعمیر کر تے قدم قدم پر قواعد و ضوابط اُس کا دا من پکڑ لیتے اُس کا ہا تھ تھا م لیتے اور اس کو کا م سے روک دیتے اگر مغل اعظم کے دور میں سوشل میڈیا ہوتا سو شل ٹیکنا لو جی ہو تی فو ٹو شاپ کے چونچلے ہوتے تو جلا ل الدین اکبر کے ہاتھ پاوں بند ھے ہوئے ہوتے وہ نہ مر ہٹوں کے خلا ف فوج کشی کر نے کی ہمت کرتا نہ کا بل سے بنگا ل تک اپنی سلطنت کے طول و عرض میں جا سو سی کا جا ل بچھا کر مخا لفوں کو تہ تیغ کر نے کی آزادی کا فائد ہ اٹھا تا .

وہ تو قدم قدم پر آگے پیچھے، دائیں با ئیں، اوپر نیچے دیکھتا رہ جا تا کہ کہیں خفیہ کیمرہ میری حر کتوں کی عکس بندی تو نہیں کر رہا وہ انا رکلی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرء ت نہ کر تا کہ کہیں انسا نی حقوق والے مجھے دھر نہ لیں فا طمی باد شاہ خصلت آدمی ہیں ان کی سوچ بھی باد شاہوں والی ہے ہم خا ک بسر خا ک نشین باد شا ہوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہماری سوچ بہت بلند پرواز کرے تو بیربل، ملا دو پیا زہ، راجہ ٹوڈر مل اور خا نخانا ن تک جا تی ہے آگے اس کے پر جل جا تے ہیں ہم کس قدر ظا لم سما ج میں رہتے ہیں جہاں ہر وقت، ہر آن ہماری حر کتوں کو تصویروں میں محفوظ کر کے دوستوں میں تقسیم کیا جا تا ہے

اور چشم زدن میں لا کھوں صارفین ہماری تصویروں کو دیکھتے ہیں اگر ملا دو پیازہ کے زما نے میں فیس بک اور ٹو ئیٹر کی سہو لت ہوتی تو اُسے بیر بل کو لا جواب کر نے کے لئے باد شاہ کے دربار میں حا ضری کی ضرورت نہ پڑتی وہ فیس بک پر پوسٹ لگا تا اور بیربل کمنٹ میں اس کا جواب دے دیتا راجہ ٹو ڈرمَل پٹوارخا نے سے ٹویٹ کر تا کہ آج زمینوں کی پیما ئش مکمل ہو ئی ادھر خا نخا نا ن ٹویٹ کے جواب میں ٹو یٹر پر ہی حکم دیتا کہ لگا ن وصول کر کے مغل اعظم کے خزا نے میں جمع کیا جا ئے جلا ل الدین اکبر بھی در بار لگا نے کی زحمت نہ فر ماتے اپنی خواب گاہ سے ٹویٹ کر تے کہ مر ہٹوں کو کھلی چھوٹ دی جا ئے تا کہ دنیا میں ہماری ساکھ بہتر ہو ہم پر من ما نی کا داغ دھبہ نہ لگ جا ئے انسا نی حقوق والے ہمیں طعنے اور کو سنے دیتے نہ پھیریں.

چین، روس اور ایران نے سوشل ٹیکنا لو جی کو اپنی سرحدوں پر روک رکھا ہے ہمارے ہاں کے بڑے بڑے فیس بکی مشا ہیر جب ان میں سے کسی ملک کے دورے پر جا تے ہیں تو مدا حوں کو اطلا ع دیتے ہیں کہ دو مہینوں کے لئے چین، روس یا ایران جا رہا ہوں فیس بک پر وہاں پا بندی ہے میں سو شل میڈیا کے آسمان پر جگ مگ، جگ مگ نہیں کر سکوں گا دوست میرا انتظار نہ کریں شکر کا مقا م ہے کہ حکومت ہمارے ہاں بھی چین، روس اور ایران کے طرز کی پا بند یاں لگا رہی ہے اگر پا بندیاں لگ گئیں تو ہمارا شما ر بھی ان خوش نصیب لو گوں میں ہو گا جو مغل اعظم کے دو رمیں فیس بک اور ٹو ئیٹر کے بغیر خوش و خر م زند گی گزار رہے تھے ”دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو“

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
53099

داد بیداد ۔ افسر کے مشاہدات۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

بڑے افیسروں کے مشاہدات بہت دلچسپ ہوتے ہیں ان میں سماجی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لطیفے بھی ہوتے ہیں قومی زندگی کے بڑے بڑے راز بھی ہوتے ہیں انتظامی اُمور کے تجربات بھی ہوتے ہیں بین الاقوامی تعلقات کے پوشیدہ گوشے بھی آتے ہیں پاکستان میں قدرت اللہ شہاب کی اردو سوانح عمری”شہاب نامہ“ اس حوالے سے مشہور ہے روئیداد خان کی انگریزی کتاب”پاکستان اے ڈریم گان ساور“ بھی مقبول کتابوں میں شمار ہوتی ہے مگر ان دونوں کتابوں میں پاکستانی سماج کے دومشہور کردار عبدالستارایدھی اور عمران خان نظر نہیں آتے۔


بیسویں صدی کی آخری دہائی اور اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کے واقعات نہیں ملتے اگرآپ کو لیڈی ڈیانا کے دورہ پاکستان سے دلچسپی ہے اگر آپ ارباب غلام رحیم اور میاں شہباز شریف کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کوخیبر پختونخوا کے دبنگ افیسر شکیل درانی کی انگریزی کتاب ”فرنٹیر سٹیشنز“ کھولنی پڑے گی کتاب کھولنے کے بعد آپ بھی کہینگے ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی بڑے افیسر کی اہم کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ماں کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور دوستوں کے ذکر پر ختم ہوتی ہے درمیان میں دنیاجہاں سماگئی ہے آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ ضلع خیبر میں وادی تیراہ سے تعلق رکھنے والے دوبھائی میرمست اور میردست جنگ عظیم میں برطانیہ کی فوج کے ساتھ منسلک تھے،

جنگ کے دوران ایک بھائی جرمنوں سے جاملا،دوسرا بھائی برطانوی فوج میں رہا جنگ کے اختتام پر ایک بھائی کو جرمنی کا سب سے بڑا اعزاز ملادوسرے بھائی کو برطانیہ کا سب سے بڑا اعزاز وکٹوریہ کراس دیا گیا دونوں کے پوتے اور پڑپوتے آج بھی وادی تیراہ میں رہتے ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر دوسرے ضلع کے نجی دورے پرتھا زلزلہ برپا ہوا پہاڑوں سے پتھر برسنے لگے تو گاڑی سے اُترا فوجی چوکی میں گھسے سپاہیوں کے ساتھ چھت پر چڑھ گئے جب زلزلہ بند ہوا دھول بیٹھ گئی تو ایک سپاہی نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں اُس نے کہا فلاں ضلع کا ڈپٹی کمشنر ہوں سپاہی نے کہا میں بھی اُس ضلع کا ہوں مجھے اسلحہ لائسنس چاہیئے سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے ایسے چھ سپاہی اورملے۔

ڈپٹی کمشنر کو ان کی حاضر دماغی اور مطلب براری پر تعجب ہوا ہمیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ان کو اسلحہ لائسنس کی فکر ہے۔آپ یہ جان کر حیراں ہونگے گلگت سے سیسنا جہاز کی پرواز کے 20منٹ بعد بادل آگئے جہاز ہچکولے کھانے لگا پائیلٹ نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا جہاز کے تین مسافروں نے کہاچلو لنچ باکس کھولتے ہیں مرنے سے پہلے آخری لنچ کرتے ہیں۔تینوں مسافر لنچ میں مصروف تھے کہ بادل ہٹ گئے ہوا رُک گئی جہاز خطرے سے باہر نکل آیا پرواز ہموار ہوگئی پائلٹ نے خدا کا شکر ادا کیا کہ”جان بچ گئی میرے مولا نے خیر کی“ورنہ لنچ کے متوالوں کو لیکر کس کھائی میں گرجاتا۔یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ1981کی رات ایک پہاڑی مقام پر2بجے ڈپٹی کمشنر کو صدر مملکت کافون آتا ہے مگر بات ہونے سے پہلے لائن کٹ جاتی ہے ڈپٹی کمشنر سوچتا ہے دشمن نے حملہ کیاہوگا

اللہ خیر کرے اگلے لمحے لائن لگ جاتی ہے بات شروع کرکے صدر مملکت کہتا ہے میرا مہمان آرہاہے اس کی خوب مہمان نوازی کرو اگلے روز مقامی فوجی کمانڈر بھی ساتھ ہوتا ہے انجینئرز کور کا بریگیڈئیر بھی آجاتا ہے ائیرپورٹ پر صدر کا پوماہیلی کاپٹر اُترتا ہے تو ہیلی کاپٹر سے امریکی اخبار نویس گلے میں کیمرہ لٹکائے باہر آجاتا ہے۔جب اس کی رپورٹ چھپتی ہے تو اس میں جنرل ضیاء الحق سے زیادہ ڈپٹی کمشنر کا ذکر ہوتا ہے آپ کو یہ بات بھی دلچسپ لگے گی کہ1991ء میں لیڈ ی ڈیانا نے چترال کا دورہ کیا تو کمشنر نے صوبائی وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ان کی آنکھوں میں مایوسی نظر آتی تھی اور ان کی باتوں سے کسی انجان احساس محرومی کی جھلک ملتی تھی۔آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ1973میں ذولفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو ایبٹ آباد کے گورنمنٹ ہاؤس میں ٹھہرے تو وی وی آئی پی لاونج کی اندورنی چھت پر دو پرندوں نے گھونسلے بنائے ہوئے تھے ایسے دلچسپ واقعات کے ساتھ ملک میں قدرتی وسائل کے استعمال،جنگلات اور جنگلی حیات کے حفاظت،نظم ونسق کی بہتری کے لئے جامع اور قابل عمل تجاویز آپ کوملینگی مصنف کو اس بات پر افسوس ہے کہ1973ء میں والٹن اکیڈیمی سے نکلنے کے بعد44سالہ سروس میں ملکی قیادت کا رویہ درست نہیں ہوا۔معین قریشی اور شوکت عزیز کے سوا کوئی ڈھپ کا لیڈر نہیں ملا۔شکیل درانی کے مشاہدات کو شہاب نامہ کا انگریزی ایڈیشن کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
52998

داد بیداد ۔غائبا نہ یا پرا کسی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اس وقت عرب مما لک سے لیکر افغا نستا ن تک جو جنگیں لڑی جا رہی ہیں ان جنگوں میں اصل فریق غا ئب ہے اصل فریق کی جگہ اس کے گما شتے اور کا رندے مختلف نا موں سے یہ جنگیں اصل فریق کی طرف سے لڑ رہے ہیں انگریزی میں ایسی جنگوں کو پراکسی وار (Proxy War) کہا جا تا ہے اردو میں بھی انگریزی کی یہ تر کیب دھڑ لے سے استعمال ہو رہی ہے اگر اردو میں اس کو غا ئبا نہ لڑائی لکھا جائے تو مبا لغہ نہ ہو گا صحا فی، وکلا ء اور دا نشور جا نتے ہیں کہ یہ غا ئبا نہ لڑا ئیاں ہیں اصل فریق با ہر بیٹھا ہوا ہے افغا نستان کی 40سالہ خا نہ جنگی میں روس کے 1500سپا ہی مارے گئے، امریکہ کے 2800سپا ہی قتل ہوئے 2لا کھ افغا نی شہید ہوئے 3لا کھ افغا نی عمر بھر کے لئے معذور ہوئے اس جنگ کے جو شعلے پا کستان کی طرف آئے ان شعلوں نے 88ہزار پا کستانیوں کی جا ن لے لی ان میں 7ہزار پولیس یا فو جی اور 81ہزار شہری شا مل تھے

اصل فریقین کا نقصان نہ ہو نے کے برابر ہے اب جو نئی جنگ کے نقا رے بجا ئے جار ہے ہیں اس میں چین اور امریکہ جنگ کے اصل فریق ہیں لیکن میدان میں دونوں غیر حا ضر ہیں دونوں کی جگہ پا کستانی اور افغا نی تو پوں کے دہا نے پر ہیں جنگ طویل ہو جا ئے تو اصل فریق کا کچھ نہیں بگڑے گا ایسے لو گ متا ثر ہو نگے جن کا اس جنگ میں کوئی مطلب نہیں کوئی مقصد نہیں کوئی مفا د نہیں پرائی جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جا ری اجلا س سے لو گوں کو بہت سی اُمیدیں ہیں اور سب غلط ہیں جنرل اسمبلی کے پاس جنگوں کو روکنے اور امن بحا ل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے

دنیا کی تین طا قتوں کولگا م دینے کا کوئی طریقہ کا ر نہیں دنیا میں جی ایٹ، جی سیون اور جی سکس کے نا م سے ترقی یا فتہ اور صنعتی مما لک کے جو بڑے بڑے گروپ ہیں ان کے مفا دات کو عالمی امن کے لئے خطرہ بننے سے جنرل اسمبلی نہیں روک سکتی سلا متی کونسل ایران اور افغا نستا ن پر پا بندی لگا سکتی ہے عالمی طا قتوں پر پا بندی نہیں لگا سکتی سلا متی کونسل میں عالمی طا قتوں کو ویٹو کا ہتھیار دیا گیا ہے ان میں سے کسی ایک کے مفا دات کو زک پہنچنے کا اندیشہ یا احتمال ہو تو وہ ویٹو کے ذریعے اقوام متحدہ کی کسی بھی قرار داد کو جو تے کی نو ک پر رکھ سکتے ہیں سیا ست، جمہوریت، سفارت کاری،انصاف، قانون اور دستو ر کی کسی کتاب میں ویٹو پاور کی گنجا ئش نہیں 191مما لک ایک طرف ایک ملک دوسری طرف ہو تو ویٹو کے ذریعے وہ اکیلا ملک اپنی من ما نی کر لیتا ہے 191مما لک میں جن 15مما لک کو سلا متی کونسل میں میں رکنیت حا صل ہو تی ہے

ان میں 14مما لک ایک طرف ہو ں ایک ملک دوسری طرف ہو تو اکیلا ملک ویٹو کی مدد سے کا میاب ہوتا ہے شما لی کوریا، افغا نستان، ایران اور چین کو جمہوریت کا درس دینے والے بڑے بڑے مما لک اقوام متحدہ میں جمہوریت کو داخل ہونے نہیں دیتے اگر اقوام متحدہ میں جمہوریت آگئی تو پرا کسی وار یا غا ئبا نہ لڑا ئی کی گنجا ئش نہیں رہے گی جمہوریت کسی ملک کو اجا زت نہیں دیتی کہ دس کھرب ڈالر کما نے کے چکر میں غریبوں کو لڑا ؤ ان کی لڑا ئی سے ما ل کما ؤ اپنی چود ھرا ہٹ بٹھا ؤ سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں جمہوریت کے اصو لوں کو آخر کیوں نہیں اپنا یا جا تا؟ کب تک دنیا کے مظلوم، غریب اور نا دار مما لک بڑی طا قتوں کی غا ئبا نہ جنگ کا ایندھن بنتے رہینگے؟ کب تک دنیا میں بڑی طا قتوں کے ما لی مفا دات کے لئے غریبوں کا خو ن بہا یا جا تا رہے گا؟ اس نا انصا فی اور ظلم کے خلا ف مو ثر آواز اُٹھا نے کے لئے دنیا کے تر قی پذیر مما لک کو نیو یارک میں الگ سکر ٹریٹ قائم کر کے اقوام متحدہ کی متوا زی تنظیم بنا نی چا ہئیے جس طرح سرد جنگ کے زما نے میں تیسری دنیا کا فورم مظلوموں کے لئے آواز اٹھا تا تھا اس لئے مو جو دہ حا لا ت میں پرا کسی وار یا غا ئبا نہ لڑ ائی کو ختم کر کے مظلوم عوام کو انصاف دینے کے لئے ویٹو پاور کو ختم کرنے کی تجویز پر بھی مو ثر لا بنگ ہو نی چا ہئیے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52907

داد بیداد ۔ تیسرا کردار ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

میڈیا میں اس بات کاچر چا ہے کہ پا کستان نے افغا نستان کو اشیائے خوراک کے تحفے بھیجے اور جن لاریوں میں امدادی سامان بھیجے جا تے ہیں ان لا ریوں پر پا کستان کا سبز ہلا لی پر چم لگا ہوتا ہے اس پر جو خبریں اور تصویر یں آگئی ہیں ان میں دکھا یا گیا ہے کہ لا ری افغا نستان پہنچنے کے بعد لو گ پا کستان کا جھنڈا اتار کر پھینک دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پشاور کی ایک عمارت پر طالبان کا جھنڈا لہرایا گیا تو لو گوں نے اس کو اتار لیا تھا اس خبر اور تصویر کے آنے کے بعد بھانت بھا نت کی بو لیاں بو لی جا رہی ہیں بعض حلقے مشورہ دیتے ہیں کہ افغا نستا ن کو امدا دی سا مان بھیجنے کا سلسلہ بند کیا جائے اس ہا ہا کار میں جس بات کو نظر انداز کیا جا تا ہے وہ تیسرا کر دار ہے کوئی بھی اس بات پر تو جہ نہیں دیتا کہ افغا نستان میں تیسرا کردار مو جود ہے جو پا کستان اور افغا نستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے پر اپنی تما م تر توا نا ئیاں خر چ کر رہا ہے.

اپنی بساط بھر کو شش کر رہا ہے اور پا کستان کا پر چم امدا دی سامان کی کسی لا ری سے اتر وا نا اس کی معمولی کا وش ہے اور یہ کاوش دونوں برادر اسلا می ملکوں کو مو قع دیتی ہے کہ آئیندہ دونوں مما لک تیسر ے کر دار کی کا رستا نیوں سے ہو شیا ر رہیں اس کا پس منظر تاریخ نہیں حا لا ت حا ضرہ کا ایک باب ہے 15اگست 2021تک امریکہ، نیٹو مما لک اور بھا رت کا افغا نستا ن پر راج تھا ان کی حکومت تھی ان کی مر ضی چلتی تھی ان کے حکم کو ما نا جا تا تھا 15اگست 2021کے دن خا موش انقلا ب آیا امارت اسلا می افغا نستا ن کے درویش صفت حکمران کسی جنگ و جدل اور مزا حمت کے بغیر کا بل میں داخل ہوئے قصر صدارت پر ان کا قبضہ ہوا افغا نستان کی حکومت معزول ہو گئی 3لاکھ افغا ن فو ج اردوئے ملی ہتھیا ر اٹھا ئے بغیر منظر سے غا ئب ہو گئی.

ہتھیا ر ڈالنے کی نو بت بھی نہیں آنے دی یہ سب کچھ سابقہ حکمرا نوں کے وہم و گما ن میں نہ تھا امارت اسلا می کے قیام کے بعد پا کستان واحد ہمسا یہ تھا جس نے حدیث کی رو سے ظا لم اور مظلوم دونوں کی مدد کی، ظا لم کو بھا گنے میں مدد دی مظلوم کو پاوں جما نے میں مدد دی بھا گنے والے ظا لموں میں سے دو مما لک نے اپنے گما شتے افغا نستا ن میں پھیلا دیے تا کہ ان کے مفا دات کا کسی نہ کسی حد تک تحفظ ہو پا کستان کے ساتھ افغا ن ملت کی دوستی مستحکم نہ ہونے پا ئے اور اما رت اسلا می افغا نستا ن کی حکومت پائیدار بنیا دوں پر استوار نہ ہو یہ لو گ امارت اسلا می افغا نستا ن کو یا عورت کے آئینے میں دیکھتے ہیں یا پنجشیر اور تا جک قو میت کے آئینے میں دیکھتے ہیں یا ازبک اور شما لی اتحا د کے آئینے میں دیکھتے ہیں ہر آئینے میں ان کو پا کستان کا ایک چبھتا ہوا کا نٹا نظر آتا ہے اور کا بل پر وار کرنے سے پہلے اسلا م اباد پر وار کر تے ہیں.

امدادی سامان کی لا ری سے پاکستانی پر چم کو اتار نا معمولی بات ہے آگے تیسرا کر دار اور بھی کا م کرے گا بھارت اور امریکہ دونوں افغا نستا ن واپسی کا بہا نہ تلا ش کررہے ہیں وہ کسی اہم عمارت میں دھما کہ کر کے اس کا الزام پاکستان پر لگائینگے وہ کسی اہم شخصیت کو قتل کر کے اس واردات میں پا کستان کو ملوث کرینگے یا وہ کسی اہم شخصیت کو اغوا کر کے ایسا مطا لبہ کرینگے جس میں پا کستان کا نا م آئے گا ان کے پاس شرارت کے اور بھی کئی راستے ہیں حا لیہ دنوں میں دو اہم یورپی مما لک کی طرف سے پا کستان میں کر کٹ کھیلنے سے انکا ر کے پس پر دہ بھی ایسی طا قتوں کا ہا تھ ہے جو پا کستان اور افغا نستا ن کے درمیاں برادرانہ قربت کو حسد اور رقابت کی نظر سے دیکھتے ہیں غلط فہمیاں پیدا کر نے میں تیسرا کردار سب سے زیا دہ فعال ہو تا ہے اور افغا نستا ن میں ہمارا اصل مقا بلہ تیسرے کردار سے ہے دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کسی غلط فہمی کو اس زاویئے سے دیکھنا چا ہئیے اور اس کا حل بھی تلا ش کر نا چا ہئیے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
52791

داد بیداد ۔ معذرت؟ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

نیو زی لینڈ کی کر کٹ ٹیم نے پا کستان میں اپنی سیریز عین وقت پر منسوخ کر کے واپس وطن لو ٹنے کے بعد معذرت کی ہے اور اس فیصلے سے پا کستان کو جو دکھ ہوا اس پرمعا فی ما نگی ہے ایک روز پہلے امریکہ نے کا بل میں ڈرون حملہ کر کے بے گنا ہ شہریوں کو مار نے پر معذرت کی تھی اس طرح کی معذرت سے معذرت کی مٹی پلید ہو جا تی ہے معذرت کی بھی حد ہو تی ہے .

کوئی وقت ہو تا ہے ہر جگہ،ہر وقت، ہر بات پر معذرت نہیں ہو تی کوئی ایسی معذرت کو قبول کر ے بھی تو ہم ایسی معذرت کو معذرت کر نے والے کے منہ پر دے مارتے ہیں یہ کیا بات ہوئی تم نے دن دیہا ڑے سورج کی روشنی میں ایک جر م کیا اور جرم بھی ایسا جس کی نہ معافی ہے نہ تلا فی ہے اگلے روز تم نے کہا میں اس پر معذرت خواہ ہوں نہیں عالی جاہ! ایسا نہیں ہو تا اگر نیو زی لینڈ کی ٹیم میچ کے دوران امپا ئر یا کھلا ڑی سے بد تمیزی کرتی تو معذرت قبول ہوتی،

اگر امریکی محکمہ دفاع کی گاڑی غلطی سے کسی بلی،کتے یا گیدڑ کو کچل دیتی تو معذرت قبول کی جا سکتی تھی لیکن یہاں کیا ہوا؟ تین ماہ پہلے پا ک نیو زی لینڈ سیریز کا اعلا ن ہوا نیو زی لینڈ کی سیکیورٹی ٹیم پا کستان آگئی سیکیورٹی ٹیم پا کستان میں رہی روزمرہ حالات کا جا ئزہ لیکر اپنے ملک کو رپورٹ بھیجتی رہی تسلی بخش رپورٹوں کے بعد نیوزی لینڈ کی کر کٹ ٹیم پا کستان آگئی راولپنڈی کر کٹ سٹیڈیم میں میچ کے لئے ٹکٹیں جاری کی گئی ہزاروں شائقین کر کٹ نے ٹکٹ خرید لئے میچ کے دن دور دور سے لو گ را ولپنڈی پہنچ گئے میچ کے لئے گھنٹے گنے جا نے لگے لیکن میچ میں دو گھنٹے رہتے تھے.

نیو زی لینڈ کی ٹیم نے کسی اوباش نو جوان کی طرح میچ کو منسوخ کر کے دورہ پا کستان سے ہاتھ کھینچ کر وطن واپس جا نے کا اعلا ن کیا دو بئی سے چارٹر طیارہ منگوا یا اور وطن واپسی کے لئے ائیر پورٹ کا راستہ لے لیا حا لانکہ یہ میچ کے لئے سیٹیڈیم آنے کا وقت تھا اتنی غیر سنجیدہ حرکت کوئی بھی ملک نہیں کرتا کوئی کر کٹ بورڈ نہیں کرتا کوئی بھی کر کٹ ٹیم نہیں کر تی شائقین کر کٹ کا جو نقصان ہو ا وہ ایسا نقصان ہے جس کی تلا فی نہیں ہو سکتی.

پا کستان نے بحیثیت ملک جو نقصان اٹھا یا اُس کا حساب کوئی نہیں دے سکتا پا کستان کر کٹ بورڈ کا جو نقصان ہوا اُس کا ازالہ کوئی نہیں کر سکتاتم کہتے ہو ”معذرت خواہ ہوں“ سوری اس طرح نہیں ہو تا امریکہ بہادر نے ایک دن اعلا ن کیا کہ داعش کا بل میں امریکی شہریوں کو نشا نہ بنا نے والی ہے دوسرے دن امریکی حکام نے کا بل ائیر پورٹ کے قریب ایک گاڑی پر ڈرون حملہ کیا حملے کے بعد فخر کے ساتھ اعلا ن ہو ا کہ پینٹا گان نے داعش کے خطرنا ک دہشت گرد وں کو ڈرون حملے میں مار دیا ہے

ایک ہفتہ بعد تما م ذرائع سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ڈرون حملہ ایک رضا کار انجینئر کی گاڑی پر ہوا تھا حملے میں رضا کار انجینئر کے ہمراہ 8دیگر بے گنا ہ شہری عورتیں اور بچے شہید ہو گئے تھے 12دیگر لو گ زحمی ہوئے تھے رپورٹروں کی خبروں پر تحقیق اور تفتیش ہوئی روس، فرانس، چین اور بر طا نیہ کے حکا م نے اس بات کی تصدیق میں بیا نا ت دیئے کہ امریکہ بہادر نے داعش کو نشا نہ نہیں بنا یا بے گنا ہ شہریوں اور مخلوق کی خد مت کرنے والے رضا کاروں پر ڈرون حملہ کیا تھا بین الاقوامی سطح پر شر مندگی اور بے عزتی کے بعد امریکہ کی سینٹرل کما نڈ اور پنیٹاگان کے حکا م نے بیا ن جاری کیا کہ داعش کے دہشت گردوں کی مو جو د گی کی اطلا ع ملی تھی جس پر ڈرون حملہ ہوا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اطلا ع غلط تھی اس لئے ہم معذرت خواہ ہیں شاعر نے 100باتوں

کی ایک بات کہی ہے ؎
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہو نا


مگر یہ شعر بھی اس معذرت کے بخیے ادھیڑ نے کا کا م نہیں دیتا امریکی حکام نے جفا سے تو بہ نہیں کی صرف بے گنا ہ شہریوں کے نا حق قتل پر معذرت کی ہے اور معذرت کا یہ مو قع محل نہیں نا ک رگڑ نے سے شہید وں کا لہو معاف نہیں ہو تا جو دنیا سے گذر گئے وہ واپس نہیں آسکتے ”سوری“ کہنے کا یہ انداز ہمیں با لکل پسند نہیں کسی کی جا ن گئی تیری ادا ٹھہری نیو زی لینڈ کی کر کٹ ٹیم، ان کے کر کٹ بورڈ اور ان کی وزیر اعظم کو ہم نے لا کھ سمجھا یا کہ سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ”بس آپ نے گھبر ا نا نہیں ہے“ مگر وہ گھبر اہٹ کا شکا ر ہوئے اس گھبراہٹ کا مدا وا معذرت سے نہیں ہو گا کر کٹ کے بین الاقوامی فورم پر ہر جا نہ ادا کر نا ہوگا ہر جا نہ دینے کے بعد بیشک معذرت کریں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52644

داد بیداد ۔ دل پشو ری ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پشاور کی بس رپیڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) خیبر پختونخوا کا روشن اور تابنا ک چہرہ ہے جب کبھی اس میں سفر کر تا ہوں خیا لوں میں کھو جا تا ہوں کبھی ہم بنکا ک، بیجنگ اور فرنکیفرٹ کے میٹرو اور لندن کے ٹیوب کو رشک کی نگا ہ سے دیکھتے اور پرکھتے تھے آج ہم پشاور میں میٹرو اور ٹیوب جیسے ذرائع سفر سے لطف اندوز ہورہے ہیں الیکٹر انک ٹکٹ، صاف ستھری بسیں، صاف ستھرا سفر، اس پر روپے اور پیسے کی حیرت انگیز بچت اس کا نا م ہے خدا دے اور بندہ لے میں خیا لوں میں کھو یا ہوا تھا بس آنکھ جھپکتے ہی حیات اباد کے آخری سٹیشن پر آگئی بس سے اتر نے کو جی نہیں چاہ رہا تھا باہر سے آنے والے کسی بھی شہر کو ٹرا نسپورٹ کی وجہ سے پہچا نتے ہیں ٹرانسپورٹ اچھی ہو تو شہر کے گر ویدہ ہو جا تے ہیں ٹرانسپورٹ کا سسٹم خراب ہو تو دونوں کا نوں کو ہاتھ لگا کر تو بہ کر تے ہیں کہ کس مصیبت میں پھنس گئے میں نے تین سال پہلے جر من دوست کے ساتھ حا جی کیمپ اڈہ سے حیات اباد کا رخانہ مارکیٹ کا سفر کیا یہ میرے دوست کی خواہش تھی کہ شہر کے ٹرانسپورٹ سسٹم کا تجربہ کیا جا ئے منی بس مسافر وں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا

پشتو فلم کا گا نا ”یمہ دٹرک ڈرائیور“ فل والیوم میں بج رہا تھا ایک کلینر اونچی آواز میں کرایہ، کرایہ کی جگہ کارئیے کارئیے کی سریلی اواز یں لگا رہا تھا دوسرا کلینر دروازے پر کھڑے زور زور سے بس کی باڈی کو بجا تا اور ادریگہ استاذکے ساتھ زہ استاذ کا شور مچا رہا تھا جر من دوست اس کلچر سے لطف اٹھا رہا تھا ہم نے 30منٹ کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا جر من دوست نے کہا ہم اتنی مدت میں فرنکیفرٹ سے ہا ئیڈل برگ پہنچ جا تے ہیں شکر ہے کہ میرے دوست کو اردو، پشتو اور ہند کو نہیں آتی تھی ورنہ وہ یہ بھی نوٹ کرتا کہ بس کا کلینر کچہری سٹاپ کو ”قاچرو“ کہتا ہے ٹاون سٹاپ کو ”ٹون“ کہتا ہے جر من سیاح کو بڑی حیرت اس پر ہوئی کہ بہت سے لو گ بس کے چمن میں چھت پر لگے ہوئے دستے پکڑ کر سفر کر رہے ہیں اگر کسی سٹاپ پر ایک سیٹ خا لی ہو تی ہے تو آگے پیچھے کھڑے ہوئے چار بندے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں.

بس سے اتر نے کے بعد میں نے اپنے دوست کو بتا یا کہ میرا ساتھی ایسے مواقع پر مجھے آگے کر کے زور سے کہتا ہے ”حا جی صاحب تم بیٹھو“آس پا س کے چار بندے پیچھے ہٹتے ہوئے کہتے ہیں ”حا جی صاحب کو بیٹھنے دو“ حقیقت یہ ہے کہ میں داڑھی اور روما ل کی وجہ سے حا جیوں جیسا لگ رہا تھا اور اس حلیے کی بدولت منی بس میں سیٹ مل جا تی تھی میں نے اپنے جرمن دوست کو بتا یا کہ ہمارا ما ضی درخشان تھا 1971ء میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کی صاف ستھری بسیں چلتی تھیں ان میں ڈبل ڈیکر بسیں بھی ہوتی تھیں کلینر صاف ستھرا وردی والا بندہ ہوتا تھا چپ کرکے آپ کو ٹکٹ تھما تا اور کچھ بولے بغیر کرایہ لیتا تھا سٹاپ پر رکنے اور سٹاپ سے آگے بڑھنے کا کام ڈرائیور خود جا نتا تھا بس کی باڈی کو بجا نے اور زور زور سے آواز لگا نے کی ضرورت نہیں پڑ تی تھی سٹاپ پر کھڑے لو گ بھی بس کے نمبر کو دیکھ کر پہچان لیتے ان کو ہا نک کر لا نے کی ضرورت نہیں تھی آواز کی آلو د گی نہیں ہو تی تھی چمن میں کوئی مسا فر کھڑا نہیں ہوتا تھا جی ٹی ایس کو ختم کر دیا گیا تو ارام دہ سفر کا باب بھی بند ہوا اور شہر کے اندر منی بسوں کا سیلا ب آیا اس سیلا ب میں سب کچھ چلتا ہے .

میرے جر من دوست نے پشاور کے ما ضی کا اچھا تا ثر لیا مگر ہمارے سامنے جو تجربہ تھا وہ کسی بھی لحا ظ سے قابل رشک نہیں تھا پشاور کے با سیوں کو وہ دن بھی یا د ہیں جب ہشتنگری اور کا بلی گیٹ پر تا نگوں کے اڈے ہوتے تھے دس بارہ تا نگے کھڑے رہتے شہر سے صدر کا سفر تا نگوں میں ہو تا تھا 4آنہ فی سواری کے حساب سے چھ سواریوں کا کرا یہ ڈیڑھ روپے بنتا تھا کوچوان چا بک لہرا تا تو ایسے لگتا تھا گویا اس کو دنیا جہاں کی سب سے بڑی دولت مل گئی ہے نا ز سینما روڈ پر بخاری پلا ؤ اور قصہ خوانی بازار میں تاوانی پلا ؤ 8آنے میں آتا تھا فردوس سینما روڈ پر جلیل کبا بی کے ہاں 3روپے میں چھ بندے کباب کے لنچ سے لطف اندوز ہوتے تھے

پشاور غریبوں شہر کہلا تا تھا آج میں نے بی آر ٹی کے سفر کا جو لطف اٹھا یا بڑا مزہ آیا صحیح معنوں میں ”دل پشوری“ ہو گیا دل پشوری کی تر کیب ہی ایسی ہے جب آپ کو بے پنا ہ لذت اور خو شی یا مسرت حا صل ہو تو اس کیفیت کو ”دل پشوری“ کہتے ہیں بی آر ٹی میں سفر کر تے ہوئے میں نے اپنے جر من دوست کو فون کر کے صورت حال سے آگا ہ کیا اس کو ایک بار پھر پشاور آکر ”دل پشوری“ کر نے کی دعوت دی

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
52596

داد بیداد ۔ خبر دار ہو شیار! ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ایک ہی روز اخبارات میں دو خبریں آگئیں پا کستان کے ما یہ نا ز ایٹمی سائنسدان محسن پا کستان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے تردیدی بیان جاری کیا کہ میری وفات کی خبر جھوٹی ہے میں زندہ ہو ں اور تندرستی کے قریب ہوں اسی صفحے پر دو کا لمی خبر میں پڑوسی ملک افغا نستان کی امارت اسلا می کے نائب وزیر اعظم ملا عبد الغنی برادر کا تردیدی بیان آیا ہے کہ میری وفات کی خبر غلط ہے میں صحت مند ہوں اور دفتری فرائض انجام دے رہا ہوں تردیدی خبروں کو پڑھنے کے بعد خیال آیا کہ آج کل ابلاغ عامہ کے ذرائع کسی بھی وقت کسی بھی زندہ شخصیت اور خا ص کر کے نا مور شخصیت کی وفات کی غیر مصدقہ خبردے سکتے ہیں خدا نہ بھی مارے ہمارے ذرائع ابلا غ کسی کی مو ت کا اعلا ن کر سکتے ہیں.

پا بندی کوئی نہیں جر ما نہ کوئی نہیں سزا کوئی نہیں تر دید کرنے والا اگر ہر جا نے کا دعویٰ کرے تو عدا لتوں سے مقدمے کا فیصلہ آنے سے پہلے مو ت کا پروانہ آجا ئے گا اور خبر سچ ثا بت ہو نے کے بعد مقدمہ خارج کیا جا ئے گا محسن پا کستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے بارے میں پہلے بھی ایسی افواہ اڑائی گئی تھی اور شکر ہے کہ وہ بھی غلط تھی یہ وہ دور ہے جس کے بارے میں کسی شاعر نے ایک مصر عے میں پتے کی بڑی بات کہی ہے ”دوڑ و زما نہ چال قیامت کی چل گیا“ اب کوئی بڑی شخصیت اپنے گھر میں راکٹ، میزائیل، بم اور گو لی سے لا کھ محفوظ ہو مو ت کی افواہ سے محفوظ نہیں کسی سہا نی شام یا سہا نی صبح کسی بھی بڑی شخصیت یا سیلبریٹی (Celebrity) کے ”انتقال پر ملا ل“ کی جھو ٹی خبر آ سکتی ہے.

خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلے گی تعزیت، فاتحہ خوانی کے لئے آنے والوں کی قطار یں لگ جا ئینگی ٹیلیفون پر پیغا مات آنے لگینگے پھر ممتاز شخصیت کو ڈاکٹر عبد القدیرخان اور ملا عبدا لغنی برادر کی طرح اپنی وفات حسرت آیات کی تر دید میں بیان دینا پڑے گا اگر یہ سلسلہ اس طرح جاری رہا تو تردیدی بیان کے بعد ایک اور بیان کے ذریعے مر نے کی افواہ پر تعزیت اور جنا زے کے لئے آنے والوں کا شکریہ بھی ادا کر نا پڑے گا آخر وہ لو گ زحمت کر کے تشریف لائے تھے اس نا گوار صورت حال کا خو ش گوار پہلو یہ ہے کہ بندے کو جیتے جی اندازہ ہو جا تا ہے کہ میرے مر نے پر کون کون تعزیت کرے گا کون جنازے پر آئے گا کس کا فو ن آنے کی امید ہے اور کون میری جدائی کو ملک اور قوم کا نا قا بل تلا فی نقصان قرار دے گا اور کون دور کی یہ کوڑی لائے گا کہ مر حوم کی مو ت سے پیدا ہو نے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو گا.

1970کے عشرے میں تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ کی یو نین فعال ہو اکر تی تھی مختلف نا موں سے دائیں اور با ئیں بازو کی طلبہ تنظیمیں کا م کر رہی تھیں ان دنوں ہما ری یو نیورسٹی کی دیوار وں پر مسلسل چا کنگ ہو رہی تھی ”طو فا ن کو رہا کرو“ایسا لگتا تھا بہت بڑا لیڈر گرفتار ہوا ہے ان کی رہا ئی کے لئے اتنی زبردست تحریک اُٹھے گی کہ یو نیور سٹی کو بند کر نا پڑے گا امتحا نات منسوخ کر نے پڑینگے ہاسٹلوں کو خا لی کیا جا ئے گا مہینہ دو مہینہ تک کچھ بھی نہیں ہوا تو تجربہ کار دوستوں نے ہمارے علم میں یہ کہہ کر اضا فہ کیا کہ طوفان خود راتوں کو گھومتے ہوئے دیواروں پر اپنی گرفتاری کی خبر اور رہا ئی کی اپیل لگا تا جا تا تھا.

اس نے جستی چادر کا ایک بلا ک تیار کیا تھا اس بلا ک کے ساتھ ایک سیڑھی اور کا لے رنگ کے ڈبے اوربرش کو ہاتھ میں لیکر یہ ڈرامہ رچا تا تھاا ور خود کو اس طریقے سے مشہور کر تا تھا اُس وقت سو شل میڈیا ہو تاتو وہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر ارام سے اس طرح کا ڈرا مہ رچا تا ہمارے استاد جی کہتے ہیں کہ مو جود ہ دور کے ڈرامہ باز سیا ستدان اس طرح کے پرو پیگینڈے سے فائدہ اٹھا نے میں ننگ اور عار محسوس نہیں کرینگے خو د اپنی مو ت کی خبر سو شل میڈیا پر وائرل کرینگے اور پھر خو د اس کی پرزور تردید کر کے دو ہفتوں کی مفت پبلسٹی کا لطف اٹھا ئینگے استاد جی کہتے ہیں کہ ”خبر دار ہوشیار“ کی تختی ہر گھر کے دروازے پر لگا نی ہو گی پتہ نہیں کس کی مو ت کی جھوٹی خبر دشمن پھیلا ئے اور کس کی مو ت کی افوا ہ دوستوں کی طرف سے وائر ل ہو جا ئے اگر بندہ خبردار اور ہوشیار رہے گا تو بروقت اپنی مو ت کی تر دید کر سکیگا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
52475

داد بیداد ۔ اعتماد سازی ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ اعتماد سازی ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان خلیج روزبروز بڑھتی جا تی ہے تعلقات میں تعطل روبروز بڑھتا جا تا ہے یہاں تک نو بت آگئی ہے کہ دنوں بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں اس گلی میں نہ پیچھے مڑ نے کی گنجا ئش ہے نہ آگے جا نے کا راستہ ہے سوشل میڈیا پر ایک بڑے پا یے کے دانشور نے تجویز دی ہے کہ جمہوریت ہمارے ملک کے لئے مو زوں طرز حکومت نہیں اس کا کوئی بہتر نعم البدل ڈھونڈ لیا جا ئے یعنی بادشاہ ہت لائی جا ئے اور ”مغل اعظم“ کے دور میں سکون امن یا آشتی کی زندگی گذار ی جا ئے دانشور نے طنزاً یہ بات نہیں لکھی انہوں نے دلیل دی ہے کہ جمہوریت میں اخراجات بہت ہیں الیکشن کا خر چہ، ارا کین پا رلیمنٹ کا خر چہ، کا بینہ کا خر چہ، پھر الیکشن،پھر اتنے سارے انتشار، غل غباڑے، ہلہ گلہ، شور شرابہ اور بے اطمینا نی کے سوا کچھ نہیں سوشل میڈیا پر دانشور کی یہ تجویز سب کو بری گلی سب نے اس کی مخا لفت کی بعض دوستوں نے دانشور کو جلی کٹی سنا ئیں.

اب یہ طوفان نہیں تھما تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س سے صدر مملکت کے خطاب کی گھڑی آگئی یہ چو تھے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہو نے والا آئینی خطاب تھا اس کو دستور یا Ritualکی حیثیت حا صل ہے صدر مملکت خطاب کے لئے روسٹرم پر آئے تو حزب اختلا ف نے شور شرابہ کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا پہلے ایوان کو مچھلی بازار بنا یا پھر واک آوٹ کر کے با ہر نکل گئے اندر والوں نے سُکھ کا سانس لیا ”جان بچی لا کھوں پا یے“ یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا 1989سے مسلسل ایسا ہو تا آرہا ہے غلا م اسحا ق خان کے خطاب سے یہ منفی روایت شروع ہوئی فاروق لغا ری، رفیق تارڑ، پرویز مشرف، آصف زرداری اور ممنون حسین سے ہوتی ہوئی یہ روایت عارف علوی تک آگئی ہے کسی بھی حزب اختلا ف کو اس روایت سے انحراف کی تو فیق نہیں ہوئی.

شا ید فیس بک والے دانشور نے درست بات کہی ہے ہمیں مغل اعظم کی باد شا ہت چاہئیے مگر یہ تفنن کی بات نہیں طنز و تشنیع کا معا ملہ نہیں سنجیدہ مو ضوع ہے حا لات حا ضرہ کی ایک تصویر ہے قومی زند گی کا ایک عکس ہے ہماری جمہوریت کا آئینہ ہے پارلیمنٹ کے اندر ہٹلر بازی کی طرح پارلیمنٹ سے باہر بھی رسہ کشی اور کھینچا تا نی ہورہی ہے گرما گرم مو ضوع الیکٹر انک ووٹنگ مشین ہے جس طرح حکومت نے قومی مفا ہمت (NRO) کو گا لی کا در جہ دیا ہے با لکل اسی طرح حزب اختلاف نے الیکٹرا نک ووٹنگ مشین کو دھا ندلی کا معمہ بنا دیا ہے حالانکہ نہ این آر او بری چیز ہے نہ الیکٹرا نک ووٹنگ مشین دھا ندلی کی نشا نی ہے.

حکومت نے اسمبلی میں پیش کر نے کے لئے جو بل تیار کیا ہے اس بل میں انتخا بی اصلا حات کا پورا پیکچ ہے چو نکہ اسمبلی میں حکومت کے پاس دو تہا ئی اکثریت نہیں اس لئے اس بل کو مشتہر نہیں کرتی اچا نک پا س کر نا چا ہتی ہے حکومت کو شک ہے کہ حزب اختلاف نے اگر بل کو پڑھ لیا تو پا س کرنے نہیں دیگی حزب اختلا ف کو شک ہے کہ حکومت الیکٹرا نک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹ چوری کرنا چا ہتی ہے گو یا ”دنوں طرف آگ ہے برا بر لگی ہوئی“ دونوں ایک دوسرے پر اعتما د نہیں کر تے جس طرح دو دشمن ملکوں کو مذ اکرات کی میز پر لا نے کے لئے اعتما د کی فضا پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے اعتما د سازی کو CBM کہا جا تا ہے اسی طرح ملک کے اندر دو متحا رب دھڑوں کو ایک دوسرے کے قریب لا نے کے لئے اعتما د سازی ہو نی چاہئیے اعتما د بحا ل ہو گا تو بات آگے بڑھے گی.

ہونا یہ چا ہئیے تھا کہ حکومت اور حزب اختلا ف مل کر عبوری حکومت کی ضرورت کو ختم کر کے بر سر اقتدار جما عت کو انتخا بات کر انے کی ذمہ داری دیدیتے ساری دنیا میں ایسا ہی ہو رہا ہے کتنی خوش آئیند بات ہو تی اگر مو جودہ حزب اختلا ف الیکٹر انک ووٹنگ مشین کا خیر مقدم کر تی پوری دنیا میں یہ مشین استعمال ہور ہی ہے پڑوسی ملک میں بھی اس کو کا میا بی سے استعمال کیا جا رہا ہے ہم مشین سے کیوں خوف زدہ ہیں؟

یہ احساس کمتری کی علا مت ہے ہم نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ حکومت مشین کے ذریعے ہمیں ہرا نا چاہتی ہے ہم نے کیسے فرض کر لیا کہ سمندر پار پا کستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی صورت میں ہم شکست کھا ئینگے حکومت اور حزب اختلا ف کے درمیان حا ئل اس خلیج اور تعطل کو دور نہ کیا گیا تو ”مغل اعظم“ کو واحد حل کے طور پر سامنے لا نے والوں کی تعداد میں روز بروز اضا فہ ہو گا، جمہوریت پر سے عوام کا اعتما د اُٹھ جا ئے گا اعتما د سازی کے لئے حکومتی حلقوں سے صدر عارف علوی، سپیکر اسد قیصر اور وزیر دفاع پرویز خٹک موثر کر دار ادا کر سکتے ہیں حزب اختلا ف کے کیمپ میں مو لا نا فضل الرحمن، میاں شہباز شریف اور آصف زرداری ایسے قائدین ہیں جو تعطل کو دور کر کے اعتما د کی فضاء بحال کر سکتے ہیں سیا ست میں دو جمع دو کا جواب ہمیشہ چار نہیں آتا تین کو بھی درست ما نا جا تا ہے پا نچ کو بھی درست ما نا جا تا ہے یہی جمہوریت کو بچا نے کا فارمو لا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
52434

داد بیداد ۔ سیاسی بیداری کی آزما ئش ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

کنٹونمنٹ بور ڈ کے انتخا بات کو پا کستان میں سیا سی بیداری کی آزما ئش قرار دیا جا سکتا ہے یہ انتخا بات ایسے وقت پر ہوگئے جب بلدیاتی انتخا بات میں چھ مہینے رہ گئے ہیں عام انتخا بات میں دو سال رہتے ہیں ایسے وقت پر ملک کی تما م چھا ونیوں میں بورڈ وں کے انتخا بات کا انعقاد بہت مشکل فیصلہ تھا حکومت نے بڑی سوچ بچار کے بعد انتخا بات کی تاریخ کا اعلان کیا اور خیر سے انتخا بات ہو گئے اگلے چند دنوں میں کنٹونمنٹ بورڈوں کے منتخب نما ئیندے حلف اٹھا کر کا م شروع کرینگے یہ درحقیقت سیا سی بیداری کی ازمائش تھی الیکشن کے دن ہم نے پریس کلب کے ہا ل میں بیٹھ کر گزارا ٹیلی وژن پر گھنٹے گھنٹے کی خبریں آرہی تھیں سوشل میڈیا پر بھی ہرگھنٹے کی خبریں تقسیم کی جا رہی تھیں ان خبروں میں کراچی سے لیکر کوئٹہ، سیا لکوٹ سے لیکر پشاور تک ہر حلقہ انتخا ب سے، ہر وارڈ اور ہر پو لنگ سٹیشن سے سیا سی پارٹیوں کے درمیاں ہاتھا پا ئی اور گا لم گلوچ کی باتیں آرہی تھیں پو لیس کے ہاتھوں کار کنوں کی گرفتا ریاں دکھا ئی جا رہی تھیں.

ان خبروں پر تبصرہ ہو رہے تھے ذرائع ابلا غ پر جو تبصرے ہورہے تھے ان میں ہمارا کوئی حصہ نہیں تھا البتہ پریس کلب کی حد تک ہم بھی اپنے تبصرے کر رہے تھے ایک سینئر اخبار نویس اپنے نما ئندوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے دس بارہ فو ن کا لیں سننے کے بعد انہوں نے سرد آہ بھر تے ہوئے کہا ہمارے سیا سی کا رکنوں میں سیا سی بیداری نا م کی کوئی چیز نہیں ہے ہماری سیا سی جما عتیں انتخا بات کا سامنا کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہیں مجلس میں بیٹھے ہوئے سیا سی کا رکن نے اخبار نویس کے جواب میں کہا کہ یہ قصور سیا سی کار کنوں کا نہیں سیا سی جما عتوں کے سر براہوں کا قصور ہے.

ہمارے ہاں 15قابل ذکر سیا سی جماعتوں کے تما م لیڈر ایک دوسرے کو سیا سی مخا لف سے زیا دہ ذا تی دشمن قرار دیتے ہیں جا نی دشمن قرار دیتے ہیں لیڈر کی تقریر کو اس کے کار کن اپنے لئے نمو نہ اور مشعل راہ سمجھتے ہیں چنا نچہ جس کار کن کے ہاتھ میں ما ئیک آجا تا ہے وہ مخا لف پر بمبا ری شروع کر تا ہے اچھا مقرر اور اچھا کار کن اس کو سمجھا جا تا ہے جس کی زبان تلخ ہو جس کے لہجے میں کڑوا ہٹ ہو اور جو مخا لف کو جی بھر کر طعنے دیتا ہو گا لی دیتا ہو زبان پر آنے والی یہ تلخیاں ہاتھوں میں بھی آجا تی ہیں ہا تھوں سے اسلحہ اور ڈنڈوں تک آجا تی ہیں اگلا ٹکٹ اس کو ملتا ہے جو پکڑا گیا ہو حوالات میں ڈالا گیا ہو قیدو بند سے گذرا ہوا ہو اس کو ”نر بچہ“ کہا جا تا ہے.

صحا فیوں نے سیا سی کار کن کو غور سے سنا اس کی با توں میں تجربے اور مشا ہدے کا وزن تھا وہ گھر کا بھیدی تھا جو لنکا ڈھا رہا تھا ہمارے ایک دوست نے لقمہ دیا اگر یہ حا لت رہی تو بلدیا تی انتخا بات کس طرح ہو نگے اور پھر عام انتخا بات کا کیا ما حول ہو گا؟ بات دل کو لگی ایک اخبار نویس نے کہا بلدیا تی انتخا بات بھی ہو نگے عام انتخا بات بھی ہو نگے افغا نستا ن میں جنگ کے دوران چار انتخا بات ہو ئے ان انتخا بات میں لا قا نو نیت کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا دوسرے اخبار نویس نے نفی میں سر ہلا تے ہوئے کہا افغا نستان اور پا کستان میں فرق ہے .

وہاں جنگ کی حا لت میں بھی ملکی نا موس، قومی غیرت اور ننگ کا خیال رکھا جا تا ہے ہمارے ہاں امن کی حا لت میں بھی اپنی پارٹی کے لیڈر کو ملک اور قوم کے مقا بلے میں اولیت اور فو قیت دی جا تی ہے یہاں ملک اور قوم کی عزت و نا مو س کا ذکر نہیں ہوتا اپنے لیڈر کو دکھا نے کا شوق، جو ش اور جذبہ ہوتا ہے اور یہی جو ش و جذبہ لا قا نو نیت کی راہوں کو ہموار کرتا ہے ملک اور قوم گھوڑا ہے سیا سی لیڈر تا نگہ ہے گھوڑے کو آگے با ندھو گے تو یہی حال ہو گا جو ہمارا ہوا ہے ہمارے ایک دوست نے اخبار سے نظریں ہٹا کر چشمے اتارے پیا لی سے چا ئے کا گھونٹ لیا ا

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52385

داد بیداد ۔ مفت مشورہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

آج کل میڈیا میں مفت مشوروں کا بڑا چر چا ہے اس کو جمعہ بازار یا اتوار با زار اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر پیسہ نہیں لگتا بھاؤ تاؤ نہیں ہوتا بز عم خود بزر جمہروں اور دانشوروں کی طرف سے افغا نستا ن کی نئی قیا دت کو مفت مشورے دئیے جا رہے ہیں کچھ نا بغہ روز گار مشورہ باز ایسے بھی ہیں جو پا کستان کی تین سال پرا نی حکومت کو 2028تک حکومت کرنے کے لئے تیر بہدف نسخے بتا رہے ہیں اور مفت مشوروں سے نواز رہے ہیں ہمارے ایک دوست ہیں اُن پر ہر سال مشورہ بازی کا زبردست دورہ پڑ تا ہے جب دورہ آتا ہے تو وہ پرانے اور نئے مشوروں کی پوٹلی کھولتے ہیں اور فی سبیل اللہ تقسیم کر تے ہوئے نظر آتے ہیں.

آج صبح میں نے دیکھا مو صوف سات سمندر پار بیٹھے ہوئے سپر پاور امریکہ کو مفت مشوروں سے نواز رہے تھے انہیں یہ زعم تھا کہ امریکہ افغا نستا ن سے بے آبرو ہو کر نکلنے کے بعد دنیا میں نا م کما نے کا ابرومندا نہ راستہ تلا ش کر رہا ہے حا لانکہ واشنگٹن اور نیو یارک سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہمارے ایک دوسرے دوست کے پا س عالم اسلا م کے لیڈروں کے لئے مفید مشوروں کا تازہ سٹاک آیا ہوا ہے وہ صدر اردگان، صدر رئیسی اور شاہ سلمان بن عبد العزیز کو اپنے مفید مشوروں سے رات دن نواز رہے ہیں مفت مشورہ دینے والوں کا ایک المیہ ہے کہ وہ دوسری طرف سے مشورے کا رد عمل نہیں دیکھتے اور یہ بھی نہیں دیکھتے کہ جس کو مفت مشورہ دیا جا رہا ہے اس کو مشورے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ مفت مشورے اپنے پا س سنبھا ل کر رکھو ملا ہیبت اللہ، ملا عبد الغنی برادر یا ملا حسن اخو ند کو مشوروں کی ضرورت پڑی تو وہ آپ کو کا بل بلا ئینگے یا خو د چل کر آ پ کے پا س آئینگے کہ پیا سا کنوئیں پر جا تا ہے کنواں پیا سے کو نہیں ڈھونڈ تا مگر میرا دوست نہیں ما نتا وہ کہتا ہے کہ مشورہ اما نت ہے اما نت ہر حال میں ان تک پہنچا نی چا ہئیے محض دل لگی کے لئے میں نے کہا اگر ان کو اس اما نت کی ضرورت نہ ہو، مشورہ باز نے بلا تو قف جواب دیا میرے سر سے بوجھ اتر جا ئے گا میں نے کہا تمہارے سر پر کس نے یہ بو جھ رکھا ہے؟ اُس کے پا س جواب نہیں تھا تا ہم میں سمجھ گیا مشورہ باز کی مثال انڈے دینے والی مر غی اور نظم کہنے والے شاعر کی طرح ہو تی ہے جب تک وہ ”ڈیلیور“ نہ کرے اُس کو سکون نہیں ا ٓتا.

اس لئے وہ مشورہ اپنے پا س نہیں رکھ سکتا 50مر د ایک میز کے ارد گرد بیٹھ کر اس بات پر افسوس کر تے ہیں کہ امارت اسلامی افغا نستا ن کی کا بینہ میں کوئی خا تون کیوں نہیں؟ ان کا مشورہ یہ کہ دو چار خواتین ضرور ہو نے چا ہئیں ان مشورہ بازوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم پچاس مر د یہاں خواتین کے حقوق کا دکھ سنبھالے بیٹھے ہو دو چار خواتین کو اپنے گرد پ میں جگہ کیوں نہیں دیتے َ؟ اس قسم کے دو چار سوالات آجا ئیں تو مشورہ بازوں کا نا طقہ بند ہو جا ئے گا ہمارے ایک دوست نے وزیر اعظم عمران خا ن کو مفت مشورہ دیا ہے کہ ڈالر کو 60روپے کے برابر لاؤ، آٹے کی 20کلو والی پیکنگ 800روپے کا لگاؤ چینی 55روپے کلو تک نیچے لے آؤ پیٹرول 70روپے اور ڈیزل 65روپے لیٹر لگاؤ.

2023ء میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ جیتو اور 2028تک جم کر حکومت کرو ہم نے مشورہ باز سے تین بے ضرر سوالات پوچھے عالی جا ہ یہ بتائیے وقت کے پہئیے کو پیچھے گھما کر 2021سے 1998کی سطح پر لے جا نے کا آلہ کب ایجا د ہوا؟ یہ آلہ کہاں دستیاب ہے؟ اور کتنے کا آتا ہے؟ مو صوف نے برا منا یا اور مجلس سے اُٹھ کر جا نے میں عا فیت محسوس کی دراصل مفت مشورہ دینے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ مشورہ تراشنے پر کوئی خر چہ نہیں آتا، کوئی مشقت اور محنت نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ جو بھی گھر سے با ہر نکلتا ہے مفت مشوروں کی زنبیل لیکر آتا ہے اور بلا ضرورت بے تکان بانٹتا جا تا ہے ہمارا مفت مشورہ یہ ہے کہ مفت مشورے اپنے پا س رکھو

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
52326

داد بیداد ۔ میرے وطن کے سجیلے جوانو! ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

یوم دفاع کے ساتھ یو م شہدا ہر سال تزک و احتشام کے ساتھ منا یا جاتا ہے اس سال بھی روا یتی جو ش اور جذبے کے ساتھ یہ دن منا یا گیا یوم شہدا کی سب سے بڑی تقریب جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی مقا می تقریبات ملک بھر میں منعقد ہوئیں جہاں دفاع وطن کے لئے شہدائے قوم کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ان تقریبات میں شہیدوں کے ورثا ء کو تحا ئف پیش کئے گئے آر می کے حا ضر سروس افیسروں نے شہدا ء کے گھر وں میں جا کر ان کے اہل خا نہ کی دلجو ئی کی گلگت میں فورس کما نڈاور دوسرے افیسروں نے شہدا ء کے ورثا ء سے ملا قا تیں کیں چترال سکا وٹس کے کما نڈنٹ کرنل محمد علی ظفر اور دوسرے افیسروں نے شہدا کے ورثا ء کی دلجو ئی کی اس سلسلے کی تقریبات میں چترال فورٹ کے اندر منعقد ہونے والی تقریب یاد گار تھی اس تقریب میں شہدا ء کے ورثا ء نے کثیر تعداد میں شر کت کی تقریب میں سول انتظا میہ کے حکام، علما ء، عما ئدین، سیا سی اکا برین اور فو جی حکام بھی مو جو د تھے .

کمانڈنٹ چترال سکا وٹس نے یا د گار شہدا ء پر پھول چڑ ھا کر تقریبات کا افتتاح کیا تلا وت کلا م پاک کے بعد شہداء کی ارواح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوا نی ہوئی فر نٹیر کور پبلک سکول کے طلباء اور طا لبات نے ملی نغموں سے محفل کو گر ما یا اور موقع کی منا سبت سے ٹیبلو پیش کر کے داد حا صل کی چیف آف آر می سٹاف جنرل قمر جا وید باجوہ کا خصو صی پیغام پڑھ کر سنا یا گیا مختصر پیغام میں آر می چیف نے دفاع وطن کے لئے پا ک فو ج کی شاندار خد مات کا ذکر کر نے کے بعد اس بات کا اعادہ کیا کہ پا ک فو ج ملکی سر حدات پر منڈ لا نے والے خطرات کا مقا بلہ کرنے کے لئے پوری عزم وہمت کے ساتھ کمر بستہ ہے نیز اندرون ملک دہشت گردی اور بد امنی کرنے والے ملک دشمن عنا صر کے ساتھ بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنا جا نتی ہے قوم نے دہشت گردی سے نجا ت کے لئے 86ہزار فو جی اور سویلین جا نوں کی بیش بہا قر با نی دی ہے آئیندہ بھی ملک دشمن عنا صر کو سر اٹھا نے کی اجا زت نہیں دی جا ئیگی

کما نڈنٹ چترال سکا وٹ کرنل محمد علی ظفر نے اپنے خطاب میں پا ک فوج، فرنٹیر کور، فرنٹیر کانسٹبلری، خیبر پختونخوا پولیس، لیوی اورچترال سکا وٹس کے شہدا ء کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنا آج قوم کے کل کے لئے قربان کر کے اپنی سب سے قیمتی متاع اپنی پیا ری جا ن قوم پر نچھا ور کی انہوں نے شہدا ء کے وارثوں کو یقین دلا یا کہ پا کستان کی حکومت پا ک فوج اور قوم ان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ ے گی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حیات شاہ نے جنگ اور امن کے زما نے میں قوم اور اہل وطن کے لئے پا ک فو ج، فرنٹیر کور اورخصو صاً چترال سکا وٹس کی خد مات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب بھی ضرورت پڑی سول انتظا میہ نے چترال سکا وٹس کے افیسروں اور جوا نوں کو مستعد اور چاق و چو بند پا یا بیرونی حملہ، اندرونی دہشت گردی، بد امنی یا سیلا ب اور زلزلے جیسی آفات کے مواقع پر فورس نے عوام کی شاندار خد مات انجا م دی ہے.

ایس پی انوسٹی گیشن محمد خا لد خان نے فصیح و بلیع اور دھوا ں دار تقریر میں پو لیس اور فو ج کے ساتھ ساتھ عام شہر یوں کی شہا دتوں کا ذکر کیا اور اپنے پر جو ش اسلو ب بیان سے محفل کو گر ما یا سابق ضلع نا ظم حا جی معفرت شاہ نے کہا 1965کی جنگ ہمیں فو ج اور شہری آبادی کے اشتراک عمل کی یا د دلا تی ہے جب پوری. قوم پا ک فو ج کے شا نہ بشا نہ کھڑی تھی جب نسلی تعصب نہیں تھی جب فر قہ ورانہ منا فرت نہیں تھی آج بھی ہم تما م تعصبات کو بالا ئے طاق رکھ کر پا ک فو ج کے ساتھ دیں تو بڑے سے بڑے دشمن کو شکست فاش دے سکتے ہیں.

خا کسار نے مختصر لفظوں میں 1965ء کی جنگ کا ذکر کر نے کے بعد شہدائے وطن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پا ک فو ج کے افیسروں اور جوانوں کواپنی شہادت کا علم ہو تا ہے کوئی سال پہلے کوئی 6ماہ پہلے کوئی 3ماہ پہلے اپنی شہا دت کی بشارت دیتا ہے کپٹن اجمل شہید (تمعہ بسا لت) نے 3ہفتے پہلے عندیہ دیا تھا کہ وہ دور جا رہا ہے اپنے پاوں پر چل کر نہیں آئے گا قومی پر چم میں لپیٹ کر لا یا جا ئے گا حوالدار محمد یو سف نے 3ماہ پہلے اپنے مزار کے لئے چترال سے شندور اور گلگت جا نے والی شاہراہ پر زمین خرید کر برف ہٹا یا زمین کو ہموار کر کے اپنے کنبہ کو بتا یا کہ گاڑی قبرستان میں آسکے گی افیسروں کے لئے قبرستان میں اتر نا آسان ہو گا یہ شہدا ء کا وجدان ہے جو ان کو آنے والے وقت کی بشارت دیتا ہے اور وہ قرون اعلیٰ کے مسلما نوں کی طرح پر عزم ہو کر موت کو گلے لگا تے ہیں۔

چترال
چترال
چترال
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52224

داد بیداد ۔ مشروب پشاور ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

لکھی فقیر کا شربت شکن جبین پشاور کا ایسا تخفہ تھا جو 1960ء کے عشرے میں گرمی کا واحد علا ج تھا وہ زما نہ ایسا تھا جب رنگ رنگ کے مشروبات نہیں آئے تھے جگہ جگہ ڈیپ فریزر نہیں رکھے تھے 18اقسام کی ٹھنڈی جدید بو تلوں کے ساتھ کئی اقسام کی دو نمبر بو تلیں ما رکیٹ کے اندر گردش نہیں کر رہی تھیں بو تل کا نا م مشروب کے لئے استعمال بھی نہیں ہو تا تھا اب یہ حال ہے کہ کوئی آپ کی تواضع کر نا چا ہے تو مشروب کا نا م نہیں لیتا بلکہ یو ں کہتا ہے ”آپ کے لئے بو تل لے آتا ہوں“ یا زیا دہ بے تکلف ہو تو شاگرد کو پکارتا ہے ”اوئے چھوٹے مہمان کے لئے بوتل لے آؤ“ مجھے یا د ہے مئی 1971ء میں پہلی بار پشاور آیا تو لغل خا ن مجھے چوک یا د گار کی سیر پر لے گیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے آسا ما ئی گیٹ کے راستے اندر شہر میں داخل ہوئے چوک یاد گار پہنچنے کے بعدمو چی لڑہ اور گھنٹہ گھر کا چکر لگا یا واپسی پر ہم نے دوسرا راستہ اختیار کیا.

داہنے ہاتھ مڑ نے کے بعد ہمارے دائیں طرف لکھی فقیر کا سادہ بورڈ نظر آیا بورڈ کے سامنے سے گذر تے ہوئے لغل خا ن نے کہا پشاور کا مشہور شربت آپ کو پلا تا ہوں دروازے کے اندر داخل ہوئے تو کا فی وسیع جگہ تھی دیواروں پر آیا ت قرآنی اور احا دیث کے علا وہ اولیائے کرام کے اقوال، علا مہ اقبال،شیخ سعدی شیرازی اور دوسرے بزرگوں کے اشعار لکھے ہوئے تھے ایک بڑی تختی سامنے نظر آرہی تھی جس پر لکھا تھا ”شربت شکن جبین“ چند چھوٹی چھوٹی تختیاں تھی ایک تختی پر لکھا تھا ”یہاں جناب والا کو پر چی دی جا ئیگی“ ہم نے قطار میں کھڑے ہو کر پر چیاں لے لیں یہ ایک گلاس شربت کی پر چی تھی جو 25پیسے میں آتی تھی پر چی لینے کے بعد ہم دوسری قطار میں کھڑے ہو ئے اب ہمارے سامنے دوسری تختی تھی اُس پر لکھا تھا ”یہاں جناب والا کی خد مت میں شربت شکنجبین پیش کی جائیگی“ قطار میں کھڑے ہو کر ہم نے اوپر دیوار پردیکھا جلی حروف میں لکھا تھا ؎
گنج بخش،فیض عالم، مظہر نو رخدا
نا قصاں را پیر کا مل، کا ملاں رار ہنما


تھوڑی انتظار کے بعد ہماری باری آئی تو بڑے گلا س میں شکنجبین کا شربت ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا گیا شربت کا ذائقہ چکھنے سے پہلے ہم نے سلو ر کے خوب صورت گلا س کو بار بار دیکھا اب ہمارے سامنے والی قطار ایک اور تحتی کی طرف آگے بڑھ رہی تھی تختی پر لکھا تھا ”یہاں جناب والا کو کر سی پیش کی جا ئیگی، اس جگہ چھوٹی چھوٹی خو بصورت کر سیاں بھی رکھی تھیں بینج بھی رکھے تھے لغل خا ن خو د پینج پر بیٹھ گئے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اب شر بت شکنجبین کا ذائقہ چکھنے کی باری آئی تو ہم حیرت کی دنیا میں چلے گئے مئی کی گر می میں ایسا احساس ہوا کہ ہم سطح سمندر سے 960فٹ کی بلندی پر پہاڑی چشمے کے پا نی سے لطف اندوز ہورہے ہیں مگر پا نی کا ذائقہ ایسا ہے جو زندگی بھر ہم نے کبھی نہیں چکھا.

اور سچی بات یہ ہے کہ لکھی فقیر کے آستا نے کے سوا کہیں بھی یہ ذائقہ چکھنے کو نہیں ملتا یہاں کا ما حول ایسا تھا جیسے ائیر کنڈیشنز لگا ہو حالانکہ چھت کی بلندی سے معمو لی پنکھے ہوا دے رہے تھے شربت پینے کے بعد با ہر نکلنے کو جی نہیں چا ہ رہا تھا مگر ہم نے بائیں طرف دیکھا تو ایک اور تختی نظر آئی جس پر لکھا تھا ”یہاں آپ کی اگلی آمد کے انتظار کی جگہ ہے اب تک کے لئے ہم آپ کا شکر یہ ادا کرتے ہیں“ تختی کی عبارت نے ہمیں با ہر جا نے کا راستہ دکھا یا، با ہر نکل کر مسجد مہا بت خا ن روڈ پر واپس جا تے ہوئے ہم نے شر بت شکنجین سے زیا دہ آستا نہ لکھی فقیر کے ما حول کا ذکر کیا اس ما حول کی رو حا نی کیفیت کا ذکر کیا لغل خا ن نے اپنے تجربے اور مشا ہدے کی بنیا د پر بتا یا کہ یہ صرف شربت نہیں بلکہ دوا بھی ہے اس میں دوا سے زیا دہ دُعا کا اثر ہے لکھی فقیر ایک خدا رسید ہ بزرگ تھے انہوں نے یہاں شربت کی سبیل لگائی اور اس سبیل سے خلق خدا کو فیض پہنچتا ہے پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم نے عظمت بلڈنگ میں کمر ہ لے لیا لکھی فقیر کا آستا نہ ہمارے پڑوس میں تھا مجھ سے زیا دہ یو سف شہزاد کو پسند آیا اور ہم ہر روز مشروب پشاور سے لطف اندوز ہونے لگے پشاور کے مصروف کاروبار ی مر کزمیں لکھی فقیر کا آستا نہ ہمارے لئے نعمت سے کم نہیں تھا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52134

داد بیداد ۔ سید علی شاہ گیلا نی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ سید علی شاہ گیلا نی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

جموں و کشمیر کی مقتدر سیا سی شخصیت اور حریت کا نفرنس کے رہنما سید علی شاہ گیلا نی 92برس کی عمر میں انتقال کر گئے ان کے پسما ند گان میں 3بیٹوں اور چار بیٹیوں کے علا وہ بر صغیر پا ک و ہند کے 50کروڑ مسلما ن اور آزادی کی جدو جہد کرنے والے ڈیڑھ کروڑ کشمیری بھی شا مل ہیں میرا گھر خیبر پختونخوا کے شمال مشرق میں شندور کی وادی کے اندر 9000فٹ کی بلند ی پر واقع گاوں با لیم میں واقع ہے میرے والد صاحب 1965ء سے ریڈیو پر سید علی گیلا نی کی سر گر میوں کو سنتے اور ڈاک کے ذریعے آنے والے رسائل و جرائد میں ان کی تقریریں اور انکے بیا نا ت تصویروں کے ساتھ دیکھتے آرہے تھے .

کشمیر کی آزادی کے لئے جدو جہد کے ساتھ جما عت اسلا می کے ساتھ وا بستگی بھی میرے والد صاحب کے لئے ان کا معتبر حوا لہ تھا ان کی وفات کی خبر آگئی تو گھر کے افراد نے ایسا محسوس کیا جیسے ہمارا چچا یا ما مو ں ہم سے جدا ہوا ہو یہ اپنائیت ان کے اخلا ص کا ثمر ہے دور دراز رہنے والے لوگ بھی ان کو اپنے دل کے قریب سمجھتے تھے اور یقینا وہ ہمارے دل کے قریب تھے عام طورپر علی گیلا نی کے نا م سے شہرت رکھنے والے کشمیری رہنما کا تعلق بارہ مولا کے گاوں سو پور سے تھا انہوں نے ابتدائی تعلیم سری نگرسے حا صل کی اور لا ہور سے اپنی تعلیم مکمل کی اورینٹل کا لج پنجا ب یونیورسٹی کے گریجو یٹ تھے جہاں ادبی اورعلمی شخصیات کے ایک کہکشاں سے انہوں نے کسب فیض کیا ان کے اسا تذہ میں حا فظ محمود شیرانی، ڈاکٹر سید عبد اللہ، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، سید عابد علی عابد، سیدوقار عظیم اور ڈاکٹر وحید قریشی جیسے بلند پا یہ ادیب شا مل تھے.

ان کی خود نو ست سوانح عمری ”روداد قفس“ ان کے اعلیٰ ادبی ذوق کا آئینہ دار ہے یہ کتاب آپ نے بھارتی جیلوں میں قید کا ٹتے ہوئے لکھی ہے اس میں کشمیر کی تحریک آزادی کی تاریخ بھی ہے سید علی شاہ گیلا نی کے وسیع مطا لعے اور مشا ہدے کا نچوڑ بھی دیکھنے کو ملتا ہے یکم ستمبر 2021کی رات 10بجے سید علی گیلا نی کے انتقال کی خبر ملتے ہی قا بض بھارتی فوج نے سری نگر، سوپور، بارہ مولا اور نوا حی شہروں میں کر فیو لگا دی، سڑکوں پر خاردار تاروں کی رکا وٹیں بچھا کر لو گوں کو باہر نکلنے سے منع کیا اور ان کے خاندان پر دباؤ ڈال کر انکی وصیت کے خلا ف صبح 4بجے انہیں خا مو شی سے گھر کے قریب دفن کروا دیا حا لا نکہ ان کی وصیت یہ تھی کہ انہیں شہدا کے قبرستان میں سپر د خا ک کیا جا ئے ان کے تد فین کے بعد بھی کر فیو بر قرار رہا اور پا بندیاں جاری رہیں.

سید علی گیلا نی کو دو بڑی وجو ہات سے کشمیر ی لیڈوروں میں اہمیت حا صل ہے پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ بر ملا کشمیر کا الحاق پا کستان سے کرنے کے علمبر دار تھے اپنی تقریروں میں کہا کر تے تھے ”ہم پا کستا نی ہیں، پاکستان ہماری منزل ہے “دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے 21سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، 10سال جیلوں میں رہے گیا رہ سال ان کے گھر کو سب جیل قرار دیکر پیرانہ سالی میں نظر بند رکھا گیا اس نظر بندی میں اپنے خا لق حقیقی سے جا ملے بھارتی قابض فو ج کو 92سالہ بوڑھے شیر کی بیماری میں بھی ان کے نا م سے خو ف آتا تھا ان کی وفات کے بعد ان کے جنا زے اور سو گواروں کا خوف قابض فوج پر سوار ہے سید علی گیلا نی کی زند گی کے ادوار کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا تا ہے.

1962سے 1972تک جما عت اسلا می کے رکن اور بعد ازاں امیر کی حیثیت سے خد مات انجام دیئے 1972، 1977اور 1987ء میں مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے آزادی کی آواز ایوا نوں میں بلند کر تے رہے 1989میں اسمبلی کی رکنیت سے استغفٰی دیکر بھارتی قابض فو ج کے خلا ف بغا وت کا اعلا ن کیا 1993ء میں آل پارٹیز حریت کا نفرنس نے انہیں اپنا سر براہ منتخب کیا 2019ء میں کشمیر کی خصو صی حیثیت کو ختم کر نے کے بعد بھارت نے جما عت اسلا می پر پا بندی لگا ئی اس وقت حریت کا نفرنس کے دیگر رہنما وں میں یا سین ملک اور میر واعظ عمر فاروق بھی جیلوں میں قید ہیں ایسے وقت پر علی گیلا نی کی جدا ئی دہرے صدمے کا با عث ہے .

پا کستان میں وزیر اعظم عمران خا ن نے علی گیلا نی کی وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلا ن کیا آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیا زی نے 3روزہ سوگ کا اعلا ن کیا ہے اپنے تعزیتی پیغا مات میں صدر پا کستان عارف علوی، صدر آزاد کشمیر برسٹر سلطان محمود چوہدری، وزیر اعظم عمران خا ن، وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبد القیوم نیا زی، وفا قی وزرا، اور سیاسی جما عتوں کے قائدین نے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مر حوم حریت پسند لیڈر کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔اسلام اباد اور دوسرے شہر وں میں غا ئبانہ نما ز جنا زہ بھی ادا کی گئی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
52043

داد بیداد ۔ جوڑ اور توڑ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

آج ایک بزرگ سے ملا قات ہوئی وہ گھر سے ٹیلیو یژن کو نکا ل با ہر کر رہے تھے پوچھنے پر بتا یا میں نے اس ملک کی خاطر 1965ء اور 1971ء میں دو خطرنا ک جنگیں لڑی ہیں اس ملک کے ساتھ میرا رشتہ صرف مٹی کا نہیں بلکہ خون کا بھی رشتہ ہے صرف ٹیلی وژن نہیں میں نے ریڈیو، اخبار اور سو شل میڈیا کے مکمل بائیکا ٹ کا بھی پکا فیصلہ کر لیا ہے بات سمجھ میں نہیں آئی تو بزرگ نے وضا حت کی ملک اور قوم کے بارے میں کوئی اچھی خبر نہیں آتی بری خبریں دیکھنے، سننے اور پڑھنے سے میڈیا کا بائیکا ٹ ہی بہتر ہے کم از کم ذہنی کو فت، پریشا نی اور اعصا بی تنا ؤ سے نجا ت مل جا ئے گی بزر گوں سے بحث مبا حثہ منا سب نہیں تا ہم بزرگ کی خد مت میں اس قدر عرض کیا کہ اس میں خبر رساں کا کوئی قصو ر نہیں لڑ کی اغوا ہو گئی تو اس خبر کو خو ش خبری بنا کر پیش کر نا ممکن نہیں ہے میڈیا معا شرے کا آئینہ ہے جو کچھ سما ج میں ہے وہ آئینے میں نظر آتا ہے خوا جہ میر درد نے بڑی بات کہی ہے ؎


ہر چند ہوں آئینہ پر اتنا ہوں نا قبول
منہ پھر لے جس کے مجھے روبرو کریں


بزرگ کو مختصر جواب دینے کے بعد میں نے اپنے گریبان میں جھا نکنے کی کو شش کی 3دن کے اخبارات کو سامنے رکھا تو بزرگ کی بات میں خا صا وزن نظر آیا ایک طرف کورونا کی وبا ہے دوسری طرف افغا نستان سے پا کستان کا رخ کر نے والے پنا ہ گزینوں کی اطلا عات ہیں افغا ن مسئلے پر پا کستا ن عالمی دباؤ سے دو چار ہے دونوں بڑے عذاب اور دہرے مصائب ہیں لیکن ہمارے ہاں جوڑ اور توڑ کی کیفیت سے فرصت نہیں جوڑ بہت کم اور توڑ بہت زیا دہ دیکھنے میں آتا ہے کرا چی میں حکومت مخا لف پا رٹیوں کا جلسہ اور اسلا م اباد مارچ کا اعلا ن آگیا ہے،

لا ہور میں ڈاکٹر وں کا احتجا ج اور مظا ہرین پر پو لیس کا لا ٹھی چارج، کیمیکل سپرے، اسلا م اباد میں نا درا کے ملا زمین کا دھر نا،وفاقی دار لحکومت سے 7000ملا زمین کے بید خلی کی خبر قانونی جنگ اور احتجا ج کی دھمکی، سب سے بڑے صوبے کے دار لخلا فہ میں میٹرو بس سروس کے ڈرائیور وں کی ہڑ تا ل، سروس کی بندش، منی بسوں اور رکشہ والوں کی من ما نیاں ایک ہی دن کے اخبارات کی زینت بن چکی ہیں گذشتہ 3دنوں کے اندر ملک میں 7کمسن بچیوں کو جنسی ہرا سا نی کا نشا نہ بنا یا گیا، 5لڑ کیوں کو اغوا کیا گیا 11مسخ شدہ لا شیں برآمد کی گئیں پورے مہینے کے اندر جنسی جرائم کے اعداد شمار دل کو وحشت زدہ کر دیتے ہیں عدا لتوں سے جو خبریں آرہی ہیں ان میں 36سالوں سے زیر التوا مقدمات کی سما عت ہو رہی ہے 18سال پرانے مقدمے کا فیصلہ آتا ہے 24سال پرانے مقدمے کو از سر نو تفتیش کے لئے واپس نا ئب تحصیلدار کے پا س بھیجا جا تا ہے.

کا بل میں امارت اسلا می نے ابھی با ضا بطہ اقتدار نہیں سنبھا لا تصویر اور ویڈیو کے ساتھ خبر آگئی چور پکڑا گیا تھا قاضی کے سامنے پیش کیا گیا ایک گھنٹہ بعد کھلے میدان میں لا کر چور کا ہاتھ کا ٹ دیا گیا اس خبر کی ویڈیو کو دیکھ کر سب نے کہا کا ش ہمارے ملک میں جنسی درندگی، چوری، قتل، اغوا، ڈاکہ زنی اور دیگر جرائم میں ملوث جن مجرموں کو 16جو لا ئی سے پہلے گر فتار کیا گیا تھا 30اگست تک ان کو سزائے مو ت اور ہاتھ کا ٹنے کی سزا ئیں دی جا تیں تو معا شرہ کتنا پر امن ہو جا تا 40سال بعد ان مقدمات کے فیصلے ہو نگے

تو اخبار پڑھنے اور ٹیلی وژن دیکھنے والے عوام اس گھنا و نے جر م کو بھو ل چکے ہو نگے اور یہ ضما نت بھی نہیں کہ 40سا لوں کی تھکا دینے والی مقد مہ بازی کے بعد بھی مجر موں کو سزا ملے گی میں نے سما ج کے اندر جھا نکنے کی کو شش کی تو چار خطر نا ک صورتیں سامنے آتی ہیں سیا ستدا نوں کے درمیاں سیا سی مبا حثہ کی جگہ ذاتی دشمنی نے لے لی ہے سول اور فو ج کے تر بیت یا فتہ افیسروں کے خلا ف نا زیبا پرو پیگینڈا چل رہا ہے صنعت و تجا رت اور کارو بار میں نا م پیدا کر نے والے شہریوں کو غلیظ الفاظ میں گا لیاں دی جا رہی ہیں، عدلیہ میں گروہ بندی کا تا ثر پھیلا یا جا رہا ہے جس بزرگ نے 1965اور 1971کی جنگوں میں خو ن کا قطرہ بہا کر ملک کی خد مت کی وہ اس صورت حا ل کو برداشت نہیں کرے گا ؎
نا وک نے تیرے صید نہ چھوڑ ا زما نے میں
مرغ باد نما تڑپے ہے آشیا نے میں

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51959

داد بیداد ۔ دو سیا حتی مقا ما ت ۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ دو سیا حتی مقا ما ت ۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

گر میوں کے 6مہینے پہا ڑی علا قوں کی سیا حت کے مہینے ہوتے ہیں اس دوران سیاح شہروں کی مصروف زند گی سے کچھ وقت نکا ل کر پہاڑی وا دیوں کا رخ کر تے ہیں اس ہفتے کے دوران دو سیا حتی مقا مات پر جا نے والے سیا حوں نے اپنے تجربات اور مشا ہدات میڈیا پر لے آئے کا لم نگار جا وید چوہدری نے 35سیا حوں کے گروپ کے ساتھ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئیر چترال میں وادی کا لا ش کا دورہ کر کے اپنے مشا ہدات بیان کئے محمد فاروق اور فرخ مسعود نے اپنے با ل بچوں کے ہمراہ سو ئٹزر لینڈ کے سیا حتی مقام اینگل بر گ (Engelberg) کا دورہ کر کے اپنے مشا ہدات کو میڈیا کی نذر کیا دونوں سیا حتی مقا ما ت میں ہزاروں کلو میٹر کی دوری ہے ایک ایشیا میں ہے دوسرا یو رپ میں ہے دونوں میں اگر مشترک اقدار ڈھو نڈنے کا کا م کیا جا ئے تو پہا ڑ کے سوا کچھ بھی مشترک نہیں دلچسپ با ت یہ ہے کہ اینگل برگ میں ٹٹلیس (Titlis) پہاڑ کی چوٹی 10620فٹ ہے چترال لوئیر میں لوا ری درے کی بلندی 10500فٹ ہے یعنی دونوں برابر کی بلندی پر واقع ہیں.

اگست کے مہینے میں لواری کا درہ برف سے خا لی ہو چکا ہے جبکہ ٹٹلیس کی چو ٹی پر گلیشر بھی ہے برف بھی ہے اسلا م اباد سے وا دی کا لاش جا نے والے سیا حوں نے پہلے جہا ز کا ٹکٹ لیاجہا ز کی اُس روز والی پرواز مو سم کی خرا بی کی وجہ سے منسوخ ہو نے پر سیا حوں نے اپنے سفر کو دوحصوں میں تقسیم کیا اسلا م اباد سے براستہ چکدرہ دیر تک کو سٹروں میں سفر کیا دیر سے کا لا ش ویلی تک جیبوں میں سفر کیا اسلا م اباد سے دیر تک 340کلو میٹر کا سفر زیا دہ تھکا دینے والا نہیں تھا سیا حوں نے محسوس کیا کہ راستے میں بزر گوں، بچوں اور خوا تین کے لئے واش روم کی ایک بھی سہو لت نہیں کسی ہو ٹل کا دروازہ کھٹکھٹا نا اور اگر وقت رات کا ہو تو کسی اونگھتے ہوئے سیکیورٹی گارڈ کو جگا نا پڑتا ہے جگا نے کے بعد اس کو یہ بھی بتا نا پڑ تا ہے کہ کمرہ یا کھا نا نہیں چا ہئیے صرف واش روم کا سوال ہے.

دیر سے چترال تک 100کلو میٹر کے راستے میں سیا حوں کو وقت کے ضیاع کے ساتھ تھکا وٹ کا بھی گہرا احساس ہو تا ہے چترال سے کا لا ش وادی 27کلو میٹر کا راستہ ہے مگر اس راستے کا خوف اور دہشت سیا ح کو اتنا تھکا دیتا ہے کہ 340کلو میٹر کا سفر اس کے مقا بلے میں کچھ بھی نہیں.

کا لا ش وادی دنیا کے 10خوب صورت ترین سیا حتی مقا مات میں شا مل ہے اس کی منفرد ثقا فت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے مگر وہاں جا نے والے سیاح دونوں کا نوں کو ہاتھ لگا کر تو بہ کر تے ہیں اور حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ سیا حتی مقا مات کی تشہیر سے پہلے سٹرک بنا ؤ، ہو ٹل بنا ؤ، ریسٹو رنٹ بناؤ، واش روم بناؤ جب سہو لیات پوری ہو ں تو اشتہار دیدو کہ سیا حتی مقا م آپ کا منتظر ہے.

سو ئٹزر لینڈ کے دونوں سیاح پا کستا نی ہیں فرخ مسعود کا تعلق کو ہاٹ سے ہے محمد فاروق چترال کے با سی ہیں دونوں کا پختونخوا سے تعلق ہے اینگل برگ (Engelberg)سے دونوں بال بچوں کے ہمراہ ریل میں بیٹھے 3300فٹ کی بلندی پر ریل سے اتر کر کیبل کار کے ذریعے 10620فٹ کی بلندی تک خو ش گوار سفر کیا جب ٹٹلیس کی چو ٹی پر اتر گئے تو ایک نیا جہاں ان کے سامنے تھا گلیشر کو چیرتے ہوئے سرنگوں میں روشن راستے اور برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑ جہاں جرمن، فرنچ اور انگریزی کے علا وہ کسی زبان کا چلن نہیں ان لو گوں نے ٹٹلیس کی چو ٹی پر شاہ رخ خا ن کی تصویر کے ساتھ ان کی فلم کا دیو قامت اشتہار لگا یا ہوا ہے فلم کا نام ہے ”دل والے دلہنیا لے جا ئینگے“ یہاں کے ریستو رانوں میں شاہ رخ خان کے ملک کا پکوان بھی ملتا ہے تا ہم کمبل میں لپٹی ہوئی جو بڑھیا یہاں اپنے پوتے پو تیوں کا انتظار کر رہی تھی اس کے پا س تھر مو س میں اپنی ہندوستا نی چا ئے تھی اور صاف ستھری اردو بول رہی تھی .

سوئس حکومت نے اس سیا حتی مقا م پر فلم کا اشتہار لگا کر ایک ارب سے زیا دہ کی آبادی والے ملک کو سیا حت کی دعوت دینے کا انو کھا انتظا م کیا ہے پا کستانی سیا حوں نے زیو رخ (Zurich) کے چڑیا گھر میں ایسے جا نور دیکھے جن کے نا م لکشمی، دیوی، چکوری وغیرہ تھے پو چھنے پر معلوم ہوا کہ یہ جا نور شارخ خا ن کے ملک نے تحفے میں دیئے تھے یہاں منگو لیا کے خو ش گاؤ (یا ک) چترالی سیا حوں کے لئے خصو صی طور پر باعث مسرت تھے۔دونوں سیا حتی مقا مات کا موازنہ کر نے کے بعد اس پر مزید تبصرے کی ضرورت نہیں رہتی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
51896

داد بیداد ۔ آبادی اور ڈاکٹر ۔ تحریر: ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ آبادی اور ڈاکٹر ۔ تحریر: ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں ممبر اقوام کے اندر آبا دی اور ڈاکٹروں کا تنا سب دکھا یا گیا ہے ترقی یا فتہ اقوام اور ترقی سے محروم اقوام کا فرق نما یا ں کیا گیا ہے رپورٹ میں یہ انکشا ف کیا گیا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے مطا بق ہزار نفوس کی آبا دی کے لئے سر کاری ہسپتال کا ایک ڈاکٹر ہو نا چا ہئیے پا کستان میں 2300کی آبا دی کے لئے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کی گنجا ئش رکھی گئی ہے مگر 70فیصد ہسپتا لوں میں ڈاکٹر دستیاب نہیں رپورٹ کی جو موٹی مو ٹی باتیں اردو میں تر جمہ ہو کر اخبا رات کی زینت بن چکی ہیں۔

ان میں یہ بات بھی آئی ہے کہ اصول کے مطا بق ایک ہزار کی آبا دی کے لئے ایک ڈاکٹر کے ساتھ 4نرس ہو نے چا ہئیں لیکن پا کستان میں 1500کی آبا دی کے لئے ایک نرس ہے وہ بھی اُس آبا دی میں واقع ہسپتال میں نہیں بلکہ قواعد وضوابط کے کا غذات میں ہے رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پا کستان میں 110میڈیکل کا لج ہیں ان میں سے صرف 10کا لجوں میں معیاری تعلیم کا انتظام ہے ان میں سے 8سر کاری شعبے میں اور دو نجی شعبے میں ہیں رپورٹ کا یہ حصہ خا صا تشویشنا ک ہے یعنی نجی کا لجوں سے پچا س کروڑ روپے کے عوض ڈگر ی لیکر آنے والا ڈاکٹر دیہا تی علا قے میں غریب اور نا دار بیمار کا علا ج کیوں اور کسطرح کرے گا۔

فیمیل میڈیکل افیسروں کے بارے میں رپورٹ کے اندر ایک اور تشویشنا ک با ت لکھی گئی ہے بات یہ ہے کہ وہ شادی ہوتے ہی اپنے پیشے کو چھوڑ دیتی ہیں ایک اور انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستا نی ڈاکٹر وں میں ملک چھوڑ نے کا رجحا ن دیگر پیشوں کی نسبت زیا دہ ہے ہر تیسرا ڈاکٹر ملک چھوڑ کر با ہر جا نا چا ہتا ہے اگر پوری رپورٹ کا اردو تر جمہ کیا گیا تو اور بھی کئی ایسے حقا ئق سامنے آئینگے جن کو ہم جا نتے ہیں مگر بتا نہیں سکتے مثلا ً یہ کہ 70فیصد یو نین کونسلوں میں 15000کی آبا دی کے لئے ایک بھی ڈاکٹر یا نرس نہیں 80فیصد تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتا لوں میں علا ج کی بنیا دی ضروریا ت دستیاب نہیں۔

سی ٹی سکین، ایم آر آئی، کلچر وغیرہ کے لئے ایمر جنسی مریضوں کو 300کلو میٹر دور بھیجا جا تا ہے اگر چہ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے ہمارے نظام صحت کا بھا نڈا پھوڑ کے رکھ دیا ہے مگرا س رپورٹ کی روشنی میں اصلا ح احوال کی کوئی امید نہیں وجہ یہ ہے کہ 1980کے عشرے میں منصو بہ بندی اور ترقی کا کام پیشہ ور ما ہرین اور سر کاری افیسروں سے لیکر سیا ستدا نوں کو سونپ دیا گیا ہے سیا ست دا نوں کے ہاں فائل پڑھنے، مشاورت کرنے اور بنیا دی مسا ئل سے آگا ہی حا صل کر نے کا کلچر نہیں ہے اس لئے زندگی کے ہر شعبے میں بنیا دی مسا ئل پر تو جہ دینے کا رواج اور دستور نہیں رہا ۔

محکمہ صحت کو سما جی شعبے کا اہم محکمہ قرار دیا جا تا ہے سما جی شعبے کے کا م کا بڑا حصہ اس شعبے میں انجام پا تا ہے ایک سرکاری ہسپتا ل آر ایچ سی مستوج کو جا پا ن کی حکومت نے ایکسیرے پلا نٹ کا عطیہ دیا یہ پلانٹ 22سال استعمال کے بغیر پڑا رہا 22سال بعد ایک غیر سر کاری تنظیم نے اس پلا نٹ سے کا م لیا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتال چترال کو 2011ء میں ایک غیر سر کاری تنظیم نے کچرا جلا نے کا پلا نٹ انسی نیر یٹر (Incinerator)عطیہ دیا گذشتہ 10سالوں سے استعمال کے بغیر پڑا ہے اس کی تکنیک سے واقفیت رکھنے والے ما ہرین کہتے ہیں کہ ایک سال بعد یہ پلا نٹ قابل استعمال نہیں رہے گا۔

اقوام متحدہ کی سروے ٹیم کو اگر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتالوں کا دورہ کرا یا جا تا تو معلوم ہو تا کہ ان میں سے 50فیصد ہسپتا لوں میں گندے پا نی کے نکا سی کا بندوبست نہیں مریضوں کے وارڈ سے ملحق کوئی واش روم قا بل استعمال نہیں یہ بنیا دی ضروریات ہیں ان پر کوئی تو جہ نہیں دیتا بڑی خرابی یہ ہے کہ اختیار ات فیلڈ افیسروں سے لیکر ڈویژنل ہیڈ کوار ٹر اور صو با ئی ہیڈ کوار ٹر کو دے دیے گئے ہیں فیلڈ افیسر نہ معا ئینہ کر سکتے ہیں نہ رپورٹ لکھ سکتے ہیں نہ بنیا دی ضروریات اور سہو لیات کا مطا لبہ کر سکتے ہیں پورا سسٹم ہوا میں معلق ہے۔

شکر ہے اقوام متحدہ کی سروے ٹیم نے یو نین کو نسل، تحصیل اور ضلع کی سطح پر جا کر اعداد شمار جمع نہیں کئیے ورنہ ہماری حکومت کے لئے مزید بد نا می کا با عث بنتی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51863

داد بیداد ۔ افغا نستان کا اونٹ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ افغا نستان کا اونٹ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پوری دنیا کے ہزاروں ریڈیو اور ٹیلی وژن چینل، لا کھوں اخبارات اور کروڑوں سو شل میڈیا اکا ونٹس پر یہ سوال زیر گر دش ہے کہ افغا نستا ن کا اونٹ اب کس کروٹ بیٹھے گا؟ 15اگست سے اب تک صورت حا ل غیر یقینی اور غیر واضح ہے اما رت اسلا می افغا نستا ن کے پر چم پورے ملک پر چھا یے ہوئے ہیں اما رت اسلا می کے رہبروں نے قصر صدارت کا کنٹرول سنبھا ل لیا ہے تا ہم یہ بات اب تک افوا ہوں کی زد میں ہے کہ مستقبل کا افغا نستا ن کیسا ہو گا؟ اور حکمران کو ن ہو گا؟ اس ابہام کی دو بڑی و جو ہا ت ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ افغا نستا ن کے پا س سمندر نہیں بند رگا ہ نہیں اس کی آمدن کا مستقل ذریعہ نہیں اپنے محل وقوع کی وجہ سے بیرونی دنیا پر انحصار کر تا آیا ہے اور اور بیرو نی دنیا اس کی محتا جی کا نا جا ئز فائدہ اُٹھا تی آئی ہے.

اس وجہ سے بیرو نی دنیا افغا نستا ن میں افغا نوں کی مر ضی سے زیا دہ اپنی مر ضی اور خو اہش کی حکومت دیکھنا چا ہتی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ افغا نستا ن کے اندر قبیلوں، قو موں کی تقسیم ان کے اتفاق اور اتحا دکی راہ میں رکا وٹ ہے یہاں سو ئٹزر لینڈ والا ما حول گذشتہ ڈھا ئی سو سا لوں کی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا جہاں مختلف نسلوں، مختلف قوموں اور قبیلوں کے لو گ ایک دوسرے کو برداشت کر کے مل جل کر زندگی گذار نے کا طریقہ اپنا ئیں تین زبا نوں کو قومی زبان بنائیں جر من اور سو ئس مل کر ایک قوم ہو نے کا تا ثر دے سکیں.

افغا نستا ن میں تا جک اور افغا ن کبھی ایک نہیں ہو ئے ازبک اور افغا ن کبھی یکجا نہیں ہوئے ان میں کینہ، بعض، عداوت اور دشمنی جس طرح 1757ء میں گہری تھی 2021میں بھی اُسی طرح گہری ہے 1978ء کے انقلا ب ثور کے بعد قومی وحدت کی راہ میں ترقی پسند اور قدامت پسند کی نئی دیوار بھی حا ئل ہو گئی ہے چنا نچہ ایک اور خلیج آکر بیچ میں حا ئل ہو ئی اس خلیج کو پا ٹنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اس پس منظر میں مو جو دہ صورت حال کو دیکھیں تو ایسا نظر آتا ہے کہ مسئلے کی کنجی اگر کسی فریق کے پاس ہے تو وہ امارت اسلا می کی قیا دت ہے کسی اور کے پا س مسئلے کی کنجی نہیں اورنہ یہ کنجی کسی اور کے ہاتھ آسکتی ہے.

15اگست کو یہ بات عجیب لگتی تھی کہ بیرونی مما لک سے اما رت اسلا می کی قیا دت کو مشورے کیوں دیئے جا رہے ہیں؟ امریکہ، بر طا نیہ اور جر منی کی طرف سے کیوں کہا جا رہا ہے کہ ہزارہ، تا جک، ازبک اور ترقی پسند گروپوں کو ساتھ ملا کر قو می اتفاق رائے سے مشتر کہ حکومت بنا ؤ، مخلوط کا بینہ بنا ؤ ہفتہ، عشرہ گذر نے کے بعد عا لمی خبروں کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے سب لو گ اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ امارت اسلا می کو حکومت چلا نے کے لئے بیرونی امداد کی ضرورت ہے اور بیرونی امداد حا صل کر نے کے لئے سب کو ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت سے انکا ر ممکن نہیں.

بظاہر کہا جا رہا ہے کہ انسا نی حقوق کی ضما نت دی جا ئے عورتوں کو کام پر جا نے کی اجا زت ہو نی چا ہئیے لڑ کیوں کو سکولوں، کا لجوں اور یو نیور سٹیوں میں جا نے کی اجا زت ہو نی چا ہئیے لیکن ہا تھی کے دانت کھا نے کے اور دکھا نے کے اور ہو تے ہیں مغر بی طا قتوں کو اصل خطرہ یہ ہے کہ 1996کی طرح پوست کی کا شت پر پا بند ی نہ لگے، مو ل جیسی مغر بی کمپنیوں کے کاروبار کو محدود نہ کیا جا ئے، ہیرو ئین کی پیداوار اور اس کی تجا رت پر پا بندی نہ لگا ئی جا ئے.

پرو پیگینڈ ے کے ذریعے باور کرا یا جا رہا ہے کہ مغربی مما لک پوست کی فصل اور ہیرو ئین کی تجا رت کے خلا ف صف اراء ہیں حقیقت اس کے بر عکس ہے 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا بہا نہ تراشا گیا دراصل پوست کی فصل اور ہیرو ئین کی تجا رت کے ساتھ مول جیسی کمپنیوں کو افغا نستا ن کی چرا ہ گاہ میں کھلا چھوڑ کر دولت بٹور نا مقصد تھا 20سالوں میں اگر مغربی مما لک نے افغا نستا ن میں ایک ٹریلین ڈالر خر چ کیا تو اس کے بد لے میں 3ٹریلین ڈالر کما کر لے گئے مگر یہ بات کوئی نہیں کرے گا ”قلم درکف دشمن است“یہی وجہ سے کہ افغا ن سے ان کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھتا

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
51753