Chitral Times

خطے کی بدلتی جغرافیائی سیاست . از نوید کسانہ

خطے کی بدلتی جغرافیائی سیاست . از نوید کسانہ

ہم اپنا 75واں یوم آزادی بڑے جوش وخروش سے منا چکے ہیں۔اب ہمیں مستقبل میں پائیدار معیشت کے لئے عملی طور پر عقلمندانہ اقدامات کرنے ہوں گے۔اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں غیر ملکی امداد کا بہت ہی کلیدی کردار رہا ہے۔انیس سو ساٹھ(1960) کی دہائی میں ملک میں بھاری سرمایہ کاری ,انفراسٹرکچر, برقی توانائی کے منصوبے اور آبپاشی کے نظام میں نمایاں ترقی غیر ملکی امداد کے مرہون منت تھی۔تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم جیسے اہم منصوبے اسی دور میں شروع ہوئے اور ملک کی معاشی ترقی کو چار چاند لگا دیاتھا۔(1960) کی دہائی میں غیر ملکی ملکی پبلک اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کے بدولت کچھ شعبے پلے اور پھولے اور ان میں نمایاں ترقی دیکھی گئی۔مثلا سڑکوں کی تعمیر, برقی توانائی کے منصوبے,انڈس سپر ہائی وےکی تعمیر اور پاکستان اسٹیل مل قابل ذکر ہیں یہ تمام اہم منصوبے ایوب خان اور مسٹر زیڈ اے بھٹو کے دور میں شروع ہوئے یا مکمل ہوئے۔انیس سو ساٹھ(1960) میں سالانہ ترقیاتی امداد کا بہاؤ 252$ ملین ڈالر سے لے کر 501$ ملین ڈالر تک رہا جبکہ انیس سو ستر(1970) میں سالانہ ترقیاتی امداد کا بہاؤ 282$ ملین ڈالر سے لے کر 1.1$ ملین ڈالر رہا۔(ورلڈ بینک)۔
16 دسمبر 1970 کو سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوامشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھراتاہم اس جغرافیائی تبدیلی کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی طرف غیر ملکی امدادکی حرکیات میں تبدیلی وقوع پذیر ہوئی۔غیر ملکی امداد کی آمد کا توازن نوزائیدہ مملکت بنگلہ دیش کے لئے بڑی حد تک اضافہ ہوا۔اس لیے پاکستان بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گیا۔(وارلڈ بینک)

انیس سو ستر(1970) کی دہائی میں غیر ملکی امداد کا حجم انتہائی کم رہااور اس کمی کی وجہ اسلام آباد کی جوہری پالیسی تھی جس کی وجہ سے امریکہ اور مغربی ممالک کو تشویش تھی اور اس دوران امداد کا بہاؤ 593$ ملین ڈالر سے 631$ ملین ڈالر رہا۔
لیکن جونہی افغان جنگ میں پاکستان نے صف اول کے طور پر شرکت کی امریکہ کا ساتھ دیا اور سوویت یونین کے خلاف تو ایک بار پھر غیر ملکی امداد کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا۔اس طرح انیس سو اسی(1980) میں غیرملکی امداد کا سالانہ بہاؤ 625$ ملین ڈالر سے لے کر 1.19$ بلین ڈالر رہاجو کہ موجودہ 2020 میں 2.2846 ملین ڈالر کے برابر ہے اور یہ رقم پاکستان میں موجودہ تمام غیر ملکی امداد اور ترقیاتی فنڈ سے کئی گنا زیادہ ہےجو کہ اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے کہ جغرافیاٸی سیاست میں پاکستان کی پوزیشن بین الاقوامی اقتصادی امداد کے تعین میں کس طرح اہمیت حاصل ہے۔

انیس سو پچاسی (1985)اور 2000 کے دوران پاکستان پر مختلف نوعیت کی پابندیاں رہیں اور پھر نائن الیون9/11 کا واقعہ ہوتا ہے جس کے بعد امریکی امدادی پالیسی میں تبدیلی نظر آتی ہےجو کہ اسلام آباد کے جوہری عزائم کے حوالے سے لگائی گئی تھی ایک طرف مغربی دنیا کا خدشات کا اظہار اور دوسری طرف پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنااس طرح پاکستان کے ساتھ روابط برقرار رکھنا اور امداد کے دروازے کھولنامغربی دنیا کا اپنا سیاسی مفاد اسے مکمل کرنے کا طریقہ تھا جو کہ ایک تازہ ترین مثال ہے۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ خالص ترقیاتی امداد اور غیر ملکی امداد کے معاملے میں ہمیں کون سے اسباق حاصل ہوئے ہیں۔
اس معاملے میں سب سے اہم اور پہلا سبق یہ ہے کہ غیر ملکی امداداور عطیات کی معاونت کا اثر جغرافیائی سیاست میں ہماری پوزیشن سے جڑا رہتا ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ مستقبل کی معاشی ترقی میں غیر ملکی امداد بھی کردار ادا کر سکتی ہےجب ہم ان کے ترقیاتی منصوبوں میں دانشمندی سے کام کرتے ہیں جنرل ایوب خان اور زیڈ اے بھٹو کو اس وقت کی پاکستانی معیشت کے مستقبل کے نقطہ نظر سے غیر ملکی امداد کو بروئے کار لانے کے لیے ان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔یہاں تک کہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کی وجہ سے معاشی زوال کے معاوضہ کے علاوہ غیرملکی فنڈ سے بھی نوازا گیاامریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگی امداد کی رقم سماجی شعبے میں مطلوبہ بہتری لانے کے لئےاداروں کے استعداد کار میں اضافہ کرنے پر خرچ کیاخاص طور پر تعلیم کے شعبے میں اور ضلعی حکومتوں کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔اس سے قبل بے نظیر اور نواز شریف کی حکومت نے بھی غیر ملکی امداد کوسماجی شعبوں میں استعمال کیاان شعبوں میں تعلیم اور صحت کا شعبہ قابل ذکر ہیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری(CPEC) کے افتتاح سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ عالمی اقتصادی سپر پاور کے ساتھ شراکت داری معاشی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔ترقیاتی امداد کے تصور کی جگہ یہاں مرتی ہوئی معیشت کے جغرافیائی سیاسی خواہشات اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعلقات کے معاملے میں کلیدی نکتہ ہے.
ترقی یافتہ معیشت ترقی پذیر ممالک کو امداد فراہم کرتے ہیں لیکن ماضی کے برعکس ان کی امداد کے زیادہ تر اہداف متعین ہوتے ہیں۔وہ اب اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کس طرح امداد وصول کنندہ ملک میں سماجی ترقی کے اہداف کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

انیس سو ساٹھ اور ستر (70-1960)کی دہائی میں غیر ملکی امداد اور تعاون سے میگا پراجیکٹس بنانا آسان تھاکیونکہ ان منصوبوں کے کل تخمینےکا اہم حصہ ان کے انفلوز کا احاطہ کرتا تھا۔لیکن ذرا سی پیک (CPEC)کے متعلق کسی بھی بڑے منصوبے کی مخلوط سرمایہ کاری کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ چینی تجارتی قرضہ اور غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری با صورتوں میں سود پر مبنی چینی ریاست کی مالی اعانت جو کہ زیادہ تر سرمایہ کاری سے حاصل ہوتی ہے۔یہاں تک کہ پاکستان جیسے ہم منصب ملک کومالیاتی امدادکچھ شرائط پر دیتے ہیں۔آپ کو مخلوط سرمایہ کاری میں غیر ملکی امداد اور زیرو ریٹیڈ ڈیولپمنٹ امداد نظر نہیں آئے گی۔سوائے اس کے کہ بہت کم معاملات میں پراجیکٹ جیسے کہ علم کے اشتراک یا ثقافتی تعلقات کو مضبوط کرنے کےشعبے میں آتے ھوں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
64842