Chitral Times

بزمِ درویش ۔ برکت ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ برکت ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

آج کئی مہینوں کے بعد ماسٹر کریم صاحب مُجھ فقیر سے ملنے آئے اُن کو دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا ماسٹر کریم بخش پرانے وقتوں کے میٹرک پاس پرائمری سکول ماسٹر تھے اب ریٹائر ڈ زندگی گزار رہے تھے ماسٹر صاحب کے پاس تعلیمی ڈگریاں تو نہیں تھیں لیکن میٹرک پاس ہونے کے باوجود فارسی کا بہت اچھا ذوق اور خاص طور پر ہیر وارث شاہ کے حافظ تھے کیونکہ بچپن جوانی سے ہیر وارث شاہ کے عشق میں مبتلا تھے اِس لیے تصوف فقر درویشی کابھی شوق اور مطالعہ تھا میں نے اِن کے ذوق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی کتاب بھی مطالعہ کے لیے دیں تو پڑھنے کے بعد بہت متاثر اور خوش تھے اِس طرح یہ شوق ہم دونوں کو قریب لے آیا تھا ماسٹر صاحب نے ساری زندگی گاؤں میں مختصر فیملی کے ساتھ گزار دی ہیر وارث شاہ کے دیوانے وارث شاہ صاحب ؒ کو بہت اعلی درجے کا باکمال درویش مانتے تھے ہر وقت ماسٹر جی کے لبوں پر وارث شاہ کا کوئی شعر کرامت کرشمہ رہتا دنیا کے بارے میں جو وارث شاہ کہہ گئے ہیں کوئی نہیں کہہ سکتا اپنی روحانی تلاش کے ابتدائی دنوں میں جب بھی در در کی خاک چھان رہاتھا تو اُسی صحرا نوردی میں میری ملاقات ماسٹر صاحب سے ہوئی انہوں نے جب وارث شاہ کے کمالات کا تذکرہ کیا ساتھ میں تصوف راہ حق کے باریک لفظوں پر بھی گفتگو کی تو میں متاثر ہو تا چلا گیا

 

اِسطرح ان دنوں میں میری ماسٹر صاحب سے بہت ساری ملاقاتیں بھی ہوئیں ماسٹر صاحب کسی جگہ بیعت بھی تھے لیکن یہ راہ سلوک کے طالب علم کم لیکن وارث شاہ کے مرید زیادہ تھے نیک پاک صاف زندگی کے قائل جو سادہ درویشانہ زندگی کے قائل تھے سادہ زندگی کے تقاضے اِن کی تنخواہ پوری کرتی تھی حرص طمع سے پاک تھے ساتھ میں گاؤں میں چھوٹی سی پرچون کی دوکان بھی کھول رکھی تھی جس پر دن میں اِن کی بیگم جبکہ سکول سے آکر ماسٹر صاحب خود بیٹھتے تھے سکول کی تنخواہ سے گھر کے اخراجات چلتے جبکہ پرچون کی دوکان تو خدمت خلق اور انسان دوستی کے لیے چل رہی تھی ماسٹر صاحب زندگی کے ہر کام میں برکت پر بہت یقین کرتے تھے کہ عبادات اور ذاتی معاشرتی زندگی میں برکت ہونی چاہیے برکت کے لیے نیت اور اخلاص بہت ضروری ہے اگر ہم لین دین یا معاشرتی ذمہ داریوں اخلاقیات میں منافقت اختیار کریں گے تو ہمارے رزق اور زندگی سے برکت اٹھ جاتی ہے جب برکت اٹھ جاتی ہے تو زندگی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے اللہ تعالی ناراض ہو جاتا ہے گھر پریشانیوں بیماریوں کی آما جگاہ بن جاتا ہے پھر دولت کے خزانے بھی کم پڑ جاتے ہیں اگر برکت ہے تو تھوڑی کمائی محدود دولت سے شاندار زندگی گزرتی ہے اور اگر برکت نہیں ہے تو وہ قارون کے خزانے بھی کم پڑ جاتے ہیں پھر برکت نہیں ہے تو وہ قارون کے خزانے بھی کم پڑ جاتے ہیں پھر برکت کے لیے مسلسل جدوجہد کر نی پڑتی ہے

 

 

ماسٹر صاحب کوئی عالم پروفیسر مفتی علامہ نہیں تھے لیکن انتہائی سادگی سے برکت پر عمل پیرا تھے جب سے ماسٹر جی کو پتہ چلا کہ میں رمضان میں مستحق غریب لوگوں میں راشن بانٹتا ہوں تو یہ ہر سال کو شش کر کے رمضان سے پہلے آکر ملنے گپ شپ لگاتے پھر کچھ رقم جو زیادہ نہ ہوتی یہ کہہ کر پیش کر تے پروفیسرصاحب یہ تھوڑی رقم ہے لیکن حلال کی ہے اس کو برکت کے لیے اپنے پیسوں میں شامل کر لیں اور پھر میں نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ ماسٹر صاحب کے پیسوں سے خوب برکت پڑ جاتی برکت کے اِس سلسلے کو ماسٹر جی نے اپنی چھوٹی سی پرچون کی دوکان پر بھی قائم کر رکھا تھا ماسٹر صاحب مختصر گاؤں کے گاہکوں سے واقف تھے ایسے مستحق نادار یتیم مسکین گاہک جو حق دار ہوتے ماسٹر صاحب ان سے منافع بلکل بھی نہ لیتے بلکہ ایسے مستحق گاہکوں کو ادھار دے دیتے بعد میں زیادہ حق دار کو معاف بھی کر دیتے اگر کو ئی بوڑھا لاوارث ہو تو اُس کے گھر جاکر راشن دے آتے یہ باتیں مجھے اِدھر اُدھر سے معلوم جب ہوئیں تو میرے دل میں احترام بہت زیادہ بڑھ گیا میں اِن کی صحبت سے بہت لطف اٹھاتا کہ ماسٹر صاحب بڑے بڑے لنگر خانے یتیم خانے نہیں کھولے لیکن اُن کی محدود کمائی سے جو ممکن ہے ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگ جب مُجھ فقیر سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں پروفیسر صاحب دعا کریں میں ارب پتی ہو جاؤں اگر اللہ مجھے ارب پتی بنا دیا تو میں دس پرسنٹ خدا کی راہ میں خدمت خلق میں خرچ کروں گا

 

یعنی لوگ اِس انتظار میں ہیں کہ جب تک اللہ تعالی ارب پتی نہیں بناتا کوئی سخاوت نہیں کرنی یعنی اللہ سے بھی کاروبار کہ ارب پتی بناؤ گے تو میں دوسروں کو مدد کروں گا نہیں تو نہیں کروں گا جبکہ ماسٹر کریم صاحب ہمالیہ سے بلند لوگ اِس انتظار میں نہیں بیٹھتے کہ پہلے اللہ تعالی قارون کے خزانوں کا مالک بنائے یہ پھر دوسروں کی فلاح کریں گے یہی وہ نیکی اور برکت ہے جو ماسٹر جی زندگی میں شامل ہے میں جو ہمیشہ نیک لوگوں کی تلاش میں رہتا ہوں جن کی زندگی میں برکت اور اخلاص ہو جو تضادات کا شکار نہ ہو جن کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو جو چہرے پر نقاب چڑھائے نہ پھر تے ہوں جن کی زبان لفظوں کی جادوگری میں مصروف نہ رہتی ہو بلکہ جن کا قول فعل اور عمل ہمیں خالص نظر آتا ہو یہ زندگی بہت سادی اور خوبصورت موجودہ مادیت پرستی کے طلسم ہو شربا اور مصنوعی روشنیوں نے ہماری آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے ہم حقیقی زندگی کی خوشیوں اور لذتوں سے محروم ہو گئے ہیں زندگی کا مقصد صرف اور صرف دولت کے پہاڑ کھڑے کر کے بااثر ہو کر معاشرے پر غلبہ یا کنٹرول کر نا نہیں ہے بلکہ انسانوں کی فلاح مدد ہے اور یہ مدد ہم چھوٹی چھوٹی باتوں سے تھوڑے پیسے سے بھی کر سکتے ہیں لیکن نہیں ہم نیکی کے لیے بھی پہلے خدا سے شرط لگاتے ہیں کہ پہلے ہمیں ارب پتی بنا و پھر ہم خدمت خلق یا کسی کی مدد کریں گے جبکہ یہ اخلاص برکت نہیں ہے

 

اِسی وجہ سے ہماری زندگیاں حقیقی خوشی سے محروم ہیں ہمارے گھروں میں برکت نہیں ہے بیماریوں پریشانیوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ہم نے لمبی چوڑی جائدادوں بینک بیلنس کے باوجود بھی حقیقی باطنی خوشی کو ترستے ہیں جو ہم سے کوسوں دور ہیں جبکہ ماسٹر کریم جیسے محدود وسائل کے مالک جس کسی معاشرے گاؤں میں ہوتے ہیں یہ جگنو کی ننھی سی روشنی کی مانند غربت مایوسی پریشانی کے اندھیروں کو دور کرتے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی حقیقی خوشی مسرت حاصل ہو تو ہمیں بھی چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے برکت کے حصول کا کام کرنا شروع کر دینا چاہیے میں نے شاندار پر لذت کھانا ما سٹر جی کے لیے تیار کر ایا جب کھانا سامنے آیا تو ماسٹر جی حیران ہو کر بولے یہ تو بہت سارے بندوں کا کھانا آپ نے تیار کرا لیا میں اکیلا کیسے کھاؤں گا تو میں نے ماسٹر جی کے ہاتھ پیار سے پکڑ لیے اور محبت بھرے لہجے میں بولا ماسٹر جی وارث شاہ جی کا فرمان ہے کہ کسی کو کھانا کھلانا بہت بڑی نیکی ہے میں تو آپ کے گرو مرشد کے فرمان کو پورا کر نے کی کو شش کر رہا ہوں پھر آپ جیسا نیک انسان میرے گھر سے اگر کھانا کھائے گا تو مُجھ فقیر کے گھر میں بھی برکت پڑ جائے گی لہذا مجھے یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے آج آپ میرے مہمان ماسٹر جی کے چہرے پر خوشی کی روشنی پھیل گئی جو چمک اِس وقت ماسٹر جی کے چہرے اور آنکھوں میں تھی اُس چمک کی برکت سے میرے گھر کا کونہ کونہ چمکنے لگا ایسے برکت سے بھرے لوگوں کو گھر بلاتے رہنا چاہیے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
72585