Chitral Times

ایک لڑکی کی داستان!! ۔ تحریر: شہاب ثنا برغوزی

ایک لڑکی کی داستان!! ۔ تحریر: شہاب ثنا برغوزی

میں ایک لڑکی ہوں۔۔

میں زیادہ بولوں تو چالاک، چپ رہو تو دبو۔۔ میں پڑھوں تو تیز طرار، نہ پڑھوں تو جاہل۔۔ میں اپنے حق کے لیے لڑوں تو منہ پھٹ، اور اگر نہ بولوں تو اللّٰہ میاں کی گائے ۔۔۔میں ہمسفر کے لیے پسند بتاؤں تو بے شرم، اور اگر بڑوں کے فیصلوں پر سر جھکاؤں تو بھیڑ بکری۔۔۔ میری شادی نہیں ہو رہی تو میرا قصور، میں طلاق یافتہ ہوں تو بھی میرا قصور ۔۔ میں ماں بہن بیٹی بیوی ہوں تو عزتوں کی امین، میں دوسروں کی ماں بہن بیٹی بیوی ہوں تو مفت کا مال۔۔۔ میں پینٹ پہنوں تو ماڈرن، میں عبایا پہنوں تو بیک ورڈ۔۔۔ میں میک اپ کروں تو آرٹیفیشل، میں میک اپ نہ کروں تو پینڈو۔۔۔ میں گھر سے نکلوں تو اوور کانفیڈنٹ، میں گھر میں رہوں تو آئی ہیو نو کانفیڈینس ۔۔۔ میں کچن میں ہی رہوں تو سگھڑ،میں باہر سے منگواوں تو جدید عورت۔۔۔ میں سوشل میڈیا یوز کروں تو ہاتھ سے نکل گئی،میں مدرسے جاؤں تو ٹیپکل دینی۔۔۔

 

میں مردوں کے ساتھ کام کروں تو آزاد خیال، میں مردوں کے ساتھ کام سے انکار کروں تو بیک موڈد۔۔۔ میں خود ساختہ بنائی ہوئی روایات ،رسموں اور رواجوں میں جھکڑی ہوئی ہوں کیونکہ میں لڑکا نہیں “لڑکی” ہوں اس دین نے دیا ہے اعلی مقام مجھے، پھر کیوں لوگ میری پیدائش کی خوشی نہیں مناتے؟ غرض کہ جس کی جیسی سوچ ،اس نے ویسا جانچا مجھے۔۔۔ میں ان سب رویوں کے ساتھ جیتی ہوں، کیونکہ میں ایک آزاد ملک کی قیدی لڑکی ہوں۔۔ میں اڑنا چاہتی ہوں پر میرے پر آنے سے پہلے کاٹ دیے جاتے ہیں۔۔ میں اسلام کے دائرے میں رہ کر آزاد فضا میں سانس لینا چاہتی ہوں پر یہاں کی فضا حبس زدہ ہے ۔۔۔ میرے خوابوں کو آنکھوں سے نوچنے والے اور میری صلاحیتوں کو دبانے والی نہیں ۔۔۔ ۔بلکہ۔۔۔ میرے خوابوں کو آنکھوں میں سجانے والے اور صلاحیتوں کو ابھارنے والے بنو۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ میں ایک لڑکی ہونے سے پہلے ایک جیتی جاگتی انسان ہوں۔۔۔ اس مردوں کے معاشرے میں مجھے سر اٹھا کے چلنا ہے مجھے اپنی کانچ سے زیادہ نازک عزت کی حفاظت کرنی ہے۔۔۔ اور مردوں کے اس معاشرے میں پردے میں رہ کر مجھے اپنے آپ کو منوانا ہے مجھے لوگوں کی بیمار سوچ کو بدلنا ہے مجھے بوڑھے والدین کا سہارا بننا ہے مجھے پردے میں رہ کر روٹی کے لئے باہر نکلنا ہے۔۔میں ایک لڑکی ہوں تو کیا؟؟؟

 

میرے اپنے بھی کچھ خواب ،ارمان اور خواہشات ہیں۔۔۔ میں اللّٰہ کی بنائی ہوئی ایک خوبصورت مخلوق ہوں۔۔ بحیثیت “ماں” اللّٰہ پاک نے میرے قدموں تلے جنت بنائی ہے تو پھر یہ معاشرہ میرا بھی اتنا ہے جتنا مردوں کا ۔ میں مردوں کی برابری نہیں چاہتی بس اپنے خوابوں کی تکمیل چاہتی ہوں۔۔ میں سڑک سے گزروں تو نظریں طواف کرنے کی بجائے نیچی ہونی چاہئے ۔۔ کیونکہ گھر سے نکلی ہوئی ہر لڑکی بری بدکردار نہیں ہوتی کچھ لڑکیاں مجبوری میں نکلتی ہیں ۔۔ میں ایک لڑکی ہوں اور میں کمزور نہیں ہوں کیونکہ میرے اللّٰہ نے مجھے کمزور نہیں بنایا الحمد اللّٰہ ۔۔۔
خوش رہو اختلاف کی اجازت ہے۔۔۔۔

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
76634