Chitral Times

 ایرانی تیل کی 27 ہزار گاڑیاں روزانہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو رہی تھیں۔ ان گاڑیوں کے داخلے کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو سوا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی گاڑی رشوت دی جا رہی تھی، وزیراعظم

Posted on

 ایرانی تیل کی 27 ہزار گاڑیاں روزانہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو رہی تھیں۔ ان گاڑیوں کے داخلے کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو سوا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی گاڑی رشوت دی جا رہی تھی، وزیراعظم

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اسمگلنگ اور غیر ملکی کرنسی کی غیرقانونی تجارت پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔سینئر صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیاکہ مقامی حکام کی ملی بھگت سے اسمگل شدہ ایرانی تیل کی 27 ہزار گاڑیاں روزانہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو رہی تھیں۔ ان گاڑیوں کے داخلے کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو سوا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی گاڑی رشوت دی جا رہی تھی۔ ڈپٹی کمشنر اسمگلنگ میں کردار ادا کرنے والوں کو بھی شیئرز دے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کی سرحد پار سے غیر قانونی نقل و حرکت تقریباً بند ہو چکی ہے، اگرچہ ابھی تک مکمل طور پر یہ اسمگلنگ نہیں رکی۔ انہوں نے کہا کہ عسکری اور سول قیادت نے اسمگلنگ کے خلاف فیصلہ کن مہم شروع کی۔ گزشتہ تین سال میں یہ ایسی دوسری مہم ہے لیکن اس بار کریک ڈاؤن شدید تھا۔ یہ میرا فیصلہ تھا کہ ایرانی تیل کی پاکستان اسمگلنگ کو روکا جائے جس پر پاک فوج نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگست سے پہلے ایرانی تیل کی اسمگلنگ کو بہت سے لوگ قانونی سمجھتے تھے۔ بے روزگاری کو بلوچستان میں اسمگلنگ کے جاری رہنے کی دلیل دی گئی۔ جس کے لئے سرکاری ملازمتوں کو جان بوجھ کر خالی رکھا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ 2020 میں اس وقت کی حکومت نے بھی ایران سے مصنوعات کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاو ن شروع کیا تھا، جس کا تخمینہ اس وقت سالانہ 2 ارب ڈالر تھا۔ان کاکہنا تھا کہ بلوچستان کے راستے ملک کے دیگر حصوں میں اشیاء کی غیر قانونی سپلائی کے راستے تین سال قبل بند ہو گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں 1674 غیر قانونی پی او ایل ریٹیل آؤٹ لیٹس سیل کیے گئے، 1155 ایف آئی آر درج کی گئیں اور کسٹمز ایکٹ کے تحت اثاثے منجمد کرنے کے لیے 781 درخواستیں دائر کی گئیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف 11 اشیاء کی صورت میں قومی خزانے کو ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کی مد میں تقریباً 3.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے موقع پر آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کرنسی اسمگلنگ روکنے کے اقدامات سے آگاہ کیا تھا۔ انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے کم ذخائر کو روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر کم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا عالمی قرض دہندہ پاکستان کو نیا قرض دے گا اگر انتخابات جنوری سے آگے جاتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ روابط رکھیں گے کیونکہ وہ دنیا بھر میں منتخب اور غیر منتخب دونوں حکومتوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام اگلے سال 12 اپریل کو ختم ہو رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ امیروں پر ٹیکس لگانے کا سوال آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے نہیں اٹھایا تھا بلکہ میں نے انہیں بتایا کہ پاکستان اپنے امیر لوگوں پر ٹیکس لگائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں وکلاء ، ڈاکٹروں، صحافیوں،میڈیا مالکان اور ریٹیلرز پر ٹیکس لگانا چاہتا ہوں۔ سب کو واجب الادا ٹیکس دینے چاہئیں۔فوج کے ماتحت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے کردار کو ان علاقوں تک بڑھانے کے بارے میں جن کی گورننگ قانون میں تعریف نہیں کی گئی ہے کے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیم شدہ ایکٹ وفاقی حکومت کو گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے کونسل کے دائرے میں کسی بھی نئے علاقے کو لانے کا مینڈیٹ دیتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ سپیشل سرمایہ کاری سہولت کونسل فولڈ میں نئے علاقوں کو لانے کے لیے ابھی تک کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق سپیشل سرمایہ کاری سہولت کونسل ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور نجکاری کی سہولت فراہم کرے گا، جن میں دفاع، زراعت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اسٹریٹجک اقدامات، لاجسٹکس، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی شامل ہیں، لیکن ان تک محدود نہیں۔نجکاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کو روکنے کے لیے اس سال دسمبر تک اپنی پالیسی کا خاکہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف تجاویز زیر غور ہیں جن میں نجی شعبے کے ساتھ رعایتی معاہدوں پر دستخط کرنا اور ان کمپنیوں کو صوبوں کے حوالے کرنا شامل ہے۔

 

کراچی میں موجود افغان علاقوں سے افغان شہریوں کا انخلا

کراچی(سی ایم لنکس) شہر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے بعد بڑی تعداد میں افغان مہاجرین نے اپنے ملک واپس جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔سہراب گوٹھ، سپر ہائی وے افغان بستی، کوچی کیمپ اور اتحاد ٹاؤن سمیت شہر میں موجود دیگر افغان علاقوں سے لوگوں کا انخلا شروع ہوگیا۔افغان مہاجرین اپنے اہلخانہ سمیت بسوں کے ذریعے چمن کے راستے افغانستان روانہ ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے سہراب گوٹھ بس اڈے پر افغان باشندوں کی بڑی تعداد اپنے ساز و سامان کے ساتھ بسوں میں افغانستان واپس جانے کے لیے روانہ ہوئی جبکہ بسوں کے ذریعے کراچی سے چمن باڈرتک کا کرایہ 7 ہزار روپے وصول کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ رواں ماہ 3 اکتوبر کو نگراں وزیر اعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس کے بعد غیر قانونی تارکین وطن کو 31 اکتوبر تک پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا جس کے بعد یکم نومبر سے وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری اور جبری ملک بدری یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرینگے۔یکم نومبر سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے کاروبار اور جائیدادیں ضبط بھی کرلی جائینگی اور اس غیر قانونی کاروبار کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائیگی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
80100