Chitral Times

انسانی ہجرت:پس منظر و پیش منظر…..ڈاکٹر ساجد خاکوانی اسلام آباد)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

International Migrants Day

(18دسمبر:اقوام متحدہ کے عالمی یوم مہاجرین پر خصوصی تحریر)

            ہجرت وہ عظیم عمل ہے جو کل انبیاء علیھم السلام کی سنت ہے۔پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی محسن انسانیت ﷺ تک ہر نبی نے ہجرت کی۔حضرت آدم علیہ السلام نے جنت سے زمین پر ہجرت کی،حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی پر بیٹھ کر اس وقت اپنے علاقے سے ہجرت کی جب پانی کے طوفان نے عذاب کی صورت اختیار کر لی،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت کی،حضرت موسی علیہ السلام نے مصر سے کنعان کی طرف اور پھر کنعان سے مصر کی طرف اور پھر اپنی قوم کے ساتھ مصر سے صحرائے سینا کی طرف ہجرت کی،حضرت عیسی علیہ السلام نے زمین سے آسمان کی طرف ہجرت کی اور قرب قیامت میں وہ پھر آسمان سے زمین کی طرف تشریف لائیں گے اور سیرت النبی ﷺ میں پہلے صحابہ کرام نے مکہ مکرمہ کے اندر ابتلاء و آزمائش سے تنگ آکر دوبار ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی اورپھرمحسن انسانیت ﷺ نے مکۃ المکرمۃ سے مدینہ منورۃ کی طرف تاریخ ساز ہجرت کر کے انسانی دھاروں کا رخ موڑ دیا۔اتنے بڑے بڑے لوگ محض چند سکوں کی خاطریاکسی سیاسی و خاندانی مفاد کے لیے یاکسی عورت کی محبت میں اپناعلاقہ نہیں چھوڑتے تھے بلکہ انبیاء علیہم السلام کی ہجرت ایک بہت بڑے مقصد اقامت دین کی خاطر ہواکرتی تھی اور اس دین اسلام میں اقامت میں اور اسکے نظام کے نفاذ میں ہی پوری انسانیت کی فلاح وکامرانی پوشیدہ ہے خواہ کوئی انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات کو مانے یا نہ مانے۔

            قبیلہ بنی آدم میں ایک عرصہ سے بلکہ اس قبیلے کی تاسیس سے ہی ہجرت کا عمل جاری ہے۔ایک روایت کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں جتنے افرار سوار تھے ان میں سے کسی کی نسل بھی آگے نہ چلی،اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹوں میں سے ایک کو افریقہ بھیجاکالے اسی بیٹے کی نسل سے ہیں،ایک بیٹے کو انہوں نے یورپ کے علاقے میں بھیج دیا،گورے اس کی نسل سے ہیں،ایک بیٹا ہندوستان کی سرزمین پر وارد ہوا اسکے پوتوں پڑپوتوں میں سے دو بھائی تھے ایک کانام ہند اور دوسرے کانام سندھ تھا،گندمی رنگ کے لوگ انہیں کی نسل سے ہیں اورایک بیٹے کو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے پاس مشرق وسطی میں رکھاجس کی قریبی نسل سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جنم لیاجن کے ایک بیٹے حضرت اسمائیل علیہ السلام کی نسل سے عرب ہیں اور دوسرے بیٹے حضرت اسحق علیہ السلام کی نسل سے بنی اسرائیل ہیں۔اس طرح حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی کہاجاتاہے کیونکہ موجودہ کل انسانیت انہیں کی نسل سے ہے اور نسل انسانی کی بڑھوتری ہجرت کے سبب سے ہی ممکن ہو سکی اور عمل ہجرت سے انسانوں کے قبائل دنیا بھر میں پھیلتے چلے گئے اور ایسی ایسی جگہ پہنچے جہاں اس سے پہلے انسانوں کے قدم نہیں پہنچے تھے۔

            ہجرت انسانی کے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں،دوران ملازمت اکثرافرادکاتبادلہ ہو جاتاہے اور وہ اپنی ملازمت کی خاطر ہجرت کرجاتے ہیں،کچھ لوگ اپنے کاروبار،تجارت،روزگار اورکام دھندے کی خاطرایک شہرسے دوسرے شہر کی طرف یا دیہات کی چھوٹی آبادیوں سے بڑی آبادیوں والی بستیوں کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں،کچھ نوجوان حصول تعلیم کی خاطر اپناآبائی وطن چھوڑ کر ان علاقوں میں سدھارجاتے ہیں جہاں ان کے مطلوبہ تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں اورکچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو آب و ہوا کی عدم موافقت کے باعث کسی ایسی جگہ منتقل ہوجاتے ہیں جہاں کاماحول ان کے لیے صحت افزاہوتاہے۔اسی طرح خواتین بھی اپنی زندگی کے اہم ترین موڑ پر بابل کی چوکھٹ سے پیاگھرکوہجرت کرجاتی ہیں۔پھر والدین اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں اور اگرکاتب تقدیرنے بچوں کاروزگارکسی اورشہرمیں لکھ دیاہو تو والدین کو بھی بچوں اور بچوں کے بچوں کی کشش وہیں کھینچ لے جاتی ہے۔دنیاکی سیاسی تاریخ میں حکمرانوں کے لیے یاقانون کے لیے ناقابل برداشت افرادکو بھی زبردستی شہر بدریاملک بدرکرنے کی روایت اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔پرانے زمانے میں شہر مختصراور تعدادمیں قلیل ہوتے تھے اس لیے اس طرح کے ناپسندیدہ لوگ جنگلوں اور بیابانوں کوگھرکرلیتے تھے لیکن آہستہ آہستہ قیدخانوں نے ملک بدری یا شہر بدری کی سزامعطل کردی اوراس طرح کے لوگ قیدوبندمیں ڈالے جانے لگے،بہرحال حالت اسیری کو بھی زبردستی کی ہجرت کہنے کوئی تامل نہیں ہوناچاہیے۔پس نبیوں کی آغازکی ہوئی روایت ہجرت نے قبیلہ بنی نوع انسان میں متعددروپ دھارے اورانسانی تہذیب و تمدن کے بڑھوتری کاباعث بنتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔

            ہجرت کے اگر چہ بہت فوائد ہیں لیکن ان میں سے ایک بہت بڑا فائدہ نئے شہروں کی آبادکاری ہے۔ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایاجس کا مفہوم ہے کہ شہروں کو بڑھانے کی بجائے نئے شہر آبادکرو۔شہروں میں آبادی کے بڑھنے سے بہت سی خرافات پیدا ہوتی ہیں،آلودگی کا مسئلہ جنم لیتاہے،فی کس جگہ کم پڑنے لگتی ہے،نسلوں اور قرنوں سے رہنے والے اس علاقے کواپنی جاگیر سمجھ کر اس میں من مانیاں کرنے لگتے ہیں،نئے آنے والوں کے لیے ماحول میں بسنا مشکل کر دیا جاتاہے،روزگار کے مواقع کم پڑنے لگتے ہیں اوربدمعاشی،جگہ گیری،سکہ بندی وغیرہ کے باعث پرانی آبادیاں گھٹن کا شکار ہو جاتی ہیں۔نئے شہر وں کی آبادکاری سے ہجرت کا رجحان بڑھتاہے،نئے نئے آباد ہونے والے لوگ دبے دبے سے رہتے ہیں اور شرافت اور بھلے مانسی کا دوردورہ رہتاہے۔نئے شہروں کی آبادکاری سے روزگار لے بے پناہ مواقع میسر آتے ہیں پورے شہر کی تعمیر کئی سالوں پر اور بے شمار وسائل پر مبنی منصوبہ ہوتا ہے جس میں سے ایک بہت بڑا حصہ غریبوں تک بھی منتقل ہوتا ہے۔جائداد کی خریدوفروخت اورتعمیراتی کاموں کی کثرت سے ارتکازدولت کی جگہ گردش دولت جنم لیتی ہے اور معاشی سرگرمیوں کے باعث دولت کی ریل پیل اور معاشی خوشحالی آنے لگتی ہے۔ماضی میں مغلوں سے لے کر انگریزوں تک نے کئی نئے شہر آباد کیے خاص طور پر ریلوے لائین کے باعث کتنے ہی چھوٹے بڑے نئے شہر آباد ہوئے اور بڑے شہروں سے آبادی کا بہت بڑا حصہ ہجرت کر کے تونئی آبادیوں میں منتقل ہوا۔ہجرت کے باب میں اسلام نے نئی روایات کوجنم دیا اور ہجرت مدینہ سے تحریک پاکستان تک مقامی مسلمانوں نے آنے والوں کو اپنا مہمان سمجھااور انہیں صرف اپنے مقامات پر ہی نہیں بلکہ اپنے دلوں میں بھی کھلی جگہ عطا کی۔ماضی قریب میں افغان بحران میں جب لاکھوں مہاجرین پاکستان کی سرحدوں پر آن بیٹھے توپاکستانی قوم نے ایک تاریخ ساز کرداراداکر کے انکی دل جوئی کی اور یہ عمل اس وقت بھی دہرایاگیا جب شمالی علاقوں میں زلزلہ کے باعث ایک بار پھر بے شمار مہاجرین اور متاثرین قریب کے شہری علاقوں میں خیمہ بستیوں میں آن آباد ہوئے تب بھی اس قوم نے تاریخ ساز وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا اپنے وسائل ان مجبور مہاجرین کے لیے کھول دیے۔

            انسانی قبائل صدیوں سے ہجرت کرتے چلے آرہے ہیں۔جن جن مشہور اور تاریخ کا رخ بدلنے والی اقوام کے بارے میں مورخ قلم اٹھاتے ہیں ان کی پشت پرجنگ و جدل،تجارت،زراعت اور اقتدار کی خاطر صدیوں سے مسلسل ہجرت کے واقعات بھرے پڑے ہوتے ہیں اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہجرت سے قوموں کے اذہان وسعت پزیر رہتے ہیں،انکی نظر میں گہرائی اور گیرائی درآتی ہے،نئے سے نئے علاقوں کی دریافت اور نت نئے لوگوں سے میل ملاقات کے عناصرانکی مشاہدانہ قوت میں اضافہ کرتے ہیں،انکی روایات میں روزبروز ارتقاء کاعمل جاری رہتاہے اورجس قوم کی زندگی میں ہجرت جتنی زیادہ کارفرماہوتی ہے اسکا تہذیب اور اسکا تمدن اتنا ہی زیادہ تاریخ ساز ہوتاہے۔زندہ اقوام میں کچھ افراد باقائدہ سے سیاحت کو اپنا مشغلہ بنالیتے ہیں اور ساری عمر ہی مہاجرت میں گزاردیتے ہیں۔وہ ملک ملک بستی بستی اور قریہ قریہ جاتے ہیں،مختلف قسم کی اقوام اورطرح طرح کے افرادسے ملتے ہیں۔اس طرح کے سیاح اپنے طویل اسفارکے دوران بعض اوقات بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں،کبھی کبھی انہیں جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں۔سیاحوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے سفرنامے لکھتے ہیں اس طرح ان کے تجربات ومشاہدات دیگرافرادتک بھی پہنچ پاتے ہیں اور باقی لوگ اپنے مطالعہ سے ہی ان کے مقامات سیاحت کوبذریعہ کتاب بینی بنظربصیرت دیکھ لیتے ہیں۔ایسے سیاح جب اپنے واقعات زبانی بیان کرتے ہیں تب بھی ان کے گرد سامعین کا جھمگٹالگارہتاہے اور وہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالی کی اس زمین پرفلاں ملک کے پہاڑ،کہیں کے سمندر اور کس کس جگہ کے میدان و ریگستان وگلستان و بوستان کس قدر مرقع حسن و جمال یاوجہ ورتہ حیرت ہیں وغیرہ۔

            اس کے برعکس اپنے علاقے،اپنی زمین،اپنی مٹی اور اپنی وادیوں کی پوجا کی حد تک پرستش کرنے والی اقوام بالآخرغلامی کی قبیح گود میں جا گرتی ہیں۔جو اقوام ہجرت سے گھبراتی اور اپنے وطن کی قربانی سے دریغ کرتی ہیں وہ بہت جلد تاریخ کے صفحات میں دفن ہوکرماضی کا قصہ بن جاتی ہیں۔زمین کی محبت انہیں اپنے وطن سے چمٹائے رکھتی ہے،وہ اپنی نسل کو خود سے دورنہیں ہونے دیتے نتیجے کے طورپر ان میں قربانی کاجذبہ ماند پڑ جاتاہے اور وہ کوئیں کے مینڈک بن کر دوسری دنیاؤں کو دوسری خلائیں سمجھنے لگتے ہیں۔ایسی اقوام اپنے بچوں کے رشتے دوسری اقوام میں کرنے کو پاپ سمجھتی ہیں،نسل در نسل اپنی ہی ذات پات میں رشتے کرتے رہنے سے ان کی اولادیں ذہنی و جسمانی طورپر معذور پیداہونے لگتی ہیں اورخاندانی وراثتی امراض کے جرثومے مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ناقابل علاج مرض بن کر وباکی طرح پھوٹ پڑتے ہیں۔اپنے دیس کوماں کا درجہ دینے والے گروہ دنیاکی اقوام کے شانہ بشانہ کبھی نہیں چل پاتے،ان سے قوت فیصلہ چھن جاتی ہے،دوراندیشی سے محروم کر دیے جاتے ہیں، ذلت و پسماندگی ہمیشہ ان کا مقدر رہتی ہے،ہجرت جیسی تازہ ہوا کے راستے بندہونے کے باعث باہمی نزاعات ان میں حبس کاسبب بنتے ہیں اور دیگر اقوام انہیں نوالہ تر سمجھنے لگتی ہیں یہاں تک کہ وہ صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لیے مٹا دیے جاتے ہیں۔

            ماضی بعید میں یورپ سے انسانوں کے شکاری افریقہ جاتے اوروہاں پرکالے حبشیون کی بستیوں پر دھاوے بولتے،مزاحمت کرنے والوں کو تہہ تیغ کرتے اور باقی مردوزن و معصوم بچگان کے گلوں میں رسی ڈال کر ان آزادانسانوں کو غلامی کے طوق میں جکڑ کربزورہجرت یورپ میں لے آتے اور پھرنسل در نسل یہ کالے ان سیکولرگوروں کی بدترین غلامی میں جکڑدیے جاتے۔صدیوں پر محیط عرصے میں افریقہ کی بندرگاہیں انسانی ہجرت کی اس زبردستی قسم کی آماجگاہ رہیں اور آج انسانی حقوق کی دعوے داراس سیکولریورپ میں جہاں انسانوں کی منڈیاں لگتی تھیں وہاں فرانس میں ایک دریاکے کنارے انسانی گوشت کی دکانیں بھی موجود تھیں کیونکہ ان گورے سیکولرآقاؤں کے لیے غلاموں کاخون مباح تھا۔سیکولرازم ترقی کرتاگیااور پھر انسانوں کو غلام بنانے کی بجائے قوموں کو غلام بنانے کاعمل شروع کر دیاگیاجوآج تک اپنی بدترین شکل میں جاری ہے۔ماضی قریب سے دنیاکی اقوام کو مجوراََہجرت کرنا پڑ رہی ہے،بڑی اقوام نے چھوٹی قوموں کو دستر خوان سمجھ لیاہے اور آئے دن ان کی افواج  اقوام متحدہ کی آشیربادسے اپنے کل عسکری سازوسامان سمیت چھوٹی قوموں پر چڑھ دوڑتی ہیں،اور کتنی حیرانی کی بات ہے کہ یہ سب کچھ انسانیت کے نام پر ہوتا ہے اور یوں جھوٹ بول بول کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے۔آج کی مجبور ہجرت سیکولرمغربی تہذیب کے مکروہ تحفوں میں سے ایک ہے جو اس نے انسانیت کو دیے ہیں۔ مغربی تہذیب کے عسکری و سیاسی ہتھکنڈوں کے باعث لوگ اپنے ہنستے بستے گھرانے،لہلہاتی فصلیں،جمے جمائے کاروباراورچرتے چگتے جانور چھوڑ کر تو خیموں میں آن بستے ہیں۔انقلاب فرانس سے بالشویک انقلاب تک اورتقسیم ہند سے سے لے کر تقسیم فلسطین تک اور سقوط غرناطہ سے لے کر سقوط ماسکو تک اور اس کے بعد سے آج دن تک شام،عراق،افغانستان اورویت نام وکل عالم، اس سیکولرتہذیب کے ایام عروج عالم انسانیت کو بہت مہنگے پڑ رہے ہیں۔اس سیکولرتہذیب سے قبل بھی متعدد تہذیبیں اس دنیاسے گزریں ہیں لیکن کذب و نفاق کے جو ڈھونگ اس سیکولرمغربی تہذیب نے رچائے ہیں ان کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔اپنی آبادی میں ہوشربا کمی ہوتے دیکھ کرتاریک مستقبل سے بچت کی خاطر اب یورپی ممالک نے ایشیائی نوجوانوں کے لیے اپنی شہریت کے دروازے کھول رکھے ہیں اورانہیں سبزباغ دکھاکر روشن مستقبل کی خاطر زبردستی کی ہجرت پر مجبورکیاجاتاہے۔وہ نوجوان اپنا تعلیمی وفنی و مالی کل اثاثہ ہاتھوں میں اٹھائے یورپی سفارت خانوں کے باہر اپنی قسمت آزمانے کے لیے پہلی باری کی خاطرراتوں کوجاگ جاگ کر لمبی لمبی قطاروں میں لگتے ہیں اور اس عالمی سامراجی استحصال کاشکارہوتے ہیں اورہجرت کریہہ کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔

            مہاجرین کی مدد کے لیے یورپی ممالک کے ہاں باقائدہ سے بڑی مقدارمیں مالیات مختص کی جاتی ہیں،انکی دیکھ بھال کے لیے انتظامی سربراہان تعینات کیے جاتے ہیں،ان پر روزانہ،ہفتہ وار اور ماہانہ کے حساب سے اخراجات کی باقائدہ مدات اور پھر ان کا حساب رکھاجاتا ہے یہاں تک کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی مہاجرین کے بارے میں اپنی ایک مکمل منصو بہ بندی رکھتا ہے،یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کے نمائندے مہاجرین کی خیمہ بستیوں کے دورے بھی کرتے ہیں انکے مسائل سنتے ہیں اور انکے مداوہ کے وعدے بھی کرتے ہیں لیکن یہ سب دکھانے کے ہی دانت ہیں۔بنظر غائر دیکھاجائے تو اس ہجرت کے پیچھے بھی دراصل انہیں ممالک کی سازشیں کارفرما ہوتی ہیں اور انہیں پہلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انکی اس منصوبہ بندی کے نتیجے میں اتنے اور اتنے لوگ اس اس علاقے سے فلاں فلاں علاقے کی طرف ہجرت کر جائیں گے۔گویا جوتاچھوٹاہونے پر پاؤں کاٹ لیے جاتے ہیں تاکہ جوتے میں پیرسماجائیں،اس کی بجائے ہونا تو یہ چاہیے کہ اصل مسئلہ پر توجہ دے کر اسے حل کرلیاجائے تاکہ انسانوں کے لیے مشکلات ختم ہوجائیں اس کی بجائے مسئلہ کو باقی رکھتے ہوئے اس کے اثرات بد پر اپنی دکان چمکائی جاتی ہے یہ کردار ہے سیکولرازم کے پیکروجود کا۔ان لوگوں پر قرآن مجید نے بہت پہلے تبصرہ کر دیا تھا جس کا مفہوم ہے کہ جن لوگوں کے لیے تم اس قدر مشقت اٹھا رہے ہو ان کا گھروں سے نکالنا ہی تمہارے لیے منع کر دیا گیا تھاپھر کیاتم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہواور ایک کا انکار کرتے ہو۔یہ کھلا تضاد اور دوعملی ہے کہ ایک طرف انسانوں کو انکے گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دینا اور دوسری طرف پھر انکی مشکلات پر قابو پانے کے لیے انکی آنکھوں میں دھول جھونک کر انہیں بے وقوف بنانااورمہاجرین کادن منانا۔ایسے دن منالینے سے قیامت تک مہاجرین کی حالت بدلنے والی نہیں ہے۔اگرانسانیت کو تکلیف دہ ہجرتوں سے نجات دلانی ہے تو اس کاایک ہی راستہ ہے کہ محسن انسانیت ﷺکی کل تعلیمات سمیت انصارومہاجرین کے درمیان صحابہ کرام کی مواخات مدینہ کی سنت کوتازہ کیاجائے۔

drsajidkhakwani@gmail.com

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
43526