The Voice of Chitral since 2004
Monday, 13 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبے میں امن وامان حوالےوزیراعلیٰ محمود خان کے زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کے روز منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے علاوہ امن و امان سے متعلق گذشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔اجلاس کو صوبے میں امن و امان کی تازہ صورتحال، امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور انتظامیہ کے اقدامات اور پڑوسی ملک افغانستان کی بدلتی صورتحال کے صوبے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات اور ان سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تیاریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز اور آئی جی پی معظم جاہ انصاری کے علاوہ ڈویژنل کمشنرز، آر پی اوز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے واقعات کے تدارک کے ساتھ ساتھ بدامنی کے دیگر واقعات اور جرائم کی روک تھام پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ گزشتہ روز دیر میں جنازے اور جرگے میں رونما ہونے والے واقعات افسوسناک،قابل مذمت اور پشتون روایات کے منافی ہیں۔اُنہوںنے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ


جرگوں، جنازوں اور اس طرح کے دیگر اجتماعات میں آئندہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے موثر میکنزم تیار کیا جائے اوراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے اجتماعات میںکوئی اسلحہ لے کر نہ جائے ۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ جرائم اور قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے تھانوں کی سطح پر پولیس کو مزید متحرک اور فعال کیا جائے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبہ بھر میں شرپسند اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف منظم انداز میں کاروائیاں جاری ہیں، پچھلے 35 دنوں کے اندر نیشنل ایکشن پلان کے تحت 2631 کیسز درج کئے گئے ہیں، 6133 غیرقانونی اسلحہ پکڑا گیا، لینڈ مافیا کے خلاف کاروائیوں میں 250 کیسز درج کئے گئے جبکہ اس دوران منشیات کے خلاف کاروائیوں میں 2695 کلوگرام منشیات پکڑی گئیں ۔ مزید بتایا گیا کہ خاندانی اور زمین کے تنازعات حل کرنے کے لئے تمام اضلاع میں مصالحتی کونسلز کو فعال کیا گیا ہے،روایتی تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے تھانوں میں آسان انصاف مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے لئے پولیس کی خصوصی فورس قائم کی گئی ہے۔


اجلاس میں پولیو ٹیموں کی سکیورٹی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر اگلی پولیو مہم کی سکیورٹی کے لئے ایف سی کے دستے تعینات کرنے کے سلسلے میں وفاق سے رابطہ کیا جائے گا۔ مزید برآں اجلاس میں تعلیمی اداروں اور بڑے طبی مراکز کی سکیورٹی کا دوبارہ سے جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ شرکاءاجلاس کی تجاویز پر سی آر پی سی میں بعض ضروری اصلاحات اور ترامیم کے سلسلے میں وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کرنے کے لئے تمام شراکت داروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اسی طرح خاندانی اور جائیداد سے متعلق تنازعات کے حل کے لئے نچلی سطح پر مصالحتی کونسلز کو مزید فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ صوبے میں امن و امان کو اپنی حکومت کی اولین ذمہ داری قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی استعداد اور وسائل سے بڑھ کر اقدامات کو یقینی بنائے گی اور اس سلسلے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی ۔
<><><><

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
52677

امن وامان اورچند تلخ حقائق – محمد شریف شکیب

امن وامان اورچند تلخ حقائق – محمد شریف شکیب

وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبے کے مختلف اضلاع میں جائیداد اور خاندانی تنازعات کی بنیاد پر فائرنگ اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کوایسے واقعات کی مؤثر روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ہر پندرہ دن بعد باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ جس میں ریجنل پولیس افسران امن و امان کی صورتحال پرتفصیلی بریفنگ دیں گے۔

وزیراعلیٰ نے صوبے کو غیر قانونی اسلحے اور منشیات سے مکمل طور پر پاک کرنے کے عزم کااظہار کیااورپولیس کو اس حوالے سے نظر آنے والے اقدامات کرنے کی ہدایت کی اجلاس میں صوبے میں نئے اسلحہ لائنس کے اجراء پر پابندی کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا .

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے سلسلے میں پولیس کوہر ممکن وسائل فراہم کرے گی تاہم پولیس کو عوامی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔اجلاس میں اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ، منشیات کے کاروبار اور سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کاروائیوں کا فیصلہ کیاگیا۔اس میں شک نہیں کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں ہماری پولیس کی کارکردگی بہت اچھی ہے۔ یہاں چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پولیس پامال نہیں کرتی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ تین ڈی آئی جیز سمیت درجنوں افسران اور سینکڑوں اہلکار دہشت گردی کی آگ کا ایندھن بن گئے۔ لیکن حکومتی دعوؤں کے برعکس ہماری پولیس مثالی نہیں بن سکی۔ اس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی اور تربیت کا فقدان ہے۔اکثرتھانوں میں سپرداری کی گاڑیوں سے کام چلایاجاتا ہے۔

پٹرول کا خرچ نکالنے کے لئے پولیس کو چالان اور رشوت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ وردیاں، جوتے خود خریدنے پڑتے ہیں ان کی دھلائی اور استری کا خرچہ بھی ان کے اپنے ذمے ہے۔ پولیس سے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ اور تنخواہ مزدور کی کم سے کم اجرت کے برابر دی جاتی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے، اس کی تعلیم اور علاج کا خرچہ اٹھانے کے ساتھ دوران ڈیوٹی اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے پچاس روپے رشوت پر بھی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت پولیس اہلکاروں کو ہائی وے اور موٹر وے پولیس کے مساوی تنخواہیں اور مراعات دے۔اس کے بعد اگر وہ رشوت اور بھتہ لیتے ہوئے پکڑے جائیں تو انہیں نوکری سے برطرفی سمیت سخت سے سخت سزا دے سکتی ہے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی تھانے عوام کے لئے نوگو ایریا ہیں۔ وہاں انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے۔ کارکردگی دکھانے کے لئے بے گناہ لوگوں کو پکڑ کر ان سے اعتراف جرم کرایاجاتا ہے اور عدالت پہنچ کر وہ صحت جرم سے انکار کرتے ہیں۔ تفتیشی نظام میں سقم کی وجہ سے اگر جرائم پیشہ لوگ پکڑے جانے کے باوجود عدالتوں سے عدم ثبوت یا ناقص تفتیش کے باعث بری ہوجاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قتل مقاتلے، ڈکیتی، رہزنی، چوری، کسی کی جائیداد پر قبضہ، اغوا برائے تاوان جیسے جرائم بھی پولیس کی مدد اور تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتے۔ اگر پولیس کا نظام ٹھیک کیاجائے تو 70فیصد جرائم خود بخود ختم ہوجائیں گے۔

پولیس کو مالی لحاظ سے مستحکم کرنے کے ساتھ دوران ملازمت ان کی تربیت بھی ناگزیر ہے اور تربیتی نصاب میں انسانی حقوق، احترام انسانیت کے موضوعات بھی شامل ہونے چاہیئں تاکہ انہیں عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کا حقیقی محافظ بنایاجاسکے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود پولیس کو جب تک سیاسی مداخلت سے پاک نہیں کیاجاتا۔ اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہونا دیوانے کا خواب ہے۔ آج بھی تھانوں میں ایس ایچ اوز سیاسی لوگوں کی سفارش پر تعینات کئے جاتے ہیں۔

ہر ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر، وزیر، مشیر، معاون خصوصی کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ وردیوں اور سادہ لباس میں پولیس کی سیکورٹی ہوتی ہے۔ جب سیاسی لوگ عازم سفر ہوتے ہیں تو ان کے لئے سڑکوں پر ٹریفک روک دی جاتی ہے۔ وی آئی پی اور وی وی آئی پی کلچر نے پولیس نظام کی تباہی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جب تک وی آئی پی کلچر کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ پولیس عوامی فورس نہیں بن سکتی۔اور نہ ہی جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
50372