Chitral Times

بزمِ درویش ۔ اسم اعظم ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ اسم اعظم ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کوچہ فقر تصوف میں وار ہونے والے ہر طالب کی ایک ہی خواہش کھوج تلاش ہو تی ہے کہ وہ اسم اعظم اُسے مل جائے جس کو اپنا کرو ہ فقر کی اعلی منازل طے کر کے جلو ہ حق کے غوطوں میں سیراب ہو کر قرب الٰہی کا رتبہ پا جائے قرب الٰہی یا الٰہی رنگ میں رنگنے کے بعد طالب پھر کثافت سے لطافت کا پیکر بن کر کن فیکون کے مقام تک رسائی پا جاتا ہے وہاں پھر حق تعالی کے مطابق پھر تم تم نہیں رہتے تمہارے ہاتھ پاؤں میرے بن جاتے ہیں تمہارا بولنا میر ا بن جاتا ہے پھر جو تم کہہ رہے ہو ے ہو وہ کن ہو تا جاتا ہے عشق الٰہی کے ہر سالک کو اِس مقام تک پہنچنے کے لیے کٹھن مراحل سے گزر کر بھٹی سے کندن بن کر نکلنا پڑتا ہے پھر ہی قطرہ جا کر سمند ر میں مل کر فنا کا جام پی کر امر ہو جاتا ہے میں بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہوں جس کو حق تعالی نے فطری کھوج تلاش سے نواز اضطراب کی وہ کیفیت عطا کی کہ پارے کی طرح بچپن سے ہی مچل رہا تھا بچپن میں روحانیت کا ماحول نہیں تھا لیکن اُس مخالف روحانیت ماحول میں بھی اگر کوئی صوفی درویش بابا میر ی نظر سے گزرتا تو اُس کا طواف شروع کردیتا اُس کا مطالعہ کرتا کہ اِس کے پاس کیا ہے

 

 

ایک عجیب سی کشش مجھے اُس بزرگ کے قریب لے جاتی پھر میں بہانوں سے اُس کا قرب حاصل کرنے کی کو شش کرتا ماورائی روحانی دنیا کو دیکھنے کی فطری خواہش مجھے مضطرب کئے رکھتی لیکن بچپن اور شعوری بیدا ری نہ ہو نے کی وجہ سے جان نہ پایا لیکن یہ ضرور ہے کہ ایسے ماورائی قوتوں کے حامل بزرگوں سے جاننے کی کوشش کرتا ایسا ہی ایک بزرگ میرے بچپن میں بھی تھا جو بہت بڑا بزرگ کن فیکون کا مالک جو کچھ اُس کی زبان سے نکل جاتا حق ہو جا تا نوے سال سے اوپر کا بزرگ جس کے جسم کا ہر بال چاندی ہو چکا تھا حتیٰ کہ بھنوؤں کا رنگ بھی سیاہ وہ ہمیشہ سفید کر تا اور چادر پہنتا ہر وقت ہونٹوں پر ورد جاری اِس طرح وہ پر اسرار لگنے کے ساتھ میری بھی بہت دل چسپی کا حال تھا وہ سورہ یسین کا عامل تھا جو بعد میں مجھے پتہ چلا فجر کی نماز کے بعد اکتالیس مرتبہ مسلسل سورہ یسین کی تلاوت اُن کا برسوں کا معمول تھا جو اب بھی جاری تھا برسوں کی مسلسل ریاضت سے اب اُن کے وجود سے سورہ یٰسین کا فیض جاری ہو گیا اُس کے پاس مختلف لوگ علاج کے لیے آتے جنات اور کینسر کا وہ سپیشلسٹ تھا اُس دور میں ہزاروں لوگ گردن کی گلٹی سے مر جاتے جو اگر کسی کی گردن کے پچھلے حصے پر نمودار ہو گئی تو دونوں میں کینسر کا روپ دھار کر خون میں شامل ہو کہ سارے جسم کو کینسر زدہ کر کے مریض کو مٹی کے نیچے لٹا دیتی یہ لا علاج مرض تھا

 

جس کے سامنے میڈیکل سائنس اور ڈاکٹر فارمیسیاں بے بس تھیں ہر مرض خوفناک عفریت کا روپ دھا رکر ہزاروں لوگوں کو نگل چکا تھا اور یہ سلسلہ جاری تھا اِس بزرگ کے پاس جب شروع میں کچھ لوگ تو اِس نے وہی مخصوص عمل سورہ یٰسین پڑھ کر دم کیا مٹی کے ڈھیلے اور تیل دم کر کے دیا مریض چند ہفتوں بعد آتا تو گلٹی غائب اورمریض صحت یاب ہو چکا ہو تا تھا بابا جی یہ کرامت دیہات سے نکل کر شہروں تک پھیل گئی تھی یہاں تک کہ جب لا علاج مریض ٹھیک ہو تے تو ڈاکٹروں نے آکر بابا جی سے ملاقات کی اور روحانی علاج کی برکت اور کرامت کے بارے میں پوچھا پھر اُنہی ڈاکٹروں نے بہت سارے مریضوں کو بھیجنا شروع کر دیا اِس طرح چھوٹے سے گاؤں چھوٹی سی کچی مسجد کا صوفی تاریخ انسانی کی سب سے خوفناک لا علاج بیماری کا علاج کر نے لگا جب بھی کوئی مریض علاج کے لیے باباجی کے پاس آتا تو وہ ایک شیشی میں سرسوں کا تیل لے کر آتا ساتھ میں کچی مٹی کے ڈھیلے بابا جی کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مریض کو سامنے بیٹھا کر شیشی ہاتھ میں پکڑ کر اپنا اسم اعظم جو طویل ریاضت کے بعد کن فیکون کے مرتبے پر فائز ہو چکا تھا پڑھنا شروع کر دیتے اِس دوران بعض اوقات ایک حیران کن منظر اور دھماکہ ہو تا جو کو دیکھنے کے لیے ہم بچے جمع ہو جاتے کہ باباجی آج پھر دھماکہ کریں گے یہ منظر روحانیت کے منکرین کے لیے چیلنج ہو تا تھا لیکن منکرین پھر بھی بہانے بنا کر ٹال جاتے اکثر جب باباجی نے اِسم اعظم مکمل کر کے تیل پر پھونک مارنی تو بعض اوقات دھماکے کے زور دار آواز آنی شیشی کا اوپر والا حصہ ٹوٹ کر دور جا گر تا سب کی آنکھیں حیرت سے پھیل جاتی بابا جی نے فاتحانہ تبسم سے آنکھیں کھولتے اور مریض سے پوچھا چیک کرو گلٹی اپنی جگہ پر موجود ہے یا مرض اور گلٹی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مریض کو چھوڑ کر جاچکے ہیں

 

اگر کسی مریض کی گلٹی نہ جاتی تو بابا جی اُس کو لگانے کے لیے تیل اور مٹی کے ڈھیلے لگاتے جو مریض نے اکیس دن استعمال کر تا اِس طرح بابا اپنے اسم اعظم سے لاعلاج مریضوں کا علاج کر تے تھے میں جوان ہو ا کوچہ فقر کا طالب بنا تو وہ وفات پا چکے تھے لیکن اُن کے دوست اور حیات تھے دونوں سے ملا کہ باباکہ کونسا اسم پڑھتے تھے دونوں نے کہا باباجی نماز فجر کے بعد وہیں مسجد میں بیٹھ کر اکتالیس مرتبہ سورہ یٰسین پڑھا کرتے تھے اِس دوران کسی سے بات نہیں کرتے تھے اِس عمل کو میں تفصیل سے اپنی کتاب ثمرات اسم اعظم میں بیان کیا ہے اِس کتاب میں باقی اکابر صوفیا کرام کے اسم اعظم طریقہ اور عمل درج ہیں جس سے روحانی طالبین اپنی روحانی پیاس بجھا کر خدمت خلق اور قرب الٰہی کا مقام پا سکتے ہیں میں ساری زندگی جن بڑے باکمال کن فیکون کے مالک بزگوں سے ملا سب کے پاس اللہ کا کوئی نام یا سورہ تھی جس کو انہوں نے اسم اعظم بنا یا ہوا تھا متلاشیان حق کی روحانی پیاس بجھانے کے لیے اپنی کتاب میں تفصیل سے درج کر دیا ہے یہاں پر ایک اور نقطہ جو سالکین حق کی تربیت اور راہنمائی کے لیے بہت ضروری ہے باباجی کے دو دوستوں نے بھی یہ وظیفہ شروع کیا ہوا تھا دونوں سے جب ملا تو حیران ہو اکہ برسوں کی ریاضت کے بعد بھی دونوں بانجھ اورخالی تھے یعنی فیض جاری نہ تھا تو کھوج لگانے پہ پتہ چلا ایک اپنے رشتہ داروں کو سزا دینے کے لیے پڑھ رہا تھا دوسرا دولت کمانے کے لیے لہذا دونوں کی برسوں کی محنت ضائع ہو رہی تھی میرے پچھلے کالم کے سرکاری ریٹائرڈ آفیسر اور اُن جیسے اور بھی بہت سارے لوگ میرے پاس آکر کہتے ہیں فقیری درویشی چاہیے وظائف میں جان آجائے یہ چاہیے لیکن یہ سارے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اگر آپ اسم اعظم یا وظائف ذاتی انتقام دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے ذاتی نمائش لوگوں کو غلام بنانے کے لیے کرتے ہیں تو برسوں کی ریاضت راکھ کا ڈھیر بنتی جاتی ہے اگر آپ خدمت خلق کو دل و جان سے اپنا لیں تو کوئی بھی اسم پڑھیں وہ آپ کے لیے اسم اعظم بن جائے گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71308