Chitral Times

مشکلات میں کیا کرنا چاہیے ۔ خاطرات : امیرجان حقانی

مشکلات میں کیا کرنا چاہیے ۔ خاطرات : امیرجان حقانی

زندگی میں آزمائشیں اور مشکلات آتی ہیں اور مالی مسائل بھی انہی آزمائشوں میں سے ایک ہیں۔ ایسے حالات میں جب انسان مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہو، تو اس کے ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آج کی تحریر میں ان افراد کو اطمینان، سکون، اور حوصلہ فراہم کرنا ہے جو ان حالات سے گزر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چند معروضات عمومی حوالے سے بھی عرض کرنی ہیں تاکہ تحریر سے استفادہ عامہ ممکن ہو. دینی اور دنیاوی نقطہ نظر سے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح ہم ان مشکلات سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔

 

دینی نقطہ نظر

دین اسلام بھی انسان کے ہر معاملے میں مکمل رہنمائی کرتا ہے. قرآن کریم کی سینکڑوں آیات، آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے فرامین اور سیرت اس حوالے سے انسان کو بہت زیادہ رہنمائی اور موٹیویشن دیتی ہیں. تاہم ایک دو پوائنٹس دینی نکتہ نظر سے عرض کرتے ہیں.

 

1.صبر اور توکل:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کرنے کی تاکید کی ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں.

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾
ترجمہ”اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
صبر اور نماز کے ذریعے ہم اللہ کی مدد حاصل کر سکتے ہیں اور دل کو سکون پہنچا سکتے ہیں۔ یہ مجرب اعمال ہیں. اسی طرح توکل بھی ہے.

 

2.شکر گزاری:
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہمیں ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ مالی مشکلات ہیں، لیکن ہماری زندگی میں بہت سی دوسری نعمتیں بھی ہیں جن کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ

ترجمہ “اور اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (سورۃ ابراہیم: 7).

 

3.دعا اور استغفار:

دعا ایک ایسی عبادت یا ایکٹیویٹی ہے جس کی کیفیات ہر انسان کے لیے علیحدہ ہے. دعا کرنا اور اللہ سے مدد طلب کرنا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ استغفار کے ذریعے ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ دعا اور استغفار سے دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

 

دنیاوی نقطہ نظر

مشکلات سے نمٹنے کے لئے دین کیساتھ دنیاوی اعتبار سے بھی بڑی رہنمائی ملتی ہیں. جو باتیں عموماً دنیاوی اعتبار سے کہی جاتیں ہیں وہ بھی دینی نقطہ نظر ہی ہوتا ہے. دین اسلام نے ان تمام ہدایات و امور کو سمو دیا ہے تاہم، ہم افہام و تفہیم کی آسانی کے لیے دنیاوی عنوان سے اس کا ذکر کر دیتے ہیں. چند اہم پوائنٹ ملاحظہ کیجئے.

 

1.خود اعتمادی اور مثبت سوچ:

دنیاوی اعتبار سے، خود اعتمادی اور مثبت سوچ اپنانا ضروری ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ آپ ہر مشکل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہر دن کو ایک نئے موقع کے طور پر دیکھیں اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے محنت کریں۔

 

2.مدد قبول کرنا:

جب ہم بالخصوص مالی مشکلات و مسائل کا سامنا کرتے ہیں تو بعض اوقات ہم مدد لینے سے جھجکتے ہیں، لیکن مشکل حالات میں مدد قبول کرنا ضروری ہے۔ دوستوں، رشتہ داروں یا فلاحی اداروں سے مدد لیں۔ یہ یاد رکھیں کہ مدد طلب کرنا کوئی کمزوری نہیں ہے بلکہ ایک سمجھداری کا عمل ہے۔ بہت دفعہ رریاستی سسٹم میں بھی مدد کے کئی پہلو موجود ہوتے ہیں جو ہمیں معلوم نہیں ہوتے.
عمومی طور پر ایک مسئلہ پیش آتا ہے کہ لوگ مدد کرنے یا قرضہ حسنہ دینے سے کتراتے ہیں، وہ الگ بحث ہے. سردست یہ دیکھنا کہ مشکل اوقات میں دیگر احباب سے مدد طلب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے.

 

3.نئے مواقع کی تلاش:

عموماً ہم جب بھی مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتے ہیں اور مزید خود کو کمزور اور کسیل بنا دیتے ہیں.
ایسے میں مالی مشکلات کا سامنا کرتے وقت نئے مواقع کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ کوئی نیا ہنر سیکھیں، کوئی نیا کاروبار شروع کریں یا موجودہ کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ دنیاوی اعتبار سے، جدت اور محنت ہی ہمیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔

عمومی طور پر ہم جب بھی مشکلات میں پھنسے، یہ مشکلات کسی بھی نوعیت کے ہوسکتے ہیں. مالی ہونا ضروری نہیں. ایسے حالات میں ہمیں چند باتوں کا خصوصیت سے خیال رکھنا چاہیے تاکہ ان حالات و مشکلات کا مقابلہ کرسکیں.

 

1.مثبت سوچ و رویہ اپنائیں:

منفی ترین حالات میں بھی ہمیشہ مثبت پہلو دیکھنے کی کوشش کریں۔ ہر مشکل میں سیکھنے کا موقع تلاش کریں۔ ایسے حالات میں رویوں کو مزید مثبت بنانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے.

 

2.اہداف مقرر کریں:

واضح اور قابلِ حصول اہداف طے کریں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ یہ آپ کو سمت فراہم کریں گے اور آپ کی محنت کو بامقصد بنائیں گے۔ اہداف طے کیے بغیر زندگی بہت مشکل اور بے ڈھنگ ہوجاتی ہے. میں اپنے طلبہ کو اہداف کے تعین کے حوالے سے باقاعدہ لیکچر دیتا ہوں. یہ صراط مستقیم ہے جو ہر انسان کی الگ ہے جس کا ہر ایک کو الگ الگ جاننا ضروری ہے.

 

3.استقامت برقرار رکھیں:

کامیابی کے حصول کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہے. کامیابی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی۔ کامیابی کے حصول کے لئے مستقل مزاجی اور صبر کے ساتھ کام جاری رکھیں۔ہزاروں عالمی و کامیاب شخصیات میں استقامت کامن صفت ہے. اللہ نے بھی اسی کا حکم دیا ہے.

 

4.خود پر اعتماد رکھیں:

خود اعتمادی سے ہی آپ مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یقین رکھیں کہ آپ کے پاس مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیلنٹ موجود ہے۔ آپ مسائل کو ریزہ ریزہ کرسکتے ہیں. بس اس کے لئے خود پر، اپنے سکلز اور علم پر اعتماد کی ضرورت ہے.

 

5.حوصلہ افزائی حاصل کریں:

ہم عمومی طور پر حوصلہ شکن لوگ ہیں. ہماری ناکامیوں کا ایک بڑا سبب حوصلہ شکنی ہے. ہم ذرا اوٹ اف بکس سوچنے والوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں. معاشرتی بیریر کھڑے کر دیتے ہیں، اور جی بھر کر حوصلہ شکنی کرتے ہیں. تاہم مشکل حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو ہماری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ڈھارس بندھاتے ہیں اور ہمیں مثبت توانائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے غنیمت ہوتے ہیں. انہیں کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہیے. معلوم کیجئے. رسول اللہ بھی اپنے اصحاب کو مثبت توانی دیتے رہتے تھے. کاش یہ طرز عمل ہمیں سمجھ آجائے.

 

6.تعلیم اور مہارت میں اضافہ کریں:

اپنی تعلیم اور اپنی مہارتوں میں اضافہ کرنے سے بھی انسان ایزی فیل کرتا ہے بلکہ دوسروں سے نمایاں ہوجاتا ہے. علم اور مہارتیں بڑھانے سے آپ مشکلات کا بہتر سامنا کر سکتے ہیں اور مزید مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ دور ہی تعلیم و سکلز میں مہارتوں اور بڑھاوے کا ہے. اس سے انسان میں کنفیڈینس بھی آجاتا ہے.

 

7. خود کو آرام دیں:

بعض دفعہ ہم مشکلات میں مزید الجھ جاتے ہیں. ڈپریشن اور اینگزائٹی کا شکار ہوجاتے ہیں. خود کو تکلیف دینے لگ جاتے ہیں. اس سے پرہیز لازم ہے. جسمانی اور ذہنی سکون کے لیے وقت نکالیں۔ ورزش میں مشغول رہیں۔ خوب نیند کریں اور گھر والوں کو بھی ٹائم دیں اور کھلیں کودیں. گپیں ماریں. چیخیں چلائیں اور ہنسیں ہنسائیں. غرض جس شکل میں بھی انجوائے کرنے کی گنجائش ہو کرگزر جائیں.

 

8.منصوبہ بندی اور تنظیم:

مشکلات میں بالخصوص اپنے وقت اور وسائل کی بہتر منصوبہ بندی کریں. مسائل اور وسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ ترجیحات کا تعین کریں اور اہم کاموں پر توجہ دیں۔ غیر ضروری امور میں الجھنے اور پھنسنے سے قطعی گریز کریں.

 

9. مثبت عادات اپنائیں:

انسان کو ہر اعتبار سے مضبوط بننے کے لئے کچھ مستقل عادات اپنانی ہوتی ہیں. ان سے بہت کچھ اچھا محسوس کیا جاسکتا ہے. روزانہ کی مثبت عادات، جیسے کہ مطالعہ، ورزش، اور شکرگزاری، گھر کے چھوٹے موٹے کام، آپ کو مضبوط اور مثبت بناتی ہیں۔ اور بہت ساری عادات حسب ضرورت اپنائی جا سکتیں ہیں.

 

10.ماضی سے سیکھیں:

یاد ماضی کو عذاب بنانے کے بجائے اسی ماضی کی ناکامیوں اور کامیابیوں سے سبق حاصل کریں اور مستقبل میں بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کریں۔ بعض اوقات ماضی کی غلطیاں اور کامیابیاں عظیم استاد بنتی ہیں. ہمیں بڑے نقصانات سے بچاتی ہیں اور کامیابیوں کی طرف گامزن کرتی ہیں.

تلکہ عشرۃ کاملۃ، فی الحال یہی دس نکات کافی ہیں.

 

مشکلات مالی ہوں یا کوئی بھی، زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان سے نبرد آزما ہونے کا طریقہ ہمارے اختیار میں ہے۔ دینی اور دنیاوی نقطہ نظر کو اپنا کر ہم نہ صرف اپنی مالی مشکلات سے نکل سکتے ہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ صبر، شکرو ذکر، دعا، اور استغفار سے دل کو سکون ملتا ہے، جبکہ خود اعتمادی، مثبت سوچ، اور نئے مواقع کی تلاش سے ہم دنیاوی اعتبار سے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ہر مشکل سے نکالے۔ آمین۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
89442

پیام شاہ  امم ص  کا بھرم رہے کچھ لوگ – از قلم: عصمت اسامہ۔

Posted on

پیام شاہ  امم ص  کا بھرم رہے کچھ لوگ – از قلم: عصمت اسامہ۔

 

” استاذ جی کو بتا دینا کہ میں دھرنے کے لئے جارہا ہوں اس لئے جلدی نکل رہا ہوں۔میں لیڈ ٹیم میں شامل ہوں اور میرا وہاں جانا بہت ضروری ہے غزہ کے لئے۔ غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے بعد تو جینا بھی اچھا نہیں لگتا۔استاذ کو میرا یہ پیغام پڑھا دینا۔۔۔۔” رومان ساجد شہید کا یہ آخری پیغام تھا جو اس نے فلس طین دھرنا ڈی چوک میں نکلنے سے قبل اپنے دوست کو بھیجا تھا۔ وہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کا طالب علم،آزاد کشمیر کا باشندہ تھا اور ” سیو غ زہ کمپین ” میں بطور سوشل میڈیا ذمہ دار،کام کر رہا تھا۔پندرہ دنوں سے پارلیمنٹ کے سامنے ایکس سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب،ان کی اہلیہ حمیرا طیبہ (فاؤنڈر سیو غ زہ کمپین) کچھ طلبہ اور شہریوں کے ساتھ دھرنا دئیے ہوۓ ہیں۔ اپنے آرام دہ گھروں کو چھوڑ کر سخت گرمی میں یہ لوگ سڑکوں پر دن رات کیوں گزار رہے ہیں؟ کیا یہ ڈی چوک پر کسی ذاتی مفاد کے لئے جمع ہوۓ ہیں؟ پولیس کی دھمکیوں،لاٹھی چارج، رات دو بجے گاڑی چڑھانے کے قاتلانہ واقعہ اور دو معصوم شہریوں کی شہادت کے باوجود یہ لوگ دھرنا کیوں جاری رکھے ہوۓ ہیں،آخر کیوں؟ درحقیقت ان کا اپنا کوئی ذاتی مقصد نہیں ہے بلکہ ” فلس طین میں جاری نسل کشی” کو روکنے اور عالمی طاقتوں کی کھلی دہ شت گردی کے خلاف،حکومت_ پاکستان سے عملی اقدامات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں کہ غ زہ میں پندرہ ہزار معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل کر، بستیوں اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے، غیر مسلم اقوام بھی اب سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں

۔انسانیت کی تذلیل کے خلاف انسانیت اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ یورپی یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات،کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے فلس طین میں جاری قتل_ عام کو روکنے کے لئے دھرنے اور جلسے کر رہے ہیں،مسلمان ممالک کی یہ خاموشی،زندہ ضمیروں پر بے حد گراں گذر رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایمان اور عقیدے کی جنگ ہے جو قبلہء اول بیت المقدس،خانہء خدا کی خاطر لڑی جارہی ہے،یہ صرف فلس طین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بہت جلد دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی،اگر امت_ مسلمہ نے جلد متحد ہوکے کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا تو یوں ہی گاجر مولی کی طرح یکے بعد دیگرے کٹتے مرتے چلے جائیں گے۔

سیو غ زہ کمپین کے سب پرامن شرکاء مبارک باد کے مستحق ہیں جو حق کا علم اٹھاۓ میدان میں اترے ہوۓ ہیں،غ زہ کے معصوم بچوں کی تکالیف کو اپنے بچوں کی تکالیف کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ جنھیں اپنے رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوکے جواب دہی کے خوف نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں لا کے کھڑا کردیا ہے،جنھوں نے یہاں کیمپوں کو نمازوں،تلاوت_ قرآن اور دروس سے آباد کردیا ہے، جو لاٹھیاں برسانے والے پولیس اہلکاروں کو بھی پانی کی بوتلیں تقسیم کرتے نظر آتے ہیں،

محترمہ حمیرا طیبہ (فاؤنڈر سیو غ زہ کمپین) ہر بار نوجوانوں کو پولیس گردی سے بچانے کے لئے خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہیں انھوں نے صحابیہ حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کی یاد تازہ کردی ہے،جو ایک غزوہء میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چاروں اطراف سے دفاع کر رہی تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ “آج تو ام عمارہ کا دن تھا!”. کیا کبھی کسی نے ویمن ایمپاورمنٹ کی ایسی مثال کہیں اور دیکھی ہوگی؟

~ ہر ایک قدم پر ثابت قدم رہے کچھ لوگ
جبینِ وقت پر کچھ ایسے رقم رہے کچھ لوگ
زوال_ جرات _ کردار کے زمانے میں
پیام_ شاہ_ امم ص کا بھرم رہے کچھ لوگ!

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
89439

ذیابیطس میں دنیا کا نمبر1ملک پاکستان – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

ذیابیطس میں دنیا کا نمبر1ملک پاکستان – میری بات:روہیل اکبر

دنیا میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا پاکستان یک دم تنزلی کی طرف گیا یا آہستہ آہستہ اس پر سوچنے سے پہلے بس اتنا یاد رکھیں کہ یہ وہ علمی ملک تھا جس کے تعلیمی اداروں میں بیرون ممالک سے بچے آکر پڑھا کرتے تھے پاکستان ایک ایسا خوبصورت ملک تھا جہاں دنیا پھر کے سیاح گھومنے آیا کرتے تھے اسکے ادارے ان میں کام کرنے والے لوگ اتنے پیارے،مخلص اور باصلاحیت تھے کہ بچپن میں جس کو دیکھتے بڑے ہوکر وہی بننے کی خواہش ہوتی تھی لوگ صحت مند ہوا کرتے تھے اور وہ بیماریاں جو آج پورے پاکستان کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں انکا نام تک نہیں آتا تھا پھر وقت نے پلٹا کھایا اور ملک اندھیروں کے راستے پر گامزن کردیا گیا اپنے ہی بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے

 

اس شعبہ میں ایسے ایسے کاریگر قسم کے لوگ آئے جنہوں نے امیروں اور غریبوں کی تعلیم کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا بلکہ غریبوں سے تعلیم کا حق ہی چھین لیا گیا آ ج ہمارے بچے جس طرح کرغستان /بشکیک سمیت دنیا بھر میں خوار ہورہے ہیں وہ پوری دنیا میں مزاق بن چکا ہے رہی بات صحت کی اس میں بھی ڈاکٹروں نے جو ہمارا حشر کردیا ہے وہ بھی ناقابل یقین ہے سرکاری ہسپتالوں میں انسانوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ہورہا ہے ڈاکٹر بچوں کو جان سے مارتے بھی ہیں اور پھر انکے والدیں کو احتجاج بھی نہیں کرنے دیتے الٹا انہیں بھی مارتے ہیں اور پھر تھانوں میں پرچے بھی کرواتے ہیں ہماری پولیس اپنی کرتوتوں کی وجہ سے کبھی فوجیوں سے مار کھاتی ہے تو کبھی کھسرے انہیں تھانوں میں گھس کر مارتے ہیں رہی بات عوام کی انہیں ہمارے حکمرانوں نے اس قابل چھوڑا ہی نہیں کہ وہ کچھ کرسکیں الیکشن سے پہلے کوئی 2سو یونٹ بجلی مفت دے رہا تھا تو کوئی 3سو یونٹ مفت بجلی کا لالی پاپ ہاتھ میں پکڑے عوام کو ترسا رہا تھا جبکہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے تو اپنے کپڑے بھی بیچنے کا وعدہ کررکھا تھا لیکن جب یہ لوگ فارم47کی مدد سے جیت گئے تو پھر انکے سارے وعدے اور دعوے بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے

 

عوام کو حکمرانوں کے سارے وعدے بھول گئے گیونکہ وہ بے روزگاری،غربت،مہنگائی اور بیماریوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں بیماریاں بھی ایسی جو لاعلاج ہیں ان میں ایک شوگریا ذیابیطس بھی ہے جو ایک دائمی بیماری ہے جس میں انسان کا جسم یا تو مناسب انسولین پیدا کرنے یا استعمال کرنے سے قاصر ہوتا ہے وہ ہارمون جو جسم کے خلیوں کو خون کے دھارے سے گلوکوز، یا شوگر کو جذب کرنے کے قابل بناتا ہے انسولین کی کمی کے نتیجے میں خلیات بھوکے مرتے ہیں اور خون میں شوگر کی سطح بلند ہوتی ہے یہ حالت ہائپرگلیسیمیا کہلاتی ہے جس کا علاج نہ ہونے پر جسمانی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اگر مناسب طریقے سے علاج نہ کیا جائے تو ذیابیطس ایک سنگین اور جان لیوا مرض بھی بن سکتی ہے ذیابیطس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صحت کی پیچیدگیوں میں گلوکوما اور موتیابند، گردے کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر (ہائی بلڈ پریشر)، ذیابیطس ketoacidosis (DKA)، جلد کی پیچیدگیاں، اعصاب اور خون کی نالیوں کو نقصان اور پاؤں کی پیچیدگیاں شامل ہیں

 

انتہائی ذیابیطس ہارٹ اٹیک، فالج، یا کسی عضو کو کاٹنے کی ضرورت کا باعث بھی بن سکتی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2019 میں 15 لاکھ اموات کی براہ راست وجہ ذیابیطس تھی بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) کے اعدادوشمار کے مطابق 2021 میں 6.7 ملین اموات صرف ذیابیطس کی وجہ سے ہوئی تھیں اوردنیا میں 20 سے79 سال کی عمر تک 10فیصدلوگ ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے جو 2030 تک بڑھ کر 643 ملین اور 2045 تک 783 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق 240 ملین لوگ ایسے ہیں جنہیں ذیابیطس ہے اور ان میں ان لوگوں کی بھی اکثریت ہے جنہیں اس مرض کا علم ہی نہیں ہے

 

اگر ہم شوگر کے مرض کے حوالہ سے دنیا کے ٹاپ 10 ممالک کا ذکر کریں تو ان میں پاکستان 30.8فیصد کے حساب سے سب سے اوپر ہے جہاں شوگر کے مریض سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں جبکہ فرانسیسی پولینیشیا 25.2 فیصد کے حساب سے دوسرے نمبر،کویت 24.9فیصدسے تیسرے نمبر پر،نیو کیلیڈونیا 23.4 فیصد سے چوتھے نمبر پر،شمالی ماریانا جزائر 23.4 فیصد سے پانچویں نمبر پر،ناورو 23.4 فیصد سے چھٹے نمبر پر،مارشل جزائر 23 فیصد سے ساتویں مبر پر،ماریشس 22.6 فیصد سے آٹھویں نمبر پر،کریباتی 22.1 فیصد سے نویں نمبر پر،مصر 20.9 فیصد سے دسویں نمبر پر ہے جبکہ دنیا میں ذیابیطس کی سب سے کم شرح والا ملک بینن ہے جہاں کی 1.1 فیصد آبادی ذیابیطس کے ساتھ رہ رہی ہے پاکستان میں اس موذی مرض کو لگام ڈالنے کے لیے اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ)کے سیکریٹری جنرل ثناہ اللہ گھمن بہت کام کررہے ہیں وہ ہمارے آنے وال کل سے بہت خوفزدہ ہیں اسی لیے تو انکی کوشش ہے کہ بچوں کو اس بیماری سے بچایا جائے

 

ہمارے ہاں تو ویسے بھی دو نمبری بہت زیادہ ہے اور جو جوس مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ انتہائی خطرناک ہیں یہ جوس نہ صرف صحت عامہ کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس پر کافی منفی اثرات بھی مرتب کرتے ہیں میٹھے مشروبات سے پیدا ہونے والے شدید صحت کے خطرات بشمول موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس،دل اور گردے کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں 33 ملین سے زائد افراد کے ساتھ ذیابیطس کا مرض آسمان کو چھو رہا ہے اور پاکستان میں ہر تیسرا بالغ ذیابیطس کا شکار ہے جبکہ ثناء اللہ گھمن نے ترک سفیر کے نام خط ایک خط بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے پالیسی پراسس میں مداخلت پر سخت غم و غصے کا اظہار بھی کیا ہے کہ کہ آپ نے حالیہ دنوں میں وزیر خزانہ اور دوسرے پالیسی سازوں سے مشروبات کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی ہے کہ آنے والے بجٹ میں میٹھے مشروبات پر ٹیکسوں کو کم کیا جائے

 

آپ نے پالیسی پراسس میں مداخلت کر کے پاکستانی عوام کی صحت پر مشروبات کمپنیوں کے کاروباری مفاد کو ترجیع دی ہے کیونکہ جوسز سمیت میٹھے مشروبات کا باقاعدہ استعمال بچوں اور بڑوں میں کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے یہ عمل نہ صرف پاکستانی عوام کی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہے بلکہ پاکستانی معشیت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے پاکستان پہلے ہی زیابیطس کے پھیلاؤ میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے اور اگر فوری پالیسی اقدام نہ کیا گیا تو 2045تک زیابیطس کا شکار لوگوں کی تعداد 6کروڑ 20لاکھ تک ہو جائے گی روزانہ 1100لوگ صرف پاکستان میں ذیابیطس یا اس سے ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے دنیا سے جا رہے ہیں اس لیے ہماری آپ سے درخواست ہے کہ آپ پاکستانیوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے والی کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں ہم پاکستان کی سول سوسائٹی اور ہزاروں ماہرین صحت کے نمائندے کے طور پر آپ سے درخواست اور توقع رکھتے ہیں کہ آپ مشروبات کمپنیوں کے کاروباری مفاد کی بجائے پاکستانی عوام کی صحت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89414

28مئی یوم تکبیر۔ میر افسر امان

بسم اللہ الرحمان الرحیم
28مئی یوم تکبیر۔ میر افسر امان

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔”اور تم لوگ، جہاں تک تمھارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیّا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُورسرے اعدا کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔(سورۃ الانفال۔20)اس کا مطلب ہے کہ تمھارے پاس سامان جنگ اور مستقل فوجی ہر وقت تیار رہنی چاہیے

 

۔میاں نواز شریف کی حکومت میں 28مئی1998 کوبلوچستان کے علاقے چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان نے سات(7)ایٹمی دھماکے کر قرآن کے اس حکم پر عمل کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان اپنی ہزاروں کمزرویوں کے باجود، دشمنوں سے محفوظ ہے۔ نواز شریف نے قوم کے درمیان مقابلہ کروا کر اس دن کا نام”تکبیر“ متعین کیا تھا۔ پاکستانی قوم ہر سال28مئی ایٹمی دھماکوں کی خوشی میں یوم تکبیر مناتی ہے۔

 

اگر پاکستان کے دشمنوں کی بات کی جائے توخطے میں بھارت کے علاوہ پاکستان کا کوئی دشمن نہیں۔اس لیے کہ بھارت نے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ بھارت اپنے بچوں کو یہودیوں کی طرح پٹی پڑھا رکھی ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان بنا کر،ہمارے گائے ماتا، یعنی ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دیے ہیں۔ ہم پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت مکمل کریں گے۔ہٹلر صفت،متعصب، وزیر اعظم بھارت نرنیدرا مودی جی نے بھارت کی پارلیمنٹ کی دیوار پر اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھی لگا دیا ہے۔ جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور ارد گرد کے سارے ملک اس نقشہ میں موجود ہیں۔ اسی طرح دہشت گرد اسراعیل نے بھی اپنی پارلیمنٹ کے دیوار پر نقشہ لگا رکھا ہے۔ جس میں لکھا ہے”اے اسراعیل تیری سرحدیں دریائے نیل سے دریائے دجلہ تک ہیں“ اس میں اُردن، شام، عراق سعودی عرب کے مدینہ تک کا علاقہ شامل ہے۔

 

بھارت کے ہٹلر صفت، متعصب، مسلم دشمن اور دہشت گرتنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ”آر ایس ایس“ کے بنیادی رکن ہیں۔ یہ تنظیم بھارت کو اسراعیل کی طرح ایک ہندو کٹر قوم پرست ملک بنانا پاہتی ہے۔ ہندو قوم کو دوسری قوموں سے برتر سمجھتی ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیم بھارت سے مسلمانوں کو نکال کر خالص ہند و ملک بنانے کا ایجنڈا رکھتی ہے۔ اس پر انگریز دور میں بھی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے پابندی لگی تھی۔ بھارت نے پہلے بھی پاکستان کی کمزرویوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے، اسی پالیسی پر عمل کیا اور اندرہ گاندھی وزیر اعظم بھارت کے دور 1971ء میں پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے۔جب سے مسلم دشمن،ہٹلر صفت، متعصب مودی کی آر ایس ایس کے اتحاد سے حکومت بنی ہے۔ بھارت کے لیڈر کہتے ہیں پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے اب مذید دس ٹکڑے کریں گے۔ متعصب مودی بھارت کے یوم آزادی پر مسلمان مغل بادشاہوں کے بنائے ہوئے یاد گارلال قلعہ دہلی پرکھڑے ہو کر تقریر میں کہاتھا کہ مجھے بلوچستان اور گلگت بلتستان سے علیحدگی پسندوں کی مد دکے لیے فون کال آرہی ہیں۔

 

پاکستان بننے کے بعد متعصب ہندو لیڈر شپ نے بعد پاکستان کے اثاثے روک لیے تھے۔جس پر گاندھی جی کو بھی مرن بھرت رکھنا پڑا تھا۔ تقسیمِ ہندوستان کے بین القوامی معاہدے کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں پاکستان اور جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے وہاں بھارت بننا تھا۔ آزاد ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی رعایا کا خیال رکھتے ہوئے پاکستان یا بھارت میں شریک ہوں۔ کچھ ریاستوں کے حکمران مسلمان تھے، مگر ان کی رعایا ہندو تھی۔ مسلمان حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کیا۔ مگر بھارتی حکمرانوں نے اس رائے کو ایک طرف رکھتے ہوئے جبر سے وہاں اپنے فوجیں بھیج کر قبضہ کر لیا۔ ریاست کشمیر کے مسلمانوں کی پارٹی ”مسلم کانفرنس کشمیر“ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیاتھا۔ مگر کشمیر کے ہند راجہ ہری سنگھ کی جعلی الحاق کی دستاویز پر مسلمانوں کی ریاست جو کہ پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتی تھی بھارت نے اپنے فوج بھیج کر1947ء میں اسے محکوم بنا لیا۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فوراً پاکستانی فوج کے کمانڈر جنرل گریسی کو کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم دیا۔ لیکن دنیا کی فوجی تاریخی روایات کو مسخ اور نفی کرتے ہوئے سپریم کمانڈر بانی پاکستان محمد علی جناح ؒ کا حکم نہیں مانا۔پھر پاکستانی قبائل کشمیری مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہوئے کشمیر کی جنگ میں شریک ہو گئے۔ موجودہ تین سو میل لمبی اور تیس میل چوڑی آزاد جموں کشمیر کو آزاد کر لیا۔ اب تک مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت چار جنگیں ہو چکی ہیں۔

 

متعصب بھارت کے بارے میں یہ ساری تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کو باور کرانا ہے کہ خطے میں پاکستان کی کسی بھی ملک سے لڑائی نہیں ہے۔ چین ہمارا سدا
بہار دوست رہا ہے۔سمندر سے گہری، ہمالیہ سے اُونچی اورشہد سے میٹھی دوستی کا سلوگن ہم پاکستانی سنتے رہتے ہیں۔ ایران، افغانستان پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں۔ خطے میں صرف بھارت ہی پاکستان کا دشمن ہے۔

 

بھارت نے18مئی1974 جب پکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کیے تو متعصب ہندولیڈروں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا۔ پاکستان کو دھمکیاں دینے لگے۔ اس پر ذوالفقار علی بھٹو چیرمین پیپلز پارٹی کا وہ تاریخی بیان کہ”ہم گھاس کھا کر گزارا کر لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے“ بھٹو سے یہ کوشش شروع ہوتی ہے اور ہر پاکستانی حکمران نے ایٹمی طاقت بننے کے لیے اپنی اپنی بسات کے مطابق کام کیا۔اس میں بڑا حصہ پاکستان کی مسلح افواج کا ہے۔ بھٹو کو امریکہ کے اُس وقت کے یہودی وزیر خارجہ ہنری کیسنگر نے دھمکی دی کہ ایٹمی بننا ختم نہ کیا اور اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ پاکستان کے صدر اسحاق خان کو بھی دھمکی دی گئی۔

 

اللہ کا کرنا کے افغانستان پر روس نے قبضہ کر لیا۔ اللہ نے امریکہ کو اُدھر مصروف کر دیا۔ امریکہ کے قانون کے مطابق امریکی صدر، کانگریس کوسالانہ سرٹیفیکیٹ دیتا رہا کہ پاکستان کی امداد جاری رکھی جائے وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا۔ جنرل ضیا ء نے اندر ہی اندر اس پروگرام کو ایٹمی سائنس دان، ڈاکٹر عبالقدیر خان، محسن پاکستان اور اس کے ساتھی ایٹمی سائنسدانوں کے ذریعے مکمل کرتا رہا۔ پھر ایک دن آیا جب نواز شریف کی حکومت تھی۔ پاکستان کے ایٹمی سائنس دانوں نے بلوچستان کے مقام چاغی کے پہاڑوں میں 28 مئی1998ء کو بھارت کے پانچ (5)دھماکوں کے جواب میں،سات (۷) ایٹمی دھماکے کر بھارت پر برتی حاصل کر لی۔ اسلامی دنیا کے پہلے اور دنیا کے ساتویں ایٹمی قوت کو دنیا سے منوا لیا۔ نواز شریف کے سیاسی مخالف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ امریکا نے پیسوں کی لالچ بھی دی تھی۔ یہ بھی سچ ہے کہ نوائے وقت کے ایڈیٹر مجیدنظامی نے نواز شریف کو کہا تھا کہ اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہیں کیے تو ہم آپ کا دھماکہ کر دیں گے۔جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمدؒ کا بھی دباؤ تھا۔ کچھ بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ جس کے دور میں شروعات ہوئیں یعنی ذوالفقار علی بھٹو چیر مین پیپلز پارٹی اور جس کے دور میں ایٹمی دھاکے ہوئے،نواز شریف صدر نون لیگ ان دونوں کو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔چاہے ان کے سیاسی مخالف کتنا ہی پروپیگنڈہ کرتے رہیں۔
لیکن ایک حقیقت اور بھی ہے ہمارے سارے حکمران”وہن“ کی بیماری میں مبتلاہیں۔ دولت کی ہوس اور موت کا خوف میں مبتلا ہیں۔

 

اگر بھارت، مملکت اسلامی جمہوری پاکستان، جو اللہ کی طرف سے مثل مدینہ ریاست برصغیر کے مسلمانوں کو تحفہ کے طور پر ملی تھی، جو اب ایٹمی اور میزائیل طاقت ہے کو، بھارت صفہ ہستی سے مٹا کر اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ تو پاکستان کو بھی اپنا وجود قائم رکھنے پر پلانگ کرنی چاہیے۔ ہم تاریخ کے ایک طلب علم ہونے کے ناطے اپنی عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان میں بانی پاکستان قائد اعظمؒ کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ،جماعت اسلامی جس کی لیڈر شپ”وہن“ کی بیماری میں مبتلا نہیں، کو منتخب کر کے سامنے لایا جائے۔ اس پروپیگنڈے کو ایک طرف رکھ دیں کہ امریکہ پاکستان میں جماعت اسلامی کو آگے نہیں آنے دے گا۔جیسے مصر، الجزائر وغیرہ میں اسلام پسندوں کو آگے نہیں آنے دیا۔ ان کی جیت کو ان ہی کی فوجوں سے مروا کر پیچھے دکھیل دیا۔ لیکن اس دور میں یہ بھی حقیقت پاکستانیوں کے سامنے آئی ہے کہ عمران خان اور اس کے کارکنوں پر کتنے مظالم کیے گئے۔ اس کی پارٹی روز بروز آگے ہی بڑھ رہی ہے۔اپوزیش بھی اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک اشارہ سمجھاجائے۔ جب اللہ نے فیصلہ کر لیا تو جماعت اسلامی کوکوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ ان شاہء اللہ۔ اسلام کے دشمن تار انکبوت ثابت ہونگے۔ بس عوام آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیں۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ مضبوط اسلامی پاکستان متعصب بھارت کو اس کی اُوقات پر لے آئے گا۔ کشمیر ٓازاد ہو کر پاکستان کے ساتھ آملے گا۔ بھارت کے مظلوم مسلمانوں پر مظالم رک جائیں گے۔ وہ سکھ کا سائنس لیں گے۔ پاکستانی عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کام صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی کی منتخب اسلامی حکومت ہی کر سکتی ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89406

ابراہیم رئیسی عالم اسلام کے ہیرو – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

ابراہیم رئیسی عالم اسلام کے ہیرو – میری بات:روہیل اکبر

ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی ایک بلند پایہ شخصیت اور عالم اسلام کے ہیرو تھے یوں انکا فضائی حادثے میں اچانک جاں بحق ہونا پوری امت مسلمہ کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنا ہے صدر ابراہیم رئیسی ایک شاندار عالم اور بصیرت رکھنے والے رہنما تھے ہم نے ابراہیم رئیسی جیسا مخلص اور اعلی خصوصیات کا مالک بھائیوں جیسا دوست کھودیا مرحوم رئیسی کو ابھی ایک ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزر ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انکے دورے سے پاکستان کی عوام میں خوشی کا جذبہ شدت سے پایا گیا کیونکہ انہوں نے جس جرات،بہادری اور عقل مندی سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا وہ ایک ناقابل فراوش واقعہ تھا ان کی اس بہادری نے انہیں عالم اسلام کا ہیرو بنا دیا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان کے جس جس شہر میں بھی گئے وہاں مقامی طور پر چھٹی کردی گئی تھی اور پاکستان کی عوام نے اس دن کو عید کے دن کی طرح گذارا تھا ابراہیم رئیسی کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ایک المناک سانحہ ہے وہ مظلومین ِ غزہ کی حمایت میں ایک توانا آواز تھے

 

انہوں نے اسلام،قران اور مظلومین کا ہر پلیٹ فارم پر بھرپور دفاع کیاآپ ایک باحکمت،جرات مند اور بابصیرت رہنما تھے عالم اسلام کو اپنے اس نڈر رہنما پر فخر ہے مرحوم صدر ایران ابراہیم رئیسی کی ایک عظیم رہنما، بصیرت اور عالم کے طور پر تعریف کی جنہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا انکے جانے سے پاکستان نے بہترین دوست اور ایک مضبوط اتحادی کھو دیا ہے آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی مجاہد عالم دین رہبر انقلاب اسلامی کے توانا بازو اور امت مسلمہ کی توانا آواز تھے امریکہ اور عالمی استکباری طاقتوں کے خلاف سید ابراہیم رئیسی کا انقلابی کردار ناقابل فراموش ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرآن کریم کی عظمت و حرمت کا دفاع کر کے آپ نے امت مسلمہ کے دل جیت لئے تھے آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستانی قوم سے جس محبت کا اظہار کیا تھا وہ محبت دو طرفہ ہے پاکستانی قوم نے بھی آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کو مظلوم فلسطینی مسلمانوں کا حقیقی ہمدرد اور امت مسلمہ کا عظیم لیڈر قرار دیتے ہوئے سید ابراہیم رئیسی کے ساتھ جس محبت اور عقیدت کا اظہار کیاتھاوہ بھی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی اپنے ملک اور مسلم دنیا کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھیں

 

مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک میں دوستی اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیاتھاجبکہ ان کا دورہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا ثبوت تھا ام مسلمہ کی قیادت کرنے والے ممالک میں حادثات اور مصیبتوں کے وقت وحدت اور ہمدردی کا داعیہ موجود ہے دعا کرنی چاہیے کہ باہمی قربت اور اخوت کے احساس پر مبنی یہ رویہ عام حالات کا بھی معمول بنے انہوں نے کہا ہے کہ قوم کی رہنمائی اور رہبری کی صلاحیت رکھنے والے ایسے لیڈرز بڑے مشکل سے پیدا ہوتے ہیں جنہیں عوام کا اعتماد بھی حاصل ہو اور چالیس سال کے عرصے تک نظام کے مرکز میں مختلف اہم مناصب پر فائز رہنے کی وجہ سے سیاست کے عالمی بساط، خطے کی صورتحال اور اپنے ملک کے داخلی معاملات پر گرفت حاصل ہوجاتی ہے

 

صدر ابراہیم رئیسی کی طویل تجربے کی وجہ سے ایران کی مستقبل کی سیاست میں اہم کردار کی توقع رکھی جارہی تھی ابراہیم رئیسی ایران کے منتخب صدر تھے لیکن ان کی حیثیت صدر مملکت سے زیادہ ایک مستقل قومی رہنما کی تھی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بین الاقوامی طور پر اسلام، مسلمان، شعائر اسلام،توہین رسالت، توہین قرآن کے حوالے سے دینی جذبے کے تحت بھرپور توانا آواز اٹھائی ایرانی صدر کی عالم اسلام کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ایرانی صدر کی حادثاتی موت سے امت مسلمہ ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی ہے ایرانی صدر سید ابراہیم ریسی نڈر،بہادر اور دلیر انسان تھے مسلمانوں ممالک کے ساتھ محبت و بھائی چارہ کی مثال تھے

 

اسرائ یل کی جانب سے فلس طین پر حملوں کا جواب،یو، این، او میں قرآن پاک کو چومنا بڑے کارناموں میں شامل ان جیسا عظیم لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ایران کے صدر ابراہیم ریسی، ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں وفات سے امت مسلمہ کو شدید دھچکا لگا ہے جبکہ ایران عالم اسلام کے لیے ایک فخر ہے ایرانی صدر کی وفات سے تمام اسلامی مما لک میں سوگ کا سماں تھا اگر مسلمان ممالک اپنے اندر اتحاد و اتفاق بھائی چارگی کی فضاء کو قائم رکھیں تو ان کی عزت و تکریم میں مزید اضافے کا باعث بنے گا صدر ابراہیم رئیسی ایک نیک انسان، عالم اور پاکستان کے عظیم دوست تھے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور ادبی روابط پر مبنی بہترین تعلقات ہیں دونوں برادر ممالک کو مزید قریب لانے کیلئے عوامی روابط اور پارلیمانی اور صحافتی تبادلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اس وقت تو ویسے بھی پاکستان اور ایران کے درمیان بہترین اور مثالی تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فروغ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان کی بھی یہ پالیسی ہے اور اس سلسلہ میں قائم مقام ایرانی قونصل جنرل علی اصغر موغاری کو کوششیں بھی قابل تحسین ہیں کہ وہ پاکستان اور پاکستانیوں سے پیار کرتے ہیں اور اس وقت وہ پاکستان میں صدر ابراہیم رئیسی کی پالیسیوں کو لیکر چل رہے ہیں

 

انکی مسلمانوں سے محبت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے امید ہے کہ وپاکستان کے زندہ دلوں کے شہر لاہور کو اپنا ہی گھر پائیں گے کیونکہ پاکستان بلخصوص لاہور کے لوگ جس طرح ایرانسے محبت کرتے ہیں یہ بھی انہی پالیسیسوں کا تسلسل ہے جو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے شروع کررکھی تھیں ایرانی صدرابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان اور دیگر ساتھیوں کے حادثے میں انتقال پر پوری پاکستانی قوم دکھ اور صدمے سے دوچار ہے اورپاکستانی قوم اپنے ایرانی بہن بھائیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے دکھ اور غم کی اس گھڑی میں غمزدہ ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی دنیا اسلام کے عظیم راہنما تھے پاکستانی قوم کی ہمدردیاں ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89373

بزمِ درویش ۔ اللہ کا بندہ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ اللہ کا بندہ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

روز اول سے حضرت انسان اِس کو شش میں لگا ہوا ہے کہ وہ شہرت کے اس مقام تک پہنچ جائے کہ جس کے سامنے کوئی سر اٹھا کر نہ دیکھ سکے، خود کو قیامت تک زندہ اور امر کرنے کے لیے انسان عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے، سکندراعظم، چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور لنگ اِسی بیماری کا شکار ہو کر دنیا فتح کر نے نکلے، چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے اپنی دہشت پھیلانے کے لیے شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے مٹادیے اِن کے علاوہ بے شمار اور انسان بھی اپنے اپنے وقت پر کرہ ارض پر طلوع ہوئے طاقت و اختیار کے نشے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا، اور پھر مٹی کا ڈھیر بن گئے اور آج ان کی قبروں کا نشان تک نہیں ہے۔جب یہ متکبرلوگ زندہ تھے تو یہی سمجھتے تھے کہ ان کے اقتدار اور شہرت کو قیامت تک اندیشہ زوال نہیں ہے، لیکن ماہ سال کی گردش اور صدیوں کے غبار میں آج ان کا نام تک بھی کوئی نہیں جانتا،

 

انسان یہ سمجھتا ہے کہ ابدی شہرت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے لیکن ہر دور کا متکبر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا اور اِس کائنات کو بنانے والا خدا ہے وہ جس کو چاہے قیامت تک کے لیے امر کردیتا ہے اور جس کو چاہے نشان عبرت بنا دیتا ہے، حضرت انسان طاقت اور اقتدار کے نشے میں یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کا اپنا جسمانی نظام تو اس کے قبضے میں ہے نہیں تو دوسروں کو وہ کیا اپنے اختیار میں لاسکتا ہے لیکن یہ بات صاحب اقتدار لوگوں کو کم ہی سمجھ آتی ہے۔اِس لیے ہر دور میں کوئی نہ کوئی آمر یہی سمجھتا ہے کہ اِس دھرتی یا ملک کا نجات دہندہ میں ہی ہوں نہ میرے سے پہلے کوئی انسان اِس دنیا میں آیا اور نہ اس کے بعدکوئی آئیگا، ایسے تمام لوگ خدا کا یہ فرمان بھول جاتے ہیں کہ ہم دنوں کو انسانوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، عقل مند انسان تاریخ سے سبق لیتے ہیں او خود کوخدا کی بندگی میں دے دیتے ہیں جو بھی بندہ خدا کا ہو جائے اسے خدائے بزرگ و برتر ابدی شہرت سے نوازتا ہے، انسان عارضی شہرت اور اقتدار میں سب کچھ بھول جاتا ہے اگر خدا نے کسی کو چند ساعتوں پر اختیار دے بھی دیا ہو تو یہ عارضی ہے کسی دن پانی کے بلبلے کی طرح ختم ہو جائے گا،

 

خوش قسمت ہوئے ہیں وہ لوگ جو تاریخ سے سبق لیتے ہیں اور دنیاوی جھوٹے خداوں کی بجائے اِس کائنات کے مالک کے سامنے سر جھکادیتے ہیں اور پھر اِیسے لوگوں کو ہی دائمی اور ابدی شہرت نصیب ہوتی ہے۔برصغیرپاک ہند میں اللہتعالی نے بہت عظیم روحانی بزرگوں کو پیدا کیاجنہوں نے اپنی تعلیمات اور کردار سے لاکھوں لوگوں کی کردار سازی کی، انہی بزرگ ہستیوں میں ایک بزرگ سیدغوث علی شاہ قلندر بھی تھے بہت اعلی پائے کے بزرگ تھے شاعر مشرق علامہ اقبال بھی ان سے روحانی عقیدت رکھتے تھے، ان کی کتاب تزکرہ غوثیہ کو اہل تصوف میں تو باکمال مقام حاصل ہے ہی کلاسیکل اردو ادب میں بھی اس کا نمایاں اور باوقار نام ہے اِس میں تصوف اور صوفیا کے اسرار و رموز کو اس دلچسپی اور آسانی سے بیان کیا گیا ہے ہر بات دل و دماغ میں اترتی جاتی ہے، تصوف و روحانیت کی زیادہ تر کتابیں مشکل اور خشک سمجھی جاتی ہیں لیکن تزکرہ غوثیہ کا اصلوب پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے، دوران مطالعہ قاری خود کہ ایک دل نشین اور پراسرار وادی میں گھومتا ہوا پاتا ہے،

 

غوث علی شاہ قلندر نے اپنی اِس لازوال کتاب میں مغلیہ بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہد کا ایک واقعہ اِس خوبصورتی اوربلاغت آمیزی کے ساتھ لکھا ہے کہ قاری پڑھ کر عش عش کر اٹھتا ہے آپ لکھتے ہیں۔عا لمگیر کے عہد میں ایک بہروپیئے کو بہت شہرت حاصل تھی، ہر طرف اس کی شہرت اور فن کے چرچے تھے ایک روز وہ اورنگزیب کے دربار میں پہنچا اور اپنے فن کے اظہار کی اجازت مانگی چونکہ اورنگزیب مزاجا دین پسند اور سخت مزاج واقع ہوا تھا اس لیے وہ اِس طرح کی ناٹک بازیوں کو ناپسند کرتا تھا، اس نے کہا تمھارا بہروپ دراصل بے علم اور کمزور عقیدہ لوگوں کو متاثر اور مائل کرتا ہے ورنہ کوئی صاحب بصیرت اہل علم اور صاف ستھرے عقیدے کا حامل ہو تو وہ اِس طرح کی شعبدہ بازیوں پر نہ تو توجہ دیتا ہے اور نہ ہی اہمیت دیتا ہے اور نہ ان سے متاثر ہوتا ہے،

 

تمہیں اگر اپنے فن پر ناز ہے تو ذرامجھے قائل کر کے دکھا میں تمھارے چکر میں آنے والا نہیں اور اگر تم اپنے فن میں کامیاب ہو گئے اور مجھے دھوکا دے گئے تو پھر میں تمہیں منہ مانگا انعام دوں گا ورنہ میں نے ایسے کئی بازیگر دیکھے اور بھگتائے ہیں وہ بہروپیا مصلحتا خاموش ہو گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت میں کہاں اور حضور کی بصیرت کہاں، حضور میں آپ کو اپنے بہروپ سے کیسے قائل کرسکتا ہوں سرکار عالی میرا یہ دھندہ تو پیٹ کے لیے ہے اور عام لوگوں کے لیے، یہ کہہ کر وہ چل دیا اور عالمگیر اپنی ذہانت پر جھوم اٹھا۔بہروپیئے نے شاہی دربار سے جاتے ہی ایک بزرگ اور صوفی کا روپ دھارا اور کہیں بیٹھ گیا پہلے اردگرد کے علاقوں میں اس کا چرچا ہوا پھر اس کا شہرہ قصبوں اور شہروں تک پہنچا ہوتے ہوتے اِس کا تذکرہ شاہی دربار تک بھی پہنچ گیا اور دربار میں بھی اس کا تذکرہ ہونے لگا، اورنگزیب چونکہ خود ایک متقی اور صوفی دوست شخص تھااس نے اِس بزرگ کی حاضری کا ارادہ ظاہر کیا اور لا لشکر کے ساتھ اس بہروپیئے کے پاس پہنچا اور سلام کیا بہروپیئے نے بے رخی سے سلام کا جواب دیا اور سر جھکا کر بیٹھا رہا

 

اِس طرز عمل نے بادشاہ پر اس کی ولایت اور دنیا اور اہل دنیا سے بے نیازی کی دھاک بٹھادی عالمگیر نے چند باتیں کیں مگر بہروپیاہاں ہوں کرتا رہا اس کی کسی بات میں دل چسپی نہ لی بادشاہ مزید متاثر ہوا آخرکار اٹھنے لگا اور اجازت چاہی جب بادشاہ اٹھ کرجانے لگا تو بہروپیا قہقہہ لگا کر سامنے آگیا اور کہا جہاں پناہ میں وہی بہروپیا ہوں جس کو آپ نے چیلنج دیا تھا کہ میں آپ کو اپنے فن سے قائل کر لوں تو منہ مانگا انعام پاں گا۔بادشاہ ہار مان گیا اور کہا تم اپنے فن کے ماہر نکلے ہو تم جیتے میں ہارا اب مانگو کیا مانگتے ہو بادشاہ کا یہ کہنا تھا کہ بہروپیا چیخ مار کر وہاں سے یہ کہتے ہوئے چل دیا یہ تو میں نے اللہ کا نام اور اہل اللہ کا حلیہ صرف جھوٹ موٹ سے لیا اور بنایا اور بادشاہ چل کر میرے پاس آگیا اگر میں بہروپ بھرنے کی بجائے حقیقی روپ اِس طرح بنالوں تو خدا جانے مجھے دنیا و آخرت میں کیا اعزاز وانعام ملے، غوث علی شاہ لکھتے ہیں کاش دنیا والوں کو معلوم ہو تا کہ جب بندہ اوپر کے دل سے بھی خدا کو یاد کرتا ہے تو خدا اسے رسوا نہیں ہونے دیتا اور اگر اصل خدا کا بندہ بن جائے تو پتہ نہیں اللہ اسے کیا مقام عطاکرے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89326

پاکستان بنانا ری پبلک؟ – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

پاکستان بنانا ری پبلک؟ – میری بات:روہیل اکبر

پاکستان بنانا ری پبلک بن چکا ہے یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں ہمارے ہر سیاستدان نے اپنی زبان سے ادا کیے ہیں ہمارے یہ سیاستدان جب اقتدار میں ہوتے ہیں توکاش یہ اپنے وہ الفاظ یادرکھتے جو انہوں نے اقتدار سے باہر رہتے ہوئے ادا کیے تھے شائد پاکستان بنانا ری پبلک جیسے الفاظ سے باہر نکل آتا ابھی کل ہی مولانا فضل الرحمان، عمر ایوب اور اسد قیصر کی ملاقات ہوئی جسکے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں آئین نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور نہ ہی کہیں سے کوئی سرمایہ کاری آرہی ہے کیونکہ اس وقت ملک میں عدل و انصاف نہیں اور ملک بنانا ری پبلک بن چکا ہے چلو آج ہم پھر بنانا ری پبلک یعنی کیلے کی جمہوریت پر ہی بات کرتے ہیں کہ یہ ہے کیا اور اسکی ابتدا کہاں اور کیسے ہوئی کیا پاکستان واقعی کیلے کی جمہوریت والا ملک بن چکا ہے۔ بنانا ری پبلک کا لفظ سب سے پہلے 1904 میں امریکی مصنف O. Henry نے وضع کیا تھا جو ایک سیاسی اور اقتصادی طور پر غیر مستحکم ملک کی وضاحت کرتی ہے جس کی معیشت صرف قدرتی وسائل پر منحصرہو اور انتہائی طبقاتی سماجی طبقات کا معاشرہ ہو غریب محنت کش طبقہ اور حکمران طبقے کا واضح فرق ہو تسلط پسندی کا رواج ہو کاروبار اور حکومت سیاسی اور فوجی اشرافیہ پر مشتمل ہو حکمران طبقہ محنت کشوں کے استحصال کے ذریعے معیشت کے بنیادی شعبے کو کنٹرول کرتا ہو کیلے کی جمہوریہ کی اصطلاح ایک غلام طبقے کے لیے ایک طنزیہ جملہ بھی ہے جہاں کک بیکس لیے جاتے ہوں اور پھر ڈھٹائی سے انکا دفاع بھی کیا جاتا ہو کیلے کی جمہوریہ ایک ایسا ملک ہوتا ہے جس کی معیشت ریاستی سرمایہ داری کی ہو جس کے تحت ملک کو حکمران طبقے کے خصوصی منافع کے لیے نجی تجارتی ادارے کے طور پر چلایا جاتا ہو اور اس طرح کا استحصال ریاست اور پسندیدہ معاشی اجارہ داریوں کے درمیان ملی بھگت سے ہوتا

 

ایسے ملک میں قرضوں کی بھر مار ہوتی ہے حکمران طبقہ قرضہ حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے ملکی اثاثے گروی رکھ دیتا ہے لیکن ان قرضوں کو عوام پر لگانے کی بجائے خود ہضم کر جاتا ہے اور ان قرضوں کی مالی ذمہ داری سرکاری خزانے کی ہوتی ہے۔ اس طرح کی غیر متوازن معیشت ملک میں غیر مساوی اقتصادی ترقی کی وجہ بھی بنتی ہے اور عام طور پر قومی کرنسی کو قدرے کم کر کے بینک نوٹ (کاغذی کرنسی) میں تبدیل کر دیتی ہے یوں ملک بین الاقوامی ترقیاتی کریڈٹ کے لیے نااہل ہو جاتا ہے 20ویں صدی میں امریکی مصنف او ہنری نے کیبیز اینڈ کنگز کتاب میں افسانوی جمہوریہ اینچوریا کو بیان کرنے کے لیے کیلے کی جمہوریہ کی اصطلاح وضع کی جسکی معیشت کا بہت زیادہ انحصار کیلے کی برآمد پر تھا20 ویں صدی کے اوائل میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی (ایک ملٹی نیشنل کارپوریشن) نے کیلے کی جمہوریہ کے رجحان کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا اس کمپنی نے دیگر کمپنیوں کے ساتھ ملکراور امریکی حکومت کی طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ممالک میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالات میں ابتری پیدا کی جس کے بعد وہاں کی منتخب جمہوری حکومت میں بغاوت ہوئی اور پھر کیلے کی جمہوریہ قائم کردی گئی

 

ان میں ابتدائی طور پر وسطی امریکی ممالک جیسے ہونڈوراس اور گوئٹے مالا شامل ہیں۔سادہ لفظوں میں اسکی مثال ایسٹ انڈیا کمپنی کی سمجھ لیں جو تجارت کی غرض سے ہندوستان آئی اور پھر کیسے انہوں نے پورے برصغیر پر قبضہ کرکے اس سونے کی چڑیا میں لوٹ مار کی اور انہی کی باقیات ابھی تک ہم پر مسلط ہیں میں بات کررہا تھا کیلے کی ریاست کی ابتدا کی تاکہ عام انسان کو بھی اندازہ ہو سکے کہ کیسے ایک پلاننگ کے تحت ملک کو تباہ و برباد کرکے باناری بپلک بنایا جاتا ہے اور اسکی ابتدا کہاں سے ہوئی اسکا تو ذکر کردیا اب اسکی کچھ اور تفصیل بھی ملاحظہ فرمالیں 19ویں صدی کے آخر تک تین امریکی ملٹی نیشنل کارپوریشنز (UFC، سٹینڈرڈ فروٹ کمپنی، اور Cuyamel Fruit Company) نے کیلے کی کاشت، کٹائی اور برآمد پر غلبہ حاصل کر کے ہونڈوراس کی سڑک، ریل اور بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو کنٹرول کرلیا اورپھر ہنڈوران کی قومی سیاست کو مزدور مخالف تشدد سے جوڑ دیا 20 ویں صدی کے اوائل میں امریکی تاجر سیم زیمرے (کیومیل فروٹ کمپنی کے بانی) نے “کیلے کی جمہوریہ” کے دقیانوسی تصور کوحقیقت کا رنگ دینے میں اہم کردار ادا کیا

 

وہ یونائیٹڈ فروٹ کمپنی سے زیادہ پکے ہوئے کیلے خرید کر کیلے کی برآمد کے کاروبار میں داخل ہوئے اور 1910 میں زیمورے نے کیومیل فروٹ کمپنی کے استعمال کے لیے ہونڈوراس کے کیریبین ساحل میں 6,075 ہیکٹر (15,000 ایکڑ) زمین خریدی 1911 میں زیمورے نے ہونڈوراس کے سابق صدر مینوئل بونیلا (1904–1907) اور امریکی باڑے لی کرسمس کے ساتھ مل کر ہونڈوراس کی سول حکومت کا تختہ الٹنے اور غیر ملکی کاروبار کے لیے دوستانہ فوجی حکومت قائم کرنے کی سازش کی اس مقصد کے لیے کرسمس کی قیادت میں Cuyamel Fruit Company کی کرائے کی فوج نے صدر Miguel R. Dávila (1907–1911) کے خلاف بغاوت کی اور بونیلا (1912–1913) کومسلط کردیااس تمام غیر قانونی کھیل کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے منتخب حکومت کی معزولی کو نظر اندازکرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ڈیویلا کو سیاسی طور پر بہت زیادہ آزاد خیال اور ایک غریب تاجر کے طور پر پیش کیا گیا جس کی انتظامیہ نے ہنڈوراس کو برطانیہ کا مقروض کر دیا تھا جو کہ جغرافیائی طور پر ناقابل قبول صورتحال ہے اس بغاوت کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام نے ہنڈوران کی معیشت کو روک دیاامریکی ڈالر ہنڈوراس کی قانونی کرنسی بن گیا کرسمس ہونڈوران آرمی کا کمانڈر بن گیاجو بعد میں ہونڈوراس میں امریکی قونصل مقرر ہوا اسی طرح گوئٹے مالا کوبھی ایک ‘کیلے کی جمہوریہ’ کی علاقائی سماجی و اقتصادی میراث کا سامنا کرنا پڑا اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان پاکستان کے بارے میں جو بنانا ری پبلک جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ان میں کتنی حقیقت ہے اگر خدا نخواستہ ہم واقعی بنانا ری پبلک کی طرف جارہے ہیں تو اس میں قصور کس کا ہے بریانی کی پلیٹ پر بکنے والی عوام کا یا پھر لوٹ مار کرنے والی اشرافیہ کا؟ ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89323

بی جے پی کی ور سٹائل پروپیگنڈا مشینری – قادر خان یوسف زئی

Posted on

بی جے پی کی ور سٹائل پروپیگنڈا مشینری – قادر خان یوسف زئی

وزیر اعظم نریندر مودی کی جاری بھارتی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ مسلمانوں کے بارے میں بار بار جھوٹے اور نفرت انگیز دعوے کرکے مودی جان بوجھ کر سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔مودی نے اپوزیشن کانگریس پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے ہندوؤں کو ان کی دولت اور حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بے بنیاد الزام لگایا ہے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وہ ہندوؤں کی جائیدادیں چھین کر مسلمانوں میں تقسیم کر دے گی۔ مودی کی اشتعال انگیز ی کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں تھا بلکہ وزیر اعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کانگریس ہندو خواتین سے منگل سوتر (شادی شدہ ہندو خواتین کے ذریعے پہنا جانے والا مقدس ہار) بھی چھین کر مسلمانوں کو دے گی۔ یہ مودی کی ہندو خواتین کو خوفزدہ کرنے کی ایک اشتعال انگیز ی ایک اور کوشش ہے۔ مودی کی بیان بازی کا مقصد واضح طور پر ووٹروں کو مذہبی خطوط پر پولرائز کرنا اور معیشت اور بے روز گاری جیسے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔

بی جے پی کی پروپیگنڈامشینری، جس کی قیادت آر ایس ایس کر رہی ہے، تاریخ کو مسخ کرنے، ذات پات کے درجہ بندی کو بڑھاوا دینے، اور مسلمانوں کو نفرت کا نشانہ بنانے کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ اس الیکشن میں، انہوں نے مسلم آبادی کے خطرے کے خوف کو جنم دینے کے لیے ”لو جہاد” اور ”لینڈ جہاد” جیسے پرانے ٹرپس کو زندہ کیا ہے۔ آبادی کے تناسب میں فرق کو بھی مذہبی اقلیتوں کے خلف اشتعال انگیزی کے لئے استعمال کیا تاہم، یہ خدشات بے بنیاد ہیں، کیونکہ آزادی کے بعد سے مسلم آبادی میں معمولی اضافہ ہوا ہے اور پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مودی کی مسلم دشمنی نے بھارت کے 200 ملین مسلمانوں کے لیے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، جو اب ”اپنی شناخت کے قیدی” کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ انتخابی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کی خاموشی میں انتہائی پراسراریت ہے۔

 

بھارتی سیاست و انتخابات کے پیچیدہ منظر نامے میں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے رائے عامہ کو تشکیل دینے اور اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے پروپیگنڈے کا استعمال کرنے میں مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے مل کر ایک ایسی داستان تیار کی جو قرون وسطی کی تاریخ کو مسخ کرتی ہے، ذات پات اور صنفی درجہ بندی میں جڑی ایک قدیم ہندوستانی تہذیب کی تعریف، اور مسلمانوں کو مسلسل بدنام کرتی ہے۔ یہ پروپیگنڈا مشینری نمایاں طور پر ورسٹائل رہی ہے، جس نے اپنے موضوعات کو اس وقت کے سیاسی ماحول اور انتخابی ضروریات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔بی جے پی-آر ایس ایس کے بیانیے میں ایک بار بار چلنے والا موضوع مسلم حکمرانوں کو مندروں کو تباہ کرنے والوں کے طور پر دکھایا گیا ہے، ایک ایسی داستان جس نے رام مندر تحریک کو ہوا دی۔ یہ تحریک، جس کا اختتام 1992 میں بابری مسجد کے انہدام پر ہوا، صرف ایک مذہبی مقام پر دوبارہ دعویٰ کرنے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ عوامی نفسیات میں ایک تاریخی شکایت کو مضبوط کرنے کے بارے میں تھا۔ ہندو مندروں کی مبینہ بے حرمتی کرنے والے مخالفوں کے طور پر مسلم بادشاہوں کی تصویر کشی نے فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا۔بی جے پی نے اپنے سیاسی اہداف کو آگے بڑھانے کے ہمیشہ پاکستان مخالف بیانیہ کا استعمال کیا۔ پاکستان کو بھارت کے لیے ایک وجودی خطرے کے طور پر پیش کرنا ایک مستقل موضوع رہا ہے، جو قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے اور بی جے پی کو بھارت کی خودمختاری کا واحد محافظ قرار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ 2019 کے انتخابات میں خاص طور پر واضح ہوا جب پلوامہ حملہ اور اس کے نتیجے میں بالاکوٹ فضائی حملے بی جے پی کو ایک مضبوط، فیصلہ کن حکومت کے طور پر پیش کیے گئے اور اب2024کے عام انتخابات میں بھی بڑے دھڑلے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

گزشتہ دہائی کے دوران، بی جے پی نے حمایت حاصل کرنے کے لیے اقتصادی اور سماجی اصلاحات کا وعدہ بھی کیا تھا۔’اچھے دن‘ کے نعرے نے خوشحالی کے مستقبل کا وعدہ کیا، جس میں ہرشہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے اور سالانہ دو کروڑ نوکریاں پیدا کرنے جیسی یقین دہانیاں شامل ہیں۔ یہ وعدے پورے نہیں ہوئے، انا ہزارے کی زیرقیادت انسداد بدعنوانی کی تحریک، جسے آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں کی نمایاں حمایت حاصل تھی، نے کانگریس کو ایک بدعنوان ادارے کے طور پر رنگ دیا، جس سے بی جے پی کے لئے میدان ہموار ہوا۔اپنی تمام مہموں کے دوران، بی جے پی نے مسلم مخالف بیان بازی کا ایک مستقل سلسلہ برقرار رکھا ہواہے۔ پروپیگنڈا اکثر یہ تجویز کرتا تھا کہ مسلمانوں کو بھارت کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت ہے، یہ ایک ایسا حربہ ہے جس نے معاشرتی تقسیم کو گہرا کیا ہے اور تعصب کو دوام بخشا ہے۔حالیہ انتخابات میں بی جے پی کو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی لہر پر سوار ہونے کی امید تھی۔ تاہم، گیان واپی جیسے مسائل عوام میں اتنی مضبوطی سے گونجے جو معاشی مشکلات اور گرتے ہوئے معیار زندگی کے بارے میں زیادہ فکر مند نظر آتے تھے۔ یہ تبدیلی سیاسی مہمات کی بنیاد کے طور پر مذہبی اور تاریخی شکایات کے حوالے سے ووٹروں میں بڑھتی ہوئی تھکاوٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔

 

مودی کا کانگریس کے منشور سے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کے معاملے کا استعمال، جسے انہوں نے مسلمانوں میں دولت کی شناخت اور دوبارہ تقسیم کے لیے ایک آلہ کے طور پر بنایا، سماجی خوف اور تعصبات کو جوڑ توڑ کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی کو مزید واضح کرتا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ پاکستان ایک کمزور بھارتی حکومت کا خواہاں ہے، قوم پرستانہ خوف کو ہوا دینے اور گھریلو مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش تھی۔بی جے پی کی پروپیگنڈہ مشینری، جس کی بنیاد آر ایس ایس ہے، نے تاریخی نظرثانی، قومی سلامتی کے خدشات، اور نا مکمل اقتصادی وعدوں کے امتزاج کے ذریعے عوامی جذبات سے کھلواڑ کرنے میں ماہر ثابت کیا ہے۔ اگرچہ یہ حکمت عملی ماضی میں کارآمد رہی ہیں، لیکن یہ بڑھتا ہوا اشارہ ہے کہ ووٹر اس طرح کے ہتھکنڈوں سے تنگ آ رہا ہے۔ چونکہ سماجی و اقتصادی خدشات کو فوقیت حاصل ہے، اس لیے بی جے پی کو اپنا سیاسی غلبہ برقرار رکھنے کے لیے اپنے نقطہ نظر کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89320

پرنسز زہرہ کا دورہ گلگت بلتستان اور کچھ تجاویز- خاطرات : امیرجان حقانی 

پرنسز زہرہ کا دورہ گلگت بلتستان اور کچھ تجاویز- خاطرات : امیرجان حقانی

گلگت بلتستان، پاکستان کا ایک خوبصورت مگر انتہائی بھرپور چیلنجز سے مملو خطہ ہے، اس خطے کی چیلنجز میں بالخصوص امن و امان، سماجی ہم آہنگی، تعلیم و صحت اور روزگار کے مسائل شامل ہیں. اس کی وادیاں اور پہاڑیاں قدرت کے حسین مناظر کا نمونہ ہیں۔ اس خطے کے عوام نے ہمیشہ اپنی محنت، خلوص اور جدوجہد سے دنیا میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم تعلیم اور صحت کے میدان میں بالخصوص پورے گلگت بلتستان میں انقلاب برپا کریں، تاکہ گلگت بلتستان امن کا گہوارہ بھی بن جائے اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی. یہ انقلاب کچھ مخصوص شہروں یا اضلاع و کمیونٹیز تک محدود نہ ہو بلکہ گاشو پہوٹ سے لے کر شندور تک، داریل کھنبری سے لے کر استور کالا پانی اور بلتستان چھوربٹ تک یہ انقلاب حقیقی طور پر برپا ہو، اس سے سنی، شیعہ، نوربخشی، اسماعیلی اور  دیگر سب برابر مستفید ہوں. اور اس میں آغا خان فاؤنڈیشن کا کردار کلیدی ہو سکتا ہے۔کلیدی کردار کے لئے عزم اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے جس کو پیدا کرنا بھی ایک مستقل چیلنج ہے اور حوصلہ درکار ہے. دل و دماغ کو بہت بڑا کرنا ہوگا. اتنا بڑا کہ سب سمو جائیں.
پرنس کریم آغا خان کی بیٹی پرنسز زہرہ کی گلگت بلتستان آمد نے اس خطے کے لوگوں میں نئی امیدیں اور جذبہ پیدا کیا ہے۔ ان کے دورے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آغا خان اور آغا خان فاؤنڈیشن ہمیشہ سے ہی یہاں کے عوام کی بھلائی کے لئے سرگرم ہیں اور رہیں گے۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے ضلع ہنزہ اور غذر میں تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں شاندار کام کیے ہیں، اور یہ بدیہی حقیقت ہے کہ امامتی اداروں، آغاخان فاونڈیشن اور اس کے ذیلی یونٹس  سے زیادہ تر اسماعیلی برادری کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ دیگر کمیونٹیز کے لوگ جزوی طور فائدہ حاصل کر پا رہے ہیں. دیامر مکمل محروم ہے.
ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم مستقبل کی کنجی ہے. ضلع دیامر و استور اور بلتستان کے کچھ ایریاز میں بالخصوص تعلیم کے میدان میں بہت زیادہ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں کے بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کے تجربات اور وسائل کی مدد سے یہاں تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہےاس کے لیے کچھ مختصر تجاویز پیش خدمت ہیں جو بالخصوص پرنسز زہرہ اور محمد علی تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔
1.معیاری تعلیمی اداروں کا قیام:
دیامر و استور اور دیگر نیڈی ایریاز  میں جدید سہولیات سے آراستہ تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ ایسے ادارے جو نہ صرف جدید تعلیمی معیار کو بلند کریں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کریں اور انہیں دور جدید کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار کریں۔
2.اساتذہ کی تربیت:
معیاری تعلیم کے لئے معیاری اساتذہ ضروری ہیں۔ آغا خان فاؤنڈیشن اساتذہ کی تربیت کے لئے خصوصی پروگرام شروع کرے تاکہ وہ جدید تدریسی طریقوں سے واقف ہو سکیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ پی ڈی سی این گلگت کے زیر انتظام، پہلے ہی اساتذۂ کی تربیت کا انتظام چل رہا ہے، تاہم میرا خصوصی مدعا یہ ہے کہ دیامر ڈویژن اور دیگر نیڈی علاقوں کے اساتذہ کو ترجیحی بنیادوں پر فوکس کیا جائے.
3.تعلیم کی رسائی:
ان علاقوں کے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے لئے خصوصی تعلیمی پروگرامز کا آغاز کیا جائے جن کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بھی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ پرنسز زہرہ اگر اس نکتہ کو فوکس کرکے آغاخان یونیورسٹی اور فاونڈیشن کو ذمہ داری دے تو ایسا خصوصی نظم یعنی کوئی پروجیکٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے کہ تعلیم چل کر ہی ہر بچے کی دہلیز تک پہنچے. کاش! اس بات کو کوئی سمجھے. یہ پروجیکٹ حکومت، کسی این جی اور یا لوکل کمیونٹیز کیساتھ مل کر بھی وضع کیا جاسکتا ہے.یہ بہت اہم بات ہے. دیہی علاقوں کے بچے تعلیم اور تعلیم ان سے محروم ہے. گلگت بلتستان میں بیلنس ترقی کے لئے یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں.
ان دو تین تجاویز کے علاوہ بھی آغاخان یونیورسٹی اور آغاخان فاونڈیشن لازمی پروجیکٹ تیار کرسکتے ہیں. ان کے پاس تعلیمی ماہرین کی بڑی ٹیمیں موجود ہیں. وہ جانتے ہیں کہ  نیڈی رولر ایریاز میں کام کیسے کیا جاسکتا ہے. تعلیم ان تک کیسے پہنچائی جاسکتی ہے.
تعلیم کیساتھ صحت بھی بہت ضروری ہے. ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک ترقی یافتہ معاشرہ بن سکتا ہے. بغیر صحت کے معاشرے اور قومیں زوال پذیری کا شکار ہوتی ہیں.
دیامر ڈویژن اور کچھ نیڈی رولر ایریاز میں صحت کے میدان میں بھی بہتری کی ضرورت ہے. ان علاقوں کے عوام کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ آغا خان ہسپتال اور فاؤنڈیشن یہاں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آغاخان فاونڈیشن کے اسکردو، ہنزہ، گلگت اور غذر میں بہترین ہسپتال ہیں. ایسے کچھ مزید اعلی شان ہسپتالوں کی ضرورت دیامر اور استور میں بھی ہے.شعبہ صحت کے حوالے سے بھی کچھ تجاویز ملاحظہ ہوں.
1. جدید طبی مراکز کا قیام:
ضلع دیامر و استور میں جدید طبی مراکز کا قیام ضروری ہے جہاں عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔ دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے اور شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ یہی سے گَزرتا ہے. اکثر مسافروں کے حادثات بھی ہوتے ہیں. اس حوالے سے بھی چلاس میں ایک جدید ہسپتال کی ضرورت ہے. اکلوتا چلاس سرکاری ہسپتال چار لاکھ سے زائد آبادی اور ہزاروں مسافروں اور زخمیوں کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے.
2.صحت کی تعلیم:
صحت کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا اہم ہے۔ اس کے لئے خصوصی مہمات چلائی جائیں جن میں عوام کو صحت مند طرز زندگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جس طرح لٹریسی ریٹ دیامر میں کم ہے اسی طرح صحت کے حوالے سے بھی بنیادی معلومات سے لوگ نابلد ہیں. یہ بھی ایک خطرناک چیلنج ہے جو پورے گلگت بلتستان کو ڈسٹرب کررہا ہے.
3.ماں اور بچے کی صحت:
ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کے مراکز قائم کئے جائیں جہاں ماں اور بچے کو مکمل طبی سہولیات فراہم ہوں۔ افسوسناک امر یہ ہے زچہ بچہ کی تعلیمی آگاہی ان علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے. بلکہ عیب سمجھا جاتا ہے. دیامر اور استور کی روایات کو مدنظر رکھ شاندار آگاہی دی جاسکتی ہے.
تعلیم اور صحت کے علاوہ دیگر اہم ایریاز بھی بالخصوص دیامر ڈویژن میں کام کی ضرورت ہے.
1.روزگار کے مواقع:
ان علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے آغا خان فاؤنڈیشن مقامی صنعتوں کو فروغ دے سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف معیشت مستحکم ہو گی بلکہ عوام کو بھی روزگار ملے گا۔مائیکرو فائنانس اور مائیکرو بزنس کی دسیوں صورتیں ترتیب دی جاسکتی ہیں.
2.خواتین کی ترقی:
ان علاقوں کی خواتین کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان کے لئے ہنر سکھانے کے مراکز قائم کئے جائیں تاکہ وہ خود مختار ہو سکیں۔ اس میں بھی مقامی لوگوں کی روایات و ثقافت کو مدنظر رکھ کر بڑے پیمانے پر کام کرنے کہ گنجائش اور ضرورت موجود ہے.
3.ماحولیات کی حفاظت:
ان علاقوں میں ماحولیات کی حفاظت کے لئے خصوصی پروگرام شروع کئے جائیں تاکہ قدرتی وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے۔ دیامر اور استور قدرتی وسائل کے خزانے ہیں. ان کی حفاظت کے لئے ہر سطح پر کام کیا جاسکتا ہے.
یہ ماننے میں قطعاً حرج نہیں کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے ضلع ہنزہ اور غذر میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔لیکن ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ پرنس کریم آغا خان  ایک عالمی شخصیت ہیں. عالمی شخصیت ہونے کے ناطے، آغا خان کے وژن اور خدمات کو صرف ایک کمیونٹی تک محدود رکھنا مناسب نہیں۔ یہ بات مقامی لوگوں اور آغاخان کے چاہنے والوں کو ضرور بری لگے گی بلکہ وہ فوراً تردید کریں گے اور دیگر کمیونٹیز کے لیے کی جانے والی خدمات گنوانا شروع کریں گے مگر بہرحال یہ بھی زمینی حقیقت ہی ہے کہ گلگت بلتستان و چترال میں آغا خان اور آغاخان فاونڈیشن کو محدود کیا گیا ہے. اب تک عملا یہی ہورہا ہے.جس سے انکار کی گنجائش موجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے دلائل گھڑنے کی ضرورت ہے. اب تک جو ہوا سو ہوا.
گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع، خصوصاً دیامر و استور، کو بھی ان خدمات سے مستفید ہونے کا پورا حق ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پرنسز زہرہ کی گلگت بلتستان آمد، ان علاقوں کے لوگوں کے لئے نئے مواقع اور ترقی کے دروازے کھولے گی۔ لوگ بدلے ہیں. حالات بدلے ہیں. خیالات بدلے ہیں. اب وہ سوچ اور خیالات نہیں رہے جن کا کبھی شکوہ کیا جاسکتا تھا. اب ان علاقوں میں کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ یا دلیل معقول نہیں کہلائی گی.
آئیے، ہم سب مل کر ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں جہاں گلگت بلتستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم، مناسب روزگار اور صحت کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے مشترکہ طور پر کوششیں کرنی ہوں گی۔ ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم کریں جہاں ہر فرد کو ترقی کے برابر مواقع ملیں اور ہم سب مل کر اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر دنیا تخلیق کریں۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
89302

داد بیداد ۔ سبق کا منظر نا مہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ سبق کا منظر نا مہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پُر تعیش ہاسٹلوں میں رہنے والے طلباء اور طا لبات کو شا ید یہ نہیں معلوم کہ ڈیڑھ سو سال پہلے خیبر پختونخوا میں سبق کی یہ سہو لتیں نہیں تھیں 1860ء میں سبق پڑھنے کے شو قین صرف لڑ کے ہوتے تھے لڑ کیوں کے شوق کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا اگر کسی کا بیٹا سبق کا شو قین ہوتا تو دور دور تک مدرسہ یا دار لعلوم نا م کا کوئی ادارہ نہیں تھا، مکتب نا م کی کوئی جگہ نہیں تھی، سکول کا انگریزی نا م کسی نے سنا بھی نہیں تھا اس کے باو جود سبق کے شو قین لڑ کے علم کی تلا ش میں گھروں سے نکلتے تھے، سوا ل یہ ہے کہ گھروں سے نکل کر کہاں جا تے تھے؟ جوا ب یہ ہے کہ اُس زما نے میں تر کستان، سمر قند، بخا را، کا شغر یا ر کند یا ہندو ستان کے دیو بند، سہا رن پور، تھا نہ بھون، بھو پال، اگرہ،کلکتہ سے تعلیم حا صل کر کے آنے والے علما دور درا زدیہات میں خا ل خا ل مو جود تھے ان علماء کے نا موں کی بڑی شہرت ہوتی تھی سبق کے شو قین کسی عالم کا نا م لیکر اُس کے گاوں کا رخ کر تے تھے

 

گاوں کی چھوٹی سی کچی مسجد ہوا کرتی تھی عالم اُس مسجد میں یا اپنے گھر میں دور دور سے آنے والے مسا فر طلباء کو رہنے کی جگہ اور کھا نے کی غذا فراہم کر کے سبق پڑھا تا تھا گاوں کے لو گ اس کام میں اپنے استاد کے ساتھ تعاون کرتے تھے وظیفہ کی صورت میں ہر گھر سے طلباء کو پکی پکائی خوراک ملتی تھی اگر آج ہماری یو نیور سٹیوں اور کا لجوں میں تحقیقی مضامین لکھنے والے طلباء اور طا لبات اپنے اپنے علا قوں میں ڈیڑ ھ سو سال پہلے سبق کے مرا کز و منا بع پر تحقیقی مقا لات کا سلسلہ شروع کریں تو خیبر پختونخوا کے پرانے تعلیمی نظام پر قابل قدر مواد فراہم ہوگا اس سلسلے میں صو بے کے جن نا مور علمائے کرام کی سوا نح عمریاں شائع ہوئی ہیں ان سے مدد لی جا سکتی ہے ایک طالب علم چترال، گلگت، سوات یا وزیر ستان سے روانہ ہو کر قریبی بستی میں کسی عا لم کا گھر ڈھونڈ تا تھا دو سال یا تین سال وہاں لگا کر، نا ظرہ قرآن، مننیتہ ا لمصلّی کے اسباق میں کسی حد تک دسترس حا صل کر کے مزید کتا بیں پڑھنے کے لئے آگے کسی اور عا لم کے پا س جا تا تھا

 

مثلا ً چترال سے یار حسین مردان، وہاں سے چکیسر سوات، پھر وہاں سے پوخ جو مات تہکال یا تا لاب والی مسجد نمک منڈی وغیرہ جا نا پڑتا تھا ہر جگہ مسا فر طلبا کی رہا ئش اور خو راک کا انتظا م استاد صاحب کے ذمے ہوا کر تا تھا اور علما ئے کرام خندہ پیشا نی سے یہ فریضہ انجام دیتے تھے اُس زما نے میں مکتب کا نظام نہیں تھا کوئی داخل، خا رج کا ریکارڈ نہیں تھا، گلستان، بوستان، یوسف زلیخا ایک جگہ سے پڑھی، اصو ل الشاشی اور کافیہ کے لئے کسی اور جگہ کا رخ کیا وہاں جا کر استاد جی کو زبا نی بتا یا کہ یہ کتاب میں نے پڑھی ہے وہ کتاب میں نے پڑھنی ہے اس طرح بات دورہ اول اور دورہ آخر تک پہنچ جا تی تھی کوئی سند نہیں ہوتی تھی کوئی بڑا جلسہ نہیں ہو تا تھا دورہ آخر سے فارغ ہونے والے کو پگڑی پہنا ئی جا تی تھی اور دعا دے کر رخصت کیا جا تا تھا، بہت کم لو گ پگڑی باندھنے تک سبق جاری رکھتے تھے گھریلو مسا ئل اور دیگر وجو ہا ت کی بنا ء پر چند کتا بیں پڑھ کر گھر وں کو واپس لوٹتے تھے

 

اس وجہ سے نیم حکیم خطر ہ جا ن کے ساتھ نیم ملا خطرہ ایمان کا جو ڑ لگا کر مقولہ ترا شا گیا گا وں میں نیم ملا کی آمد اور دستیا بی ایک نعمت ہو ا کر تی تھی وہ لو گوں کو نما ز پنجگا نہ پڑھا نے کے ساتھ ساتھ گاوں کے بچوں کو قرآن نا ظرہ بھی پڑھا تا تھا، جو اُس زما نے میں بہت بڑی سہو لت سمجھی جا تی تھی سبق کا یہ منظر نا مہ محنت، مشقت، ایثار، قر بانی اور جذبہ خد مت کی بڑی بڑی مثا لوں سے پُر ہے، علمائے کر ام بے مثال قر با نی دیکر اپنے گھر میں دور دور سے آئے ہوئے مسا فر وں کو سبق پڑھا تے تھے کوئی چندہ اور کوئی جھنڈا نہیں تھا، کوئی نا م، کوئی سائن بورڈ، کوئی اشتہار نہیں تھا، اخلا ص کی فرا وانی تھی اسی اخلا ص کی وجہ سے اس خطے میں اسلا می تعلیمات کا چر چا ہوا، سبق کا دور دورہ ہوا سہو لیات کے مو جود ہ حا لات میں وہ زما نہ خوا ب لگتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89296

کچھوے کا عالمی دن اور ہماری رفتار – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

کچھوے کا عالمی دن اور ہماری رفتار – میری بات:روہیل اکبر

کچھوے اور خرگوش کی کہانی تو ہم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں جس میں کچھوا خرگوش سے جیت جاتا ہے لیکن آج 23مئی ہے اور اس دن اصل میں کچھووں کا دن ہے وہ بھی عالمی سطح پر منایا جا رہا ہے بطور قوم ہم نے بھی جیت کے لیے اپنی رفتار کچھوے جیسی ہی رکھی ہوئی ہے قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہم نے کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کی بلکہ ہر شعبے کا بیڑہ ہی غرق کیا ہے آج چونکہ دنیا بھر میں کچھووں کا عالمی دن ”ورلڈ ٹرٹل ڈے منایا جارہا ہے اس لیے پہلے کچھووں کا ذکر کرتے ہیں اسکے بعدپاکستانی قوم کی بات کرینگے جنہوں نے کچھوے اور خرگوش کی کہانی پڑھ پڑھ کر اسی رفتار سے چلنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ کچھوؤں کے نام اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں کچھووں کی اہمیت اور ان کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے اس دن کو منانے کا آغاز 2000ء میں ہوا تھا کیونکہ کچھوا زمین پر پائے جانے والے سب سے قدیم ترین رینگنے والے جانداروں میں سے ایک ہے یہ لگ بھگ 21 کروڑ سال قبل وجود میں آیا تھا۔

 

اس کی اوسط عمر بہت طویل ہوتی ہے اور عام طور پر ایک کچھوے کی عمر 30 تا 50 برس تک ہوسکتی ہے بعض کچھوے سو سال کی عمر بھی پاتے ہیں سمندری کچھووں میں سب سے طویل العمری کا ریکارڈ 152 سال کا ہے۔انٹارکٹکا کے علاوہ کچھوا دنیا کے تمام براعظموں میں پایا جاتا ہے کچھوے انتہائی سرد موسم میں زندہ نہیں رہ سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ برفیلے علاقوں میں نہیں پائے جاتے بدقسمتی سے اس وقت کچھووں کی زیادہ تر اقسام معدومی کے خطرے سے دو چار ہیں عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت (آئی یو سی این)کے مطابق دنیا بھر میں کچھوو ں کی 300میں سے 129 اقسام اپنی بقا کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں اور یہ اقسام معمولی یا شدید قسم کے خطرات سے دو چار ہیں کچھوو ں کی ممکنہ معدومی اور ان کی آبادی میں کمی کی وجوہات ان کا بے دریغ شکار، غیر قانونی تجارت اور ان کی پناہ گاہوں میں کمی واقع ہونا ہے یہ تو تھی کچھوؤں کی باتیں ہم لوگوں نے چونکہ بچپن سے ہی کچھوے کی کہانی سن رکھی ہے اور خوش قسمتی سے اب تک دیکھتے بھی آئے ہیں کیونکہ پاکستان میں کچھوے کہیں نہ کہیں مل ہی جاتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے دیہاتوں کے چھپڑوں اور جوہڑوں سمیت کھالوں اور نہروں میں بھی پائے جاتے ہیں

 

دیہاتوں میں جب بھی کوئی کچھوا کی کھال یا نہر میں نظر آئے تو ہمارے بچے اسے پکڑ کر اس کے ساتھ کھیلنا شروع کردیتے ہیں کچھوا خظرہ محسوس کرتے ہی اپنی گردن اپنے خول کے اندر کرلیتا ہے اور ہم لوگ بغیر کسی خطرے کے ہی اپنی گردنیں اندر رکھتے ہیں ڈرپوک اس حد تک بن چکے ہیں کہ بازار کی ایک نکر پر فائرنگ ہو جائے تو دوسری نکر والے شٹر نیچے کرکے اندر سے گردنیں نکال کر دوسروں سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا اور بہادر اتنے ہیں کہ کسی شریف راہ گیر کو غنڈے قسم کے لوگ لوٹ رہے ہوں تو ہم سائڈ سے کنی کترا کر نکل جاتے ہیں اور بھوک کا مارا کسی ہوٹل سے ایک روٹی چرا لے تو اسے ہم باجماعت ثواب کی نیت سے پھینٹی لگاتے ہیں جبکہ خود دار اور غیرت مند اتنے ہیں کہ غیروں کے سامنے جھولی پھیلا کر قرض کی بھیک مانگنے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں سمجھدار اور عقل مند ہم اتنے ہیں کہ الیکشن میں بھی انہیں ووٹ دیتے ہیں جو ہمارے لوٹے ہوئے پیسوں سے ہمیں ایک پلیٹ بریانی دیدے ایماندار ہم اتنے ہیں کہ دوسروں کے مال پر قبضہ کرنا عین عبادت سمجھتے ہیں قیام پاکستان کے وقت اپنے پیاروں کی جان،مال کی قربانی دینے کے بعد بے سرسامانی کی حالت میں ہم پاکستان پہنچے تو کئی کئی دن کے فاقے برداشت کرنے پڑے رہنے کو جگہ نہیں ملی لیکن جذبہ تھا کچھ کرنے کا اس لیے ہر شخص نے خرگوش کی طرح دوڑ لگادی

 

پھر ایک وقت آیا کہ دنیا نے دیکھا کہ وہ قوم جس کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی،رہنے کو مکان نہیں تھا صرف چند سالوں میں ہی اس مقام پر آگئے کہ ہم نے دوسرے ممالک کی مالی مدد شروع کردی کراچی روشنیوں کا شہر بن گیا دنیا حیرت سے پاکستان کی طرف دیکھ رہی تھی اس وقت دنیا کا عالم کیا ہوگا جب سپارکو نے پہلا راکٹ رہبر ون 7 جون 1962 کو لانچ کیا رہبر-I دو مراحل والا ٹھوس ایندھن والا راکٹ تھا رہبر-1 جب 7 جون 1962 کو لانچ کیا گیا تو اس سے قبل نو ماہ کی مدت میں پاکستانی ٹیم کا قیام عمل میں آیا ان کی تربیت امریکی تنصیبات میں مکمل ہوئی راکٹ رینج کے آلات اور آلات کی خریداری سمیت سائنسی پے لوڈز کا انتخاب سونمیانی میں راکٹ رینج کی تعمیر مکمل ہوئی اور پہلا راکٹ کامیابی سے لانچ ہوا یہ ایک انوکھا کارنامہ تھا جس نے ناسا کے ماہرین کو بھی حیران کر دیا پاکستان تمام ترقی پذیر (برازیل، چین اور بھارت سمیت) اور اسلامی ممالک میں پہلا ملک تھا جس نے سائنسی راکٹری پروگرام کیا رہبر-1 کی لانچنگ کے ساتھ ہی پاکستان ایشیا کا تیسرا ملک، جنوبی ایشیا اور اسلامی دنیا کا پہلا ملک اور پوری دنیا کا دسواں ملک بن گیا جس نے خلا میں جہاز بھیجا بس پھر اسکے بعد خرگوش کو نیند آگئی یا سلا دیا گیا اور کچھوا اپنی چال چلتا رہا اس نے راستے میں خرگوش کو خواب دیکھتے ہوئے دیکھا لیکن جگایا نہیں اور خود اپنی منزل تک پہنچ گیا

 

کچھوا خطرہ دیکھتے ہی اپنی گردن اپنے سخت خول کے اندر کر کے د سکون کرلیتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کچھ لوگوں کی گردنوں میں سریا آیا ہوا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری ترقی کے سفر میں روڑے اٹکائے خود لوٹ مار کی پاکستان میں تو کیا دنیا بھر میں اپنی جائیدادیں بنا لیں اور جو یہاں سے تنگ آکر اپنا مستقبل بنانے بیرون ممالک گئے پیچھے سے مفاد پرستوں نے انکی جائیدادوں پر قبضے کر لیے اور تو اور یہاں تک کہ خون کے رشتوں میں بھی تبدیلی آگئی ایک بھائی دوسرے بھائی کا دشمن بن گیا اور ہماری سوسائیٹیاں قبضہ گروپوں کی سرپرست بن گئی لاہور کی سب سے پرانی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی ہے اسکے بی بلاک میں ایک شاندار کوٹھی 71بھی ہے جسکے مکین امریکہ چلے گئے تو پیچھے سے انکے بھائی نے ہی قبضہ کرکے گیسٹ ہائس بنا لیا حالانکہ سوسائٹی قانون کے مطابق رہائشی علاقے میں گیسٹ ہاؤس نہیں بن سکتا اب امریکہ سے آیا ہوا ساجد خان اپنے حق کے لیے کبھی سوسائٹی دفت کے چکر لگاتا ہے تو کبھی تھانے اور کچہری میں خوار ہو رہا ہے لیکن اسکی سننے والا کوئی نہیں کیونکہ یہاں پر ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن کی گردنوں میں سریا آیا ہوا خیر بات ہو رہی تھی کچھوے کی جسکا آج عالمی دن منایا جارہا ہے ہمیں بھی اس کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ یہ اب نایاب ہوتا جارہا ہے۔

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89212

بھارت کی انٹرنیٹ بندشوں میں عالمی برتری – قادر خان یوسف زئی 

بھارت کی انٹرنیٹ بندشوں میں عالمی برتری – قادر خان یوسف زئی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے حالیہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کی بدترین مثالیں قائم ہوئی ہیں۔ مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کو انٹرنیٹ کی بندش کے ساتھ اہم چیلنجوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے کافی اقتصادی اخراجات اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ Top10VPN کے ذریعہ کی گئی تحقیق مختلف ٹریکرز اور ٹولز جیسے نیٹ بلاکس اور SFLC.IN انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ٹریکر سے انٹرنیٹ کی بندش کے واقعات کو ماخذ کرتی ہے۔ مسلسل چھٹے سال انٹرنیٹ کی بندش میں بھارت کا ریکارڈ اظہار رائے کی آزادی حوالے سے مودی سرکار کے جوابدہی کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کے حق پر مودی حکومت کی بلاجواز پابندیاں کی تعداد اور مدت دونوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔صرف 2023 میں جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کو 17 بار بند کیا گیا جس سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ پانچ دن یا اس سے زیادہ تک چلنے والے شٹ ڈاؤن کا تناسب تیزی سے بڑھ کر 2022 میں 15% سے 2023 میں 41% ہو ا۔ یہ حکومت کے بدترین گورننس کی نشاندہی کرتا ہے جو جبری کنٹرول کے ذریعہ کے طور پر طویل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سہارا لے رہی ہے۔

 

واضح رہے کہ ان بندش کا اثر جموں و کشمیر سے باہر بھی ہے۔ جنوری اور اکتوبر 2023 کے درمیان، بی جے پی حکومت نے 7,502 یو آر ایل کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے۔2023 میں، ریاست منی پور، بھارت میں نسلی کشیدگی کے باعث حکومت کی طرف سے سب سے زیادہ شٹ ڈاؤن ہوئے۔ صرف 2023 بھارتی انٹرنیٹ کی بندشوں نے تقریباً 59 ملین افراد کو مجموعی طور پر تقریباً 8,000 گھنٹوں تک متاثر کیا،جس کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے اقدامات بھارت کے وزیر اعظم کے نام نہاد جمہوری رویئے اور دکھاوے کی ساکھ کو آشکارہ کرچکے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش نہ صرف معلومات اور مواصلات تک رسائی کو محدود کرتی ہے بلکہ اس کے اہم معاشی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ انڈین کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق، انٹرنیٹ بند ہونے سے 2012 اور 2017 کے درمیان ہندوستانی معیشت کو $2.8 بلین سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا۔بھارتی حکومت کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ انٹرنیٹ کی بندش نظم و ضبط برقرار رکھنے کا ایک موثر یا جائز ذریعہ نہیں ہے۔ وہ عوامی اعتماد کو ختم کرتے ہیں، اقتصادی ترقی کو روکتے ہیں۔ اس کے بجائے، حکومت کو اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے اور سماجی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تعمیری حل تلاش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھادنیا کی سب سے بڑی(نام نہاد) جمہوریت کے طور پر، بھارت ذمہ داری اٹھاتا کہ وہ دوسروں کے لیے ایک مثبت مثال قائم کرے۔ شفافیت، جوابدہی، اور انسانی حقوق کے احترام کو اپنائے، لیکن ہندو ازم کی سیاست نے جمہوری اصولوں کو تاراج کیا اور اس بات کو ناممکن بنا دیا کہ اس کے شہری ڈیجیٹل دور میں پوری طرح سے حصہ لے سکیں۔

 

ضرورت اس امر کی ہے بھارتی حکومت انٹرنیٹ کی بندش پر اپنا انحصار ختم کرے اور خود کو ایک آزاد اور کھلے معاشرے کے اصولوں پر دوبارہ پابند کرے۔حالیہ برسوں میں بھارت انسانی حقوق کی خلاف وزریوں پر بدترین ملک ثابت ہوا۔ شٹ ڈاؤن کے آزادی اظہار، معاشی سرگرمیوں اور ضروری خدمات تک رسائی کے لیے منفی نتائج اثرا نداز ہوئے۔

مسلسل چھٹے سال، بھارت انٹرنیٹ بند کرنے کی عالمی فہرست میں سرفہرست ہے، یہ ایک سنگین ریکارڈ ہے جو دنیا کی سب سے بڑی (نام نہاد)جمہوریت پر تاریک سایہ ڈالتا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 2023 میں عالمی سطح پر 283 انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز نافذ کیے گئے، ان رکاوٹوں کی ایک حیران کن تعداد کے ساتھ بھارت سرفہرست ہے۔ یہ پیٹرن، خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی انتظامیہ کے تحت، ملک میں جمہوری اصولوں کے زوال اور آزادی اظہار کو دبانے کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔مودی حکومت اکثر ان بندشوں کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، خاص طور پر ان خطوں میں جہاں سماجی بدامنی یا سیاسی اختلاف کا سامنا ہے۔ تاہم، ایسے تیزی سے سخت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو شہریوں کے حقوق کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش نہ صرف آزادی اظہار میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور معاشی سرگرمیوں میں بھی خلل ڈالتی ہے، جو ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پر تیزی سے انحصار کر رہی ہیں۔

ان شٹ ڈاؤن کے معاشی اثرات نمایاں ہیں۔ جس سے وہ کاروبار متاثر ہوئے جو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر منحصر ہیں۔انٹرنیٹ کی بندش ایک ایسا آلہ ہے جو ان جمہوری آزادیوں کو کم کرتا ہے جس پر بھارت فخر کرتاتھا۔ تاہم مودی حکومت کی طرف سے اس طرح کی بندشوں کا بار بار استعمال آمریت کی طرف ایک خطرناک اقدام کا اشارہ ہے۔ معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرکے، حکومت اختلاف رائے کو مؤثر طریقے سے دباتی ہے اور عوامی تاثرات کو توڑتی ہے، جس سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچتا ہے۔بھارت میں انٹرنیٹ کی بندش کا مسئلہ ایک وسیع تر عالمی رجحان کو بھی اجاگر کرتا ہے جہاں حکومتیں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کو تیزی سے استعمال کرتی ہیں۔ تاہم، ایک جمہوری ملک کے طور پر مودی حکومت کی پوزیشن تضاد کو بڑھاتی ہے۔ شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ انٹرنیٹ کی بندش آخری حربے کا ایک اقدام ہے اور سخت عدالتی جانچ پڑتال کے تابع ہے۔مزید یہ کہ شٹ ڈاؤن آرڈر کرنے کے عمل میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو واضح جواز فراہم کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایسے اقدامات متناسب اور ضروری ہوں۔ یہ شفافیت عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

بھارت میں انٹرنیٹ کی بندش کا مسلسل پھیلاؤ اس وقت کی ایک پریشان کن علامت ہے۔ اگرچہ حکومت کی دلیلیں ناقابل قبول ہیں اور ان کا قانونی و اخلاقی جواز بھی نہیں بنتا، مزید برآں، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے اس کے وسیع اثرات گہرے ہیں۔ بھارت کو ایسے راستے کا انتخاب کرنا چاہیے جو آزادی اور رابطے کے اصولوں کو برقرار رکھتا ہو، بجائے اس کے کہ وہ کنٹرول اور دباؤ کا سہارا لے۔مودی سرکار نے جس طرح انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کیں وہ عالمی برداری کی خاموشی پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89185

داد بیداد ۔ محاذ ارائی اور اعتماد سازی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ محاذ ارائی اور اعتماد سازی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

قوموں کی زند گی پر کسی کنبے، گھرانے اور خاندان کے دو اصول اثر انداز ہوتے ہیں اگر محاذ ارائی کا اصول اپنا یا گیا تو تبا ہی اور بر بادی آتی ہے اگر اعتماد سازی کا اصول اپنا یا گیا تو ترقی، خو ش حا لی اور طاقت آتی ہے خاندان یا گھرانہ قومی عمارت کی پہلی اینٹ ہے انگریزی میں اس کو پہلا یونٹ کہا جا تا ہے شما لی پہاڑی علا قوں کی دردی زبانوں میں ایک مقولہ ہے ”شورشرابہ بھیڑیے کو راس نہیں آتا“ بھیڑ یا جنگلی درندہ ہے اچھی زند گی کے لئے اس کو بھی خا موش اورپر سکون رہنا پڑتا ہے پھر انسانی بستی اور بنی آدم کی آبادی کو محاذ ارائی اور لڑا ئی جھگڑا کیونکر راس آئیگا! وطن عزیز پا کستان پر اس وقت آسیب کا سایہ ہے ہر طرف سے محا ذ آرائی کی خبریں آرہی ہیں، وفاق اور صو بوں کے درمیاں محا ذ ارائی کا بازار گرم ہے وفاق میں مختلف ریا ستی ادارے با ہم دست گریباں نظر آتے ہیں، الیکشن کمیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، عدلیہ بے اعتمادی کی کیفیت سے دو چار ہے، منتخب سیا سی قیا دت ایک دوسرے کے خلا ف جا نی دشمنوں کی طرح مو رچہ زن ہے، اور انتقام کی آگ بھڑ کا ئے بیٹھی ہے کسی کو کسی پر اعتبار نہیں کوئی بھی معقول اور معتبر لیڈر دوسرے لیڈر پر اعتماد نہیں کرتا دکھ کی بات یہ ہے کہ دشمنی رقابت اور انتقام کی یہ آگ صر ف دلوں میں نہیں جل رہی اس آگ کے شعلے ذرائع ابلاغ پر نظر آرہے ہیں اس آگ سے اُٹھنے والا دھواں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے سب دیکھ رہے ہیں اگر کوئی بے

خبر ہے تو سیا سی قیادت بے خبر ہے ؎
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جا نے ہے
جانے نہ جا نے گل ہی نہ جا نے باغ تو سارا جا نے ہے

دسمبر 2023ء میں ہماری قیاد ت کہتی تھی کہ قوم کی پہلی تر جیح معا شی استحکام اور دوسری تر جیح دہشت گر دی کا خا تمہ ہے چھ ما ہ بعد نئے ما لی سال کا بجٹ زیر غور ہے، اب ہماری پہلی ترجیح سیا سی مخا لفین سے انتقام ہے دوسری تر جیح بھا ری سود پر قرض کی تلا ش ہے اب معا شی استحکام بھی تر جیحات کی فہرست میں نظر نہیں آتا، دہشت گردی کا خا تمہ بھی بھلا یا جا چکا ہے گویا امن کا قیا م خوا ب ہی رہے گا، دو بڑے خطرات ہماری گلی کو چوں میں نظر آتے ہیں پڑو سی ملکوں سے بڑی تعداد میں دشمن کی فوج کے سول ٹھیکہ دار تر قیاتی منصو بوں میں کا م کرنے والے چینی انجینروں اور ہنر مندوں کو نشا نہ بنا نے کے لئے لا ئے گئے ہیں، گوادر، کراچی، وزیر ستان، گومل زام ڈیم اور دیا مر بھا شا ڈیم دشمن کی زد میں آئے ہوئے ہیں دوسرا بڑا خطرہ بھی ایسا ہے جو کتا بوں میں نہیں شہروں سے لیکر دیہات تک ہماری سڑ کوں پر نظر آرہا ہے، غریب طبقہ غر بت کی وجہ سے خو د کشیاں کر تا ہے

 

معصوم بچوں کو دریا اور کچرا کنڈی میں ڈالنے پر مجبور ہواکرتا ہے حکمران طبقہ 20اور 40گاڑیوں کا لمبا جلو س لیکر گھوم رہا ہے اور عوامی غیض و غضب کو دعوت دے رہا ہے مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے 24ویں سال ہماری قیا دت 1956اور1969کے دور میں محو خواب ہے، ہماری قیادت کو یہ نہیں معلوم کہ گورنر جنرل غلا م محمدہو، صدر سکندر مرزا ہو یا صدر آغا محمد یحیٰ خان ہو، وہ ابلاغ کے محدود ذرائع پر کنٹرول کر سکتے تھے، خبروں کو روک سکتے تھے اپنی عیا شیاں عوام سے چھپاسکتے تھے، اپنی نا اہلی پر کچھ عرصہ تک پر دہ ڈال سکتے تھے 2024میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اخبار بند کرو، ٹی وی چینل پر پا بندی لگاؤ توسوشل میڈیا کا تیز تر ذریعہ مو جود ہے اس کو بند کرنا کسی بھی ڈکٹیٹر کے بس میں نہیں ہے، دنیا کے جس ملک میں حکمران طبقے نے اس حقیقت سے انکار کیا ان کا انجام برا ہو امیں نے یہاں تک لکھا تو شاہ جی نے کہا کس کے لئے لکھ رہے ہو؟ میں نے کہا یہ میری خود کلا می ہے مو نو لا گ ہے اگر سچ مُچ دیواروں کے کان ہوتے ہیں تو دیواروں کے لئے لکھ رہا ہوں مجھے پتہ ہے محا ذ ارائی کے شو قین با ہمی اعتماد کو کبھی تو جہ نہیں دینگے آج سے 20سال پہلے ہم بیرونی دشمن کے ساتھ تعلقات میں اعتماد سازی (Confidence building) کی بات پر زور دیتے تھے آج نو بت یہاں تک پہنچی ہے کہ اندر ون ملک قومی اداروں کے درمیاں اعتما د کا فقدان پیدا ہوا، سیا سی قو توں کے درمیاں اعتما د کی عمارت زمین بو س ہو گئی، حکومت کا عوام پر اعتما د نہیں، عوام کا حکومت پر اعتماد نہیں آج اندرون ملک اعتما د سازی کی ضرورت ہے مگر کسی کو بھی اس ضرورت کا احساس نہیں علا مہ اقبال نے 100سال پہلے کہا تھا ؎
اے وائے نا می متاع کا رواں جا تا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جا تا رہا

 

Posted in تازہ ترین, مضامین
89057

طلبہ و طالبات کی سیکورٹی اور عملی اقدامات – خاطرات :امیرجان حقانی

طلبہ و طالبات کی سیکورٹی اور عملی اقدامات – خاطرات :امیرجان حقانی

آج دن بھر سوشل میڈیا میں یہ خبر گردش کرتی رہے ہے کہ ایک بدبخت شخص گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جوٹیال گلگت کی چھوٹی بڑی طالبات کو ہراساں کرتا رہتا تھا. طالبات نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا. یوں سکول انتظامیہ نے والدین سے رجوع کیا اور والدین اور جوٹیال یوتھ نے اس کمبخت کو پکڑ کر خوب پھینٹا لگا دیا اور پولیس کے حوالے کر دیا. کاش ہر سکول کے سامنے بیٹھ کر ایسی حرکتیں کرنے والوں کو یوں پھینٹا لگایاجاتا.
جوٹیال گرلز ہائی سکول گلگت بلتستان کے  طالبات کے سرکاری سکولز میں سب سے بہتر اور معیاری سکول ہے. میں خود گزشتہ کئی سالوں سے اس اسکول کی کارگردگی کو غور سے دیکھتا رہا ہوں. شاندار صفائی اور تعلیمی نظام ہے.
یہ ایک نہایت افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے جس میں ایک بدبخت، رذیل اور کمینہ آدمی نے گرلز ہائی سکول جوٹیال کی معصوم طالبات کو روزانہ ہراساں کر کے ان کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا تھا۔
اس خبر کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے. گرلز ہائی سکول ایف سی این اے کے ساتھ ہی ہے. یہ فوجی علاقہ ہے جو انتہائی حساس اور سینٹرل ایریا ہے. جگہ جگہ کیمرے لگے ہونگے. درست نہج پر اس کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے.
یہ بدبخت نہ صرف اخلاقی پستی کا شکار ہے بلکہ معاشرتی امن اور سکون کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا تھا۔ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ایسے افراد کے باعث بچیاں خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھنے سے قاصر ہو جاتی ہیں جو نہایت تشویشناک امر ہے۔ گلگت بلتستان کے کئی ایریاز میں ایسے بدبخت پائے جاتے ہیں.
جوٹیال یوتھ اور بچیوں کے والدین کی جرات مندی اور اقدام قابل تحسین ہے کہ انہوں نے اس شخص کو پکڑ کر اس کے ناپاک ارادوں کا قلع قمع کیا اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہ ایک بہترین مثال ہے کہ جب برائی کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے، ہمیں مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے. حدیث میں حکم بھی آیا ہے کہ اگر برائی کا خاتمہ ہاتھ سے ہوسکتا ہے تو کرنے میں دیر نہیں لگانا چاہیے۔ جوٹیالین نے حدیث پر عمل کرکے اجر عظیم کمایا ہے. جہاں جہاں ایسی صورتحال ہو وہاں وہاں اہل محلہ و علاقہ اور والدین کو مل کر ایسا اقدام کرنا چاہیے. تاکہ طلبہ و طالبات بھی محفوظ ہوں اور ثواب عظیم بھی ملے.
تاہم یاد رکھا جائے یہاں صرف محلہ والوں یا والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے افراد کی جڑ سے بیخ کنی کی جا سکے۔ پولیس کو چاہیے اس واقعہ کو بطور کیس اسٹڈی لیں اور تمام تعلیمی اداروں کے دائیں بائیں پائے جانے والے  ایسے غنڈوں کا ڈیٹا جمع کریں اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے کوئی میکنیزم تیار کریں. تاکہ ایسے افراد کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے اور دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بن سکے۔

انتظامیہ کو بھی سکولوں اور ان کے اطراف میں سیکورٹی کے انتظامات کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
سکول کے طلبہ و طالبات کی حفاظت اور تعلیم ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ ایسے افراد کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے سے ہی ہم اپنے معاشرے کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور طلبہ و طالبات کو ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ انتظامیہ، حساس ادارے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لے کر فوری اور مؤثر کارروائی کریں گے۔
سماجی اور معاشرتی طور پر بھی سب کو ملکر ایسے گندے اور غلیظ کیریکٹرز کے خاتمے کے لئے علمی، شعوری اور عملی اقدامات کرنے چاہیے.
تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی سیکیورٹی اور انہیں ہراساں کرنے والوں سے بچاؤ کے لئے کچھ لانگ ٹرم تجاویز عرض کیے دیتا ہوں. ان پر عمل کیا جائے تو صورتحال مثالی بن سکتی ہے. یہ کام ریاست کے تمام ادارے اور سماجی و عوامی معاونت و اشتراک سے ہوسکتے ہیں.
1. تعلیمی ادارے کی حدود میں سیکیورٹی انتظامات:
 تعلیمی ادارے کی چار دیواری اور داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی۔
سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور ان کی موثر نگرانی۔
2. طلبہ و طالبات کی آگاہی اور تربیت:
 سیکیورٹی اور ہراسانی سے بچاؤ کے بارے میں طلبہ و طالبات کی تربیت اور خصوصی ٹریننگ
 ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد تاکہ وہ خود کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے آگاہ ہو سکیں۔
3. سکول کارڈز اور بائیو میٹرک سسٹم کا استعمال:
   تمام طلبہ و طالبات ، اساتذہ اور عملے کے لئے سکول کارڈز کا اجرا اور ان کا لازمی استعمال۔
  بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب تاکہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا، ادارے میں داخلے کو روکا جا سکے۔
4. ایمرجنسی نمبرز اور رابطے کی معلومات:
   طلبہ و طالبات کو ایمرجنسی نمبرز فراہم کرنا۔ تاکہ وہ بروقت رابطہ کرسکیں
   ہر کلاس روم میں ایمرجنسی رابطے کی معلومات کا دستیاب ہونا۔
5. ہراسانی کی شکایات کے لئے ہاٹ لائن:
   ایک خفیہ ہاٹ لائن کا قیام جہاں طلبہ و طالبات بغیر کسی خوف کے اپنی شکایات درج کروا سکیں۔
  شکایات پر فوری اور مناسب کارروائی کی جائے۔
6.اساتذہ اور عملے کی تربیت:
   اساتذہ اور دیگر عملے کو سیکیورٹی اور ہراسانی سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔
  تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کی صورت میں فوری مدد فراہم کر سکیں۔
7. طلبہ و طالبات کی نقل و حرکت کی نگرانی:
   تعلیمی اداروں کی بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کے نظام کی نگرانی۔
  ہاسٹلز اور رہائشی سہولیات میں سیکیورٹی کا موثر نظام۔
8. سیکیورٹی آڈٹس اور معائنہ:
   تعلیمی ادارے میں باقاعدگی سے سیکیورٹی آڈٹس کا انعقاد و انتظام
  کسی بھی کمزوری کی صورت میں فوری بہتری کے اقدامات۔
9. محفوظ آن لائن ماحول:
   تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی دینا۔
  سائبر بُلِنگ سے بچاؤ کے طریقے سکھانا۔( آج کل سائبر بُلنگ کے ذریعے سب سے زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے)
10. والدین کے ساتھ تعاون:
    والدین کو بچوں کی سیکیورٹی اور ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا۔
   ان سے مسلسل رابطے میں رہنا تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔
ان تجاویز پر عمل کر کے تعلیمی ادارے، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے طلبہ و طالبات کی سیکیورٹی میں مکمل بہتری لا سکتے ہیں اور انہیں ہراسانی سے بچا سکتے ہیں۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88987

تجارت کا پیشہ – تحریر: اقبال حیات اف برغذی

تجارت کا پیشہ – تحریر: اقبال حیات اف برغذی

زندہ رہنے کے لئے رزق کی ضرورت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس کے حصول کے لئے مختلف رنگ کی کاوشین کی جاتی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا مذہب ہمیں حلال رزق کے حصول کی کاوش کےلئے رہنمائی کرتا ہے۔ اور ہر قسم کے حرام اور ناجائز آمدن سے اجتناب کا درس دیتا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں مختلف قسم کے ذرائع بروئے کار لاتے جاتے ہیں وہان تجارت کا پیشہ بھی ایک قابل ذکر ذریعہ ہے۔ یہ پیشہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک مقدس حیثیت کا حامل ہے کیونکہ ہمارے عظیم پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم  کی اس پیشے سے وابستگی رہی ہے اس لئے یہ پیشہ فیوض وبرکات کا حامل ہے۔ اور ساتھ ساتھ اخروی لحاظ سے بھی دینی اقدار کی پاسداری پر مبنی تجارت پر قیامت کے دن بہت بڑے اعزاز کی نوید بھی دی گئی ہے۔ اور ہمارے عظیم پیغمبر کے ارشاد کے مطابق دیندار اور دیانتدار تاجر کو قیامت کے دن پیغمبروں ، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہمنشین ہوگا۔ اس پیشے کو ایسی شان سے نوازنے کے لئے چند عوامل کی پاسداری کی اہمیت مسلمہ ہے۔

 

تجارت پیشہ انسان کو مال کی قیمت سے متعلق قسم کھانے سے احتراز کرنا ہوگا۔ ناجائز منافع خوری سے اپنا دامن بچانا ہوگا۔ گران فروشی کی نیت سے مال کا ذخیرہ کرکے رکھنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔مال فروخت ہونے کے بعد خریدار کی طرف سے اسے واپس کرنے کی صورت میں خندہ پیشانی سے واپس لینے  پرپیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف سے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اور ساتھ ساتھ مال میں نقص کی نشان دہی کی جائے ۔ حضرت عمر  کے دور خلافت میں دستکاری  سے وابستہ دو خواتین اپنے پیشے کے ذریعے حاصل شدہ آمدن کو اسلام کے تقاضون سے ہم اہنگ کرنے کے لئے دن اور رات کے وقت کی جانے والی دستکاری کی قیمتوں میں فرق کرنے کی ضرورت کے بارے میں خلیفہ وقت سے مسئلہ دریافت کرتی ہیں ۔جو مذہب سے وابستگی کی انمول مثال ہے۔ ان حقائق کے آئینے میں آج اگر اس پیشے کا جائزہ لیا جائے گا تو ایک استحصالی رنگ میں نظر آئے گا۔ اشیائے ضرور ت کے دام بڑھتے ہی اپنے سٹاک میں موجود اشیاء پر اس کا اطلاق کیاجاتا ہے اور قیمتوں میں کمی ہونے پر اپنے پاس موجود اشیاء کو اس سے مستشنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔ جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ناجائز اور غیر اسلامی فعل ہے ۔ اگرچہ اس قسم کے کردار سے گننے کی حد تک مال ودولت میں اضافہ ہوگا۔ مگر سکون قلب کی دولت سے محروم ہونا پڑے گا۔جو یقیناً ایک بہت بڑے خسارے کا سودہ ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88946

داد بیداد ۔ سیا حت اور سڑ کیں ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ سیا حت اور سڑ کیں ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

گرمیوں کا مو سم آتے ہی سیا حوں کا رخ پہا ڑی علا قوں کی طرف ہو تا ہے حکومت بھی سیا حت کو فروغ دینے کے اعلا نات کر تی ہے خیبر پختونخوا کے سیا حتی مقا مات میں نا ران کا غان اور سوات کو 1960کی دہا ئی میں ترقی ملی اور سڑکیں بن گئیں، چترال بھی کا لا ش ثقا فت اور 25ہزار فٹ سے زیا دہ بلند پہاڑی چو ٹیوں کی وجہ سے سیا حوں کے لئے پر کشش علا قہ ہے مگر اس کو سڑ کوں سے اب تک محروم رکھا گیا ہے نہ کا لا ش وادیوں کے لئے پختہ سڑک بنی ہے نہ شندور کے پُر فضا مقام کے لئے پختہ سڑک بنی ہے نہ تریچ میر کے بیس کیمپ کے لئے پختہ سڑک بنی ہے، یہ بات اخبار بین حلقوں کے لئے حیرت اور تعجب کا باعث ہو گی کہ چترال کے دو اضلاع اپر اور لوئیر چترال کا مجموعی رقبہ 15ہزار مر بع کلو میٹر ہے وادی کی لمبائی اراندو سے بروغیل تک 485کلو میٹر ہے پختہ سڑک کی کل لمبائی 140کلو میٹر ہے، یعنی 200کلو میٹر سڑک بھی دستیاب نہیں اگر ایک سڑک کی بات کی جا ئے تو چترال شندور روڈ پر1989سے اب تک 35سالوں میں 13بار کام شروع ہو ا جبکہ 12دفعہ کام بند ہوا بو نی بو زوند روڈ افغانستان کی سر حد کو جا نے والا اہم راستہ ہے اس پر 2008میں کام شروع ہوا تھا 6بار کام بند ہوا چنا نچہ سڑک اب تک نا مکمل ہے،

 

چترال گرم چشمہ روڈ بھی افغان سر حد کو جا تا ہے اس پر 1985میں کا م شروع ہوا 39سالوں کے دوران 10بار کام بند ہوا سڑک ادھوری رہ گئی اور ادھوری ہے، کا لا ش آبا دی کی تین وادیوں کو جا نے والی سڑک اول روز سے لا وارث چلی آرہی ہے کسی بھی دور میں اس سڑک کو تعمیر کرنے کی سکیم نہیں آئی خدا خدا کر کے 2021ء میں کا لا ش ویلی روڈ کی سکیم آئی تھی 2022ء میں اس پر کام روک دیا گیا دو سال بعد ایک بار پھر کا لا ش ویلی روڈ پر کام شروع کرنے کا اعلا ن ہوا ہے، مگر کسی کو یقین نہیں آرہا کہ کا لا ش ویلی روڈ بنے گی کیونکہ لو گوں نے کا م شروع ہونے کے بعد باربار کام بند ہو تے دیکھا اس لئے ہوگا، ہو گی اور اس طرح کے مستقبل کی بات کرنے والے الفاظ کو اب لو گ سنجیدہ نہیں لیتے، چنا نچہ چترال کے دو اضلا ع میں ہر سال نئے سیا ح آتے ہیں، جو ایک بار آیا وہ کچی سڑ کوں پر دوبارہ سفر کرنے سے توبہ کرتا ہے اور اپنی اولا د کو نصیحت کر تا ہے کہ اس طرف کا رخ نہ کرو، گاڑی کا بھی اور تمہارا اپنا بھی کچومر نکل جا ئیگا،

 

24سال پہلے سیا حوں کے لئے پر کشش پہا ڑی علا قوں میں پاکستان ٹورزم ڈیو لپمنٹ کار پو ریشن (PTDC) کے پُر آسائش ہو ٹل ہوا کر تے تھے، اٹھارویں ترمیم کے بعد ان کو بند کیا گیا اٹھارویں تر میم لا نے والوں کا خیال یہ تھا کہ کنکرنٹ لسٹ ختم ہونے سے وفاق پر کام کا بوجھ کم ہو گا صوبے با اختیار ہونگے لیکن مر کز کے پا س سارے سفید ہا تھی اب بھی مو جو د ہیں صو بوں کو ”خپلہ خاورہ“ میں کوئی اختیار نہیں ملا نظر آنے والا کام یہ ہے کہ پی ٹی ڈی سی ہو ٹل بند ہو گئے اس سال اپریل کے مہینے میں چترال کے کاغلشت فیسٹیول کی ما رکیٹنگ ہوئی مئی کے مہینے میں کا لا ش فیسٹیول چلم جو ش کی ما رکیٹنگ کی گئی، دونوں جگہوں پر جا نے کے لئے منا سب سڑکیں نہیں تھیں گاڑیاں بمشکل 12کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی تھیں اب جون کے لئے شندور پو لو فیسٹیول کی مارکیٹنگ کی جا رہی ہے اپر دیر اور لواری ٹنل سے شندور جا نے والی سڑک کی لمبائی 240کلو میٹر ہے اور اس راستے کی حا لت ایسی ہے کہ 6گھنٹے کا سفر 15گھنٹوں میں طے ہو تا ہے گردو غبار، مٹی اور دھول اس پر مستزاد ہے

 

اگر حکومت پہاڑی علا قوں کے صحت افزا مقامات میں سیا حت کو ترقی دینے میں سنجیدہ ہے توچترال کی سڑکوں کے منصو بوں کو مکمل کرنا لا زمی ہو گا یہ ایسی سڑ کیں ہیں جن کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چار چیف جسٹس صاحبان نے گدھا گاڑی والی پگڈنڈیوں کا نا م دیا ہے، تین کور کمانڈر وں اور دوچیف آف آرمی سٹاف نے گاڑیوں کے لئے نا موزوں قرار دیا ہے پھر بھی انہی کھنڈرات پر گاڑیاں دوڑائی جا تی ہیں مشکل یہ ہے کہ متبادل راستہ کوئی نہیں سیا حت اور سڑکیں لا زم و ملزوم ہیں جہا ں پکی سڑکیں نہ ہوں وہاں کے لئے سیا حت کی ما رکیٹنگ بہت مشکل ہو گی اس لئے جو ہوا سو ہوا، آنے والے دو چار سالوں میں چترال کی سڑ کوں پر کام بند نہیں ہونا چا ہئیے اور گذشتہ تین دہا ئیوں میں بار بار کا م بند ہونے سے تعمیر شدہ کام پر جو فنڈ ضا ئع ہوا یا افراط زر کی وجہ سے سکیم کی لا گت میں جو اضا فہ ہوا ان تما م نقصانات کا حساب کتاب ہونا چاہئیے،ترقی یا فتہ اقوام کا یہ نعرہ ہوتا ہے پہلے سڑکیں پھر سیا حت۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88942

اسرائیل غزہ جنگ بندی فلسطینی پناہ گزنیوں کی واحد امید – غلام مرتضیٰ باجوہ

اسرائیل غزہ جنگ بندی فلسطینی پناہ گزنیوں کی واحد امید – غلام مرتضیٰ باجوہ
ایوان اقتدارسے

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کی رپورٹ میںاس بات انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیل فورسز کی کارروائیوں کے دوران وہاں سے تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی رفح میں پناہ لئے ہوئے تھی۔ بہت سے فلسطینی غزہ کے دوسرے حصوں میں اسرائیل اور حماس کی جنگ سے فرار ہونے کے بعد وہاں پہنچے تھے۔مشرق قریب میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزنیوں سے متعلق ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی،یو این آر ڈبلیو اے،(UNRWA) نے کہا ہے کہ لوگوں کو مسلسل تھکن، بھوک اور خوف کا سامنا ہے۔ کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ فوری جنگ بندی ہی واحد امید ہے۔

مسئلہ فلسطین پر مسلم ممالک کی خاموش کے بعد امریکہ کا اسرائیل کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کا ایک ارب ڈالر کا نیا پیکیج جائزے کے لیے کانگریس کو بھیج دیا گیا ہے۔پیکیج میں ٹینکوں کے گولے، مارٹر اور ٹیکٹیکل بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی شامل ہیں۔نئے پیکیج میں 70 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹینک کے گولے، 50 کروڑ ڈالر کی ٹیکٹیکل گاڑیاں اور چھ کروڑ ڈالر کے مارٹر گولے شامل ہیں۔بائیڈن انتظامیہ نے امریکہ کا اسرائیل کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کا ایک ارب ڈالر کا نیا پیکیج جائزے کے لیے کانگریس کو بھیج دیا ہے۔

یورپی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میںبتایا گیا ہے ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فراہمی کے پیکیج میں ٹینکوں کے گولے، مارٹر اور ٹیکٹیکل بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی شامل ہیں۔غزہ میں حماس کے خلاف سات ماہ سے جاری جنگ کے دوران اسرائیل کی فوجی حمایت پر امریکہ کو تنقید کا سامنا رہا ہے۔صدر جو بائیڈن کے ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ ساتھی ان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی محدود کر دیں تاکہ اسرائیل پر فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا دباو ¿ ڈالا جا سکے۔دوسری طرف امریکہ میں حزبِ اختلاف ری پبلکن پارٹی کے ارکان نے اسرائیل کی فوجی حمایت میں کمی کی مذمت کی ہے۔بائیڈن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیل کو دو ہزار پاو ¿نڈ اور ساڑھے 17 ہزار پاو ¿نڈ وزنی بموں کی کھیپ کی ترسیل مو ¿خر کرے کا حکم دیا ہے۔ امریکہ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے جنوب میں رفح پر بڑے حملے کی صورت میں ان بموں کے استعمال کے خدشے کے سبب فراہمی روکنے کا اعلان کیا تھا۔

وائٹ ہاو ¿س کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ امریکہ گزشتہ ماہ منظور کیے گئے 26 ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ کے بل میں فراہم کی جانے والی فوجی امداد جاری رکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاو ¿س نے بموں کی ترسیل روک دی ہے کیوں کہ امریکہ گنجان شہروں میں بم گرانے کا مخالف ہے۔دوسری جانب یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ کھیپ طویل عرصے سے تعطل کے شکار اس پیکیج کا حصہ ہے جو کانگریس سے منظور ہو چکا ہے اور صدر بائیڈن نے گزشتہ ماہ اس پر دستخط کیے تھے۔امریکہ کے نظام میں دوسرے ملکوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بڑے سودوں کی منظوری کے عمل میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹیوں کے ارکان جائزہ لیتے ہیں۔صدر بائیڈن اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ شہریوں کے تحفظ کے مو ¿ثر اقدامات کے بغیر رفح میں بڑی کارروائی نہ کریں۔دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرنے والی فلسطینی تنظیم حماس کے رفح میں موجود جنگجوو ¿ں کا صفایا کرنا چاہتا ہے۔

 

حماس کے گزشتہ برس اسرائیل پر حملے میں حکام نے 12 سو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ اس حملے میں حماس نے اڑھائی سو کے قریب لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔اسرائیل نے سات اکتوبر کو ہی حماس کے خلاف جوابی کارروائی شروع کر دی تھی اور غزہ میں حماس کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں حماس کے زیر انتظام محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں سات ماہ کے دوران 35 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔علاوہ ازیں امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کے ارکان اسرائیل کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کو لازمی قرار دینے کے بل کو آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔کیونکہ اسرائیل کے لیے امریکہ کی امداد کا رکنا مشرق وسطیٰ میں قریب ترین امریکی اتحادی کی حمایت ترک کرنے کے مترادف ہے۔اگر کانگریس کسی ایسے بل کو منظور کرے گی تو صدر بائیڈن اس کو ویٹو کر دیں گے۔ایوان نمائندگان میں اگر ری پبلکن ارکان کا یہ بل پاس ہو بھی جاتا ہے تو ڈیموکریٹ پارٹی کے کنٹرول میں موجود سینیٹ میں اس کے پاس ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس اس معاملے پر کسی حد تک منقسم ہیں۔لگ بھگ دو درجن ارکان نے بائیڈن انتظامیہ کو ایک خط میں آگاہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو بموں کی کھیپ کی ترسیل روکنے کے پیغام کے بارے میں فکر مند ہیں۔وائٹ ہاو ¿س اس قانون سازی کے حوالے سے مختلف قانون سازوں اور کانگریس کے معاونین سے رابطے میں ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88930

یہ اختصاص کا دور ہے – خاطرات :امیرجان حقانی 

یہ اختصاص کا دور ہے – خاطرات :امیرجان حقانی

 

یہ اختصاص یعنی کسی ایک فن یا موضوع پر مکمل دسترس اور مہارت حاصل کرنے کا دور ہے. ایک مخصوص ہنر، فن یا موضوع پر مہارت حاصل کرنا بھی ایک مکمل آرٹ  ہے جس میں انسان اپنے علم، تجربہ، اور مہارت کو بہتر بناتا ہے۔ اس دور میں، ایک فرد اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں پر مستقل طور پر کام کرتا ہے، جس سے اس کی قابلیت، صلاحیت اور اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اختصاص انسان کو  اپنے شعبہ  یا فنی میدان میں عالمی درجہ پر پہنچنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اس کی بہت ساری مثالیں دی جاسکتی ہیں. کسی انسان کا کسی خاص فن میں اختصاص ہی اس کی پہچان بن جاتی ہے.

ایسے افراد جو مخصوص فن یا علم میں اختصاصی صلاحیت پیدا کرتے ہیں، اپنے میدان میں علم و تجربہ کے ساتھ مصروف رہتے ہیں اور اپنے علم و فن کو مکمل کرنے کے لئے محنت کرتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں و مہارتوں کی بنیاد پر وہ اپنے شعبہ اور  میدان میں معتبر شخصیت بن جاتے ہیں، اور دنیا کے لیے علم، فہم، اور عظمت کی علامت بن جاتے ہیں ۔ ان متخصص لوگوں کے ذریعہ، نئے فنون کی دریافت ہوتی ہے، نئے تجربات وجود میں آتے ہیں ، اور معاشرتی اور تکنیکی ترقی کے لئے نئے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ان کی مہارتوں کا اثر، عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی ہوتا ہے، جو ان کے کاموں سے مستفید ہوتے ہیں۔

اختصاص پورا وقت چاہتا ہے. پورا سرمایہ چاہتا ہے. پوری قوت چاہتا ہے. مکمل یکسوئی چاہتا ہے. انسان سب کچھ نچھاور کرے تو پھر وہ کسی ایک فن، علم، ہنر یا شعبہ میں متخصص و ماہر بن سکتا ہے اور اپنا نام کما سکتا ہے. چند مثالوں کے ذریعے اس کی افہام و تفہیم کی کوشش کرتا ہوں.
عورت کو پورا مرد چاہیے:
یہ ایک معروف کہاوت ہے. عورت آدھا مرد پر رضا نہیں ہوتی. اس کو پورا مرد چاہیے. وہ مرد میں تقسیم بھی نہیں چاہتی. اگر مرد خود کو مکمل اس کے حوالہ کر دے تو شاید وہ راضی ہو، ورنا عورت کڑھتی رہتی ہے. ویسے اس کا کچھ تجربہ مجھے ایک سال سے ہو بھی رہا ہے.

عورت کے اسی فلسفہ اور “پورے مرد” کو دیگر امور میں قیاس کرلیتے ہیں. ہر فیلڈ اور ہر فن کے لیے پورا پورا مرد چاہیے ہوتا ہے. آدھا مرد یا آدھا تیتر آدھا بٹیر  بننے سے کام نہیں چلے گا.

سیاست کو پورا سیاست دان چاہیے:

سیاست ایک اہم شعبہ ہے جو معاشرتی ترقی اور سیاسی شعور و ترتیب کے لئے ضروری ہے۔ ایک مثالی سیاست دان، اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے، اور عوام کے مفادات کے لئے محنت کرتا ہے۔ وہ قوم کو ملکی ترقی اور فلاح کی راہ میں رہبری دیتا ہے، اور ایک بہترین معاشرتی نظام کی بنیاد رکھتا ہے. اب اگر کوئی پارٹ ٹائم سیاست کرے تو قطعاً وہ سیاسی نہیں کہلائے گا. بلکہ سچ یہ ہے کہ سیاست پر دھبہ ہوگا.اور پاکستان دھبوں سے بھرا پڑا ہے.

عسکریت کو پورا فوجی چاہیے:

عسکریت ایک پورا شعبہ ہے. اس کی ایک مکل تاریخ ہے.فوج ایک ملک کی حفاظت اور امن کے لئے اہم ہوتی ہے۔ ایک مثالی فوجی، اپنے پیشہ پر فخر کرتا ہے، اور اپنے ادارے کے اصولوں اور قوانین کا پاسبانی کرتا ہے اور اپنے حلف کی پاسداری کرتا ہے۔ وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جان کی قربانی دینے کو تیار رہتا ہے ،اور عوام کی حفاظت کے لئے ہمہ دم مستعد رہتا ہے۔ اگر وہ اس کام کی بجائے سیاست، معیشت، کنسٹرکشن، طب اور تعلیم میں لگے تو شاید وہ اپنی اہمیت و مہارت کھو بیٹھتا ہے. دنیا اس کے فن عسکریت کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی.

علم کو پورا طالب علم اور مدرس چاہیے:

تعلیم اور علم کی اہمیت کو نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔ ایک مثالی طالب علم، حصول علم کے لیے محنت کرتا ہے اور اپنے علمی میدان میں ترقی کرتا ہے ۔ ایک مثالی مدرس، اپنے طلباء کو روشنی اور ہدایت فراہم کرتا ہے ، اور ان میں مختلف معاشرتی مسائل کے حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور مہارت سکھاتا ہے۔ اگر استاد اور طالب علم اپنا کام یکسوئی سے کرکے مہارت حاصل کرنے کی بجائے سیاستدان دانوں کے لئے ایندھن بنیں اور نعرے لگائیں تو وہ کچھ بھی ہوسکتے ہیں مگر طالبان علم نہیں ہوسکتے.

شاعری کو پورا شاعر چاہیے:

شاعری اور ادب سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک مثالی شاعر اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جذبات پیدا کرتا ہے ، اور ان کی زندگیوں کو رنگین بناتا ہے۔ اس کی شاعری میں عظمت، عشق، اور فن کی روشنی ہوتی ہے، جو سماج کے فہم و فرہنگ کو بڑھاتی ہے۔ اگر شاعر اور ادیب اپنے فن میں متخصص نہ ہو تو شاید اپنی وقعت کھو بیٹھے گا اور اس کی ادبی عمر بہت کم ہوگی.

تحقیق اور دانش بھی ریاضت چاہتے ہیں: 

تحقیق اور دانش کا کاروبار انسانی ترقی کے لئے بہت اہم ہے۔ ایک مثالی محقق، اپنی تحقیقات میں عمق اور صداقت کے ساتھ محنت کرتا ہے۔ اس کا فہم اور تجربہ، اسے نیو معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے. وہ ہر وقت کھوج لگاتا رہتا ہے۔ وہ اپنی تحقیقات کو باریکی سے پیش کرتا ہے اور اپنی تحقیق کو تحقیقی مہارتوں سے مزین کرتا ہے۔ ایسا محقق، انسانی معرفت کو بڑھانے اور معاشرتی مسائل کے حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دانش ور بھی یہی کرتے ہیں.
ایک مثالی مبلغ، اپنے علم اور فن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پیغام کو عوام تک پہنچاتا ہے۔ اس کی فنی خوبصورتی اور قوتِ تقریر و تبلیغ ، اسے ایک نمایاں مبلغ بناتی ہے۔

ایک سادہ مثال آپ کی تفہیم کے لیے عرض کرتا ہوں. معروف ادارہ ایم آئی ٹی سے پیور سائنس میں ڈگری حاصل کرنے والے پروفیسر ہود بائی، جب سائنس کو چھوڑ کر مذہب و سیاست اور سماجی علوم پر مکالمے و مباحثے کریں یا انجینئر طاہر مرزا جہلمی علم انجینئرنگ کی بجائے فن حدیث پر گفتگو کریں یا مولانا الیاس گھمن صاحب دینی علوم کو چھوڑ کر سرچ اور ریسرچ کا فلسفہ بیان کریں، تو شاید مضحکہ بن جائیں گے. ایسے لوگ کبھی اس فن میں سند نہیں بنیں گے.

 

یہ  چند مثالیں اپنی بات کو سمجھانے کے لیے لکھ دی.اور یہ باتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہر  شعبہ میں مثالی شخصیتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے کردار میں مکمل ہوں۔ ایسے افراد معاشرتی ترقی اور امن کے لئے اہم ہوتے ہیں، اور ان کی صلاحیتوں کی قدر کی جانی چاہیے۔

ہر کام میں، مکمل وقت، سرمایہ، فرد اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انجام دینے والے کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے اور ان کو اپنی ماہریت پر فخر ہونا چاہئے۔ آج کے دور میں، ہر فن مولا بننے کی غیر ضروری کوشش کرنا اور دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے کی بجائے ، اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف افراد بلکہ پورے سماج اور انسانیت کو فائدہ پہنچتا ہے.

ہمارا سماجی المیہ یہ ہے کہ اپنے کام میں مہارت حاصل کرنے اور اس میں یکسوئی سے لگے رہنے کی بجائے دوسروں کے کاموں اور شعبوں میں گھس جاتے ہیں. جس کا لازمی نتیجہ نقصان کا ہوتا ہے.

بہت سے احباب لکھنا چاہتے ہیں. کالم نگار بننے کی خواہش ہوتی ہے. جب ان سے کہا جائے کہ مطالعہ کریں، کتابیں خریدیں اور بے تحاشا پڑھیں تو موت آنے لگتی ہے.
آدمی شوقیہ لکھاری تو نہیں بن سکتا. عشروں کی ریاضت و مشقت چاہیے ہوتی ہے. فل ٹائم دینا پڑتا ہے. گرمی سردی کا خیال نہیں کرنا پڑتا. بہر حال، انسان کو اپنے کام کی اچھی طرح تشخیص کرکے اس پر خوب اختصاص حاصل کرنا چاہیے. اگر زندہ رہنے اور کارآمد انسان بننے کی خواہش ہے تو کسی ایک چیز میں اختصاصی پوزیشن حاصل کریں.

 

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88863

ہندو مسلم سیاست میں بی جے پی کا خطرناک کھیل – تحریر: قادر خان یوسف زئی

Posted on

ہندو مسلم سیاست میں بی جے پی کا خطرناک کھیل – تحریر: قادر خان یوسف زئی

 

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے بنے ہوئے حالیہ انتخابی حکمت عملیوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کے نازک تانے بانے کو تباہی کا سامنا ہے۔ سیاسی فائدے کے لیے ہندو مسلم فالٹ لائنز کا استحصال کرنے والی سٹریٹجک پلے بک کے ساتھ، بی جے پی کے حربے بھارت کے متنوع اور جامع معاشرے کے وجود کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ انتخابی کامیابی کے لیے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پیدا کرکے، ہندو ازم کی سیاست کا فائدہ اٹھانے کا، بی جے پی کا طریقہ کار ڈھٹائی کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی بیان بازی، جو اکثر مسلم دشمنی میں فرقہ وارانہ لہجے سے لدی ہوتی ہے، مسلمانوں کو متنازع بنا کر کمیونٹیز کو پولرائز کرکے ہندو ووٹوں کے حصول مقصود ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈے نہ صرف سیکولرازم کے اصولوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ شہریوں میں عدم اعتماد اور دشمنی کے بیج بھی بوتے ہیں۔ اس تفرقہ انگیز حکمت عملی کی ایک حالیہ مثال بی جے پی کی جانب سے آبادی کے اعداد و شمار کا خوف اور شکوک پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ انتخابات سے عین قبل آبادی کے رجحانات پر روشنی ڈالنے والی رپورٹ کے اجراء کا وقت سیاسی جوڑ توڑ کا شکار ہے، جس کا مقصد ووٹروں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں بی جے پی کے ہندو قوم پرست ایجنڈے کی طرف لے جانا ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف سیاست اخلاقی طرز عمل کو نظر انداز بلکہ سیاسی مصلحت کے لیے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

بی جے پی کا تاریخی ٹریک ریکارڈ، خاص طور پر مسلمانوں کو پسماندگی کے حوالے سے، مودی کی موجودہ دور کی پالیسیوں پر ایک طویل تسلسل کے ساتھ مسلط کیا جارہا ہے۔ بابری مسجد کے متنازع انہدام سے لے کر پارٹی کے اندر اقتدار کے عہدوں سے مسلمانوں کو منظم طریقے سے خارج کرنے تک، بی جے پی کے اقدامات ثقافتی بالا دستی اور مذہبی امتیاز کی ایک پریشان کن تصویر پیش کرتے ہیں۔ ہندو قوم پرستی کے یہ مظاہر نہ صرف اقلیتی برادریوں کو الگ کررہے ہیں بلکہ خوف اور عدم تحفظ کی ثقافت کو بھی جنم دے چکے ہیں۔ داخلی اثرات سے ہٹ کر، بی جے پی کی تفرقہ انگیز سیاست بین الاقوامی سطح پر دوبارہ گونج رہی ہے، جس سے سیکولر اور تکثیری جمہوریت کے طور پر بھارت کی ساکھ خراب ہو چکی ہے۔ جمہوری اصولوں کا کٹائو، اختلاف رائے کو دبانا، اور سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہتھیار بنانا عالمی میدان میں جمہوریت کی روشنی کے طور پر بھارت کے موقف کو کمزور کر چکا ہے۔ مودی نے بھارت کی رہی سہی جمہوری اقدار کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ سول سوسائٹی بھی مودی کی فرقہ وارانہ بیان بازی سے پریشان ہے اور شمولیت اور رواداری کی اقدار کو برقرار نہ رکھے جانے پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ہندو توا کے متشدد بیانیہ کو روکنے میں ناکامی کا شکار نظر آتے ہیں، وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کس طرح مودی کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کریں۔ بین الاقوامی مبصرین کو بھارت میں جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔

ہندو مسلم منافرت کی سیاست کا بی جے پی کا خطرناک کھیل بھارت کی جمہوریت کی بنیاد کو ہی نقصان پہنچا چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حالیہ اقدامات اور بیان بازی نے بھارت میں جمہوریت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی حالت کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہندو مسلم سیاست کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی نہ صرف تفرقہ انگیز ہے بلکہ ملک کے سماجی تانے بانے اور جمہوری اقدار کے لیے بھی ایک اہم خطرہ ہے۔ مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کرکے ہندو مفادات کو آگے بڑھانے کی بی جے پی کی کوششیں مودی کی تقاریر اور پارٹی کی انتخابی مہم میں واضح نظر آتی ہیں۔ مودی کے اشتعال انگیز ریمارکس، مسلمانوں کو ’’در انداز‘‘ قرار دیتے ہوئے اور ان پر ہندوئوں کو بے گھر کرنے کے لیے زیادہ بچے پیدا کرنے کے الزام نے بڑے پیمانے پر مذہبی اقلیتوں میں تشویش کی لہر بڑھا چکے ہیں۔

وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی ایک رپورٹ کے اجرائی، جس میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ اور ہندو آبادی میں کمی کو نمایاں کیا گیا ہے، نے ووٹروں میں تنائو اور خوف کو مزید ہوا دی ہے۔ اس رپورٹ کا وقت، انتخابات سے عین قبل، اس کے ارادے اور بی جے پی کے آبادیاتی اعداد و شمار کو کمیونٹیز میں تقسیم اور خوف کے بیج بونے کے لیے استعمال کرنے کے مقاصد پر سوال اٹھایا ہے۔ مذہبی خطوط پر ووٹروں کو پولرائز کرنے، ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے اور نفرت انگیز تقریر میں ملوث ہونے کے بی جے پی کے ہتھکنڈوں نے سیکولرازم اور مساوات کے اصولوں کو ختم کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کو ہندو مخالف کے طور پر پیش کرنے اور سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی بی جے پی نے منافرت کی سیاست کو عروج دیا ہے۔ جس کی وجہ سے جمہوری عمل اور سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ بی جے پی کے اندر مسلمانوں کی نمائندگی کا فقدان اور مسلم یادگاروں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی پارٹی کی تاریخ، جیسا کہ بابری مسجد کی تباہی میں دیکھا گیا، ثقافتی ہم آہنگی اور مذہبی اقلیتوں کو خارج کرنے کے وسیع ایجنڈے کو اجاگر کرتا ہے۔ ہندو قوم پرستی کا عروج اور معاشرے کے مختلف پہلوئوں میں مسلمانوں کی پسماندگی مودی کی قیادت میں تیز ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی میں خوف اور امتیاز میں اضافہ ہوا ہے۔

بی جے پی کی تفرقہ انگیز سیاست اور مسلم مخالف بیان بازی نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ جمہوری اداروں کا کٹائو، اختلاف رائے کو خاموش کرانا، اور سیاسی فائدے کے لیے انتخابی عمل میں ہیرا پھیری ایسے خطرناک رجحانات ہیں جو بھارت کی جمہوریت کی بنیاد کے لیے خطرہ ہیں۔ ہندو مسلم سیاست میں بی جے پی کا خطرناک کھیل بھارت کی جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے واضح خطرہ ہے۔ سول سوسائٹی، اپوزیشن جماعتوں، اور بین الاقوامی مبصرین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان تفرقہ انگیز حربوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور بھارت میں تمام کمیونٹیز کے لیے شمولیت، رواداری اور احترام کو فروغ دینے کی سمت کام کریں۔ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف مسلسل نفرت اور تعصب پر اشتعال انگیز مہم نے خطے میں دو ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، جس کا واحد مقصد مودی کا انتخابات میں کامیابی ہر قیمت پر حاصل کرنا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامین
88791

داد بیداد ۔ بحرین کی عملی مجلس ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ بحرین کی عملی مجلس ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

سوات کا پُر فضا مقام بحرین جہاں سیا حت کے لئے شہر ت رکھتا ہے وہاں لسا نیا تی تنوع، رنگا رنگی اور علمی مجا لس کے لئے بھی مشہور ہے 11اور 12مئی 2024کو بحرین میں پہاڑوں کی گونج یا صدائے باز گشت ایک بلندپا یہ علمی مجلس اور مذاکرے کی صورت میں سنا ئی دی اگلے روز اخبارات میں اس کی رپورٹیں شائع ہوئیں سو شل اور الیکٹرا نک میڈیا میں اس علمی مذا کرے کا چر چاچل رہا ہے اور یہ چر چا بحرین سیمپوزیم کے نا م سے ہو رہا ہے بحرین سیمپو زیم کا عنوان شما لی پا کستان تھا جو خا موش، پرامن اور خو ب صو رت پا کستان ہے علم و ادب کا امین ہے گونا گوں ثقا فتی گلدستوں کا محا فظ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ اپنے دامن میں بے پنا ہ علمی اور ثقا فتی میراث رکھتا ہے بحرین سیمپوزیم میں چترال، دیر، سوات، کوہستان اور گلگت بلتستان کے نا مور ادیبوں، شاعروں اور محققین نے شر کت کی سیمینار کے پہلے روز شما لی پا کستان کی تہذیب و ثقا فت، ما ضی، حا ل اور مستقبل کے مختلف پہلووں پر جا مع پُر مغز اور بصیر ت افروز مقا لے پڑھے گئے،

 

دوسرے روز علمی اور ثقا فتی و سما جی مو ضو عات پر مبا حثوں کا اہتمام ہوا جن کو انگریزی میں پینل ڈسکشن (Panel Discussion)کہا جا تا ہے مقررین نے شمالی پا کستان، بلو ر اور دردستان کی تاریخ، تہذیب و ثقا فت اس کی شناحت، زبان و ادب اور مو سمیاتی تبدیلی کے جما لیا تی، بشریاتی اور سائنسی پہلووں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی، مندو بین میں پروفیسر ممتاز حسین، راز ول کوہستانی، ہدایت الرحمن، حا جی باقر، محمد زمان ساگر، امیر حیدر، عاشق فراز، افتاب احمد، اظہر علی، عمران خان آزاد، شمس الرحمن شمس، جا وید اقبال تور والی، زبیر توروالی، ڈاکٹر عاطف چوہدری، رحیم صابر، رحمان ہمدرد، سجاد احمد اور دیگر دانشور وں کی ایک کہکشان نظر آئی جس میں پہاڑوں کی خو شبو کے ساتھ لا ہور کی صدائیں بھی شامل تھیں بحرین سیمپو زیم کا اہتمام اپر سوات سے اُٹھنے والی سما جی اور علمی تنظیم یعنی ادارہ برائے تعلیم و تر قی (IBT) نے کیا تھا، انگریزی، اردو، پشتو اور توروالی زبانوں کے نا مور لکھا ری اخباری دنیا کی جا نی پہچانی شخصیت زبیر توروالی اس کے روح رواں ہیں آپ کی مادری زبان تور والی ہے، مادری زبان کے ساتھ گاوں میں گاوری اور پشتو روانی کیساتھ بولتے ہیں ملک کے دیگر حصوں میں جائیں یا یو رپ اور امریکا کے کسی شہر میں ہوں تو اردو اور انگریزی اس طرح بولتے ہیں کہ ان پر اہل زبان کا گما ن ہوتا ہے

 

ادارہ برائے تعلیم و تر قی کا قیا م 2007میں عمل میں آیا اس کا زیا دہ ترکام تور والی زبان کے ثقا فتی ورثے کے تحفظ پر ہے تور والی لغت، تور والی سکول، تور والی نصاب اور تور والی مو سیقی کے مٹتے ہوئے ورثے کا احیا اس کے کاموں میں اولیت رکھتے ہیں جب تور والی زبان پر کام شروع ہوا تو شما لی پا کستان کی دیگر زبانوں پر بھی کام کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اس طرح دیر، کوہستان، گلگت بلتستان اور چترال کے ادیبوں اور شاعروں، فنکا روں کے ساتھ روابط قائم ہوئے اور شما ل کے پہا ڑی علا قوں میں بو لی جا نے والی دیگر زبانوں مثلاً شینا، بروشسکی، بلتی، کھوار، گاوری، کوہستانی وغیرہ کے نامور دانشوروں اور فنکا روں کا وسیع حلقہ قائم ہوا یوں ادارہ برائے تعلیم و تر قی ایک ایسی تنظیم کے طور پر سامنے آئی جو گندھا را ہند کو بورڈ پشاور کے بعد مختلف زبانوں کے لکھنے والوں کے لئے ایک چھت کے نیچے مل بیٹھنے کا دوسرا ذریعہ بن گئی بحرین سیمپوزیم کی اہم پیش رفت یہ ہے کہ تہذیبی اور ثقا فتی ور ثے کے ساتھ ساتھ ما حو لیا تی ور ثے کو بھی تحفظ دینے اور مو سمیا تی تغیر کے نقصان دہ اثرات کا مقا بلہ کرنے کے لئے نا درن پا کستان ریسرچ اینڈ ڈیو لپمنٹ فورم کا قیا م عمل میں لا یا گیا جو وسیع تر تنا ظر میں کام کرنے کے قابل ہو گا، بحرین سیمپوزیم کے دوران پڑھے گئے مقا لا ت کو مقررین کی تفصیلی اراء اور فورم کی قرار دادوں کے ساتھ اردو میں شائع کیا جا ئے گا اور یہ روداد IBTکے علمی مجلہ سر بلند کا ضخیم شما رہ ہو گا، بحرین کی علمی مجلس ہمیں علا مہ اقبال کے کلا م میں مر دکوہستانی کی یا د دلا تی ہے گویا فطرت کے مقا صد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88783

 ہاکی اور آوارہ کتے –   میری بات:روہیل اکبر

Posted on

 ہاکی اور آوارہ کتے –   میری بات:روہیل اکبر

ہماری ہاکی ٹیم جن مشکلات اور مصائب سے نکل کر آج جس مقام پر کھڑ ی ہے اس میں بلاشبہ ہمارے ان ہیروز کا کردار ہے جنہوں نے اسکی بہتری کے لیے کام کیے لیکن بدقسمتی سے آج بھی ہاکی کے اندر سیاست کو گھسیٹا جارہا ہے ہاکی جو ہمارا قومی کھیل ہے جس میں ہم نے ناقابل تسخیر کارنامے سرانجام دے رکھے ہیں ہماری ہاکی ٹیم دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان رکھتی تھی پاکستان کی قومی  ٹیم نے 1948 میں اپنا پہلا میچ کھیلا تھا جسکے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF)  انتظام عمل میں لایا گیا جو پاکستان میں ہاکی کی گورننگ باڈی بھی ہے جو 1948 سے ہی انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) کا رکن ہے اور 1958 میں قائم ہونے والی ایشین ہاکی فیڈریشن (ASHF) کا بانی رکن ہے  پاکستان دنیا کی کامیاب ترین قومی  ہاکی ٹیموں میں سے ایک تھی جس نے ریکارڈ چار ہاکی ورلڈ کپ جیتے ہیں (1971، 1978، 1982 اور 1994 میں) پاکستان ہاکی ٹیم  ایشین گیمز میں بھی سب سے کامیاب ٹیم تھی جنہوں نے آٹھ طلائی تمغے حاصل کررکھے ہیں (1958، 1962، 1970، 1974، 1978، 1982، 1990، اور 2010)  پاکستانی ہاکی ٹیم  واحد ایشیائی ٹیم تھی جس نے تین بار  چیمپئنز ٹرافی جیتی ہے(1978، 1980 اور 1994) پاکستان نے کل 29 آفیشل انٹرنیشنل میچ جیتے ہیں  اولمپک گیمز میں بھی ہاکی ٹورنامنٹس میں تین طلائی تمغے جیت چکے ہیں (روم 1960، میکسیکو سٹی 1968، اور لاس اینجلس 1984)  پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کو FIH نے 2000 اور 2001   میں دنیا کی نمبر 1 ٹیم  کا درجہ دیاتھا  بین الاقوامی ہاکی کی تاریخ میں کسی کھلاڑی کی جانب سے سب سے زیادہ بین الاقوامی گول کرنے کا عالمی ریکارڈ سابق کپتان سہیل عباس کے پاس ہے جبکہ وسیم احمد ٹیم کے لیے سب سے زیادہ کیپ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں جنہوں نے 1996 سے 2013 کے درمیان 410 بار کھیلا ہے

 

ہاکی کے دلچسپ ترین مقابلوں میں پاک بھارت ٹاکرا ہوا کرتا تھا یہ میچ کم اور جنگ کا ماحول زیادہ لگتا تھا دونوں ٹیمیں ساؤتھ ایشین گیمز اور ایشین گیمز کے فائنل میں ایک دوسرے کے خلاف 20  بار مدمقابل آئی ہوئی ہیں جن میں سے پاکستان نے مجموعی طور پر 13 ٹائٹل جیتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ہاکی ایشیا کپ کی پہلی تین چیمپئن شپ 1982، 1985 اور 1989 میں بھارت کے خلاف لگاتار جیتنے کا ریکارڈ بھی ہے  اس کے علاوہ پاکستان، نیدرلینڈز اور آسٹریلیا کے ساتھ میچ دیکھنے والے ہوتے تھے جب ہماری ہاکی کا اغاز ہوا تب ہمارے پاس وسائل بھی محدود ہوا کرتے تھے لیکن اس وقت اقتدار شاہ دارا جیسے لوگ موجود تھے جن کی قیادت میں ہم نے بیلجیم کے خلاف 1948 کے لندن اولمپکس میں 2-1 سے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ جیتا   جسکے بعدپاکستان ہالینڈ، ڈنمارک اور فرانس کو شکست دے کر ناقابل شکست جبکہ پاکستان کی ہالینڈ کو 6-1 سے شکست ٹیم کے لیے خاص بات تھی اولمپکس کے بعد پاکستان یورپ کے دورے پر گیا جہاں بیلجیئم، ہالینڈ اور اٹلی سے میچ ہوئے اور ہم پھر بھی ناقابل شکست رہے

 

ٹیم کا اگلا بین الاقوامی دورہ دو سال کے وقفے کے بعد ہوا جب پاکستان نے 1950 میں اسپین میں ہونے والے دعوتی مقابلے میں حصہ لیا فائنل ڈرا پر ختم ہونے کے بعد پاکستان کو ہالینڈ کے ساتھ فاتح قرار دیا گیا یہ پاکستان کی پہلی بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں فتح تھی دو سال کے وقفہ تھا 1952 کے اولمپکس مقابلوں میں پاکستان نے فرانس کے خلاف پہلا ناک آؤٹ میچ 6-0 سے جیت لیا لیکن ہالینڈ اور برطانیہ سے ہار کر ایونٹ میں دوبارہ چوتھی پوزیشن حاصل کی ان چار سالوں میں پاکستان نے یورپی ممالک کے دورے بھی اور دوسرے ممالک کی ٹیموں کی میزبانی بھی کی لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہماری تمام فیڈریشنوں میں سیاسی تعیناتیاں ہونے لگی سب سے پہلے ہم نے ہاکی کو ختم کیا اسکے بعد فٹ بال بھی ختم کی بلکہ فٹ بال نے تو انٹرنیشنل سطح پر ہماری بدنامی بھی کی کروائی جبکہ ہاکی فیڈریشن والوں کا صبح کے وقت ایک سیکریٹری ہوتا تھا تو شام کو دوسرا سیکریٹری بن جاتا تھا ابھی پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نے صدر کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے شہلا رضا ء کو ہاکی فیڈریشن کا صدر بنا دیا جبکہ ان سے پہلے ہمارے نگران وزیر اعظم اپنے بھائی کو اسی عہدہ پر براجمان کرواچکے تھے

 

دو سیاسی گروپوں کی لڑائی میں سیکریٹری مجاہد رانا جو خود بھی ہاکی کے اچھے کھلاڑی رہے ہیں ہاکی بال کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتے رہے ایسی ہی سیاسی لڑائیوں میں جہاں ہماری دوسری کھیلیں برباد ہوئی وہیں پر ہماری ہاکی بھی آوارہ ہوگئی آوارہ سے یاد آیا آجکل کراچی کے شہری آوارہ کتوں سے بہت تنگ ہیں ویسے تو ملک بھر میں آوارہ کتوں کی بھر مار ہے لیکن سندھ میں کچھ زیادہ ہی ہیں جہاں ا ن کتوں کے کاٹے کی ویکسین بھی نہیں ہے اور لوگ دوائی نہ  ہونے کے سبب موت کے منہ میں جارہے ہیں صرف ایک دن میں روشنیوں کے شہر کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، عزیز آباد اور ناظم آباد میں سگ گزیدگی کے درجنوں واقعات پیش آئے ہیں اس پر نہ تو وہاں کی مقامی حکومت دلچسپی لے رہی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت شہری آوارہ کتوں کے ہاتھوں پریشان ہیں جو گلی محلوں، بس اسٹاپ حتیٰ کہ ہسپتالوں کے باہر بھی ٹولیوں کی شکل میں منڈلاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھر اچانک شہریوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں روزانہ درجنوں کی تعداد میں کتوں کے کاٹنے سے زخمی ہونے والوں کو مختلف ہسپتالوں میں لایا جاتا ہے جن میں سے اکثر سگ گزیدگی کے شکار افراد کو بروقت ویکسین نہ ملنے سے اموات بھی ہوجاتی ہیں

 

کراچی شہر کی کچی آبادیوں میں پوش علاقوں کی نسبت گلیوں کے باسی آوارہ کتوں سے متاثرہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ پورے سندھ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے اسی طرح لاہور میں بھی آوارہ کتوں کی بھر مار ہے لیکن اتنے نہیں ہیں جتنے کراچی میں پائے جاتے ہیں کیونکہ لاہور میں 2009 میں کتا مار مہم شروع کی گئی تو اس وقت شہر میں 27,576 کتے مارے گئے، 2005 میں یہ تعداد 34,942 تھی اسی طرح  2012 میں ملتان شہر میں 900 کتوں کو مارا گیا تھا یہ آوارہ کتے غریب لوگوں کو ہی کاٹتے ہیں امیرلوگوں کی گاڑی کے ساتھ تھوڑی دور تک بھاگتے اور بھونکتے ہیں جب وہ نکل جاتے ہیں تو پھرانکا غصہ بھی غریب لوگوں پر ہی اترتا ہے۔بات ہاکی کی ہو رہی تھی اور درمیان میں آوارہ کتے آگئے آخر میں حکومت سے درخواست ہے کہ وہ ہاکی فیڈریشن میں ہونے والی لڑائی جھگڑے کا سیاسی حل نکالنے کی بجائے میرٹ پر یہ فیڈریشن ہاکی کے سابق کھلاڑیوں کے حوالے کردے اور اسکے ساتھ ساتھ اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کے باوجود قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں ڈیلی الانس سے محروم ہیں ہر میچ کے بعد ڈیلی الانس دینے کی تسلی دی جاتی رہی لیکن رقم ادا نہ کی گئی فائنل میچ سے پہلے ڈیلی الانس کی ادائیگی کا وعدہ بھی کیا گیا لیکن فائنل کے بعد بھی تاحال کھلاڑیوں کو کچھ نہیں ملا  اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کو شاپنگ کیلئے بھی پیسے نہیں دیئے گئے ایشین گیمز، ایشین جونیئر ہاکی کپ اور ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کے ڈیلی الانس بھی تاحال ادا نہیں کئے گئے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88748

گوہرآباد: مسائلِستان پر مشتمل تاریخی وادی – خاطرات :امیرجان حقانی 

گوہرآباد: مسائلِستان پر مشتمل تاریخی وادی – خاطرات :امیرجان حقانی

گوہرآباد، گلگت بلتستان کا ایک دلکش اور تاریخی گاؤں ہے، جس کا وجود بارہ سو سال سے قائم ہے۔ کچھ روایات کے مطابق تین ہزار سال سے قائم ہے.قدیم زمانے میں یہ گاؤں تین قلعہ بند آبادیوں، لسنوٹ، ڈبوٹ، اور کھرتلوٹ پر مشتمل تھا.قدیم زمانے میں اکثریتی آبادی یہی قلعہ بند آبادیوں مقیم تھی. جہاں اب بھی قدیم رہائشی مکانات موجود ہیں جو علاقے کے تاریخی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ گوہرآباد اپنی پرانی تہذیب، قدیم رسم و رواج اور بھرپور ثقافت، قدرتی خوبصورتی، زرخیز زمینوں، جنگلات اور چراگاہوں سے جانا جاتا ہے.
اب گوہرآباد کی موجودہ کیفیت بدل گئی ہے.اس گاؤں کا رقبہ اراضی بہت طویل ہے۔ گیس پائن،گیس بالا، دونوں رائیکوٹ، تھلیچی پر مشتمل ہے۔  فیری میڈوز جیسی معروف اور خوبصورت جگہ بھی گوہرآباد کے حصہ میں آئی ہے۔ اور نانگا پربت بھی اسی گوہرآباد میں ہے.
گوہر آباد کے لوگ ملنسار، تعلیم یافتہ، مہذب اور مہمان نواز ہیں۔ شادی بیاہ بہت سہل ہے۔ لوگ دیندار اور صلح جو ہیں۔ قدیم زمانے میں اجتماعی شادیاں ہوتی تھیں جن کا اپنا ایک لطف ہوتا تھا. سماج نے طے کر رکھا تھا کہ انفرادی کوئی شادی نہیں ہوگی. شاید یہ رسم 1960 تک باقاعدہ چلتی رہی. دعوت ولیمہ وغیرہ سب ساتھ ہوتا تھا. اب بھی ایک ساتھ شادیوں کا رواج ہے تاہم پہلے کی طرح نہیں. کسی ایک دن شادی کی تاریخ  طے کرکے درجن دو درجن شادیاں ساتھ ہوتی ہیں مگر ولیمہ اور دیگر رسوم انفرادی ہوتے ہیں. پہلے کی اجتماعی شادیوں میں ہر چیز اجتماعی ہوتا تھا.
ان سماجی اقدار کا ذکر آج بھی بڑے بوڑھے شاندار انداز میں کرتے ہیں. گوہرآباد کا جرگہ سسٹم صدیوں سے رائج ہے. کسی زمانے میں پورے گلگت بلتستان کے لئے آئیڈیل جرگہ سسٹم تھا، زمانے کے تفاوت نے اس سسٹم کو تہہ و بالا کر دیا ہے تاہم آج بھی جرگہ سسٹم اور نمبرداری کا وجود نہ صرف باقی ہے بلکہ بڑے بڑے مسائل حل کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کررہا ہے.
گوہرآباد میں آبشاروں، چشموں اور گلیشئرز کا شفاف پانی وافر مقدار میں ہے مگر نہری نظام نہ ہونے کی وجہ سے وسیع اراضی بنجر پڑی ہوئی ہے اور فصلیں قلت آب کا شکار ہیں.
تاریخی اور ثقافتی ورثہ:
گوہرآباد کا تاریخی ورثہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں موجود قلعے، جو “شکارے” کہلاتے ہیں، تین منزلہ عمارتیں ہیں جن کی تعمیر میں لکڑی اور چھوٹے پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ کئی صدیاں گزرنے کے بعد، آج بھی یہ قلعے سالم ہیں. اسی طرح قدیم زمانے کی بنائی ہوئی کچھ قبریں بھی تعمیراتی شاہکار ہیں. تعمیراتی لکڑیوں سے بنی ان قبروں کی عمارتیں شاندار کارنگ کا مظہر ہیں. یہ زیارتیں اور  قلعے  گوہرآباد کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں اور اسے علاقے کے دیگر ثقافتی ورثے سے ممتاز بناتے ہیں۔ ان قلعوں کا تحفظ اور دستاویزی کام ان کے معدوم ہونے سے بچا سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے تاریخی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سرکاری ادارے اس عظیم ورثہ کو بچانے کے لیے متحرک نہیں.
گوہرآباد کا عجوبہ ہپرنگ :
گوہرآباد میں “ہپرنگ” نامی ایک عجوبہ بھی ہے، جس کے بارے میں بہت سی کہانیاں، اسطوراۃ اور روایات موجود ہیں۔ یہ ایک بڑی کھوہ ہے، جسے مقامی لوگ جنات اور پریوں کے مسکن کے طور پر جانتے ہیں. ہپرنگ سے متعلق کئی دیومالائی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ ہپرنگ کا پانی دریائے سندھ میں جا گرتا ہے، اور اگر اسے سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دی جائے، تو یہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ گوہرآباد کی چراگاہوں تک اگر روڈ بنایا جائے تو یہاں کی خوبصورتی دنیا کے سامنے آجائے. پیدل چل کر ان حسین مناظر اور قدرتی رعنائیوں تک پہنچنا مشکل ہے. ہوائی جہاز کے سفر میں ان کا کچھ نظارہ ہوجاتا ہے.
 قدرتی وسائل اور جنگلات: 
پورے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ جنگلات گوہرآباد میں پائے جاتے ہیں، جن میں کائل،فر،چیڑھ،دیار،بنئی،کاؤ، صنوبر، مورپنگ، اور قسم ہائے قسم درخت وافر مقدارمیں موجود ہیں۔ کئی اقسام کی جڑی بوٹیاں بھی وافر پائی جاتی ہیں.
گوہرآباد میں جنگلات کا وسیع رقبہ ہے. ان جنگلات میں برفانی ریچھ، مارخور، ہرن، شاہین، چکور، بٹیر، خرگوش، بھیڑیا، لومڑی، برفانی چیتا اور دیگر جنگلی حیات کی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان جنگلات کا تحفظ اور مناسب طریقے سے استعمال علاقے کی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔پورے گوہرآباد میں اب تک جنگل اور جنگلی حیات کا تحفظ موجود نہیں. جنگلات کی کٹائی اور جنگلی جانوروں کا شکار بغیر کسی رکاوٹ کے کیا جاتا ہے.
گوہرآباد کی زمین زرخیز ہے اور یہاں گندم، جو، مکئی، آلو، پیاز، اور دیگر فصلیں بڑی مقدار میں اگائی جاتی ہیں۔ گوہرآباد میں چلغوزے کے درخت بھی وافر مقدار میں موجود ہیں، جو علاقے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مال مویشی بھی یہاں کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہیں. گوہرآباد کی معیشت میں اہلیان گوہرآباد کا بڑی سرکاری پوسٹوں اور عمومی سرکاری ملازم ہونا بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے. گوہرآباد کے لوگوں بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اس لئے نوکری پسند ہیں. کاروبار کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے.
گوہرآباد کی چراگاہیں :
گوہرآباد کی درجنوں بڑی چراگاہیں موسم گرما میں جانوروں سے بھر جاتی ہیں۔ گوہرآباد کی مشہور چراگاہوں میں مارتل، کھلیمئی ، سگھر،بھری، چھُلو ، ہُومل، سلومن بھوری ، مطیرا، دساہ ، چانگھا، دروگاہ، ملپٹ ، جبار دار، مٹھاٹ اور تتو شامل ہیں جہاں موسم سرما میں لاکھوں مال مویشاں چرتے ہیں۔ اور جنگلی حیات کا بہتات ہے.
 سیاحت کی امکانات: 
گوہرآباد میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ “فیری میڈوز ” نانگا پربت، اور “ہپرنگ” جیسے مقامات بین الاقوامی سیاحتی دلچسپی کے مراکز بن سکتے ہیں۔ اگر ان مقامات کو بہتر طریقے سے ترقی دی جائے اور سیاحتی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جائے، تو یہ علاقے کی معیشت کو بڑھا سکتے ہیں۔ گوہرآباد کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی ورثہ سیاحوں کے لئے بڑی کشش کا باعث بن سکتا ہے۔ فیری میڈوز اور نانگا پربت میں سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے تاہم سینٹرل گوہرآباد آج بھی ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ سے یکسر محروم ہے.
گوہرآباد کے سینکڑوں مسائل ہیں، تاہم مختصراً کچھ مسائل ذکر کیے دیتا ہوں.
نظام آب پاشی:
سینٹرل گوہرآباد میں پانی کی بہت زیادہ کمی ہے، جس سے زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں. کئے عشرے پہلے پانی کا ایک کول/ نہر بنایا گیا تھا جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے. دہگر نالوں میں پانی وافر مقدار میں ہے مگر نظام آب پاشی صدیوں پرانا ہے. نہری سسٹم نہیں بنایا گیا ہے. جس کی وجہ سے پانی ضائع جاتا ہے اور زمینیں بنجر پڑی رہتی ہیں.
برابری کے مالکانہ حقوق :
 کچھ قبائل اور برادریاں اقلیت میں ہیں. ان کو برابری کے مالکانہ حقوق میسر نہیں. یہ ایک اہم مسئلہ ہے، جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تعلیمی مسائل :
تعلیمی مسائل بہت پیچیدہ ہیں. عشرہ پہلے ڈرنگ داس میں کالج منظور ہوا تھا جو بعد میں ہائی سیکنڈری سکول میں تبدیل کرکے ہائی سکول گوہرآباد کے ساتھ بلڈنگ بنا دی گئی مگر اب تک نظام نہیں چلایا جاسکا. پرائیویٹ سکول سسٹم بھی ناپید ہے. رائیکوٹ اور تھلیچی میں بھی سرکاری سکول سسٹم بربادی کا شکار ہے.
وادی گوہرآباد میں انفراسٹرکچر کے مسائل کی فہرست درج ذیل ہے:
سڑکیں اور پل:
روڈ کی بناوٹ اور مواصلات کی سہولتوں میں کمی وادی گوہرآباد کا اہم مسئلہ ہے۔ عالمی سیاحتی پوائنٹ فیری میڈوز کا روڈ بھی خستگی کا شکار ہے جب بھی ٹوٹ جاتا ہے یا بارشوں کا نذر ہوتا ہے تو مقامی لوگ اپنی مدد آپ بناتے ہیں. دیگر نالوں میں بھی صورتحال بہت افسوسناک ہے.
گوہرآباد کا مرکزی پل موت کا کنواں بنا ہوا ہے. گیس کا پل بھی خستہ ہے. وادی کے درمیان کئی چھوٹے چھوٹے پل ہیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں.
شعبہ صحت :
صحت کی سہولتوں کی کمی، اور معیاری صحت کی خدمات کی عدم فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سینٹرل گوہرآباد کا دس بیڈ ہسپتال بھی چیخ چیخ کر محکمہ صحت کو پکار رہا ہے. باقی ویٹرنری ہسپتال بھی خانہ پوری کہ حد تک موجود ہے.
بجلی: بجلی بھی ایک سنگین ایشو بن چکا ہے.
گوہرآباد کے جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ بھی ضروری ہے. ٹمبر مافیا کی وجہ سے علاقے کے جنگلات کو نقصان پہنچا ہے۔ سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیمیں اور سماجی و ثقافتی این جی اوز بھی ان مذکورہ مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ میڈیا میں بھی شعوری مہم کا آغاز کیا جاسکتا ہے.
خلاصہ کلام :
گوہرآباد، اپنی تاریخی اہمیت، ثقافتی ورثے اور قدرتی خوبصورتی کے باوجود، بنیادی سہولیات کی کمی اور دیگر مسائل کا شکار ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر گوہرآباد کے تاریخی ورثے اور قدرتی وسائل کو محفوظ بنایا جائے اور سیاحتی امکانات کو بڑھایا جائے، تو یہ علاقے کی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 1
chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 2
chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 7
chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 6

chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 3 chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 4 chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 5

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88734

چترال اور خودکشی  – تحریر: انوار الحق

چترال اور خودکشی  – تحریر: انوار الحق

ویسے تو چترال میں بڑے مسئلے مسائل ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو چترال کا سب سے بڑا مسئلہ خصوصاً نوجوان نسل میں دن بدن بڑھتی ہوئی خود کشی کی تناسب کا ہے۔گزشتہ روز ہمارے گاؤں میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شریف النفس نوجوان نے اپنی جان لے کر خود کو اس بے رحم دنیا سے آزاد کر دیا۔اس واقعے نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کر دیا۔خود کشی کرنے کی بہت سے وجوہات ہو سکتے ہیں لیکن جو چیز سب سے زیادہ مجھے نظر آتی ہے وہ میں یہاں پر آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کی کوشش کروں گا۔

بحیثیت مسلمان یہ ہمارا ایمان اور یقین ہے کہ اللہ تعالی ہر وقت ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔یقین جانیے کہ یہ ایمان انسان کو مشکل سے مشکل وقت میں بھی سہارا دیتا ہے۔انسان انتہائی مایوسی کے عالم میں جب یہ سوچتا ہے کہ اللہ تعالی میرے ساتھ ہے اور یہ برا وقت گزر جائے گا تو وہ اس امید کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے میرے لیے کچھ بہتر ہی سوچا ہوگا۔اللہ تعالی اپنے کلام مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ”کسی بھی نفس پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا”۔

میرے بھائیوں اور بہنوں! ہمارے نوجوان نسل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے پروردگار کے ساتھ connected نہیں ہیں۔ہمارے نوجوان نسل میں دین اسلام سے دوری،اللہ تعالی کے ساتھ تعلقات میں کمزوری اور قران مجید کی تلاوت سے نہ آشنا ہونا عام سی بات ہو گئی ہے۔ یقین جانیے یہ ساری وہ چیزیں ہیں جن میں یہ طاقت موجود ہے کہ یہ انسان کو کسی بھی مایوسی اور ذہنی ڈپریشن سے باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جب بھی انسان کسی بھی مشکل حالات سے گزر رہا ہوتا ہے چاہے وہ مالی اعتبار سے ہو،ذہنی اذیت کے اعتبار سے ہو یا پھر معاشرتی برائیوں کے اعتبار سے ہو، انسان کو جب یہ یقین ہوتا ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس مشکل وقت سے نکال لے گا تو یہ یقین اسے کسی بھی جذباتی فیصلے تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ انسان اپنے اس پختہ یقین کے ساتھ کوہ ہمالیہ سے بھی لڑ جاتا ہے۔جب یہ امید اور یقین انسان کے اندر پختہ ہوجاے تو کمزور سے کمزور انسان بھی مشکل وقت میں فولاد بن کے سامنے آتا ہے۔

یہاں میں ایک چیز کی آپکو یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ دنیاوی اسباب کا ہونا، دنیاوی آسایشات کا میسر ہونا اپنی جگہ لیکن وہ کبھی بھی ہمارے ذہنی سکون اور خوشی سے بھری زندگی کا ضامن نہیں ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا تو سویزرلینڈ کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔اس ملک سے زیاده خوشحال ملک دنیا میں موجود نہیں،دنیا کی ہر قسم کی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی، بہترین تعلیمی نظام،سب سے بہترین صحت کا نظام،عوام كو ہر قسم کی آزادی،ملک میں روزگار کا کمی نہیں، دولت سے مالامال ملک ہے لیکن سب سے زیاده خودکشی یہاں کے لوگ کرتے ہیں۔وہاں کی سركار نے لوگوں کی تکلیف کو کم کرنے لے لیے ایسی مشین بنائی ہے جس کے اندر بیٹھ کر آپ آرام سے اپنی جان لے سکتے ہیں۔یہاں پر خود سوچ لیں کہ سب کچھ ہونے کے باوجود وہ لوگ کیوں اس راستے کی طرف جاتے ہیں۔میرے خیال سے ان لوگوں کو قلبی سکون میسّر نہیں ہے جو کہ صرف دین اسلام اور اللّه کے ساتھ بہترین تعلق ہونے کی صورت میں ممکن ہے۔

اس بات کے ساتھ اپنی بات کو ختم کرتے ہیں کہ نوجوان نسل اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق كو بہتر بنائے،دین اسلام کے ساتھ قربت اختیار کرے اور پھر دیکھیں کہ مشکلات کے اندھیروں میں یہ یقین کیسے آپکے لیے روشنی کے مانند کام کرتا ہے،نا امیدی اور سخت حالات کے جنگ میں کیسے یہ ایمان آپ کے لئے سب سے بڑا ہتھیار بنتا ہے۔
“جب بھی ایسا کوئی خیال ذھن میں پیدا ہوجاے تو یہ سوچ لی جئے گا کہ ہمارے پروردگار نے ہمیں انسانوں کے اتنے بڑے ہجوم میں ایک مسلمان خاندان میں پیدا کیا اور اپنے سب سے پیارے حبیب حضرت محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی امّت میں پیدا کیا” یہ بات اگر ہمارے دل میں اتر جائے تو ہم کسی بھی حالات سے لڑ سکتے ہیں اور شکست بھی دے سکتے ہیں لیکن کبھی بھی خودکشی جیسے جذباتی فیصلے کی طرف نہیں جایئں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے۔۔۔
آمین
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88691

داد بیداد ۔ ترمیم در تر میم ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ ترمیم در تر میم ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

لو کل گور نمنٹ ایکٹ 2001میں ترمیم کر کے 2013کا ایکٹ لا یا گیا اس میں تر میم کر کے 2022کا ایکٹ لا یا گیا اس میں تر میم کر کے 2024کا ایکٹ لا نے کی منظوری دی گئی ہے تا کہ آنے والے بجٹ میں بلدیا تی اداروں کو فنڈ جاری کرنے کا اختیار محکمۂ خزانہ کو مل سکے یہ اختیار 2022والی ترمیم میں واپس لیا گیا تھا بلدیا تی اداروں کو فنڈ جار ی کرنا بہت اچھا کام ہے اس کو یقینا سرا ہا جا ئیگا اور اس کی تعریف و تحسین ہو گی اخبار بین حلقوں کو حیرت اس بات پر ہو تی ہے کہ کسی قانون یا ایکٹ میں اتنی آسانی سے باربار ترمیم کیوں ہو تی ہے اور کیسے ہو تی ہے بر طا نیہ میں کوئی لکھا ہوا آئین نہیں ہے آئین کی کوئی کتاب نہیں ہے کوئی دستخط شدہ ایکٹ یا قانون نہیں ہے روا یات پر مبنی زبا نی آئین ہے وہ لو گ اپنی ضرورت کے لئے اس میں تبدیلی نہیں لا تے بلکہ اپنی ضروریات اور خوا ہشات کو اُس غیر مرئی، غیر تحریری بلا دسخط قانون کے تا بع کر تے ہیں آئین اور قانون کو نہیں بدلتے اپنے آپ کو بد لتے ہیں ہم اپنے آپ کو آئین اور قانون یا ایکٹ کے تا بع کر نے کے بجا ئے فوراً ایکٹ میں تبدیلی لا کر اپنی خوا ہش پوری کر تے ہیں،

 

چنا نچہ 2013میں لو کل گورنمنٹ ایکٹ کو اپنی سہو لت کے لئے بدل دیا گیا پھر 2022میں حکمرانوں کو خیا ل آیا کہ اس قانون میں ویلج کونسل، نیبر ہڈ کونسل، تحصیل کونسل، سٹی کونسل اور ٹاون کونسل کو فنڈ جا ری کرنے کا ذکر ہے ان کونسلوں کو کسی قسم کا فنڈ نہیں دینا چاہئیے اس کا علا ج یہ ہے کہ ایکٹ میں تر میم کی جا ئے تا کہ نہ رہے با نس نہ بجے بانسری اگر مو جودہ حکومت کو ترمیم واپس لینے کے لئے ایک اور تر میم کا خیال نہ آتا تو بلدیا تی ادارے آنے والے ما لی سال کے دوران بھی پچھلے دو ما لی سالوں کی طرح تر قیا تی وسائل اور عوام کے جا ئز قانونی اور آئینی حق سے محروم ہو تے اس ترمیم کو واپس لینے کے پس منظر میں بلدیا تی اداروں کے منتخب نا ظمین، چیئرمینوں اور میئروں کی انتھک محنت، جدو جہد اور مسلسل دو سالوں کے زبر دست احتجا ج کا بڑا ہا تھ ہے یہ بھی ایک غلط روا یت قائم ہو چکی ہے کہ لو گوں سے ان کے جا ئز اور قانونی حقوق چھین کر ان کو ہڑ تا ل، احتجاج اور تا لہ بندی پر مجبور کرو، معمولی شور شرابے پر کان نہ دھرو، یہاں تک کہ بڑی بد امنی اور تا لہ بندی کی نو بت آجا ئے تو حر کت میں آجا ؤ اور عوام کا حق ان کو واپس کرنے پر غور کرو،

 

یہ بری عادت اب پکی ہو چکی ہے، میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ملا زمین کو چھ مہینوں تک تنخوا ہیں نہیں دی جا تیں، وہ درخواست بھیجتے ہیں، درخواست کوئی نہیں پڑھتا، وہ پریس کانفرنس کر تے ہیں اخباری تراشے کوئی نہیں پڑھتا وہ احتجاج کی تاریخ دے دیتے ہیں کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی آخر تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ٹی ایم اے کا عملہ صفائی ہڑ تال پر جا تا ہے ایک ہفتہ، دو ہفتے، تین ہفتے، چار ہفتے گذر جا تے ہیں کسی کو ہڑ تالی ملا زمین کے مطا لبات سننے یا پڑھنے کی تو فیق نہیں ہو تی جب شہر کی گلیاں کچرے کے ڈھیر میں بدل جا تی ہیں تو حکومت حر کت میں آتی ہے مقا می انتظا میہ سے رپورٹ ما نگتی ہے اور ملا زمین کی تنخوا ہ اداکرنے کے لئے فنڈ جا ری کر تی ہے، حا لانکہ رولز آف بزنس یا ایس او پیز کے مطا بق ڈپٹی کمشنر کی پہلی رپورٹ پر عمل ہو نا چا ہئیے تھا یہ بات بھی منظر عام پر آجا تی ہے کہ اعلیٰ حکام میونسپلٹی کے عملہ صفائی کو عدالت سے حکم لا نے کا مشورہ دیتے ہیں تا کہ عدالتی حکم کا بہا نہ بنا کر فنڈ جا ری کیا جا سکے،

 

اعلیٰ حکام کو اچھی طرح علم ہو تا ہے کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا نے کے لئے لا کھوں روپے درکار ہو تے ہیں عملہ صفا ئی عدالت کے اخرا جا ت کس طرح بر داشت کر سکتا ہے نیز ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ عدالتی کا روائی میں کم از کم دو سال لگینگے اور جن غریب ملا زمین کی تنخوا ہیں 6مہینوں سے بند ہیں وہ عدالت سے حکم ہر گز نہیں لا سکتے یہ شکر کا مقام ہے کہ منتخب حکومت کو بلدیا تی اداروں کی ما لی مشکلات دور کرنے کی ضرورت کا احساس ہو گیا ہے یہ مسئلہ کا بینہ میں پیش کیا گیا، کا بینہ نے 2022والی تر میم واپس لینے کی منظوری دیدی اب نئے ما لی سال کے بجٹ میں بلدیاتی اداروں کو 2001کے لو کل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت با قاعدہ فنڈ جا ری کرنے کی راہ ہموار ہو جائیگی بجٹ آنے تک تر میم بھی واپس لی جائیگی آئیندہ سال کے بجٹ میں بلدیات کو تر قیا تی فنڈ بھی ملینگے آئیندہ لو کل کونسلوں کے عملہ صفائی کو اپنی تنخوا ہوں کے لئے ہڑ تال کرنے کی نو بت نہیں آئیگی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88647

اقتصادی تعاون پاک، سعودیہ اتحاد کا سنگ بنیاد – تحریر : قادر خان یوسف زئی

Posted on

اقتصادی تعاون پاک، سعودیہ اتحاد کا سنگ بنیاد – تحریر : قادر خان یوسف زئی

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی مصروفیات میں حالیہ اضافہ ایک اہم موڑ کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ اعلیٰ سطح کے سعودی وفود کے دورہ پاکستان اور پاکستانی اعلیٰ عہدیداروں ، جن میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقاتیں، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور ان کے وفد کے ساتھ مذاکرات، ان رابطوں کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ تبادلے دونوں ملکوں کے درمیان گہرے تعلقات کو اجاگر کرتے ہیں، جن کی تاریخی، مذہبی اور اقتصادی بنیادیں ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ تعلقات کی نوعیت تاریخی بنیادوں پر استوار ہونے جا رہی ہے جو سفارتی تعلقات سے بالاتر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے مذہبی، ثقافتی اور تجارتی روابط میں جڑے ہوئے، ان کے تعلقات کو مشترکہ اسلامی نظریات سے تقویت ملتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری خطے میں استحکام اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں اہم ہے۔

 

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے اہم مالی معاونت، بشمول سستے تیل، قرضوں اور معاشی بحران کے دوران امداد، پاکستان کی ترقی اور سلامتی کے لیے انتہائی اہم رہی ہے۔ مزید برآں، سعودی عرب میں پاکستانی تارکین وطن کی ایک بڑی کمیونٹی کی موجودگی، تقریباً 20لاکھ مضبوط، ان کے تعلقات کی گہرائی کو واضح کرتی ہے۔ پاکستانی پیشہ ور افراد، انجینئرز سے لی کر ڈاکٹروں تک، نے سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری، جیسے اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور فیصل مسجد، دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کی علامت ہیں۔ چونکہ پاکستان اقتصادی چیلنجوں سے نمٹ رہا ہے اور اپنی علاقائی حیثیت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، سعودی عرب کے ساتھ اس کا اسٹریٹجک اتحاد سب سے اہم ہے۔ حالیہ سفارتی مصروفیات ان کے تعلقات کی پائیدار نوعیت اور علاقائی سلامتی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم کا ثبوت ہیں۔ پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا کر، پاکستان نہ صرف اپنی سفارتی اور اقتصادی حیثیت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ علاقائی استحکام اور سلامتی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے دائرے میں، قوموں کے درمیان حرکیات اکثر تبدیلیوں سے گزرتی ہیں، جو کہ جغرافیائی سیاسی تحفظات، اقتصادی ضروریات اور مشترکہ سٹریٹجک مفادات سے چلتی ہیں۔

 

حالیہ ہفتوں میں، سفارتی منظر نامے پر یہ ایک قابل ذکر رجحان کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت، اور اس بڑھتے ہوئے تعلقات کو اعلیٰ سطحی مصروفیات کی ایک جھلک نے واضح کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی گہرائی کی علامت ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی وابستگیوں میں جڑے خوشگوار تعلقات ہیں۔ تاہم، سفارتی سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے عزم کا اشارہ دیتا ہے۔ اس سفارتی اقدام میں سب سے آگے دو اہم شخصیات ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقاتیں، جو یکے بعد دیگرے منعقد ہوتی ہیں، شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہیں۔ بات چیت میں اقتصادی تعاون سے لے کر علاقائی سلامتی کے چیلنجوں تک کے مسائل کی ایک وسیع صف شامل تھی، جس نے تعلقات کی کثیر جہتی نوعیت کو اجاگر کیا۔ سعودی ولی عہد کا ممکنہ دورہ پاکستان نئی سمتوں اور اہداف کا تعین کرے گا۔ اقتصادی تعاون پاکستان سعودی عرب اتحاد کا سنگ بنیاد ہے۔ دونوں ممالک بہتر تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے باہمی فائدے کے بے پناہ امکانات کو تسلیم کرتے ہیں۔ سعودی عرب کا ویژن 2030، جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور تیل پر انحصار کم کرنا ہے، پاکستان کے اپنے ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ سعودی عرب سے پاکستان آنے والے حالیہ اعلیٰ سطح کے وفود نے اقتصادی شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے بشمول انفراسٹرکچر کے منصوبے، توانائی کے تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ریاض کی گہری دلچسپی کی نشاندہی کی ہے ۔مزید یہ کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات کی سٹریٹجک جہت علاقائی سلامتی کی حرکیات کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے استحکام میں کلیدی اسٹیک ہولڈرز کے طور پر، دونوں ممالک دہشت گردی، انتہا پسندی اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے مشترکہ خدشات رکھتے ہیں۔ انٹیلی جنس شیئرنگ، انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور دفاعی تعاون میں قریبی ہم آہنگی وسیع تر خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

 

اقتصادی اور سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات مشترکہ ثقافتی اور مذہبی وابستگیوں پر مبنی ہیں۔ عوام سے عوام کے رابطے، تعلیمی تبادلے اور ثقافتی اقدامات دونوں ممالک کے درمیان زیادہ افہام و تفہیم اور یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم ستون کے طور پر کام کرتے ہیں۔ تاہم، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی مثبت رفتار کے درمیان، ممکنہ چیلنجوں سے نمٹنے اور متوازن نقطہ نظر کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ دونوں ممالک کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی شراکت داری دیگر علاقائی قوتوں کے مفادات اور حساسیت کا احترام کرتے ہوئے جامع رہے۔

 

مزید برآں، مشترکہ ترقیاتی چیلنجوں سے نمٹنے، انسانی حقوق کو فروغ دینے اور سماجی و اقتصادی بہبود کو بڑھانے کے لیے تعلقات کا فائدہ اٹھانا سب سے اہم ہونا چاہیے۔ جیسے ہی پاکستان اور سعودی عرب گہری مصروفیت کے اس اقتصادی سفر کا آغاز کر رہے ہیں، دنیا کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی ہے ۔ ان دونوں ممالک کے درمیان ابھرتی ہوئی حرکیات نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے مضمرات رکھتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر تعمیری تعاون کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ اپنی شراکت داری کے ہم آہنگی کو بروئے کار لاتے ہوئے، پاکستان اور سعودی عرب اپنے عوام اور وسیع تر دنیا کے لیے زیادہ خوشحال اور پرامن مستقبل کے لیے بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی رابطے ان کے تاریخی تعلقات کی گہرائی اور ان کے تعلقات کی سٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ چونکہ دونوں ممالک ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے پر ہم آہنگ ہیں، اس لئے ان کا مسلسل تعاون علاقائی استحکام اور باہمی خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔ مجموعی طور پر، سعودی عرب سے پاکستان کے حالیہ اعلیٰ سطحی وفود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سٹریٹجک تعلقات کو بلند کرنے کی طرف ایک اہم قدم کی علامت ہیں، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہو گی جس سے دونوں ممالک کو طویل مدت میں فائدہ ہو گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88589

بزمِ درویش ۔ ہیرو ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ ہیرو ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

یہ میری زندگی کی سب سے مشکل گھڑی تھی پل صراط سے گزرنے والی بات تھی ایک یتیم بے آسرا لڑکی مدد مدد پکارتی میرے سامنے بیٹھی تھی لیکن میرے پاس اس کے سوال اور مدد کا کوئی جواب یا حل نہیں تھا کہ میں کیسے اِس کی مدد کروں تاکہ یہ خود کشی نہ کر لے میں نے مولویوں والا کام نہیں کیا کہ تم نے گناہ کبیرہ کیا اب اِس کی سزا بھگتو تم زانی ہو سزا تمہارا مقدر ہے بلکہ میں تو رحم اور شفیق نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرح اِس معصوم بن بیاہی ماں کی مدد کروں کیونکہ میں ہر حال میں اُس کی مدد کر نا چاہتا تھا اِس لیے اب اُس کی داستان شروع سے آخر تک سننا بہت ضرور تھی تاکہ کوئی دھاگا ہاتھ آئے اور میں اُس کی مدد کرسکوں بیٹی بتاؤ تم کس طرح اُس جنسی درندے کے ہاتھ آئی تو وہ بولی سر میں لاہور سے تین سو کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہوں بچپن میں والدین حادثے میں مر گئے تو دور کے رشتے دار نے خوف خدا کے تحت میری پرورش کی میں نے بڑی کوششوں اور مشکلوں سے میڑک کا امتحان پاس کیا ساتھ میں میک اپ کے کورسز بھی کر لیے اِس طرح مین نے اپنی زندگی کو چلانے کی کو شش کی کیونکہ میں اکیلی تھی لیکن خواب بہت بڑے تھے اللہ نے شکل بھی اچھی دے رکھی تھی

 

اِس لیے کسی بڑے شہر میں جا کر قسمت آزمائی کا خواب دیکھا پھر ایک دور کی رشتہ دار جب گاؤں آئی تو میں نے اُس کہا مجھے لاہور میں کسی بیوٹی پارلر پر جاب دلا دے تو اُس نے وعدہ کیا میں نے اُسے یہ بھی کہا کہ میں اُس پر بلکل بھی بوجھ نہیں بنوں گی کسی ہاسٹل یا یتیم خانے میں رہ کر آگے بڑھنے کی کو شش کروں گی لہذا اُس عورت نے جا کر چند ہفتوں بعد ہی مجھے لاہور بلا لیا میں نے لاہور آکر چند پارلروں پر ٹیسٹ دیا تو ایک پارلر میں مجھے بہت تھوڑی تنخواہ پر جاب مل گئی ساتھ ہی میں نے قریبی گرل ہاسٹل میں رہائش اختیار کرلی اب میں نوکر ی کر رہی تھی اور رات کو ہاسٹل چلی جاتی کیونکہ لاہور میں میرا کوئی دوست سہیلی رشتہ دار نہیں تھا اِس لیے میں اکژ بوریت کا شکار ہو جاتی مجھے شدت سے احساس ہوتا کہ کہ کاش میرا بھی کوئی اپنا ہو تا جس سے میں بات کر سکتی حال دل سنا سکتی اپنی اِس بوریت کو دور کر نے کے لیے میں چھٹی کے دن قریبی پارک میں جا کر وقت گزارتی تاکہ لوگوں کے درمیان وقت گزار سکوں اُس پارک میں میری ملاقات اِس لڑکے کے ساتھ ہوئی جو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ لاہور کے اوباش لڑکے لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اِیسے پارکوں کا رخ کر تے ہیں

 

میں توجہ پیار کی بھوکی تھی جیسے ہی اِس نے توجہ دینی شروع کی میں سمجھی مجھے دنیا میں ہی جنت مل گئی ہے وہ جو کہتا گیا میں کرتی چلی گئی جب اِس نے میرے جسم سے کھیلنے کی کو شش کی تو میں تو ناسمجھ گاؤں سے آئی لڑکی بہت کہا تو بولا میں تم سے صبح ہی شادی کر لوں گا لہذا میں اُس کی باتوں میں آگئی وہ اپنا مقصد حاصل کر چکا تھا میں اُس کے جال میں بری طرح پھنس چکی تھی نہ ہی میرے پاس کوئی راستہ تھا وہ میری عزت سے کھیلتا رہا میں اُس کی ناراضگی کے خوف سے اُس کی بات مانتی رہی کیونکہ اب وہ بات بات پر ناراض ہو تا تھا کہ تم میری بات نہیں مانتی میں ہمیشہ کے لیے تم کو چھوڑ دوں گا لہذا میں بے آسرا اُس کی باتوں میں گناہوں میں ڈوبتی رہی دو ماہ گزر گئے اُس نے شادی نکاح نہیں کیا تو میں بہت پریشان ہو ئی اُس کی منتیں ہاتھ جوڑے بہت روئی پاؤں پکڑے لیکن وہ لارے لگاتا رہا پھر تنگ آکر میں نے کہا اگر تم شادی نہیں کی تو میں پولیس میں جا کر پرچہ کٹواں دوں گی تو اُس نے مجھے بہت مارا اور کہا میں شہر کا ڈان ہوں تمہاری یہ جرات کیسے ہوئی مجھے دھمکی دو‘ تم جاؤ جس کے پاس جا کر میرے خلاف کیس کرنا ہے کرو کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا میں نے تمہارے ساتھ بلکل بھی شادی نہیں کرنی میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا کہاں تم نالی میں پلنے والی گندی جونک کہاں میں‘میرا تمہارا کوئی مقابلہ جو ڑنہیں آج سے میرا تمہارا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم تم جاؤ میرا جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو اُس نے مجھے ہر جگہ سے بلاک کر دیا

 

میں مختلف نمبروں سے اُس کو کال کرتی تو وہ گالیاں دیتا پھر اُس نے اپنے سارے نمبرز بدل لیے اب میرا اُس سے کوئی رابطہ نہیں جب اُس نے مجھے چھوڑا تو میں اُس کو پانے کے لیے مختلف بابوں ملنگوں کے پاس چکر لگانے شروع کر دئیے جو کماتی بابوں کو نذر کر دیتی چار ماہ ہو گئے یہ بابوں کے لاروں پر کہ صبح آجائے گا کل آجائے گا لیکن وہ درندہ واپس نہ آیا تو کسی نے میرا بتایا تو مرنے سے پہلے یہ دکھوں کی گٹھڑی میرے سامنے بیٹھی تھی جس کی دکھ بھری کہانی سن کر میری سانسیں بھاری ہو گئی تھیں کچھ سمجھ نہیں آریا تھا میں نے دو دن کا وقت لیاکہ مجھے سوچھنے کا وقت دو تاکہ میں اِس مسئلے کا کوئی حل نکال سکوں میں نے دو دنوں میں اُس کے نمبروں کو ٹریک کرنے کی پوری کو شش کی دوستوں سے مدد بھی لی لیکن وہ کہیں نہیں ملا پتہ نہیں کوئی شہر چھوڑ گیا تھا یا اللہ کی حکمت میں اب وہ تھا ہی نہیں لہذا مجبور ہو کر میں نے ایک فیصلہ لیا اور اُس بیٹی کا انتظار کر نے لگا تو وہ پھر میرے سامنے آئی تو میں بولا دیکھو بیٹی تمہارے بچے میں جان آچکی ہے

 

اِس کا ابارشن کرانا قتل ہے اور تمہاری جان بھی جا سکتی ہے وہ بد کردار تو بھاگ گیا اب ایک ہی راستہ ہے تم کسی سے شادی کر لو تاکہ تمہاری زندگی بچ جائے تو وہ بولی مجھ گناہ گار سے کون شادی کر ے گا کون میرا گناہ اپنے کھاتے میں ڈالے گا تو میں نے کہا تم ہاں کرو تو میں تلاش کرتا ہوں تو وہ بولی سر میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے یہ میرا نمبر ہے آپ کو جب بھی کوئی رحم دم بندہ مل جائے تو مجھے کال کرئیے گا میں آجاؤں گی اب میری نظر میں ایک لڑکا تھا اظہر ہیرو جو کسی حجام کی دوکان پر کام کر تا تھا مردان شہر سے لاہور آیا بیگم ساتھ تھی اُس نے بے وفائی کی اِس کو چھوڑ کر آشنا کے ساتھ بھاگ گئی یہ اُس کی تلاش میں میرے پاس آتا رہا بعد میں پتہ چلا کہ وہ آشنا کے بچے کی ماں بن چکی ہے تو کچھ دنوں سے باغی ہو گیا کہ اب کبھی بھی شادی نہیں کروں گامیں نے اُس کو بلایا اور کہا یار تم نام کے ہیرو ہو یا باتیں ہی ہیں تو وہ بولا سر کوئی نیکی کاکام ہے تو بتاؤ میں نے بن بیاہی ماں کا سارا قصہ سنا دیا وہ فوری شادی کے لیے تیار ہو گیا تو اِن دونوں کی شادی کرا دی اِس واقع کو پانچ سال گزر گئے کبھی کبھی ہیرو کا فون آتا تو بتاتا اُس بچے کے علاوہ دو اور بچے بھی آگئے میں اُس بچے کو بھی اپنا ہی بچہ مانتا ہوں چند دن پہلے اُسی بیٹی اور ہیروکا فون آیا تو بیٹی نے بتایا میں اُس محلے گئی تھی تو پتہ چلا اُس نے کسی اور لڑکی کی زندگی خراب کی تو اُس کے بھائیوں نے اُس کو بے دردی سے قتل کر دیا اب میں بہت خوش ہوں میں نے ہیرو سے پوچھا تم بھی خوش ہو تو بولا جناب بہت خوش تو میں بولا یار تم نام کے نہیں واقعی بڑے ہیرو ہو۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88583

داد بیداد ۔ شراکت داری اور ترقی ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ شراکت داری اور ترقی ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

خبر آئی ہے کہ عالمی بینک نے خیبر پختونخوا کی عمو می ترقی اور ضم اضلا ع میں خصو صی منصو بوں کے لئے صو بائی حکومت کے ساتھ نئی شراکت داری (Partnership) پر رضا مندی ظا ہر کی ہے اس سلسلے میں بینک حکام نے محکمہ منصو بہ بندی و تر قیا ت کے افیسروں کے ساتھ مذا کرات کا پہلا مر حلہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ سے شروع کیا ہے یہ بہت اچھی خبر ہے اس خبر سے یہ اُمید پیدا ہو گئی ہے کہ عالمی سطح پر نئی حکومتوں کو پذیرائی مل رہی ہے اندرونی افرا تفری اور انتشار میں کمی آگئی تو مزید پذیر ائی مل جا ئیگی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مو جودہ دور میں دنیا سمٹ کر ایک گاوں بن چکی ہے اس عالمی گاوں میں مختلف مما لک کے درمیان با ہمی تعاون کی طرح عالمی اداروں کے ساتھ قومی حکومتوں کے تعاون کی بھی خا ص اہمیت ہے اس طریقے سے حکومتوں کو عالمی اداروں کا تعاون حا صل ہو تا ہے

 

گذشتہ پون صدی کے اندر سما جی شعبے کے کئی بڑے مسائل پر اس قسم کے تعاون سے قابو پا یا گیا ہے اس کو ترقی کے لئے عالمی شراکت داری کا نا م دیا جا تا ہے اخبارات میں ابتدائی میٹنگ کے حوالے سے جو خبریں آئی ہیں ان خبروں کی رو سے ترقی کے لئے اشتراک کے لئے مختلف شعبوں کی نشان دہی کی گئی ہے ان میں مو سمیا تی تغیر اور ما حو لیا تی مسا ئل سے نمٹنے کا کام سر فہر ست ہے اس کے بعد کمیو نی کیشن یعنی بنیا دی ڈھا نچے کی تر قی مثلا ً سڑکیں آتی ہیں پلوں کا نمبر بھی آتا ہے، تیسرا شعبہ زراعت اور آب پا شی ہے اس میں سیلاب سے بچاؤ کے حفاظتی بندھ بھی شامل ہیں، اس کے بعد انسا نی وسائل پر تو جہ دی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں جن شعبوں کے ما ہرین اور کاریگر وں کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے ان شعبوں کے تر بیت یا فتہ کا ریگر اور ما ہرین کی کھیپ تیار کر کے ان کے ذریعے زر مبا دلہ کما نے کے لئے ایک سال سے لیکر چار سال تک کے مخصوص کورس ڈیزائن کر ائے جائینگے، کورس مکمل کرنے والوں کو عالمی مارکیٹ کے لئے قابل قبول سر ٹیفکیٹ، ڈپلو مہ اور ڈگریاں دی جائینگی،

 

انسا نی وسائل کی ترقی کا دوسرا شعبہ روایتی تعلیم بھی ہے اس شعبے میں بھی عالمی بینک صو بائی حکومت کو تعاون فراہم کر ے گا سر دست اس شراکت داری میں عالمی بینک کی طرف سے ملنے والے تعاون کا حجم ڈالروں یا پا کستانی کرنسی میں سامنے نہیں آیا ابھی تخمینے اور اندازے تیار کرنے کا کام ہو رہا ہے اس مر حلے پر ما ضی سے کچھ سبق سیکھنا چاہئیے مثلاً 1990ء کی دہا ئی میں پرائمیری تعلیم کے شعبے میں اصلا حا ت کے لئے عالمی بینک کا بہت بڑا پرو گرام آیا تھا اس پرو گرام کے ڈیزائن میں خا میاں تھیں ان خا میوں کی وجہ سے پرو گرام ختم ہو تے ہی نیب (NAB) حرکت میں آگئی مقد مات شروع ہو ئے گرفتا ریاں عمل میں لائی گئیں، عالمی سطح پر صو بائی حکومت کی بڑی بد نا می ہوئی اس طرح کی بد عنوا نیوں کا راستہ پہلے ہی روکنا ہو گا اور پرو گرام کے بنیا دی ڈیزائن میں بد عنوا نیوں کے رو ک تھا م کا طریقہ کار وضع کرنا ہو گا، بین لاقوامی اور عالمی امداد دہندہ گان کی طرف سے قرض یا گرانٹ کی صورت میں جو امداد آتی ہے اس میں امداد کا زیا دہ حصہ مشینری اور نئی گاڑیوں کی خریداری، پنچ ستاری ہو ٹلوں میں ورکشاپ، اندرون ملک اور بیرون ملک سیر سپا ٹوں کے ساتھ بڑی بڑی کوٹھیوں کے کرایوں میں خر چ ہو جا تا ہے

 

اصل مقصد اور کام کے لئے پوری رقم کا ایک چو تھائی بھی نہیں بچتا، یہ نا کام تجربہ بار بار دہرا یا گیا ہے نئی شراکت داری کے لئے دونوں طرف کام کرنے والے حکام کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ کورونا کی وباء کے بعد دنیا بھر میں کساد بازاری آئی ہے خیبر پختونخوا خا ص طور پر متا ثر ہوا ہے اس لئے امداد گرانٹ کی صورت میں ہو یا قرض کی صورت میں ہو دونوں صو رتوں میں ہدف کے آخرے سرے (Tail end) پر اس کا تین چو تھا ئی حصہ پہنچنا چاہئیے تا کہ اس کے مثبت اثرات نما یا ں طور پر نظر آئیں Tangible impactسب کے سامنے ہو، اور آنے والے سالوں میں لو گ خود ان کا موں کی تعریف کریں، ٹارگٹ کے آخرے سرے پر کچھ نظر نہ آئے تو اس کا فائدہ نہیں ہوتا ترقی کے لئے عالمی بینک کے ساتھ صو بائی حکومت کی نئی شراکت داری خو ش آئیند ہے خدا کرے کہ ہماری ہماری قیا دت بے لوث خدمت کے جذبے کے تحت اس پر عمل در آمد کر ائے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88557

وسط مدتی انتخابات کے ممکنہ تیاریاں ؟ – قادر خان یوسف زئی

Posted on

وسط مدتی انتخابات کے ممکنہ تیاریاں ؟ – قادر خان یوسف زئی

پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت، جو کہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ہے، اہداف اور حکمت عملیوں کے ساتھ ہ خود کو ایک ایسے نازک موڑ پر پاتی ہے جس میں متعدد چیلنجز اور غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی تشکیل سیاسی اتحادوں کے حسابی امتزاج کی عکاسی کرتی ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسے اہم کھلاڑی شامل ہیں۔ تاہم، ایک نازک مینڈیٹ اور مشکل معاشی حقائق کے پس منظر کے درمیان، آگے کا راستہ پیچیدگیوں اور غیر یقینی صورتحال سے بھرا ہوا ہے۔ حکومت کے بنیادی مقاصد میں سے ایک وفاقی کابینہ کے توازن کو برقرار و ہموار کرنا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار میں شراکت کے معاہدے کے تحت اہم آئینی عہدوں کو حاصل کرلیا ہے۔ تاہم وفاقی کابینہ میں شمولیت کے لئے حکمراں جماعت ابھی بھی راہ تک رہی ہے اور کوشاں ہے کہ پی پی پی کو وفاقی کابینہ میں بھی شامل کرلیا جائے تاکہ حکومتی فیصلوں کی ذمے داری کا بوجھ صرف ان کے کندھوں پر نہ رہے۔

 

شنید ہے کہ پی پی پی وفاقی کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ آئندہ بجٹ اور آئینی ترامیم سامنے آنے پر کرسکتی ہے۔ وزارتی محکموں کو حکمت عملی سے مختص کرکے، اتحاد کا مقصد سیاسی مصلحت اور حکمرانی کی کارکردگی کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنا ہے۔ اہم آئینی عہدوں پر پی پی پی کے ارکان کی شمولیت ممکنہ چیلنجوں سے بھری ہونے کے باوجود اتحاد سازی کے لیے ایک عملی نقطہ نظر کی نشاندہی کرتی ہے۔

حکومت کو درپیش سب سے اہم تشویش ملک کی معیشت کی سنگین حالت ہے، جو قرضوں کے زبردست بوجھ سے بڑھی ہوئی ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے حد سے زیادہ قرضے لیے۔ آئی ایم ایف اور نجی کاری پالیسی پر حکومت کا حد سے زیادہ انحصار اور واضح اعتراف صورتحال کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے۔ کم ہوتے وسائل اور بڑھتے ہوئے قرضوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ، حکومت کو معیشت کو استحکام اور ترقی کی طرف لے جانے کے لیے ایک مشکل جنگ کا سامنا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مراعات دینے کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروبار کے لئے راغب کرنا موجودہ صورت حال میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ سابق حکمراں جماعت اس وقت اپنے احتجاجی مظاہروں اور ریاست کو دباؤ میں لانے کے لئے ایک ایسے سیاسی اتحاد کی بنیادیں رکھ چکے ہیں جو سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے اپنے اپنے علاقوں میں موثر اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کا ووٹر و سپورٹر بادی النظر اپنے بانی کی رہائی، مقدمات کے اخراج کے لئے سڑکوں پر آنے میں احتیاط برت رہا ہے، سانحہ09مئی ابھی تک ان کے لئے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح سایہ بنا ہوا ہے۔ ایک برس مکمل ہونے کے باوجود وہ 09مئی کے واقعات کے اثرات سے نہیں نکل سکے۔

مزید برآں، صوبوں کو رقوم کی منتقلی نے وفاقی حکومت کی مالی تدبیر کو مزید محدود کر دے گی، جس سے مالیاتی دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ یہ ساختی عدم توازن مالیاتی فریم ورک کی ایک جامع نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جس کا مقصد ریونیو جنریشن کو بڑھانا، اخراجات کو روکنا، اور زیادہ مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دینا ہے۔پھر بھی، ان سنگین چیلنجوں کے درمیان، حکومت کا ماضی کا ریکارڈ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کے بارے میں جائز خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اپنی پہلی مدت کی کارکردگی کے باوجود، حکومت کو اس سے بھی زیادہ پیچیدہ اور غیر مستحکم سماجی و اقتصادی منظرنامے کا سامنا کرنا ہوگا۔ داؤ زیادہ ہیں، توقعات زیادہ ہیں، اور غلطی کا مارجن کم ہے۔ان ہنگامہ خیز سیاسی حکمت عملی، حکومت کو ایک کثیر جہتی نقطہ نظر اپنانا چاہیے جس کی خصوصیت عملیت پسندی، دور اندیشی اور شمولیت سے ہو۔ اقتصادی لچک کو تقویت دینے، گورننس کی افادیت کو بڑھانے، اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مقصد سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نفاذ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

 

اداروں کی تعمیر، شفافیت اور جوابدہی کے لیے مشترکہ کوششیں عوام کے اعتماد اور حکومت کی فراہمی کی صلاحیت پر اعتماد بحال کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ مزید برآں، حکومت کو اسٹیک ہولڈرز، بشمول اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے ساتھ فعال طور پر مشغول ہونا چاہیے، تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے اور اصلاحات کے لیے اتحاد قائم کیا جا سکے۔ باہمی تعاون پر مبنی حکمرانی، جو بات چیت اور سمجھوتہ کے اصولوں پر مبنی ہے، متعصبانہ شکنجے پر قابو پانے اور قومی مفاد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک قابل عمل راستہ پیش کرتی ہے۔

کمزور حکومتی اتحاد کے لیے آگے کی راہ چیلنجوں سے بھری ہے، لیکن اس کے باوجود تبدیلی کے مواقع موجود ہیں۔ جرات مندانہ قیادت، دانشمندانہ پالیسی سازی، اور جامع طرز حکمرانی کو اپناتے ہوئے، حکومت پائیدار ترقی، خوشحالی اور استحکام کی طرف ایک راستہ طے کر سکتی ہے۔ تاہم، آگے کا سفر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے لچک، عزم اور اٹل عزم کا متقاضی ہے۔یہاں صورت حال دلچسپ یوں ہے کہ حکومت کی حلیف جماعتوں کی توجہ فروعی مفادات کے حصول پر مرکوز ہیں اور اپنی جماعت کے لئے زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل کرنے کے علاوہ، ان کی وسط مدتی انتخابات کے لئے حکمت عملی ابھر کر سامنے آرہی ہے، چونکہ پاکستان امیدوں اور غیر یقینی صورتحال کے دوراہے پر کھڑا ہے، یہ ذمہ داری پوری طرح سے ن لیگ کے علاوہ دیگر جماعتوں پر آتی ہے کہ وہ اس موقع پر اٹھے اور قوم کو درپیش بے شمار چیلنجوں کا مقابلہ کرے۔

 

سیاسی جماعتوں کو اب سوچنا چاہے کہ بیان بازی کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ اب عمل، اختراع، اور جرات مندانہ فیصلہ سازی کا وقت ہے۔ صرف اجتماعی عزم اور ٹھوس کوششوں کے ذریعے ہی پاکستان موجودہ لمحات کی پیچیدگیوں سے نکل سکتا ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ لچکدار اور خوشحال ابھر سکتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کا اتحاد انتہائی نازک ڈور سے جڑا ہوا ہے۔ پتنگ کٹنے سے زیادہ نقصان پاکستان مسلم لیگ ن کو ہوگا، پاکستان پیپلز پارٹی مفاہمت پر یقین رکھتی ہے، کوئی بعید نہیں کہ وسط مدتی انتخابات کے ممکنہ تیاریوں میں ان کا جھکاؤ کسی دوسرے اتحاد کی جانب ہوجائے۔ کیونکہ سیاست ہے اور سیاست میں کبھی بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔ بادی النظر پی ٹی آئی اتحاد کا دباؤ مکمل طور پر پاکستان مسلم لیگ ن پر ہوگا اور کسی بھی ڈیل کا فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی اٹھا سکتی ہے۔ قیاس آرائیوں کو حقیقت میں تبدیل ہونے کے لئے دونوں جماعتوں کے درمیان کسی ٹھوس معاہدہ نہ ہونے کی بنا ء پر کچھ بھی ممکن ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88553

تعلیمی ایمرجنسی اور تعلیم دشمن لوگ – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

تعلیمی ایمرجنسی اور تعلیم دشمن لوگ – میری بات:روہیل اکبر

مبارک ہو محی الدین احمد وانی کی کوششوں سے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی لگ گئی اب کوئی بچہ سکول سے باہر ہوگا اور نہ ہی بغیر خوراک کے گھر جائیگااور اب ہمارے بچوں کو چین بھیجانا پڑا تو وہ تعلیم کے لیے ایک پیسہ خرچ کیے بغیر جاسکیں گے لیکن اس کے لیے ابھی وقت کا انتظار کرنا پڑے گا وہ اس لیے کہ جب تک ہمارے ہاں تعلیم دشمن لوگ موجود ہیں جن کا محی الدین احمد وانی کی قیادت میں ہی صفایا کیا جاسکتا ہے ان تعلیم اور ملک دشمنوں کی ایک ہلکی سی جھلک میں دکھائے دیتا ہوں جو ابھی ابھی اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل کے حوالہ سے اسپیشل برانچ کی طرف سے منظر عام پر آئی ہے جسکے مطابق سابق ڈی پی او اور سی آئی اے سٹاف کی ملی بھگت سے اس معاملہ کو اسکینڈل بنانے،اسے ہوا دینے،جھوٹے مقدمات بنانے اور پھر بعد میں وسیع پیمانے پر قبضے کروانے سمیت لاکھوں روپے کی رشوت وصول کرنے کا انکشاف ہوکیا گیا ہے۔جون 2023میں بہاولپور پولیس کی جانب سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے خزانچی ابوبکر اور چیف سیکیورٹی افیسر اعجاز شاہ کو گرفتار کر کے ان کے خلاف آئس بیچنے اور اور استعمال کرنے کے حوالے سے مقدمہ درج کیے گئے تھے

 

اس معاملہ پر حکومت پنجاب کی جانب سے ون مین جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کی رپورٹ بھی جزوی طور پر منظر عام پر آئی تھی جس میں واضح طور پر جنسی حراسانی اور منشیات فروشی کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے بتایا گیا تھا کہ سابق ڈی پی او بہاولپور، سی ائی اے سٹاف کے آفیسر اور آفیشلز ان تمام معاملات کے حوالے سے کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے اور عدالتوں میں بھی بری طرح ناکام ہوئے جوڈیشل کمیشن کی جزوی رپورٹ میں براہ راست اس سکینڈل کے ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے سابق ڈی پی او عباس شاہ پولیس ٹاؤٹ عبداللہ یوٹیوبر مشتاق سمیت دیگر کو ان تمام معاملات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب سے ان کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گئی تھی تاہم گزشتہ روز سپیشل برانچ بہاولپور کی اس حوالے سے ایک سپیشل رپورٹ جو سپیشل برانچ کے اعلی افسران اور ار پی او بہاولپور کو بھجوائی گئی تھی سامنے آگئی جس میں واضح طور پر بتا دیا گیا مذکورہ پولیس افسران سمیت دوسرے افراد نے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف جان بوجھ کر مہم چلائیاور انکی کردار کشی کرکے دنیا میں تعلیم کی رینکنگ میں تزیزی سے ابھرتی ہوئی اس تعلیمی درسگاہ کو بدنام کیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں کمپین چلوائی

 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسلامی یونیورسٹی کے جن افسران کو ٹرپ کر کے گرفتار کیا گیا اور جھوٹے مقدمات قائم کیے ہیں ان کو بھاری رشوت دیکر اورفائدہ پہنچا کر ضمانتوں پر رہا کروایا گیا ہے اسکینڈل کے لیے اسلامی یونیورسٹی کی ایک ڈیلی ویجز خاتون سمیت دیگر خواتین کوبھی استعمال کیا گیا اور ان کے ذریعے ہنی ٹرپ کر کے بے قصور لوگوں کو جال میں پھنساکر جھوٹے مقدمہ درج کروائے گئے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہماری پولیس کا گھٹیا،کم تر اور منافقانہ رویہ سامنے آگیا ہے ایک ایسے فرشتہ صفت انسان پر صرف ایس لیے بے ہودہ اور گھٹیا الزام لگادیا جائے کہ اسے وائس چانسلر شپ سے الگ کرکے اپنی مرضی کا بندہ تعینات کروا دیا جائے یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کے دشمن،تعلیم کے دشمن اور غریب کے دشمن ہیں انہی لوگوں نے نہ صرف پاکستان کو برباد کیا بلکہ اجاڑ بھی دیا کیونکہ تعلیم نہیں ہوگی تو جہالت ہی جہالت ہوگی رہی بات ہمارے وزرا،اور سیکریٹریوں کی وہ بھی اس حوالہ سے کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہیں اس وقت اگر ہم اگر صوبائی دارالحکومت لاہور میں سکولوں کی حالت زار اور نظام تعلیم کی بات کریں تو دونوں صفر ہیں رہی بات صوبے کی تو اسکی مثال اسلامیہ یونیورسٹی کی صورت میں سامنے آچکی ہے

 

میں بات کررہا تھا اور لاہور کے بھی اس حلقے کی اگر بات کروں کہ جو وزیر اعلی مریم نواز کا حلقہ تھا جہاں سے وہ ایم این اے بنی تھی اور پھر انہوں نے وزارت اعلی کی خاطر وہ سیٹ چھوڑ دی اسی حلقے کے صرف ایک سکول کی بات کرونگا اسکے بعد لاہور،پنجاب اور ملک بھر کے سکولوں کی حالت کا اندازہ آپ سب بخوبی لگا سکتے ہیں کہ ہمارا ناظم تعلیم کیسا ہے اور اس نظام کو درست کرنے والوں کا ہم نے کیا حشر کیا ہوا ہے میں یہاں پر صرف لڑکیوں کے ایک سکول کی مثال دونگا وہ سکول ہے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ریلوے کالونی مغل پورہ جسے منور سلطانہ سکول بھی کہا جاتا ہے یہ سکول اب صوبائی حلقہ پی پی 149میں نومنتخب ایم پی اے شعیب صدیقی کے پاس ہے لیکن شعیب صدیقی کے نامہ اعمال میں پہلے بھی کوئی کام نہیں تھے جب وہ پی ٹی آئی حکومت کا حصہ تھے وفاقی وزیر نجکاری علیم خان کا بھی یہی حلقہ ہے لیکن ان کے حلقے کا یہ سکول جہاں غریب،مزدور اور محنت کشوں کے بچے پڑھتے ہیں وہاں عرصہ 15سال سے کوئی ہیڈ مسٹریس ہی نہیں ہے ایک جونیئر ٹیچر کو کئی سالوں سے چارج دے رکھا ہے اس سکول کے باہر گندگی اور کوڑے کے ڈھیر ہے سال کے 365دن اس سکول کے گیٹ کے سامنے گندہ اور بدبودار پانی کھڑا رہتا ہے

 

صفائی جسے ہم نصف ایمان سمجھتے ہیں اس کا حشر نشر دیکھنا ہو تو اس تعلیمی درسگاہ کو دیکھ لیا جائے اس سکول کے سامنے ٹرک،ویگن اور مزدا کا غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ بنا ہوا ہے اور اسکے ٹھیکیدار اپنے آپ کو یہاں کے ایم پی اے اور ایم این اے سمجھتے ہیں مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کیا اس سکول میں کبھی کوئی تعلیم کے متعلقہ وزیر،سیکریٹری،ایڈیشنل سیکریٹری،ڈپٹی سیکریٹری،سی ای او،ڈی ای او،ڈپٹی ڈی ای او یا اسسٹنٹ ڈی ای او نہیں آیا اور آگر کبھی آیا ہو تو اسے سکول کے باہر پڑا ہوا گند کیوں نظر نہیں آتا ایسے وزیر تعلیم، سیکریٹری تعلیم اور ایجوکیشن افسران کا ہم نے اچار ڈالنا ہے جو اپنے نظام کو ہی درست نہ کرسکے یہ صرف ایک سکول کا حال نہیں لاہور کے 80فیصد سکولوں کا پنجاب کے 90 فیصد سکولوں کا یہی حال ہے اور ان حالات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کردی ہے

 

اس وقت پاکستان میں 2 کروڑ 60 لاکھ بچوں کا اسکول نہ جاناایک بڑا چیلنج ہے جبکہ قائدا عظم نے فرمایا تھا قوم کے لیے تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اورمجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ملک میں تعلیمی بہتری کے لیے وزیر اعظم نے محی الدین احمد وانی کو منتخب کیا ہے جبکہ اس ایمرجنسی کو لاگو کروانے میں بھی انہی کا ہی ہاتھ ہے محی الدین احمد وانی سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر پاکستان ایک انچ بھی ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی لوگوں میں شعور آئے گا میری محی الدین احمد وانی سے درخواست ہے کہ وہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیں کیونکہ ان جیسا ہیرا صدیو ں بعد پیدا ہوتا ہے اور خوش قسمتی سے وہ اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں ویسے بھی ایک اکیلا ہوتا ہے اور دو گیارہ بن جاتے ہیں مجھے امید ہے کہ جب آپ دونوں ملکر پاکستان کو جہالت سے نکالنے نکلیں گے تو ایک نہ ایک دن وہ روشن صبح ہر صورت آئے گی جب ہر طرف شعور کی بلندیاں ہونگی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88551

امریکی پابندیوں کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت جاری رکھنے کے مضمرات – حمزہ ارشد

امریکی پابندیوں کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت جاری رکھنے کے مضمرات – حمزہ ارشد

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے، دوطرفہ تجارت کی مالیت لاکھوں ڈالر سالانہ ہے۔ البتہ،ایران کے خلاف جاری امریکی پابندیوں نے پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ صورت حال پیدا کر دی ہے، جس میں اپنے پڑوسی کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے مضمرات کو نیویگیٹ کرنا چاہیے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اپنے تین روزہ دورہ پاکستان کا آغاز مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں کیا۔ اپنی اہلیہ اور وزیر خارجہ، کابینہ کے ارکان، سینئر حکام اور ایک اہم تجارتی وفد سمیت اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ صدر رئیسی اپنے دورے کے دوران پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر حکام سے بات چیت میں مصروف رہے۔ سینکڑوں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے ساتھ سیکورٹی کو مزید تقویت دی گئی۔

اگرچہ اس طرح کے اعلیٰ سطحی دوروں کا مقصد اکثر اہمیت کا اظہار کرنا ہوتا ہے، صدر رئیسی کے دو طرفہ تجارت کو بڑھانے پر زور دینے کو مثبت طور پر پذیرائی ملی ہے۔ دونوں فریقین نے اپنی تجارت کو 10 بلین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا اور دہشت گردی جیسے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی۔

chitraltimes pm shehbaz and iranian president met on pak iran border inagurated 100mw electricity delegation
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif and Iranian President H.E Ebrahim Raisi in delegation level meeting at Mand-Pishin joint border market. Pakistan-Iran border, h of May, 2023.

اگرچہ معاہدوں کا مرکز بنیادی طور پر بین الاقوامی تجارت اور دوطرفہ تعلقات پر تھا، لیکن تعلقات کو نمایاں طور پر بڑھانے کی صلاحیت کے حامل اہم مسائل جیسے کہ طویل عرصے سے زیر التوا گیس پائپ لائن منصوبہ غیر حل شدہ رہے۔ بہر حال، آٹھ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط سیکیورٹی، تجارت، سائنس اور ٹیکنالوجی، جانوروں کی صحت، ثقافت اور قانونی معاملات سمیت مختلف محاذوں پر تعاون کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 

جاری مسئلہ گیس پائپ لائن ہے، جس کی ابتدائی طور پر 1990 کی دہائی میں تجویز کی گئی تھی، امریکی پابندیوں کے خوف کی وجہ سے متعدد بار تاخیر کا شکار ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود، ایران علاقائی تعاون کے لیے اپنے عزم کو ظاہر کرتے ہوئے، اس منصوبے میں پہلے ہی 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ پاکستان نے بھی اس منصوبے کے لیے اپنی لگن کا اعادہ کیا ہے، حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کو سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 

امریکی پابندیاں ایک اہم رکاوٹ ہیں، کیونکہ ان سے منصوبے کی پیش رفت میں خلل پڑنے اور پاکستان کی معیشت کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے اس منصوبے کو مسترد کرنے کے بارے میں آواز اٹھائی ہے۔

 

پاکستان کی پائپ لائن کی تعمیر کے خلاف امریکہ کی مخالفت واضح ہے، پھر بھی پاکستان کی لابنگ کی کوششوں اور چھوٹ حاصل کرنے کے لیے دیگر حکمت عملیوں کی تاثیر غیر یقینی ہے۔ قطع نظر، پاکستان کو واشنگٹن کو اس بات پر قائل کرنے کے زبردست چیلنج کا سامنا ہے کہ یہ منصوبہ ایران سے جرمانے کے بغیر باہمی طور پر فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اہم مسئلہ پائپ لائن کی تعمیر کے لیے امریکہ کو چھوٹ دینے میں پاکستان کی صلاحیت کے گرد گھومتا ہے، ایرانی صدر کا دورہ ممکنہ طور پر اس منصوبے کی پیشرفت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

 

ان چیلنجوں کے باوجود پاکستان اور ایران توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔ گیس پائپ لائن پاکستان کی توانائی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ اسے توانائی کے بڑے خسارے کا سامنا ہے۔ ایران بھی اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے کے لیے کھڑا ہے، کیونکہ وہ اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔

ایران اور امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری تناؤ پاکستان کی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اگر پاکستان کو ایران کے بہت قریب دیکھا جاتا ہے۔
اگر پاکستان ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھتا ہے تو امریکہ مختلف پابندیوں پر عمل درآمد کر سکتا ہے جن میں امریکہ میں پاکستانی اثاثوں کو منجمد کرنا، امریکی مالیاتی نظام تک پاکستانی بینکوں کی رسائی پر پابندیاں، پاکستانی اشیاء اور خدمات پر تجارتی پابندیاں، پاکستانی حکام پر سفری پابندیاں اور کاروباری پابندیوں کے ساتھ پاکستان کے لیے امریکی امداد اور فوجی امداد بند کر دیں۔

حمزہ ارشد (آئی بی اینڈ ایم، یو ای ٹی لاہور)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88519

مالی مشکلات سے کیسے نکلیں؟ – خاطرات :امیرجان حقانی

مالی مشکلات سے کیسے نکلیں؟ – خاطرات :امیرجان حقانی

عمومی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے کہ

کیا آپ مالی مشکلات کا شکار ہیں؟

 

مالی مشکلات کو حل کرنے کے کچھ دلچسپ اور مؤثر طریقے ہیں جو آپ کی زندگی کو تھوڑا آسان بنا سکتے ہیں۔ میں خود ان طریقوں سے گزر رہا ہوں اس لئے سوچا آپ سے بھی شئیر کروں.

 

1. بجٹ کا جادو:

سب سے پہلے، ایک سادہ بجٹ بنائیں۔ یہ بالکل کسی جادوئی نسخے کی طرح کام کرتا ہے۔ ایک قلم اور کاغذ لیں اور اپنی آمدنی اور خرچوں کو لکھیں۔ پھر یہ دیکھیں کہ کہاں کہاں خرچ کم کیا جا سکتا ہے۔ بجٹنگ کا یہ عمل آپ کو بڑی حد تک ریلیف دے سکتا ہے.

 

2. غیر ضروری خرچوں کا خاتمہ:

مالی مشکلات میں سب سے بڑا عنصر غیر ضروری اخراجات ہیں. ہر ماہ نئی چیزیں خریدنا، غیر ضروری چیزیں لینا یا ہوٹلوں میں کھانے کا شوق پورا کرنا انتہائی نقصان دہ ہے.
تو بس ذرا سنبھل جائیں۔ غیر ضروری خرچوں کو کم کریں۔ یہ نہیں کہ زندگی میں مزہ نہ کریں، لیکن ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے۔ اور بالخصوص مالی مشکلات کے دنوں میں اعتدال سے بھی تھوڑا کم خرچنا چاہیے.

 

3. چھوٹی چھوٹی بچتیں:

ہر ماہ کچھ نہ کچھ بچانے کی عادت ضرور بنالیں، ، چاہے وہ بچت کتنی ہی کم کیوں نہ ہوں۔ یہ چھوٹی چھوٹی بچتیں وقت کے ساتھ بڑی رقم میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جیسے قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں. میں اپنے کئی احباب سے یہ پریکٹس کروا رہا ہوں. خود بھی کررہا ہوں.

 

4. اضافی آمدنی کے راستے:

اگر آپ کا بجٹ ہمیشہ سرخ نشان پر ہی رہتا ہے، آپ کی ماہانہ امدنی آپ کے بجٹ سے کم ہے تو پھر کوئی اضافی جاب یا فری لانسنگ کا سوچیں۔ کچھ نیا سیکھیں اور اسے کمائی کے ذریعے میں تبدیل کریں۔ یا کسی کیساتھ کاروباری پارٹنرشپ اختیار کریں. کوئی نہ کوئی اضافی آمدن کی ترتیب بنالیں.

 

5. قرضوں سے ہوشیار رہیں:

قرضوں کا سہارا لینا کبھی کبھی ضروری ہوتا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ قرض لینا آسان ہے اور واپس کرنا مشکل۔ اگر آپ کو قرض لینا ہی ہے، تو پہلے سوچیں کہ آپ اسے واپس کیسے کریں گے۔ میں گزشتہ دو سال سے قرض لینے اور فوراً واپسی کے عمل سے گزر رہا ہوں. آج کے دور میں قرض کوئی نہیں دیتا، بہرحال اس سے پرہیز ضروری ہے. خوداراد شخص مشکل سے کسی سے قرض لیتا ہے. یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے.

 

6. ماہر مالی مشاورت:

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی مالی مشکلات کا مسئلہ گمبھیر ہوتا جا رہا ہے، تو کسی ماہر مالی مشیر سے ملیں۔ وہ آپ کو بہترین مشورہ دے سکتے ہیں۔ ویسے آج کل ایسے ماہر اور مخلص لوگوں کا فقدان بھی ہے.

 

7. مالیاتی علم میں اضافہ:

آخر میں، مالی معاملات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کریں۔ کتابیں پڑھیں، آن لائن کورسز کریں، یا یوٹیوب ویڈیوز دیکھیں۔ جتنا زیادہ آپ جانیں گے، اتنا ہی آپ کی مالی حالت مضبوط ہوگی۔ معلومات کی کمی اور عدم فہم کی وجہ سے بھی بہت دفعہ انسان مالی مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے.

 

8. مخلوقِ خدا پر خرچ:

ہر ماہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی مخلوق کی مدد میں ضرور خرچ کریں. یہ خرچ اپنے گھر والوں کے علاوہ ہو. یقین کریں یہ صدقہ آپ کو سینکڑوں مشکلات سے بھی بچائے گا اور آمدن میں برکت کیساتھ اضافہ بھی ہوگا.

 

یہ ہیں کچھ آسان اور دلچسپ طریقے جو آپ کی مالی مشکلات کو حل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ لہذا پریشان نہ ہوں اور ان اقدامات کو آزمائیں۔ ممکن ہے کہ آپ کے مالی مسائل کا حل انہی میں چھپا ہوا ہو۔ میں خود ان تمام نسخوں میں الجھا ہوا ہوں. کافی فائدہ بھی ہورہا ہے. بہر حال ان کے علاوہ بھی آپ کے پاس کئی راستے یا طریقے ہوسکتے ہیں جو آپ کو مالی مشکلات سے نکال سکتے.

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88524

مجاہد ملت مولاناعبدالستار خان نیازی کی یاد میں – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

مجاہد ملت مولاناعبدالستار خان نیازی کی یاد میں – میری بات:روہیل اکبر

بزرگ سیاستدان اور سیاسی دروویش سید منظور علی گیلانی جب سے لاہور سے اسلام آباد شفٹ ہوئے ہیں تب سے لاہور ہائیکورٹ بار کی وہ مجلسیں بھی ختم ہوگئی ہیں جو وہ یاد رفتگان کے نام سے کروایا کرتے تھے گذشتہ روز وہ لاہور آئے تو انکی آمد کو غنیمت جان کرمتحدہ جمیعت علماء پاکستان کے سربراہ علامہ قاری پیر غلام شبیر قادری نے مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی کی یاد میں لاہور ہائیکورٹ میں ایک نشت کا اہتمام کیا جس میں پاکستان پیپلز موومنٹ کے سنیئر وائس چیئرمین پیر نوبہار شاہ،سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نور محمد شجرا سمیت دیگر شرکاء نے بھی مولانا عبدالستار خان نیازی کے ساتھ گذرے ہوئے وقت کو بڑے ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا میں سمجھتا ہوں ہوں لاہور ہائیکورٹ بار میں تو یہ ایک اچھا سلسلہ شروع ہوا ہے جسے رکنا نہیں چاہیے اسکے ساتھ ساتھ اس سلسلہ کو سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹی کی سطح تک بھی لایا جائے یہ وہ لاگ ہے جوتعبیر وطن سے تعمیر قوم تک سر فہرصت رہے

 

قیام پاکستان کی جدوجہد میں انکا کردار ناقابل فراموش رہا ہے اور پھر جب پاکستان بن گیا تو پھر انہوں قوم کی تربیت کا بیڑہ بھی اٹھایا مولانا عبدالستار خان نیازی یکم اکتوبر 1915 کو عیسیٰ خیل ضلع میانوالی پنجاب برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے لاہور میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 1940 میں اسلامیہ کالج لاہور سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی مولانا عبدالستار خان نیازی 1947 تک اسلامک اسٹڈیز کے ڈین بنے اور پھر فعال سیاست میں شامل ہوئے۔ مولانا عبدالستار خان نیازی نے قیام پاکستان اور تحریک پاکستان کی سیاسی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا اور 1938 میں پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بنے اس کے بعد انہوں نے 1947 میں قیام پاکستان تک صوبائی (پنجاب) مسلم لیگ کے صدر کے عہدے پر خدمات انجام دیں مولانا عبدالستار خان نیازی کوعلامہ محمد اقبال اورقائد اعظم محمد علی جناح دونوں کے معتبر ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا احمدیوں کے خلاف 1953 کے لاہور فسادات کو مبینہ طور پر اکسانے کے الزام میں ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ مولانا عبدالستار خان نیازی کو بھی گرفتار کر لیاجس کے بعدمولانا مودودی اور مولانا عبدالستار خان نیازی دونوں کو فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی لیکن بعد میں رہا کر دیا گیا

 

دونوں رہنماؤں کی پھانسی کی سزا معطل ہونا ایک اچھا فیصلہ تھا کیونکہ اس ملک میں ان دونوں رہنماؤں کے حق میں احتجا کی تحریک زور پکڑ چکی تھی اس لیے یہ سوچا جارہا تھا کہ اگر مولانا مودودی اور مولانا عبدالستار نیازی کو فوج کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی تو کیا ہوہو گا لیکن ان کی رہائی کے بعد ملک کا سیاسی ماحول بھی سرد ہونا شروع ہوگیا جو اس وقت شدید گرم ہو چکا تھا مولانا عبدالستار خان نیازی نے 1973 سے 1989 تک سنی بریلوی سیاسی جماعت مرکزی جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل کے طور پر کام کیا اور 1989 میں مرکزی جمعیت علمائے پاکستان کے صدر منتخب ہوئے مولانا عبدالستار خان نیازی ضلع میانوالی کے ایک قابل احترام رہنما اور طاقتور سیاستدان تھے جنوں نے دن رات قومی خدمت کی اور پھر عوام نے انہیں مجاہد ملت کا خطاب بھی دیامولاناعبدالستار خان نیازی 1947 سے 1949 تک پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رکن رہے اسکے بعد وہ 1988 اور 1990 میں دو بار پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے مولاناعبدالستار خان نیازی 1994 میں چھ سال کی مدت کے لیے سینیٹ آف پاکستان کے لیے منتخب ہوئے مولانا عبدالستار خان نیازی کا انتقال 2001 میں ہوا مولاناعبدالستار خان نیازی نے عمر بھر شادی نہیں کی مولاناعبدالستار خان نیازی تحریک پاکستان کے وہ ہیرو ہیں کہ جنکی خدمات پر قائداعظم نے بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس قوم کے پاس عبدالستار خان نیازی جیسے نوجوان ہوں اسے پاکستان حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا مولاناعبدالستار خان نیازی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پیروکار تھے اور تحریک ختم نبوت میں ان کی خدمات کو سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا

 

مولانا نے اپنی پوری زندگی اسلام دشمن قوتوں کے خلاف لڑنے میں وقف کردی۔نہ صرف مولاناعبدالستار خان نیازی بلکہ ان جیسے دوسرے بہادر سپوتوں کی یاد میں ایسے سیمینارز ہوتے رہنے چاہیے جن کی محنتوں اور کوششوں سے ہم آج آزاد پاکستان میں بیٹھے سکون کی سانس لے رہے ہیں ان جیسے لیڈروں کو آگے لایا جائے تاکہ پاکستان مزید ترقی کرسکے نہ کہ مفاد پرستوں کو گھسیٹ کر ایوان اقتدار پر بٹھایا جائے جو لوگ کچھ عرصہ پہلے ایک دوسرے پر کرشن اور چور بازاری کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے تھے آج وہ ایک دوسرے کے گلے کا ہار بنے ہوئے ہیں اس سے بڑی بدقسمتی اس قوم کی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے سارے دعوے اور پھر سڑکوں پر گھسیٹنے کے سارے وعدے بس ایک پھونک میں آڑ گئے ہمارے سیاستدانوں کو چاہیے کہ ایسی باتیں نہ کیا کریں جو حقیقت کے قریب تر بھی نہ ہو اور نہ ہی ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے لیے ایسے جھوٹے الزامات لگائے جائیں سبھی سیاست دانوں پر عوام کا عتماد ہے

 

عوام بھی وہ جو اپنا پیٹ کاٹ کر انہیں ایوان صدارت سے لیکر تمام ایوانوں تک خرچہ اپنے خون پسینے کی کمائی سے فراہم کرتے ہیں لیکن شائد بابار کے اقتدار کے مزے نے ہمارے حکمرانوں عوام کے دکھوں سے آزاد کردیا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف اپنے اقتدار کو طویل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے اس دور میں ہمارے کسان اپنی ہی لگائی ہوئی گندم سے پریشان ہیں کیونکہ اسے حکومت خرید نہیں رہی اور نہ ہی ان لوگوں کے پاس کوئی پالیسی ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے بوجود ہم گندم باہر سے منگوا لیتے اور اپنے کسانوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی گندم کو بطور احتجاج سڑکوں پر بھینک دیں چاہیے تو یہ تھا کہ ہم کسانوں سے ایک ایک دانہ گندم خرید کر اسے باہر ایکسپورٹ کرتے تاکہ ہمارا کسان بھی خوشحال ہوتا اور ملک بھی لیکن ایسا کام وہی لوگ اور سیاستدان کرتے ہیں جنہیں ملک کا احساس، عوام کا دکھ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہو اگر اقتدار انہیں سونپ ہی دیا گیا ہے تو یہ لوگ پاکستان سے زراعت کے حوالہ سے اپنے لیے کوئی اچھے مشیر ہی رکھ لیتے جو انہیں اس حوالہ سے قیمتی مشوروں سے نوازتے جس کی بدولت ملک ترقی کرتا اور کسان برباد ہونے سے بچ جاتا۔

Posted in تازہ ترین, مضامین
88461

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ کڑوا گھونٹ – تحریر:عبد الباقی چترالی

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ کڑوا گھونٹ – تحریر:عبد الباقی چترالی

سابقہ اتحادی جماعتیں اپنی سولہ مائی حکومت میں غریب عوام کا خون نچوڑ کر چند ماہ پہلے اقتدار سے رخصت ہو گئے تھے ۔8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد وہ جماعتیں عوام کی کھال اترنے اور ہڈیاں چبانے کا منصوبہ لے کر دوبارہ اقتدار میں آگئے ہیں ۔8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوام کی اکثریت نے ان آزمودہ سیاست دانوں کو مسترد کر دیا تھا ۔لیکن الیکشن کمیشن اور بعض، مہربانوں ، کی سہولت کاری سے یہ جماعتیں دوبارہ بر سر اقتدار آنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔خادم پاکستان اقتدار میں آتے ہی آئی ایم ایف کے احکامات پر عمل کر کے تیل۔گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مذید اضافہ کر کے عوام کو کڑوی گھونٹ پینے کا مشورہ دے رہی ہے۔

دیگر جمہوری ممالک میں حکومت کاروباری اور دولتمند افراد سے بھاری مقدار میں ٹیکس وصول کر کے معاشرے کے کم آمدنی والے اور بے روزگار افراد کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہے ۔ جب کہ اس ملک میں ہر حکومت غریب عوام کا خون نچوڑ کر اشرفیہ طبقے کے مراعات اور سہولتوں میں مذید اضافہ کرتی ہے ۔پاکستان دنیا کا واحد بدقسمت ملک ہے جہاں غریب عوام کے ٹیکسوں سے حکمران اشرافیہ عیش و عشرت کرتی ہے ۔اس ملک میں ہر نئے آنے والے حکمران غریبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ان کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر کے ملک کی خاطر مہنگائی کا کڑوی گھونٹ پی کر برداشت کرنے کا مشورہ دے رہی ہے ۔اب مذید کڑوی گھونٹ پینا عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے ۔کیونکہ عوام گزشتہ چھہتر برسوں سے کڑوی گھونٹ پی رہی ہے۔پاکستانی عوام خادم پاکستان کی سابقہ دور حکومت کی مشکل فیصلوں سے مہنگائی کے طوفان میں ڈوبے ہوئے زندگی کی آخری سانس لے رہی ہے۔

ایسے حالات میں عوام پر مذید مہنگائی کا بوجھ ڈالنا عوام کی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔پاکستانی عوام سابقہ حکومت کی مشکل فیصلوں سے پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور ہوئے تھے ۔پاکستانی عوام خادم پاکستان کی سابقہ دور حکومت کی مشکل فیصلوں سے پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور ہوئے تھے ۔اب خادم پاکستان کے فیصلوں سے ایسا محسوس ہو رہا ہے شاید کے وہ ملک کو شہر خاموشاں میں تبدیل کرنے کا نیا منصوبہ لے کر اقتدار میں آئی ہے ۔اب خادم پاکستان کو اس بد قسمت قوم پر رخم فرما کر کڑوا گھونٹ پہلے خود پینا چائیے ۔بقایا اپنی مشیروں ،وزیروں اور ارکان پارلیمنٹ اور اشرفیہ طبقے کو پلانا چاہئیے۔اگر ممکن ہو سکے تو چند گھونٹ ججیز اور جنرل صاحباں کو بھی پلائے ۔

اشرفیہ طبقہ کڑوی گھونٹ پینا کا عادی تو نہیں وہ با آسانی کڑوی گھونٹ پینے پر آمادہ نہیں ہونگے ۔لہذا خادم پاکستان کو شاہی فرمان جاری کر کے اشرفیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو زبردستی کڑوی گھونٹ پلانا چائیے ۔اگر خادم پاکستان اشرفیہ طبقے کو کڑوی گھونٹ پلانے میں کامیاب ہوئے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اشرفیہ طبقے کو کڑوی گھونٹ پلانے کا اعزاز حاصل ہو جائے گا ۔

برسوں سے کڑوی گھونٹ پینے کی وجہ سے اب عوام کی لہجے میں تلخی کے اثرات بڑھ رہی ہے ۔جب زبان میں تلخی آتی ہے تو تلخ کلامی شروغ ہوتی ہے ۔تلخ کلامی کے اختتام پر لڑائی جھگڑے کا آغاز ہوتا ہے ۔لڑائی جھگڑے میں خون بہنے لگتے ہیں اور لاشیں گرنے لگتی ہے۔لہذا حکمرانوں کو مذید تلخ اور مشکل فیصلے کرنے سے پہلے ان فیصلوں کے انجام پر غور کرنا چاہیے ۔

Posted in تازہ ترین, مضامین
88471

اسرائیل اور فلسطین میں ڈیجیٹل میدان جنگ – قادر خان یوسف زئی

Posted on

اسرائیل اور فلسطین میں ڈیجیٹل میدان جنگ – قادر خان یوسف زئی

 

غزہ کے حالیہ واقعات نے جمود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان سچائیوں کو بے نقاب کر دیا ہے جنہیں عالمی طاقتیں طویل عرصے سے نظر انداز کر رہی ہیں۔ فلسطینی عوام کی استقامت اور فلسطینی جدوجہد پر ایک نئی بین الاقوامی توجہ کے پیچھے محرک کے طور پر ابھری ہے۔ برسوں سے، فلسطینی بیانیہ، فلسطینی اتھارٹی کی سرکاری زبان کے درمیان پھنسا ہوا ہے، جس نے اکثر امریکہ، یورپ، اور دیگر ”عطیہ دہندگان” کے مطالبات اور مختلف فلسطینی گروہوں کی دھڑے بندیوں کے ساتھ ساتھ بیان بازی کی ہے۔ متحد سیاسی پلیٹ فارم کے اس فقدان نے فلسطینی ڈاسپورا کمیونٹیز کو منقطع اور بعض اوقات مایوسی کا شکار کر دیا ہے۔تاہم، بائیکاٹ، تقسیم اور پابندیاں (Boycott,Divestment,Sanctions) بی ڈی ایس تحریک کے عروج نے اس تقسیم کو چیلنج کیا ہے۔ دنیا بھر کے عام لوگوں، طلباء، کارکنوں اور ایمانی برادریوں سے براہ راست رابطہ قائم کرکے، BDS تحریک نے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں ایک عالمی تحریک کی بنیاد رکھی ہے۔ نچلی سطح کا یہ نقطہ نظر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں علامتی فتوحات پر مسلسل جھگڑے سے زیادہ موثر ثابت ہوا ہے۔غزہ اب فلسطینیوں کی مزاحمت اور قربانیوں کا دارالحکومت بن کر ابھرا ہے۔ غزہ کے لوگوں نے جس ہولناکی کو برداشت کیا ہے اس نے ان کے جذبے کو توڑا نہیں بلکہ ان کی اجتماعی مزاحمت کو مزید تقویت دی ہے۔ یہ مزاحمت کوئی حکمت عملی یا انتخاب نہیں بلکہ ظالمانہ اسرائیلی قبضے میں رہنے والوں کے لیے زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔

دنیا اس وقت فلسطینی جدوجہد کے تصور میں ایک زلزلہ خیز تبدیلی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ Meta اور LinkedIn جیسی کمپنیوں کی جانب سے سنسر شپ کی کوششوں کے باوجود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فلسطین کے حامی اور اسرائیل کے حامی مواد کا تناسب غیر معمولی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی یکجہتی کے اس اضافے نے اسرائیلی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو پریشان کر دیا ہے، جو پرانے نظم کو برقرار رکھنے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں۔تاہم فلسطینی عوام اور ان کے حامیوں کی آواز کو خاموش کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ ”آزاد فلسطین” کے نعرے دنیا بھر کے کیمپس، قصبوں اور گلیوں میں گونج رہے ہیں۔ انصاف، بین الاقوامی قانون کا احترام اور انسانی حقوق کے تحفظ کے خواہاں لاکھوں افراد کو ڈرانا کامیاب نہ ہوسکا۔غزہ نے ثابت کر دیا ہے کہ فلسطینی جدوجہد کو پسماندہ یا تنہا نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین کا مستقبل فلسطینی عوام کی ضروریات، مطالبات اور امنگوں کا براہ راست سخت، منحرف اور غیرمتزلزل عکاسبن چکا ہے۔ جیسا کہ دنیا اس آشکار تبدیلی کو دیکھ رہی ہے، انصاف اور آزادی کی طرف مارچ جاری ہے،دنیا کا ہر انسان دوست اور باشعور فرد اس تاریخی لمحے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے

ڈیجیٹل ایکٹیوزم کے دور میں، انصاف کے لیے میدانِ جنگ سڑکوں سے اسکرینوں پر منتقل ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک ایسا میدان بن گیا ہے جہاں آوازوں کو وسعت دی جاتی ہے، بیانیے کی شکل دی جاتی ہے، اور حرکتیں تیز ہوتی ہیں۔ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے جاری جدوجہد سے یہ کہیں زیادہ واضح نہیں ہے۔آرمڈ کنفلیکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ (ACLED) کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں ہونے والے تمام مظاہروں میں سے 38 فیصد کا نمایاں حصہ فلسطین کی حمایت میں ہے۔ تاہم، یہ تعداد ممکنہ طور پر بڑی ٹیک کمپنیوں جیسے Meta اور LinkedIn کے سنسرشپ کے طریقوں کی وجہ سے زیادہ ہے۔ فلسطینی آوازوں کو دبانے کی کوششوں کے باوجود، حامی اپنے پیغام کو وسعت دینے کے لیے تخلیقی ذرائع استعمال کرتے ہوئے رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ رائے عامہ کی تشکیل اور پالیسی پر اثر انداز ہونے میں سوشل میڈیا کی طاقت اقتدار کے عہدوں پر فائز افراد کی نظروں سے اوجھل نہیں رہی۔ اسرائیل، جسے اپنی دہائیوں پرانی پروپیگنڈا مشین پر کنٹرول کھونے کے امکانات کا سامنا ہے، نے مایوس کن اقدامات کا سہارا لیا ہے۔ امریکی قانون سازوں کی جانب سے TikTok پر پابندی لگانے کا حالیہ اقدام، ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں فلسطین کے حامی مواد پروان چڑھا ہے، اس گھبراہٹ کی حد کو واضح کرتا ہے۔

TikTok کو نچلی سطح پر سرگرمی اور متبادل بیانیے کے پھیلاؤ کے پلیٹ فارم کے طور پر اس کے کردار کے پیش نظر نشانہ بنانے کا فیصلہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ”فلسطین کے حامی ہیش ٹیگز کے ساتھ ویڈیوز” کا تناسب اسرائیل کے حق میں 69 سے 1 تک تھا، جس سے امریکی حکام میں عوامی رائے پر اس پلیٹ فارم کے اثرات کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔تاہم، فلسطینیوں کی آزادی کی لڑائی سوشل میڈیا کے الگورتھم کی حدود سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ایک اجتماعی کوشش ہے جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ کالج کیمپس میں سرگرم کارکنوں سے لے کر سڑکوں پر آنے والے عام شہریوں تک، تبدیلی کی رفتار واضح ہے۔ سنسر شپ اور جبر کا سامنا کرنے کے باوجود، صیہونی نسل پرستی کے خلاف بولنے والوں کی لچک غیر متزلزل ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس تحریک کے مرکز میں خود فلسطینیوں کی آوازیں ہیں۔ غزہ سے لے کر مغربی کنارے تک، وہ ظلم و جبر کی مخالفت کرتے رہتے ہیں، اپنی کہانیاں بانٹتے رہتے ہیں اور ان لوگوں سے اپنی داستان کا دعویٰ کرتے ہیں جو انہیں خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی ہمت اور لچک امید کی کرن کے طور پر کام کرتی ہے، یکجہتی کو متاثر کرتی ہے اور جو ممکن ہے اس کی حدود کو آگے بڑھاتی ہے۔

اس بحالی کا مرکز خود فلسطینی عوام کی غیر متزلزل استقامت ہے۔ غزہ کی محصور گلیوں سے لے کر شیخ جراح کے محصور محلوں تک، ان کا غیر متزلزل عزم مصیبت کے وقت امید کی کرن کا کام کرتا ہے۔ ان کی جدوجہد سیاسی عنوانات اور تقسیم سے بالاتر ہے، آزادی اور وقار کی عالمگیر جدوجہد کو مجسم بناتی ہے۔ دنیا بھر میں کمیونٹیز کے ساتھ براہ راست روابط استوار کر کے، انہوں نے روایتی سفارت کاری کے غیر موثر ذرائع کو نظرانداز کر کے عام لوگوں، طلباء، کارکنوں اور مذہبی برادریوں سے یکساں حمایت حاصل کی ہے۔غزہ، جسے اکثر ”فلسطینی مزاحمت اور قربانیوں کا دارالحکومت” کہا جاتا ہے، جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ مسلسل حملوں اور محاصرے کا سامنا کرنے کے باوجود، اس کے لوگوں نے قابل ذکر لچک کا مظاہرہ کیا، پوری دنیا میں یکجہتی کی تحریکوں کو متاثر کیا۔ ان کی آوازیں، جو کبھی پسماندہ تھیں، اب پہلے سے کہیں زیادہ بلند آواز میں گونجتی ہیں، جمود کو چیلنج کرتی ہیں اور قبضے کی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88419

داد بیداد ۔ پرستان قبل از اسلا م ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ پرستان قبل از اسلا م ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

علمی دنیا میں نئی تحقیق کے لئے نئے زاویے اور نئے گو شے تلا ش کئے جا تے ہیں ان زاویوں اور گوشوں میں سے ایک گوشہ یہ ہے کہ ہمالیہ قراقرم اور ہندو کش کی پہا ڑی وادیوں میں اسلا م کی روشنی پھیلنے سے پہلے لو گوں کا رہن سہن کیسا تھا اور عقائد یا تو ہمات کیا تھے اسلا م نے لو گوں کی زندگی میں کس طرح انقلا ب لا یا اور آنے والی نسلوں کو کس طرح متا ثر کیا اس پر یورپ میں بڑا کا م ہور ہا ہے وہاں کی سائنسی اکیڈ یمیوں میں اس پر تحقیق ہو رہی ہے یو نیورسٹیوں میں اس پر سمینار اور کا نفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں برطانیہ، فرانس، جر منی اور اٹلی کے بڑے بڑے علمی ادارے اس مو ضوع پر نت نئے زاویوں سے روشنی ڈال رہے ہیں،

حا ل ہی میں اٹلی کے شہر روم سے ایک علمی ایسو سی ایشن اسمیو (ISMEO) نے ہندو کش اور قراقرم میں ما قبل اسلا م کی ثقافت پر 5سے 7اکتو بر 2022تک روم میں منعقد ہونے والی بین لاقوامی کانفرنس کی روداد کو دو جلدوں میں شائع کیا ڈاکٹر اے وی روزی نے اس کا مقدمہ تحریر کیا البر ٹو ایم کا کو پارڈو نے پیش لفظ لکھا، پہلی جلد میں 41محققین کے مقا لا ت کو جگہ دی گئی ہے جن میں چار کا تعلق پا کستان سے ہے، دوسری جلد میں 39محققین کے مقا لا ت لا ئے گئے ہیں، مقا لہ نگا روں کو پوری جلد لینے کی آزادی بھی ہے اپنے مقا لے کی مطلو بہ کا پیاں خرید نے کی بھی اجا زت ہے کا غذی کتاب کو خوب صورت جلدوں میں خرید نے کے لئے 40%رعایت کی سہو لت دی گئی ہے دونوں جلدیں 10ماہ بعد کمپیو ٹر کی مدد سے پی ڈی ایف فائل کی صورت میں بھی دستیات ہونگی سر دست تما م مندو بین کو ان کے مقا لوں کی پی ڈی ایف فائلیں بطور تحفہ بھیجدی گئی ہیں جو منتظمین کی طرف سے مصنفین کے تحقیقی کا م کا بر ملا اعتراف ہے اور قدر شنا سی کی ایک مثال ہے

کسی علمی کا نفرنس کی سب سے بڑی کامیا بی کو اس کی روداد شائع ہو نے پر معلوم کیا جا تا ہے جب اس کی روداد کتب خا نوں اور کتب میلوں کی رونق بنتی ہے تو محققین کا نفرنس میں پڑھے گئے مقا لا ت سے استفادہ کر تے ہیں اپنی تحقیق میں ان مقا لات کا حوالہ دیتے ہیں اس طرح اس مو ضوع پر نئی تحقیق کی راہ ہموار ہو تی ہے اور کانفرنس میں مقا لہ پیش کرنے والے ما ہرین کو ان کے کام کی پذیرائی ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ کسی بھی کانفرنس کی روداد شائع ہونے کا بے تا بی سے انتظار کیا جاتا ہے جس کانفرنس کی روداد اور اس میں پڑھے گئے مقا لات کی اشاعت سامنے نہ آئے اُس کانفرنس کو نا کام تصور کیا جا تا ہے ISMEOکے تحت روم میں روٹس آف پرستان کے نا م سے ڈیڑھ سال پہلے جو کانفرنس منعقد ہوتی تھی اس کی روداد (Proceeding) میں تبت، لداخ، گلگت بلتستان سے لیکر دیر، چترال، سوات اور نورستان (قدیم بشگل) تک تین مما لک کے اہم علا قوں کی قدیم ثقافت کا جا ئزہ لیا گیا ہے،

مقا لہ نگا روں میں چترال کی وادی کا لا ش کے تاج خان بھی شامل ہیں، امریکی ما ہر لسا نیات ڈاکٹر ایلینا بشیر، جرمن جیو گرا فر ہر من کروز من، اور جر من تاریخ دان وولف گنگ ہو لز وارتھ کا نا م بھی آیا ہے پا کستان سے جن مقا لہ نگاروں کے مقا لے شائع ہوئے ہیں ان میں عبد الصمد، ہدایت الرحمن اور راقم الحروف عنا یت اللہ فیضی کے نا م آتے ہیں ادبی حوالوں سے جا ن موک، ہنرک لیلی گرین اور سٹیفا نو پیلو کے مقا لوں کی گونج بہت اونچی سنا ئی دیتی ہے.

ڈاکٹر سٹیفا نو پیلو نے آگسٹو کا کو پارڈو کی طرح چترال میں فیلڈ ورک کیا ہے ان کو یہ سہو لت حا صل ہے کہ وہ پرو فیسر ہولز وارتھ کی طرح فارسی میں مہارت رکھتے ہیں ان کا جو مقا لہ زیر نظر جلد میں شائع ہوا ہے وہ چترال میں اٹھا رویں صدی کے صو فی شاعر با با سیر ؔ (1730ء 1815ء) کے کلا م میں صو فی روایات اور منا ظرہ عقائد کے حوالے سے ہے ایک اطا لوی محقق نے شاعر کے کلا م کا نچوڑ پیش کیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88396

دنیا کے فوجی اخراجات اور عالمی قوتوں کے جنگی جنون میں مسلسل اضافہ – قادر خان یوسف زئی

Posted on

دنیا کے فوجی اخراجات اور عالمی قوتوں کے جنگی جنون میں مسلسل اضافہ – قادر خان یوسف زئی

دنیا میں مسلسل نویں سال عالمی دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جو 2023 میں مجموعی طور پر 24.43 کھرب ڈالرز تک جا پہنچا۔ 2023 میں عالمی دفاعی اخراجات 6.8 فیصد بڑھے جو کہ 2009 کے بعد سے سال بہ سال اضافے کی مد میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ جو اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی جانب سے ریکارڈ کی گئی اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر جاری تنازعات جیسے یوکرین میں جنگ اور مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ہوا، جس کی وجہ سے تمام جغرافیائی علاقوں میں فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا، خاص طور پر یورپ، ایشیا، اوشیانا اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات جنگی اخراجات میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت 2023 میں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا دفاعی خرچ کرنے والا ملک بن کر ابھرا ہے، حیرت انگیز طور پرجس کے کل فوجی اخراجات 83.6 بلین ڈالر تھے، جو 2022 کے مقابلے میں 4.2 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت کا جنگی جنون حیران کن طور خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں بلا سبب اضافے کا موجب بھی بن رہا ہے جبکہ چین یا پاکستان کی جانب سے کسی جنگی ایڈونچر کا اظہار نہیں کیا گیا تاہم بھارت مسلسل دفاع کے نا م پر روس، امریکہ سمیت اسلحے فروخت کرنے والے ممالک سے مخصوص مفادات کے لئے مہلک ہتھیاروں کا حصول خطے میں تناؤ میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

 

امریکہ نے، عالمی سطح پر سب سے زیادہ فوجی خرچ کرنے والے ملک کے طور پر، 2023 میں دفاع کے لیے 916 بلین ڈالر مختص کیے، جو کہ نیٹو کے کل فوجی اخراجات کا 68 فیصد ہے۔ امریکی فوجی اخراجات میں 2.3 فیصد اضافے نے عالمی فوجی اخراجات میں مجموعی طور پر اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ یورپی نیٹو کے ارکان نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا، ان کے مجموعی اخراجات $1.341 بلین ہیں، جو کہ دنیا کے فوجی اخراجات کا 55% بنتا ہے۔ دفاعی اخراجات کے حوالے سے دنیا کی سمت سے، فوجی اخراجات مسلسل نویں سال بڑھ رہے ہیں۔ یہ رجحان ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے اور عالمی سطح پر اقوام کی طرف سے فوجی طاقت کی ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے۔ دفاع میں اہم سرمایہ کاری امن اور سلامتی کے ارد گرد بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کرتی ہے، جو ممالک کے اسٹریٹجک نقطہ نظر اور دفاع کے لیے وسائل مختص کرتی ہے۔2023 میں عالمی فوجی اخراجات میں اضافے کو کئی اہم عوامل سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

فوجی اخراجات میں بے مثال اضافہ عالمی سطح پر امن و سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا براہ راست ردعمل تھا۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جیسے جاری تنازعات نے دنیا بھر میں فوجی اخراجات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع فوجی اخراجات میں اضافے کا ایک اہم عنصر رہا ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا، یوکرین کے اخراجات تقریباً 64.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئے، جو اس کی جی ڈی پی کے کافی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ تنازع نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر دیگر ممالک میں بھی زیادہ فوجی اخراجات کا باعث بنا۔ مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں تناؤ نے بھی عالمی فوجی اخراجات میں مجموعی طور پر اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل جیسے ممالک نے خطے میں تنازعات اور بڑھتے ہوئے سیکورٹی خدشات کی وجہ سے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا۔ عالمی سطح پر خطرے کے ادراک میں تبدیلی نے جی ڈی پی کا بڑھتا ہوا حصہ فوجی اخراجات کی طرف موڑ دیا ہے۔ دفاعی اخراجات کے لیے نیٹو کے 2% کے ہدف کو حد کے بجائے ایک بنیادی لائن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے بہت سے ممالک کو سیکورٹی کے بدلتے ہوئے مناظر کے جواب میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔

 

سیاسی بیانات اور اقدامات، جیسے کہ نیٹو کے رکن ممالک کے مالیاتی وعدوں پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصروں نے بھی فوجی اخراجات کے فیصلوں کو متاثر کیا ہے۔ یہ بیانات سیاسی ہنگامہ آرائی پیدا کر سکتے ہیں اور دفاعی بجٹ کو متاثر کر سکتے ہیں، جیسا کہ پولینڈ، جرمنی اور برطانیہ کے معاملے میں دیکھا گیا، جس نے 2023 میں اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کیا مجموعی طور پر، بڑھتے ہوئے تنازعات، خطرے کے ادراک میں تبدیلی، اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے امتزاج نے دنیا بھر کی قوموں کو فوجی طاقت کو ترجیح دینے پر مجبور کیا ہے، جس کے نتیجے میں 2023 میں عالمی فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سال 2023 میں روس کے فوجی اخراجات میں 24 فی صد اضافہ ہو کر اندازاً 109 ارب ڈالر ہو گیا، جو کہ 2014 کے بعد سے 57 فی صد اضافہ ہے، جس سال روس نے کریمیا کا الحاق کیا تھا۔ چین دنیا کا دوسرا سب سے بڑا فوجی خرچ کرنے والا ملک ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ نے 2023 میں فوج کے لیے اندازاً 296 ارب ڈالر مختص کیے، جو 2022 کے مقابلے میں 6.0 فیصد زیادہ ہے۔ یہ چین کے فوجی اخراجات میں سال بہ سال لگاتار 29 واں اضافہ تھا۔ سال 2023 میں مشرق وسطیٰ میں متوقع فوجی اخراجات 9.0 فی صد بڑھ کر 200 ارب ڈالر ہو گئے۔ یہ گزشتہ دہائی میں اس خطے میں سب سے زیادہ سالانہ شرح تھی۔ اسرائیل سعودی عرب کے بعد خطے میں فوجی اخراجات کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جس نے 2023 میں اپنے اخراجات 24 فی صد بڑھ کر 27.5 ارب ڈالر تک پہنچ دیا۔

فوجی اخراجات میں اضافہ عالمی معیشت کو مثبت اور منفی دونوں طرح سے متاثر کرتا ہے۔ مثبت پہلو پر، فوجی اخراجات ملازمتیں پیدا کرکے اور نجی شعبے سے سامان اور خدمات کی مانگ کو بڑھا کر معاشی نمو میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، فوجی اخراجات فعال ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی مدد کے لیے کافی بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں اور دفاع سے متعلق نجی کاروباروں جیسے ہتھیار بنانے والے اور فوجی اڈوں کے قریب کاروبار کی ترقی کا باعث بنتے ہیں مزید برآں، فوجی تحقیق اور ترقی تکنیکی اختراعات کا باعث بن سکتی ہے جن میں سویلین ایپلی کیشنز ہیں، جیسا کہ مائیکرو ویو، انٹرنیٹ اور GPS کی تخلیق میں دیکھا گیا ہے۔ فوجی اخراجات اسٹریٹجک صنعتوں کی ترقی اور تکنیکی ترقی کو بھی فروغ دے سکتے ہیں، جس کے وسیع تر معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں منفی پہلو پر، فوجی اخراجات دیگر عوامی خدمات، جیسے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، اور بنیادی ڈھانچے سے وسائل کو ہٹا سکتے ہیں، جو طویل مدتی اقتصادی ترقی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

فوجی اخراجات کی موقع کی قیمت یہ ہے کہ یہ وسائل چھین لیتی ہے جو معیشت کے دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جا سکتی تھی، جو ممکنہ طور پر نجی شعبے سے ملازمتوں کی منتقلی کا باعث بنتی ہے۔مزید برآں، فوجی اخراجات ملک کے قومی قرض میں حصہ ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر جب یہ محصولات سے زیادہ ہو، جس سے خسارہ اور سود کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے معاشی نمو پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور طویل مدت میں ٹیکس زیادہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور دیگر دفاعی اتحادیوں جیسے ممالک کے ساتھ بھارت کی اسٹریٹجک شراکت داری نے اس کے دفاعی اخراجات کے انداز کو متاثر کیا ہے۔ ایک بڑھتی ہوئی علاقائی طاقت کے طور پر، بھارت کے فوجی اخراجات علاقائی اور عالمی معاملات میں زیادہ نمایاں کردار خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں بلا جواز جنونیت اس کی خواہشات کی عکاسی کرتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88364

وادی نلتر کا ایک روزہ مطالعاتی دورہ – خاطرات :امیرجان حقانی

وادی نلتر کا ایک روزہ مطالعاتی دورہ – خاطرات :امیرجان حقانی

یکم مئی کا دن تھا. یہ مزدوروں کا عالمی دن ہے. گلگت بلتستان کے موسم میں بڑی خنکی تھی. وقفے وقفے سے بارشوں نے پورے جی بی کو گھیر رکھا تھا. ایسے میں پوسٹ گریجویٹ کالج گلگت کے پروفیسروں نے وادی نلتر کا ایک روزہ مطالعتی دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ صبح کے ابتدائی اوقات تھے، اور گلگت کے پہاڑوں کے اوپر ہلکی سی برف باری کی روشنی ابھی بھی موجود تھی۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی اور کچھ نئی شروعات کا احساس تھا۔

 

گھر میں شام کو یہی بتا رکھا تھا کہ مجھے صبح احباب کیساتھ نلتر جانا تھا. گھر کے اندر زندگی کی خوبصورتی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب آپ کے پاس دو محبت کرنے والی بیویاں ہوں جو آپ کے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہیں اور آپ کے سفر و حضر میں محبتیں بانٹتی ہیں۔ جب آپ اپنی صبح کا آغاز کرتے ہیں، تو ایک بیوی آپ کے لیے چائے کا پیالہ لے کر آتی ہے، اس کی مسکراہٹ سورج کی پہلی کرن جیسی ہوتی ہے۔ دوسری بیوی ناشتہ تیار کرتی ہے، اور اس کے ہاتھوں کی خوشبو آپ کے دل کو گرمائش دیتی ہے۔ ان دونوں کے ساتھ وقت گزارنا گویا دنیا کے سب سے خوبصورت گلابوں کے بیچ بیٹھنے جیسا ہے۔ یہ آپ کو تب محسوس ہوگا جب آپ اس کیفیت سے گزریں گے.

 

آپ اپنے دن کی شروعات کرتے ہیں، اور وہ دونوں آپ کے ساتھ گفتگو کرتی ہیں، ہنستی ہیں، اور آپ کے ساتھ اپنے خواب بانٹتی ہیں۔ راز و نیاز کی باتیں شئیر کرتی ہیں. ان کے ساتھ ہر لمحہ خاص ہوتا ہے، اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پاس دنیا کی سب سے قیمتی چیز ہے۔ جب آپ نلتر جیسی خوبصورت وادی کی سیر کے لیے جانے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں، تو ایک بیوی آپ کا سامان پیک کرنے میں مدد دیتی ہے، گرم سویٹر پہناتی ہے، جبکہ دوسری آپ کو الوداع کہنے کے لیے محبت بھرا بوسہ دیتی ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ محبت اور خوشی کی کوئی حد نہیں ہے، اور آپ محبت اور خوشی کو ہر طرح انجوائے کرسکتے ہیں. اور آپ اپنے دل میں یہ دعا کرتے ہیں کہ یہ لمحے ہمیشہ یونہی چلتے رہیں۔ جب کیفیات یہی ہوں تو پورا دن شاندار گزرتا ہے.

 

میں پڑی بنگلہ سے یہی خوبصورت، کیفیات، لمحات اور محسوسات لیے کالج پہنچا. بھائی افضل نے کالج کی منی بس اسٹارٹ کی اور ہم نو بجے چل دیے. میں قافلے کا سائق تھا. ہر کوئی مجھ سے رابطہ کیا جارہا تھا. باب گلگت، پبلک چوک، یادگار چوک، مین بازار اور گھڑی باغ سے احباب کو پک کرتے ہوئے یونیورسٹی روڈ یعنی شاہراہ نلتر پر سفر شروع کیا. اس شاہراہ کو گلگت نلتر ایکسپریس بھی کہا جاتا ہے.

پروفیسروں کی ٹیم نے گلگت سے نلتر کی طرف روانہ ہوتے ہوئے، ایک دوسرے سے گفتگو کرتے اور قدرت کے حسن کو سراہتے ہوئے سفر کا آغاز کیا. آغاز بہت دلچسپ تھا۔ منی بس قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کو چھوتے ہوئے نومل کی طرف فراٹے بھرنے لگی. جیسے جیسے وہ پہاڑی راستوں پر آگے بڑھتے گئے، قدرت کے نادر نظارے سامنے آتے گئے۔ بلندی پر پہنچتے ہی سبزہ اور رنگ برنگے جنگلی پھولوں نے ان کا استقبال کیا۔ یہاں کی خوبصورتی کا کوئی جواب نہیں تھا.

 

نلتر کی وادی اپنی خوبصورتی اور قدرتی حسن کے لئے مشہور ہے۔ یہاں پر اونچے اونچے درخت اور بہتی ہوئی ندیاں ہر سمت دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ وادی ہر موسم میں ایک نئے روپ میں ظاہر ہوتی ہے، گرمیوں میں یہ سبزے سے بھرپور اور رنگین پھولوں سے سجی ہوتی ہے جبکہ سردیوں میں برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ یہاں درختوں اور چوٹیوں پر برف کی چادر بچھی ہوتی ہے.

 

نلتر گلگت بلتستان کے کیپٹل ایریا گلگت کی ایک خوبصورت وادی ہے۔ یہ اپنا قدرتی حسن، برف باری، اور سیاحتی مقامات کے لئے مشہور ہے۔ یہاں نلتر کے بارے میں کچھ اہم معلومات اور چیزیں ہیں، جو آپ کے لئے دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہیں.

 

نلتر گلگت شہر سے تقریباً 34 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی بلند پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے اور اس میں چند خوبصورت جھیلیں بھی موجود ہیں۔ نلتر وادی کی بلندی مختلف مقامات پر تقریباً 2800 سے 3500 میٹر کے درمیان ہے۔نلتر بالا میں پہنچ کر ایک راستہ جھیل کی طرف جاتا ہے اور ایک زیرو پوائنٹ کی طرف، جہاں سکینگ پوائنٹ ہے. نلتر بالا کے زیرو پوائنٹ سے ست رنگی جھیل، پری جھیل اور بلیو لیک تک جیپوں کے بغیر نہیں جایا جا سکے گا۔ ست رنگی جھیل تک 12 کلومیٹر کا سفر ہے.

 

نلتر وادی میں ہر موسم کی اپنی خاصیت ہے۔ گرمیوں میں یہاں سبزہ اور پھولوں کی بھرمار ہوتی ہے، جبکہ سردیوں میں یہ وادی برف سے ڈھک جاتی ہے۔ یہ مقام برف باری کے لئے بھی مشہور ہے. نلتر کے موسم کا کوئی اعتبار نہیں. کسی بھی وقت بارش یا برف باری ہوسکتی ہے. اس لیے مناسب لباس یعنی سویٹر اور اورکوٹ ضرور ساتھ لیتے جائیں. ایک چھتری بھی ہو تو بہتر ہے.

 

گلگت بلتستان کا سیاحتی مقام وادی نلتر میں، موسم سرما میں سکینگ کے عالمی مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ 2019 انٹرنیشنل قراقرم الپائن سکی کپ کا میلہ ممنعقد ہوا. جس میں پاکستان سمیت پندرہ ممالک کے 35 سکیئرز نے حصہ لیا.

 

سطح سمندر سے 8960 فٹ کی بلندی پر واقع نلتر سکی سلوپ میں جاری انٹرنیشنل قراقرم الپائن سکی کپ کے مقابلے میں ترکی نے پہلی، پاکستان نے دوسری اور یوکرائن نے تیسری پوزیشن حاصل کی. ایونٹ کی سلالم کیٹیگری میں اپنے فن کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ان کھلاڑیوں نے بالترتیب گولڈ،سلور اور براونز میڈل جیتے۔
انٹرنیشنل قراقرم الپائن سکی کپ میں پاکستان کے علاوہ ترکی، یونان، افغانستان، مراکش، آزربائیجان، ہانگ کانگ،برطانیہ، بوسنیا ہردگوزینیا، تاجکستان بیلجیئم سمیت دیگر ممالک کے سکی پلیئرز نے حصہ لیا اور خوب سراہا۔

 

نلتر کا سکی چیئرلفٹ، جو بلند اور خطرناک سمجھی جاتی ہے، نے کئی نوجوانوں کو سکینگ کی مشق کرنے کا موقع دیا ہے۔ اسی چیئرلفٹ پر پریکٹس کرتے ہوئے، نلتر ہی کے چند مقامی نوجوانوں نے عالمی سطح پر منعقد ہونے والی سکی چمپئن شپس میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان اور گلگت بلتستان کا نام فخر سے بلند کیا ہے۔

گلگت بلتستان کے نوجوان سکیئرز میں ضلع غذر سے تعلق رکھنے والی دو بہنیں، آمنہ ولی اور عارفہ ولی، نمایاں ہیں۔ یہ دونوں بہنیں نہ صرف اپنی مقامی برادری میں مقبول ہیں بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کھیل میں کمال مہارت دکھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی بین الاقوامی معیار کے خواتین کھلاڑی موجود ہیں۔

 

ان کی یہ کامیابیاں نلتر کی سکینگ کمیونٹی کے لئے ایک بڑی خوشخبری ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں اور محنت کی جائے، تو دنیا کے کسی بھی کونے سے قابل کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں۔ نلتر کے ان نوجوانوں نے یہ ثابت کر دیا کہ سکینگ کے لئے درکار ہمت اور جرأت، قدرتی خوبصورتی کے درمیان پروان چڑھ سکتی ہے۔ ویسے پہاڑوں کی اولاد کے لیے یہ معمول کی باتیں ہیں.

 

نلتر میں کئی خوبصورت جھیلیں ہیں، جن میں ست رنگی جھیل سب سے مشہور ہے۔ اس جھیل کا پانی نیلا اور شفاف ہوتا ہے، جو اسے ایک خاص دلکشی عطا کرتا ہے۔ اسی جھیل کو ست رنگی جھیل (Seven Color Lake) کہا جاتا ہے. یہ خوبصورت جھیل ہے جو اپنی منفرد رنگوں کی بدولت مشہور ہے۔ سنا ہے کہ روشنی پڑنے پر جھیل کے پانیوں کا رنگ مختلف سات رنگوں میں نظر آنے لگتا ہے. یہ جھیل نلتر ویلی کا ایک دلکش مقام ہے اور سیاحوں کے درمیان بہت مقبول ہے۔ یہاں اس جھیل کے بارے میں کچھ اہم معلومات فراہم کی جا رہی ہیں.
یہ جھیل نلتر ویلی کی تین بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔

جھیل کا نام “ست رنگی” اس کے پانی کے رنگوں کی بدولت رکھا گیا ہے۔ پانی میں مختلف معدنیات اور روشنی کے انعکاس کے باعث یہ جھیل مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے، جیسے کہ سبز، نیلا، فیروزی، اور دیگر رنگ۔جھیل کے ارد گرد کے مناظر انتہائی خوبصورت اور دلکش ہیں، جس میں بلند پہاڑ، سرسبز جنگلات، اور گلیشیئرز شامل ہیں۔

 

سیاح اس جھیل کے کنارے وقت گزارنے، تصاویر لینے، اور قدرتی خوبصورتی کا لطف اٹھانے کے لیے آتے ہیں۔ست رنگی جھیل کے پاس ہائیکنگ اور کیمپنگ کی بھی سہولتیں موجود ہیں، جو ایڈونچر پسند لوگوں کو پسند آتی ہیں۔موسم گرما میں یہ جھیل خاص طور پر خوبصورت ہوتی ہے، جب درجہ حرارت معتدل ہوتا ہے اور سبزہ چاروں طرف پھیلا ہوتا ہے۔موسم سرما میں برف باری کے باعث جھیل جم کر منجمد ہو جاتی ہے اور نلتر کے جملہ مناظر برفیلی چادر میں ڈھک جاتے ہیں۔

 

جھیل تک پہنچنے کے لیے جیپ یا 4×4 گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں کا راستہ پہاڑی اور دشوار گزار ہوتا ہے۔ ابھی تک نلتر ایکسپریس وہاں تک نہیں پہنچا. جھیل کے قریب رہائش کے محدود انتظامات ہیں، لیکن سیاح گلگت میں رہائش اختیار کر کے دن بھر کا دورہ کر سکتے ہیں۔
ست رنگی جھیل کی خوبصورتی، مختلف رنگوں کا منظر، اور اس کے ارد گرد کے قدرتی مناظر اسے گلگت بلتستان کے اہم سیاحتی مقامات میں شامل کرتے ہیں۔ یہ جھیل قدرتی خوبصورتی کا ایک شاہکار ہے اور یہاں کا دورہ سیاحوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے۔

 

وادی نلتر میں سیاحوں اور سیاحتی سرگرمیوں کے لئے بہت کچھ موجود ہے۔ یہاں آپ ہائیکنگ، کیمپنگ، اور فوٹوگرافی کر سکتے ہیں۔ سردیوں میں سکینگ کے شوقین حضرات کے لئے یہاں بہترین مواقع ہیں۔ پاکستان آرمی ہر سال یہاں نیشنل سکینگ چیمپیئن شپ کا انعقاد کرتی ہے، جس میں ملک بھر سے کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔

 

نلتر وادی کے مقامی لوگ سادہ اور دوستانہ ہوتے ہیں۔ ان کی ثقافت میں موسیقی، رقص، اور روایتی لباس کا اہم کردار ہے۔ مقامی لوگ عموماً کھیتی باڑی اور مویشی پالنے میں مشغول رہتے ہیں۔ نلتر کا آلو بہت مشہور اور لذیذ ہے. غذائیت سے بھرپور ہے. آج کل نلتر میں بڑے بڑے ہوٹل تعمیر ہورہے ہیں. گلگت بلتستان کے درجنوں امیر لوگوں نے یہاں زمینیں خریدی ہیں اور ہوٹل اور موٹل بنا لیے ہیں. پاکستان آرمی بھی بھرپور موجود ہے. کئی مرکزی مقامات ان کے پاس ہیں.

 

ہم سے کئی احباب نے پوچھا کہ نلتر تک کیسے پہنچا جائے. اگر آپ کو اسلام آباد سے گلگت تک ہوائی جہاز کا ٹکٹ ملتا ہے تو یہ ایک گھنٹہ کا سفر ہے. آپ ناننگا پربت کا ہوائی وزٹ کرتے ہوئے گلگت پہنچ سکتے ہیں. اور اگر آپ جون جولائی میں آنا چاہتے ہیں تو اسلام آباد سے براستہ ناران کاغان اور بابوسر ٹاپ کے گلگت تشریف لائیں اور اگر سردیوں میں آنا ہے تو براستہ بشام قراقرم ہائے وے گلگت تشریف لائیں.

 

نلتر وادی تک پہنچنے کے لئے گلگت شہر سے جیپ یا دیگر گاڑیوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پہلے نلتر تک جیپ میں سفر ممکن تھا. اب روڈ بہترین ہے کوئی بھی چھوٹی گاڑی جاسکتی ہے تاہم واپسی پر انتہائی احتیاط سے ڈرائیونگ کرنی ہوگی. کئی حادثات رونما ہوئے ہیں.

 

پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت کےپروفیسروں کی یہ ٹیم نلتر زیرو پوائنٹ پہنچ گئی. ہم جھیل تک جانا چاہتے تھے مگر قلت وقت اور کچی روڈ کی وجہ سے وہاں جانے سے رہ گئے. ہماری ایونٹ منیجمنٹ کمیٹی کی ٹیم پروفیسر فرید اللہ کی سربراہی میں سویرے ہی وہاں پہنچ کر نگرہ میں ڈھیرے ڈال چکی تھی. ہم بھی زیرو پوائنٹ سے نگرہ تک پیدل گئے. راقم، رحمت اور انتخاب صاحب پہلی فرصت میں نلتر کا سب سے بلند ویوو پوائنٹ نگرہ میں پہنچے اور دیر تک وہی نظارے کرتے رہے.جھیلوں کے دائیں بائیں کے حسین مناظر کو بھی یہاں سے دیکھ کر دل کوبہلایا مگر یہ کمبخت کب بہل جاتا ہے. نگرہ وویو پوائنٹ میں سنگاپور کی دو سیاح خواتین بھی ایک مقامی گائیڈ کی معیت میں پہنچی ہوئی تھیں. خوب انجوائے کررہی تھی. یہ لوگ بھی فطرت کے بڑے نشئی ہیں.

نگرہ سے ہر طرف کا نظارہ کمال کا ہورہا ہے. نلتر پائین اور بالا کا ہر مقام واضح نظر نواز ہوتا ہے. یہاں 2022 میں بھی آنے کا موقع ملا تھا. برادرم مولانا عمر خٹک اور ترکی کے کچھ طلبہ کیساتھ اسی ویوو پوائنٹ میں دیر تک ٹھہرے رہے تھے. نلتر بھی بار بار جانا ہے. میرے کئی اسٹوڈنٹنس ہیں جو مدعو کرتے ہیں. شاید ایک بار اپنے کلاس فیلوز کی ٹیم کیساتھ بھی جانا پڑے جلد.

 

نگرہ اور اس کے اطراف میں موجود برفیلی پہاڑیوں، وسیع و عریض سبزہ زاروں اور فطری مقامات نے ہمیں مبہوت کر دیا. یہ جگہ واقعی جنت کا ایک ٹکڑا معلوم ہو رہی تھی۔ پروفیسرز نے نگرہ کے چبہ چبہ چھان مارا. وہاں بیٹھ کر سکون محسوس کیا، اور بعض نے تو برف کے ساتھ خوب اٹھکھیلیاں کی. برف سے سب سے زیاد لطف غلام عباس، عبداللہ اور رزاق نے اٹھایا۔ میں اور ضیاء ان کی ویڈیو بناتے رہے. ارشاد شاہ، رحمت اور انتخاب ہماری اٹھکھیلیوں کو انجوائے کرتے رہے. اشتیاق یاد نے سچ کہا کہ بڑھاپے کی دھلیز میں بھی غلام عباس صاحب میں ایک شرارتی نوجوان زندہ ہے.

 

فطرت اور قدرت ہمارے وجود کا مرکز ہیں، جو ہمیں خوبصورتی، سکون اور حیرت کا احساس عطا کرتے ہیں۔ گھنےجنگلات کی سبزیاں، دریاؤں کا روانی، پہاڑوں کی اونچائیاں، اور سمندروں کی گہرائیاں، یہ سب فطرت کے حیران کن عناصر ہیں جو ہماری دنیا کو ایک جادوئی جگہ بناتے ہیں۔ نلتر میں یہ سب کچھ موجود ہے. قدرت کے یہ مناظر نہ صرف آنکھوں کو خوش کرتے ہیں بلکہ ہماری روح کو بھی سکون دیتے ہیں۔ ہم ان سے سیکھتے ہیں کہ زندگی کتنی پیچیدہ اور خوبصورت ہوسکتی ہے۔ فطرت کی یہ شان و شوکت ہمیں اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی دنیا کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ یہ خوبصورتی آنے والی نسلوں کے لئے بھی برقرار رہ سکے۔

فطرت کے بارے میں اللہ کا پیغام واضح اور جامع ہے۔ قرآن مجید میں، اللہ نے فطرت کو ایک نشانی کے طور پر پیش کیا ہے، جس کے ذریعے انسان اس کی عظمت، حکمت، اور تخلیقی قوت کو سمجھ سکتا ہے۔ قرآن میں بار بار فطرت کے عناصر جیسے کہ آسمان، زمین، پہاڑ، دریا، درخت، اور جانوروں کی تخلیق کا ذکر آتا ہے تاکہ انسان غور و فکر کرے اور اللہ کی قدرت کو پہچانے۔
فطرت کا مشاہدہ اور اس پر غور کرنا، ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور اللہ کی وحدانیت اور اس کی عظمت کا ادراک عطا کرتا ہے۔ ہمیں فطرت کی قدر کرنی چاہیے اور اسے نقصان سے بچانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہم اللہ کے پیغام کا احترام کر سکیں اور اس کے تخلیقی کاموں کی حفاظت کر سکیں۔

ہمارے احباب دن بھر نلتر میں فطرت کو قریب سے دیکھتے رہے. خوب مشاہدہ کیا. اپنے اپنے افکار و علوم سے دیگر کو مستفید کیا. اسلام اور سائنس کے آفاقی اصول بھی زیر بحث آئے. مختلف مضامین کے اساتذہ تھے جو اپنا اپنا علم شئیر کررہے تھے . بہر حال بہت کچھ سیکھنے کو ملا.

 

دوپہر کے وقت، سب نے ساتھ میں مل کر، کھیتوں کے درمیان زمین پر بیٹھ کرکھانا کھایا. میں نے نگرہ کے کھیتوں کے ٹاپ سے واپسی پر بہتی ندی کے پانی میں وضو کرکے نماز ظہر ادا کی اور ذرا دیر سے آیا. کھانا ختم ہوچکا تھا. کچھ ساتھی دو دو بار پلیٹوں میں گوشت بھر بھر کر کھاچکے تھے. ہم نے بھی بچا کچھا زہرمار کر دیا اور قہوہ خوب انجوائے کیا. کھانے پینے کے بعد جو کچرا جمع ہوا تھا، ہمارے احباب نے چن چن کر اس کو اٹھا لیا. بچی روٹی اور فروٹ کے چھلکے بیچ کھیت جانوروں کو کھلایا. ہڈیاں کتوں نے چانٹ لیں. یوں جہاں احباب نے فرشی نشست لگائی تھی صاف ستھری کرکے رکھ دیا. یہی اس خوبصورت مقام کا تقاضا بھی ہے کہ گندگی نہ پھیلائی جائے، تھوڑا بہت کچرا جمع بھی ہوجائے تو سنبھال کر لے جائیں اور دور کہیں پھینک دیں.

 

ہمارے پروفیسر احباب نے کھلے میدان میں ایک محفل سجھا رکھی تھی. ایک دوسرے کے ساتھ کہانیاں شیئر کیے جارہے تھے. ماضی کی حسین یادیں دہرائی جا رہی تھیں. لطائف کا زوروں تھا. اچانک غلام عباس صاحب نے ناچنا شروع کیا. پھر کیا تھا کہ سب باری باری ناچنے لگے. پرنسپل اسلم ندیم صاحب کی گاڑی میں بڑی سی سونڈ ڈیگ لگی ہوئی تھی اور مختلف مقامی گانے چل رہے تھے. ان پر پروفیسر احباب تھرک رہے تھے. ہم بھی دور بیٹھیں ان کی پرفارمنس کو دیکھ رہے تھے. کبھی قریب ہوکر کسی کے “ناچ شریف” پر تبصرہ مار دیتے . واقعی “علمائے ناچو” لگ رہے تھے.

 

یہ وہ لمحات تھے جب قدرت کی خوبصورتی نے سب کے دلوں کو چھو لیا تھا۔ قدرت کے حسن میں ہزار رعنائیاں پنہاں ہیں. ہم پر یہ رعنائیاں منکشف ہورہی تھیں.
میں نے ادھر ادھر مقامی لوگوں سے نلتر کے بارے میں مختلف دلچسپ معلومات بھی جمع کیں، جیسے کہ یہاں کے موسمی حالات، مقامی ثقافت، سیاحت، ہوٹل انڈسٹری اور لوگوں کی روزمرہ زندگی، بہت سی دلچسپ باتیں معلوم ہوئی جن کا کچھ تذکرہ ماقبل کے سطور میں ہوگیا ہے.

 

وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا، اور شام کا وقت قریب آ گیا۔ پروفیسروں نے واپس گلگت جانے کے لئے تیاریاں شروع کیں، لیکن نلتر کی وادی کی خوبصورتی ان کے دلوں میں ایک انمٹ نقش چھوڑ چکی تھی۔ گروپ فوٹو بنایا جاچکا تھا. احباب نے انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی خوب فوٹو گرافی کر لی تھی. سلیمی صاحب کی تجویز تھی کہ راستے میں کہیں چائے پی لی جائے. اشتیاق یاد اس کی تائید کررہے تھے. ہم بھی یہی چاہتے تھے تاہم واپسی پر نومل میں جس ہوٹل میں چائے پی وہ جگہ تو اچھی تھی مگر چائے بہت بے کار. وہاں کافی دیر ٹھہرے رہے. احباب کے استفسار پر دوسری شادی کے متعلق اپنی تجاویز اور تجربات شئیر کیے.

پروفیسر احباب گلگت کی طرف واپسی میں جاتے ہوئے خوب خوش گپیاں کررہے تھے ، انہوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ وہ پھر سے نلتر کی وادی کا دورہ کریں گے، تاکہ قدرت کی اس خوبصورت تخلیق کا مزید لطف اٹھا سکیں۔

 

یہ ایک ایسا سفر تھا جو ہمیشہ کے لئے ان کے دلوں میں محفوظ رہے گا، اور نلتر کی خوبصورتی نے ان کے دلوں کو محبت اور سکون سے بھر دیا تھا۔ یہ یادیں مرتی نہیں، مرنے کے بعد بھی احباب کو زندہ رکھتی ہیں. رفیع صاحب جاتے ہوئے بھی اور واپسی پر بھی سب کو چھیڑ رہے تھے. سجی محفل میں بھی کوئی نہ کوئی مزاحیہ جملہ کَس دیتے تھے. ویسے وہ سفر میں تنگ نہ کرے اور جگت بازی کا مظاہرہ نہ کرے تو سفر پھیکا سا پڑ جاتا ہے.ہمارے ایسے اسفار میں، احباب کی بے تکلفیاں بھی عروج پر ہوتیں ہیں. غیر پارلیمانی الفاظ کا آزادانہ استعمال ہوتا ہے جن پر قدغن نہیں ہوتی.

 

وادی نلتر میں سیاحت کو بڑھوا دینے کے لیے چند تجاویز دل میں آرہی ہیں، جو عرض کیے دیتا ہوں.
انفراسٹرکچر کی بہتری بڑے پیمانے پر ہونی چاہیے. سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ سیاحوں کو آسانی سے نلتر پہنچنے کا موقع مل سکے۔نلتر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ نیٹکو کے ذمہ داروں کو اس حوالے سے کچھ اچھا کر دکھانا چاہیے.

 

نلتر میں ہوٹل انڈسٹری نے قدم جمانا شروع کیا ہے. کئی محکموں کے ریسٹ ہاوس بھی ہیں. تاہم قیامطو طعام کے مزید آپشنز فراہم کیے سکتے ہیں ، جیسے کہ ہوٹلز، ریزورٹس، اور کیمپنگ سائٹس۔موجودہ گیسٹ ہاؤسز اور کیمپنگ سائٹس کے معیار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے. سستی اور مہنگی دونوں سہولیات موجود ہونی چاہیے تاکہ ہر کوئی نلتر سے لطف اٹھا سکے.

 

نلتر کی سیاحت کی ترقی کے لیے بھرپور مارکیٹنگ کی ضرورت ہے. نلتر کی خوبصورتی کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اشتہاری مہم چلائی جائے۔ اور ابلاغ و اشتہار کے جملہ ذرائع استعمال کیے جائیں.

 

سیاحتی معلومات کے مراکز بنائے جائیں جہاں سیاحوں کو مقامی معلومات اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

سیاحوں کو ماحول دوست سیاحت کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور ان سے توقع کی جائے کہ وہ اپنے کچرے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ اور گندگی پھیلانے کا سبب نہ بنیں. اپنی گند کے ذریعے فطرت کو نقصان پہنچانا کسی صورت جائز نہیں.
نلتر کی قدرتی خوبصورتی اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ یہ مقامی لوگوں سمیت سیاحوں پر بھی لاگو ہوں.

سیاحتی سرگرمیوں کی متنوعیت شروع کی جائے. سیاحتی سرگرمیوں کی مختلف اقسام متعارف کی جائیں، جیسے کہ ہائیکنگ، راک کلائمبنگ وغیرہ.

مقامی لوگوں کے ساتھ ثقافتی تجربات کی فراہمی، جیسے کہ مقامی موسیقی، دستکاری، اور کھانوں کا تعارف۔ وغیرہ.

مقامی آبادی کو سیاحت کے شعبے میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بھی سیاحت سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی معیشت بہتر بنا سکیں۔

مقامی افراد کو سیاحوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کا سلیقہ سکھانے کے لئے ترتیب دی جائے۔

نلتر میں طبی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ہنگامی صورت حال میں سیاحوں کو فوری مدد مل سکے۔ اور ہمہ وقت کچھ ایمبولینس یہاں موجود ہونے چاہیے.

سیاحوں کی حفاظت کے لیے پولیس اور سیکیورٹی کے انتظامات کو مضبوط بنایا جائے۔ مقامی لوگوں کی سیکورٹی بھی بہت اہم ہے.

ان چند تجاویز پر محکمہ سیاحت گلگت بلتستان و پاکستان غور کرسکتی ہیں. اگر ان پر عمل پیرا ہونا شروع کیا گیا تو یہ تجاویز نلتر میں سیاحت کو فروغ دینے اور سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے نہ صرف سیاحوں کو ایک خوشگوار ماحول حاصل ہوگا، بلکہ نلتر اور گلگت بلتستان و پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

chitraltimes nalter Gilgit baltistan

chitraltimes naltar gilgit baltistan tour haqqani 1

chitraltimes naltar gilgit baltistan tour haqqani 2 chitraltimes naltar gilgit baltistan tour haqqani 3

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88366

داد بیداد ۔ ما ضی کا پشاور ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on

داد بیداد ۔ ما ضی کا پشاور ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ما ضی کا پشاور وسطی ایشیا ء کے تین اہم اور تاریخی شہروں کا ہم پلہ تھا، بخارا، کا شغر اور کا بل سے تجارتی قافلے پشاور آتے تھے پشاور کے تا جر قافلوں کی صورت میں کا شغر اور بخا را تک سفر کر تے تھے، یہاں تک کہ 1919میں کمیو نسٹ انقلا ب آیا، سر حد یں بند ہو گئیں تو پشاور کے کئی تا جر بخا را میں پھنس گئے اور وہیں بس گئے 1987میں پشاور یو نیور سٹی کے پرو فیسر ڈاکٹر محمد انور خان وسطی ایشیا ئی ریا ستوں کے دورے پر گئے تو کئی پشاوری خاندانوں نے ان کی ضیا فت کرکے پشاور کی پرانی یا دوں کو تا زہ کیا، ڈاکٹر انور خان نے واپس آکر ایک سیمینار میں اس دورے کی تفصیلات بتا کر سامعین سے بے پنا ہ داد حا صل کی، کا شغر، بخارا، کا بل اور پشاور قدیم زما نے کی مشہور شاہراہ ریشم کی چار کڑیوں میں شمار ہوتے تھے آج یہ بھو لی بسری کہا نیاں معلوم ہوتی ہیں مگر اتنی بھو لی بسری بھی نہیں خو قند وسطی ایشیا ء سے پشاور آنے والے تا جروں کی اولا د آج بھی پشاور کے مضا فاتی قصبہ بخشو پل چار سدہ روڈ پر جا ئداد اور کا روبار کی ما لک ہے ما ضی کا یہ رشتہ چترال تک پھیلا ہوا ہے کیونکہ چترال بھی شاہراہ ریشم کا حصہ تھا

 

مشہور محقق جی جے الڈر نے لکھا ہے کہ دریائے آمو کے طاس میں جب جنگیں چھیڑ تی تھیں تو تجارتی کا روان چترال کے راستے سفر کو محفوظ اور نفع بخش قرار دے کر اس راستے کا رخ کر تے تھے بنیا دی طور پر یہ سفر کا شغر، یاکند اور ختن سے شروع ہوتا تھا جو چینی ترکستان کے اہم شہر ہو اکر تے تھے کا شغر جنو بی چین کے صو بہ زنجیا نگ کا مشہور شہر ہے اس شہر سے آنے والے تا جر جب چترال سے گذر تے تو چترال کو کا شغر خور د یعنی چھوٹا کا شغر کہہ کر پکا رتے تھے اس وجہ سے چترال کا نا م کا شغر سے بگڑ کر قشقار پڑ گیا تھا، مشہور صو فیا یو سف حاجب ؒ، ثا بت عبد الباقی ؒ اور حا جی نیا ز ؒ کے مزارات کا شغر میں ہیں، آج یہ 5کروڑ کی آبادی کا شہر ہے اس کے بر آمد ات کا حجم 9ارب ڈالر سالانہ کے برا بر ہے، کا شغر سے ایک شاہراہ قراقرم ہائی وے کے نا م سے گلگت اور اسلا م اباد تک آتی ہے دوسری شاہراہ تا شقر غن کے راستے تا جکستان اور ازبکستان سے ہو تی ہوئی کا بل تک جا تی ہے 4000سال قدیم شہر آج بھی مشرقی ایشیاء، وسطی ایشیا ء اور مغربی ایشیاء کے درمیان راستوں میں اہم کر دار اداکر تا ہے،

 

پا ک چین فرینڈ شپ اسو سی ایشن نے کا شغر کو پشاور کا جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز دی ہے بخا را وسطی ایشیا ء میں قدیم دور کے مغربی ترکستان کا تاریخی شہر ہے اما م اسما عیل بخا ری ؒ کا مزار اس شہر میں ہے، تاریخی مسا جد اور مزارات کی وجہ سے یو نیسکو (UNESCO) سے اس شہر کو عالمی ورثہ قرار دیا ہے اور ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں شامل کیا ہے بخار اسے ما ل تجارت آج بھی کابل کی ما رکیٹوں میں آتا ہے، کا بل کا شہر افغانستان کے وسطی علا قے میں کو ہ ہندوکش کی وادی کے اندر واقع ہے ہندو کش کا پہاڑ ی سلسلہ مشرق میں چترال سے شروع ہو کر مغر ب میں افغا نستان تک جا تا ہے، کا بل اور چترال شہر میں ایک مما ثلت یہ بھی ہے کہ دونوں سطح سمندر سے 6ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہیں دونوں کی آب ہوا میں حیرت انگیز مما ثلت ہے دونوں کے انار، انگور اور چارمغز ایک جیسا ذائقہ رکھتے ہیں، زما نہ قدیم کے تجارتی کا روانوں کے لئے ما ضی کا پشاور صرف گذر گاہ نہیں بلکہ منزل کی حیثیت بھی رکھتا تھا، اس شہر بے مثال کا تعمیراتی ورثہ بدھہ مت کے دور کی یا د دلا تا ہے گند ھا را سلطنت کا پا یہ تخت پشکلاوتی پشاور کے نواح میں مو جود ہ شہر چار سدہ کے قریب واقع تھا

 

راجہ کنشکا کی کئی یا د گار یں اس خطے میں پائی جا تی ہیں، اکیسویں صدی میں جس طرح کا شغر اور بخا را کی قدیم یا د گاروں کا خیال رکھا جا تا ہے اور جس طرح جدید شاہرا ہوں کے ذریعے ان شہروں کو آج کی دنیا کے بڑے مراکز سے جو ڑا جا رہا ہے وہ تو جہ پشاور اور کا بل کو نہ مل سکی، چاہئیے تو یہ تھا کہ جدید دور میں شاہراہوں اور ریل کی پیٹڑیوں کے ساتھ ہوائی سفر کے ذریعے بھی پشاور کو کا شغر، بخا را، کا بل اور دوسرے وسط ایشیائی شہروں مثلاً اُورومچی، دوشنبہ، خوروگ، سمر قند کے ساتھ ملا یا جاتا لیکن گذشتہ دو سالوں سے پشاور اور جدہ کے درمیان فضا ئی سفر کی سہو لت بھی چھین لی گئی ہے، وسطی ایشیاکے ساتھ قدیم تجارتی اور سیا حتی راستوں کا احیاء پشاور کا حق ہے اللہ کرے پشاور کو ایک بار پھر ماضی جیسی اہمیت مل جا ئے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88332

چور چور کے شور میں-رہبر- 1 سے آئی کیوب قمر تک کا سفر-میری بات:روہیل اکبر

چور چور کے شور میں-رہبر- 1 سے آئی کیوب قمر تک کا سفر-میری بات:روہیل اکبر

گذشتہ روز سابق نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور ن لیگ کے ممبر قومی اسمبلی حنیف عباسی کی آپس میں منہ ماری ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے کو خوب سنائی عباسی نے کاکڑ کو چور کہا تو جواب میں کاکڑ نے اسے فارم 47 پر شرمندہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حقیقت بتا دی تو منہ چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ابھی یہ دونوں ذمہ داران ایک دوسرے کو چور چور کا خطاب دے ہی رہے تھے کہ ایک اچھی خبر بھی سننے کو ملی کہ پہلا پاکستانی سیٹلائٹ آئی کیوب قمر چاند پر روانہ ہوگیا یہ وہ رکا ہوا سفر تھا جو ہم نے1962میں شروع کیا تھا ہماری خوش قسمتی اور پھربدقسمتی ملاحظہ فرمائیں کہ ترقی کا جو سفر ہم نے قیام پاکستان کے بعد شروع کیا تھااس میں پاکستان کے اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کا خلائی سفر بھی تھا اس وقت ہمارے سبھی ادارے انتہائی تیز رفتاری سے ترقی کا سفر شروع کررہے تھے اور دنیا حیرت سے پاکستان کی طرف دیکھ رہی تھی اس وقت دنیا کا عالم کیا ہوگا جب سپارکو نے پہلا راکٹ رہبر ون 7 جون 1962 کو لانچ کیا رہبر-I دو مراحل والا ٹھوس ایندھن والا راکٹ تھا رہبر-1 جب 7 جون 1962 کو لانچ کیا گیا تو اس سے قبل نو ماہ کی مدت میں پاکستانی ٹیم کا قیام عمل میں آیا ان کی تربیت امریکی تنصیبات میں مکمل ہوئی راکٹ رینج کے آلات اور آلات کی خریداری سمیت سائنسی پے لوڈز کا انتخاب سونمیانی میں راکٹ رینج کی تعمیر مکمل ہوئی اور پہلا راکٹ کامیابی سے لانچ ہوا

 

یہ ایک انوکھا کارنامہ تھا جس نے ناسا کے ماہرین کو بھی حیران کر دیا پاکستان تمام ترقی پذیر (برازیل، چین اور بھارت سمیت) اور اسلامی ممالک میں پہلا ملک تھا جس نے سائنسی راکٹری پروگرام کیا۔ رہبر I کامیاب لانچ میں 80 پاؤنڈ سوڈیم کا پے لوڈ تھا اور یہ تقریباً 130 کلومیٹر فضا میں پھیل گیا رہبر-I تمام ٹھوس پروپیلنٹ موٹرز کے ساتھ دو مراحل کا راکٹ تھا۔ رہبر I کی پہلی لانچنگ 7 جون 1962 کو سونمیانی میں ہوئی۔ رہبر راکٹ سیریز ایک تجرباتی راکٹ پروگرام تھا جس نے بعد میں پاکستان کے میزائل پروگرام کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا 1960 کی دہائی کے دوران اور 1970 کی دہائی کے اوائل تک سپارکو نے تجرباتی سیٹلائٹ کے مختلف پے لوڈز کا استعمال کرتے ہوئے 200 سے زیادہ راکٹ لانچ کیے تھے رہبر-1 کی لانچنگ کے ساتھ ہی پاکستان ایشیا کا تیسرا ملک، جنوبی ایشیا کا پہلا ملک، اسلامی دنیا کا اور پوری دنیا کا دسواں ملک بن گیا جس نے خلا میں جہاز بھیجا اس کے بعد 1962 میں رہبر-II کی کامیاب لانچنگ ہوئی رہبر راکٹ پروگرام کا آخری لانچ 8 اپریل 1972 کو ہوا تھا پاکستان کی طرف سے 1962 سے 1972 کے درمیان تقریباً 200 بار مختلف آواز والے راکٹ ماڈل لانچ کیے گئے ان میں سے چوبیس پروازیں رہبر سیریز میں تھیں

 

رہبر سیریز کی پروازوں میں کم از کم تین اور ممکنہ طور پر چار مختلف آواز دینے والے راکٹ استعمال کیے گئے استعمال شدہ راکٹ سینٹور، جوڈی ڈارٹ،نائکی کیجون اور ایک نائکی اپاچی تھے پاکستان کے زیر استعمال دیگر آواز والے راکٹ ڈریگن 2B، پیٹریل اور سکوا تھے رہبر ساؤنڈنگ راکٹ اب سپارکو کی خدمات میں نہیں ہیں رہبر کا لفظی مطلب ہے “راستہ کرنے والا”۔ 1960 میں صدر جان ایف کینیڈی نے امریکی سائنسدانوں کو چیلنج کیا کہ وہ ایک امریکی کو چاند پر اتاریں اور اسے بحفاظت زمین پر واپس لائیں، اس سے پہلے کہ دہائی ختم ہو جائے۔ NASA اس موقع پر کھڑا ہوا اور 1969 میں اپالو 11 کی چاند پر لینڈنگ کے ساتھ یہ حیران کن کام حاصل کیا۔1961 میں NASA نے محسوس کیا کہ بحر ہند کا خطہ اوپری ماحول کی ہوا کی ساخت سے متعلق ڈیٹا کا ایک بلیک ہول تھا جس کی ناسا کے سیٹلائٹ/اپولو پروگراموں کے لیے بری طرح ضرورت تھی ناسا نے بحر ہند کے ساحل پر موجود تمام ممالک کو راکٹ رینج قائم کرنے میں مدد کی پیشکش کی تاکہ اس طرح کا ڈیٹا ناسا کے ساتھ مکمل طور پر شیئر کرنے کی شرط پر حاصل کیا جا سکے

 

اس وقت کے صدرپاکستان ایوب خان اپنے چیف سائنسی مشیر پروفیسر عبدالسلام کے ہمراہ اس وقت امریکہ کے سرکاری دورے پر تھے اور پاکستان نے اس پیشکش کو قبول کرلیا پروفیسر عبدالسلام نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے سینئر انجینئر طارق مصطفی کو ستمبر 1961 میں ناسا حکام کے ساتھ ملاقات میں شرکت کی دعوت دی تاکہ انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے کیونکہ پاکستان اس پیشکش کو قبول کرنے والا پہلا ملک تھا رہبر ساؤنڈنگ راکٹ پروگرام امریکی نائیکی-کیجون/اپاچی راکٹوں کے ارد گرد بنایا گیا تھا جو سوڈیم بخارات لے جاتے ہیں اور اوپری فضا میں ہوا کی رفتار اور ہوا کی قینچی کی پیمائش کے لیے تجربات کرتے ہیں اس اہم پروگرام کی ذمہ دار 5 رکنی ٹیم کی قیادت طارق مصطفی نے کی اور اس میں سلیم محمود اور سکندر زمان بھی شامل تھے یہ دونوں بعد میں سپارکو کے چیئرمین بھی بنے اسکے بعد ہماری بدقسمتی بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ہم نے اپنی ترقی کا گلا خود ہی گھونٹ دیا سب سے پہلے ہم نے 16دسمبر 1971کو شیخ مجیب الرحمن کی اکثریت کو ماننے سے انکار کردیا جیسے ابھی ہم نے قیدی نمبر 804عمران خان کی پارٹی کے ساتھ کیا ہے

 

ایدھر ہم اودھر تم کا نعرہ لگا کر پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہماری بربادی کا سفر یہی پر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ بھٹو کی سربراہی میں بننے والی حکومت نے ترقی کے سفر میں شریک تمام اداروں کو قومی تحویل میں لیکر انکی تباہی و بربادی کا سامان پیدا کردیااور آج ایک بار پھر ان سب اداروں کو فروخت کیا جارہا ہے ملک دشمن طاقتوں کے آلہ کار بننے والوں نے نہ صرف پاکستان کی چلتی ہوئی گاڑی کو پٹری سے اتار دیا تھا بلکہ واپسی کا گیئر لگا کر 1947 کے دور میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی تھی ابھی تو صرف گندم اسکینڈل ہی منظر عام پر آیا ہے جس سے نگرانوں سمیت موجود حکمرانوں کی چیخیں نکلنا شروع ہوچکی ابھی تو آنے والے دور میں اور بھی بہت سے اسکینڈل منظر عام پر آنے والے ہیں اب تحقیقاتی کمیشن بھی رپورٹ دبا نہیں سکیں گے کیونکہ پہلے جب بھی کبھی کوئی اسکینڈل منظر عام پر آتا تھا تو اسکی تحقیقات کے لیے کمیشن بنا دیا جاتا تھا جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتا رہا لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اب کسانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے انہی ڈاکے اور چوریوں کی وجہ سے ہم نے اپنا وہ سفر ختم کردیا تھا جو رہبر -۱ سے شروع ہوا تھا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88319

بھارت میں مذہبی جنونیت کابڑھتا  ہوا خطرہ – تحریر : قادر خان یوسف زئی

Posted on

بھارت میں مذہبی جنونیت کابڑھتا  ہوا خطرہ – تحریر : قادر خان یوسف زئی

سیاسی مہمات میں مذہب ایک اہم عنصر رہا ہے، خاص طور پر قانون سازی کے انتخابات میں، جہاں مذہبی مسائل کو اکثر علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ رجحان نیا نہیں ہے اور مختلف معاشروں بشمول انڈونیشیا، پاکستان اور بھارت میں دیکھا گیا ہے۔ سیاسی مہمات میں مذہبی علامتوں کے استعمال کو سیاسی مارکیٹنگ کی ایک شکل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں مذہب کو ووٹروں کے عقائد اور اقدار کو اپیل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل جنونیت اور تصادم کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ یہ مذہبی برادریوں کو سیاسی شناخت کے طور پر رکھ رہا ہے اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے متحرک کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں انتخابات میں مذہبی جنونیت کے بڑھنے کے رجحانات پائے گئے ہیں۔ یہ جنون مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے، جس میں کمیونٹیز میں تقسیم پیدا کرنے کے لیے مذہبی علامتوں کا استعمال اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے مذہبی جذبات کا استحصال شامل ہے۔ مذہبی جنونیت کو فروغ دینے میں سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا کردار نمایاں ہے، کیونکہ وہ عوامی مسائل اور نظریاتی اختلافات سے توجہ ہٹانے کے لیے اکثر مذہبی مسائل کو استعمال کرتے ہیں۔

انتخابات میں مذہبی جنونیت کا استعمال ایک مسئلہ ہے کیونکہ اس سے جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور اختلافی آوازوں کو دبانے کا باعث بن رہا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ایک زہریلا سیاسی ماحول پیدا کر رہا ہے جو مجموعی طور پر معاشرے کی بھلائی کے لیے نقصان دہ ہے۔ بالخصوص مسلمانوں کو جنہیں بھارت میں اپنی سلامتی اور بقا کا سامنا ہے ، اب انہیں کھلم کھلا در انداز قرار دینے سے گریز بھی نہیں کیا جاتا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ الفاظ اور لب و لہجہ کسی معمولی وارڈ ممبر کے نہیں بلکہ یہ جملے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ادا کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کسی ایک فرقہ یا برادری کے نہیں ہوتے۔ سارے ملک کے وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ ملک کے ہر شہری کے تعلق سی مساوی سوچ و فکر رکھنا ان کی ذمہ داری ہے لیکن یہی دونوں قائدین مسلمانوں کو تقریبا ہر تقریر میں نشا نہ بنا رہے ہیں۔

 

کئی ریاستوں کے چیف منسٹرز بھی اس طرح کی تقاریر سے گریز نہیں کر رہے ۔ وہ عوام سے ہندو بھگوانوں، ہندو توا کے نام پر یا پھر مندروں کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ 2019ء کا ووٹ رام مندر کیلئے تھا اور 2024ء کا ووٹ کرشن مندر کیلئے دیا جانا چاہئے یہ سوائے مذہبی جنون پیدا کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دوسری جماعتوں کو معمولی باتوں پر نوٹس جاری کرنے والا ا انڈین الیکشن کمیشن اس طرح کی تقاریر کے معاملے میں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ بھارت کی نام نہاد جمہوریت کے متحرک کرداروں میں، جہاں تنوع کو ایک طاقت کے طور پر منایا جاتا ہے، تو دوسری جانب سیاسی بیان بازی کے حالیہ رجحانات مذہبی پولرائزیشن اور فرقہ واریت کی پریشان کن تصویر مذہبی اقلیتوں میں بدترین عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہی ہے۔ اقتدار کے اعلیٰ ترین عہدوں سے لے کر ریاستی حکومتوں کے گلیاروں تک، لیڈر تیزی سے فرقہ وارانہ زبان اور مذہبی اپیلوں کا سہارا لے رہے ہیں، جو سیکولرازم اور مساوات کے بنیادی اصولوں کو مجروح کر رہے ہیں۔ فرقہ واریت کا خوف بہت زیادہ پھیل رہا ہے کیونکہ اہم سیاسی شخصیات بشمول وزیر اعظم اور وزیر داخلہ تمام شہریوں کی نمائندگی کرنے کے اپنے فرض کو ان کے عقیدے یا مسلک سے قطع نظر نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔ اتحاد اور شمولیت کو فروغ دینے کے بجائے، ان کی تقاریر اکثر مخصوص مذہبی برادریوں، خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتی نظر آتی ہیں، جس سے قوم کے تانے بانے میں ان کے جائز مقام پر شکوک اور پسماندگی کا سایہ پڑتا ہے۔

مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کا رویہ بھی اتنا ہی پریشان کن ہے، جو کھلے عام ہندو دیوتاؤں اور مندروں کو حمایت کے لیے مسلم مخالف جذبات کو پروان چڑھا رہے ہیں، جس سے انتخابی ماحول کو موثر طریقے سے مذہبی شناخت کے مقابلے میں کم کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کی بیان بازی نہ صرف بھارت کی جمہوریت کی سیکولر بنیادوں کو مجروح کر چکی ہے بلکہ مذہبی جنونیت کے شعلوں کو بھڑکاتی جا رہی ہے، اس سے سماجی ہم آہنگی میں واضح تقسیم ہو چکی ہے جو ایک تکثیری معاشرے کے پھلنے پھولنے کے لیے ضروری ہے۔ تقسیم اور عدم برداشت کے بیج بو کر، یہ لیڈران منصفانہ اور غیر جانبداری کے ساتھ حکومت کرنے کے لیے ان پر رکھے گئے اعتماد کو دھوکہ دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ پولرائزیشن اور اخراج کی سیاست کا انتخاب کریں۔اس رجحان کے سب سے زیادہ تشویشناک پہلوں میں سے ایک ان اداروں کی واضح بے حسی ہے جو جمہوری اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ انتخابی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزیوں اور فرقہ وارانہ ایجنڈوں کے فروغ کے باوجود، الیکشن کمیشن عموماََ غیر فعال مبصر بن چکا ہے، اور انتخابی عمل کی سا لمیت کو برقرار رکھنے کے لیے فیصلہ کن مداخلت کرنے میں ناکام رہا۔ بھارت جیسے متنوع ملک میں،

 

جہاں ہر شہری اپنی مذہبی وابستگی سے قطع نظر مساوی حقوق اور مواقع کا حقدار ہے، یہ ضروری ہے کہ سیاسی قائدین فرقہ وارانہ مفادات سے اوپر اٹھ کر تکثیریت اور رواداری کو اپنائیں۔ جمہوریت تقسیم اور اخراج کی سیاست پر نہیں بلکہ مکالمے، تنوع اور باہمی احترام سے پروان چڑھتی ہے۔ شہری ہونے کے ناطے انہیں اپنے رہنماؤں کو ان کے قول و فعل کے لیے جوابدہ ٹھہرانا چاہیے، اور ان سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ تنگ فرقہ وارانہ مفادات پر مشترکہ بھلائی کو ترجیح دیں۔ موجودہ بھارت کی جمہوریت کا مستقبل اس کی سیکولر اقدار کے تحفظ اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مودی سرکار کی پالیسیوں کو رد کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ عوامی حلقوں میں تمام آوازوں کو سنا اور ان کا احترام کیا جائے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاست میں مذہب کے کردار کے بارے میں مزید اہم تفہیم کو فروغ دیا جائے اور سیاسی گفتگو کی حوصلہ افزائی کی جائے جو عوامی مسائل اور نظریاتی اختلافات پر مرکوز ہو۔ اس سے مذہبی علامتوں کے سیاسی اوزار کے طور پر استعمال کو کم کرنے اور زیادہ جمہوری اور جامع سیاسی ماحول کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ مزید برآں، سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے انتخابی قوانین اور ضوابط کے مضبوط نفاذ کی ضرورت ہے۔ شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ مذہبی جذبات میں بہہ جانے کے بجائے اپنے مسائل اور ان کے حل پر توجہ دیں، کیونکہ یہی سب کے حق میں بہتر ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88266