Chitral Times

گرم چشمہ لوئیرچترال میں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

گرم چشمہ لوئیرچترال میں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

گرم چشمہ (نمائندہ چترال ٹائمز )آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کی جانب سے گرم چشمہ لوئیرچترال کے لیے ایک ہائیر سیکنڈری اسکول کی منظوری دی گئی ہے. یہ جدید تعلیمی ادارہ گرم چشمہ کے مقام ایژ میں تعمیر کیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں گزشتہ دن گرم چشمہ کے مقام پر اس سکول کے سنگ بنیاد رکھنے کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی اس پراجیکٹ کے ڈونر فیروز غلام حسین تھے ۔انہوں نے اپنے دست مبارک سے آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کا سنگ بنیاد رکھا۔اس پروقار تقریب میں لیفٹنٹ کرنل انجم مشتاق نے بھی اعزازی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔تقریب کی صدارت ریجنل کونسل لوئیر چترال کے پریزیڈنٹ ظفرالدین نے کی ۔

 

آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو افیسرامتیاز مومن، ہیڈ آف ایجوکیشن آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان آئین شاہ ، جنرل منیجر گلگت بلتستان اورچترال بریگیڈئر ( ریٹائرڈ ) خوش محمد خان کے علاوہ علاقے کے عمائدین بھی اس تقریب میں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

ابتدائی کلمات میں جنرل منیجر اے کے ای ایس پی بریگیڈئر ریٹائرڈخوش محمد خان نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بہت اہم اور تاریخی دن ہے۔ کیونکہ کہ اس سرزمین پر ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے ۔جو آنے والے وقتوں میں علاقے کی نئی نسل کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے حوالے سے ایک سنگ ِ میل ثابت ہوگا ۔

 

انہوں نے کہا کہ آغا خان ہائیرسیکنڈری اسکول گرم چشمہ کی تعمیر کے منصوبے کی باقاعدہ اجازت شہز ادی زہرا غاخان نے 25 مئی کو اپنے مختصر دورۂ چترال کے موقع پر دی۔

انہوں نے اب تک آغا خان سکولوں کے لیے عطیات دینے والے افراد خاص طور پر اس جدید سہولیات سے آراستہ اسکول کے لیے زمین عطیہ کرنے والی کمیونٹی کے جذبے کو سراہا۔انہوں نے اس کامیابی کے پیچھے کارفرما عوامل کا ذکر کرتے ہوئے چترال کی لیڈرشپ کی تعریف کی کہ انہوں نے تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دہائیوں کی کوشش سے اپنے علاقے ایسی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے.

اس اسکول کے حوالے سے تفصیلی پرزنٹیشن دیتے ہوئے آغا خان ایجوکیشن سروس کے ہیڈ آف ایجوکیشن آئین شاہ نے کہا کہ مذکورہ ہائیر سیکنڈری اسکول میں ابتدائی تعلیم سے لے کر بارھویں جماعت تک ایک سیشن کے دوران ۱۳۰۰ سے زیادہ طلبہ پہلے شفٹ میں اور ضرورت پڑنے پر سیکنڈ شفٹ میں ۱۳۰۰ طلبہ تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ان سکولوں میں آغا خان ایجوکیشن سروس کے زیر انتظام مصروف عمل ہائی سکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ کے علاوہ دوسرے تعلیمی اداروں سے ثانوی تعلیم کی سند حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی قابلیت کی بنیاد پر داخلہ ملے گا۔ سکول کی عمارت کی تعمیر ۲۰۲۷ کے اواخر میں مکمل ہوگی جبکہ پری پرائمری کلاسز کا اجرا پہلے سے ہوچکا ہے ۔

چیف انجینئر تنزیف شاہ نے کہاکہ عمارت کا نقشہ مجوزہ زمین کو قدرتی آفات کے تناظر میں، خوب چھان بین کرکے محفوظ قرار دینے کے بعد بنایا گیا ہے. یہ عمارت تعلیم کے جدید اور اعلیٰ معیار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بنا ئی جائے گی ۔ جس میں جدید طرز تعلیم کی سہولیات سے مزئین کمرہ جماعت، جدیدسائنسی الات سے لیس تجربہ گاہیں، کانفرس روم, کھیلوں کی سہولیات، شدید زمینی بھونچال کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور خدا نخواستہ آگ لگنے کی صورت میں بڑے نقصان سے محفوظ رہنے کی صلاحیت موجود ہوگی ۔

پروگرام کے خاص مہمان اور اس اسکول کے لیے فنڈ عطیہ کرنے والےفیروز غلام حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں خود بھی اے کے ای ایس کاپیدوار ہوں۔ میری تعلیم اے کے ای ایس تنزانیہ میں ہوئی ہے۔ آغا خان ایجوکیشن سروس کی معیاری تعلیم کے فوائد میں پوری زندگی حاصل کرتا رہا۔ آج اس ادارے کی بنیاد اس یقین کے ساتھ رکھ رہا ہوں کہ یہ تعلیمی ادارہ آگے چل کر کئی نسلوں کی زندگی میں بہتری لانے کا سبب بنے گا اور علاقے کے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔ آپ سب لوگوں نے جس شاندار انداز میں استقبال کیا میں اس کے لئے تہہ دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

لفٹنٹ کرنل انجم مشتاق نے کہا کہ آغاخان ایجوکیشن سروس کی تعلیمی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اس ادارے کی تعلیمی خدمات کسی تعارف کے
محتاج نہیں اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کے لوگوں کا تعلیم سے لگاؤ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے علم حاصل کرنے کے اس لگاؤ کی وجہ سے چترال کے لوگ پورے ملک میں سب سے پرامن لوگ تصور کیے جاتے ہیں۔ اسی علم کی وجہ سے اس دھرتی نے بہت سارے نامور سپوت پیدا کئے ہیں جن بھی فخر کیا جاسکتا ہے۔

آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے سی ای او امتیاز مومن نے کہا کہ یہ اسکول ہمارے بچوں کی زندگیوں کو بدلنے میں اہم اکردار ادا کرے گا ۔ انہوں نے فیروز غلام حسین اور ان کی اہلیہ کا شکریہ ادا کیا اور ان کی فیاضانہ کردار کو خراج ِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اداروں کو بنانا کسی فرد یا ایک ادارے کی بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیے کمیونٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز متحد ہوکے کوشش کریں تو بات بنتی ہے ۔

 

تقریب کے آخر میں اسماعیلی ریجنل کونسل کے صدر ظفر الدین نے چترال کی ترقی میں ان تعلیمی اداروں کی اہمیت کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی ، ڈونرز اور آغا خان ایجوکیشن سروس کا شکریہ ادا کیا ۔تقریب میں مختلف مکاتب فکرکے افراد کثیر تعداد میں شرکت کی۔

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 14

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 13

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 17

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 5

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 11 chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 7 chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 6 chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 4 chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 3

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 1

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 10

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 16

chitraltimes akesp aga khan higher secondary school garamchashma

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
89491

شندور فیسٹول کی تیاریوں کے سلسلے میں کمانڈنٹ چترال سکاوٹس اور چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ودیگر کا انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے شندور پولو گراونڈ کا دورہ

شندور فیسٹول کی تیاریوں کے سلسلے میں کمانڈنٹ چترال سکاوٹس اور چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ودیگر کا انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے شندور پولو گراونڈ کا دورہ

اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) شندور فیسٹول 2024 کے انتظامات کا جائزہ لینے کے سلسلے میں اج کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل بلال جاوید، ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین ، ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان ، ونگ کمانڈر 144 ونگ مستوج لیفٹننٹ کرنل محمد نور، صدر پولو ایسوسیشن چترال شہزادہ سکندرالملک اور ویلج کونسل سور لاسپور کے چیرمین نے شندور پولو گراؤنڈ کا دورہ کیا۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی جشن شندور کو شایان شان طریقے سے منانے اور شائقین پولو کو ہرممکن سہولیات پہنچانے کے لئے پولو گراؤنڈ شندور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔

انہوں نے باہمی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اس سال شندور کی خوبصورتی کا خاص خیال رکھا جائے گا اور گراؤنڈ کے اس پاس اور پہاڑوں پر ہر قسم کی خطاطی، پینٹنگ یا غیر ضروری اشتہار وغیرہ لگانے پر مکمل پابندی ہوگی اور لکھنے یا اشتہار وغیرہ لگانے کی صورت میں اسے فوری طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ اس حوالے سے بہت جلد ڈپٹی کمشنر اپر چترال دفعہ 144نافذ کرے گا۔

یہ طے ہوا کہ سویلین تماشائیوں کے لئے اس سال خصوصی سہولیات پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔یہ بھی طے ہوا کہ اس سال پولیس کیمپنگ والا سائڈ تماشائیوں کے رہنے کے لئے ریزرو کیا جائے گا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس سال جشن شندور کو منعقد کرتے وقت مقامی لوگوں کے روایات اور اقدار کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت ، پولو گراؤنڈ کی تزئین و آرائش اور تماشائیوں کے بیٹھنے کے لئے سیڑھیوں پر کام جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔یادرہے کہ جشن شندور اس سال 27 جون سے 29جون کے درمیان منایا جارہاہے، جبکہ اس سے پہلے یہ ایونٹ 7 سے 9 جولائی کے درمیان منایا جاتا رہاہے، گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی اس فیسٹول کی میزبانی چترال کے دونوں اضلاع کی انتطامیہ کرینگے۔

chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 2 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 3 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 4 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 5 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 6 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 7 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 8 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 9 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 1 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 12 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 13 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 14

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
89471

انجمن ترقی کھوار چترال کی مادر ادبی تنظیم ہے۔ اس کے سایے میں بہت سے شخصیات و افراد نے نام کمایا ۔ اس سال انجمن کا 70واں سالگرہ منانے کی تیاری ہونی چاہئیے ۔ پروفیسر اسرار الدین

انجمن ترقی کھوار چترال کی مادر ادبی تنظیم ہے۔ اس کے سایے میں بہت سے شخصیات و افراد نے نام کمایا ۔ اس سال انجمن کا 70واں سالگرہ منانے کی تیاری ہونی چاہئیے ۔ پروفیسر اسرار الدین

 

چترال ( محکم الدین ) چترال کے معروف تاریخی ، ثقافتی اور ادبی شخصیت سابق ڈین جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ پشاور یونیورسٹی پروفیسر اسرارالدین نے اپنی رہئش گاہ سینگور چترال میں ممتاز دانشور کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ، چترال کی تاریخ و ادب کے محقق محمد عرفان عرفان ، نوجوان ریسرچر ارشد عرفان سے ایک غیر رسمی گفتگو میں کہا ہے ۔ کہ چترال کی ادبی تنظیم انجمن ترقی کھوار ایک تناور درخت ہے۔ جس کی عمر اب 70 سال ہونے کوہے ۔ اس تنظیم نے بہت شعراء و ادباء اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے شخصیات پیدا کئے ۔ شعرو ادب و ثقافت اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی صلاحیتوں کو نکھارا ۔ اور انہیں شناخت دی ۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے ۔ کہ بہت سے لوگ اس کو اپنی قابلیت و صلاحیت سے ہی تعبیر کرتے ہیں ۔اگر انجمن ترقی کھوارچترال کے ادباء و شعرا کو یکجا ہونے ایک دوسرے کو سننے اور لکھت کےلئے پلیٹ فارم مہیا نہ کرتا ۔ تو شاید شعرو ادب سے وابستہ افراد کی صلاحتیں خوابیدہ رہ جاتیں ۔

 

انہوں نے کہا ۔ کہ کئی چھوٹی چھوٹی تنظیمیں اور فورمز انجمن کی کوک سے جنم لے چکی ہیں ۔ اور اس کے سائے میں زبان و ادب ،تاریخ اور مختلف ثقافت پر تحقیق و ریسرچ ہو رہے ہیں ۔ جبکہ یہ تنظیمات و فورمز زندہ رہنے کیلئےخوراک اور سایہ انجمن ترقی کھوار سے ہی حاصل کرتے ہیں ۔ انجمن ترقی کھوار کے قیام کے تقریبا ستر سال ہونے کو ہیں ۔ اس لئے اس کا ستر سالہ سالگرہ شایان و شان طریقے سے منانا انتہائی ضروری ہے ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور محمد عرفان عرفان نے پروفیسر کی بات سے اتفاق کیا ۔ اور کہا ۔کہ اس بات میں کوئی کلام نہیں ۔ کہ انجمن ترقی کھوار عالمی سطح پر زبان وادب کی ترقی کیلئے کام کرنے والی تنظیم کی حیثیت سے بہت پہلے پہچان پیدا کر چکا ہے ۔ انجمن کی سرپرستی میں کئی انٹر نیشنل کانفرنسز منعقد ہو چکی ہیں ۔

 

عالمی سطح پر سکالرز کے ساتھ اس ادبی تنظیم کے روابط ہیں ۔ اور اس تنظیم کی سرپرستی میں کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ ان میں زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے وہ کم وسائل کے حامل شاعر و ادیب بھی شامل ہیں ، جن کیلئے انجمن کے عہدہ داروں اور سرپرستوں نے ذاتی طور پر کوشش کرکے ان کی کتابیں شائع کیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں نہ صرف مقام ملا ۔ بلکہ حکومت کی طرف سے مستقل بنیادوں پر اعزازیہ بھی انہیں مل رہا ہے ۔ اگر انجمن یہ کام نہ کرتا تو وہ لوگ حکومتی تعاون بھی حاصل نہ کرپاتے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انجمن کے ستر سالہ سالگرہ منانے کی تجویز بہت اچھی ہے ۔ اس سے چترال میں ادب و ثقافت کے فروغ کیلئے مزید راہیں کھلیں گی ۔ تاہم یہ تجویز انجمن ترقی کھوار کے صدر شہزادہ تنویر الملک اور دیگر عہدہ داروں کے سامنے رکھی جائے گی ۔ جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔

chitraltimes anjuma e tarraqia khowar elites meeting faizi prof israr 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
89487

عوامی شکایات پر چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرزکا چترال-بونی-مستوج-شندور روڈ پر جاری کا معائنہ ، ناقص کام پر برہمی کا اظہار، ازسرنو تعمیر کی ہدایت

عوامی شکایات پر چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرزکا چترال-بونی-مستوج-شندور روڈ پر جاری کا معائنہ ، ناقص کام پر برہمی کا اظہار، ازسرنو تعمیر کی ہدایت

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین نے اج چترال-بونی-مستوج-شندور روڈ میں جاری کام کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کنکریٹ کے کام کا تفصیلی جائزہ لیا اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ کام فوراً روکنے کی، ہدایت کی۔ انھوں نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر معیاری کام کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے مذکورہ کام تسلی بخش طریقے سے دوبارہ کرنے کی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ شکایات کا موقع نہ دیا جائے بصورت دیگر کمپنی کے خلاف قانونی کاروائی کی جائیگی۔

 

اس سے قبل ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان نے عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوۓ چترال شندور روڈ کا دورہ کیا۔ اور روڈ پہ جاری کام کا معائنہ کیا۔اس موقع پر, این ایچ اے کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر کو روڈ پہ جاری کام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے روڈ پرجاری کام تیز و معیار کے مطابق کرنے, اور ناقص کام کی صورت میں متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لانے کی ہدایات جاری کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ روڈ علاقے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا تعمیراتی کام ہر صورت معیار کے مطابق یقینی بنایا جاۓ۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ روڈ پرجاری کام کی مسلسل نگرانی کرے گی۔

یادرہے کہ چترال بونی مستوج شندور روڈ پر جاری  کام ناقص ہونے کی شکایت روز کا معمول بن گیا ہے، گزشتہ دنوں سی ڈی ایم کے سینئرممبران نے مذکورہ روڈ کا معائنہ کرکے تمام نقاص کی نشاندہی کی تھی جس پر  اعلیٰ حکام کی طرف سے نوٹس لیا جارہاہےیہی وجہ ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے بھی اس کا نوٹس لیتے ہوئے روزانہ کی  بنیاد پر چترال شندور پر کام کا معائنہ کررہے ہیں، جس پر علاقے کے عوام نے  اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ دونوں اضلاع کے انتظامیہ اس بین الاقوامی اہمیت کے حامل سڑک کی تعمیر اور معیار میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے تاکہ قومی خزانے کا ضیاع نہ ہو۔

chitraltimes dc upper and lower chitral visits booni mastuj road 2

chitraltimes chitral booni road dc imran visit construction area koh nha road2 chitraltimes chitral booni road dc imran visit construction area koh nha road chitraltimes chitral booni road dc imran visit construction area koh chitraltimes chitral booni road dc imran visit construction area3 chitraltimes chitral booni road dc imran visit construction area2 chitraltimes chitral booni road dc imran visit construction area chitraltimes dc upper and lower chitral visits booni mastuj road

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
89458

28مئی سے01 جون کے دوران ملک کے بالائی علاقوں میں چند مقا مات پر آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کےساتھ بارش کی پیشگوئی

Posted on

28مئی سے01 جون کے دوران ملک کے بالائی علاقوں میں چند مقا مات پر آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کےساتھ بارش کی پیشگوئی

اسلام آباد ( چترال ٹائمزرپورٹ ) محکمہ موسمیات کے مطابق 28مئی سے01 جون کے دوران ملک کے بالائی علاقوں میں چند مقا مات پر آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کےساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی جس سے شدیدگرمی کی لہر میں کمی کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق کمزورمغربی ہوائیں 28 مئی کو ملک کے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے ۔ جس کے باعث بلوچستان میں 27 مئی(رات) سے29مئی کے دوران:کوئٹہ، ژوب، زیارت، شیرانی اوربارکھان میں آندھی /جھکڑچلنے اور گرج چمک کا امکان ہے۔

خیبر پختونخوا میں 28 مئی(شام/رات) سے01جون کے دوران  چترال، دیر، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، کوہستان، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، وزیرستان، کوہاٹ، لکی مروت، باجوڑ، مہمند، کرک، خیبر، پشاور، مردان اور کرم میں آندھی/جھکڑ چلنے اور گرج چمک کےعلاوہ چند مقا ما ت پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔

اسی طرح گلگت بلتستان/کشمیر میں 28 مئی(شام/رات) سے01جون کےدوران گلگت بلتستان (دیامیر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گا نچھے، شگر)، کشمیر (وادی نیلم، مظفر آباد،راولاکوٹ، پونچھ، ہٹیاں،باغ،حویلی،سدھنوتی، کوٹلی،بھمبر،میر پور) میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے
۔

پنجاب/اسلام آباد 28 مئی(شام/رات) سے01جون کے دوران  مری، گلیات، اسلام آباد/راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، قصور، اوکاڑہ، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، خوشاب، سرگودھا، میانوالی اور ساہیوال میں آندھی / جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے علاوہ چند مقا مات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔اسی طرح سندھ 28 مئی اور29مئی کو: کراچی،ٹھٹہ، بدین اور حیدر آباد میں آندھی/ جھکڑ چلنے کا امکان ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق آندھی/جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے باعث روزمرہ کے معمولات متاثر ہونے، کھڑی فصلوں، کمزور انفرا سٹرکچر (بجلی کے کھمبے،گاڑیوں سولر پینل وغیرہ)کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ 28 مئی سے بالائی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر میں کمی کا امکان ہے۔ دریں اثنا ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں ہیٹ ویو جیسی صورتحال کی وجہ سے دن کے درجہ حرارت معمول سے 03 سے04 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو اس دوران”الرٹ“رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89456

وزیر اعظم پاکستان نے یوم تکبیر پر ملک بھر میں سرکاری چھٹی کا اعلان کر دیا

Posted on

وزیر اعظم پاکستان نے یوم تکبیر پر ملک بھر میں سرکاری چھٹی کا اعلان کر دیا

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے دن 28 مئی یوم تکبیر کو سرکاری چھٹی کا اعلان کر دیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یوم تکبیر پاکستانی قوم کے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے اتحاد کی یاد دلاتا ہے، 28 مئی کو پوری قوم نے اس ملک کی سالمیت کیلئے یہ فیصلہ کیا کہ ملکی دفاع پر کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول کر کے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ یومِ تکبیر سیاسی اور دفاعی قوتوں کے اس ملک کے دفاع کو مضبوط تر بنانے کیلئے ایک جھنڈے، سبز ہلالی پرچم تلے متحد ہونے کی یاد دلاتا ہے، یوم تکبیر بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ ایسے اندرونی دشمنوں جو ملک میں انتشار کی سیاست سے اس ملک کو خطرے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں ان کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ ناکام بنانے کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ 28 مئی یوم تکبیر، اس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور پاک فوج کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے اقدام کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔وزیرِاعظم نے کہا کہ اس دن ہم ذوالفقار علی بھٹو کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام شروع کرنے اور اسے جاری و ساری رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والے سائنسدانوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم اس دن یہ عہد کرتی ہے کہ 28 مئی کو جس طرح اس ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا، ویسے ہی ہم شبانہ روز محنت سے اس ملک کی اقتصادی سلامتی کو یقینی بنائیں گے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ آئیں، یوم تکبیر پر ہم یہ عہد کریں کہ نہ صرف بیرونی دشمنوں بلکہ پاکستان میں موجود 9 مئی جیسے واقعات سے انتشار کے خواہشمند عناصر کی شرپسندی کو اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کے ساتھ ساتھ دن رات محنت سے ناکام بنائیں گے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیاہے۔ اور نوٹفیکشن بھی جاری کردیا گیا تاہم صوبے تمام تعلیمی بورڈز کے زیراہمتمام جاری امتحانات جاری رہیں گے۔ اور 28مئی کے پرچے شیڈول کے مطابق ہونگے۔

chitraltimes federal cabinet public holiday notification 28may

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 23 دہشتگرد ہلاک، 7 جوان شہید

راولپنڈی(سی ایم لنکس)خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے تین آپریشنز کئے جس میں 23 دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ 7 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشنز 26 اور 27 مئی کے درمیان کئے گئے، 26 مئی کو حسن خیل میں آپریشن کے دوران 6 دہشتگرد مارے گئے، دہشتگردوں کے کئی ٹھکانے بھی تباہ کئے گئے، آپریشن میں کیپٹن حسین جہانگیر اور حوالدار شفیق اللہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق 27 مئی کو ضلع ٹانک میں دہشتگردوں کے ٹھکانے پر کارروائی کی گئی، کارروائی میں 10 دہشتگرد مارے گئے، تیسرا آپریشن ضلع خیبر کے علاقے باغ میں کیا گیا، آپریشن میں 7 دہشتگرد مارے گئے، دو زخمی بھی ہوئے۔آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ فائرنگ کے شدید تبادلے میں 5 جوان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے، شہداء میں نائیک محمد اشفاق بٹ، لانس نائیک سید دانش شامل ہیں، سپاہی تیمور ملک اور سپاہی نادر صغیر بھی شہید ہوئے، آپریشن میں سپاہی محمد یاسین بھی شہید ہوگئے۔

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہلاک دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود برآمد کرلیا، ہلاک دہشتگرد سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق نائیک محمد اشفاق بٹ شہید کی عمر 32 سال جبکہ ان کا تعلق ضلع کہوٹہ سے ہے، نائیک محمد اشفاق بٹ شہید نے 10سال تک پاک فوج میں خدمات سرانجام دیں، نائیک محمد اشفاق بٹ شہید نے سوگواران میں اہلیہ، 1 بیٹی اور 2 بیٹے چھوڑے ہیں۔ضلع پونچھ کے رہائشی لانس نائیک سید دانش افکار شہید کی عمر30سال ہے، لانس نائیک سید دانش افکار شہید نے 6 سال تک پاک فوج میں مادرِ وطن کے دفاع کے فرائض سر انجام دیئے، لانس نائیک سید دانش افکار شہید نے سوگواران میں والدین، بہن، بھائی اور اہلیہ چھوڑی ہے۔32 سالہ سپاہی تیمور ملک شہید کا تعلق ضلع لیہ سے ہے، سپاہی تیمور ملک شہید نے 11 سال تک دفاع وطن کے فرائض سر انجام دیئے، سپاہی تیمور ملک شہید نے سوگواران میں والدین، بہن، بھائی اور اہلیہ چھوڑی ہے۔

 

شہداء میں سب سے کم عمر 22 سالہ سپاہی نادر صغیر شہید ہیں، سپاہی نادر صغیر شہید ضلع باغ کے رہائشی ہیں، سپاہی نادر صغیر شہید نے 2سال تک پاک فوج میں خدمات سر انجام دیں، سپاہی نادر صغیر شہید نے سوگواران میں والدین اور بہن بھائی چھوڑے ہیں۔سپاہی محمد یاسین شہید کی عمر23سال جبکہ اْن کا تعلق ضلع خوشاب سے ہے، سپاہی محمد یاسین شہید نے ڈیڑھ سال پاک فوج میں خدمات سر انجام دیں، سپاہی محمد یاسین شہید نے سوگواران میں والدین اور بہن بھائی چھوڑے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں دیگر دہشتگردوں کی تلاش کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، سکیورٹی فورسز نے ملک سے دہشتگردی کا ناسور ختم کرنے کا عزم کررکھا ہے، ہمارے جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89451

خیبر پختونخوا انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز 2024، 28مئی سے شروع ہونگے,جن میں صوبہ بھر کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔سید فخر جہاں

Posted on

خیبر پختونخوا انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز 2024، 28مئی سے شروع ہونگے,جن میں صوبہ بھر کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔سید فخر جہاں

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ)وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز 2024،   28مئی سے شروع ہونگے۔انھوں نے کہا کہ مذکورہ انٹر ریجنل گیمز کا انعقاد صوبائی حکومت کا کھیلوں کے فروغ کیلئے ایک اہم قدم ہے۔ان کھیلوں کے ذریعے باصلاحیت کھلاڑیوں کو سامنے آنے کا موقع ملے گا۔خیبر پختونخوا انڈر 23انٹر ریجنل گیمز کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر کھیل کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے پہلے انٹر مدارس گیمز کا کامیابی سے انعقاد ممکن بنایا اور اب انڈر 23 گیمز منعقد کروائے جارہے ہیں جو صوبے میں کھیلوں کے فروغ کی جانب صوبائی حکومت کے مثبت سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔واضح رہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل سپورٹس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ان گیمز کا افتتاح 28 مئی کو حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور میں کیا جائے گا۔ مذکورہ گیمز 28 تا 30 مئی جاری رہیں گے جن میں صوبہ بھر کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ان گیمز میں صوبہ بھر کے انڈر 23 کھلاڑی شرکت کریں گے۔مجموعی طور پر کل 1848 مرد وخواتین کھلاڑی ان کھیلوں میں حصہ لیں گے جن میں 1078 مرد اور 770 خواتین کھلاڑی شامل ہیں۔اس طرح گیمز میں مردوں کے سکواش اور بیڈ منٹن کے مقابلے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں ہونگے۔مردوں کیٹیبل ٹینس،والی بال،ہاکی اور تائیکوانڈو کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس میں ہونگے۔اسی طرح کرکٹ/ہارڈ بال اور کراٹوں کے مقابلے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہونگے جبکہ مردوں کے ایتھلیٹکس مقابلے کوہاٹ سپورٹس کمپلیکس اور تھرو بال پشاور یونیورسٹی میں ہونگے۔مردوں کے فٹ بال مقابلے تہماس خان فٹ بال اسٹیڈیم پشاور میں ہونگے۔خیبر پختونخوا انڈر 23 انٹر ریجنل گیمز میں خواتین کے مقابلوں میں بیڈ منٹن،ٹیبل ٹینس،والی بال،جوڈو اور ہاکی کے مقابلے عبد الولی خان سپورٹس کمپلیکس چارسدہ میں ہونگے۔کرکٹ،ایتھلیٹکس اور تائیکوانڈو کے مقابلے بی آئی ایس ای پشاور کے مقام پر منعقد ہونگے۔خواتین سکواش کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89449

خیبرپختونخوا میں بجلی سے متعلق مسائل حل کرنے کیلئے متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر کام کریں گے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور

Posted on

خیبرپختونخوا میں بجلی سے متعلق مسائل حل کرنے کیلئے متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر کام کریں گے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بجلی سے متعلق مسائل حل کرنے کیلئے متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر کام کریں گے ، بجلی کی غیر اعلانیہ اور ناروا لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صوبے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اسلئے باہمی مشاورت سے ان مسائل کو حل کرنا ناگزیر ہے ۔ اس بات پر اتفاق پایا گیا ہے کہ نظام کے اندر جو خرابیاں ہیں جن سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے اور اس کے علاوہ جو نقصانات ہیں اور جو بقایا جات کا مسئلہ ہے ، ان تمام مسائل پر مل کر کام کریں گے ، جو کام وفاقی محکموں کا ہے وہ کریں گے اور جو ہمارا کردار بنتا ہے ، ہم ادا کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ ہم سستی بجلی پیدا کرکے ملک کو دیتے ہیں اور آئندہ بھی فراہم کریں گے تاہم بجلی کے مسائل اور اس سلسلے میں عوام کے تحفظات کو بھی سمجھنے اور دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکام نے ان مسائل کو حل کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات اُٹھانے پر اتفاق کیا ہے ۔

 

مزید برآں وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے جس کو مکمل طور پر حل کرنے کیلئے وقت لگے گا۔ تاہم وفاقی حکومت نے بھی اس دوران خیبرپختونخوا کے عوام کو فوری ریلیف دینے کیلئے اتفاق ظاہر کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے ہمارے عوام کو درپیش مسائل کا احساس کیا ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کیلئے مل کر کام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ ہم بھی وفاقی حکومت کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ضرور ادا کریں گے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صوبے کے عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانا ہے ۔اس کے لئے ایک لائحہ عمل بنایا گیا ہے جس پر مل کر کام کریں گے ، ہم بہت جلد ان مسائل پر قابو پالیں گے اور لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے ۔

 

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہماری کسی ادارے سے جنگ نہیں ہے ، یہ ہمارے ادارے ہیں جتنے مضبوط ہوں گے ، پاکستان کا فائدہ ہے ۔ہمیں کسی اقدام سے اختلاف ضرور ہو سکتا ہے مگر کسی ادارے کے خلاف نہیں ۔ ہمارے درمیان جو سیاسی اختلافات یا تحفظات ہیں وہ اپنی جگہ پر ہیں اور عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں، اُن معاملات کو اس کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اویس لغاری نے بھی کہا کہ بجلی سے متعلق مسائل کے ازالے کیلئے سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی مشاورت سے لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جو نہایت خوش آئند بات ہے ۔اس سلسلے میں اچھے طریقے سے مشاورت کی گئی ہے اور جو لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اس پر عمل درآمد کے بہترین نتائج نکلیں گے ۔ اسی لائحہ عمل کو دیگر صوبوں میں اختیار کیا جائے گا۔

 

chitraltimes cm kp gandapur meeting with fm energy and interior 1

 

وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کا گزشتہ روز ضلع خیبر میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوراں فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے پانچ جوانوں کی شہادت پر دلی افسوس کا اظہار اور لواحقین سے تعزیت

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے گزشتہ روز ضلع خیبر میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوراں فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے پانچ جوانوں کی شہادت پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے دہشتگردوں کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرکے جام شہادت نوش کیا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ وزیر اعلی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیاں دی ہیں،ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سکیورٹی فورسز کے ان بہادر جوانوں کی قربانیوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے،سکیورٹی فورسز کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی
اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم کا ہر فرد سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے۔

 

دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے ضلع شانگلہ کے علاقہ پیر آباد پاگوڑئ میں پیش آنے والے ٹریفک کے المناک حادثے میں بچوں سمیت متعدد قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلی نے حادثے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو حادثے کے زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اس افسوسناک حادثے میں بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی صدمہ ہوا اور وہ سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89444

مشکلات میں کیا کرنا چاہیے ۔ خاطرات : امیرجان حقانی

مشکلات میں کیا کرنا چاہیے ۔ خاطرات : امیرجان حقانی

زندگی میں آزمائشیں اور مشکلات آتی ہیں اور مالی مسائل بھی انہی آزمائشوں میں سے ایک ہیں۔ ایسے حالات میں جب انسان مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہو، تو اس کے ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آج کی تحریر میں ان افراد کو اطمینان، سکون، اور حوصلہ فراہم کرنا ہے جو ان حالات سے گزر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چند معروضات عمومی حوالے سے بھی عرض کرنی ہیں تاکہ تحریر سے استفادہ عامہ ممکن ہو. دینی اور دنیاوی نقطہ نظر سے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح ہم ان مشکلات سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔

 

دینی نقطہ نظر

دین اسلام بھی انسان کے ہر معاملے میں مکمل رہنمائی کرتا ہے. قرآن کریم کی سینکڑوں آیات، آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے فرامین اور سیرت اس حوالے سے انسان کو بہت زیادہ رہنمائی اور موٹیویشن دیتی ہیں. تاہم ایک دو پوائنٹس دینی نکتہ نظر سے عرض کرتے ہیں.

 

1.صبر اور توکل:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کرنے کی تاکید کی ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں.

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾
ترجمہ”اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
صبر اور نماز کے ذریعے ہم اللہ کی مدد حاصل کر سکتے ہیں اور دل کو سکون پہنچا سکتے ہیں۔ یہ مجرب اعمال ہیں. اسی طرح توکل بھی ہے.

 

2.شکر گزاری:
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہمیں ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ مالی مشکلات ہیں، لیکن ہماری زندگی میں بہت سی دوسری نعمتیں بھی ہیں جن کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ

ترجمہ “اور اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (سورۃ ابراہیم: 7).

 

3.دعا اور استغفار:

دعا ایک ایسی عبادت یا ایکٹیویٹی ہے جس کی کیفیات ہر انسان کے لیے علیحدہ ہے. دعا کرنا اور اللہ سے مدد طلب کرنا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ استغفار کے ذریعے ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ دعا اور استغفار سے دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

 

دنیاوی نقطہ نظر

مشکلات سے نمٹنے کے لئے دین کیساتھ دنیاوی اعتبار سے بھی بڑی رہنمائی ملتی ہیں. جو باتیں عموماً دنیاوی اعتبار سے کہی جاتیں ہیں وہ بھی دینی نقطہ نظر ہی ہوتا ہے. دین اسلام نے ان تمام ہدایات و امور کو سمو دیا ہے تاہم، ہم افہام و تفہیم کی آسانی کے لیے دنیاوی عنوان سے اس کا ذکر کر دیتے ہیں. چند اہم پوائنٹ ملاحظہ کیجئے.

 

1.خود اعتمادی اور مثبت سوچ:

دنیاوی اعتبار سے، خود اعتمادی اور مثبت سوچ اپنانا ضروری ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ آپ ہر مشکل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہر دن کو ایک نئے موقع کے طور پر دیکھیں اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے محنت کریں۔

 

2.مدد قبول کرنا:

جب ہم بالخصوص مالی مشکلات و مسائل کا سامنا کرتے ہیں تو بعض اوقات ہم مدد لینے سے جھجکتے ہیں، لیکن مشکل حالات میں مدد قبول کرنا ضروری ہے۔ دوستوں، رشتہ داروں یا فلاحی اداروں سے مدد لیں۔ یہ یاد رکھیں کہ مدد طلب کرنا کوئی کمزوری نہیں ہے بلکہ ایک سمجھداری کا عمل ہے۔ بہت دفعہ رریاستی سسٹم میں بھی مدد کے کئی پہلو موجود ہوتے ہیں جو ہمیں معلوم نہیں ہوتے.
عمومی طور پر ایک مسئلہ پیش آتا ہے کہ لوگ مدد کرنے یا قرضہ حسنہ دینے سے کتراتے ہیں، وہ الگ بحث ہے. سردست یہ دیکھنا کہ مشکل اوقات میں دیگر احباب سے مدد طلب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے.

 

3.نئے مواقع کی تلاش:

عموماً ہم جب بھی مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتے ہیں اور مزید خود کو کمزور اور کسیل بنا دیتے ہیں.
ایسے میں مالی مشکلات کا سامنا کرتے وقت نئے مواقع کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ کوئی نیا ہنر سیکھیں، کوئی نیا کاروبار شروع کریں یا موجودہ کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ دنیاوی اعتبار سے، جدت اور محنت ہی ہمیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔

عمومی طور پر ہم جب بھی مشکلات میں پھنسے، یہ مشکلات کسی بھی نوعیت کے ہوسکتے ہیں. مالی ہونا ضروری نہیں. ایسے حالات میں ہمیں چند باتوں کا خصوصیت سے خیال رکھنا چاہیے تاکہ ان حالات و مشکلات کا مقابلہ کرسکیں.

 

1.مثبت سوچ و رویہ اپنائیں:

منفی ترین حالات میں بھی ہمیشہ مثبت پہلو دیکھنے کی کوشش کریں۔ ہر مشکل میں سیکھنے کا موقع تلاش کریں۔ ایسے حالات میں رویوں کو مزید مثبت بنانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے.

 

2.اہداف مقرر کریں:

واضح اور قابلِ حصول اہداف طے کریں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ یہ آپ کو سمت فراہم کریں گے اور آپ کی محنت کو بامقصد بنائیں گے۔ اہداف طے کیے بغیر زندگی بہت مشکل اور بے ڈھنگ ہوجاتی ہے. میں اپنے طلبہ کو اہداف کے تعین کے حوالے سے باقاعدہ لیکچر دیتا ہوں. یہ صراط مستقیم ہے جو ہر انسان کی الگ ہے جس کا ہر ایک کو الگ الگ جاننا ضروری ہے.

 

3.استقامت برقرار رکھیں:

کامیابی کے حصول کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہے. کامیابی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی۔ کامیابی کے حصول کے لئے مستقل مزاجی اور صبر کے ساتھ کام جاری رکھیں۔ہزاروں عالمی و کامیاب شخصیات میں استقامت کامن صفت ہے. اللہ نے بھی اسی کا حکم دیا ہے.

 

4.خود پر اعتماد رکھیں:

خود اعتمادی سے ہی آپ مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یقین رکھیں کہ آپ کے پاس مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیلنٹ موجود ہے۔ آپ مسائل کو ریزہ ریزہ کرسکتے ہیں. بس اس کے لئے خود پر، اپنے سکلز اور علم پر اعتماد کی ضرورت ہے.

 

5.حوصلہ افزائی حاصل کریں:

ہم عمومی طور پر حوصلہ شکن لوگ ہیں. ہماری ناکامیوں کا ایک بڑا سبب حوصلہ شکنی ہے. ہم ذرا اوٹ اف بکس سوچنے والوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں. معاشرتی بیریر کھڑے کر دیتے ہیں، اور جی بھر کر حوصلہ شکنی کرتے ہیں. تاہم مشکل حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو ہماری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ڈھارس بندھاتے ہیں اور ہمیں مثبت توانائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے غنیمت ہوتے ہیں. انہیں کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہیے. معلوم کیجئے. رسول اللہ بھی اپنے اصحاب کو مثبت توانی دیتے رہتے تھے. کاش یہ طرز عمل ہمیں سمجھ آجائے.

 

6.تعلیم اور مہارت میں اضافہ کریں:

اپنی تعلیم اور اپنی مہارتوں میں اضافہ کرنے سے بھی انسان ایزی فیل کرتا ہے بلکہ دوسروں سے نمایاں ہوجاتا ہے. علم اور مہارتیں بڑھانے سے آپ مشکلات کا بہتر سامنا کر سکتے ہیں اور مزید مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ دور ہی تعلیم و سکلز میں مہارتوں اور بڑھاوے کا ہے. اس سے انسان میں کنفیڈینس بھی آجاتا ہے.

 

7. خود کو آرام دیں:

بعض دفعہ ہم مشکلات میں مزید الجھ جاتے ہیں. ڈپریشن اور اینگزائٹی کا شکار ہوجاتے ہیں. خود کو تکلیف دینے لگ جاتے ہیں. اس سے پرہیز لازم ہے. جسمانی اور ذہنی سکون کے لیے وقت نکالیں۔ ورزش میں مشغول رہیں۔ خوب نیند کریں اور گھر والوں کو بھی ٹائم دیں اور کھلیں کودیں. گپیں ماریں. چیخیں چلائیں اور ہنسیں ہنسائیں. غرض جس شکل میں بھی انجوائے کرنے کی گنجائش ہو کرگزر جائیں.

 

8.منصوبہ بندی اور تنظیم:

مشکلات میں بالخصوص اپنے وقت اور وسائل کی بہتر منصوبہ بندی کریں. مسائل اور وسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ ترجیحات کا تعین کریں اور اہم کاموں پر توجہ دیں۔ غیر ضروری امور میں الجھنے اور پھنسنے سے قطعی گریز کریں.

 

9. مثبت عادات اپنائیں:

انسان کو ہر اعتبار سے مضبوط بننے کے لئے کچھ مستقل عادات اپنانی ہوتی ہیں. ان سے بہت کچھ اچھا محسوس کیا جاسکتا ہے. روزانہ کی مثبت عادات، جیسے کہ مطالعہ، ورزش، اور شکرگزاری، گھر کے چھوٹے موٹے کام، آپ کو مضبوط اور مثبت بناتی ہیں۔ اور بہت ساری عادات حسب ضرورت اپنائی جا سکتیں ہیں.

 

10.ماضی سے سیکھیں:

یاد ماضی کو عذاب بنانے کے بجائے اسی ماضی کی ناکامیوں اور کامیابیوں سے سبق حاصل کریں اور مستقبل میں بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کریں۔ بعض اوقات ماضی کی غلطیاں اور کامیابیاں عظیم استاد بنتی ہیں. ہمیں بڑے نقصانات سے بچاتی ہیں اور کامیابیوں کی طرف گامزن کرتی ہیں.

تلکہ عشرۃ کاملۃ، فی الحال یہی دس نکات کافی ہیں.

 

مشکلات مالی ہوں یا کوئی بھی، زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان سے نبرد آزما ہونے کا طریقہ ہمارے اختیار میں ہے۔ دینی اور دنیاوی نقطہ نظر کو اپنا کر ہم نہ صرف اپنی مالی مشکلات سے نکل سکتے ہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ صبر، شکرو ذکر، دعا، اور استغفار سے دل کو سکون ملتا ہے، جبکہ خود اعتمادی، مثبت سوچ، اور نئے مواقع کی تلاش سے ہم دنیاوی اعتبار سے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ہر مشکل سے نکالے۔ آمین۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
89442

پیام شاہ  امم ص  کا بھرم رہے کچھ لوگ – از قلم: عصمت اسامہ۔

Posted on

پیام شاہ  امم ص  کا بھرم رہے کچھ لوگ – از قلم: عصمت اسامہ۔

 

” استاذ جی کو بتا دینا کہ میں دھرنے کے لئے جارہا ہوں اس لئے جلدی نکل رہا ہوں۔میں لیڈ ٹیم میں شامل ہوں اور میرا وہاں جانا بہت ضروری ہے غزہ کے لئے۔ غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے بعد تو جینا بھی اچھا نہیں لگتا۔استاذ کو میرا یہ پیغام پڑھا دینا۔۔۔۔” رومان ساجد شہید کا یہ آخری پیغام تھا جو اس نے فلس طین دھرنا ڈی چوک میں نکلنے سے قبل اپنے دوست کو بھیجا تھا۔ وہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کا طالب علم،آزاد کشمیر کا باشندہ تھا اور ” سیو غ زہ کمپین ” میں بطور سوشل میڈیا ذمہ دار،کام کر رہا تھا۔پندرہ دنوں سے پارلیمنٹ کے سامنے ایکس سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب،ان کی اہلیہ حمیرا طیبہ (فاؤنڈر سیو غ زہ کمپین) کچھ طلبہ اور شہریوں کے ساتھ دھرنا دئیے ہوۓ ہیں۔ اپنے آرام دہ گھروں کو چھوڑ کر سخت گرمی میں یہ لوگ سڑکوں پر دن رات کیوں گزار رہے ہیں؟ کیا یہ ڈی چوک پر کسی ذاتی مفاد کے لئے جمع ہوۓ ہیں؟ پولیس کی دھمکیوں،لاٹھی چارج، رات دو بجے گاڑی چڑھانے کے قاتلانہ واقعہ اور دو معصوم شہریوں کی شہادت کے باوجود یہ لوگ دھرنا کیوں جاری رکھے ہوۓ ہیں،آخر کیوں؟ درحقیقت ان کا اپنا کوئی ذاتی مقصد نہیں ہے بلکہ ” فلس طین میں جاری نسل کشی” کو روکنے اور عالمی طاقتوں کی کھلی دہ شت گردی کے خلاف،حکومت_ پاکستان سے عملی اقدامات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں کہ غ زہ میں پندرہ ہزار معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل کر، بستیوں اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے، غیر مسلم اقوام بھی اب سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں

۔انسانیت کی تذلیل کے خلاف انسانیت اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ یورپی یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات،کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے فلس طین میں جاری قتل_ عام کو روکنے کے لئے دھرنے اور جلسے کر رہے ہیں،مسلمان ممالک کی یہ خاموشی،زندہ ضمیروں پر بے حد گراں گذر رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایمان اور عقیدے کی جنگ ہے جو قبلہء اول بیت المقدس،خانہء خدا کی خاطر لڑی جارہی ہے،یہ صرف فلس طین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بہت جلد دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی،اگر امت_ مسلمہ نے جلد متحد ہوکے کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا تو یوں ہی گاجر مولی کی طرح یکے بعد دیگرے کٹتے مرتے چلے جائیں گے۔

سیو غ زہ کمپین کے سب پرامن شرکاء مبارک باد کے مستحق ہیں جو حق کا علم اٹھاۓ میدان میں اترے ہوۓ ہیں،غ زہ کے معصوم بچوں کی تکالیف کو اپنے بچوں کی تکالیف کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ جنھیں اپنے رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوکے جواب دہی کے خوف نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں لا کے کھڑا کردیا ہے،جنھوں نے یہاں کیمپوں کو نمازوں،تلاوت_ قرآن اور دروس سے آباد کردیا ہے، جو لاٹھیاں برسانے والے پولیس اہلکاروں کو بھی پانی کی بوتلیں تقسیم کرتے نظر آتے ہیں،

محترمہ حمیرا طیبہ (فاؤنڈر سیو غ زہ کمپین) ہر بار نوجوانوں کو پولیس گردی سے بچانے کے لئے خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہیں انھوں نے صحابیہ حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کی یاد تازہ کردی ہے،جو ایک غزوہء میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چاروں اطراف سے دفاع کر رہی تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ “آج تو ام عمارہ کا دن تھا!”. کیا کبھی کسی نے ویمن ایمپاورمنٹ کی ایسی مثال کہیں اور دیکھی ہوگی؟

~ ہر ایک قدم پر ثابت قدم رہے کچھ لوگ
جبینِ وقت پر کچھ ایسے رقم رہے کچھ لوگ
زوال_ جرات _ کردار کے زمانے میں
پیام_ شاہ_ امم ص کا بھرم رہے کچھ لوگ!

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
89439

SIFC ایپکس کمیٹی اجلاس، اداروں کی نجکاری اور بیرونی سرمایہ کاری پر اطمینان کا اظہار

Posted on

SIFC ایپکس کمیٹی اجلاس، اداروں کی نجکاری اور بیرونی سرمایہ کاری پر اطمینان کا اظہار

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ) خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی نے ریاستی اداروں کی نجکاری پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے جاری عمل پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر نجکاری کو بروقت مکمل کرنے پر زور دیا ہے جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کیلیے تیار ہیں۔وزیراعظم کی زیر صدارت ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ساڑھے چھ گھنٹے جاری رہا۔ جس میں آرمی چیف، وفاقی کابینہ، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ سطح کے سرکاری حکام نے شرکت کی۔ وزراء نے ایس آئی ایف سی کے تحت مختلف منصوبوں اور پالیسی اقدامات پر جامع پیشرفت حاصل کی اور مستقبل میں طے شدہ سنگ میلوں کو پورا کرنے کے منصوبے پیش کیے۔کمیٹی نے اب تک کی مجموعی پیشرفت پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا اور وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کے کردار کو سراہا۔کمیٹی نے ملک کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم سے فراہم کی جانے والی سہولیات کو بھی سراہا۔آرمی چیف نے ملک کی معاشی خوشحالی اور عوام کی سماجی و اقتصادی بہبود کے لیے حکومتی اقدامات میں قدم سے قدم ملانے کے لیے پاک فوج کے پختہ عزم کی یقین دہانی کرائی۔

 

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج ایس آئی ایف سی کے اجلاس سے اتحاد کا پیغام گیا ہے، ایس آئی ایف سی پر سب کو اعتماد ہے ایس آئی ایف سی کے فورم پر سب متحد ہیں،اجلاس میں شرکت پر تمام وزرائے اعلیٰ کے مشکور ہیں۔ ایس آئی ایف سی فورم کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے اندر سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لئے چھ ڈیسک بنائے جائیں گے، وزیر ایس آئی ایف سی ملکی معیشت کی لائف لائن ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ چیزوں کو بہتر کرکے پیش کیا گیا ہم تو پہلے ہی کہتے صوبے کی وسائل پاکستان کیلئے خرچ ہورہے ہیں ہمارے وسائل استعمال ہورہے لیکن ہمیں ہمارا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صوبے کی نمائندگی کرنے کیلیے شرکت کی، فاٹا میں ٹیکس کا معاملہ بھی تھا اس ٹیکس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے یقین دہانی کروائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے واجبات ہیں صوبے کی عوام کو ریلیف دینا ہے اگر ہمارے واجبات ادا نہیں کئے گئے تو پھر زیادتی ہوگی آئین میں بجٹ پیش کرنے میں منع نہیں کیا گیامیری عوام میرے ٹیکسز سے میں اپنے طریقے سے ٹیکس لگائیں گے نوجوانوں کو روزگار دیں گے بجٹ بہترین پیش کیا ہے عوام کا حق بنتا تھا ہم نے ریلیف دیا ہے مجھے پہلے نہیں بلایا گیا تھا وہ زیادتی تھی مائننگ کمپنی بنا لی ہے۔

 

اْن کا کہنا تھا کہ اگر ایس آئی ایف سی میں نہ بلاتے تو مجھے فرق نہیں پڑنا تھا ہمارے پاس ویڑن بھی اور کام کرنا بھی جانتے ہیں سابق فاٹا میں کافی مسائل آرہے ہیں افغانستان سے تجارت بند ہونے سے پاکستان کی معیشت کو نقصان ہورہا ہیر بانی پی ٹی آئی کا معاملہ نمبر ون پر ہے اس معاملے پر بات چیت الگ سے شروع ہے ایس آئی ایف سی کا ایجنڈا الگ تھا۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سے دو بار علیک سلیک ہوئی ہے بانی چیئرمین پاکستان کیلئے بات چیت کرنے تو تیار ہیں علی امین گنڈا پور بہت جلد بہتر رزلٹ ملیں گے پنجاب حکومت کا رویہ ٹھیک نہیں۔ یہ کام ہم بھی کرسکتے ہیں۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عسکری قیادت نے ملکی سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کیا، وقت کے ساتھ ساتھ ایس آئی ایف سی کی اہمیت نے ناقدین کے منہ پر تالا لگادیا۔اجلاس میں وزیراعظم کے دورہ متحدہ عرب امارات کے موقع پر 10 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے بارے میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی اور غیر ملکی سرمایہ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کا دورہ انتہائی کامیاب رہا، یو اے ای قیادت نے دس ارب ڈالر پاکستان میں سرمایہ کاری کیلیے مختص کیے ہیں۔ وزیراعظم نے شرکا سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا، اب تجارتی و معاشی تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں،

 

صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایس آئی ایف سی کو لے کر چل رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ چاروں صوبے ایس آئی ایف سی پر اعتماد کرتے ہیں سعودی عرب اور یو اے ای یکسو ہیں کہ تمام سرمایہ کاری ایف آئی سی ایف کے ذریعے ہی ہوگی، ایف بی آر کی ڈیجیٹیلائزیشن کے لیے غیر ملکی فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں، ایس آئی ایف سی کے حوالے سے فوجی اور سول افسران مل کر کام کررہے ہیں، جرمن سرمایہ کاروں نے بھی ایس آئی ایف سی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ہم بہت جلد اپنے اہداف کو حاصل کرلیں گے۔شہباز شریف نے بتایا کہ ہمارا دورہ سعودی عرب اور یو اے ای کامیاب رہا ہے، عسکری قیادت نے ملکی سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کیا، وقت کے ساتھ ساتھ ایس آئی ایف سی کی اہمیت نے ناقدین کے منہ پر تالا لگادیا، تجارتی اور معاشی تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ امارات اور سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کیلیے تیار ہیں، اب ہماری طرف سے تیاری ہونی ہے، وقت قریب ہے پاکستان جلد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا۔ انہوں نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابوظہبی میں کہہ دیا کہ ہم کشکول توڑ رہے ہیں، جس کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بتائیں ہم کتنی سرمایہ کاری کریں اور پھر دس بلین کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سب سے درخواست ہے کہ ایک قوم بن جائیں، دن رات محنت کر کے خون پسینہ بہائیں، صوبوں اور وفاق کو ملکر چلنا اور روکھی سوکھی اکھٹے کھانی ہے، متحد ہونے کے علاوہ کوئی جادو ٹونہ کام نہیں دے سکتا۔اجلاس میں دوست ممالک کی سرمایہ کاری پر رپورٹ پیش کی گئی اور داخلی سیکیورٹی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اینٹی اسمگلنگ کارروائیوں پر بریفنگ دی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89431

سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کی طویل عرصے سے غیر حاضر میڈیکل آفیسرز کے خلاف کاروائی،ڈیوٹی سے غیر حاضر 10 میڈیکل افسران ملازمت سے فارغ کردئیے گئے

Posted on

سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر کی طویل عرصے سے غیر حاضر میڈیکل آفیسرز کے خلاف کاروائی،ڈیوٹی سے غیر حاضر 10 میڈیکل افسران ملازمت سے فارغ کردئیے گئے

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) سیکرٹری ہیلتھ محمود اسلم وزیر نے کہا ہے کہ محکمہ صحت نے طویل غیر حاضری پر میڈیکل افسران کیخلاف کارروائی شروع کردی ہے اور ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضر رہنے پر 10 میڈیکل آفیسرز کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا ہے۔انہوں نے محکمہ صحت کے عملے کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کا جو بھی ملازم ڈیوٹی پر نہیں آتا اس کے خلاف سخت ایکشن لینگے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تنخواہ وقت پر ملتی ہے تو فرائض بھی نبھانے ہونگے، محکمہ صحت نے غیر حاضر میڈیکل افسروں کی برخاستگی کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق 2022 سے مسلسل ڈیوٹی سے غیر حاضر میڈیکل افسروں کو حاضر ہونے کیلئے نوٹس بھجوائے گئے۔ نوٹس کے 15 دن کے اندر ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے پر ان ملازمین کیخلاف اخبارات میں اشتہار بھی دیا گیا۔ اعلامیہ میں لکھا گیا ہے کہ بار بار نوٹس کے باجود ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے والے گریڈ 17 کے 10 ڈاکٹروں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89427

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور سابق وفاقی وزیرمراد سعید کو تحفظ دینے کے حوالے سے اپر چترال میں احتجاجی جلسہ، صوبائی جنرل سیکریٹری یوتھ ونگ کی خصوصی شرکت

Posted on

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور سابق وفاقی وزیرمراد سعید کو تحفظ دینے کے حوالے سے اپر چترال میں احتجاجی جلسہ، صوبائی جنرل سیکریٹری یوتھ ونگ کی خصوصی شرکت

اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی ، سابق وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کو تحفظ دینے اور عام انتخابات 2024 میں پاکستان تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کرنے کے خلاف آج اپر چترال کے ہیڈکوراٹر بونی میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔احتجاجی جلسے میں جنرل سیکرٹری یوتھ ونگ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا ڈاکٹر شفقت ایاز نے خصوصی طور پر شرکت کیں۔ احتجاجی جلسے میں چیئرمین تحصیل کونسل موڑکہو/تورکہو اپر چترال میر جمشید الدین ، چیئرمین تحصیل کونسل مستوج اپر چترال سردار حاکم ، پارٹی لیڈر شپ ، پاکستان تحریک انصاف اپر چترال کے تنظیمی عہدیداراں ، پارٹی ورکرز اور عوام الناس کثیر تعداد میں موجود تھے۔جنرل سیکرٹری یوتھ ونگ خیبر پختونخوا ڈاکٹر شفقت ایاز کا کوراغ اپر چترال میں پرتپاک استقبال کیا گیا اور بڑی ریلی کے ساتھ جب قافلہ ہیڈکوارٹر بونی میں داخل ہوا تو بڑے جلسے کی شکل اختیار کی۔ڈاکٹر شفقت ایاز ، چیٸرمین میر جمشید الدین ، چیٸرمین سردار حاکم ،محمد ہارون اور دیگر مقررین نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کی بھر پور انداز میں مذمت کی اور عمران خان کی فوری رہاٸی ، سابق وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کو تحفظ دینے اور عام انتخابات 2024 میں پاکستان تحریک انصاف کی چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی جلسے کے بعد مین چوک بونی سے بازار کے وسط تک احتجاجی واک بھی کیا گیا۔

chitraltimes pti upper chitral protest for release of pti chairman imran khan 3 chitraltimes pti upper chitral protest for release of pti chairman imran khan 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
89422

لوئیر چترال : تھانہ شغور اور کوغذی کے حدود میں فریقین کے درمیان تنازعہ خوش اسلوبی سے حل 

لوئیر چترال : تھانہ شغور اور کوغذی کے حدود میں فریقین کے درمیان تنازعہ خوش اسلوبی سے حل ,

 

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ ) ڈی۔پی۔او لوئر چترال افتخار شاہ کی خصوصی ہدایات پر عوام کے درمیان معمولی تنازعات کو معتبرات علاقہ کی موجودگی میں باہمی صلح اور اتفاق رائے سے حل کیا جارہا ہے۔ ڈی پی او آفس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایس۔ایچ۔او تھانہ شغور ایس آئی عطاء الرحمن کی کاوشوں سے علاقہ اوڑاغ کریم آباد سے تعلق رکھنے والے دو فریقین کے درمیان جیب ایبل روڈ کے تنازعے کو معتبرات علاقہ کی موجودگی میں باہمی مشاورت سے حل کیا گیا۔دونوں فریقین ایس۔ایچ۔او تھانہ شغور کی موجودگی میں ایک دوسرے کے ساتھ بغلگیر ہوگئے اور اپنے درمیان تنازعے کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ۔

اسی طرح تھانہ کوغذی لوئیر چترال کے حدود میں سگے بھائیوں کے درمیان جائداد کا سنگین تنازعہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا ، علاقہ راغ کوغوزی سے تعلق رکھنے والے سگے بھائیوں کے درمیان جائیداد کا تنازعہ ہوکر سنگین حالات اختیار ہونے کا اندیشہ تھا ۔ایس۔ایچ۔او تھانہ کوغوزی SI رحیم بیگ نے فریقین کو تھانے بلاکر راضی نامہ کرکے رنجش کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ۔فریقین نے تھانے میں ایس۔ایچ۔او کی موجودگی میں تنازعے کو ختم کرکے ایک دوسرے کے ساتھ بغلگیر ہوگئے۔

chitraltimes chitral lower police PS Shoghore and Koghuzi resolves disputes among brothers 2 chitraltimes chitral lower police PS Shoghore and Koghuzi resolves disputes among brothers 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
89417

ذیابیطس میں دنیا کا نمبر1ملک پاکستان – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

ذیابیطس میں دنیا کا نمبر1ملک پاکستان – میری بات:روہیل اکبر

دنیا میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا پاکستان یک دم تنزلی کی طرف گیا یا آہستہ آہستہ اس پر سوچنے سے پہلے بس اتنا یاد رکھیں کہ یہ وہ علمی ملک تھا جس کے تعلیمی اداروں میں بیرون ممالک سے بچے آکر پڑھا کرتے تھے پاکستان ایک ایسا خوبصورت ملک تھا جہاں دنیا پھر کے سیاح گھومنے آیا کرتے تھے اسکے ادارے ان میں کام کرنے والے لوگ اتنے پیارے،مخلص اور باصلاحیت تھے کہ بچپن میں جس کو دیکھتے بڑے ہوکر وہی بننے کی خواہش ہوتی تھی لوگ صحت مند ہوا کرتے تھے اور وہ بیماریاں جو آج پورے پاکستان کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں انکا نام تک نہیں آتا تھا پھر وقت نے پلٹا کھایا اور ملک اندھیروں کے راستے پر گامزن کردیا گیا اپنے ہی بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے

 

اس شعبہ میں ایسے ایسے کاریگر قسم کے لوگ آئے جنہوں نے امیروں اور غریبوں کی تعلیم کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا بلکہ غریبوں سے تعلیم کا حق ہی چھین لیا گیا آ ج ہمارے بچے جس طرح کرغستان /بشکیک سمیت دنیا بھر میں خوار ہورہے ہیں وہ پوری دنیا میں مزاق بن چکا ہے رہی بات صحت کی اس میں بھی ڈاکٹروں نے جو ہمارا حشر کردیا ہے وہ بھی ناقابل یقین ہے سرکاری ہسپتالوں میں انسانوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ہورہا ہے ڈاکٹر بچوں کو جان سے مارتے بھی ہیں اور پھر انکے والدیں کو احتجاج بھی نہیں کرنے دیتے الٹا انہیں بھی مارتے ہیں اور پھر تھانوں میں پرچے بھی کرواتے ہیں ہماری پولیس اپنی کرتوتوں کی وجہ سے کبھی فوجیوں سے مار کھاتی ہے تو کبھی کھسرے انہیں تھانوں میں گھس کر مارتے ہیں رہی بات عوام کی انہیں ہمارے حکمرانوں نے اس قابل چھوڑا ہی نہیں کہ وہ کچھ کرسکیں الیکشن سے پہلے کوئی 2سو یونٹ بجلی مفت دے رہا تھا تو کوئی 3سو یونٹ مفت بجلی کا لالی پاپ ہاتھ میں پکڑے عوام کو ترسا رہا تھا جبکہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے تو اپنے کپڑے بھی بیچنے کا وعدہ کررکھا تھا لیکن جب یہ لوگ فارم47کی مدد سے جیت گئے تو پھر انکے سارے وعدے اور دعوے بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے

 

عوام کو حکمرانوں کے سارے وعدے بھول گئے گیونکہ وہ بے روزگاری،غربت،مہنگائی اور بیماریوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں بیماریاں بھی ایسی جو لاعلاج ہیں ان میں ایک شوگریا ذیابیطس بھی ہے جو ایک دائمی بیماری ہے جس میں انسان کا جسم یا تو مناسب انسولین پیدا کرنے یا استعمال کرنے سے قاصر ہوتا ہے وہ ہارمون جو جسم کے خلیوں کو خون کے دھارے سے گلوکوز، یا شوگر کو جذب کرنے کے قابل بناتا ہے انسولین کی کمی کے نتیجے میں خلیات بھوکے مرتے ہیں اور خون میں شوگر کی سطح بلند ہوتی ہے یہ حالت ہائپرگلیسیمیا کہلاتی ہے جس کا علاج نہ ہونے پر جسمانی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اگر مناسب طریقے سے علاج نہ کیا جائے تو ذیابیطس ایک سنگین اور جان لیوا مرض بھی بن سکتی ہے ذیابیطس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صحت کی پیچیدگیوں میں گلوکوما اور موتیابند، گردے کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر (ہائی بلڈ پریشر)، ذیابیطس ketoacidosis (DKA)، جلد کی پیچیدگیاں، اعصاب اور خون کی نالیوں کو نقصان اور پاؤں کی پیچیدگیاں شامل ہیں

 

انتہائی ذیابیطس ہارٹ اٹیک، فالج، یا کسی عضو کو کاٹنے کی ضرورت کا باعث بھی بن سکتی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2019 میں 15 لاکھ اموات کی براہ راست وجہ ذیابیطس تھی بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) کے اعدادوشمار کے مطابق 2021 میں 6.7 ملین اموات صرف ذیابیطس کی وجہ سے ہوئی تھیں اوردنیا میں 20 سے79 سال کی عمر تک 10فیصدلوگ ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے جو 2030 تک بڑھ کر 643 ملین اور 2045 تک 783 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق 240 ملین لوگ ایسے ہیں جنہیں ذیابیطس ہے اور ان میں ان لوگوں کی بھی اکثریت ہے جنہیں اس مرض کا علم ہی نہیں ہے

 

اگر ہم شوگر کے مرض کے حوالہ سے دنیا کے ٹاپ 10 ممالک کا ذکر کریں تو ان میں پاکستان 30.8فیصد کے حساب سے سب سے اوپر ہے جہاں شوگر کے مریض سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں جبکہ فرانسیسی پولینیشیا 25.2 فیصد کے حساب سے دوسرے نمبر،کویت 24.9فیصدسے تیسرے نمبر پر،نیو کیلیڈونیا 23.4 فیصد سے چوتھے نمبر پر،شمالی ماریانا جزائر 23.4 فیصد سے پانچویں نمبر پر،ناورو 23.4 فیصد سے چھٹے نمبر پر،مارشل جزائر 23 فیصد سے ساتویں مبر پر،ماریشس 22.6 فیصد سے آٹھویں نمبر پر،کریباتی 22.1 فیصد سے نویں نمبر پر،مصر 20.9 فیصد سے دسویں نمبر پر ہے جبکہ دنیا میں ذیابیطس کی سب سے کم شرح والا ملک بینن ہے جہاں کی 1.1 فیصد آبادی ذیابیطس کے ساتھ رہ رہی ہے پاکستان میں اس موذی مرض کو لگام ڈالنے کے لیے اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ)کے سیکریٹری جنرل ثناہ اللہ گھمن بہت کام کررہے ہیں وہ ہمارے آنے وال کل سے بہت خوفزدہ ہیں اسی لیے تو انکی کوشش ہے کہ بچوں کو اس بیماری سے بچایا جائے

 

ہمارے ہاں تو ویسے بھی دو نمبری بہت زیادہ ہے اور جو جوس مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ انتہائی خطرناک ہیں یہ جوس نہ صرف صحت عامہ کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس پر کافی منفی اثرات بھی مرتب کرتے ہیں میٹھے مشروبات سے پیدا ہونے والے شدید صحت کے خطرات بشمول موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس،دل اور گردے کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں 33 ملین سے زائد افراد کے ساتھ ذیابیطس کا مرض آسمان کو چھو رہا ہے اور پاکستان میں ہر تیسرا بالغ ذیابیطس کا شکار ہے جبکہ ثناء اللہ گھمن نے ترک سفیر کے نام خط ایک خط بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے پالیسی پراسس میں مداخلت پر سخت غم و غصے کا اظہار بھی کیا ہے کہ کہ آپ نے حالیہ دنوں میں وزیر خزانہ اور دوسرے پالیسی سازوں سے مشروبات کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی ہے کہ آنے والے بجٹ میں میٹھے مشروبات پر ٹیکسوں کو کم کیا جائے

 

آپ نے پالیسی پراسس میں مداخلت کر کے پاکستانی عوام کی صحت پر مشروبات کمپنیوں کے کاروباری مفاد کو ترجیع دی ہے کیونکہ جوسز سمیت میٹھے مشروبات کا باقاعدہ استعمال بچوں اور بڑوں میں کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے یہ عمل نہ صرف پاکستانی عوام کی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہے بلکہ پاکستانی معشیت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے پاکستان پہلے ہی زیابیطس کے پھیلاؤ میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے اور اگر فوری پالیسی اقدام نہ کیا گیا تو 2045تک زیابیطس کا شکار لوگوں کی تعداد 6کروڑ 20لاکھ تک ہو جائے گی روزانہ 1100لوگ صرف پاکستان میں ذیابیطس یا اس سے ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے دنیا سے جا رہے ہیں اس لیے ہماری آپ سے درخواست ہے کہ آپ پاکستانیوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے والی کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں ہم پاکستان کی سول سوسائٹی اور ہزاروں ماہرین صحت کے نمائندے کے طور پر آپ سے درخواست اور توقع رکھتے ہیں کہ آپ مشروبات کمپنیوں کے کاروباری مفاد کی بجائے پاکستانی عوام کی صحت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89414

28مئی یوم تکبیر۔ میر افسر امان

بسم اللہ الرحمان الرحیم
28مئی یوم تکبیر۔ میر افسر امان

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔”اور تم لوگ، جہاں تک تمھارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیّا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُورسرے اعدا کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔(سورۃ الانفال۔20)اس کا مطلب ہے کہ تمھارے پاس سامان جنگ اور مستقل فوجی ہر وقت تیار رہنی چاہیے

 

۔میاں نواز شریف کی حکومت میں 28مئی1998 کوبلوچستان کے علاقے چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان نے سات(7)ایٹمی دھماکے کر قرآن کے اس حکم پر عمل کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان اپنی ہزاروں کمزرویوں کے باجود، دشمنوں سے محفوظ ہے۔ نواز شریف نے قوم کے درمیان مقابلہ کروا کر اس دن کا نام”تکبیر“ متعین کیا تھا۔ پاکستانی قوم ہر سال28مئی ایٹمی دھماکوں کی خوشی میں یوم تکبیر مناتی ہے۔

 

اگر پاکستان کے دشمنوں کی بات کی جائے توخطے میں بھارت کے علاوہ پاکستان کا کوئی دشمن نہیں۔اس لیے کہ بھارت نے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ بھارت اپنے بچوں کو یہودیوں کی طرح پٹی پڑھا رکھی ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان بنا کر،ہمارے گائے ماتا، یعنی ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دیے ہیں۔ ہم پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت مکمل کریں گے۔ہٹلر صفت،متعصب، وزیر اعظم بھارت نرنیدرا مودی جی نے بھارت کی پارلیمنٹ کی دیوار پر اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھی لگا دیا ہے۔ جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور ارد گرد کے سارے ملک اس نقشہ میں موجود ہیں۔ اسی طرح دہشت گرد اسراعیل نے بھی اپنی پارلیمنٹ کے دیوار پر نقشہ لگا رکھا ہے۔ جس میں لکھا ہے”اے اسراعیل تیری سرحدیں دریائے نیل سے دریائے دجلہ تک ہیں“ اس میں اُردن، شام، عراق سعودی عرب کے مدینہ تک کا علاقہ شامل ہے۔

 

بھارت کے ہٹلر صفت، متعصب، مسلم دشمن اور دہشت گرتنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ”آر ایس ایس“ کے بنیادی رکن ہیں۔ یہ تنظیم بھارت کو اسراعیل کی طرح ایک ہندو کٹر قوم پرست ملک بنانا پاہتی ہے۔ ہندو قوم کو دوسری قوموں سے برتر سمجھتی ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیم بھارت سے مسلمانوں کو نکال کر خالص ہند و ملک بنانے کا ایجنڈا رکھتی ہے۔ اس پر انگریز دور میں بھی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے پابندی لگی تھی۔ بھارت نے پہلے بھی پاکستان کی کمزرویوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے، اسی پالیسی پر عمل کیا اور اندرہ گاندھی وزیر اعظم بھارت کے دور 1971ء میں پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے۔جب سے مسلم دشمن،ہٹلر صفت، متعصب مودی کی آر ایس ایس کے اتحاد سے حکومت بنی ہے۔ بھارت کے لیڈر کہتے ہیں پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے اب مذید دس ٹکڑے کریں گے۔ متعصب مودی بھارت کے یوم آزادی پر مسلمان مغل بادشاہوں کے بنائے ہوئے یاد گارلال قلعہ دہلی پرکھڑے ہو کر تقریر میں کہاتھا کہ مجھے بلوچستان اور گلگت بلتستان سے علیحدگی پسندوں کی مد دکے لیے فون کال آرہی ہیں۔

 

پاکستان بننے کے بعد متعصب ہندو لیڈر شپ نے بعد پاکستان کے اثاثے روک لیے تھے۔جس پر گاندھی جی کو بھی مرن بھرت رکھنا پڑا تھا۔ تقسیمِ ہندوستان کے بین القوامی معاہدے کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں پاکستان اور جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے وہاں بھارت بننا تھا۔ آزاد ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی رعایا کا خیال رکھتے ہوئے پاکستان یا بھارت میں شریک ہوں۔ کچھ ریاستوں کے حکمران مسلمان تھے، مگر ان کی رعایا ہندو تھی۔ مسلمان حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کیا۔ مگر بھارتی حکمرانوں نے اس رائے کو ایک طرف رکھتے ہوئے جبر سے وہاں اپنے فوجیں بھیج کر قبضہ کر لیا۔ ریاست کشمیر کے مسلمانوں کی پارٹی ”مسلم کانفرنس کشمیر“ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیاتھا۔ مگر کشمیر کے ہند راجہ ہری سنگھ کی جعلی الحاق کی دستاویز پر مسلمانوں کی ریاست جو کہ پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتی تھی بھارت نے اپنے فوج بھیج کر1947ء میں اسے محکوم بنا لیا۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فوراً پاکستانی فوج کے کمانڈر جنرل گریسی کو کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم دیا۔ لیکن دنیا کی فوجی تاریخی روایات کو مسخ اور نفی کرتے ہوئے سپریم کمانڈر بانی پاکستان محمد علی جناح ؒ کا حکم نہیں مانا۔پھر پاکستانی قبائل کشمیری مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہوئے کشمیر کی جنگ میں شریک ہو گئے۔ موجودہ تین سو میل لمبی اور تیس میل چوڑی آزاد جموں کشمیر کو آزاد کر لیا۔ اب تک مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت چار جنگیں ہو چکی ہیں۔

 

متعصب بھارت کے بارے میں یہ ساری تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کو باور کرانا ہے کہ خطے میں پاکستان کی کسی بھی ملک سے لڑائی نہیں ہے۔ چین ہمارا سدا
بہار دوست رہا ہے۔سمندر سے گہری، ہمالیہ سے اُونچی اورشہد سے میٹھی دوستی کا سلوگن ہم پاکستانی سنتے رہتے ہیں۔ ایران، افغانستان پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں۔ خطے میں صرف بھارت ہی پاکستان کا دشمن ہے۔

 

بھارت نے18مئی1974 جب پکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کیے تو متعصب ہندولیڈروں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا۔ پاکستان کو دھمکیاں دینے لگے۔ اس پر ذوالفقار علی بھٹو چیرمین پیپلز پارٹی کا وہ تاریخی بیان کہ”ہم گھاس کھا کر گزارا کر لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے“ بھٹو سے یہ کوشش شروع ہوتی ہے اور ہر پاکستانی حکمران نے ایٹمی طاقت بننے کے لیے اپنی اپنی بسات کے مطابق کام کیا۔اس میں بڑا حصہ پاکستان کی مسلح افواج کا ہے۔ بھٹو کو امریکہ کے اُس وقت کے یہودی وزیر خارجہ ہنری کیسنگر نے دھمکی دی کہ ایٹمی بننا ختم نہ کیا اور اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ پاکستان کے صدر اسحاق خان کو بھی دھمکی دی گئی۔

 

اللہ کا کرنا کے افغانستان پر روس نے قبضہ کر لیا۔ اللہ نے امریکہ کو اُدھر مصروف کر دیا۔ امریکہ کے قانون کے مطابق امریکی صدر، کانگریس کوسالانہ سرٹیفیکیٹ دیتا رہا کہ پاکستان کی امداد جاری رکھی جائے وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا۔ جنرل ضیا ء نے اندر ہی اندر اس پروگرام کو ایٹمی سائنس دان، ڈاکٹر عبالقدیر خان، محسن پاکستان اور اس کے ساتھی ایٹمی سائنسدانوں کے ذریعے مکمل کرتا رہا۔ پھر ایک دن آیا جب نواز شریف کی حکومت تھی۔ پاکستان کے ایٹمی سائنس دانوں نے بلوچستان کے مقام چاغی کے پہاڑوں میں 28 مئی1998ء کو بھارت کے پانچ (5)دھماکوں کے جواب میں،سات (۷) ایٹمی دھماکے کر بھارت پر برتی حاصل کر لی۔ اسلامی دنیا کے پہلے اور دنیا کے ساتویں ایٹمی قوت کو دنیا سے منوا لیا۔ نواز شریف کے سیاسی مخالف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ امریکا نے پیسوں کی لالچ بھی دی تھی۔ یہ بھی سچ ہے کہ نوائے وقت کے ایڈیٹر مجیدنظامی نے نواز شریف کو کہا تھا کہ اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہیں کیے تو ہم آپ کا دھماکہ کر دیں گے۔جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمدؒ کا بھی دباؤ تھا۔ کچھ بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ جس کے دور میں شروعات ہوئیں یعنی ذوالفقار علی بھٹو چیر مین پیپلز پارٹی اور جس کے دور میں ایٹمی دھاکے ہوئے،نواز شریف صدر نون لیگ ان دونوں کو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔چاہے ان کے سیاسی مخالف کتنا ہی پروپیگنڈہ کرتے رہیں۔
لیکن ایک حقیقت اور بھی ہے ہمارے سارے حکمران”وہن“ کی بیماری میں مبتلاہیں۔ دولت کی ہوس اور موت کا خوف میں مبتلا ہیں۔

 

اگر بھارت، مملکت اسلامی جمہوری پاکستان، جو اللہ کی طرف سے مثل مدینہ ریاست برصغیر کے مسلمانوں کو تحفہ کے طور پر ملی تھی، جو اب ایٹمی اور میزائیل طاقت ہے کو، بھارت صفہ ہستی سے مٹا کر اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ تو پاکستان کو بھی اپنا وجود قائم رکھنے پر پلانگ کرنی چاہیے۔ ہم تاریخ کے ایک طلب علم ہونے کے ناطے اپنی عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان میں بانی پاکستان قائد اعظمؒ کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ،جماعت اسلامی جس کی لیڈر شپ”وہن“ کی بیماری میں مبتلا نہیں، کو منتخب کر کے سامنے لایا جائے۔ اس پروپیگنڈے کو ایک طرف رکھ دیں کہ امریکہ پاکستان میں جماعت اسلامی کو آگے نہیں آنے دے گا۔جیسے مصر، الجزائر وغیرہ میں اسلام پسندوں کو آگے نہیں آنے دیا۔ ان کی جیت کو ان ہی کی فوجوں سے مروا کر پیچھے دکھیل دیا۔ لیکن اس دور میں یہ بھی حقیقت پاکستانیوں کے سامنے آئی ہے کہ عمران خان اور اس کے کارکنوں پر کتنے مظالم کیے گئے۔ اس کی پارٹی روز بروز آگے ہی بڑھ رہی ہے۔اپوزیش بھی اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک اشارہ سمجھاجائے۔ جب اللہ نے فیصلہ کر لیا تو جماعت اسلامی کوکوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ ان شاہء اللہ۔ اسلام کے دشمن تار انکبوت ثابت ہونگے۔ بس عوام آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیں۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ مضبوط اسلامی پاکستان متعصب بھارت کو اس کی اُوقات پر لے آئے گا۔ کشمیر ٓازاد ہو کر پاکستان کے ساتھ آملے گا۔ بھارت کے مظلوم مسلمانوں پر مظالم رک جائیں گے۔ وہ سکھ کا سائنس لیں گے۔ پاکستانی عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کام صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی کی منتخب اسلامی حکومت ہی کر سکتی ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89406

مستوج سے لے کر بروغل تک سڑک کی عدم موجودگی ترقی کے تمام سیکٹرز کو بری طرح متاثر کرتی ہے، اس پر ہنگامی بنیادوں پر غور کیا جائے،عمائدین علاقہ

مستوج سے لے کر بروغل تک سڑک کی عدم موجودگی ترقی کے تمام سیکٹرز کو بری طرح متاثر کرتی ہے، اس پر ہنگامی بنیادوں پر غور کیا جائے،عمائدین علاقہ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) اپر چترال کے مستوج ٹاؤن سے بروغل تک معیاری سڑک کی تعمیر کے لئے” تحریک مستوج بروغل روڈ” کے نام سے قائم سول سوسائٹی تنظیم کی نشست “مشقولگی”میں اظہار خیال کرتے ہوئے تحریک کے صدر سید مختارعلی شاہ ایڈوکیٹ اور دوسرے رہنماؤں نے لیاقت علی، صاحب عرفان، اختراکبر شاد اور حاجی کمال نے سڑک کی کمی کو مستوج سے لے کر بروغل تک اس علاقے کی پسماندگی کا ذمہ دار قرار دیا اور وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیاکہ اس پر ہنگامی بنیادوں پر غور کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے لے کر اس علاقے کے عوام نے ترقی کبھی نہیں دیکھی اور اب بھی پسماندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کا بنیادی وجہ معیاری اور سال بارہ مہینے کھلا رہنے کے قابل سڑک کا نہ ہونا ہے اور سڑک کی عدم موجودگی ترقی کے تمام سیکٹرز کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مستوج سے بروغل تک کا علاقہ ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے اور یہاں سیاحت، زراعت اور مائننگ کی زبردست پوٹنشل موجود ہے جس کو بروئے کار لانے سے نہ صرف یہ علاقہ بلکہ پورا چترال اور صوبہ کو باالواسطہ اور بلا واسطہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ لیاقت علی نے مائننگ اور دیہی ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بروغل پاس سے لے کر مستوج تک یہ علاقہ ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور زمانہ قدیم میں سنٹرل ایشیاء سے سفر حج کے قافلے بھی یہیں سے گزرتے تھے اور یہی تجارتی راستہ بھی تھا۔ انہوں نے کہاکہ یہ علاقہ دھاتی اور غیر دھاتی معدنیات سے ڈھکا ہوا ہے لیکن ٹرانسپورٹیشن کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہے اور ہم خزانے کا مالک ہونے کے باوجود غریب چلے آرہے ہیں۔

ٹورزم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے معروف شخصیت صاحب عرفان نے کہاکہ اس علاقے میں ٹورزم کی وہ پوٹنشل موجود ہے کہ جس سے استفاد ہ کرکے ہم علاقے میں پچاس فیصد بے روزگار نوجوانوں کو ا ن کے گھر کی دہلیز پر روزگار فراہم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر مشہور ومعروف دو ٹریکنگ روٹس یارخون ویلی میں موجود ہیں اور یہ علاقہ سیاحوں کے لئے جنت ہے مگر اس جنت تک رسائی کے لئے سڑک ندارد۔
زراعت کے شعبے کے ماہر اختر اکبر شاد نے کہاکہ مستوج سے بروغل تک کا علاقہ زرعی لحاظ سے کئی خصوصیات کا حامل ہے اور خصوصاً سیب اس علاقے کی پہچان ہیں اور حال ہی میں چیر ی کے باغات بھی لگائے جارہے ہیں جبکہ بروغل اور اپر یارخون میں لوگ کاشت کاری نہیں کرتے بلکہ علاقے کی موسمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یاک پال کر نقد رقم حاصل کرتے ہیں لیکن سڑک کا مسئلہ درپیش ہونے سے جہاں پھل کی مارکیٹنگ مشکل ہے وہاں فروخت کے لئے جانوروں کو بھی مارکیٹ تک نہیں پہنچاسکتے اور باہر سے آئے ہوئے تاجر من مانے نرخوں پر پھل اور جانور ان سے لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خراب سڑکوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن کا کرایہ بھی ذیادہ آتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے کسان اور مویشی پال حضرات بیچ، کیمیائی کھاد، زرعی ادویات بھی خریدنے کی استطاعت بھی گرجاتی ہے۔

سڑک کے نہ ہونے پر صحت کے شعبے کی زبون حالی پر حاجی کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ڈلیوری کیس میں ہسپتال منتل کئے جانے کے دوران ہر سال درجنوں خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں جبکہ یہی حال اپنڈکس کے مریضوں کا ہے جس کے پھٹ جانے سے راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ان سڑکوں پر مریضوں کو ہسپتال لانے پر ان کی بیماری یا زخم کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
ا نہوں نے کہاکہ اسی خراب سڑک کی وجہ سے ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی ان علاقوں میں آنے سے کتراتے ہیں اور نتیجتاً ان علاقوں میں ڈاکٹروں کی سو نہیں تو نوے فیصد اسامیاں خالی ررہتی ہیں۔

اس موقع پر اس بات بھی زور دیا گیاکہ مستوج پل سے لے کر یارخون تک مین روڈ کا متبادل سڑک کا انتظام بھی کیا جائے تاکہ کسی بھی قدرتی آفات کی صورت میں اسے ہنگامی طورپر استعمال کیا جاسکے۔ فورم میں شریک حضرات نے زور دے کرکہاکہ مستوج سے بروغل تک کا علاقہ کنگ میکر ہے جہاں لوگ آپس میں اتحادواتفاق کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ایک ہی امیدوار کو جتوانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اس دفعہ ایم این اے عبداللطیف اور ایم پی اے ثریا بی بی کو بھاری اکثریت سے اس علاقے میں ووٹ دے کر ان سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ وہ دونوں مل کر اس علاقے میں سڑک کو اولین فوقیت دے دیں۔

chitraltimes construction of mastuj broghil road demanded 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
89435

کشکول توڑ دیا، اب تجارتی، معاشی تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں، وزیراعظم

Posted on

کشکول توڑ دیا، اب تجارتی، معاشی تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی قیادت نے 10 ارب ڈالر پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے مختص کر دیے، ہم نے کشکول توڑ دیا ہے اب تجارتی، معاشی تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزراء اعلیٰ نے ایس آئی ایف سی کے تحت سرمایہ کاری فروغ کے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا۔وزیر اعظم نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو ایس آئی ایف سی میں ساتھ لے کر چل رہے ہیں، دورہ یو اے ای انتہائی کامیاب رہا، یو اے ای حکام نے 10 ارب ڈالر پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے مختص کردیے۔شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک نے بھی ایس آئی ایف سی کے اقدامات کو سراہا ہے، عسکری قیادت نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کلیدی کردار ادا کیا، غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل سرخ فیتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شرکاء نے ایپکس کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پر عمل درآمد پر اظہار اطمینان کیا۔

 

عالمی عدالت انصاف کا غزہ اور رفح پر اسرائیلی جارحیت روکنے کا فیصلہ قابل ستائش ہے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا غزہ اور رفح پر اسرائیلی جارحیت روکنے کا فیصلہ قابل ستائش ہے،امید ہے کہ عالمی برادری اسی طرح کشمیر کے محکوم عوام پر بھی توجہ دے گی۔ہفتہ کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ اور رفح میں جنگ بندی کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ خوش آئند ہے،پاکستان کی جانب سے فلسطینی جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر کے محکوم عوام پر بھی اسی طرح کی توجہ دی جائے گی جو سات دہائیوں سے بھارتی ظلم وستم کا سامنا کررہے ہیں اور انہیں ان کی بنیادی حق سے مسلسل محروم رکھا جارہا ہے۔

 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کا معاملہ بدستور تاخیر کا شکار

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل تاخیر کا شکار ہے۔ تحریک انصاف نے تاحال ارکان کے نام ہی فراہم نہیں کیے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین کون اور کس جماعت سے ہوگا؟ اتفاق رائے نہ ہوسکا۔حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کو جواب دیا گیا ہے کہ پہلے قائمہ کمیٹیوں کے اراکین فائنل ہوں گے۔ چئیرمین کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت تمام قائمہ کمیٹیوں کے چئیرمین بذریعہ انتخاب منتخب ہوں گے۔حکومت نے پی ٹی آئی سے قائمہ کمیٹیوں کے لیے ارکان کے نام جلد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے آئندہ ہفتے قائمہ کمیٹیوں کے لیے پی ٹی آئی کے نام فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں قائمہ کمیٹیوں میں ارکان کی شمولیت کے حوالے سے بھی معاملات طے پاگئے ہیں۔ عددی تناسب کے لحاظ سے ارکان قائمہ کمیٹیوں میں شامل کیے جائیں گے۔مشاورت میں اتفاق کیا گیا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کا معاملہ بجٹ اجلاس کے دوران طے کیا جائے گا۔ سیاسی جماعتوں کے نام فراہم کرنے کے باوجود سپیکر کو ارکان میں ردوبدل کا اختیار حاصل ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مزید مشاورت آئندہ ہفتے ہوگی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89396

اب تک پنجاب سے چترال لائی جانے والی 3492ٹن گندم کی خریداری براہ راست کسانوں سے کی جاچکی ہے، 3900 روپے فی 40کلوگرام گندم کی قیمت خرید ہے جبکہ قیمت فروخت اب بھی 4600روپے فی 40کلوگرام برقرار ہے۔ڈی ایف سی ارشد حسین،

اب تک پنجاب سے چترال لائی جانے والی 3492ٹن گندم کی خریداری براہ راست کسانوں سے کی جاچکی ہے، 3900 روپے فی 40کلوگرام گندم کی قیمت خرید ہے جبکہ قیمت فروخت اب بھی 4600روپے فی 40کلوگرام برقرار ہے۔ڈی ایف سی ارشد حسین،

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) لویر چترال میں محکمہ خوراک کی طرف سے گندم کی خریداری کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اب تک پنجاب سے یہاں لائی جانے والی 3492ٹن گندم کی خریداری براہ راست کسانوں سے کی جاچکی ہے۔چترال شہر میں واقع دنین کے مین گودام میں مقامی میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ارشد حسین اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر ریاض احمدنے کہاکہ اس سال صوبائی حکومت نے براہ راست کسانوں سے گندم خریدنے کا فیصلہ کیاتھا جس کے تحت کسان اپنے گندم کی پیدوار کو محکمہ خورا ک کی کسی بھی گودام میں پہنچائے گا جہاں کوالٹی کی چھان بین کے بعد اس سے گندم خریدا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے ہر ضلع کی سطح پر ضلعی انتظامیہ، محکمہ زراعت اور دوسرے اسٹیک ہولڈروں پر مشتمل پروکیورمنٹ کمیٹی تشکیل دی ہے جوکہ کوالٹی اور کوانٹٹی دونوں پر نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں 3900روپے فی 40کلو گرام یعنی 97روپے فی کلوگرام کے حساب سے گندم کی قیمت خرید مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام میں پائی جانے والی ایک غلط فہمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ 3900 روپے فی 40کلوگرام گندم کی قیمت خرید ہے جبکہ قیمت فروخت اب بھی 4600روپے فی 40کلوگرام برقرار ہے۔ ڈی ایف سی نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ضلعی لیول پر کسان سے براہ راست گندم خریدی جارہی ہے جس سے صوبائی خزانے کو مجموعی طور پر اربوں روپے کی بچت ہوگی جبکہ چترال جیسے دورافتادہ اضلاع میں گندم کی ٹرانسپورٹیشن کی سوفیصد بچت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت چترال کے لئے گندم کی پروکیورمنٹ کی حد 9000ٹن مقرر کی گئی ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے رکن محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائرکٹر رفیق احمد نے کہاکہ گندم کی کوالٹی کو سائنسی خطوط پر چیک کیاجارہاہے جبکہ گندم کے دانوں کے اندر نمی کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لئے بھی مشین استعمال کی جارہی ہے۔ کمیٹی کے ممبر اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے صدر گل بہار خان بھی اس موقع پر موجود تھے اور گندم کی خریداری کے طریقہ کار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

chitraltimes wheat procurement chitral godown 1 chitraltimes wheat procurement chitral godown 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged ,
89388

ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کی صاحبزادی شہزادی زہرہ کا چترال لوئیر کا دورہ ، ائیرپورٹ پر پرتباک استقبال ، اے۔کے۔ڈی ۔این کے مختلف اداروں کا دورہ

ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کی صاحبزادی شہزادی زہرہ کا چترال لوئیر کا دورہ ، ائیرپورٹ پر پرتباک استقبال ، اے۔کے۔ڈی ۔این کے مختلف اداروں کا دورہ

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان کی صاحبزادی Princess Zahraہفتے کے روز دو روزہ نجی دورے پر گلگت سے چترال پہنچ گئی۔ چترال ائرپورٹ پر مہتر چترال اور ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر نے ایکٹنگ ڈپٹی کمشنر لویر چترال انور اکبر خان اور ڈی پی او افتخار شاہ کے ہمراہ ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے چترال میں ہیلتھ اور ایجوکیشن سمیت دوسرے سیکٹرز میں آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اوران ترقیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی استدعا کی۔Princes Zahra اس دورے میں آغاخان ہیلتھ سروس کےdiagnosticسنٹر، آغا خان ایجنسی فار Habitatکے ریجنل آفس میں ایمرجنسی اوپریشن سنٹر اور سرٹ کا دورہ کیا جہاں ان کو بریفنگ دی گئی ، شہزادی زہرہ نے اکاہ آفس کے لان میں پودا بھی لگایا ، جس کے بعد آغا خان ہائر سیکنڈری سکول سین لشٹ کا دورہ کیا۔ جہاں سے اسلام آباد روانہ ہوگئی، ائیرپورٹ پر سرکاری حکام کے ساتھ اسماعیلی کمیونٹی کے ذمہ داروں نے ان کو رخصت کیا۔جبکہ اس سے قبل اپرچترال میں بونی میڈیکل سٹرکا دورہ بھی کیا ۔

chitraltimes princes zahra aga khan visits chitral lower 2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
89375

ابراہیم رئیسی عالم اسلام کے ہیرو – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

ابراہیم رئیسی عالم اسلام کے ہیرو – میری بات:روہیل اکبر

ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی ایک بلند پایہ شخصیت اور عالم اسلام کے ہیرو تھے یوں انکا فضائی حادثے میں اچانک جاں بحق ہونا پوری امت مسلمہ کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنا ہے صدر ابراہیم رئیسی ایک شاندار عالم اور بصیرت رکھنے والے رہنما تھے ہم نے ابراہیم رئیسی جیسا مخلص اور اعلی خصوصیات کا مالک بھائیوں جیسا دوست کھودیا مرحوم رئیسی کو ابھی ایک ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزر ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انکے دورے سے پاکستان کی عوام میں خوشی کا جذبہ شدت سے پایا گیا کیونکہ انہوں نے جس جرات،بہادری اور عقل مندی سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا وہ ایک ناقابل فراوش واقعہ تھا ان کی اس بہادری نے انہیں عالم اسلام کا ہیرو بنا دیا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان کے جس جس شہر میں بھی گئے وہاں مقامی طور پر چھٹی کردی گئی تھی اور پاکستان کی عوام نے اس دن کو عید کے دن کی طرح گذارا تھا ابراہیم رئیسی کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ایک المناک سانحہ ہے وہ مظلومین ِ غزہ کی حمایت میں ایک توانا آواز تھے

 

انہوں نے اسلام،قران اور مظلومین کا ہر پلیٹ فارم پر بھرپور دفاع کیاآپ ایک باحکمت،جرات مند اور بابصیرت رہنما تھے عالم اسلام کو اپنے اس نڈر رہنما پر فخر ہے مرحوم صدر ایران ابراہیم رئیسی کی ایک عظیم رہنما، بصیرت اور عالم کے طور پر تعریف کی جنہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا انکے جانے سے پاکستان نے بہترین دوست اور ایک مضبوط اتحادی کھو دیا ہے آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی مجاہد عالم دین رہبر انقلاب اسلامی کے توانا بازو اور امت مسلمہ کی توانا آواز تھے امریکہ اور عالمی استکباری طاقتوں کے خلاف سید ابراہیم رئیسی کا انقلابی کردار ناقابل فراموش ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرآن کریم کی عظمت و حرمت کا دفاع کر کے آپ نے امت مسلمہ کے دل جیت لئے تھے آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستانی قوم سے جس محبت کا اظہار کیا تھا وہ محبت دو طرفہ ہے پاکستانی قوم نے بھی آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کو مظلوم فلسطینی مسلمانوں کا حقیقی ہمدرد اور امت مسلمہ کا عظیم لیڈر قرار دیتے ہوئے سید ابراہیم رئیسی کے ساتھ جس محبت اور عقیدت کا اظہار کیاتھاوہ بھی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی اپنے ملک اور مسلم دنیا کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھیں

 

مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک میں دوستی اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیاتھاجبکہ ان کا دورہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا ثبوت تھا ام مسلمہ کی قیادت کرنے والے ممالک میں حادثات اور مصیبتوں کے وقت وحدت اور ہمدردی کا داعیہ موجود ہے دعا کرنی چاہیے کہ باہمی قربت اور اخوت کے احساس پر مبنی یہ رویہ عام حالات کا بھی معمول بنے انہوں نے کہا ہے کہ قوم کی رہنمائی اور رہبری کی صلاحیت رکھنے والے ایسے لیڈرز بڑے مشکل سے پیدا ہوتے ہیں جنہیں عوام کا اعتماد بھی حاصل ہو اور چالیس سال کے عرصے تک نظام کے مرکز میں مختلف اہم مناصب پر فائز رہنے کی وجہ سے سیاست کے عالمی بساط، خطے کی صورتحال اور اپنے ملک کے داخلی معاملات پر گرفت حاصل ہوجاتی ہے

 

صدر ابراہیم رئیسی کی طویل تجربے کی وجہ سے ایران کی مستقبل کی سیاست میں اہم کردار کی توقع رکھی جارہی تھی ابراہیم رئیسی ایران کے منتخب صدر تھے لیکن ان کی حیثیت صدر مملکت سے زیادہ ایک مستقل قومی رہنما کی تھی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بین الاقوامی طور پر اسلام، مسلمان، شعائر اسلام،توہین رسالت، توہین قرآن کے حوالے سے دینی جذبے کے تحت بھرپور توانا آواز اٹھائی ایرانی صدر کی عالم اسلام کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ایرانی صدر کی حادثاتی موت سے امت مسلمہ ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی ہے ایرانی صدر سید ابراہیم ریسی نڈر،بہادر اور دلیر انسان تھے مسلمانوں ممالک کے ساتھ محبت و بھائی چارہ کی مثال تھے

 

اسرائ یل کی جانب سے فلس طین پر حملوں کا جواب،یو، این، او میں قرآن پاک کو چومنا بڑے کارناموں میں شامل ان جیسا عظیم لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ایران کے صدر ابراہیم ریسی، ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں وفات سے امت مسلمہ کو شدید دھچکا لگا ہے جبکہ ایران عالم اسلام کے لیے ایک فخر ہے ایرانی صدر کی وفات سے تمام اسلامی مما لک میں سوگ کا سماں تھا اگر مسلمان ممالک اپنے اندر اتحاد و اتفاق بھائی چارگی کی فضاء کو قائم رکھیں تو ان کی عزت و تکریم میں مزید اضافے کا باعث بنے گا صدر ابراہیم رئیسی ایک نیک انسان، عالم اور پاکستان کے عظیم دوست تھے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور ادبی روابط پر مبنی بہترین تعلقات ہیں دونوں برادر ممالک کو مزید قریب لانے کیلئے عوامی روابط اور پارلیمانی اور صحافتی تبادلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اس وقت تو ویسے بھی پاکستان اور ایران کے درمیان بہترین اور مثالی تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فروغ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان کی بھی یہ پالیسی ہے اور اس سلسلہ میں قائم مقام ایرانی قونصل جنرل علی اصغر موغاری کو کوششیں بھی قابل تحسین ہیں کہ وہ پاکستان اور پاکستانیوں سے پیار کرتے ہیں اور اس وقت وہ پاکستان میں صدر ابراہیم رئیسی کی پالیسیوں کو لیکر چل رہے ہیں

 

انکی مسلمانوں سے محبت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے امید ہے کہ وپاکستان کے زندہ دلوں کے شہر لاہور کو اپنا ہی گھر پائیں گے کیونکہ پاکستان بلخصوص لاہور کے لوگ جس طرح ایرانسے محبت کرتے ہیں یہ بھی انہی پالیسیسوں کا تسلسل ہے جو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے شروع کررکھی تھیں ایرانی صدرابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان اور دیگر ساتھیوں کے حادثے میں انتقال پر پوری پاکستانی قوم دکھ اور صدمے سے دوچار ہے اورپاکستانی قوم اپنے ایرانی بہن بھائیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے دکھ اور غم کی اس گھڑی میں غمزدہ ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی دنیا اسلام کے عظیم راہنما تھے پاکستانی قوم کی ہمدردیاں ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89373

اسماعیلی جماعت کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم اغاخان کی صاحبزادی شہزادی زہرہ آغاخان  کی اپر چترال آمد

اسماعیلی جماعت کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم اغاخان کی صاحبزادی شہزادی زہرہ آغاخان  کی اپر چترال آمد

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز )اسماعیلی جماعت کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم اغاخان کی صاحبزادی شہزادی زہرہ آغاخان چترال اپر اور لوئیر کے دورے پر آج اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی پہنچ گئی ہیں، شہزادی زہرا اغاخان بونی ہیلی پیڈ پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس افسر اپر چترال اور ضلعی انتظامیہ کی دیگر افسران اور علاقے کے عمائدین بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے معزز مہمان کو اپر چترال امد پر خوش آمدید کہا اور ضلعی انتظامیہ اپر چترال کی جانب سے ان کو سوئنیر پیش کیا۔ڈپٹی کمشنر نے شہزادی زہرا کو concept paper حوالہ کیا اور چترال کی ترقی میں اغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے کردار کو سراہا۔
کنسپٹ پیپر میں چترال میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر اور اغاخان یونیورسٹی سنٹرل ایشیاء جو کہ کرغزستان میں ہے کا ایک شاخ اپر چترال میں کھولنے جیسے اہم نکات شامل تھے۔

کنسپٹ پیپر میں تفصیلی طور پر لکھا گیا ہے کہ چترال میں تقریباً 30 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس سے نہ صرف چترال بلکہ پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ بجلی گھر کے قیام سے علاقے میں صنعت کے شعبے میں ترقی ہوگی اور تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانون کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔

چترال کے نوجوان علم حاصل کرنے کے متقاضی ہیں اور یہاں سنٹرل ایشیاء یونیورسٹی کے طرز پر یونیورسٹی کے قیام سے علاقے کے نوجوانوں کو دوردراز جگہوں میں جاکر تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اپنے علاقے میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر ہوگا۔

شہزادی زہرا اغاخان بونی میڈیکل سنٹر کا مختصر دورہ کیا اور وہان سے لوئر چترال کے لئے روانہ ہوا۔ ڈپٹی کمشنر نے دیگر افسروں کے ہمراہ شہزادی زہرا اغاخان کو الوداع کیا اور مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

chitraltimes princes zahra aga khan arrived chitral upper 5 chitraltimes princes zahra aga khan arrived chitral upper 4 chitraltimes princes zahra aga khan arrived chitral upper 3 chitraltimes princes zahra aga khan arrived chitral upper 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , ,
89362

خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال 25 2024-کے بجٹ کے لیے محصولات کا تخمینہ 20 فیصد نمایاں اضافہ کے ساتھ 1754 ارب روپے جبکہ آئندہ مالی سال کے کل بجٹ کے اخراجات کاتخمینہ 22 فیصد اضافہ کے ساتھ 1654ارب روپے ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔مشیرخزانہ

Posted on

خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال 25 2024-کے بجٹ کے لیے محصولات کا تخمینہ 20 فیصد نمایاں اضافہ کے ساتھ 1754 ارب روپے جبکہ آئندہ مالی سال کے کل بجٹ کے اخراجات کاتخمینہ 22 فیصد اضافہ کے ساتھ 1654ارب روپے ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔مشیرخزانہ

 پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) “خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال 25 2024-کے بجٹ کے لیے محصولات کا تخمینہ 20 فیصد نمایاں اضافہ کے ساتھ 1754 ارب روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال 2024-25 کے کل بجٹ کے اخراجات کاتخمینہ 22 فیصد اضافہ کے ساتھ 1654ارب روپے ہے۔ محتاط مالیاتی انتظام اور معاشی اصلاحات کی بدولت اضافی 100 ارب روپے سرپلس ہوں گے جبکہ سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے” ان خیالات کا اظہاروزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے صوبائی وزیر قانون و خزانہ آفتاب عالم اورمشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کے ہمراہ پشاور میں پر ہجوم پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری محکمہ خزانہ عامر سلطان ترین سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں احساس روزگار پروگرام، احساس نوجوان پروگرام اور احساس ہنر پروگرام کے لیے 12 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہیں پروگرام کے تحت 1لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا جبکہ احساس اپنا گھر پروگرام کے لیے3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت 5 ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ سی آر بی سی لفٹ کنال پراجیکٹ کے ذریعے 3 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب کی جائے گی جس سے صوبے میں فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا اس منصوبے کے لیے 10 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔اسی طرح ٹانک زام ڈیم،چود ھوان زام ڈیم اور درابن ڈیم کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن سے پینے کے پانی کی فراہمی اور زرعی شعبہ کی ترقی کے علاوہ فوڈ سیکورٹی اوروزگار کے مسائل حل ہوں گے جبکہ گندم خریداری کے لیے 26.90 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی کے لیے تین ارب کی سبسڈی اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 6.50 ارب سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے  جبکہ ہنگامی حالت میں امدادی کاروائیوں کے لیے 2.50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں نجی شراکت داری کے ذریعے منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا جس میں دیر موٹروے اور ڈی ائی خان موٹروے کے قابل ذکر منصوبے شامل ہیں۔جبکہ بنوں لنک روڈ پر انڈس ہائی وے ہکلہ یارک ڈی آئی خان موٹروے سے ملانے کے لیے سڑک تعمیر کی جائے گی اور470 میگا واٹ کا لوئر سپیٹ،گاہ ہائڈرو پراجیکٹ بھی تعمیر کیا جائے گا،
مشیر خزانہ نے مزید کہا ہے کہ ترقی کے لئے تعلیم  کی اہمیت مسلمہ ہے اور اس شعبہ میں بشمول اعلیٰ اور ابتدائی وثانوی تعلیم کے لیے کل 362.68 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔اعلیٰ تعلیم کے لیے 35.82 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔اعلی تعلیم کے شعبے میں 30 ڈگری کالجز کرائے کی عمارتوں میں قائم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ سینٹر آف ایکسیلنس فار سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ آرٹس اینڈ میتھیمٹکس) (STEAM  کے منصوبے بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ابتدائی وثانوی تعلیم کے لیے 326.86 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے ا خراجات کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبہ میں نئے سکولوں کی بلڈنگ کی تعمیر کے لیے درکار وقت کو بچانے کے لیے پہلے سے تعمیر شدہ کرائے کی عمارتوں میں 350 سے زائد سکول شروع کیے جا رہے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے پیش نظرصحت کے شعبہ کے لیے 232.08 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلہ میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔مزید برآں خیبر پختونخوا میں ایئر ایمبولنس سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے جبکہ جنوبی اضلاع کے لیے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سیٹیلائٹ مرکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
اسی طرح نجی شعبہ کی شراکت سے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کا قیام بھی صحت کے ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ادویات کی خریداری کے لیے 10.97 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ صحت کارڈ پلس کا کل بجٹ 28 ارب روپے بندوبستی اضلاح اورضم شدہ اضلاع کے لیے 9ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔امن  وامان کا ذکر کرتے ہوئے۔مزمل اسلم نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے کل 140.62 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہیں۔ داخلہ امور کے شعبہ میں  PEHL-911 کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔اسی طرح سما جی بہبود کے لیے 8.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں۔ ضم اضلاع کے لیے پناہ گاہوں کے بجٹ کو 30 کروڑ روپے سے بڑھا کر 60 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے اورصنعت و حرفت کے شعبہ کے لیے 7.53 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سیاحت کے شعبے کے لیے 9.66 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلہ میں 25 فیصد زیادہ ہیں اس کے علاوہ سیاحت کے شعبے میں ہیریٹیج فیلڈ سکول اور ٹورزم ہیلپ لائن 1422 کے منصوبے بجٹ کا حصہ ہیں،
انہوں نے زرعی شعبے میں اقدامات کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ زراعت کے شعبہ کے لیے بجٹ میں 28.93 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ ہیں۔جبکہ  ترقیاتی بجٹ میں زرعی شعبے کی پیداوار بڑھانے غذا ئی تحفظ کو یقینی بنانے اور زعفران کی کاشت کو فروغ دینے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبوں کے لیے  31.54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلہ میں 71 فیصد زیادہ ہیں اور بجلی کے پیداوار کو بڑھانے کے لیے خیبر پختونخوا ڈسٹری بیوشن کمپنی قائم کرنے کے ساتھ مانسہرہ میں بٹہ کنڈی، ناران ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی شروع کیے جا رہے ہیں جس سے 235 میگا واٹ کی بجلی پیدا کی جائے گی۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ گرین خیبر پختونخوا پالیسی کے تحت ہزاروں مساجد،بنیادی مراکز صحت،سکولوں، ٹیوب ویلز،یونیورسٹیوں، کالجوں اور سٹریٹ لائٹ کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لائیو سٹاک کے شعبہ کے لیے  14.69 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلہ میں 14 فیصد زیادہ ہیں اور لائیو سٹاک کے شعبہ کی پیداوار بڑھانے کے لیے مصنوعی افزائش نسل کا منصوبہ بھی شامل ہے جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ کمیونٹی کی سطح پر چارہ ذخیرہ کرنے کے مراکز کا منصوبہ بھی قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگلات کے شعبہ کے لیے 14.05 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے اخراجات کے مقابلہ میں 38 فیصد زیادہ ہیں جبکہ جنگلات کے شعبے میں گرین کے پی پالیسی کے تحت بلین ٹری پلس کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے اسی طرح نیشنل پارک کی حد بندی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے منصوبے بھی بجٹ میں شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89351

 بلدیاتی نظام، منتخب بلدیاتی نمائندوں کو درپیش مسائل و مشکلات سمیت صوبے کے حقوق اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے وفاق کے درکار تعاون پر صدر اور وزیراعظم سے بات کی جائیگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

Posted on

 بلدیاتی نظام، منتخب بلدیاتی نمائندوں کو درپیش مسائل و مشکلات سمیت صوبے کے حقوق اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے وفاق کے درکار تعاون پر صدر اور وزیراعظم سے بات کی جائیگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے مسائل و مشکلات ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، صوبے میں بلدیاتی نظام، منتخب بلدیاتی نمائندوں کو درپیش مسائل و مشکلات سمیت صوبے کے حقوق اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے وفاق کے درکار تعاون پر صدر اور وزیراعظم سے بات کی جائیگی، یقینابلدیاتی اداروں کو سنجیدہ مشکلات کا سامناہے، بلدیاتی نمائندوں کی احساس محرومیوں کا خاتمہ کیاجائیگا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعہ کے روزگورنرہاوس پشاورمیں عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما وسابق رکن صوبائی اسمبلی ثمرہارون بلور کی سربراہی میں پشاور تحصیل کے این سی چیئرمینز ودیگربلدیاتی نمائندوں پر مشتمل 35 رکنی وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ سابق رکن صوبائی اسمبلی یاسین خلیل اور پی کے 72 سے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق امیدوار ارباب اللہ یار خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

 

وفد کے شرکاء نے گورنر کامنصب سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ وفد کے شرکاء نے گورنر کو بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات و فنڈزکی عدم منتقلی اوردفاترسمیت دیگر مسائل ومشکلات سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیاکہ بلدیاتی نمائندوں کے مسائل ومشکلات کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ گورنرنے وفدکو مسائل ومشکلات کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔گورنرنے کہاکہ حلف لینے کے بعدہی اعلان کیا تھا کہ گورنر ہاؤس کوعوامی بناؤں گا،صوبے کے عوام کیلئے گورنرہاؤس کے دروازے کھلے ہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کا نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی اقدامات میں اہم کردار ہوتا ہے، بدقسمتی سے صوبہ میں بلدیاتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی طرح دھونس اور دھمکیوں سے کام نہیں لیں گے بلکہ مقدمہ تیار کرکے متعلقہ فورم پر اٹھائیں گے۔ آئین اورقانون کی پاسداری کریں گے اورصوبے کی تعمیر وترقی، پائیدار امن کے قیام کیلئے تمام سیاسی و سماجی حلقوں اور ھر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو بحیثیت صوبے کا شہری ہونے کے ناطے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اجتماعی کوششوں سے ہی ترقی کے منازل طے کرسکتے ہیں۔

chitraltimes governor kp faisal karim kundi presides over Swabi university senate meeting

 

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرصدارت یونیورسٹی آف صوابی کے 13ویں سینٹ کا اجلاس

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرصدارت یونیورسٹی آف صوابی کے 13ویں سینٹ کا اجلاس جمعہ کے روزگورنر ہاؤس پشاورمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن مینا خان آفریدی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمال ناصر، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر مظہر ارشاد، محکمہ اعلٰی تعلیم،محکمہ خزانہ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے سمیت سینٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں صوابی یونیورسٹی کی 12ویں سینٹ اجلاس کے منٹس منظوری کیلئے پیش کئے گئے۔گزشتہ سینٹ اجلاس کے منٹس میں یونیورسٹی کے فنانشل ریسورس پلان کے حوالے سے تحفظات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سینٹ کی صوابی یونیورسٹی کے اسٹیٹیوٹس میں مجوزہ ترامیم سے متعلق سینٹ کی قائم کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔سینٹ کی قائم کمیٹی کیجانب سے اسٹیٹیوٹس میں مجوزہ ترامیم یونیورسٹی سنڈیکیٹ سے منظوری کے بعد سینٹ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کی گئیں۔

 

اسٹیٹیوٹس میں مختلف پوزیشنوں پر تقرریوں کے حوالے سے عمر کی حد میں رعایت، یونیورسٹی ملازمین کیلئے مختلف الاونسز کو ختم کرنے سے متعلق کمیٹی کی جانب سے پیش کیجانیوالی مجوزہ ترامیم پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہناتھاکہ تمام پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے اسٹیٹیوٹس میں یکسانیت لانی ہو گی۔یونیورسٹیوں کے الگ الگ اسٹیٹیوٹس ہونے سے مختلف پیچیدگیاں و مسائل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سینٹ اجلاسوں کے منٹس کی تیاری اور منظوری کے لئے ایک ٹائم فریم ہونا چاہئے، منٹس کی منظوری کا عمل مہینوں التوا کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔گورنرنے کہاکہ یونیورسٹیوں میں بھرتیوں کیلئے عمر کی حد میں رعایت سے متعلق ایک میکنزم تشکیل دیا جائے، حکومتی ملازمین کی عمر میں رعایت کی طرز پر یونیورسٹیوں میں بھی ایسی پالیسی ہونی چاہئے، تمام پبلک سیکٹرز یونیورسٹیاں تقرریوں کیلئے عمر کی حد میں رعایت کیلئے رولز اور پالیسی وضع کریں۔انہوں نے کہاکہ نہیں چاہتے کہ عمر کی حد میں رعایت نہ ملنے سے کوئی بھی یونیورسٹی قابل فیکلٹی سے محروم ہونے کے ساتھ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع نہ مل سکے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89343

صوبائی حکومت نے مشکل مالی صورتحال کے باوجودپارٹی وژن کے مطابق ایک بہترین اور فلاحی بجٹ تیار کیا ہے- وزیراعلیٰ 

Posted on

صوبائی حکومت نے مشکل مالی صورتحال کے باوجودپارٹی وژن کے مطابق ایک بہترین اور فلاحی بجٹ تیار کیا ہے- وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے مشکل مالی صورتحال کے باوجودپارٹی وژن کے مطابق ایک بہترین اور فلاحی بجٹ تیار کیا ہے، نئے مالی سال کے لیے ہم نے 100 ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش کیا ہے جس کی تیاری میں تمام محکموں خصوصاً محکمہ خزانہ اور منصوبہ بندی کا کردار قابل ستائش ہے۔ جمعہ کے روز نئے بجٹ کے حوالے سے صوبائی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بجٹ میں شامل عوامی فلاح وبہبود اور اصلا حاتی اقدامات پر عملدرآمد کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، تمام محکمے اس سلسلے میں مقرر کردہ ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت یقینی بنائیں۔

 

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بجٹ کی تیاری کے لئے جس طرح محنت کی گئی ہے اب اس پر عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی اسی محنت اور عزم کے ساتھ کام کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صوبے کی آمدن بڑھانے اور اس مقصد کے لئے محکموں کی استعداد میں اضافے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تھرو فارورڈ کو 13 سال سے کم کرکے چھ سال پر لایا گیا ہے جو صوبائی حکومت کی ایک اہم کامیابی ہے، اس اقدام سے ترقیاتی منصوبے اپنے مقرر وقت میں مکمل ہوسکیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ہم نے گورننس کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینی ہے،جو شعبے کسی بھی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے انہیں آگے لانا ہے،ہم ایسی اصلاحات متعارف کرا رہے ہیں جو صوبے اور آنے والی نسلوں کے لئے بہتر ثابت ہونگی۔

 

وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے انتقالات پر عائد صوبائی ٹیکسز کم کردیئے ہیں، وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ بھی انتقالات پر وفاقی ٹیکسز کم کرے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ امیر اور غریب کے فرق کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے،امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مجموعی طور پر ٹیکسوں کو کم کیا گیا ہے اورٹیکسوں کی شرح کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم رکھا گیا ہے۔ نئے صوبائی بجٹ میں ٹیکسوں کی شرح کو کم رکھنے جبکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کی ترقی پر اپنے وسائل سے خاطرخواہ فنڈز خرچ کریں گے۔ وفاق کے ذمے ہمارے واجبات کا حجم بڑھتا جارہا ہے، وفاق سے اپنے بقایاجات کے حصول کے لئے مسلسل آواز اٹھاتے رہیں گے اور اس مقصد کے لئے بتدریج تمام دستیاب آپشنز استعمال کئے جائیں گے۔

chitraltimes cm kp ali amin gandapur signing budget documents

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89338

چترال گول نیشنل پارک میں پہلی مرتبہ مارخور کا عالمی دن منایا گیا

Posted on

چترال گول نیشنل پارک میں پہلی مرتبہ مارخور کا عالمی دن منایا گیا

چترال (نمائندہ چترا ل ٹائمز) اس سال اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے 24مئی کو مارخور کا عالمی دن قراردئیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ چترال میں یہ دن منایا گیا جس کے لئے چترال گول نیشنل پارک کے کور زون میں ایک تقریب منعقدہوئی جس میں جنگلی حیات کی کنزرویشن کے لئے کام کرنے والی سول سوسائٹی کے فعال کارکنان اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ تقریب کا انتظام چترال گول نیشنل پارک وائلڈ لائف ڈویژن ا ور چترال گول کنزرویشن ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر کیا تھا جس میں رسمی طور پر کیک کاٹنے کے بعد چترال میں مارخوروں کی آبادی کے صورت حال اور ایکو سسٹم میں اس جانور کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

اس موقع پر پارک ایسوسی ایشن کے صدر سلیم الدین، وائلڈ لائف ڈویژن کا نمائندہ محمد علی، چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین اور دوسروں نے کہاکہ چترال میں کنزرویشن کمیونٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 1980ء کے عشرے میں معدومیت کے خطرے سے شکار مارخور کی آبادی اب چار ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ صرف چترال گول نیشنل پارک میں اس کی آبادی ڈھائی ہزار کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں 2مئی کو ایک قرارداد کے ذریعے 24مئی کو مارخور کا عالمی دن قرار دلوانا ایک عظیم کامیابی ہے جوکہ قابل ستائش ہے جس سے اس جانور کی کنزرویشن میں بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر کاوشوں کو یکجا کرنے میں مدد ملے گی۔

ا نہوں نے کہاکہ اس کی ماحولیاتی اہمیت کے پیش نظر اسے پاکستان کی قومی جانور کی حیثیت بھی حاصل ہے جوکہ آزاد کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے علاقے کالام سوات، کوہستان اور چترال میں پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں اس کی کنزریشن میں محکمہ وائلڈ لائف نے ویلج کنزرویشن کمیٹی کے ماڈل پر عمل پیر اہے جس کی وجہ سے کمیونٹی اس کی تحفظ میں دلچسپی لیتی ہے۔ا نہوں نے کہاکہ چترال گول نیشنل پارک مارخوروں کا سب سے بڑا ہبیٹاٹ (مسکن) ہے اور اس عالمی کویہاں منانے سے اس کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔

chitraltimes kashmir markhor international day observed 1

chitraltimes kashmir markhor international day observed 2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
89333

چترال لوئیر پولیس کے خدمت مرکز میں خودکشیوں کی روک تھام کے حوالے سے قائم سوسائڈ پروینٹیو یونٹ  کو مکمل طور پر فعال کردیا گیا

چترال لوئیر پولیس کے خدمت مرکز میں خودکشیوں کی روک تھام کے حوالے سے قائم سوسائڈ پروینٹیو یونٹ  کو مکمل طور پر فعال کردیا گیا

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ ) پولیس خدمت مرکز زرگراندہ چترال میں خودکشیوں کی روک تھام کے خاطر قائم SUICIDE PREVENTIVE UNIT کو مکمل طور پر فعال کردیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال افتخار شاہ نے جمعہ کے دن شاہی خطیب مولانا خلیق الزمان, ڈی۔ایچ ۔او لوئر چترال فیاض علی رومی، ڈسٹرکٹ کوارڈنیٹر دارالامان اسیہ اجمل، ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئرخضرحیات کے ہمراہ SUICIDE PREVENTIVE UNIT کا دورہ کیا ۔
اس موقع پراے ڈی ایچ او اور کوارڈنیٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر سلیم سیف اللہ، ڈی۔ایس۔پی۔ہیڈکوارٹر اقبال کریم, اور ایل ۔اے ۔پی۔ایچ۔کے کوارڈینٹر قاضی عرفان ودیگرذمہ داران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔
انچارچ SUICIDE PREVENTIVE UNIT سب انسپکٹر دلشاد پری نے مہمانوں کو اپنے یونٹ کے قیام کے اغراض و مقاصد اور کام کرنےطریقہ کار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
ڈی۔پی۔او لوئر چترال نے کہا کہ لوئر چترال میں خودکشیوں کی بڑھتے ہوئے کیسز کی روک تھام کے لئے لوئر چترال پولیس تمام متعلقہ اداروں کو ساتھ لیکر کام کریگی۔اس موقع پر شاہی خطیب مولانا خلیق الزمان نے ڈی پی او افتخارشاہ کی کاوشوں کوسراہتے ہوئے کہاکہ خودکشی کی ناسورکو  ختم کرنے کیلئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا، انھوں نے اس حوالے سے اگہی مہم چلانے کی نسبت اپنی طرف سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کی۔

chitraltimes dpo office suicide preventive unit established 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں
89329

بزمِ درویش ۔ اللہ کا بندہ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ اللہ کا بندہ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

روز اول سے حضرت انسان اِس کو شش میں لگا ہوا ہے کہ وہ شہرت کے اس مقام تک پہنچ جائے کہ جس کے سامنے کوئی سر اٹھا کر نہ دیکھ سکے، خود کو قیامت تک زندہ اور امر کرنے کے لیے انسان عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے، سکندراعظم، چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور لنگ اِسی بیماری کا شکار ہو کر دنیا فتح کر نے نکلے، چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے اپنی دہشت پھیلانے کے لیے شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے مٹادیے اِن کے علاوہ بے شمار اور انسان بھی اپنے اپنے وقت پر کرہ ارض پر طلوع ہوئے طاقت و اختیار کے نشے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا، اور پھر مٹی کا ڈھیر بن گئے اور آج ان کی قبروں کا نشان تک نہیں ہے۔جب یہ متکبرلوگ زندہ تھے تو یہی سمجھتے تھے کہ ان کے اقتدار اور شہرت کو قیامت تک اندیشہ زوال نہیں ہے، لیکن ماہ سال کی گردش اور صدیوں کے غبار میں آج ان کا نام تک بھی کوئی نہیں جانتا،

 

انسان یہ سمجھتا ہے کہ ابدی شہرت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے لیکن ہر دور کا متکبر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا اور اِس کائنات کو بنانے والا خدا ہے وہ جس کو چاہے قیامت تک کے لیے امر کردیتا ہے اور جس کو چاہے نشان عبرت بنا دیتا ہے، حضرت انسان طاقت اور اقتدار کے نشے میں یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کا اپنا جسمانی نظام تو اس کے قبضے میں ہے نہیں تو دوسروں کو وہ کیا اپنے اختیار میں لاسکتا ہے لیکن یہ بات صاحب اقتدار لوگوں کو کم ہی سمجھ آتی ہے۔اِس لیے ہر دور میں کوئی نہ کوئی آمر یہی سمجھتا ہے کہ اِس دھرتی یا ملک کا نجات دہندہ میں ہی ہوں نہ میرے سے پہلے کوئی انسان اِس دنیا میں آیا اور نہ اس کے بعدکوئی آئیگا، ایسے تمام لوگ خدا کا یہ فرمان بھول جاتے ہیں کہ ہم دنوں کو انسانوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، عقل مند انسان تاریخ سے سبق لیتے ہیں او خود کوخدا کی بندگی میں دے دیتے ہیں جو بھی بندہ خدا کا ہو جائے اسے خدائے بزرگ و برتر ابدی شہرت سے نوازتا ہے، انسان عارضی شہرت اور اقتدار میں سب کچھ بھول جاتا ہے اگر خدا نے کسی کو چند ساعتوں پر اختیار دے بھی دیا ہو تو یہ عارضی ہے کسی دن پانی کے بلبلے کی طرح ختم ہو جائے گا،

 

خوش قسمت ہوئے ہیں وہ لوگ جو تاریخ سے سبق لیتے ہیں اور دنیاوی جھوٹے خداوں کی بجائے اِس کائنات کے مالک کے سامنے سر جھکادیتے ہیں اور پھر اِیسے لوگوں کو ہی دائمی اور ابدی شہرت نصیب ہوتی ہے۔برصغیرپاک ہند میں اللہتعالی نے بہت عظیم روحانی بزرگوں کو پیدا کیاجنہوں نے اپنی تعلیمات اور کردار سے لاکھوں لوگوں کی کردار سازی کی، انہی بزرگ ہستیوں میں ایک بزرگ سیدغوث علی شاہ قلندر بھی تھے بہت اعلی پائے کے بزرگ تھے شاعر مشرق علامہ اقبال بھی ان سے روحانی عقیدت رکھتے تھے، ان کی کتاب تزکرہ غوثیہ کو اہل تصوف میں تو باکمال مقام حاصل ہے ہی کلاسیکل اردو ادب میں بھی اس کا نمایاں اور باوقار نام ہے اِس میں تصوف اور صوفیا کے اسرار و رموز کو اس دلچسپی اور آسانی سے بیان کیا گیا ہے ہر بات دل و دماغ میں اترتی جاتی ہے، تصوف و روحانیت کی زیادہ تر کتابیں مشکل اور خشک سمجھی جاتی ہیں لیکن تزکرہ غوثیہ کا اصلوب پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے، دوران مطالعہ قاری خود کہ ایک دل نشین اور پراسرار وادی میں گھومتا ہوا پاتا ہے،

 

غوث علی شاہ قلندر نے اپنی اِس لازوال کتاب میں مغلیہ بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہد کا ایک واقعہ اِس خوبصورتی اوربلاغت آمیزی کے ساتھ لکھا ہے کہ قاری پڑھ کر عش عش کر اٹھتا ہے آپ لکھتے ہیں۔عا لمگیر کے عہد میں ایک بہروپیئے کو بہت شہرت حاصل تھی، ہر طرف اس کی شہرت اور فن کے چرچے تھے ایک روز وہ اورنگزیب کے دربار میں پہنچا اور اپنے فن کے اظہار کی اجازت مانگی چونکہ اورنگزیب مزاجا دین پسند اور سخت مزاج واقع ہوا تھا اس لیے وہ اِس طرح کی ناٹک بازیوں کو ناپسند کرتا تھا، اس نے کہا تمھارا بہروپ دراصل بے علم اور کمزور عقیدہ لوگوں کو متاثر اور مائل کرتا ہے ورنہ کوئی صاحب بصیرت اہل علم اور صاف ستھرے عقیدے کا حامل ہو تو وہ اِس طرح کی شعبدہ بازیوں پر نہ تو توجہ دیتا ہے اور نہ ہی اہمیت دیتا ہے اور نہ ان سے متاثر ہوتا ہے،

 

تمہیں اگر اپنے فن پر ناز ہے تو ذرامجھے قائل کر کے دکھا میں تمھارے چکر میں آنے والا نہیں اور اگر تم اپنے فن میں کامیاب ہو گئے اور مجھے دھوکا دے گئے تو پھر میں تمہیں منہ مانگا انعام دوں گا ورنہ میں نے ایسے کئی بازیگر دیکھے اور بھگتائے ہیں وہ بہروپیا مصلحتا خاموش ہو گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت میں کہاں اور حضور کی بصیرت کہاں، حضور میں آپ کو اپنے بہروپ سے کیسے قائل کرسکتا ہوں سرکار عالی میرا یہ دھندہ تو پیٹ کے لیے ہے اور عام لوگوں کے لیے، یہ کہہ کر وہ چل دیا اور عالمگیر اپنی ذہانت پر جھوم اٹھا۔بہروپیئے نے شاہی دربار سے جاتے ہی ایک بزرگ اور صوفی کا روپ دھارا اور کہیں بیٹھ گیا پہلے اردگرد کے علاقوں میں اس کا چرچا ہوا پھر اس کا شہرہ قصبوں اور شہروں تک پہنچا ہوتے ہوتے اِس کا تذکرہ شاہی دربار تک بھی پہنچ گیا اور دربار میں بھی اس کا تذکرہ ہونے لگا، اورنگزیب چونکہ خود ایک متقی اور صوفی دوست شخص تھااس نے اِس بزرگ کی حاضری کا ارادہ ظاہر کیا اور لا لشکر کے ساتھ اس بہروپیئے کے پاس پہنچا اور سلام کیا بہروپیئے نے بے رخی سے سلام کا جواب دیا اور سر جھکا کر بیٹھا رہا

 

اِس طرز عمل نے بادشاہ پر اس کی ولایت اور دنیا اور اہل دنیا سے بے نیازی کی دھاک بٹھادی عالمگیر نے چند باتیں کیں مگر بہروپیاہاں ہوں کرتا رہا اس کی کسی بات میں دل چسپی نہ لی بادشاہ مزید متاثر ہوا آخرکار اٹھنے لگا اور اجازت چاہی جب بادشاہ اٹھ کرجانے لگا تو بہروپیا قہقہہ لگا کر سامنے آگیا اور کہا جہاں پناہ میں وہی بہروپیا ہوں جس کو آپ نے چیلنج دیا تھا کہ میں آپ کو اپنے فن سے قائل کر لوں تو منہ مانگا انعام پاں گا۔بادشاہ ہار مان گیا اور کہا تم اپنے فن کے ماہر نکلے ہو تم جیتے میں ہارا اب مانگو کیا مانگتے ہو بادشاہ کا یہ کہنا تھا کہ بہروپیا چیخ مار کر وہاں سے یہ کہتے ہوئے چل دیا یہ تو میں نے اللہ کا نام اور اہل اللہ کا حلیہ صرف جھوٹ موٹ سے لیا اور بنایا اور بادشاہ چل کر میرے پاس آگیا اگر میں بہروپ بھرنے کی بجائے حقیقی روپ اِس طرح بنالوں تو خدا جانے مجھے دنیا و آخرت میں کیا اعزاز وانعام ملے، غوث علی شاہ لکھتے ہیں کاش دنیا والوں کو معلوم ہو تا کہ جب بندہ اوپر کے دل سے بھی خدا کو یاد کرتا ہے تو خدا اسے رسوا نہیں ہونے دیتا اور اگر اصل خدا کا بندہ بن جائے تو پتہ نہیں اللہ اسے کیا مقام عطاکرے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89326

پاکستان بنانا ری پبلک؟ – میری بات:روہیل اکبر

Posted on

پاکستان بنانا ری پبلک؟ – میری بات:روہیل اکبر

پاکستان بنانا ری پبلک بن چکا ہے یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں ہمارے ہر سیاستدان نے اپنی زبان سے ادا کیے ہیں ہمارے یہ سیاستدان جب اقتدار میں ہوتے ہیں توکاش یہ اپنے وہ الفاظ یادرکھتے جو انہوں نے اقتدار سے باہر رہتے ہوئے ادا کیے تھے شائد پاکستان بنانا ری پبلک جیسے الفاظ سے باہر نکل آتا ابھی کل ہی مولانا فضل الرحمان، عمر ایوب اور اسد قیصر کی ملاقات ہوئی جسکے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں آئین نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور نہ ہی کہیں سے کوئی سرمایہ کاری آرہی ہے کیونکہ اس وقت ملک میں عدل و انصاف نہیں اور ملک بنانا ری پبلک بن چکا ہے چلو آج ہم پھر بنانا ری پبلک یعنی کیلے کی جمہوریت پر ہی بات کرتے ہیں کہ یہ ہے کیا اور اسکی ابتدا کہاں اور کیسے ہوئی کیا پاکستان واقعی کیلے کی جمہوریت والا ملک بن چکا ہے۔ بنانا ری پبلک کا لفظ سب سے پہلے 1904 میں امریکی مصنف O. Henry نے وضع کیا تھا جو ایک سیاسی اور اقتصادی طور پر غیر مستحکم ملک کی وضاحت کرتی ہے جس کی معیشت صرف قدرتی وسائل پر منحصرہو اور انتہائی طبقاتی سماجی طبقات کا معاشرہ ہو غریب محنت کش طبقہ اور حکمران طبقے کا واضح فرق ہو تسلط پسندی کا رواج ہو کاروبار اور حکومت سیاسی اور فوجی اشرافیہ پر مشتمل ہو حکمران طبقہ محنت کشوں کے استحصال کے ذریعے معیشت کے بنیادی شعبے کو کنٹرول کرتا ہو کیلے کی جمہوریہ کی اصطلاح ایک غلام طبقے کے لیے ایک طنزیہ جملہ بھی ہے جہاں کک بیکس لیے جاتے ہوں اور پھر ڈھٹائی سے انکا دفاع بھی کیا جاتا ہو کیلے کی جمہوریہ ایک ایسا ملک ہوتا ہے جس کی معیشت ریاستی سرمایہ داری کی ہو جس کے تحت ملک کو حکمران طبقے کے خصوصی منافع کے لیے نجی تجارتی ادارے کے طور پر چلایا جاتا ہو اور اس طرح کا استحصال ریاست اور پسندیدہ معاشی اجارہ داریوں کے درمیان ملی بھگت سے ہوتا

 

ایسے ملک میں قرضوں کی بھر مار ہوتی ہے حکمران طبقہ قرضہ حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے ملکی اثاثے گروی رکھ دیتا ہے لیکن ان قرضوں کو عوام پر لگانے کی بجائے خود ہضم کر جاتا ہے اور ان قرضوں کی مالی ذمہ داری سرکاری خزانے کی ہوتی ہے۔ اس طرح کی غیر متوازن معیشت ملک میں غیر مساوی اقتصادی ترقی کی وجہ بھی بنتی ہے اور عام طور پر قومی کرنسی کو قدرے کم کر کے بینک نوٹ (کاغذی کرنسی) میں تبدیل کر دیتی ہے یوں ملک بین الاقوامی ترقیاتی کریڈٹ کے لیے نااہل ہو جاتا ہے 20ویں صدی میں امریکی مصنف او ہنری نے کیبیز اینڈ کنگز کتاب میں افسانوی جمہوریہ اینچوریا کو بیان کرنے کے لیے کیلے کی جمہوریہ کی اصطلاح وضع کی جسکی معیشت کا بہت زیادہ انحصار کیلے کی برآمد پر تھا20 ویں صدی کے اوائل میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی (ایک ملٹی نیشنل کارپوریشن) نے کیلے کی جمہوریہ کے رجحان کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا اس کمپنی نے دیگر کمپنیوں کے ساتھ ملکراور امریکی حکومت کی طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ممالک میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالات میں ابتری پیدا کی جس کے بعد وہاں کی منتخب جمہوری حکومت میں بغاوت ہوئی اور پھر کیلے کی جمہوریہ قائم کردی گئی

 

ان میں ابتدائی طور پر وسطی امریکی ممالک جیسے ہونڈوراس اور گوئٹے مالا شامل ہیں۔سادہ لفظوں میں اسکی مثال ایسٹ انڈیا کمپنی کی سمجھ لیں جو تجارت کی غرض سے ہندوستان آئی اور پھر کیسے انہوں نے پورے برصغیر پر قبضہ کرکے اس سونے کی چڑیا میں لوٹ مار کی اور انہی کی باقیات ابھی تک ہم پر مسلط ہیں میں بات کررہا تھا کیلے کی ریاست کی ابتدا کی تاکہ عام انسان کو بھی اندازہ ہو سکے کہ کیسے ایک پلاننگ کے تحت ملک کو تباہ و برباد کرکے باناری بپلک بنایا جاتا ہے اور اسکی ابتدا کہاں سے ہوئی اسکا تو ذکر کردیا اب اسکی کچھ اور تفصیل بھی ملاحظہ فرمالیں 19ویں صدی کے آخر تک تین امریکی ملٹی نیشنل کارپوریشنز (UFC، سٹینڈرڈ فروٹ کمپنی، اور Cuyamel Fruit Company) نے کیلے کی کاشت، کٹائی اور برآمد پر غلبہ حاصل کر کے ہونڈوراس کی سڑک، ریل اور بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو کنٹرول کرلیا اورپھر ہنڈوران کی قومی سیاست کو مزدور مخالف تشدد سے جوڑ دیا 20 ویں صدی کے اوائل میں امریکی تاجر سیم زیمرے (کیومیل فروٹ کمپنی کے بانی) نے “کیلے کی جمہوریہ” کے دقیانوسی تصور کوحقیقت کا رنگ دینے میں اہم کردار ادا کیا

 

وہ یونائیٹڈ فروٹ کمپنی سے زیادہ پکے ہوئے کیلے خرید کر کیلے کی برآمد کے کاروبار میں داخل ہوئے اور 1910 میں زیمورے نے کیومیل فروٹ کمپنی کے استعمال کے لیے ہونڈوراس کے کیریبین ساحل میں 6,075 ہیکٹر (15,000 ایکڑ) زمین خریدی 1911 میں زیمورے نے ہونڈوراس کے سابق صدر مینوئل بونیلا (1904–1907) اور امریکی باڑے لی کرسمس کے ساتھ مل کر ہونڈوراس کی سول حکومت کا تختہ الٹنے اور غیر ملکی کاروبار کے لیے دوستانہ فوجی حکومت قائم کرنے کی سازش کی اس مقصد کے لیے کرسمس کی قیادت میں Cuyamel Fruit Company کی کرائے کی فوج نے صدر Miguel R. Dávila (1907–1911) کے خلاف بغاوت کی اور بونیلا (1912–1913) کومسلط کردیااس تمام غیر قانونی کھیل کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے منتخب حکومت کی معزولی کو نظر اندازکرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ڈیویلا کو سیاسی طور پر بہت زیادہ آزاد خیال اور ایک غریب تاجر کے طور پر پیش کیا گیا جس کی انتظامیہ نے ہنڈوراس کو برطانیہ کا مقروض کر دیا تھا جو کہ جغرافیائی طور پر ناقابل قبول صورتحال ہے اس بغاوت کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام نے ہنڈوران کی معیشت کو روک دیاامریکی ڈالر ہنڈوراس کی قانونی کرنسی بن گیا کرسمس ہونڈوران آرمی کا کمانڈر بن گیاجو بعد میں ہونڈوراس میں امریکی قونصل مقرر ہوا اسی طرح گوئٹے مالا کوبھی ایک ‘کیلے کی جمہوریہ’ کی علاقائی سماجی و اقتصادی میراث کا سامنا کرنا پڑا اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان پاکستان کے بارے میں جو بنانا ری پبلک جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ان میں کتنی حقیقت ہے اگر خدا نخواستہ ہم واقعی بنانا ری پبلک کی طرف جارہے ہیں تو اس میں قصور کس کا ہے بریانی کی پلیٹ پر بکنے والی عوام کا یا پھر لوٹ مار کرنے والی اشرافیہ کا؟ ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89323

بی جے پی کی ور سٹائل پروپیگنڈا مشینری – قادر خان یوسف زئی

Posted on

بی جے پی کی ور سٹائل پروپیگنڈا مشینری – قادر خان یوسف زئی

وزیر اعظم نریندر مودی کی جاری بھارتی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ مسلمانوں کے بارے میں بار بار جھوٹے اور نفرت انگیز دعوے کرکے مودی جان بوجھ کر سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔مودی نے اپوزیشن کانگریس پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے ہندوؤں کو ان کی دولت اور حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بے بنیاد الزام لگایا ہے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وہ ہندوؤں کی جائیدادیں چھین کر مسلمانوں میں تقسیم کر دے گی۔ مودی کی اشتعال انگیز ی کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں تھا بلکہ وزیر اعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کانگریس ہندو خواتین سے منگل سوتر (شادی شدہ ہندو خواتین کے ذریعے پہنا جانے والا مقدس ہار) بھی چھین کر مسلمانوں کو دے گی۔ یہ مودی کی ہندو خواتین کو خوفزدہ کرنے کی ایک اشتعال انگیز ی ایک اور کوشش ہے۔ مودی کی بیان بازی کا مقصد واضح طور پر ووٹروں کو مذہبی خطوط پر پولرائز کرنا اور معیشت اور بے روز گاری جیسے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔

بی جے پی کی پروپیگنڈامشینری، جس کی قیادت آر ایس ایس کر رہی ہے، تاریخ کو مسخ کرنے، ذات پات کے درجہ بندی کو بڑھاوا دینے، اور مسلمانوں کو نفرت کا نشانہ بنانے کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ اس الیکشن میں، انہوں نے مسلم آبادی کے خطرے کے خوف کو جنم دینے کے لیے ”لو جہاد” اور ”لینڈ جہاد” جیسے پرانے ٹرپس کو زندہ کیا ہے۔ آبادی کے تناسب میں فرق کو بھی مذہبی اقلیتوں کے خلف اشتعال انگیزی کے لئے استعمال کیا تاہم، یہ خدشات بے بنیاد ہیں، کیونکہ آزادی کے بعد سے مسلم آبادی میں معمولی اضافہ ہوا ہے اور پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مودی کی مسلم دشمنی نے بھارت کے 200 ملین مسلمانوں کے لیے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، جو اب ”اپنی شناخت کے قیدی” کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ انتخابی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کی خاموشی میں انتہائی پراسراریت ہے۔

 

بھارتی سیاست و انتخابات کے پیچیدہ منظر نامے میں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے رائے عامہ کو تشکیل دینے اور اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے پروپیگنڈے کا استعمال کرنے میں مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے مل کر ایک ایسی داستان تیار کی جو قرون وسطی کی تاریخ کو مسخ کرتی ہے، ذات پات اور صنفی درجہ بندی میں جڑی ایک قدیم ہندوستانی تہذیب کی تعریف، اور مسلمانوں کو مسلسل بدنام کرتی ہے۔ یہ پروپیگنڈا مشینری نمایاں طور پر ورسٹائل رہی ہے، جس نے اپنے موضوعات کو اس وقت کے سیاسی ماحول اور انتخابی ضروریات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔بی جے پی-آر ایس ایس کے بیانیے میں ایک بار بار چلنے والا موضوع مسلم حکمرانوں کو مندروں کو تباہ کرنے والوں کے طور پر دکھایا گیا ہے، ایک ایسی داستان جس نے رام مندر تحریک کو ہوا دی۔ یہ تحریک، جس کا اختتام 1992 میں بابری مسجد کے انہدام پر ہوا، صرف ایک مذہبی مقام پر دوبارہ دعویٰ کرنے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ عوامی نفسیات میں ایک تاریخی شکایت کو مضبوط کرنے کے بارے میں تھا۔ ہندو مندروں کی مبینہ بے حرمتی کرنے والے مخالفوں کے طور پر مسلم بادشاہوں کی تصویر کشی نے فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا۔بی جے پی نے اپنے سیاسی اہداف کو آگے بڑھانے کے ہمیشہ پاکستان مخالف بیانیہ کا استعمال کیا۔ پاکستان کو بھارت کے لیے ایک وجودی خطرے کے طور پر پیش کرنا ایک مستقل موضوع رہا ہے، جو قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے اور بی جے پی کو بھارت کی خودمختاری کا واحد محافظ قرار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ 2019 کے انتخابات میں خاص طور پر واضح ہوا جب پلوامہ حملہ اور اس کے نتیجے میں بالاکوٹ فضائی حملے بی جے پی کو ایک مضبوط، فیصلہ کن حکومت کے طور پر پیش کیے گئے اور اب2024کے عام انتخابات میں بھی بڑے دھڑلے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

گزشتہ دہائی کے دوران، بی جے پی نے حمایت حاصل کرنے کے لیے اقتصادی اور سماجی اصلاحات کا وعدہ بھی کیا تھا۔’اچھے دن‘ کے نعرے نے خوشحالی کے مستقبل کا وعدہ کیا، جس میں ہرشہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے اور سالانہ دو کروڑ نوکریاں پیدا کرنے جیسی یقین دہانیاں شامل ہیں۔ یہ وعدے پورے نہیں ہوئے، انا ہزارے کی زیرقیادت انسداد بدعنوانی کی تحریک، جسے آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں کی نمایاں حمایت حاصل تھی، نے کانگریس کو ایک بدعنوان ادارے کے طور پر رنگ دیا، جس سے بی جے پی کے لئے میدان ہموار ہوا۔اپنی تمام مہموں کے دوران، بی جے پی نے مسلم مخالف بیان بازی کا ایک مستقل سلسلہ برقرار رکھا ہواہے۔ پروپیگنڈا اکثر یہ تجویز کرتا تھا کہ مسلمانوں کو بھارت کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت ہے، یہ ایک ایسا حربہ ہے جس نے معاشرتی تقسیم کو گہرا کیا ہے اور تعصب کو دوام بخشا ہے۔حالیہ انتخابات میں بی جے پی کو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی لہر پر سوار ہونے کی امید تھی۔ تاہم، گیان واپی جیسے مسائل عوام میں اتنی مضبوطی سے گونجے جو معاشی مشکلات اور گرتے ہوئے معیار زندگی کے بارے میں زیادہ فکر مند نظر آتے تھے۔ یہ تبدیلی سیاسی مہمات کی بنیاد کے طور پر مذہبی اور تاریخی شکایات کے حوالے سے ووٹروں میں بڑھتی ہوئی تھکاوٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔

 

مودی کا کانگریس کے منشور سے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کے معاملے کا استعمال، جسے انہوں نے مسلمانوں میں دولت کی شناخت اور دوبارہ تقسیم کے لیے ایک آلہ کے طور پر بنایا، سماجی خوف اور تعصبات کو جوڑ توڑ کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی کو مزید واضح کرتا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ پاکستان ایک کمزور بھارتی حکومت کا خواہاں ہے، قوم پرستانہ خوف کو ہوا دینے اور گھریلو مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش تھی۔بی جے پی کی پروپیگنڈہ مشینری، جس کی بنیاد آر ایس ایس ہے، نے تاریخی نظرثانی، قومی سلامتی کے خدشات، اور نا مکمل اقتصادی وعدوں کے امتزاج کے ذریعے عوامی جذبات سے کھلواڑ کرنے میں ماہر ثابت کیا ہے۔ اگرچہ یہ حکمت عملی ماضی میں کارآمد رہی ہیں، لیکن یہ بڑھتا ہوا اشارہ ہے کہ ووٹر اس طرح کے ہتھکنڈوں سے تنگ آ رہا ہے۔ چونکہ سماجی و اقتصادی خدشات کو فوقیت حاصل ہے، اس لیے بی جے پی کو اپنا سیاسی غلبہ برقرار رکھنے کے لیے اپنے نقطہ نظر کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89320

وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

Posted on

وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعظم شہبازشریف نے گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیراعظم سیکرٹریٹ سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی میں 4 وفاقی وزراء سمیت 3 صوبائی وزیر بھی شامل ہیں، صوبائی وزراء انجینئرمحمد انور، انجینئر اسماعیل، فتح اللہ خان اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان بھی کمیٹی کے ممبر ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ امید ہے کمیٹی کے ذریعے بہت جلد گلگت بلتستان کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے، کمیٹی کا مقصد گلگت بلتستان کے مالی معاملات کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنا، دیامر بھاشا ڈیم سے گلگت بلتستان کو خالص ہائیڈل منافع کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنا شامل ہے۔کمیٹی گلگت بلتستان میں چار اضافی اضلاع (تاتل، تانگیر، روندو، گوپس/یٰسین) کے قیام کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے اور قابل عمل سفارشات فراہم کرنے سمیت گلگت بلتستان میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے گی اور عملدرآمد کا پلان فراہم کرے گی۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کا مقصد گندم کی سبسڈی کے لیے ایک طویل المدتی پائیدار منصوبے پر غور کرنا اور تجویز کرنا جس میں گندم کی قیمت کو معقول بنانا اور ٹارگٹڈ سبسڈی شامل ہو سکتی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی 30 دنوں کے اندر اپنی سفارشات وزیر اعظم پاکستان کو پیش کرے گی، وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کمیٹی کو سیکرٹریل معاونت فراہم کرے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستانTagged
89318

صوبائی دارلحکومت پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کیلئے رنگ روڈ سمیت دیگر اہم سڑکوں پر انڈر پاسسز / فلائی اوورز تعمیر کرنے کا فیصلہ

Posted on

صوبائی دارلحکومت پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کیلئے رنگ روڈ سمیت دیگر اہم سڑکوں پر انڈر پاسسز / فلائی اوورز تعمیر کرنے کا فیصلہ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)کے بورڈ کا 11واں اجلاس جمعرات کے روز وزیراعلیٰ ہاو س پشاور میں منعقد ہوا جس میں 33 نکاتی ایجنڈے پر غور وخوص کے بعد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں صوبائی دارلحکومت پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کیلئے رنگ روڈ سمیت دیگر اہم سڑکوں پر انڈر پاسسز / فلائی اوورز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر آٹھ انڈر پاسسز/ فلائی اوور تعمیر کئے جائیں گے۔ تین انڈرپاسسز / فلائی اوور رنگ روڈ کے مختلف مقامات جبکہ پانچ انڈر پاسسز شہر کے اندر مختلف مصروف مقامات پر تعمیر کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان، مئیر پشاور حاجی زبیر علی کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور بورڈ اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔

 

بورڈ اجلاس میں رنگ روڈ کی کشادگی اور بحالی کے کاموں کی منظوری کے ساتھ ساتھ پی ڈی اے کے زیر انتظام چلنے والے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن سے پی ڈی اے کو بجلی کے بلوں کی مد میں سالانہ 81 کروڑ روپے کی بچت ہو گی۔ بورڈ نے ریگی للمہ ماڈل ٹاون میں پی ڈی اے کے سب آفس جبکہ ٹاون میں ایجوکیشن کمپلیکس کے قیام کیلئے ایکشن پلان کی بھی منظوری دے دی ہے۔بورڈ نے پی ڈی اے ایکٹ 2017 کے تحت مختلف رولز اینڈ ریگولیشنز کی مشروط منظوری دے دی ہے جبکہ صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں تشکیل کردہ کمیٹی 14 دنوں میں ان رولز اینڈ ریگولیشنز کا باریک بینی سے جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دے گی۔ بورڈ اجلاس میں پی ڈی اے کی زمینوں پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہائی رائز بلڈنگز کی تعمیر کیلئے مجوزہ ایکشن پلان کی بھی مشروط منظوری دی گئی ہے۔بورڈ نے فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کیلئے محکمہ داخلہ کو حیات آباد میںدرکار زمین فراہم کرنے جبکہ ریگی ماڈل ٹاو ن میں پیر ا پلیجک سنٹر کے قیام کیلئے محکمہ صحت کو درکار زمین دینے کی منظوری دے دی ہے۔

 

وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈا پور نے پشاور موٹروے تا حیات آباد جی ٹی روڈ پر سنٹرل میڈیا پر سولر لائٹس کی تنصیب اور سنٹرل میڈیا کی تزئین و آرائش کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بی آر ٹی کے گرے اسٹرکچر کی تزئین و آرئش اور بیوٹیفکیشن کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے پی ڈی اے کے تمام انفراسٹرکچر کی شمسی توانائی پر منتقلی کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ڈی اے کے زیر انتظام سڑکوں کی مرمت اور دیکھ بھال کا خصوصی انتظام کیا جائے ، صوبائی دارلحکومت پشاور میں پی ڈی اے اور دیگر شہری سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کے دائرہ کار کا واضح تعین کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو نیو پشاور ویلی منصوبے پر پیشرفت کیلئے ایک مہینے میں پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 

 

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے جمعرات کے روز ایرانی قونصلیٹ جنرل پشاور کا دورہ کیا اور ڈپٹی قونصل جنرل حسین مالیکی سے ملاقات کی۔وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی قونصل جنرل سے گزشتہ روز ایران میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور حادثے میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقاءکی شہادت پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی مغفرت کےلئے دعا کی اور کہا کہ وہ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام کی طرف سے سوگوار خاندانوں اور ایرانی عوام کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، اس المناک حادثے میں ایرانی صدر اور ان کے رفقاءکی شہادت پر دلی صدمہ ہوا،ایرانی حکومت اور عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں، خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک کے عوام اس افسوسناک حادثے پر سوگوار اور غمزدہ ہیں۔وزیر اعلیٰ نے نئے ایرانی صدر کےلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ ایرانی قونصل جنرل نے تعزیت اور اظہار ہمدردی کےلئے تشریف لانے پر وزیر اعلیٰ اور ان کے رفقاءکا شکریہ ادا کیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89314

دیر موٹروے منصوبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس عوامی پراجیکٹ کی جلد جلد تعمیر کے لیے اقدامات اٹھائیں جا رہے ہیں۔ وزیر مواصلات 

Posted on

دیر موٹروے منصوبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس عوامی پراجیکٹ کی جلد جلد تعمیر کے لیے اقدامات اٹھائیں جا رہے ہیں۔ وزیر مواصلات

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ دیر موٹروے صوبے کی ترقی میں انتہائی اہمیت کا عامل منصوبہ ہے اس لیے یہ منصوبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس عوامی پراجیکٹ کی جلد جلد تعمیر کے لیے اقدامات اٹھائیں جا رہے ہیں تاکہ یہ منصوبہ عوامی امنگوں کے مطابق جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز دیر موٹروے منصوبے کی تعمیر سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں معاون خصوصی برائے بہبود آبادی لیاقت علی خان، دیر سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات ڈاکٹر اسد علی،منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اسد علی،پراجیکٹ ڈائریکٹر دیر موٹر وے برکت خان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں دیر موٹروے کی تکمیل کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تعمیر کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ دیر موٹروے 30 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس پر 49 بلین روپے تعمیری لاگت آئے گی۔اس منصوبے میں 6.2 کلومیٹر ٹنل کی تعمیر بھی شامل ہے اس پراجیکٹ کی تعمیر سے دو گھنٹے کا راستہ آدھے گھنٹے میں طے ہوگا جبکہ ان گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک کا رش بھی کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دیر موٹروے کی تعمیر سے صوبے کی سیاحت کے شعبہ کو بہت فروغ ملے گا اور بیرونی سیاح خیبر پختونخواکے ان خوبصورت اور دلکش علاقوں کا رخ کریں گے جن سے صوبے کی آمدن میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں نئے روزگار کے ہزاروں مواقع بھی پیدا ہوں گے صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اس پراجیکٹ کے کام کے آغاز کے لیے اقدامات کریں

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
89309

سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلٹیشن کونسل کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختو خوا کو نمائندگی سے محروم کیا گیا ہے۔ بریسٹر سیف 

Posted on

سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلٹیشن کونسل کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختو خوا کو نمائندگی سے محروم کیا گیا ہے۔ بریسٹر سیف

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے جعلی فارم 47 حکومت کا خیبر پختونخوا سے تعصب انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلٹیشن کونسل کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختو خوا کو نمائندگی سے محروم کیا گیا ہے۔ 25 مئی کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ کونسل کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختو خوا کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ مذکورہ سپیشل انوسٹمنٹ کونسل کے اجلاس میں خیبر پختون خوا کے علاؤہ تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ مدعو ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ قدرتی وسائل سے مالامال صوبے کی قسمت کا فیصلہ وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی میں قابل قبول نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کے اس متعصبانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ اسلام آباد کے ایوانوں میں صوبے کے وسائل سے متعلق متعصبانہ فیصلے نہیں ہونے دینگے۔ جعلی فارم 47 حکومت ملک کو صوبائیت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ خیبر پختونخوا ایک پسماندہ صوبہ ہے اسکو مزید پسماندہ رکھنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کررہا ہے۔
ان ساری قربانیوں کے باوجود صوبے کے ساتھ متعصبانہ سلوک کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبے کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
89306

پرنسز زہرہ کا دورہ گلگت بلتستان اور کچھ تجاویز- خاطرات : امیرجان حقانی 

پرنسز زہرہ کا دورہ گلگت بلتستان اور کچھ تجاویز- خاطرات : امیرجان حقانی

گلگت بلتستان، پاکستان کا ایک خوبصورت مگر انتہائی بھرپور چیلنجز سے مملو خطہ ہے، اس خطے کی چیلنجز میں بالخصوص امن و امان، سماجی ہم آہنگی، تعلیم و صحت اور روزگار کے مسائل شامل ہیں. اس کی وادیاں اور پہاڑیاں قدرت کے حسین مناظر کا نمونہ ہیں۔ اس خطے کے عوام نے ہمیشہ اپنی محنت، خلوص اور جدوجہد سے دنیا میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم تعلیم اور صحت کے میدان میں بالخصوص پورے گلگت بلتستان میں انقلاب برپا کریں، تاکہ گلگت بلتستان امن کا گہوارہ بھی بن جائے اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی. یہ انقلاب کچھ مخصوص شہروں یا اضلاع و کمیونٹیز تک محدود نہ ہو بلکہ گاشو پہوٹ سے لے کر شندور تک، داریل کھنبری سے لے کر استور کالا پانی اور بلتستان چھوربٹ تک یہ انقلاب حقیقی طور پر برپا ہو، اس سے سنی، شیعہ، نوربخشی، اسماعیلی اور  دیگر سب برابر مستفید ہوں. اور اس میں آغا خان فاؤنڈیشن کا کردار کلیدی ہو سکتا ہے۔کلیدی کردار کے لئے عزم اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے جس کو پیدا کرنا بھی ایک مستقل چیلنج ہے اور حوصلہ درکار ہے. دل و دماغ کو بہت بڑا کرنا ہوگا. اتنا بڑا کہ سب سمو جائیں.
پرنس کریم آغا خان کی بیٹی پرنسز زہرہ کی گلگت بلتستان آمد نے اس خطے کے لوگوں میں نئی امیدیں اور جذبہ پیدا کیا ہے۔ ان کے دورے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آغا خان اور آغا خان فاؤنڈیشن ہمیشہ سے ہی یہاں کے عوام کی بھلائی کے لئے سرگرم ہیں اور رہیں گے۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے ضلع ہنزہ اور غذر میں تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں شاندار کام کیے ہیں، اور یہ بدیہی حقیقت ہے کہ امامتی اداروں، آغاخان فاونڈیشن اور اس کے ذیلی یونٹس  سے زیادہ تر اسماعیلی برادری کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ دیگر کمیونٹیز کے لوگ جزوی طور فائدہ حاصل کر پا رہے ہیں. دیامر مکمل محروم ہے.
ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم مستقبل کی کنجی ہے. ضلع دیامر و استور اور بلتستان کے کچھ ایریاز میں بالخصوص تعلیم کے میدان میں بہت زیادہ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں کے بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کے تجربات اور وسائل کی مدد سے یہاں تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہےاس کے لیے کچھ مختصر تجاویز پیش خدمت ہیں جو بالخصوص پرنسز زہرہ اور محمد علی تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔
1.معیاری تعلیمی اداروں کا قیام:
دیامر و استور اور دیگر نیڈی ایریاز  میں جدید سہولیات سے آراستہ تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ ایسے ادارے جو نہ صرف جدید تعلیمی معیار کو بلند کریں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کریں اور انہیں دور جدید کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار کریں۔
2.اساتذہ کی تربیت:
معیاری تعلیم کے لئے معیاری اساتذہ ضروری ہیں۔ آغا خان فاؤنڈیشن اساتذہ کی تربیت کے لئے خصوصی پروگرام شروع کرے تاکہ وہ جدید تدریسی طریقوں سے واقف ہو سکیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ پی ڈی سی این گلگت کے زیر انتظام، پہلے ہی اساتذۂ کی تربیت کا انتظام چل رہا ہے، تاہم میرا خصوصی مدعا یہ ہے کہ دیامر ڈویژن اور دیگر نیڈی علاقوں کے اساتذہ کو ترجیحی بنیادوں پر فوکس کیا جائے.
3.تعلیم کی رسائی:
ان علاقوں کے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے لئے خصوصی تعلیمی پروگرامز کا آغاز کیا جائے جن کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بھی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ پرنسز زہرہ اگر اس نکتہ کو فوکس کرکے آغاخان یونیورسٹی اور فاونڈیشن کو ذمہ داری دے تو ایسا خصوصی نظم یعنی کوئی پروجیکٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے کہ تعلیم چل کر ہی ہر بچے کی دہلیز تک پہنچے. کاش! اس بات کو کوئی سمجھے. یہ پروجیکٹ حکومت، کسی این جی اور یا لوکل کمیونٹیز کیساتھ مل کر بھی وضع کیا جاسکتا ہے.یہ بہت اہم بات ہے. دیہی علاقوں کے بچے تعلیم اور تعلیم ان سے محروم ہے. گلگت بلتستان میں بیلنس ترقی کے لئے یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں.
ان دو تین تجاویز کے علاوہ بھی آغاخان یونیورسٹی اور آغاخان فاونڈیشن لازمی پروجیکٹ تیار کرسکتے ہیں. ان کے پاس تعلیمی ماہرین کی بڑی ٹیمیں موجود ہیں. وہ جانتے ہیں کہ  نیڈی رولر ایریاز میں کام کیسے کیا جاسکتا ہے. تعلیم ان تک کیسے پہنچائی جاسکتی ہے.
تعلیم کیساتھ صحت بھی بہت ضروری ہے. ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک ترقی یافتہ معاشرہ بن سکتا ہے. بغیر صحت کے معاشرے اور قومیں زوال پذیری کا شکار ہوتی ہیں.
دیامر ڈویژن اور کچھ نیڈی رولر ایریاز میں صحت کے میدان میں بھی بہتری کی ضرورت ہے. ان علاقوں کے عوام کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ آغا خان ہسپتال اور فاؤنڈیشن یہاں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آغاخان فاونڈیشن کے اسکردو، ہنزہ، گلگت اور غذر میں بہترین ہسپتال ہیں. ایسے کچھ مزید اعلی شان ہسپتالوں کی ضرورت دیامر اور استور میں بھی ہے.شعبہ صحت کے حوالے سے بھی کچھ تجاویز ملاحظہ ہوں.
1. جدید طبی مراکز کا قیام:
ضلع دیامر و استور میں جدید طبی مراکز کا قیام ضروری ہے جہاں عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔ دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے اور شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ یہی سے گَزرتا ہے. اکثر مسافروں کے حادثات بھی ہوتے ہیں. اس حوالے سے بھی چلاس میں ایک جدید ہسپتال کی ضرورت ہے. اکلوتا چلاس سرکاری ہسپتال چار لاکھ سے زائد آبادی اور ہزاروں مسافروں اور زخمیوں کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے.
2.صحت کی تعلیم:
صحت کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا اہم ہے۔ اس کے لئے خصوصی مہمات چلائی جائیں جن میں عوام کو صحت مند طرز زندگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جس طرح لٹریسی ریٹ دیامر میں کم ہے اسی طرح صحت کے حوالے سے بھی بنیادی معلومات سے لوگ نابلد ہیں. یہ بھی ایک خطرناک چیلنج ہے جو پورے گلگت بلتستان کو ڈسٹرب کررہا ہے.
3.ماں اور بچے کی صحت:
ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کے مراکز قائم کئے جائیں جہاں ماں اور بچے کو مکمل طبی سہولیات فراہم ہوں۔ افسوسناک امر یہ ہے زچہ بچہ کی تعلیمی آگاہی ان علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے. بلکہ عیب سمجھا جاتا ہے. دیامر اور استور کی روایات کو مدنظر رکھ شاندار آگاہی دی جاسکتی ہے.
تعلیم اور صحت کے علاوہ دیگر اہم ایریاز بھی بالخصوص دیامر ڈویژن میں کام کی ضرورت ہے.
1.روزگار کے مواقع:
ان علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے آغا خان فاؤنڈیشن مقامی صنعتوں کو فروغ دے سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف معیشت مستحکم ہو گی بلکہ عوام کو بھی روزگار ملے گا۔مائیکرو فائنانس اور مائیکرو بزنس کی دسیوں صورتیں ترتیب دی جاسکتی ہیں.
2.خواتین کی ترقی:
ان علاقوں کی خواتین کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان کے لئے ہنر سکھانے کے مراکز قائم کئے جائیں تاکہ وہ خود مختار ہو سکیں۔ اس میں بھی مقامی لوگوں کی روایات و ثقافت کو مدنظر رکھ کر بڑے پیمانے پر کام کرنے کہ گنجائش اور ضرورت موجود ہے.
3.ماحولیات کی حفاظت:
ان علاقوں میں ماحولیات کی حفاظت کے لئے خصوصی پروگرام شروع کئے جائیں تاکہ قدرتی وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے۔ دیامر اور استور قدرتی وسائل کے خزانے ہیں. ان کی حفاظت کے لئے ہر سطح پر کام کیا جاسکتا ہے.
یہ ماننے میں قطعاً حرج نہیں کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے ضلع ہنزہ اور غذر میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔لیکن ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ پرنس کریم آغا خان  ایک عالمی شخصیت ہیں. عالمی شخصیت ہونے کے ناطے، آغا خان کے وژن اور خدمات کو صرف ایک کمیونٹی تک محدود رکھنا مناسب نہیں۔ یہ بات مقامی لوگوں اور آغاخان کے چاہنے والوں کو ضرور بری لگے گی بلکہ وہ فوراً تردید کریں گے اور دیگر کمیونٹیز کے لیے کی جانے والی خدمات گنوانا شروع کریں گے مگر بہرحال یہ بھی زمینی حقیقت ہی ہے کہ گلگت بلتستان و چترال میں آغا خان اور آغاخان فاونڈیشن کو محدود کیا گیا ہے. اب تک عملا یہی ہورہا ہے.جس سے انکار کی گنجائش موجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے دلائل گھڑنے کی ضرورت ہے. اب تک جو ہوا سو ہوا.
گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع، خصوصاً دیامر و استور، کو بھی ان خدمات سے مستفید ہونے کا پورا حق ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پرنسز زہرہ کی گلگت بلتستان آمد، ان علاقوں کے لوگوں کے لئے نئے مواقع اور ترقی کے دروازے کھولے گی۔ لوگ بدلے ہیں. حالات بدلے ہیں. خیالات بدلے ہیں. اب وہ سوچ اور خیالات نہیں رہے جن کا کبھی شکوہ کیا جاسکتا تھا. اب ان علاقوں میں کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ یا دلیل معقول نہیں کہلائی گی.
آئیے، ہم سب مل کر ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں جہاں گلگت بلتستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم، مناسب روزگار اور صحت کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے مشترکہ طور پر کوششیں کرنی ہوں گی۔ ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم کریں جہاں ہر فرد کو ترقی کے برابر مواقع ملیں اور ہم سب مل کر اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر دنیا تخلیق کریں۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
89302

داد بیداد ۔ سبق کا منظر نا مہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ سبق کا منظر نا مہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

پُر تعیش ہاسٹلوں میں رہنے والے طلباء اور طا لبات کو شا ید یہ نہیں معلوم کہ ڈیڑھ سو سال پہلے خیبر پختونخوا میں سبق کی یہ سہو لتیں نہیں تھیں 1860ء میں سبق پڑھنے کے شو قین صرف لڑ کے ہوتے تھے لڑ کیوں کے شوق کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا اگر کسی کا بیٹا سبق کا شو قین ہوتا تو دور دور تک مدرسہ یا دار لعلوم نا م کا کوئی ادارہ نہیں تھا، مکتب نا م کی کوئی جگہ نہیں تھی، سکول کا انگریزی نا م کسی نے سنا بھی نہیں تھا اس کے باو جود سبق کے شو قین لڑ کے علم کی تلا ش میں گھروں سے نکلتے تھے، سوا ل یہ ہے کہ گھروں سے نکل کر کہاں جا تے تھے؟ جوا ب یہ ہے کہ اُس زما نے میں تر کستان، سمر قند، بخا را، کا شغر یا ر کند یا ہندو ستان کے دیو بند، سہا رن پور، تھا نہ بھون، بھو پال، اگرہ،کلکتہ سے تعلیم حا صل کر کے آنے والے علما دور درا زدیہات میں خا ل خا ل مو جود تھے ان علماء کے نا موں کی بڑی شہرت ہوتی تھی سبق کے شو قین کسی عالم کا نا م لیکر اُس کے گاوں کا رخ کر تے تھے

 

گاوں کی چھوٹی سی کچی مسجد ہوا کرتی تھی عالم اُس مسجد میں یا اپنے گھر میں دور دور سے آنے والے مسا فر طلباء کو رہنے کی جگہ اور کھا نے کی غذا فراہم کر کے سبق پڑھا تا تھا گاوں کے لو گ اس کام میں اپنے استاد کے ساتھ تعاون کرتے تھے وظیفہ کی صورت میں ہر گھر سے طلباء کو پکی پکائی خوراک ملتی تھی اگر آج ہماری یو نیور سٹیوں اور کا لجوں میں تحقیقی مضامین لکھنے والے طلباء اور طا لبات اپنے اپنے علا قوں میں ڈیڑ ھ سو سال پہلے سبق کے مرا کز و منا بع پر تحقیقی مقا لات کا سلسلہ شروع کریں تو خیبر پختونخوا کے پرانے تعلیمی نظام پر قابل قدر مواد فراہم ہوگا اس سلسلے میں صو بے کے جن نا مور علمائے کرام کی سوا نح عمریاں شائع ہوئی ہیں ان سے مدد لی جا سکتی ہے ایک طالب علم چترال، گلگت، سوات یا وزیر ستان سے روانہ ہو کر قریبی بستی میں کسی عا لم کا گھر ڈھونڈ تا تھا دو سال یا تین سال وہاں لگا کر، نا ظرہ قرآن، مننیتہ ا لمصلّی کے اسباق میں کسی حد تک دسترس حا صل کر کے مزید کتا بیں پڑھنے کے لئے آگے کسی اور عا لم کے پا س جا تا تھا

 

مثلا ً چترال سے یار حسین مردان، وہاں سے چکیسر سوات، پھر وہاں سے پوخ جو مات تہکال یا تا لاب والی مسجد نمک منڈی وغیرہ جا نا پڑتا تھا ہر جگہ مسا فر طلبا کی رہا ئش اور خو راک کا انتظا م استاد صاحب کے ذمے ہوا کر تا تھا اور علما ئے کرام خندہ پیشا نی سے یہ فریضہ انجام دیتے تھے اُس زما نے میں مکتب کا نظام نہیں تھا کوئی داخل، خا رج کا ریکارڈ نہیں تھا، گلستان، بوستان، یوسف زلیخا ایک جگہ سے پڑھی، اصو ل الشاشی اور کافیہ کے لئے کسی اور جگہ کا رخ کیا وہاں جا کر استاد جی کو زبا نی بتا یا کہ یہ کتاب میں نے پڑھی ہے وہ کتاب میں نے پڑھنی ہے اس طرح بات دورہ اول اور دورہ آخر تک پہنچ جا تی تھی کوئی سند نہیں ہوتی تھی کوئی بڑا جلسہ نہیں ہو تا تھا دورہ آخر سے فارغ ہونے والے کو پگڑی پہنا ئی جا تی تھی اور دعا دے کر رخصت کیا جا تا تھا، بہت کم لو گ پگڑی باندھنے تک سبق جاری رکھتے تھے گھریلو مسا ئل اور دیگر وجو ہا ت کی بنا ء پر چند کتا بیں پڑھ کر گھر وں کو واپس لوٹتے تھے

 

اس وجہ سے نیم حکیم خطر ہ جا ن کے ساتھ نیم ملا خطرہ ایمان کا جو ڑ لگا کر مقولہ ترا شا گیا گا وں میں نیم ملا کی آمد اور دستیا بی ایک نعمت ہو ا کر تی تھی وہ لو گوں کو نما ز پنجگا نہ پڑھا نے کے ساتھ ساتھ گاوں کے بچوں کو قرآن نا ظرہ بھی پڑھا تا تھا، جو اُس زما نے میں بہت بڑی سہو لت سمجھی جا تی تھی سبق کا یہ منظر نا مہ محنت، مشقت، ایثار، قر بانی اور جذبہ خد مت کی بڑی بڑی مثا لوں سے پُر ہے، علمائے کر ام بے مثال قر با نی دیکر اپنے گھر میں دور دور سے آئے ہوئے مسا فر وں کو سبق پڑھا تے تھے کوئی چندہ اور کوئی جھنڈا نہیں تھا، کوئی نا م، کوئی سائن بورڈ، کوئی اشتہار نہیں تھا، اخلا ص کی فرا وانی تھی اسی اخلا ص کی وجہ سے اس خطے میں اسلا می تعلیمات کا چر چا ہوا، سبق کا دور دورہ ہوا سہو لیات کے مو جود ہ حا لات میں وہ زما نہ خوا ب لگتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
89296

تحصیل کونسل مستوج اور موڑکھؤ تورکھو کا مشترکہ اجلاس۔ صوبائی بجٹ میں بلدیاتی اداروں کے لیے فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ

تحصیل کونسل مستوج اور موڑکھؤ تورکھو کا مشترکہ اجلاس۔ صوبائی بجٹ میں بلدیاتی اداروں کے لیے فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ

اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) آج بونی اپر چترال میں تحصیل کونسل مستوج اور تحصیل کونسل موڑکھؤ تورکھو کا مشترکہ اجلاس بونی میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں چیرمین تحصیل کونسل مستوج سردار حکیم ،چیرمین تحصیل کونسل موڑکھؤ تورکھو میر جمشید الدین اور دونوں تحصیل کے ویلج چیرمین صاحباں نے شرکت کی۔درپیش مختلف مسائل پر بحث مباحثے کے بعد متفقہ قرار داد منظور کیے گئے۔قرار داد کے ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ 2023 اور 2024 کے سالانہ بجٹ میں بلدیاتی اداروں کے لیے خاطر خواہ فنڈز منظورکرکے بلدیاتی نمائیندوں کی احساس محرومی کا ازالہ کیا جائے کیونکہ بلدیاتی نمائیندے دو سالوں سے ترقیاتی فنڈز سے محروم ہیں۔اس لیے ان کے حلقہ انتخاب کے عوام مایوسی اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ قرار داد میں مذیدمطالبہ کیا گیا کہ چترال بونی شندور روڈ جو این ایچ اے کے زیر نگرانی تعمیر ہورہی ہے وہاں کام کی نوعیت غیر تسلی بخش ہے اور خصوصاً بونی گاؤں کے سامنے پہاڑ کو ٹنل بلاسٹنگ کے ذریعے گراکر ملبے دریاہ میں ڈالنے سے اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی کو جو خطرات لاحق ہیں وہ قابل مزمت اور ناقابل قبول ہے۔اورساتھ اپنے جائز حق کے لیے احتجاج کرنے پر جن نمائیندوں پر ائف آئی آر درج کیے گیے ہیں انہیں ختم کی جائے ۔اگر رویے میں تبدیلی نہ آئی اور این ایچ کا ٹھیکہ دار اپنی من مانی پر بضد رہے تو اپر چترال سطح پر بونی بچاو تحریک شروع کی جائیگی۔

 

مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس سال برف باری اور بارشوں کے بعد سڑکوں اور نہروں کی مرمت کی مد میں کثیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں لیکن ٹھیکہ دار حضرات فنڈز کے مطابق تسلی بخش کام نہیں کیے ہیں۔ سی اینڈ ڈبلیو اور محکمہ ایریگیشن اور دیگر اداروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ ویلج چیرمین صاحباں کی تسلی اور سرٹیفکٹ کے بےغیر ادائیگیاں نہ کریں ۔کیونکہ اکثر وی سی چیرمین صاحباں اس بارے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔بعد میں چیرمین تحصیل کونسل مستوج سردار حکیم، چیرمین تحصیل کونسل موڑکھؤ تورکھو میر جمشید الدین اور دیگر کے ساتھ میڈیا ٹاک میں بھی مذکورہ بالا مسائل کی نشاندہی کی۔چیئرمین سردار حکیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بار بھی بلدیاتی نمائیندوں کو نظر انداز کیا گیا تو صوبائی سطح پر منظم لایحہ عمل ترتیب دیکر حصول فنڈز کے لیے جدوجہد کرینگے۔

chitraltimes tehsil council mastuj meeting

chitraltimes tehsil council mastuj meeting members

 

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں
89270

جوائنٹ سیکریٹری کمیونیکشن اور این ایچ اے حکام کا چترال بونی مستوج شندور اور کالاش ویلی روڈ کا معائنہ، ہر ماہ پراگراس ریویو میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ

جوائنٹ سیکریٹری کمیونیکشن اور این ایچ اے  حکام کا چترال بونی مستوج شندور اور کالاش ویلی روڈ کا معائنہ، ہر ماہ پراگراس ریویو میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) گزشتہ دنوں میڈیا میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چترال شندور روڈ پراجیکٹ کی کوتاہیوں کی نشاندہی کافوری نوٹس لیتے ہوئے فیڈرل سیکریٹری آف کمیونیکیشن علی شیر محسود کی ہدایت پر جائنٹ سیکرٹری کمیونیکشن بشارت احمد نے جنرل منیجر این ایچ اے خیبر پختونخوا،تنویر اسحاق، کنسلٹنٹ کمپنی نیسپاک کی ٹیم اور پراجیکٹ ڈائریکٹروں کے ہمراہ سائٹ کا دورہ کیا۔ ٹیم کے ارکان نے میڈیا کے نشاندہی کردہ مقامات کاموقع پر جاکر دورہ کرکے جائزہ لیا۔ بعدازاں ڈپٹی کمشنر لویر چترال محمد عمران خان کے دفتر میں جوائنٹ سیکریٹری کمیونکیشن اورڈپٹی کمشنر کے زیر صدارت روڈ پراجیکٹ کے بارے میں اجلاس منعقد کی گئی جس میں این ایچ اے کے ممبر نارتھ بھی زوم کے ذریعے شریک ہوئے۔ اس موقع پر تمام صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے پراجیکٹ کی عملدرامد میں تکنیکی خامیوں اور خرابیوں کو دورکرنے اور کام کی رفتار میں بھی تیزی لانے کے لئے لائحہ عمل طے کرتے ہوئے ماہانہ بنیادوں پر ریویو میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنرل منیجر این ایچ اے تنویر اسحاق نے اب تک کے پراگرس کے بارے میں شرکاء کو پریزینٹیشن دی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کام کی کوالٹی میں کو ئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،

 

اس موقع پر بتایا گیا کہ اس روڈ کےحوالے سے کنسٹرکشن کمپنی کے تمام بقایا جات ادا کردیے گئے ہیں، اور جہاں جہاں روڈ ترکول بچھانے کے لئے ہموار کیا گیاہے وہاں پر ترکول بچھانے کا کام شروع کیا جائیگا، جبکہ پرائیویٹ زمینات کی لینڈ ایکوزیشن کا عمل تیز کیاجائیگا، اس موقع پر مستوج آرسی سی پل بھی زیر بحث آیا جہاں گزشتہ سال دریا ئے چترال میں بہاو کے نتیجے میں پانی اسکی حفاظتی دیواروں کو نقصان پہنچایا تھا ، اجلاس میں اس پل کو دریا کی کٹائی سے بچانے کےلئے فوری اقدامات اُٹھانے اورپانی کی بہاو سے پہلے حفاظتی پشتے تعمیر کرنے کی بھی ہدایت کی گئی، اور ساتھ بونی کے مقام پر سڑک کی کٹائی اور بلاسٹنگ کا ملبہ دریائے چترال میں گرنے کے باعث پانی کا رخ بونی کی طرف ہوگیا ہے جس سے بونی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے لہذا دریائے چترال سے ملبہ ہٹانے کی فوری اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی ۔اجلاس میں مائننگ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے ایشوز کو بھی فوری حل کرنے کےلئے اے۔ڈی ۔ کو ہدایت دی گئی،

اجلاس میں چترال ایون کالاش ویلی روڈ کے حوالے سے بھی شرکاء کو ابتک کے پراگرس کے بارے میں اگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس روڈ کے پیکج ون کے تمام زمینات کے معاوضہ ادا کردیے گئے ہیں،اور تعمیراتی کام جاری ہے،۔ تاہم پیکج ٹو میں بجلی کے کھمبے اور پانی کے پائپ لائن کو ہٹانے کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان تمام کاموں پر پراگرس ریویو میٹنگ جون کے پہلے ہفتے میں دوبارہ منعقد ہوگی۔اجلاس میں پی ڈی این ایچ اے، ظہیر الدین، اے۔آر۔ای، نیسپاک محمد جنید، اسسٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر محمد عاطف، عامر زیب اے ڈی این ایچ اے، ودیگر بھی موجود تھے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
89261

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بمبوریت کی کلاسوں کو ہاسٹل میں منتقلی انتہائی ناموزون اور ناقابل قبول حرکت ہے، نظرثانی کی جائے۔ محمد یعقوب خان

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بمبوریت کی کلاسوں کو ہاسٹل میں منتقلی انتہائی ناموزون اور ناقابل قبول حرکت ہے، نظرثانی کی جائے۔ محمد یعقوب خان

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) پی ٹی آئی بمبوریت کے صدر یعقوب خان نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بمبوریت کی کلاسوں کو ہاسٹل میں منتقلی کو انتہائی ناموزوں اور ناقابل قبول حرکت قرار دیتے اس کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے اور اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنی من مانی کرتے ہوئے گورنمنٹ ہائی سکول کی کلاسوں کو وادی کے مرکز میں واقع بتریک میں قائم سکول سے نکال کر وادی کی زیریں حصے پر واقع احمد آباد میں نو تعمیر شدہ گرلز ہاسٹل میں منتقل کردیا ہے جس کے نتیجے میں شیخاندہ اور اپر بمبوریت ویلی کی بچیوں کے لئے سکول سے فاصلہ 10کلومیٹر سے بھی بڑھ جاتی ہے یعنی بچیوں کو کلاس اٹینڈ کرنے کے لئے روزانہ 20کلومیٹر پیدل چلنا پڑے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس غیر دانشمندانہ قدم کے نتیجے میں شیخاندہ سے تعلق رکھنے والی بچیوں پر تعلیم کادروازہ بند ہوجائے گا کیونکہ وہ اس طویل مسافت کو روزانہ کی بنیاد پربرداشت نہیں کرسکیں گی۔ پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ بتریک میں واقع ہائی سکول کی عمارت میں کوئی کمی نہیں ہے جہاں مطلوبہ تعداد میں کمرے اور کھیل کے لئے بھی جگہ دستیاب ہے اور محل وقوع کے لحاظ سے یہ بمبوریت کا خوب صورت ترین لوکیشن ہے لیکن ان سب کے باوجود سکول کی کلاسزکا ہاسٹل میں منتقلی سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے کیونکہ ہاسٹل کے کمرے رہائش کے لئے ہی موزون ہوتے ہیں جہاں درس وتدریس کی سرگرمیاں نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس فیصلے کو فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو بمبوریت کے عوام بھر پور احتجاج پر مجبو ر ہوں گے کیونکہ اس فیصلے میں بمبوریت کے اکابرین، معززین اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں
89258

چیف منسٹر ایجوکیشن انڈو منٹ فنڈ کے تحت صوبے کے ذہین اور مستحق طلباءو طالبات میں سکالرشپ سرٹیفکیٹس تقسیم

Posted on

چیف منسٹر ایجوکیشن انڈو منٹ فنڈ کے تحت صوبے کے ذہین اور مستحق طلباءو طالبات میں سکالرشپ سرٹیفکیٹس تقسیم

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) چیف منسٹر ایجوکیشن انڈو منٹ فنڈ کے تحت صوبے کے ذہین اور مستحق طلباءو طالبات میں سکالرشپ سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوئی ۔ وزیراعلیٰ سردار علی امین خان گنڈا پور تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی ، ایم این اے شاہد خان خٹک ، محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور سکالرشپس حاصل کرنے والے طلباءو طالبات نے تقریب میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر 65 طلباءو طالبات میں سکالرشپ سرٹیفکیٹس تقسیم کئے جن میں 19 پوسٹ گریجویٹ جبکہ 46 انڈ رگریجویٹس سکالرشپس شامل ہیں۔ اس موقع پر تقریب کے شرکاءکو چیف منسٹر انڈومنٹ فنڈ کے تحت اب تک فراہم کی گئی سکالرشپس پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چیف منسٹر ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ 940 ملین روپے کی سیڈ منی سے 2014 ءمیں قائم کیا گیا تھا جس کے تحت اب تک مجموعی طو رپر 546.47 ملین روپے کی لاگت سے 444 سکالرشپس فراہم کی جاچکی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق منظور شدہ لیڈنگ نیشنل انسٹیٹیوٹس میں 107 گریجویٹس سکالرشپس فراہم کی گئیں جن پر 47 ملین روپے لاگت آئی ہے ۔ علاوہ ازیں 302 ملین روپے کی لاگت سے نیشنل انسٹیٹیوٹس میں ہی 327 انڈر گریجویٹس سکالرشپس دی گئی ہیں۔

 

اسی طرح دُنیا کی ٹاپ یونیورسٹیز میں تین ایم ایس اور سات پی ایچ ڈی سکالرشپس بھی فراہم کی گئیں جن پر 197.47 ملین روپے لاگت آئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈا پور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سکالر شپس حاصل کرنے والے طلباءو طالبات کو مبارکباد دی اور اُمید ظاہر کی کہ یہ طلباءاپنے مقصد کے حصول کیلئے انتہائی لگن اور محنت کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کریں گے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر یتیم طلباءو طالبات کی فیسوں کی ادائیگی اور سکالر شپس کیلئے انڈومنٹ فنڈ کی رقم ایک ارب روپے سے بڑھا کر دو ارب روپے کرنے کا اعلان کیا۔ اُنہوںنے ایسے ذہین طلباءجو بیرون ممالک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں مگر مالی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں کرپاتے ، اُن کو بھی سپورٹ کرنے کیلئے بجٹ میں رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ۔ وزیراعلیٰ نے طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ذہین اور محنتی طلباءہمارا قیمتی اثاثہ اور فخر ہیں،نوجوانوںنے عظیم قوم بنانے میں کردار ادا کرنا ہے۔

 

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ تعلیم کا شعبہ ہماری ترجیحات میں سر فہرست ہے، اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مستحکم بنانے کیلئے جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ میرٹ کی بالادستی اور حقدار کو حق کی فراہمی عمران خان کا وژن ہے جس پر ہم نے کبھی کوئی سمجھوتہ کیا نہ آئندہ کریں گے ۔ طلبہ محنت کریں ، اپنے مقصد پر نظر رکھیں ، حکومت ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ سے کہاکہ وہ صحیح راستے کا انتخاب کریں ، محنت کو اپنا شعار بنائیں اور اﷲ پر توکل رکھیں ،ضرور کامیاب ہوں گے ۔ کبھی وقتی ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑے تو ہمت نہ ہاریں ، یہ آپ کو مزید مضبوط بنائے گی ۔ علی امین گنڈا پور نے طلبہ سے کہا کہ اپنے رب کے سامنے جھکیں ، کسی کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم نے مل کر پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانا ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا ۔ اس مقصد کیلئے ایک سویپر سے لے کر اعلیٰ سطح کے حکام تک ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ ایک مشترکہ سفر ہے جو ہم نے مل کر طے کرنا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری کوشش ہو گی کہ جو مسائل ہم نے دیکھے ، ہماری آنے والی نسلوں کو اُن مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

chitraltimes cm kp gandapur giving away schlorship cheques 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
89254