بونی بزند روڈ احتجاج کیس؛ پشاور ہائی کورٹ سوات بینچ کا شہریوں کے خلاف ایف آئی آر کو معطل کرنے اور پولیس کو کاروائی سے روکنے کا حکم، تورکھو تریچ روڈ فورم کا پشاور ہائی کورٹ سوات بینچ کے فیصلے کا خیرمقدم
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) تورکھو تریچ رود فورم (TTRF) نے پشاور ہائی کورٹ سوات بینچ کی جانب سے بونی بزند روڈ کی تعمیر میں تاخیر پر احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو معطل کرنے اور پولیس و انتظامیہ کو ان کے خلاف کارروائی سے روکنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ فورم نے عدالتِ عالیہ اور معزز ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیا۔
منگل کے روز جاری کیے گئے بیان میں ٹی ٹی آر ایف نے کہا کہ گزشتہ 16 سال سے زیر تعمیر بونی بزند روڈ کی عدم تکمیل، اور منصوبے میں کرپشن، نااہلی اور غفلت کے خلاف آواز بلند کرنے پر مقامی افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جو انتہائی افسوسناک اقدام تھا۔
فورم کے مطابق، تورکھو تریچ یوسی کے عوام کے خلاف دہشت گردی کے دفعات لگا کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا گیا، تاہم معزز عدالت اور ججز—جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس قاضی جواد احسن للہ—نے ٹی ٹی آر ایف کی جانب سے دائر پٹیشن پر فوری نوٹس لیا اور ایف آئی آر کو معطل کرتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کو کارروائی سے روک دیا۔
ٹی ٹی آر ایف کے وکیل سید احمد ایڈوکیٹ نے استاد محترم حمید اللہ کی جانب سے پٹیشن دائر کی، جس پر عدالتِ عالیہ کے بروقت فیصلے کے باعث علاقے میں خوف کی فضا ختم ہوئی اور عوام نے اپنی معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔ فورم نے اس پر عدالت اور معزز ججز کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ عدالت عالیہ نے 10 اکتوبر کو اس کیس میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال اور ڈی پی او اپر چترال کو ذاتی طور پر طلب کیا ہے۔
ٹی ٹی آر ایف نے نشاندہی کی کہ معزز عدالت پہلے ہی سی اینڈ ڈبلیو (کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ) کو بونی بزند روڈ پراجیکٹ 31 اکتوبر تک مکمل کرنے کے احکامات دے چکی ہے، تاہم کام کی رفتار اب بھی نہایت سست ہے اور پراجیکٹ کی بروقت تکمیل ممکن نظر نہیں آ رہی۔
فورم نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑک کی تعمیر میں تاخیر اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا نوٹس لے اور اس حوالے سے ایک مؤثر مانیٹرنگ میکانزم ترتیب دے تاکہ یہ اہم منصوبہ بروقت اور معیاری انداز میں مکمل ہو سکے۔

