The Voice of Chitral since 2004
Monday, 14 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

2Africa سب میرین کیبل سسٹم: پاکستان کے عالمی رابطے کے لیے ایک انقلابی قدم

Chitral Times

2Africa سب میرین کیبل سسٹم: پاکستان کے عالمی رابطے کے لیے ایک انقلابی قدم

2Africa سب میرین کیبل سسٹم: پاکستان کے عالمی رابطے کے لیے ایک انقلابی قدم

2Africa سب میرین کیبل سسٹم: پاکستان کے عالمی رابطے کے لیے ایک انقلابی قدم

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشنز کو یہ اعلان کرتے ہوئے اعزاز حاصل ہوا ہے کہ 2Africa سب میرین کیبل سسٹم کی تنصیب میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے بین الاقوامی رابطوں کو بہتر بنانے اور ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (ٹی ڈبلیو اے) کے تعاون سے عمل میں لایا جانے والا یہ منصوبہ پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک نمایاں مقام پر لے آئے گا۔2Africa سب میرین کیبل سسٹم دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین زیر سمندر کیبل منصوبوں میں سے ایک ہے۔ 45,000 کلومیٹر پر محیط، یہ کیبل افریقہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے 46 مقامات کو آپس میں جوڑتی ہے۔ جدید SDM1 ٹیکنالوجی سے لیس، یہ کیبل 180Tbps کی شاندار ڈیٹا منتقلی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہ منصوبہ میٹا، ووڈا فون اور دیگر چھ اہم عالمی ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے اشتراک سے مکمل ہو رہا ہے، جو اس کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان میں 2Africa کیبل کی تنصیب مختلف مراحل میں جاری ہے۔ پہلا مرحلہ، جس میں Pre-Lay Shore End (PLSE) انسٹالیشن شامل ہے، یکم دسمبر 2024 کو ہاکس بے، کراچی میں شروع ہوا۔ دوسرا مرحلہ، جس میں گہرے سمندر میں کیبل بچھانے کا عمل شامل ہے، یکم اپریل 2025 کو شروع ہو گا۔ یہ نظام چوتھی سہ ماہی 2025 تک پاکستان میں آپریشنل ہونے کی توقع ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل رابطے کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد، 2Africa سب میرین کیبل سسٹم پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ یہ منصوبہ انٹرنیٹ کی رفتار اور اعتماد کو بڑھائے گا، کاروبار اور اسٹارٹ اپس کو سہولت فراہم کرے گا، اور تکنیکی جدت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ بہتر رابطہ پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کا حصہ بننے میں مدد دے گا اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

اس موقع پر، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشنز نے کہا:“2Africa سب میرین کیبل سسٹم نہ صرف پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو روشن کرنے میں ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ یہ دنیا بھر میں ہمارے روابط کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے ہم ایک جدید، تیز، اور پائیدار ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک تشکیل دے رہے ہیں جو کاروبار، تعلیم، اور عام شہریوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ یہ پاکستان کے ڈیجیٹل ترقی کے سفر میں ایک انقلابی قدم ہے، جو ہمارے عوام اور معیشت کو مزید مستحکم بنائے گا۔”وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشنز پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھانے کے عزم پر قائم ہے۔ 2Africa سب میرین کیبل سسٹم اس وڑن کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی رابطے کے حصول میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پاکستان تیزی سے ترقی پذیر ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔

Qaziqstan eroplane crashed

قازقستان میں طیارے کے حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کی ویڈیو جاری

دبئی(سی ایم لنکس)قازقستان میں وزارت برائے ایمرجنسی سروس نے اعلان کیا ہے کہ قازق شہر اکتاؤ کے قریب مسافر طیارے کے حادثے میں 42 افراد ہلاک اور 25 معجزانہ طور پر افراد زندہ بچ گئے۔بیان میں کہا گیا ہے طیارے میں 67 مسافر سوار تھے، جن میں عملے کے 5 ارکان بھی شامل تھے۔ ان میں 25 افراد زندہ بچ گئے، جن میں سے 22 کو ہسپتال لے جایا گیا ہے”۔دوسری طرف آذربائیجان ایئر لائنز نے کہا ہے کہ مسافر طیارہ پرندوں کے جھنڈ سے ٹکرانے کے بعد گر کر تباہ ہو گیا۔طیارہ حادثہ طیارہ حادثہطیاریکے حادثے کے بعد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ لمحہ دکھایا گیا جب زندہ بچ جانے والے مسافرگر کر تباہ ہونے والے آذربائیجانی طیارے کے ملبے سے باہر نکل رہے تھے۔

وزارت صحت کے مطابق زندہ بچ جانے والوں میں روسی فیڈریشن کے 10، آذربائیجان کے 14 اور کرغیزستان کے 2 شہری شامل ہیں اور 3 کی شہریت کا پتا نہیں چل سکا۔آذربائیجان ایئر لائنز نے ان مسافروں کے ناموں کی فہرست شائع کی ہے جو اکتاو کے قریب گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں سوار تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فلائٹ نمبر J2-8243 باکو سے چیچن جمہوریہ کے دارالحکومت گروزنی کے لیے روانہ ہوئی لیکن اسے قازقستان کے شہر اکتاو سے تقریباً تین کلومیٹر دور ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ تاہم یہ لینڈنگ حادثے میں بدل گئی۔روسی خبر رساں ایجنسیوں نے بتایا کہ گروزنی میں دھند کے باعث طیارے نے اپنا رخ موڑ لیا تھا۔روس کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پائلٹ نے پرندوں کے جھنڈ کے طیارے کے انجن سے ٹکرانے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کا فیصلہ کیا۔روسی “انٹرفیکس” ایجنسی کے مطابق قازقستان کے حکام نے کہا ہیکہ انہوں نے جو کچھ ہوا اس کے لیے مختلف ممکنہ منظرناموں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے، جس میں تکنیکی خرابی کا امکان بھی شامل ہے۔آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے حادثے کے بعد اپنا روس کا دورہ مختصر کرکیوطن واپسی کا فیصلہ کیا، جہاں وہ آج بدھ کو ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے۔