Chitral Times

Jul 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

21 مارچ ورلڈ ڈاؤن سنڈروم ڈے ۔ ازقلم محمد عبدالباری۔۔۔ 

Posted on
شیئر کریں:

21 مارچ ورلڈ ڈاؤن سنڈروم ڈے ۔ ازقلم محمد عبدالباری۔۔۔

ڈاؤن سینڈروم ایک پیدائشی کیفیت ہے جسے ٹرائیزومی 21 بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ۔ انسانی جسم کے ہر خلیے میں کروموزومز کے کل 23 جوڑے ہوتے ہیں۔ ڈاؤن سینڈروم بچوں میں اکیسواں کروموزوم اضافی ہوتا ہے۔ اس لئے جسم میں موجود اضافی جینیاتی مواد بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشونما میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ڈاؤن سینڈروم کی سب سے واضح خصوصیات بچوں کے چہرے کے نقوش ہیں۔ ان کے نقوش چپٹے ہوتے ہیں۔ سر اور کان چھوٹے ہوتے ہیں اور آنکھیں اوپر کی سمت کھنچی ہوئی ہوتی ہیں۔ انگلیاں چھوٹی اور زبان بڑی اور موٹی ہوتی۔

دسمبر 2011 میں، United Nation کے جنرل اسمبلی نے 21 مارچ کو ورلڈ ڈاؤن سنڈروم ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ 21 مارچ کی تاریخ کا انتخاب 21ویں کروموسوم کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا جو ڈاؤن سنڈروم کا سبب بنتا ہے۔ اس لئے 2012 سے آج تک یہ خاص دن ہر سال 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ ہر سال، اس دن کو منانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ ڈاؤن سنڈروم بچوں کو درپیش مسائل، اور ہمارے معاشرے میں ان کے ساتھ جو امتیازی سلوک رکھا جاتا ہے کے بارے میں عام عوام کو اگاہی فراہم کیا جا سکے۔
یو این کے جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کے مطابق وہ تمام ممالک جو جنرل اسمبلی کے رکن ہیں، وہ تمام تنظیمیں جو یو این جنرل اسمبلی کے متعلق ہیں، اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی بشمول غیر سرکاری تنظیمیں اور شعبہ ذنگی کے تمام نجی تنظیموں کو 21 مارچ کے دن ورلڈ ڈاؤن سنڈروم ڈے منانے کی دعوت دیتی ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریبا 3000 سے 5000 ڈاؤن سنڈروم بچے پیدا ہوتے ہیں ۔

ڈاؤن سنڈروم بچوں کی ذندگی کو بہتر بنانے کے لئیے ان کی صیحت کی دیکھ بھاال، ذہنی اور جسمانی صیحت کی مکمل اور متواتر نگرانی، بروقت فزیو تھراپی، اسپیچ تھراپی، ووکیشنل تھراپی اور خصوصی تعلیم کی فراہمی، شعبہ ذنگی کے دیگر تمام ضروریات کو پورا کرنا وقت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
سال 2024 کے لئے ڈاؤن سنڈروم کا پیغام
(End the Stereotypes)
مقصد مفہوم یہ ہے کہ ڈاؤن سینڈروم بچوں کے متعلق جو دقیانوسی تصورات ہیں ان کو ختم کیا جائے۔ دقیانوسی تصورات سے مراد وہ تصورات وہ خیالات جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈاؤن سنڈروم سمیت دیگر مختلف صلاحیتوں کے حامل (معذور) بچوں کے متعلق جو منفی اور منگھڑت تصورات اور خیالات ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں ان کو Stereotypes کہا جاتا ہے، کیوں کہ ان تصورات کو ہم نے خود ہی ترتیب دیا ہے حالانکہ یہ سب شرعی اعتبار سے بھی اور سائنسی اعتبار سے بھی غلط ہیں اور حقیقت سے ان کا کوئی واسطہ نہیں پڑتا ہے۔ کیونکہ ڈاؤن سنڈروم بچے اور دیگر معذور افراد کسی اور سیارے کے مخلوق نہیں ہیں وہ بھی انسان ہی ہیں بس تھوڑا سا مختلف اور بہت ہی پیار کرنے والے بچے ہیں ۔ خصوصی صلاحیتوں کے حامل ان بچوں کا کہنا ہے کہ دقیانوسی تصورات ہمیں دوسرے لوگوں کی طرح برتاؤ کرنے سے روک لیتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کمسن بچوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، ہمیں کم سمجھا جاتا ہے اور ہمیں معاشرے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا ہے یا یہاں تک کہ زیادتی کی جاتی ہے۔ ورلڈ ڈاؤن سنڈروم ڈے 2024 کے لیے، ہم دنیا بھر کے لوگوں سے دقیانوسی تصورات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

آج کا دن پوری دنیا میں ورلڈ ڈاؤن سنڈروم ڈے کے طور پر منایا جا رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ
کیا آج صوبہ خیبر پختون خواہ خصوصا ڈسٹرکٹ چترال میں کوئی ایک سمینار یا اس جیسا کوئی اور پروگرام منعقد کیا گیا ہے کہ نہیں؟
کیا آج ڈاؤن سنڈروم ڈے منانا محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ اسپیشل ایجوکیشن کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے؟
یو این نیشنل اسمبلی کے اسپیشل ایجوکیشن کے متعلق قراردات کی توثیق کرنے کے بعد کیا اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہی؟
کیا سوشل ویلفیئر اینڈ اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انتظامیہ کو آج کے دن کا علم ہے؟

ان تمام سوالات کے جوابات معلوم ہیں اور مجھے اندازہ ہے کہ کوئی سمینار یا پروگرام کا انعقاد نہیں کیا گیا ہے اس لیے میں سوشل ویلفیئر اینڈ اسپیشل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے گزارش کر رہا ہوں کہ جلد از جلد 21 مارچ کے حوالے سے کم از کم ایک سمینار منعقد کریں اور میں ڈی سی لوئر چترال سے دردمندانہ اپیل کر رہا ہوں کہ متعلقہ انتظامیہ کو پابند کریں کہ وہ عوام الناس کی آگاہی کے لئے سمینارز منعقد کریں۔ اور اس سمینار میں بذات خود شرکت فرما کے ادارے کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کریں اور ادارے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
86570