Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کینسر کی وجہ۔۔؟؟؟ – میری بات:روہیل اکبر

شیئر کریں:

کینسر کی وجہ۔۔؟؟؟ – میری بات:روہیل اکبر

ہم لوگ جہاں ترقی و خوشحالی میں سب سے پیچھے ہیں تو وہی بیماریوں میں بھی دوسروں کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں سگریٹ والی دوکان سے ڈبی پر اگر کوئی خطرناک کینسر والا نشان موجود نہ ہو تو خریدار فورا کہتا ہے کہ بھائی ہمیں وہ ڈبی چاہیے جس میں نشان بنا ہوا ہے اس کا مطلب کیا ہوا؟کہ ہم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے کینسر جیسے مرض کو پیسے سے خرید کر اپنے جسم کا حصہ بنا رہے ہیں وہ تو شکر ہے کہ ہمارے پاس کینسر کے ہسپتال اور مختلف سرکاری ہسپتالوں میں کینسر وارڈز ہیں جہاں اس موذی مرض کا علاج ہورہا ہے بلاشبہ پاکستان میں سرطان کے پھیلاؤ میں ہمارے قومی ادارے بھی شامل ہیں جنکی سرپرستی میں گٹکا،چھالیہ اور نسوار سرے عام ملک بھر میں فروخت ہورہا ہے یہ وہ نشہ کی ابتدائی اشیاء ہیں جنکے بعد انسان چرس،شراب،ہیروئن اور آئس پر لگ جاتا ہے اس وقت ملک میں کینسر کے حوالہ سے بہت اچھے اچھے ڈاکٹر موجود ہیں لیکن لاہور کے جنرل ہسپتال میں ڈاکٹر خضر گوندل اپنی ٹیم کے ہمراہ مریضوں کی جو خدمت کررہے ہیں وہ قابل تعریف ہے

 

ہمارے ہاں ایسے حسن اخلاق والے ڈاکٹر بہت کم ہیں جن کی باتوں سے ہی مریض آدھا شفا یاب ہو جاتا ہے وہ کینسر کے مرض کو بخوبی سمجھتے ہیں اور آئے روز مریضوں کا آپریشن بھی کرتے ہیں انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں منہ کا سرطان یا کینسر صحت کا ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اور اس کے علاج میں تاخیر اس مرض کے طاقتور ہونے کا سبب ہے پاکستان دنیا کے اْن تین ممالک کی صف میں شامل ہے جہاں منہ کے سرطان سے متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے ملک میں اس مرض کے پھیلنے کے اسباب میں پان، چھالیہ، گٹکا، نسوار، ماوا اور سگریٹ وغیرہ جیسی مضرِ صحت نشہ آور اشیاء کاکثیر استعمال شامل ہے جبکہ منہ کے سرطان کے علاج میں مرض کی فوری تشخیص بہت اہم مرحلہ ہے منہ کا سرطان زبان، ہونٹ، مسوڑھوں اور رخسار سمیت منہ کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتا ہے مرض کی فوری تشخیص کے لیے کسی بھی فرد کے منہ اور گلے کا کلینکل معائنہ کیا جانا چاہیے

 

اس وقت ویسے بھی دنیا بھر میں منہ کے کینسر کا پھیلاو بہت زیادہ ہے 2020ء میں دنیا بھر میں 3لاکھ77ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے پاکستان میں منہ کے کینسر سے متاثرہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حکومت کو چاہیے کہ اس موذی مرض کے بہتر علاج معالجے کے لیے الگ سے ہسپتال قائم کیے جائیں اور جن ہسپتالوں میں کینسر کی وارڈ بنی ہوئی ہیں انہیں مزید بہتر کیا جائے جبکہ جنوبی پنجاب،سندھ،بلوچستان اور کے پی کے میں اس مرض کے تدارک کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نشہ آوراشیاء پر سختی سے پابندی لگائی جائے کیونکہ کینسر ایک جان لیوا عارضہ ہے جس میں مریض کو منہ کھولنے میں سخت ناکامی کا سامنا ہوتاہے منہ کے سرطان کی اہم علامات میں گردن میں گانٹھ، دانتوں کا ڈھیلا ہونا، سوجن یا ہونٹوں پر زخم جو ٹھیک نہیں ہوتے کھانانگلنے میں مشکل، بولنے میں تکلیف اور منہ زبان یا مسوڑھوں پر سرخ یا سفید دھبے یا وزن کا گھٹنا وغیر شامل ہیں

 

ایسی علامات جب کسی میں ظاہر ہوں تو ایسی صورت میں گھبرانا بلکل نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے ٹوٹکے اور ٹونے کے چکر میں پڑنا چاہیے بلکہ فوری تشخیص کے لیے کسی متعلقہ سرجن سے رابطہ کرنا چاہیے جہاں اس مرض کی تشخیص اور تسلی بخش علاج ہو سکے اگر ہم ملک بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد کا ذکر کریں تو اس وقت مریضوں کی کل تعدادتقریبا 111,941 ہے اور ان میں سے زیادہ تر مریض پنجاب میں 67.6 فیصد جبکہ خیبر پختونخواہ 20.2 فیصد ہیں جبکہ ہمارے پاس گلگت بلتستان،آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں کینسر کے مریضوں کے لیے یہ ہسپتال موجود ہیں جہاں کینسر کے مریض اپنے قریبی علاقہ میں جا کر اپنا بہترین علاج کرواسکتے ہیں ان ہسپتالوں میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی،مرکز برائے نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (CENAR)، کوئٹہ،گلگت انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن آنکولوجی گلگت،نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اور ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ (NORI) (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز)،شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد،نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر پشاور،شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر پشاور،بنوں انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (BINOR)، بنوں انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (INOR) ایبٹ آباد،انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (IRNUM) پشاور،سوات انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (SINOR) سیدو شریف،شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر لاہور،پنک ربن بریسٹ کینسر ہسپتال،کینسر کیئر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر، لاہور،وزیر حبیب کینسر سنٹر (WHCC) لاہور،بہاولپور انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (BINO) بہاولپور،سینٹر فار نیوکلیئر میڈیسن (CENUM) لاہور،گوجرانوالہ انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن (GINUM) گوجرانوالہ،انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (INMOL) لاہور،ملتان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (MINAR) ملتان،پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (PINUM) فیصل آباد،شعبہ سرجری اور سرجیکل آنکولوجی شیخ زید میڈیکل کمپلیکس لاہور،کمبائنڈ ملٹری ہسپتال راولپنڈی نیورو اسپائنل اینڈ کینسر کیئر انسٹی ٹیوٹ (NCCI) کراچی،ضیاء الدین کینسر ہسپتال یونیورسٹی کراچی،بیت السکون کینسر ہسپتال کراچی،کینسر فاؤنڈیشن ہسپتال کراچی،آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی،شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کراچی،اٹامک انرجی میڈیکل سینٹر (AEMC) کراچی،کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (KIRAN) کراچی،لاڑکانہ انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (LINAR) لاڑکانہ،نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (NIMRA) جامشورو،نیوکلیئر میڈیسن آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ نواب شاہ،سائبر نائف جناح ہسپتال کراچی،سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کراچی،پاک آنکو کیئر کراچی اورانڈس چلڈرن کینسر ہسپتال کراچی موجود ہیں جہاں کینسر جیسے مرض کا علاج ہوتا ہے کچھ ہسپتالوں میں علاج مفت ہے کچھ میں سستا ہے اور کچھ ہسپتالوں میں بہت مہنگا علاج ہے جہاں مریضوں کے کپڑے تک بک جاتے ہیں اس لیے ہمیں ایسی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے جن کی بدولت کینسر جیسا مرض قریب آئے۔

 

 

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
89923