Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وما یعمر من معمر ۔ از:کلثوم رضا

شیئر کریں:

وما یعمر من معمر ۔ از:کلثوم رضا

 

پچھلی مرتبہ اپنی پیدائش کے دن کے حوالے سے اپنے تاثرات لکھ کے شئیر کئے تو بیٹی نے کمنٹ کیا کہ “بوختواوو نو لہ نان “.(امی ڈرائیں مت)
تو اسی بات سے کچھ اور باتیں لکھنے کو دل کیا۔

ایک حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔۔
جامع ترمذی، ۲۳۰۷

لیکن اس کے برعکس جب موت کا ذکر کہیں بھی ،کسی بھی مجلس میں ہوتا ہے تو سبھی ڈر جاتے ہیں حالانکہ موت برحق ہے۔ اس نے آنا ہی آنا ہے۔ کوئی بچہ ، جوان ، بوڑھا یعنی عمر کی کوئی قید نہیں سب کو موت آتی ہے موت کو “اجل” بھی کہا جاتا ہے ۔جس کے معنی ہے “وقت معین” مقررہ مدت۔۔۔
یعنی کہ “مقررہ وقت” نہ ایک سکینڈ آگے نہ پیچھے ۔جب مقررہ وقت آن پہنچتا ہے تو اچھے خاصے ،ہٹے کٹے انسان کو بھی لبیک کہنا پڑتا ہے اور جب مقررہ وقت نہیں پہنچتا تو بوڑھے سے بوڑھا، کئی سالوں سے بیماری میں مبتلا شخص چاہتے ہوئے بھی اپنی سانسیں نہیں روک سکتا۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک ایسی بچی کی موت واقع ہوئی جس کی چند دنوں بعد شادی کی تاریخ بھی طے ہوئی تھی۔شادی کے لیے ساری خریداری بھی اس نے خود کی ۔اچانک بیمار ہوئی، مہنگے ہسپتالوں میں ایک مہینہ زیر علاج رہی کوئی افاقہ نہیں ہوا ،آخر کار چل بسی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

جبکہ اس کے نانا کو کئی سال پہلے بتایا گیا تھا کہ لاعلاج ہے ،چند دنوں کا مہمان ہے وہ اچھی خاصی صحت کے ساتھ حیات ہیں الحمدللہ ۔
جب مقررہ وقت پہنچا تو علاج بے کار۔۔۔۔نہیں پہنچا تو معمولی دوا بھی کارگر ثابت ہوتی ہے۔
کئی ایسے بیماروں کو صحت یاب ہوکر لمبی عمر پاتے دیکھا گیا جن کو دیکھ کے لگتا تھا کہ شاید ایک آدھ دن بھی جی نہ پائیں گے اور کئی ایسے صحت مند انسانوں کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھا جنھیں دیکھ کر کم سے کم سو سال عمر پانے کا گمان ہوتا تھا۔

انسان کی سوچ اس بات کا احاطہ نہیں کر سکتی کہ کس نے کتنی عمر پانی ہے؟
کس نے کب مرنا یے۔؟
ہو گا وہی جو میرا رب چاہے گا۔ عمروں کا حساب رکھنے والا صرف وہی ہے۔

وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتاب

(سورہ فاطر آیت نمبر 11)

ترجمہ:کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا یے۔”

مفہوم: یعنی جو شخص بھی دنیا میں پیدا ہوتا ہے اس کے متعلق پہلے ہی یہ لکھ دیا جاتا یے کہ اسے دنیا میں کتنی عمر پانی ہے۔کسی کی عمر دراز ہوتی ہے تو اللہ کے حکم سے ہوتی ہے ،اور چھوٹی ہوتی ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے فیصلے کی بنا پر ہوتی ہے۔ بعض نادان لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ پہلے نوزائیدہ بچوں کی موتیں بکثرت واقع ہوتی تھیں اور اب علم طب کی ترقی نے ان اموات کو روک دیا ہے اور پہلے لوگ کم عمر پاتے تھے ،اب وسائل علاج بڑھ جانے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ عمریں طویل ہوتی جا رہی ہیں۔ لیکن یہ دلیل قرآن مجید کے اس بیان کی تردید میں صرف اس وقت پیش کی جا سکتی تھی جب کہ کسی ذریعے سے ہم کو یہ معلوم ہو جاتا کہ آللہ تعالیٰ نے فلاں شخص کی عمر مثلاً دو سال لکھی تھی اور ہمارے طبی وسائل نے اس میں ایک دن کا اضافہ کر دیا ۔اس طرح کا کوئی علم اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو وہ کسی معقول بنیاد پر قرآن کے اس ارشاد کا معارضہ نہیں کر سکتا۔ محض یہ بات کہ اعدادوشمار کی رو سے اب بچوں کی شرح اموات گھٹ گئی ہے، یا پہلے کی بنسبت اب لوگ زیادہ عمر پا رہے ہیں، اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ انسان اب اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو بدلنے پر قادر ہو گیا ہے ۔آخر اس میں کونسی بات بعید از عقل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف زمانوں میں پیدا ہونے والے انسانوں کی عمریں مختلف طور پر مقرر فرمائی ہوں۔اور یہ بھی اللہ عزو جل ہی کا فیصلہ ہو کہ فلاں زمانے میں انسان کو فلاں امراض کے علاج کی قدرت عطا کی جائے گی اور فلاں دور میں انسان کو بقائے حیات کے فلاں زرائع بخشے جائیں گے۔

(تفہیم القرآن جلد نمبر چہارم صفحہ نمبر 225)

اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہیں بلکہ “ذکر موت ” سے انسان کے دل میں خوف خدا بستا ہے اور یہی خوف خدا انسان کو دنیا کی لذتوں کے پیچھے بھاگنے سے روک کر اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے سرگرداں کرتا ہے۔ فانی دنیا کو مسافر خانہ تصور کرکے مسافروں جیسی زندگی گزارنے پر آمادہ کرتا ہے۔
یہی ذکر موت انسان کو عارضی دنیا کی بنسبت ابدی زندگی کے لیے عمل کرنے پر اکسا کر اجرو ثواب کمانے کا سبب بن سکتا ہے۔۔

موت کا ایک دن معین ہے
نیند رات بھر کیوں نہیں آتی

مرزا غالب
یہ وہ ذائقہ ہے جسے ہر کسی نے چکھنا یے۔۔
اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہیں ۔

بوختوئے نو لہ نانو ژان ۔۔(امی کی جان ڈریں مت)

 

 

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
89907