Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ پہلی بچت پہلی بار۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ پہلی بچت پہلی بار۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ایک اچھی خبر آئی ہے کہ حکومت نے روان ما لی سال کے حساب میں پہلی بار بچت کی طرف تو جہ دی ہے اس سلسلے میں حکومت نے اراکین اسمبلی کو دی جا نے والے صوابد یدی فنڈ کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے، نیز یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ بہت جلد اراکین اسمبلی اور سر کاری عہدوں پر رہنے والے سیا ستدانوں کے ساتھ دونوں درجوں کے افیسروں اور ججوں کے اثا ثے میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھے جا ئینگے اگر حکومت نے اراکین اسمبلی کو ملنے والے صوابدیدی فنڈ ختم کر دیے تو یہ اس دور کا سنہرا کارنا مہ ہو گا ایک رکن اسمبلی کو 10کروڑ روپے ہر سال ملتے ہیں اگر ملک کے گیارہ سواراکین اسمبلی کو 5سالوں میں ملنے والے فنڈ کا حساب کیا جا ئے تو اس کی کل ما لیت آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے ملنے والے سودی قرض کی مجمو عی ما لیت سے دگنی ہوجا تی ہے خبر میں بتا یا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے مجوزہ تین سالہ قرض پرو گرام کی منظوری کے لئے مطا لبات کی جو فہرست حکومت پا کستان کو پیش کی گئی ہے

 

اس فہرست میں ارا کین اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ کو ختم کرنے کا مطا لبہ بھی شا مل ہے خدا کرے کہ یہ مطا لبہ آئی ایم ایف کا مطا لبہ ہو اور خدا کرے کہ یہ قرض ملنے کی شرائط میں سے ایک شرط ہو اور خدا کرے کہ ہماری حکومت بادل نا خواستہ اس شرط کو پوری کرے ”بادل نا خواستہ“ اس لئے لکھنا پڑا کہ اس بندر بانٹ میں سب سے زیا دہ ما ل سرکاری بنچوں پر بیٹھنے والے اراکین اسمبلی کو ملتا ہے اس کا بڑا حصہ مر کزی اور صو بائی وزرا کو ملتا ہے غریب غر باء کو کچھ بھی نہیں ملتا بقول فیض کچھ واعظ کے ہاں کچھ محتسب کے گھر جا تی ہے ہم میکشوں کے حصے کی مئے جا م میں کمتر جا تی ہے آئی ایم ایف کا دیا ہوا قرض اوپر، اوپر ہوا میں اڑا یاجا تا ہے اور سود سمیت اصل زر کی ادائیگی غریب غر باء پر ٹیکس لگا کر کی جا تی ہے تجزیہ نگا روں اور ٹیکس گذار وں کو تعجب ہوتا ہے کہ اب تک پا کستان میں سرکاری خزانے کے پیندے کی سیوریج نا لی سے بہنے والا یہ سرمایہ ہمارے مہر بان آئی ایم ایف کو بھلا کیوں نظر نہیں آیا تھا،

 

بعض خو ش فہم اور زور رنج دوستوں نے آئی ایم ایف کے بزر جمہروں کو مشورہ دینا شروع کیا ہے کہ لگے ہاتھوں پا کستان کے سرکار ی خزا نے پر ڈاکہ ڈالنے والے مزید چو ہوں کا صفا یا کیا جا ئے مثلاً 5لا کھ روپے سے لیکر 75لا کھ روپے تک تنخوا ہ لینے والے سرکاری حکام کو سالا نہ 6کھر ب روپے کا تیل اور گیں مفت ملتا ہے مزید 6کھر ب روپے کی بجلی مفت ملتی ہے اس کو بھی بند کر دیا جا ئے وزیروں کے پرو ٹو کول پر ہر سال ایک کھر ب روپے کا خر چہ آتا ہے یہ رقم آئی ایم ایف کے قرض کی ایک قسط کے برا بر ہے، بزر جمہروں کا یہ بھی مشورہ ہے کہ پا کستان میں 10بڑے گھروں کا سرکاری خر چہ ہر سال قومی خزا نے کا 10کھر ب روپے کھا جا تا ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس خر چے کی کوئی ضرورت نہیں، چاروں صو بوں کے گور نر ہا وس اور وزیر اعلیٰ ہاوس با لکل فضول ہیں، قومی مفاد کا کوئی کام ان سے وابستہ نہیں ان کا عملہ، ان کے بجلی، گیس اور تیل کا خر چہ قومی خزا نے پر بو جھ ہے اس طرح ہمارے ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاوس کا حجم بھی واشنگٹن ڈی سی کے وائٹ ہاوس سے دس گنا زیا دہ ہے کسی خلیجی ریا ست کے عیا ش باد شاہ کا ذا تی خر چہ بھی پا کستانی حکمرانوں کے بر ابر نہیں، آئی ایم ایف کو قرض کی نئی قسط جا ری کر تے وقت پا کستان کی حکومت کو بتا نا چاہئیے کہ 10بڑے گھروں کی نجکاری کر کے عا لیشان ہو ٹل بنا ؤ اور قرضوں کے بو جھ کو ہلکا کرو، مشورہ دینے والوں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ پا کستان کی قومی اور صو بائی حکومتوں میں ملا زمین کا حجم ضرورت سے 100گنا زیا دہ ہو گیا ہے

 

ہر آنے والی حکومت اپنے سیا سی کار کنوں کو بھر تی کر تی ہے جہاں ایک ملا زم ہونا چاہئیے وہاں 100بندے بٹھا ئے گئے ہیں اس لئے آئیندہ دس سا لوں کے لئے سی ایس ایس، پی ایم ایس، آئی ایس ایس بی کو بند کیا جا ئے، سکیل 1سے 17تک تما م آسا میوں پر پا بندی لگا ئی جا ئے، تا کہ تر قی یا فتہ مما لک کی طرح افیسر خو د اُٹھ کر چا ئے اور پا نی پینے کی زحمت کرے نچلی سطح پر 100کلر کوں کا کام ایک کمپیو ٹر سے لیا جا ئے تو قومی خزا نے پر بو جھ کم ہو گا، یہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت ایجنڈا بنے گا جس کی مدد سے پا کستان مو جو دہ بحرا نوں سے نکل سکے گا، اللہ کرے کہ اراکین اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ ختم کر کے حکومت سرکاری خزانے کی بچت کا یہ منصو بہ مر حلہ وار شروع کرے اور قوم کو قرضوں سے نجا ت دے کر تر قی کی راہ دکھا ئے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
89797