Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میرا سرمایہ گھلا جا رہا ہے – از: کلثوم رضا

Posted on
شیئر کریں:

میرا سرمایہ گھلا جا رہا ہے – از: کلثوم رضا

 

مجھے ہمیشہ یاد رہنے والی تاریخ چھ جون۔۔۔

ایک اینٹ اور گر گئی دیوار حیات سے۔۔۔

 

یقیناً انسان کی زندگی میں پیش آنے والا ہر دن اس کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔۔خاص کر اس کا جنم دن۔۔۔جو اسے دنیا کی ہیچ وتاب اور نشیب و فراز سے واقف کرانے کا سبب بنتا ہے۔یعنی اس دنیا سے واقفیت رکھنے کے لیے اسے اس دنیا میں آنا ضروری ہوتا ہے ۔جب وہ دنیا میں آتا ہے تو اس کے والدین خوشیاں مناتے ہیں کہ ان کی نسل آگے بڑھی، دنیا میں ان کا مطیع اور ان کے بعد ان کا نام لیوا پیدا ہوا یا ہوئی۔۔یوں انکی یہ اولاد انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بن کر ان کی گود میں پلتی ہوئی سال،دو سال،تین سال،چار اور پانچ سال یعنی بچپن،لڑکپن اور جوانی دہلیز پار کرتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی میں داخل ہونے تک انکی مرکوز نظر رہتی ہے۔۔بلکہ شادی کے بعد بھی والدین کو ان کی اولاد سے وابستہ ہر دن،ہر خوشی یاد رہتی ہے۔(جیسا کہ چند دن پہلے میری امی نے بتایا کہ جون کا مہینہ قریب اتے ہی آپ کی بہت زیادہ یاد اتی ہے۔)۔

 

اور پھر بچوں کی شادی کے بعد وہی سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ انکے بچے ہوتے ہیں پھر ان کی زندگی اسی طرح چلتی ہے جیسے والدین کی۔۔۔کسی کی تھوڑی مختلف ہوتی ہے اور کسی کی زیادہ مختلف۔۔۔کوئی دنیا کے پیچھے بھاگتا یے،کسی کے پیچھے دنیا بھاگتی ہے۔لیکن دونوں کی بھاگ دوڑ ایک ہی جانب ہوتی ہے جس کی جانب ہر ذی روح نے جانا ہوتا ہے۔۔یعنی کے موت کی جانب۔۔۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے جیسے ایک برف بیچنے والے کا سرمایہ گھلتا ہے۔زندگی کا ہر لمحہ گزر کر ماضی بنتا چلا جاتا ہے اور اٹھنے والا ہر قدم موت کی طرف اٹھتا ہے۔
ہم میں سے ایک ایک شخص کو ایک ایک قوم کو جو عمر کی مدت دی گئی ہے۔ یہی ہمارا اصل سرمایہ ہے جو ایک برف کے گھلنے کی مانند تیزی سے گزر رہی یے اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ انے والا وقت ہمارا ہے۔

کوئی اپنے جنم دن کی خوشی کیک کاٹ کر اور پٹاخے چھوڑ کر مناتا ہے اور کوئی اپنے ہر گزرتے سال کا حساب اپنی اوقات سے بڑھ کر نعمتیں ملنے پر شکر کر کے مناتا یے۔۔۔اسی طرح میں بھی جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو میرا بچپن سے اب تک کا سفر ہر سال نئے نئے تجربات کے ساتھ گزرا۔میری زندگی میں آنے والی ہر خوشی نے مجھے زندگی کی نئی امنگ عطا کی، تو حسب دستور ملنے والے نا خوشگوار واقعات نے نئی ہمت اور اپنا محاسبہ کرنے کی جرات بخشی۔

 

اب کی بار بھی چھ جون کی تاریخ آتے ہی ہر گزرتے سال کا ہر دن جب یاد کرتی ہوں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ جس تیز رفتاری سے میری زندگی کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے،میری زندگی کی ہر ان گزر کر ماضی بنتی چلی جا رہی ہے،اور ہر ان آ کر مستقبل کو حال اور حال کو ماضی بنا رہی ہے۔۔۔کیا میں اسے بچا پاؤں گی۔۔۔؟
جب سوچتی ہوں نہیں تو بس رب سے یہی دعا کرتی ہوں کہ الہی!جو وقت گزر گیا اس پر گرفت نا کر۔۔۔ درگزر فرما۔۔۔
جو گزر رہی ہے اس میں اپنی رضا شامل کر۔۔۔
۔۔۔ اور جو گزرنے والی ہے اسے صرف اور صرف اپنی اطاعت میں گزار دے۔۔۔۔

۔۔۔اس باقی ماندہ سرمائے کو ضائع ہونے سے بچا لے مولا!۔۔۔میرے ہاتھ میری صرف ایک ہی کمائی یے تجھے اس کا واسطہ میرے رب! کہ جو بھی ملا تیری رضا سمجھ کے قبول کیا اور تیری طرف سے ملنے والی ہر نعمت کی شکر گزار رہی۔۔۔بس یہی میری کل کمائی ہے۔۔

میرے مالک!۔۔۔جو کام مجھ سے لینا چاہتا ہے اسے اس کم وقت میں بڑھا چڑھا کے مجھ سے لے لے۔تاکہ جس دن میں تیری طرف لوٹائی جاؤں تو میرے ہاتھ خالی نہ ہوں اور جب پھر سے اٹھائی جاؤں تو میرا دامن خوشیوں سے بھرا ہوا ہو۔اور میرے پاس تیرے وعدے کے مطابق مومنوں کے لیے تیار کردہ ہاؤسنگ سکیم میں ایک گھر کی چابی موجود ہو۔اور میں وہاں جا بسوں۔امین

 

یقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔اور اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے،انھیں مایوس کبھی نہیں کرے گا ان شائاللہ۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
89793