Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پیام شاہ  امم ص  کا بھرم رہے کچھ لوگ – از قلم: عصمت اسامہ۔

Posted on
شیئر کریں:

پیام شاہ  امم ص  کا بھرم رہے کچھ لوگ – از قلم: عصمت اسامہ۔

 

” استاذ جی کو بتا دینا کہ میں دھرنے کے لئے جارہا ہوں اس لئے جلدی نکل رہا ہوں۔میں لیڈ ٹیم میں شامل ہوں اور میرا وہاں جانا بہت ضروری ہے غزہ کے لئے۔ غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے بعد تو جینا بھی اچھا نہیں لگتا۔استاذ کو میرا یہ پیغام پڑھا دینا۔۔۔۔” رومان ساجد شہید کا یہ آخری پیغام تھا جو اس نے فلس طین دھرنا ڈی چوک میں نکلنے سے قبل اپنے دوست کو بھیجا تھا۔ وہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کا طالب علم،آزاد کشمیر کا باشندہ تھا اور ” سیو غ زہ کمپین ” میں بطور سوشل میڈیا ذمہ دار،کام کر رہا تھا۔پندرہ دنوں سے پارلیمنٹ کے سامنے ایکس سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب،ان کی اہلیہ حمیرا طیبہ (فاؤنڈر سیو غ زہ کمپین) کچھ طلبہ اور شہریوں کے ساتھ دھرنا دئیے ہوۓ ہیں۔ اپنے آرام دہ گھروں کو چھوڑ کر سخت گرمی میں یہ لوگ سڑکوں پر دن رات کیوں گزار رہے ہیں؟ کیا یہ ڈی چوک پر کسی ذاتی مفاد کے لئے جمع ہوۓ ہیں؟ پولیس کی دھمکیوں،لاٹھی چارج، رات دو بجے گاڑی چڑھانے کے قاتلانہ واقعہ اور دو معصوم شہریوں کی شہادت کے باوجود یہ لوگ دھرنا کیوں جاری رکھے ہوۓ ہیں،آخر کیوں؟ درحقیقت ان کا اپنا کوئی ذاتی مقصد نہیں ہے بلکہ ” فلس طین میں جاری نسل کشی” کو روکنے اور عالمی طاقتوں کی کھلی دہ شت گردی کے خلاف،حکومت_ پاکستان سے عملی اقدامات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں کہ غ زہ میں پندرہ ہزار معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل کر، بستیوں اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے، غیر مسلم اقوام بھی اب سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں

۔انسانیت کی تذلیل کے خلاف انسانیت اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ یورپی یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات،کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے فلس طین میں جاری قتل_ عام کو روکنے کے لئے دھرنے اور جلسے کر رہے ہیں،مسلمان ممالک کی یہ خاموشی،زندہ ضمیروں پر بے حد گراں گذر رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایمان اور عقیدے کی جنگ ہے جو قبلہء اول بیت المقدس،خانہء خدا کی خاطر لڑی جارہی ہے،یہ صرف فلس طین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بہت جلد دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی،اگر امت_ مسلمہ نے جلد متحد ہوکے کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا تو یوں ہی گاجر مولی کی طرح یکے بعد دیگرے کٹتے مرتے چلے جائیں گے۔

سیو غ زہ کمپین کے سب پرامن شرکاء مبارک باد کے مستحق ہیں جو حق کا علم اٹھاۓ میدان میں اترے ہوۓ ہیں،غ زہ کے معصوم بچوں کی تکالیف کو اپنے بچوں کی تکالیف کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ جنھیں اپنے رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوکے جواب دہی کے خوف نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں لا کے کھڑا کردیا ہے،جنھوں نے یہاں کیمپوں کو نمازوں،تلاوت_ قرآن اور دروس سے آباد کردیا ہے، جو لاٹھیاں برسانے والے پولیس اہلکاروں کو بھی پانی کی بوتلیں تقسیم کرتے نظر آتے ہیں،

محترمہ حمیرا طیبہ (فاؤنڈر سیو غ زہ کمپین) ہر بار نوجوانوں کو پولیس گردی سے بچانے کے لئے خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہیں انھوں نے صحابیہ حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کی یاد تازہ کردی ہے،جو ایک غزوہء میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چاروں اطراف سے دفاع کر رہی تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ “آج تو ام عمارہ کا دن تھا!”. کیا کبھی کسی نے ویمن ایمپاورمنٹ کی ایسی مثال کہیں اور دیکھی ہوگی؟

~ ہر ایک قدم پر ثابت قدم رہے کچھ لوگ
جبینِ وقت پر کچھ ایسے رقم رہے کچھ لوگ
زوال_ جرات _ کردار کے زمانے میں
پیام_ شاہ_ امم ص کا بھرم رہے کچھ لوگ!


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
89439