Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

طلبہ و طالبات کی سیکورٹی اور عملی اقدامات – خاطرات :امیرجان حقانی

شیئر کریں:

طلبہ و طالبات کی سیکورٹی اور عملی اقدامات – خاطرات :امیرجان حقانی

آج دن بھر سوشل میڈیا میں یہ خبر گردش کرتی رہے ہے کہ ایک بدبخت شخص گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جوٹیال گلگت کی چھوٹی بڑی طالبات کو ہراساں کرتا رہتا تھا. طالبات نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا. یوں سکول انتظامیہ نے والدین سے رجوع کیا اور والدین اور جوٹیال یوتھ نے اس کمبخت کو پکڑ کر خوب پھینٹا لگا دیا اور پولیس کے حوالے کر دیا. کاش ہر سکول کے سامنے بیٹھ کر ایسی حرکتیں کرنے والوں کو یوں پھینٹا لگایاجاتا.
جوٹیال گرلز ہائی سکول گلگت بلتستان کے  طالبات کے سرکاری سکولز میں سب سے بہتر اور معیاری سکول ہے. میں خود گزشتہ کئی سالوں سے اس اسکول کی کارگردگی کو غور سے دیکھتا رہا ہوں. شاندار صفائی اور تعلیمی نظام ہے.
یہ ایک نہایت افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے جس میں ایک بدبخت، رذیل اور کمینہ آدمی نے گرلز ہائی سکول جوٹیال کی معصوم طالبات کو روزانہ ہراساں کر کے ان کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا تھا۔
اس خبر کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے. گرلز ہائی سکول ایف سی این اے کے ساتھ ہی ہے. یہ فوجی علاقہ ہے جو انتہائی حساس اور سینٹرل ایریا ہے. جگہ جگہ کیمرے لگے ہونگے. درست نہج پر اس کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے.
یہ بدبخت نہ صرف اخلاقی پستی کا شکار ہے بلکہ معاشرتی امن اور سکون کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا تھا۔ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ایسے افراد کے باعث بچیاں خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھنے سے قاصر ہو جاتی ہیں جو نہایت تشویشناک امر ہے۔ گلگت بلتستان کے کئی ایریاز میں ایسے بدبخت پائے جاتے ہیں.
جوٹیال یوتھ اور بچیوں کے والدین کی جرات مندی اور اقدام قابل تحسین ہے کہ انہوں نے اس شخص کو پکڑ کر اس کے ناپاک ارادوں کا قلع قمع کیا اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہ ایک بہترین مثال ہے کہ جب برائی کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے، ہمیں مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے. حدیث میں حکم بھی آیا ہے کہ اگر برائی کا خاتمہ ہاتھ سے ہوسکتا ہے تو کرنے میں دیر نہیں لگانا چاہیے۔ جوٹیالین نے حدیث پر عمل کرکے اجر عظیم کمایا ہے. جہاں جہاں ایسی صورتحال ہو وہاں وہاں اہل محلہ و علاقہ اور والدین کو مل کر ایسا اقدام کرنا چاہیے. تاکہ طلبہ و طالبات بھی محفوظ ہوں اور ثواب عظیم بھی ملے.
تاہم یاد رکھا جائے یہاں صرف محلہ والوں یا والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے افراد کی جڑ سے بیخ کنی کی جا سکے۔ پولیس کو چاہیے اس واقعہ کو بطور کیس اسٹڈی لیں اور تمام تعلیمی اداروں کے دائیں بائیں پائے جانے والے  ایسے غنڈوں کا ڈیٹا جمع کریں اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے کوئی میکنیزم تیار کریں. تاکہ ایسے افراد کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے اور دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بن سکے۔

انتظامیہ کو بھی سکولوں اور ان کے اطراف میں سیکورٹی کے انتظامات کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
سکول کے طلبہ و طالبات کی حفاظت اور تعلیم ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ ایسے افراد کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے سے ہی ہم اپنے معاشرے کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور طلبہ و طالبات کو ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ انتظامیہ، حساس ادارے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لے کر فوری اور مؤثر کارروائی کریں گے۔
سماجی اور معاشرتی طور پر بھی سب کو ملکر ایسے گندے اور غلیظ کیریکٹرز کے خاتمے کے لئے علمی، شعوری اور عملی اقدامات کرنے چاہیے.
تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی سیکیورٹی اور انہیں ہراساں کرنے والوں سے بچاؤ کے لئے کچھ لانگ ٹرم تجاویز عرض کیے دیتا ہوں. ان پر عمل کیا جائے تو صورتحال مثالی بن سکتی ہے. یہ کام ریاست کے تمام ادارے اور سماجی و عوامی معاونت و اشتراک سے ہوسکتے ہیں.
1. تعلیمی ادارے کی حدود میں سیکیورٹی انتظامات:
 تعلیمی ادارے کی چار دیواری اور داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی۔
سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور ان کی موثر نگرانی۔
2. طلبہ و طالبات کی آگاہی اور تربیت:
 سیکیورٹی اور ہراسانی سے بچاؤ کے بارے میں طلبہ و طالبات کی تربیت اور خصوصی ٹریننگ
 ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد تاکہ وہ خود کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے آگاہ ہو سکیں۔
3. سکول کارڈز اور بائیو میٹرک سسٹم کا استعمال:
   تمام طلبہ و طالبات ، اساتذہ اور عملے کے لئے سکول کارڈز کا اجرا اور ان کا لازمی استعمال۔
  بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب تاکہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا، ادارے میں داخلے کو روکا جا سکے۔
4. ایمرجنسی نمبرز اور رابطے کی معلومات:
   طلبہ و طالبات کو ایمرجنسی نمبرز فراہم کرنا۔ تاکہ وہ بروقت رابطہ کرسکیں
   ہر کلاس روم میں ایمرجنسی رابطے کی معلومات کا دستیاب ہونا۔
5. ہراسانی کی شکایات کے لئے ہاٹ لائن:
   ایک خفیہ ہاٹ لائن کا قیام جہاں طلبہ و طالبات بغیر کسی خوف کے اپنی شکایات درج کروا سکیں۔
  شکایات پر فوری اور مناسب کارروائی کی جائے۔
6.اساتذہ اور عملے کی تربیت:
   اساتذہ اور دیگر عملے کو سیکیورٹی اور ہراسانی سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔
  تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کی صورت میں فوری مدد فراہم کر سکیں۔
7. طلبہ و طالبات کی نقل و حرکت کی نگرانی:
   تعلیمی اداروں کی بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کے نظام کی نگرانی۔
  ہاسٹلز اور رہائشی سہولیات میں سیکیورٹی کا موثر نظام۔
8. سیکیورٹی آڈٹس اور معائنہ:
   تعلیمی ادارے میں باقاعدگی سے سیکیورٹی آڈٹس کا انعقاد و انتظام
  کسی بھی کمزوری کی صورت میں فوری بہتری کے اقدامات۔
9. محفوظ آن لائن ماحول:
   تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی دینا۔
  سائبر بُلِنگ سے بچاؤ کے طریقے سکھانا۔( آج کل سائبر بُلنگ کے ذریعے سب سے زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے)
10. والدین کے ساتھ تعاون:
    والدین کو بچوں کی سیکیورٹی اور ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا۔
   ان سے مسلسل رابطے میں رہنا تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔
ان تجاویز پر عمل کر کے تعلیمی ادارے، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے طلبہ و طالبات کی سیکیورٹی میں مکمل بہتری لا سکتے ہیں اور انہیں ہراسانی سے بچا سکتے ہیں۔

شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88987