Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر صحت کی سربراہی میں پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ پراونشل سٹاک ٹیک میٹنگ، چترال لوئرسمیت ۷ اضلاع کے ڈی ایچ اوزکو پرائمری ہیلتھ کئیر کی غیر فعالی اور کم ڈلیوریز ریکارڈ ہونے پر وضاحتی بیان جمع  کرنیکی ہدایت 

Posted on
شیئر کریں:

وزیر صحت کی سربراہی میں پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ پراونشل سٹاک ٹیک میٹنگ، چترال لوئرسمیت ۷ اضلاع کے ڈی ایچ اوزکو پرائمری ہیلتھ کئیر کی غیر فعالی اور کم ڈلیوریز ریکارڈ ہونے پر وضاحتی بیان جمع  کرنیکی ہدایت

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی سربراہی میں اپریل کے مہینے کی پراونشل سٹاک ٹیک میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں ایڈیشنل ڈی جی ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سراج، ایڈیشنل ڈی جی ہیڈ کوارٹر ڈاکٹر شاہد یونس، اے ڈی جی ایچ آر ڈاکٹر باسط سلیم، اے ڈی جی مانیٹرنگ ڈاکٹر عابد، ڈائریکٹر انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ڈاکٹر اعجاز، پروجیکٹ ڈائریکٹر پرائمری ری ویمپ ڈاکٹر رفیع نے خود جبکہ تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس نے آن لائن شرکت کی۔ ڈائریکٹر آئی ایم یو نے وزیر صحت کو پرائمری ہیلتھ کئیر سے متعلق پراونشل سکور کارڈ کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ وزیر صحت کو صوبے کے پرائمری ہیلتھ کئیر مراکز میں روزانہ کی او پی ڈی، بیس ادویات ضروریات کی دستیابی، طبی آلات کی فعالی، بنیادی ڈحانچے کی فعالی اور صفائی کی صورتحال بارے اعداد و شمار پیش کیا گیا۔ وزیر صحت کو میڈیکل افسران کی سیٹوں کے خلا، ایل ایچ ویز کی دستیابی، خواتین میدیکل افسران کی کمی و دیگر امور بارے جائزہ پیش کیا گیا۔ وزیر صحت کو بتایا گیا کہ37 مختلف ادویات کی فراہمی صوبائی سطح پر 57 %رہی۔وزیر صحت کو بتایا گیا کہ ڈی ایچ اوز کو ملنے والے فنڈ میں کتنا ملا، کتنا خرچ ہوا اور کتنا خرچ کئے بغیر رہ گیا۔ ڈی ایچ اوز کو فنڈز ریلیز ہوئے اور پروکیورمنٹ کے شروع ہوتے ہی ڈی پنچ ہوجاتے ہیں۔

 

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے بتایا کہ ڈی ایچ اوز کو بروقت فنڈز نہ ملنے سے خدمات کی فراہمی میں خلا پیدا ہورہا ہے۔ ہر مہینے کے پہلے چھ ورکنگ ڈے پر فنڈز سے متعلق ڈی ایچ اوز اور دیگر سٹیک ہولڈز سے میٹنگ ہوگی۔ سپلائی چین مینجمنٹ کا نفاذ اب ناگزیر ہوگیا ہے تاکہ چیزیں بروقت ٹریس ہو۔ 42 فیصد میڈیکل افسران کی غیر حاضری بالکل قابل قبول نہیں۔ 41 مسلسل غیر حاضر ڈاکٹروں کے تنخواہوں کو روک دیا جائے، اور ان کیخلاف اے اینڈ ای رولز کے تحت کاروائی عمل میں لانے کیلئے احکامات جاری کئے۔ چارسدہ، دیر اپر، بونیر، ٹانک، پشاور، ملاکنڈ، کرک، چترال لوئر کے ڈی ایچ اوز پرائمری ہیلتھ کئیر کی غیر فعالی اور کم ڈلیوریز ریکارڈ ہونے پر اپنا وضاحتی بیان جمع کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی ایچ او یقینی بنائیں کہ لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کی حاضری باقاعدگی سے ہو۔ بائیو میٹرک حاضری یقینی بنانے کیلئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم لارہے ہیں۔ میں خود بھی اپنی حاضری لگاونگا۔وزیر صحت کو بریف کیا گیا کہ سیکنڈری ہیلتھ کئیر سسٹم کی حاضری، ڈلیوری، او پی ڈی، ایمرجنسی اور انڈور پیشنٹ کے داخلوں میں بھی کافی بہتری آئی ہے۔ اپریل کے مہینے میں پرائمری ہیلتھ کئیر مراکز میں پچھلے مہینے کی نسبت ڈلیوریز کی کمی کا نوٹس بھی لے لیا گیا جبکہ سیکنڈری کئیر مراکز صحت میں پچھلے مہینے میں ڈلیوریز میں قدرے بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اپریل میں سب سے زیادہ 146 ڈلیوریز ضلع بٹگرام میں جبکہ لکی مروت میں 140 اور مانسہرہ میں 120 ڈلیوریز ہوئیں۔ پرائمری ری ویمپ کے 24/7 بنیادی مراکز صحت کے کنٹریکٹ ایل ایچ ویز کی غیر حاضری میں مردان سرفہرست ہے۔

 

پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔ فضل حکیم خان یوسفزئی

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و جنگلی حیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا یہ انسٹیٹیوٹ پورے پاکستان میں ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے جو طالب علموں کو بہترین اور جدید تعلیم سے آراستہ کرتا ہے اس انسٹیٹیوٹ کو یونیورسٹی کا درجہ دینا طالب علموں کے مستقبل کیلئے ایک بڑا تحفہ ہے نوجوانوں کو بہترین تعلیم سے آراستہ کرنا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ اس اہم اقدام کو جلد عملی جامہ پہنایا جائے اسلئے متعلقہ افسران ضمن میں جلد سے جلد کاغذی کاروائی کو مکمل کرکے پیش کریں انہوں نے کہا کہ پاکستان فارسٹ انسٹیٹوٹ پشاور میں قائم یہ یونیورسٹی ملک بھر میں کہی نہیں ہوگی یہ اعزاز صرف خیبرپختونخوا کو حاصل ہوگا اسلئے تمام متعلقہ افسران انتہائی لگن کے ساتھ اس اہم منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں بھرپور جدوجہد کریں تاکہ دیگر صوبوں کیلئے رول ماڈل ہو۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا اجلاس میں پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور کے ڈائریکٹر جنرل، سیکرٹری فارسٹ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

 

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل نے صوبائی وزیر کو انسٹیٹیوٹ کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور ضروری فیصلے کئے گئے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو سرسبزوشاداب بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی کیونکہ جنگلات مختلف پہلوؤں سے انسانی زندگی کیلئے ضروری ہیں ماحول کو فضائی آلودگی سے پاک کرنے کے لئے ہر شہری کو زیادہ سے زیادہ پودے لگانے ہونگے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی کوشش ہے کہ درختوں کے تحفظ کیساتھ ساتھ جنگلات میں مزید اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی سے بچنے کیلئے بھرپور جدوجہد کررہی ہے تاکہ آنے والی نسل ماحولیاتی اور جسمانی طور پر صاف ماحول سے مستفید ہو سکیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کے احکامات کے مطابق بلین ٹری پلس منصوبے پر جلد آغاز کیا جائے گا جس کیلئے تمام تیاریاں مکمل کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ بلین ٹری پلس منصوبے کی کامیابی کیلئے پورے صوبے میں نہ صرف پودے لگائیں گے بلکہ ان پودوں کی نگرانی بھی کی جائیں گی۔ اجلاس کے بعد صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور میں پودہ بھی لگایا اور اجتماعی دعا کی گئی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
88916