Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالاش فیسٹول جوشی تین دن جاری رہنے کے بعد اپنی تمام تررعنائیوں اور رنگینیوں کے ساتھ اختتام پذیر، ملکی وغیرملکی سیاحوں کی کثیر تعداد میں شرکت

شیئر کریں:

کالاش فیسٹول جوشی تین دن جاری رہنے کے بعد اپنی تمام تررعنائیوں اور رنگینیوں کے ساتھ اختتام پذیر، ملکی وغیرملکی سیاحوں کی کثیر تعداد میں شرکت

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈھائی ہزار سال قدیم کالاش فیسٹول جو شی (چلم جوشٹ) ڈھول کی تھاپ پر نوجوان مردو خواتین کی گلے میں باہیں ڈال کر رقص،سریلی گیتوں اور اپنی رنگینیوں کے ساتھ کالاش ویلی بمبوریت کے مرکزی مقام بتریک میں اختتام پذیر ہوا۔ جس میں کنیڈا، برطانیہ، جاپان سمیت پوری دنیا کے غیرملکی اور ملکی سیاحوں نے شرکت کی۔ اور اس فیسٹول کو امن اور قدرتی نظاروں اور قدیم تہذیب کے ماحول میں دنیا کا خوبصورت ترین تہوار قرار دیا۔ اورکہا کہ وادیوں کے لوگ انتہائی ملنسار، محبت کرنیوالے اور سیاحوں کا خیال رکھنے والے لوگ ہیں۔ سیاحوں نے فیسٹول کے یادگار لمحات کو اپنے کیمروں اور یادوں میں محفوظ کیا۔ فیسٹول میں بہت سے غیرملکی اور ملکی خواتین نے کالاش قبیلے سے یکجہتی اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لباس کو زیب تن کیا تھا۔ اور اس پر فخر محسوس کر رہی تھیں۔

کالاش فیسٹول 2024 کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان تھے۔ جبکہ دیگر مہمانوں میں ڈی پی او لوئر چترال، سابق معاون خصوصی وزیر اعلی وزیر زادہ، کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی منہاس الدین،کلچر اینڈ ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی آفیسران موجود تھے۔ کالاش قبیلے کی طرف سے ڈپٹی کمشنر چترال اور دیگر مہمانوں کو چوغے پہنائے گئے۔ اس کے بعد حسب روایت ڈھول بجاتے،سیٹیان مارتے، اور اخروٹ کی ٹہنیوں کو ہاتھوں میں ہلاتے شان و شوکت کے ساتھ بڑے ڈانسنگ پلیس میں داخل ہوئے جو کہ زیر تعمیر ہے۔یہ ایک حوبصورت نظارہ تھا۔

فیسٹول کے پر امن انعقاد کیلئے سکیورٹی کے فل پروف انتظامات کئے گئے تھے۔اور علاقے کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک رکھنے و بے ہنگم سیاحت کو کنٹرول کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے جاری ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے سیاحوں کو بہت سہولت ملی۔ تاہم سیاحوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس امر پر انتہائی ا فسوس کا اظہار کیا۔ کہ جس شوق اور جوش و جذبے سے سیاح چترال اور کالاش ویلیز جانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ ان تک پہنچنے کیلئے انتہائی خطرناک اور خستہ حال سڑکوں سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے فوری طور پر ان سڑکوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔

 

chitraltimes kalash festival chelum jusht joshi concludes chitral lower 5 chitraltimes kalash festival chelum jusht joshi concludes chitral lower 6 chitraltimes kalash festival chelum jusht joshi concludes chitral lower 8 chitraltimes kalash festival chelum jusht joshi concludes chitral lower 9 chitraltimes kalash festival chelum jusht joshi concludes chitral lower 10 chitraltimes kalash festival chelum jusht joshi concludes chitral lower 11 chitraltimes kalash festival chelum jusht joshi concludes chitral lower 13 chitraltimes kalash festival chelum jusht joshi concludes chitral lower 14 chitraltimes kalash festival chelum jusht 1 chitraltimes kalash festival chelum jusht 2 chitraltimes kalash festival chelum jusht 1


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
88888