Chitral Times

May 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش ۔ ہیرو ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on
شیئر کریں:

بزمِ درویش ۔ ہیرو ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

یہ میری زندگی کی سب سے مشکل گھڑی تھی پل صراط سے گزرنے والی بات تھی ایک یتیم بے آسرا لڑکی مدد مدد پکارتی میرے سامنے بیٹھی تھی لیکن میرے پاس اس کے سوال اور مدد کا کوئی جواب یا حل نہیں تھا کہ میں کیسے اِس کی مدد کروں تاکہ یہ خود کشی نہ کر لے میں نے مولویوں والا کام نہیں کیا کہ تم نے گناہ کبیرہ کیا اب اِس کی سزا بھگتو تم زانی ہو سزا تمہارا مقدر ہے بلکہ میں تو رحم اور شفیق نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرح اِس معصوم بن بیاہی ماں کی مدد کروں کیونکہ میں ہر حال میں اُس کی مدد کر نا چاہتا تھا اِس لیے اب اُس کی داستان شروع سے آخر تک سننا بہت ضرور تھی تاکہ کوئی دھاگا ہاتھ آئے اور میں اُس کی مدد کرسکوں بیٹی بتاؤ تم کس طرح اُس جنسی درندے کے ہاتھ آئی تو وہ بولی سر میں لاہور سے تین سو کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہوں بچپن میں والدین حادثے میں مر گئے تو دور کے رشتے دار نے خوف خدا کے تحت میری پرورش کی میں نے بڑی کوششوں اور مشکلوں سے میڑک کا امتحان پاس کیا ساتھ میں میک اپ کے کورسز بھی کر لیے اِس طرح مین نے اپنی زندگی کو چلانے کی کو شش کی کیونکہ میں اکیلی تھی لیکن خواب بہت بڑے تھے اللہ نے شکل بھی اچھی دے رکھی تھی

 

اِس لیے کسی بڑے شہر میں جا کر قسمت آزمائی کا خواب دیکھا پھر ایک دور کی رشتہ دار جب گاؤں آئی تو میں نے اُس کہا مجھے لاہور میں کسی بیوٹی پارلر پر جاب دلا دے تو اُس نے وعدہ کیا میں نے اُسے یہ بھی کہا کہ میں اُس پر بلکل بھی بوجھ نہیں بنوں گی کسی ہاسٹل یا یتیم خانے میں رہ کر آگے بڑھنے کی کو شش کروں گی لہذا اُس عورت نے جا کر چند ہفتوں بعد ہی مجھے لاہور بلا لیا میں نے لاہور آکر چند پارلروں پر ٹیسٹ دیا تو ایک پارلر میں مجھے بہت تھوڑی تنخواہ پر جاب مل گئی ساتھ ہی میں نے قریبی گرل ہاسٹل میں رہائش اختیار کرلی اب میں نوکر ی کر رہی تھی اور رات کو ہاسٹل چلی جاتی کیونکہ لاہور میں میرا کوئی دوست سہیلی رشتہ دار نہیں تھا اِس لیے میں اکژ بوریت کا شکار ہو جاتی مجھے شدت سے احساس ہوتا کہ کہ کاش میرا بھی کوئی اپنا ہو تا جس سے میں بات کر سکتی حال دل سنا سکتی اپنی اِس بوریت کو دور کر نے کے لیے میں چھٹی کے دن قریبی پارک میں جا کر وقت گزارتی تاکہ لوگوں کے درمیان وقت گزار سکوں اُس پارک میں میری ملاقات اِس لڑکے کے ساتھ ہوئی جو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ لاہور کے اوباش لڑکے لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اِیسے پارکوں کا رخ کر تے ہیں

 

میں توجہ پیار کی بھوکی تھی جیسے ہی اِس نے توجہ دینی شروع کی میں سمجھی مجھے دنیا میں ہی جنت مل گئی ہے وہ جو کہتا گیا میں کرتی چلی گئی جب اِس نے میرے جسم سے کھیلنے کی کو شش کی تو میں تو ناسمجھ گاؤں سے آئی لڑکی بہت کہا تو بولا میں تم سے صبح ہی شادی کر لوں گا لہذا میں اُس کی باتوں میں آگئی وہ اپنا مقصد حاصل کر چکا تھا میں اُس کے جال میں بری طرح پھنس چکی تھی نہ ہی میرے پاس کوئی راستہ تھا وہ میری عزت سے کھیلتا رہا میں اُس کی ناراضگی کے خوف سے اُس کی بات مانتی رہی کیونکہ اب وہ بات بات پر ناراض ہو تا تھا کہ تم میری بات نہیں مانتی میں ہمیشہ کے لیے تم کو چھوڑ دوں گا لہذا میں بے آسرا اُس کی باتوں میں گناہوں میں ڈوبتی رہی دو ماہ گزر گئے اُس نے شادی نکاح نہیں کیا تو میں بہت پریشان ہو ئی اُس کی منتیں ہاتھ جوڑے بہت روئی پاؤں پکڑے لیکن وہ لارے لگاتا رہا پھر تنگ آکر میں نے کہا اگر تم شادی نہیں کی تو میں پولیس میں جا کر پرچہ کٹواں دوں گی تو اُس نے مجھے بہت مارا اور کہا میں شہر کا ڈان ہوں تمہاری یہ جرات کیسے ہوئی مجھے دھمکی دو‘ تم جاؤ جس کے پاس جا کر میرے خلاف کیس کرنا ہے کرو کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا میں نے تمہارے ساتھ بلکل بھی شادی نہیں کرنی میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا کہاں تم نالی میں پلنے والی گندی جونک کہاں میں‘میرا تمہارا کوئی مقابلہ جو ڑنہیں آج سے میرا تمہارا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم تم جاؤ میرا جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو اُس نے مجھے ہر جگہ سے بلاک کر دیا

 

میں مختلف نمبروں سے اُس کو کال کرتی تو وہ گالیاں دیتا پھر اُس نے اپنے سارے نمبرز بدل لیے اب میرا اُس سے کوئی رابطہ نہیں جب اُس نے مجھے چھوڑا تو میں اُس کو پانے کے لیے مختلف بابوں ملنگوں کے پاس چکر لگانے شروع کر دئیے جو کماتی بابوں کو نذر کر دیتی چار ماہ ہو گئے یہ بابوں کے لاروں پر کہ صبح آجائے گا کل آجائے گا لیکن وہ درندہ واپس نہ آیا تو کسی نے میرا بتایا تو مرنے سے پہلے یہ دکھوں کی گٹھڑی میرے سامنے بیٹھی تھی جس کی دکھ بھری کہانی سن کر میری سانسیں بھاری ہو گئی تھیں کچھ سمجھ نہیں آریا تھا میں نے دو دن کا وقت لیاکہ مجھے سوچھنے کا وقت دو تاکہ میں اِس مسئلے کا کوئی حل نکال سکوں میں نے دو دنوں میں اُس کے نمبروں کو ٹریک کرنے کی پوری کو شش کی دوستوں سے مدد بھی لی لیکن وہ کہیں نہیں ملا پتہ نہیں کوئی شہر چھوڑ گیا تھا یا اللہ کی حکمت میں اب وہ تھا ہی نہیں لہذا مجبور ہو کر میں نے ایک فیصلہ لیا اور اُس بیٹی کا انتظار کر نے لگا تو وہ پھر میرے سامنے آئی تو میں بولا دیکھو بیٹی تمہارے بچے میں جان آچکی ہے

 

اِس کا ابارشن کرانا قتل ہے اور تمہاری جان بھی جا سکتی ہے وہ بد کردار تو بھاگ گیا اب ایک ہی راستہ ہے تم کسی سے شادی کر لو تاکہ تمہاری زندگی بچ جائے تو وہ بولی مجھ گناہ گار سے کون شادی کر ے گا کون میرا گناہ اپنے کھاتے میں ڈالے گا تو میں نے کہا تم ہاں کرو تو میں تلاش کرتا ہوں تو وہ بولی سر میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے یہ میرا نمبر ہے آپ کو جب بھی کوئی رحم دم بندہ مل جائے تو مجھے کال کرئیے گا میں آجاؤں گی اب میری نظر میں ایک لڑکا تھا اظہر ہیرو جو کسی حجام کی دوکان پر کام کر تا تھا مردان شہر سے لاہور آیا بیگم ساتھ تھی اُس نے بے وفائی کی اِس کو چھوڑ کر آشنا کے ساتھ بھاگ گئی یہ اُس کی تلاش میں میرے پاس آتا رہا بعد میں پتہ چلا کہ وہ آشنا کے بچے کی ماں بن چکی ہے تو کچھ دنوں سے باغی ہو گیا کہ اب کبھی بھی شادی نہیں کروں گامیں نے اُس کو بلایا اور کہا یار تم نام کے ہیرو ہو یا باتیں ہی ہیں تو وہ بولا سر کوئی نیکی کاکام ہے تو بتاؤ میں نے بن بیاہی ماں کا سارا قصہ سنا دیا وہ فوری شادی کے لیے تیار ہو گیا تو اِن دونوں کی شادی کرا دی اِس واقع کو پانچ سال گزر گئے کبھی کبھی ہیرو کا فون آتا تو بتاتا اُس بچے کے علاوہ دو اور بچے بھی آگئے میں اُس بچے کو بھی اپنا ہی بچہ مانتا ہوں چند دن پہلے اُسی بیٹی اور ہیروکا فون آیا تو بیٹی نے بتایا میں اُس محلے گئی تھی تو پتہ چلا اُس نے کسی اور لڑکی کی زندگی خراب کی تو اُس کے بھائیوں نے اُس کو بے دردی سے قتل کر دیا اب میں بہت خوش ہوں میں نے ہیرو سے پوچھا تم بھی خوش ہو تو بولا جناب بہت خوش تو میں بولا یار تم نام کے نہیں واقعی بڑے ہیرو ہو۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88583