Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تعلیمی ایمرجنسی اور تعلیم دشمن لوگ – میری بات:روہیل اکبر

Posted on
شیئر کریں:

تعلیمی ایمرجنسی اور تعلیم دشمن لوگ – میری بات:روہیل اکبر

مبارک ہو محی الدین احمد وانی کی کوششوں سے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی لگ گئی اب کوئی بچہ سکول سے باہر ہوگا اور نہ ہی بغیر خوراک کے گھر جائیگااور اب ہمارے بچوں کو چین بھیجانا پڑا تو وہ تعلیم کے لیے ایک پیسہ خرچ کیے بغیر جاسکیں گے لیکن اس کے لیے ابھی وقت کا انتظار کرنا پڑے گا وہ اس لیے کہ جب تک ہمارے ہاں تعلیم دشمن لوگ موجود ہیں جن کا محی الدین احمد وانی کی قیادت میں ہی صفایا کیا جاسکتا ہے ان تعلیم اور ملک دشمنوں کی ایک ہلکی سی جھلک میں دکھائے دیتا ہوں جو ابھی ابھی اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل کے حوالہ سے اسپیشل برانچ کی طرف سے منظر عام پر آئی ہے جسکے مطابق سابق ڈی پی او اور سی آئی اے سٹاف کی ملی بھگت سے اس معاملہ کو اسکینڈل بنانے،اسے ہوا دینے،جھوٹے مقدمات بنانے اور پھر بعد میں وسیع پیمانے پر قبضے کروانے سمیت لاکھوں روپے کی رشوت وصول کرنے کا انکشاف ہوکیا گیا ہے۔جون 2023میں بہاولپور پولیس کی جانب سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے خزانچی ابوبکر اور چیف سیکیورٹی افیسر اعجاز شاہ کو گرفتار کر کے ان کے خلاف آئس بیچنے اور اور استعمال کرنے کے حوالے سے مقدمہ درج کیے گئے تھے

 

اس معاملہ پر حکومت پنجاب کی جانب سے ون مین جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کی رپورٹ بھی جزوی طور پر منظر عام پر آئی تھی جس میں واضح طور پر جنسی حراسانی اور منشیات فروشی کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے بتایا گیا تھا کہ سابق ڈی پی او بہاولپور، سی ائی اے سٹاف کے آفیسر اور آفیشلز ان تمام معاملات کے حوالے سے کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے اور عدالتوں میں بھی بری طرح ناکام ہوئے جوڈیشل کمیشن کی جزوی رپورٹ میں براہ راست اس سکینڈل کے ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے سابق ڈی پی او عباس شاہ پولیس ٹاؤٹ عبداللہ یوٹیوبر مشتاق سمیت دیگر کو ان تمام معاملات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب سے ان کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گئی تھی تاہم گزشتہ روز سپیشل برانچ بہاولپور کی اس حوالے سے ایک سپیشل رپورٹ جو سپیشل برانچ کے اعلی افسران اور ار پی او بہاولپور کو بھجوائی گئی تھی سامنے آگئی جس میں واضح طور پر بتا دیا گیا مذکورہ پولیس افسران سمیت دوسرے افراد نے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف جان بوجھ کر مہم چلائیاور انکی کردار کشی کرکے دنیا میں تعلیم کی رینکنگ میں تزیزی سے ابھرتی ہوئی اس تعلیمی درسگاہ کو بدنام کیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں کمپین چلوائی

 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسلامی یونیورسٹی کے جن افسران کو ٹرپ کر کے گرفتار کیا گیا اور جھوٹے مقدمات قائم کیے ہیں ان کو بھاری رشوت دیکر اورفائدہ پہنچا کر ضمانتوں پر رہا کروایا گیا ہے اسکینڈل کے لیے اسلامی یونیورسٹی کی ایک ڈیلی ویجز خاتون سمیت دیگر خواتین کوبھی استعمال کیا گیا اور ان کے ذریعے ہنی ٹرپ کر کے بے قصور لوگوں کو جال میں پھنساکر جھوٹے مقدمہ درج کروائے گئے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہماری پولیس کا گھٹیا،کم تر اور منافقانہ رویہ سامنے آگیا ہے ایک ایسے فرشتہ صفت انسان پر صرف ایس لیے بے ہودہ اور گھٹیا الزام لگادیا جائے کہ اسے وائس چانسلر شپ سے الگ کرکے اپنی مرضی کا بندہ تعینات کروا دیا جائے یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کے دشمن،تعلیم کے دشمن اور غریب کے دشمن ہیں انہی لوگوں نے نہ صرف پاکستان کو برباد کیا بلکہ اجاڑ بھی دیا کیونکہ تعلیم نہیں ہوگی تو جہالت ہی جہالت ہوگی رہی بات ہمارے وزرا،اور سیکریٹریوں کی وہ بھی اس حوالہ سے کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہیں اس وقت اگر ہم اگر صوبائی دارالحکومت لاہور میں سکولوں کی حالت زار اور نظام تعلیم کی بات کریں تو دونوں صفر ہیں رہی بات صوبے کی تو اسکی مثال اسلامیہ یونیورسٹی کی صورت میں سامنے آچکی ہے

 

میں بات کررہا تھا اور لاہور کے بھی اس حلقے کی اگر بات کروں کہ جو وزیر اعلی مریم نواز کا حلقہ تھا جہاں سے وہ ایم این اے بنی تھی اور پھر انہوں نے وزارت اعلی کی خاطر وہ سیٹ چھوڑ دی اسی حلقے کے صرف ایک سکول کی بات کرونگا اسکے بعد لاہور،پنجاب اور ملک بھر کے سکولوں کی حالت کا اندازہ آپ سب بخوبی لگا سکتے ہیں کہ ہمارا ناظم تعلیم کیسا ہے اور اس نظام کو درست کرنے والوں کا ہم نے کیا حشر کیا ہوا ہے میں یہاں پر صرف لڑکیوں کے ایک سکول کی مثال دونگا وہ سکول ہے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ریلوے کالونی مغل پورہ جسے منور سلطانہ سکول بھی کہا جاتا ہے یہ سکول اب صوبائی حلقہ پی پی 149میں نومنتخب ایم پی اے شعیب صدیقی کے پاس ہے لیکن شعیب صدیقی کے نامہ اعمال میں پہلے بھی کوئی کام نہیں تھے جب وہ پی ٹی آئی حکومت کا حصہ تھے وفاقی وزیر نجکاری علیم خان کا بھی یہی حلقہ ہے لیکن ان کے حلقے کا یہ سکول جہاں غریب،مزدور اور محنت کشوں کے بچے پڑھتے ہیں وہاں عرصہ 15سال سے کوئی ہیڈ مسٹریس ہی نہیں ہے ایک جونیئر ٹیچر کو کئی سالوں سے چارج دے رکھا ہے اس سکول کے باہر گندگی اور کوڑے کے ڈھیر ہے سال کے 365دن اس سکول کے گیٹ کے سامنے گندہ اور بدبودار پانی کھڑا رہتا ہے

 

صفائی جسے ہم نصف ایمان سمجھتے ہیں اس کا حشر نشر دیکھنا ہو تو اس تعلیمی درسگاہ کو دیکھ لیا جائے اس سکول کے سامنے ٹرک،ویگن اور مزدا کا غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ بنا ہوا ہے اور اسکے ٹھیکیدار اپنے آپ کو یہاں کے ایم پی اے اور ایم این اے سمجھتے ہیں مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کیا اس سکول میں کبھی کوئی تعلیم کے متعلقہ وزیر،سیکریٹری،ایڈیشنل سیکریٹری،ڈپٹی سیکریٹری،سی ای او،ڈی ای او،ڈپٹی ڈی ای او یا اسسٹنٹ ڈی ای او نہیں آیا اور آگر کبھی آیا ہو تو اسے سکول کے باہر پڑا ہوا گند کیوں نظر نہیں آتا ایسے وزیر تعلیم، سیکریٹری تعلیم اور ایجوکیشن افسران کا ہم نے اچار ڈالنا ہے جو اپنے نظام کو ہی درست نہ کرسکے یہ صرف ایک سکول کا حال نہیں لاہور کے 80فیصد سکولوں کا پنجاب کے 90 فیصد سکولوں کا یہی حال ہے اور ان حالات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کردی ہے

 

اس وقت پاکستان میں 2 کروڑ 60 لاکھ بچوں کا اسکول نہ جاناایک بڑا چیلنج ہے جبکہ قائدا عظم نے فرمایا تھا قوم کے لیے تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اورمجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ملک میں تعلیمی بہتری کے لیے وزیر اعظم نے محی الدین احمد وانی کو منتخب کیا ہے جبکہ اس ایمرجنسی کو لاگو کروانے میں بھی انہی کا ہی ہاتھ ہے محی الدین احمد وانی سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر پاکستان ایک انچ بھی ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی لوگوں میں شعور آئے گا میری محی الدین احمد وانی سے درخواست ہے کہ وہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیں کیونکہ ان جیسا ہیرا صدیو ں بعد پیدا ہوتا ہے اور خوش قسمتی سے وہ اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں ویسے بھی ایک اکیلا ہوتا ہے اور دو گیارہ بن جاتے ہیں مجھے امید ہے کہ جب آپ دونوں ملکر پاکستان کو جہالت سے نکالنے نکلیں گے تو ایک نہ ایک دن وہ روشن صبح ہر صورت آئے گی جب ہر طرف شعور کی بلندیاں ہونگی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
88551