Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ کڑوا گھونٹ – تحریر:عبد الباقی چترالی

شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ کڑوا گھونٹ – تحریر:عبد الباقی چترالی

سابقہ اتحادی جماعتیں اپنی سولہ مائی حکومت میں غریب عوام کا خون نچوڑ کر چند ماہ پہلے اقتدار سے رخصت ہو گئے تھے ۔8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد وہ جماعتیں عوام کی کھال اترنے اور ہڈیاں چبانے کا منصوبہ لے کر دوبارہ اقتدار میں آگئے ہیں ۔8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوام کی اکثریت نے ان آزمودہ سیاست دانوں کو مسترد کر دیا تھا ۔لیکن الیکشن کمیشن اور بعض، مہربانوں ، کی سہولت کاری سے یہ جماعتیں دوبارہ بر سر اقتدار آنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔خادم پاکستان اقتدار میں آتے ہی آئی ایم ایف کے احکامات پر عمل کر کے تیل۔گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مذید اضافہ کر کے عوام کو کڑوی گھونٹ پینے کا مشورہ دے رہی ہے۔

دیگر جمہوری ممالک میں حکومت کاروباری اور دولتمند افراد سے بھاری مقدار میں ٹیکس وصول کر کے معاشرے کے کم آمدنی والے اور بے روزگار افراد کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہے ۔ جب کہ اس ملک میں ہر حکومت غریب عوام کا خون نچوڑ کر اشرفیہ طبقے کے مراعات اور سہولتوں میں مذید اضافہ کرتی ہے ۔پاکستان دنیا کا واحد بدقسمت ملک ہے جہاں غریب عوام کے ٹیکسوں سے حکمران اشرافیہ عیش و عشرت کرتی ہے ۔اس ملک میں ہر نئے آنے والے حکمران غریبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ان کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر کے ملک کی خاطر مہنگائی کا کڑوی گھونٹ پی کر برداشت کرنے کا مشورہ دے رہی ہے ۔اب مذید کڑوی گھونٹ پینا عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے ۔کیونکہ عوام گزشتہ چھہتر برسوں سے کڑوی گھونٹ پی رہی ہے۔پاکستانی عوام خادم پاکستان کی سابقہ دور حکومت کی مشکل فیصلوں سے مہنگائی کے طوفان میں ڈوبے ہوئے زندگی کی آخری سانس لے رہی ہے۔

ایسے حالات میں عوام پر مذید مہنگائی کا بوجھ ڈالنا عوام کی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔پاکستانی عوام سابقہ حکومت کی مشکل فیصلوں سے پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور ہوئے تھے ۔پاکستانی عوام خادم پاکستان کی سابقہ دور حکومت کی مشکل فیصلوں سے پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور ہوئے تھے ۔اب خادم پاکستان کے فیصلوں سے ایسا محسوس ہو رہا ہے شاید کے وہ ملک کو شہر خاموشاں میں تبدیل کرنے کا نیا منصوبہ لے کر اقتدار میں آئی ہے ۔اب خادم پاکستان کو اس بد قسمت قوم پر رخم فرما کر کڑوا گھونٹ پہلے خود پینا چائیے ۔بقایا اپنی مشیروں ،وزیروں اور ارکان پارلیمنٹ اور اشرفیہ طبقے کو پلانا چاہئیے۔اگر ممکن ہو سکے تو چند گھونٹ ججیز اور جنرل صاحباں کو بھی پلائے ۔

اشرفیہ طبقہ کڑوی گھونٹ پینا کا عادی تو نہیں وہ با آسانی کڑوی گھونٹ پینے پر آمادہ نہیں ہونگے ۔لہذا خادم پاکستان کو شاہی فرمان جاری کر کے اشرفیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو زبردستی کڑوی گھونٹ پلانا چائیے ۔اگر خادم پاکستان اشرفیہ طبقے کو کڑوی گھونٹ پلانے میں کامیاب ہوئے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اشرفیہ طبقے کو کڑوی گھونٹ پلانے کا اعزاز حاصل ہو جائے گا ۔

برسوں سے کڑوی گھونٹ پینے کی وجہ سے اب عوام کی لہجے میں تلخی کے اثرات بڑھ رہی ہے ۔جب زبان میں تلخی آتی ہے تو تلخ کلامی شروغ ہوتی ہے ۔تلخ کلامی کے اختتام پر لڑائی جھگڑے کا آغاز ہوتا ہے ۔لڑائی جھگڑے میں خون بہنے لگتے ہیں اور لاشیں گرنے لگتی ہے۔لہذا حکمرانوں کو مذید تلخ اور مشکل فیصلے کرنے سے پہلے ان فیصلوں کے انجام پر غور کرنا چاہیے ۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
88471