Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپر چترال؛ رفیق علی قتل کیس میں ملزم نے اقرار جرم کر لیا۔ ملزم جیل منتقل ، ڈی پی او اپر چترال 

شیئر کریں:

اپر چترال؛ رفیق علی قتل کیس میں ملزم نے اقرار جرم کر لیا۔ ملزم جیل منتقل ، ڈی پی او اپر چترال کی میڈیا بریفنگ

اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) 20 اور21 اپریل کے درمیانی شب ریشن اپر چترال سے تعلق رکھنے والا نوجوان رفیق علی کی لاش ریشن کوڑوم شوغور کے مقام سے ملی تھی۔ ابتدا میں اسے حادثاتی موت قرار دینے کی کوشش کی گئی لیکن اپر چترال پولیس کیس کو باریک بینی اور جدید خطوط پر تفتیش کے عمل کو اگے بڑھایا اور انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔کیس میں اہم پیش رفت پر آج ڈی پی او آفس اپر چترال میں ڈی پی او اپر چترال محمد عتیق شاہ نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 21 اپریل کو پولیس اپر چترال کو اطلاع ملی کہ ریشن کوڑوم شوغور کے مقام پر نوجوان کی لاش پڑی ہے۔ ابتدا میں موٹر سائکل پر ایکسڈنٹ کی وجہ سے رفیق علی کی موت وقوع پذیر ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا اور حادثہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔لیکن اپر چترال پولیس کیس کی حساسیت کے پیش نظرحقیقت تک پہنچنے کے لیے جدید طریقہ کار اور پیشہ ورانہ مہارت سے کام لیتے ہوئے مختلف زاویے سے تحقیقات شروع کی اس کے نتیجے میں رفیق علی کی موت حادثاتی نہیں بلکہ قتل ثابت ہوئی۔

اس طرح 25 اپریل کو مقتول کے بھائی محمد علی کے مدعیت میں زیر دفعہ 302 اکرام نواز ولد گل نواز ساکنہ ریشن گول کے خلاف ایف آئی آر چاک کرکے ملزم کوگرفتار کرکے مزید تفتیش شروع کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ ایس پی انوسٹی گیشین اجمل خان،ایس ڈی پی او مستوج سید مولائی شاہ اور تفتیشی آفیسر ایس ایچ او بونی خلیل الرحمٰن نے بھر پور محنت اور جدید تیکنکی اوصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ملزم سے اقرار جرم کرانے میں کامیاب ہوئے کہ قتل انہوں نے کی ہے۔

دوران تفتیش وجہ قتل بتاتے ہوئے ملزم اکرام نواز نے بتایا کہ رفیق علی سے دوستی تھی اکھٹے بیٹھتے اور سگریٹ پیتے تھے۔وقوعہ کی رات دوران گفتگو رفیق علی کی ایک بات مجھے بہت ناگوار گزری تو بھاری پتھر ان کے سر پہ مارا جو شہ رگ پر لگی۔جس سے رفیق علی کی موت واقع ہوئی۔اور حادثاتی رنگ دینے کی نیت سے لاش کو کچھ فاصلے تک گھسیٹا۔

 

ڈی پی او نے مزید بتایا کہ پولیس ملزم کے خلاف تمام شواہد اکھٹے کیے ہیں اور اس طرح اپر چترال پولیس ایک اندھا کیس سراغ لگانے میں کامیاب ہو ئی ،ایک سوال کے جواب میں کہ اس کیس کی نوعیت کیسی ہے اور قانوناً کتنا مضبوط ہے ڈی پی او نے بتایا کہ پولیس کے پاس تمام شواہد موجود ہیں اور ملزم کے رشتہ داروں کی گواہی بھی قلم بند کی گئی جو کیس کو مضبوط بنانے کے لیے کافی ہیں۔ملزم وردات کے بعد وردات کے بارے رشتہ داروں کو بتا دیا تھا کہ ان سے خطائی ہوئی ہے ان کی گواہی قلم بند ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مزید تفتیش اور شواہد اکھٹے کرنے کا سلسلہ جاری ہے اپر چترال پولیس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیگی۔ ملزم کو جوڈیشل حوالات پر لوئر چترال جیل بھیجدیا گیا۔

یادرہے کہ رفیق علی پشاور کے سیکاس یونیورسٹی میں ارکیٹیکچر انجینئرنگ میں فائنل کا طالب علم تھا جو عید کی چھٹی پر گھرآیا تھا کہ اس دوران یہ وقوعہ رونما ہوا ۔

chitraltimes rafiq reshun file photoRafiq Ali File photo


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
88131