Chitral Times

May 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کون کھڑا ہے۔۔؟ – تحریر: انوار الحق 

Posted on
شیئر کریں:

کون کھڑا ہے۔۔؟ – تحریر: انوار الحق

آج سے تقریباً دو مہینے پہلے چترال اور ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے۔الیکشن سے پہلے بھی ہر زبان پر زد عام صرف ایک نام تھا اور الیکشن کے بعد بھی ہر جگہ پر ذکر صرف ایک نام کا ہوتا ہے اور وہ نام ہے “سینیٹر محمد طلحہ محمود”۔ان تمام حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ اس پر ایک کالم لکھی جائے۔

پورے ملک کی طرح چترال میں بھی سیاسی ہوائیں گرم رہیں۔چترال کی سیاست ایک دم تبدیل ہوئی جب سینٹر طلحہ محمود صاحب نے چترال کے قومی نشست پر انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔سینٹر صاحب کی چترال کی سیاست میں اس انٹری کو دیکھ کر چترال کی عوام میں مختلف قسم کے جذبات اور احساسات پائے گئے۔ ان تمام قسم کے خیالات میں سے سب سے مشہور اور ہر زبان پہ زد عام یہ بات تھی کہ سینٹر طلحہ محمود صاحب چترال کے باسی نہیں ہیں۔ ان کا تعلق چترال سے نہیں ہے۔وہ کبھی بھی چترال کے ساتھ وفا نہیں کریں گے۔ وہ جیسے ہی الیکشن جیتیں گے چترال کو خیرباد کہہ کر ہمیشہ کے لیے چلے جائیں گے۔یہ تمام تاثرات ایک بنائے گئے پروپیگنڈے کے تحت چترال میں چلائی گئی۔کیونکہ خدشہ یہ تھا کہ اگر سینٹر صاحب چترال کی نشست سے انتخابات جیت جاتے تو پھر چترال میں جتنے بھی بڑے رہنما ہیں ان سب کی سیاست خطرے میں پڑ جاتی۔اس لیے سوچی سمجھی سازش کے تحت چترال کی تمام سیاسی قیادت نے اس بیانیے کو خوب پھیلایا، لیکن آج ہم اس بات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس بیانیہ میں کوئی صداقت تھی یا پھر چترال کے عوام کو وفا اور غیرت کے نام پر بے وقوف بنایا گیا۔

 

سینٹر محمد طلحہ محمود صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ چاہے وہ الیکشن جیت جائیں یا ہار جائیں چترال کی تعمیر و ترقی میں وہ اپنا حصہ ڈالیں گے۔8 فروری کے الیکشن کے بعد طلحہ صاحب نے اپنے کیے ہوئے وعدوں کی پاسداری رکھتے ہوئے حقیقت میں چترال کو ایک فلاحی علاقہ بنانے کے لیے اپنی کوششیں شروع کی۔سینٹر صاحب پوری دنیا میں انسانیت کی خدمت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اس لیے انہوں نے فوراً چترال میں انسانیت کی خدمت شروع کی۔چترال کے تمام سیاسی نمائندوں کے بیانیہ کو غلط ثابت کرتے ہوئے اور بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلحہ صاحب نے چترال کی غریب عوام کی ہر ممکن خدمت کرنے کی ٹھان لی۔دو مہینے کے قلیل مدت میں سینٹر صاحب کی کچھ خدمات کے بارے میں اپ کو آگاہ کرنا چاہوں گا۔

 

1:سب سے پہلے طلحہ صاحب نے چترال میں اپنے فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا جس سے چترال کے سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار ملا۔
2:دو مہینے کے اندر ہزاروں خاندانوں میں کسی بھی تفریق کو نظر انداز کرتے ہوئے فوڈ پیکج تقسیم کیے گئے۔
3:رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں افطار دسترخوان کا انعقاد کیا گیا، جس میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ روزہ افطار کرتے تھے۔
4:حالیہ خراب موسم میں چترال کے دور دراز علاقوں جیسے بروغل کے علاقے میں گھروں میں محصور ہوئے لوگوں تک تمام مشکلات کے باوجود راشن پہنچائی گئیں۔
5:شدید برف باری کی وجہ سے جن لوگوں کے گھر مسمار ہو گئے تھے ان کی مالی مدد کی گئی جب کہ ہمارے چترال کے نمائندے اپنے رشتہ داروں کے اوپر مہربان ہوتے ہوئے دکھائی دیے۔
5:چترال کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو پینے کے لیے صاف پانی مہیا کی گئی،کچھ علاقوں میں دریا کے بہاؤ کی وجہ سے زمینوں کی کٹوتی کا خطرہ تھا وہاں پر بند بنائے گئے۔
6:شندور سے لے کر مستوج تک روڈ سے برف ہٹا کر روڈ کو عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

 

یاد رہے کہ یہ تمام کام دو مہینے کے انتہائی قلیل مدت اور کوئی بھی عہدہ نہ ہونے کے باوجود اپنے ذاتی کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اب دوسری طرف ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے جیتے ہوئے نمائندے پشاور میں سردی گزار کر واپس آتے ہیں اور ان کا خوب استقبال کیا جاتا ہے۔یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سینٹر صاحب انتخابات ہارنے کے باوجود یہ سب کام کر رہے ہیں جبکہ ہمارے دوسرے نمائندے جو کہ الیکشن ہار چکے ہیں ان کا نام و نشان بھی ہمیں نظر نہیں آرہا۔چترال کے اس مشکل وقت میں بھی ہم نے اپنے تمام نمائندوں میں سے کسی کو بھی چترال کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوا نہیں پایا۔اب میں اس سوال کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں کہ کون حقیقت میں بھاگا؟ اور کون چترال کی عوام کے ساتھ کھڑا رہا؟ کیا ہمیں وفا اور غیرت کے نام پر بے وقوف بنایا گیا؟

جواب اپ کمنٹس میں دے سکتے ہیں۔

شکریہ


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
87409