Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گروہ بندی – از کلثوم رضا

شیئر کریں:

گروہ بندی – از کلثوم رضا

 

اپنا خاندان ،اپنی برادری اور اپنی قومیت میری طرح تقریباً سبھی کو عزیز ہوتے ہیں۔۔۔ ہونے بھی چاہییں کیونکہ طرز تکلم سے لیکر رہن سہن تک ایک دوسرے سے مطابقت جو رکھتے ہیں لیکن ایسی بھی کیا کہ کسی دوسری برادری کا ایک شریف انسان بھی اپنی برادری کے ادنیٰ اخلاق والے کے آگے کمتر لگے ۔۔ حالانکہ الله تعالیٰ نے تو تقویٰ کی بنیاد پر انسان کی پرکھ کو ترجیح دی ہے۔ اور ہم نے یکسر الگ انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ امیروں کے ٹولے الگ، غریبوں کے الگ۔ قبیلے والوں کے الگ ،ہم زبانوں کے الگ۔۔۔۔
میرے نبی کا فرمان ہے کہ “مسلمان مسلمان کا بھائی ہے”۔ اسے بھی نظر انداز کر کے ہم لوگوں کو ذات سے دیکھنے لگے ہیں۔ اس پر غور کریں تو ذات کے حساب سے بھی سبھی آدم زاد ہی تو ہیں جو چیز لوگوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کا اخلاق ہے ۔اس کا تقویٰ ہے ۔۔

 

الله تعالیٰ اپنے قرآن مجید میں اس گروہ بندی کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں کہ

و یوم تقوم الساعتہ یومئذ یتفرقون۔
جس روز وہ ساعت برپا ہو گی اس دن (سب انسان) الگ الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے۔۔
(سورہ الروم ایت نمبر 14)

 

اور اس کی تفسیر مولانا مودودی رحمہ الله علیہ نے تفہیم القرآن جلد نمبر سوم اور صحفہ نمبر 738 میں یوں بیان کی ہے کہ۔۔

“یعنی دنیا کی وہ تمام گروہ بندیاں جو آج قوم ،نسل، وطن، زبان، قبیلہ اور برادری ،اور معاشی اور سیاسی مفادات کی بنیاد پر بنی ہوئی ہیں ،اس روز ٹوٹ جائیں گی، اور خالص عقیدے اور اخلاق کی بنیاد پر نئے سرے سےایک دوسری گروہ بندی ہوگی۔ ایک طرف نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی قوموں میں سے مومن و صالح انسان الگ چھانٹ لیے جائیں گے اور ان سب کا ایک گروہ ہو گا۔ دوسری طرف ایک ایک قسم کے گمراہانہ نظریات و عقائد رکھنے والے ،اور ایک قسم کے جرائم پیشہ لوگ اس عظیم الشان انسانی بھیڑ میں سے چھانٹ چھانٹ کر الگ نکال لیے جائیں گے اور ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے دوسرے الفاظ میں یوں سمجھنا چاہیے کہ اسلام جس چیز کو اس دنیا میں تفریق اور اجتماع کی حقیقی بنیاد قرار دیتا ہے اور جسے جاہلیت کے پرستار یہاں ماننے سے انکار کرتے ہیں ، آخرت میں اسی بنیاد پر تفریق بھی ہوگی اور اجتماع بھی۔

اسلام کہتا ہے کہ انسانوں کو کاٹنے اور جوڑنے والی اصل چیز عقیدہ اور اخلاق ہے۔ایمان لانے والے اور خدائی ہدایت پر نظام زندگی کی بنیاد رکھنے والے ایک امت ہیں ،خواہ وہ دنیا کے کسی گوشے سے تعلق رکھتے ہوں، اور کفر و فسق کی راہ اختیار کرنے والے ایک دوسری امت ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی نسل و وطن سے ہو۔ ان دونوں کی قومیت ایک نہیں ہو سکتی۔ یہ نہ دنیا میں ایک مشترک راہ زندگی بنا کر ایک ساتھ چل سکتے ہیں اور نہ آخرت میں ان کا انجام ایک ہو سکتا ہے۔ دنیا سے آخرت تک ان کی راہ اور منزل ایک دوسرے سے الگ ہے۔ جاہلیت کے پرستار اس کے برعکس ہر زمانے میں اصرار کرتے رہے ہیں اور آج اس بات پر مصر ہیں کہ گروہ بندی نسل اور وطن اور زبان کی بنیادوں پر ہونی چاہیے ،ان بنیادوں کے لحاظ سے جو لوگ مشترک ہوں ،انہیں بلا لحاظ مذہب و عقیدہ ایک قوم بن کر دوسری ایسی ہی قوموں کے مقابلے میں متحد ہونا چاہیے۔ اور اس قومیت کا ایک ایسا نظام زندگی ہونا چاہیے جس میں توحید اور شرک اور دہریت کے معتقدین سب ایک ساتھ مل کر چل سکیں ۔یہی تخیل ابو جہل اور ابو لہب اور سردارانِ قریش کا تھا، جب وہ بار بار محمد صلی الله علیہ وسلم پر الزام رکھتے تھے کہ اس شخص نے آ کر ہماری قوم میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ اسی پر قرآن مجید یہاں متنبہ کر رہا ہے کہ تمہاری یہ تمام جتھ بندیاں جو تم نے اس دنیا میں غلط بنیادوں پر کر رکھی ہیں آخر کار ٹوٹ جانے والی ہیں اور نوع انسانی میں مستقل تفریق اسی عقیدے اور نظریہِ حیات اور اخلاق وکردار پر ہونے والی ہے۔۔ جس پر اسلام دنیا کی اس زندگی میں کرنا چاہتا ہے۔ جن لوگوں کی منزل ایک نہیں ہے، ان کی راہ زندگی آخر کیسے ایک ہو سکتی ہے”؟
تو کیوں نہ ہم اپنے ہم ذات ، ہم نسل اور ہم منصب کے بجائے ہم خیال اور ہم عقیدوں کو ترجیح دیں تاکہ منزل تک پہنچنے کے لیے آسانی رہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
87194