Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

“مجاہدہ اور رمضان ” – از کلثوم رضا

شیئر کریں:

“مجاہدہ اور رمضان ” – از کلثوم رضا

 

ایک جہاد جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے ۔۔رمضان کا مہینہ تھا۔۔۔بھوک اور پیاس اہل ایمان کے جذبہ جہاد کو کمزور نہ کر سکے اور صرف 313 مجاہدین ہزاروں کی تعداد کے خلاف نکل پڑے اور غالب رہے۔۔۔

 

ایک جہاد جو ابھی چل رہا ہے غزہ میں۔۔۔ جہاں اہل غزہ 57 اسلامی ممالک کی خاموشی کے سائے میں 313 کے لشکر کی مانند تن تنہا بے سازو سامان روزے کی حالتوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے ایمان کی آزمائش پر پورا اترتے ہوئے جوق در جوق جنتوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔۔۔بعید نہیں اس لشکر کو بھی اللہ تعالیٰ 313 کی مانند فاتح قرار دے دیں۔۔۔

 

اور ایک جہاد جس کی طرف کل جامعہ میں درس قران کے بعد شرکاء میں سےایک بہن نے وقت مانگ کر چند سوالات شرکاء کے سامنے رکھ کر دلا دی۔۔کہ ہمارے رمضان کے پندرہ روزے مکمل ہوئے ۔ہم نے اپنی نمازوں کی بھی پابندی کی، درس قران کی کلاس سے بھی غیر حاضر نہیں ریے لیکن کیا اس کے ساتھ ہم نے اپنے روزوں کی حفاظت اس طرح کی جو اس کا حق یے؟
کیا ہم نے اپنی سوچوں،اپنی زبان ،اپنے ہاتھوں ،اپنے پیروں اور آنکھوں کو بھی روزے سے رکھا؟ یا ایسے ہی فاقے سے اپنے دن گزار رہے ہیں۔۔؟

سوالات بڑے دلچسپ اور غور طلب تھے۔۔۔

ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ میں کوئی عالمہ،حافظہ یا مدرسہ نہیں ایک ان پڑھ خاتون ہوں ،صرف سات پارہ ناظرہ پڑھا ہے۔۔ یہ اس محفل کی برکت ہے کہ مجھے سوچنا پڑا کہ شیطان ہمیں نفس کے تابع رہنے پر آمادہ کرتا ہے ۔ہمیں اس کے خلاف جہاد کرنا ہے۔۔ تبھی ہم اپنے روزوں کی حفاظت کر سکیں گے،اور رمضان کی برکات سمیٹیں گے۔

 

یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ شرکاء صرف سننے کی نہیں غور و فکر اور عمل کرنے کے لیے بھی جدو جہد کر رہی ہیں ۔۔۔اور یہ جدو جہد یقیناً ان ہی کے بھلے کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
ومن جاھد فانما یجاھد لنفسه ان الله لغنی عن العالمین ۔
ترجمہ: جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا،اللہ تعالیٰ یقیناً دنیا جہاں والوں سے بے نیاز ہے۔
(سورہ العنکبوت ایت نمبر 6)

 

“مجاہدہ” کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلے میں کشمکشِ اور جدوجہد کرنے کے ہیں۔اور کسی خاص مخالف طاقت کی نشاندہی کیے بغیر اس کے معنی ہمہ گیر اور کل جہتی کشمکش ہے۔ مومن کی اس کشمکش کی نوعیت اس دنیا میں یہی ہے کہ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر وقت نیکی کے نقصانات سے ڈراتا اور بدی کے فائدوں اور لذتوں کی لالچ دلاتا رہتا ہے۔اور اسے اپنے نفس سے بھی لڑنا پڑتا ہے جو اسے اپنی خواہشات کی پیروی پر اکساتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ اپنے گھر سے لیکر آفاق تک کے تمام انسانوں سے بھی لڑنا پڑتا ہے جن کے نظریات ،رجحانات ،اصول اخلاق ،رسم ورواج،طرز تمدن،اور قوانین معیشت و معاشرت دین حق سے ٹکراتے ہوں۔اور ہاں اس ریاست سے بھی لڑنا پڑتا ہے جو خدا کی فرمانبرداری کے بجائے ملک میں اپنا فرمان چلائے ۔اپنی طاقت نیکی کے بجائے بدی کی فروغ میں استعمال کرے۔۔۔یہ “مجاہدہ” اسے ایک دو دن نہیں عمر بھر یعنی دن کے چوبیس گھنٹوں میں ہر لمحے ہے ۔اور کسی ایک میدان میں نہیں زندگی کے ہر پہلو میں ہر محاذ پر کرنا ہے۔اس کے متعلق حضرت حسن بصری رح کا قول مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ تفہیم القرآن میں کہتے ہیں کہ ان الرجل لیجاھد وما ضرب یوما من الدھر بسیف۔
“ادمی جہاد کرتا ہے خواہ کبھی ایک دفعہ بھی وہ تلوار نہ چلائے۔”

 

اس مجاہدے کا مطالبہ اللہ تعالیٰ انسان سے اس لیے نہیں چاہتا کہ انھیں اپنی خدائی قائم کرنے اور رکھنے کے لیے اسے اس کی مدد کی ضرورت ہے بلکہ یہی کشمکش اور جدوجہد انسان ہی کے لیے ترقی کا راستہ ہے ۔اسی ذریعے سے یہ بدی اور گمراہی کے چکر سے نکل کر نیکی اور صداقت کی راہ پر بڑھ سکتا ہے۔اسی سے انسان میں یہ طاقت پیدا ہو سکتی ہے کہ دنیا میں خیر و صلاح کے علم بردار اور آخرت میں جنت کے حق دار بن سکیں ۔یہ لڑائی لڑ کر انسان اللہ پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے۔#


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
86921