Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان میں سیاسی و سماجی آلودگیاں – خاطرات :امیرجان حقانی

Posted on
شیئر کریں:

گلگت بلتستان میں سیاسی و سماجی آلودگیاں – خاطرات :امیرجان حقانی

 

گلگت بلتستان سیاسی و سماجی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے بلکہ آلودگیوں سے برباد ہورہا ہے. ایک طویل عرصہ مکمل پلان کے تحت گلگت بلتستان کو سماجی تبدیلیوں کا ھدف بنایا گیا. اعتدال پسند معاشرہ اور علاقوں کو انتہائی متشدد پسند بنایا گیا. رواداری کی جگہ بربادی اور بد تمیزی نے لی. مذہبی عصبیتوں نے جنم لیا یہاں تک پورا سماج جتھوں میں بٹ گیا بلکہ سماج کے مختلف گروہ عسکری ٹولے بننے لگے اور پے در پے خطرناک خونی حادثات و واقعات ہونے لگے. مذہبی تشدد عام ہوا.مذہبی گالم گلوچ نے جنم لیا جس کو بدقسمتی سے مذہب اور عقیدہ بھی سمجھ لیا گیا. دیہاتی آبادیاں شہروں میں منتقل ہونے لگی، بہرحال سماج کئی عصبیتوں اور بے اعتدالیوں کا شکار رہا.یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے.

 

ایسے میں 2009 کا گلگت بلتستان گورننس اینڈ امپاورمنٹ آرڈر آیا اور سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا بھی فعال ہوا. وفاقی اور صوبائی جماعتیں اور ان کے لیڈر و کارکنان کھمبیوں کی طرح اُگ آئے اور پھر سیاسی تبدیلیوں نے آلیا. کاش یہ سیاسی تبدیلیاں شعوری ہوتیں . ایسا نہیں ہوسکا. منتخب حکومتیں ہچکولے کھاتی ہوئی آگے بڑھیں مگر سیاسی جماعتوں، کارکنان اور لیڈروں نے سیاسی اختلاف کو گالی اور بدتمیزی میں بدل دیا. اس میں کوئی تمیز باقی نہیں رہی کہ سینیر جونیئر کارکنان و سیاستدان اور ان کے چیلے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں اپنی ہفوات سے سیاسی آلودگیوں کو مزید بڑھاوا دینے لگے. علاقائی اور سیاسی روایت دم توڑنے لگیں.

اسمبلی ہو یا پریس کلب، بازار ہو یا عمومی گیدرنگ، ہر جگہ ان سیاسی بھونوں نے “دھواں دھواں” مچا رکھا ہے. کوئی سلیم الطبع شخص ان کی گفتگو نہیں سن سکتا. چند جملے پڑھنے یا سننے کے بعد طبیعت اچاٹ ہوجاتی ہے.

 

پہلے کیا کم تھا کہ سماجی اور مذہبی بے اعتدالیوں نے ہم سب کو گھیرے میں ڈال رکھا تھا، زندگی اجیرن بنا دی تھی، نوگوایریاز تھے، اور نوجوان برباد ہوا تھا. اب سیاسی بدتمیزیوں نے مزید ماحول کو آلودہ کیا اور نوجوانوں بدتمیزی کی توپ بن کر رہ گیا ہے. اسی بے اعتدال اور فرسٹریشن سے مملو نوجوان نے کل زمام اقتدار سنبھالنا ہے.

 

کوئی دکھتا نہیں جو سماجی و سیاسی شعور و اصلاح کی طرف قدم بڑھائے اور سماجی کی بہتر بنت کرے اور سیاسی تشدد کے بجائے سیاسی شعور و برداشت کا کلچر پیدا کرے . پتہ نہیں ان آلودگیوں کا نتیجہ کیا ہوگا.


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
86834