Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوادرات رمضان ( بیٹیاں) – خاطرات :امیرجان حقانی

Posted on
شیئر کریں:

نوادرات رمضان ( بیٹیاں) – خاطرات :امیرجان حقانی

 

قاری نوشاد عالم میرے کزن ہیں اور بہنوئی بھی. ان کے ہاں 14 مارچ بروز جمعرات 3 رمضان المبارک کو بیٹا پیدا ہوا. اس کا نام محمد عامر رکھا گیا ہے.

17 مارچ بروز اتوار 6 رمضان المبارک کو اللہ تعالٰی نے راقم کو بیٹی عطا فرمائی. بیٹی کا نام اس کے بھائی عمر علی حقانی نے لبابہ حقانی رکھا ہے. میری دو بیٹیاں پہلے سے ہیں. وہ دونوں بھی رمضان المبارک میں پیدا ہوئی ہیں. سچ یہ ہے کہ مجھ پر بیٹیوں کی شکل میں رمضان میں رحمتیں نازل ہوتی ہیں. یہی نوادرات رمضان ہیں.

اب زندگی کا مشن یہی ہے کہ ان بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کا خوب انتظام کروں اور جنت کا حقدار ٹھہروں.

میرے حبیب صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد کیا ہے:
مَنْ کُنَّ لَه ثَلَاثُ بَنَاتٍ اَوْ ثَلَاثُ أخَوَاتٍ، أوْ بِنْتَانِ، أو أخْتَانِِ اِتَّقَی اللّٰہَ فِیْھِنَّ، وَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ حَتّٰی یُبِنَّ أوْ یَمُتْنَ کُنَّ لَه حِجَابًا مِنَ النَّارِ
(مسند أحمد: 9043 بسند صحیح )

جس کی تین بیٹیاں،یا تین بہنیں،یا دو بیٹیاں،یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان کے ساتھ احسان کرے، یہاں تک کہ وہ اس سے جدا ہو جائیں یا فوت ہو جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی۔

 

ایک اور حدیث میں ارشاد ہے.

اللہ کے رسول صل اللہ علیہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “جس شخص نے اپنی دو بیٹیوں کی پرورش اچھے طریقے سے کی یہاں تک کہ ان کو بالغ کر دیا تو میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح کھڑے ھونگے ، آپ ؑ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی ملا کر دکھائی”۔ ( مسلم شریف )

میری پہلی بیٹی وجیہہ حقانی پیدا ہوئی تو یہی جذبات تھے. دوسری بیٹی علینہ حقانی پیدا ہوئی تب بھی یہی جذبات تھے. تیسری بیٹی لبابہ حقانی کی پیدائش پر بھی یہی جذبات ہیں.
اگر اللہ مجھے درجنوں بیٹیاں دیں تو بھی میرے یہی جذبات ہونگے. ان شا اللہ

 

میں آپ سے صرف یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ
بیٹی اللہ کی رحمت ہے اور جہنم کی آگ سے نجات ہے.

آئیے! اپنے آپ سے وعدہ کیجئے لڑکی کی پیدائش پر کبھی غم اور افسوس کا اظہار نہیں کریں گے بلکہ اس کے پورے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کریں گے۔ اور رسول اللہ کی طرح بہترین تربیت کریں گے.

 

آج ہمیں اپنی بے ہودہ سوچ بدلنی ہوگی۔ تبھی ہم اپنے سماج میں بہترین تبدیلی لا سکتے ہیں اور بیٹیوں کے متعلق پائے جانے والی اوہام کا خاتمہ کرسکتے ہیں.
بیٹیاں خدا کی رحمت ہوتی ہیں ہے اور والدین کی عزت اور بھرم بھی. خصوصاً باپ کے لئے محبت و دعا کا سبب بھی.

 

اس پیغام کو سمجھانے کی، پہنچانے کی اور منوانے کی کوشش کرنی چاہیے.
تبھی صحیح معنوں میں بیٹیوں کو ان کا مقام ملے گا. اگر یہ بیٹیاں نہ ہوں تو اس کائنات کا رنگ و بو ہی بے کار. سچ یہ ہے کہ ان بیٹیوں کے دم سے ہے کائنات میں رنگ. انہیں کی مرہون منت خوشیاں ہیں. لطافتیں ہیں اور ابدی دنیا میں کامرانی ہی کامرانی.

اللہ سے دعا ہے کہ بھانجا اور بیٹی دونوں سلامت رہیں اور والدین کے لیے آنکھوں کا نور بنیں. آمین


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
86756