Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوروز کے بارے میں اسلام کی نظر اور اس کی حقیقت،ایک تحقیقاتی مطا لعہ : تحریر:علی یارخان چترالی

Posted on
شیئر کریں:

نوروز کے بارے میں اسلام کی نظر اور اس کی حقیقت،ایک تحقیقاتی مطا لعہ : تحریر:علی یارخان چترالی

کیا نوروز کا تعلق کسی ایک مکتب فکر سے ھے؟ سب سے اہم سوال یہ ھے کہ کیا واقعاً نوروز کسی ایک مکتب فکر کی عید ھے یا نہیں؟

آج کل جس تہوار کو نوروز کے نام سے منایاجاتا ھے اگرچہ کہ اس کا آغاز ایرانی قدیم مذہب سے تعلق رکھتا ھے لیکن اس زمانے میں اسکو بہار کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ھے نہ کسی مذہبی عید کے طور پر اور نہ ہی کوٸی ایسے خلاف شریعت امور اس خوشی میں دیکھنے میں ملتے ہیں جس کے خلاف کوٸی شرعی ایونٹ میں ملی دلیل ھو۔
یہ مقالہ اس مقصد سے پیش کیا جارہا ھے تاکہ عوام و خواص کو اس دن کے بارے میں علمی معلومات دلاٸل اور تاریخی شواہد کی روشنی میں فراہم کی جاسکے۔

ایران میں اس عید کو ملی تہوار اور زمین کا سورج کے گرد چکر مکمل ھونے پر بہار کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ھے، اور عید طبیعت سمجھا جاتا ھے جن میں تمام مکاتب فکر شامل نظر آتے ہیں، طبیعت میں آنے والی تبدیلی کو اگر دیکھا جاۓ تو بہار انسان کے مزاج میں خوشی کی کیفیت لاتی ھے، ہر شی تروتازہ اور ہری بھری ھوجاتی ھے، بلبلوں کا چہچہانا بہار کی آمد کی خبر دیتا ھے، پس انسانی فطرت میں خوشی کی لہر کا اظہار نوروز ھے۔

 

ہمدرد یونیورسٹی کے استاد محترم امامی فر صاحب نے ایک محقق کے عنوان سے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی ھے ہم انکی فرسی تحریر کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررھے ہیں امید ھے یہ مقالا قرٸین کی معلومات میں اضافہ اور حقیقی مطلب تک پہنچنے کے لیٸے مفید ھوگا۔
سب سے پہلے ہم اس پہلو پر گفتگو کرتے ہیں کہ خود عید کے بارے میں اسلام کانظریہ کیا ھے؟

 

ہم ایک عام قانون کی طرف اشارہ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ہر قوم اور ملت کسی اہم واقعہ یا حادثہ جو انکے لیٸیاہمیت کا حامل ھو بعنوان آغاز سال قرار دیتے ہیں، بعنوان مثال عیسائی حضرت عیسی ؑ کی پیدائش کے دن کو سال کا آغاز قرار دیتے ہیں، اور اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اوراس کو مسلمان ہجرت پیامبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو آغاز اسلامی سال قرار دیتے ہیں، ایرانی اس آغاز کو ثقافتی دن سمجھ کر مناتے ہیں اور یہ دن فقط ایران تک محدود نہیں بلکہ فارسی زبان جہاں جہاں بولی جاتی ھے وہاں اس کے اثرات زیادہ واضح نظر آنے کے طور پر مناتے ہیں جیسے تاجیکستان، افغانستان، آزرباٸیجان، ہندوستان اور پاکستان کے بعض لوگ اس کو مشہور تاریخ دان یعقوبی رقم فرماتے ہیں۔

 

اسی طرح ایک دوسری روایات میں آیا ھے کہ امام جعفرصادقؓ سے نوروز کے دن تحفے لینے کے بارے میں سوال کیا گیا ، امام نے سوال کیا کہ کیا تحفہ دینے والا اور لینے والا دونوں نماز پڑھتے ہیں؟ جواب دیا گیا جی ہاں، امام جعفرصادقؓ نے فرمایا پھر اس میں کوٸی کوٸی حرج، (مشکل) نہیں،اس حدیث سیبھی یہی سمجھآتا ھے کہ امام نوروز کو کوٸی مذہبی حیثیت نہیں دے رھے ہیں بلکہ امام کے نظر میں اہمیت ایمان کی ھے اور اسکی پہچان نماز سے ھوتی ھے۔

 

نوروز کی حقیقت کیا ھے؟
نوروز سے متعلق کئی اقوال تاریخ میں ملتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں ہم اس تحریر کے اختصار کے خاطر صرف ان کے بارے میں اشارے کر رھے ہیں

ایرانی آئین کی کتاب میں یہ زکر ملتا ھے کہ ایرانی بادشاہ بھی اس دن کو متبرک سمجھتے ہیں اور اپنی مسند نشینی کا آغاز بھی اسی دن سے کرتے تھے۔

نوروز کا دن چترال کے اکثر علاقوں میں بہت جوش و خروش سے منایا جاتا ھے اور یہ دن اپنے ساتھ موسم بہار کی خوبصورتی لیکر نمودار ھوتی ھے۔
تمام آہل چترال کو نوروز مبارک۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
86536