Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٹک ٹک دیدم،دم نا کشیدم – از: کلثوم رضا

Posted on
شیئر کریں:

ٹک ٹک دیدم،دم نا کشیدم – از: کلثوم رضا

ایک زمانہ تھا جب اس دل میں اقوام متحدہ کی بڑی قدر تھی کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جہاں کہیں بھی دو ملک آمنے سامنے آجاتے ہیں تو یہی واحد ادارہ ہے جو آڑے آکر جنگ بندی کراتا ہے۔ اب یہ راز کھلا کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، اور دیکھانے کے اور ہوتے ہیں۔

فل۔۔۔س۔۔3 میں سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس۔۔ را۔۔ ئیلی جنگ کو دیکھ کر تو لگتا تھا کہ جلد ہی امن کی فاختائیں جنگ بندی کرائیں گی۔ کیونکہ وہ کسی مسلمان ملک خصوصاً پاکستان میں کہیں کوئی عورت پر ظلم برداشت نہیں کر سکتے تو فل۔۔س۔۔3 میں اتنی جانوں کا ضیاع کیسے کروا سکتے ہیں لہذا جلد ہی یہ جنگ بند ہو جائے گی۔۔کیا پتہ تھا کہ یہ ادارہ ابرہہ وقت (اس۔۔را۔۔ئل) کے آگے کب سے سر خم کر چکا ہے۔ یہی نہیں اس نے بھی طائف کے سرداروں کی طرح اپنے بدرقے (امریکہ،فرانس وغیرہ) بھی اس وقت کے ابرہہ کے ساتھ لگائے ہیں کہ جسے مرضی کچل ڈالیں بس ہماری خیر ہو۔۔۔۔ کیا وہ یہ بھول گئے ہیں کہ یہی بدرقے تھے جنھوں نے یہودیوں پر زمین تنگ کی تھی۔۔

ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا حتیٰ کہ “قبتہ الصخرۃ” (Dome of Rock) کو بھی کچرے کے ڈھیر سے ڈھک دیا تھا۔وہ مسلمانوں کے امیر حضرت عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنہ ہی تھے جنہوں نے بیت المقدس کو فتح کرکے یہودیوں کو شہر میں داخل ہونے کی اور بیت المقدس کی زیارت کی اجازت دی۔

بعد کی صلیبی جنگوں کے بعد بھی عیسائی جب پھر سے بیت المقدس پر قابض ہوگئے تو یہودیوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا بھی قتل عام کیا۔ تب بھی مسلمان سلطان صلاح الدین ایوبی ہی تھے جنہوں نے بیت المقدس پھر سے فتح کرکے انہیں امن بخشا۔ بعد میں سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں بھی یہودی قلیل تعداد میں رہے لیکن عیسائی ظلم و ستم اور ذلت و خواری کی زندگی سے بہتر حالت میں رہے۔۔۔

جب انیسویں صدی میں یورپ اور روس میں یہودیوں کے خلاف عیسائیوں میں شدید نفرت اور مظالم پھر سے ابھرے تو یہ مقہور قوم عسائیوں سے تنگ آکر لاکھوں کی تعداد میں بے سروسامان نقل مکانی کرکے فلسطین آ گئے اور غالباً سلطنت عثمانیہ کے آخری دور میں جب صیہونی تحریک نے زور پکڑا جس کا مقصد یہودیوں کے لیے اپنا ملک قائم کرنا تھا تو اس کے لیے انہوں نے فل۔۔س۔۔3 کو چنا۔یوں بڑی تعداد میں یہودی فل۔۔س۔۔3 آ کر زمینیں خرید کر آباد ہو گئے۔۔۔اور پھر فل۔۔س۔۔طی۔۔نی ابھی تک اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

کس سے ان کی دشمنی تھی بدلہ کس سے لے رہے ہیں۔۔۔ صدیوں پہلے جو شدید نفرت ان کے لیے عیسائیوں کے دل میں تھی اس سے کئی گنا شدید نفرت وہ اپنے محسن فل۔۔س۔۔طی۔نیوں سے کر رہے ہیں۔۔۔ انہیں نیست و نابود کرنے کے لیے کیا کیا مظالم نہیں ڈھائے۔۔

ٹینکوں، میزائلوں سے مارے، جلائے، بھوکے پیاسے رکھے، زندہ گھاڑ دیے اور بلڈوزروں سے کچل ڈالے۔۔ روزانہ ایسی ویڈیوز نظروں کے سامنے سے گزرتی ہیں کہ کہیں بچہ گھاس ایسے کھا رہا ہے جیسے چوکلیٹ،،اور امدادی ٹرکوں سے گرا اٹا دھول سمیت سمیٹ سمیٹ کر جیبوں میں ڈال رہے ہیں،کہیں درختوں کے پتوں کو روٹی کہتے ہوئے شاپر میں ڈال کر لے جا رہے ہیں تو کہیں پیاس کی شدت برداشت سے باہر ہو جانے پر گندا پانی پی رہا ہے۔۔۔ بن ماں باپ کے بے گھر بچے خیموں میں بھرے پانی میں سوئے ہیں تو کہیں کٹ پھٹ جسم بن دوا کے زخموں سے کراہ رہے ہیں۔۔ (انہیں دیکھ کر بھی یہ دل نہیں پھٹا تو واقع میں انسان بڑا ہی ظالم اور سخت ہے) اتنی شدید نفرت یہ اپنے محسنوں سے کر سکتے ہیں تو کیا چیز انہیں اپنے دشمنوں (جنھوں نے انہیں صدیوں پہلے اسی قسم کے ظلم و ستم سے دو چار کیا تھا)سے نہیں کریں گے۔۔۔ تب دیکھیں گےu امن کی فاختائیں اپنا بچاؤ کس طرح کرتی ہیں۔اب ان کے ساتھ 57 اسلامی ملکوں کو بھی شاید سانپ سونگھ گیا ہے جس کی وجہ سے “ٹک ٹک دیدم دم نا کشیدم” کے مصداق بیٹھے ہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
85681