Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکی قند- از; کلثوم رضا

شیئر کریں:

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکی قند- از; کلثوم رضا

 

گزشتہ روز ایک فلاحی تنظیم کی طرف سے منعقدہ ٹریننگ میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے راستے میں انتخابی مہم کے دوران لگائے گئے بینرز اور جھنڈیوں کو دیکھ کر سوچا کہ جس فراخدلی سے ان پر خرچ ہوا ہے وہ پیسہ آیا کہاں سے؟جب کہ ہمارا ملک غریب ، خزانہ خالی، عوام بدحال۔۔۔ مگر سیاست دان اتنے خوشحال کیسے؟ چوراہوں پر لٹکائے جھنڈیوں کی کثرت ان کےجیبوں کی مضبوطی کا ثبوت تھے۔۔۔

سوچوں کا سلسلہ تب ٹوٹا جب ساتھیوں میں سے کسی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی دعوت، خدمت، فلاحی اور اصلاحی سبھی کام قابل ستائش ہیں لیکن سیاست میں یہ ناکام ہیں۔۔۔ تو مولانا مودودی رحمتہ الله علیہ کا وہ قول یاد آیا کہ “ناکام جماعت اسلامی نہیں ناکام وہ لوگ ہیں جو اسلامی نظام لانا نہیں چاہتے”۔
ان کا قول بالکل صحیح تھا ۔۔یہی وہ لوگ ہیں جو اسلام کی صرف بعض احکامات کو مانتے ہیں اور بعض سے کترا کر نکل جانا چاہتے ہیں ۔جن کے لیے قرآن نے صریح لفظوں میں اپنا حکم سنایا ہے کہ

 

ترجمہ؛ کیا تم کتاب الہی کی بعض باتوں کو مانتے ہو اور بعض کو نہیں مانتے، سو ایسا کرنے والوں کی سزا اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف لے جائے جائیں۔”(سورہ بقرہ ایت نمبر 85)

 

جبکہ مسلمان کے لیے قرآن پر ایمان لانے اور مسلم ہونے کا مطلب ہے “اس کے کسی بھی جز کو نہیں چھوڑا جا سکتا ہے”۔
یہاں ہم ان لوگوں کا ذکر نہیں کرتے جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلام کے اعلانیہ باغی اور اس کے اصولوں کے سچائی کے منکر ہیں۔ بلکہ ان کا ذکر کرتے ہیں جو نیکی اور تقویٰ اور ایمان و عمل کے لحاظ سے آگے کی صفوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جو احکام الٰہی سے (جن کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو) وہ غفلت نہیں برتتے ،نماز اور روزوں کی پابندی کرتے ہیں، صدقات اور زکواۃ بھی ادا کرتے ہیں، وظائف کی کثرت کرتے کرواتے ہیں، اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت، بہتان اور بدگوئی سے پاک رکھتے ہیں، کبر و غرور، نمود و ریا، خیانت، ظلم و غضب ،رشوت و حرام اور فتنہ و فساد کے دھبوں سے اپنا دامن بچائے رکھتے ہیں۔ لیکن جب بات اجتماعی احکام و مسائل کی آتی ہے تو اس سے غفلت و بے اعتنائی کا حال بھی وہی ہے جو غیر متقی لوگوں کا ہے۔ (اب کی بار تو اس ٹولے نے اس انفرادی پرہیز گاری کو بھی جوتے کی نوک پر رکھا) کیا اس طبقے نے قرآن کی اس بات کو بالکل فراموش کر دیا تھا کہ قرآن نماز، روزہ ، زکواۃ، حج، دیانت ،امانت ، راست گوئی، اخلاص، وفائے عہد، حسن سلوک اور رزق حلال کی ہدایتوں کے ساتھ ساتھ عبادت کے لائق صرف الله اور آقائی و فرمانروائی کا مستحق صرف الله کو نہیں ٹھہراتا ؟

وہ یہ نہیں کہتا کہ آقا اور سلطان لا الہ الااللہ ہے؟
صرف خدا کی بندگی کرو تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو ۔
خدائی اور فرمانروائی کے ان تمام جھوٹے دعوے داروں کے دعوے تسلیم کرنے سے انکار کر دو۔
ان لوگوں کا کہنا نہ مانو جو الله کے حقوق سے غافل اور اس کی حدود کو توڑنے والے ہیں۔
جب فیصلہ کرو تو احکام الٰہی کے مطابق کرو۔
قوانین الٰہی کو چھوڑ کر ان قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے والا فاسق اور کافر ہے۔
کسی برائی اور ظلم کو پروان چڑھانے میں کسی طرح کا تعاون نہ کرو۔
کفر کے علم برداروں سے لڑو یہاں تک کہ کفر کا علم سرنگوں ہو جائے۔
جو کوئی الله اور اس کے رسول سے لڑے اس سے خدا کی زمین پر رہنے کا حق چھین لو۔
جو چوری کرے اس کا ہاتھ کاٹ دو۔
جو بدکاری کرے اسے سو کوڑوں کی سزا دو۔
جو کسی پاک دامن پر زنا کا تہمت لگائے اس کو اسی (80) درے لگاؤ ۔
جو کوئی کسی کو عمدا قتل کر دے اس کی بھی گردن اڑا دو۔
حوالہ قرآن مجید۔۔(سورہ یوسف :40)(سورہ اعراف:54) (سورہ نحل:36) (سورہ نسا :60) (سورہ مائدہ :44 تا47) (سورہ مائدہ :2) (سورہ بقرہ:193) (سورہ مائدہ:33) (سورہ مائدہ:38) (سورہ نور:2)(سورہ نور:4) (سورہ بقرہ:178).
یہ سب احکامات بھی اسی اکلوتے قرآن میں درج ہیں جس میں نماز ،روزوں اور دیگر انفرادی عبادات کے احکامات ہیں۔ کیا کوئی بھی متقی بتا سکتا ہے کہ کیا درج بالا

احکامات پر ہمارے اس مدینہ کی ریاست میں عمل ہو رہا ہے؟
کیا وہی سزائیں ہماری عدالتوں میں دی جاتی ہیں جن کا حکم قرآن دیتا ہے؟
یا میں یہ کہوں کہ بے شک ہمارا معبود اور بادشاہ الله ضرور ہے مگر ہمارے مساجد کی چاردیواریاں اس کی معبودیت اور بادشاہت کی آخری حدیں ہیں۔۔ اور مسجد سے باہر ہمارے آقا ہماری ہی طرح کے مخلوق ہیں؟نعوذ بالله

المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن کے بڑے حصے کو کتابت اور تلاوت کے لیے محدود کر دیا ہے۔ہمارے اندر قرآنی تعلیمات کا سچا فہم اور اسلام کی بصیرت موجود ہے لیکن ہماری نفس کی چالبازیوں نے ہماری روح ایمانی کو تھپکیاں دے کر سلا دی ہے۔ ہم قرآن کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو اہل کتاب نے تورات اور انجیل کے ساتھ کیا تھا ۔اس کے لفظوں کی ضمانت اگر خدا نے خود نہ لی ہوتی تو اس کے لفظوں کا ردوبدل اور عبارتوں کی کانٹ چھانٹ بھی ہم متقیوں کے لیے کوئی مشکل نہ تھا ۔اس کے علاوہ اور کوئی ظلم اور خیانت ایسی نہیں جو ہم نےاس کے ساتھ روا نہیں رکھا ۔

موجودہ رائے دہی سے ہم   نے یہ ثابت کر دیا کہ قرآن کو ہم عملاً اپنانے سے گریز کرتے ہیں۔ عملی طور پر ہم نے اسے پیٹھ پیچھے چھوڑا ہے۔ اور کچھ “اقرار” اور کچھ “انکار”کی روش پر پورے اطمینان کے ساتھ چلے جا رہے ہیں کہ 100مرتبہ سبحان الله کا ورد کرکے جنت میں اپنے لیے محل تعمیر کر چکے ہیں۔ اور “خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا” کا مستحق ہم نہیں ٹھہر سکتے۔#

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
85349