Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوچ بدلیں زوج نہیں – از: کلثوم رضا

Posted on
شیئر کریں:

سوچ بدلیں زوج نہیں – از: کلثوم رضا

الله سبحان وتعالی نے دنیا میں سب سے پہلے جو رشتہ بنایا وہ میاں بیوی کا رشتہ تھا اور باقی سارے رشتے بعد میں بنے۔ اس رشتے کی خوبصورتی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ الله تعالیٰ نے اسے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہا ہے اور کسی رشتے کو یہ نہیں کہا۔ دنیا میں اسی رشتے کی آپس کی محبت ایسی محبت ہے جسے دیکھ کر الله تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور شیطان ناخوش۔ یہ اتنا پیارا رشتہ ہے کہ کتنی بھی دھوپ چھاؤں آئے اس رشتے میں ایک دوسرے کے بغیر گزارا بھی نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہی وہ رشتہ ہے جس سے ان کی نسل آگے بڑھتی ہے۔ نسب معلوم ہوتا ہے۔ خاندان، رشتے، تعلقات بنتے ہیں۔ ایک سماج اور معاشرے کی تعمیر و تشکیل ہوتی ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے فرائض سے با خبر ہو اور ایک دوسرے کے حقوق سمجھیں۔ اسلام دین فطرت اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں جس طرح دوسرے معاملات کے بارے میں ہدایات و راہنمائی ہے اسی طرح اس تعلق کے لیے بھی مکمل ہدایات ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہو کر میاں بیوی اپنی زنگی خوشگوار گزار سکتے ہیں۔ اکثر لوگ ازدواجی راحت و سکون کے حریص تو ہوتے ہیں لیکن قوانین شرعیہ سے غفلت اور خود ساختہ غلط طرز عمل سے طرح طرح کی مشکلات ومصائب کا شکار ہو کر اپنی زندگی برباد کرتے ہیں۔جس سے نا صرف وہ خود بلکہ اہل و عیال اور خاندان کے خاندان برباد ہوتے ہیں۔

آج کل اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور فلاں نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا۔ ایسے میں سب سے پہلی سوچ ان کے بچوں کی طرف جاتی ہے کہ اب ان کا کیا ہو گا۔۔۔ ان کا کیا قصور تھا؟ جو باپ کی شفقت اور ماں کی محبت سے محروم کر دیے گئے حالانکہ اسلام میں اس بات کی اجازت ہے کہ اگر رشتہ نہیں نبھ سکتا ہے تو احسن طریقے سے جس طرح قرآن و سنت میں بتایا گیا ہے میاں بیوی ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ اول تو وجہ طلاق یا خلع کی وہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے طلاق یا خلع جائز ہے۔ دوم یہ کہ احسن طریقے سے علیحدگی تو دور کی بات فریقین ایک دوسرے کے عیوب لوگوں کے سامنے اتنے اچھالتے ہیں کہ الامان ۔حالانکہ وہ زیادہ تر تو صرف تہمتیں ہوتی ہیں اور تہمت کے بارے میں جو وعید قرآن و سنّت سے بیان ہوئی ہیں انہیں دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور انسان اپنے زوج کی حقیقی خامیوں کا ذکر کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔

بڑوں کا کہنا ہے۔ کہ پہلے زمانے میں یہ واقعات بہت کم تھے اس کی وجہ یا تو صبر اور سادگی تھی یا پھر عورت کی لاعلمی بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس وقت بیٹی کو رخصت کرتے وقت گھر کے بزرگ نصیحت فرماتے کہ بیٹی!اب تمہارا جنازہ ہی اس گھر میں آئے گا۔ تو بیٹی سمجھتی تھی کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ سسرال ہی ہے چاہے اسے زندگی بھر پیٹ بھر کی روٹی یا نیا جوڑا ملے نہ ملے اسے وفاداری نبھانی ہے ورنہ لاڈلی سے لاڈلی بیٹی کے لیے بھی واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ ساری کشتیاں جلا کر اپنی خوشی، غمی، احساسات و جذبات سب قربان کر کے اپنے شریک حیات، اس کے خاندان اور بچوں میں گم ہو جاتی تھی۔

لیکن اب چونکہ زمانہ بہت آگے نکل گیا ہے۔بعض لوگ جو دین اسلام کو سمجھتے ہیں عورت کے حقوق ان پر آشکار ہیں۔ اور بعض نے باہر کی دنیا سے مرغوب ہو کر اپنے خاندان کی عورتوں کو جدت کے نام سے آزادی دکھائی۔

آج کے سوشل میڈیائی دور میں یہ خبریں اور بھی جلدی پھیلتی ہیں کہ فلاں فلاں میں جدائی ہوئی تو کومے میں جانے کو دل کرتا ہے۔ یا الٰہی یہ کیا ہوا؟۔۔ جو بہت اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی دونوں کی وہ کیا دکھاوا تھا یا اب بے صبری آگئی ان میں؟دونوں طرف سے سٹیٹس لگتے ہیں ۔۔پوسٹیں شئیر ہوتی ہیں۔۔۔ کہ ہرجائی صرف دوسرا فریق ہے۔۔۔ اتنی انا، اتنی خود پسندی اور غرور پتہ نہیں انسان خود میں کیسے جمع کرسکتا ہے؟ بھئی تھوڑا سا جھک کے اپنے گریباں میں بھی جھانکا جا سکتا ہے کہ یہ چنگاری کہیں یہاں سے میرے آشیانے کو جلانے تو نہیں نکلی؟

بہرحال مرد ہو یا عورت دونوں کو اس معاملے میں اپنا ہی محاسبہ کرنا بہتر ہے۔اگر مرد میں وہ ساری خوبیاں نہیں ہیں جو عورت چاہتی تھی یا اس عورت میں وہ صلاحیتیں نہیں ہیں جو مرد کو درکار تھیں تو دونوں اسے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے خود میں تھوڑی سی تبدیلی لاکر اپنے گھر اور بچوں کو بکھرنے سے بچا سکتے ہیں۔

اس کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ ایک انسان جس کے ایک ٹانگ میں کسی بیماری کی وجہ سے یا پیدائشی کسی نقص کی وجہ سے معذوری ہے تو کیا وہ ایک ٹانگ کے سہارے نہیں چلے گا ،بیٹھا رہے گا؟۔۔۔۔ نہیں ہر گز نہیں وہ اس معذوری کو اپنی کمزوری نہیں بنائے گا بلکہ کچھ ذیادہ طاقت استعمال کر کےچلے گا۔ اسی طرح میاں بیوی کے رشتے میں کوئی خرابی (معذوری ) ا جائے تو “لنگڑا کے بل کھا کے” بھی سفر جاری رکھا جاسکتا ہے ۔یہ رشتہ ہی ایسا ہے کہ ساتھ چلنا پڑتا ہے،مجبوری سے چلو یا محبت سے چلو۔لیکن کتنی اچھی بات ہو گی کسی انا کی دیوار کو درمیان میں حائل کیے بنا محبت کے ساتھ چلا جائے۔اچھے زوج کی سب سے بڑی خوبی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک دوسرے کا لباس کہا ہے وہ ایک دوسرے کے نصف ایمان کو مکمل کرتے ہیں تو انھیں ایک دوسرے کی قدر دل سے کرنی چاہیے ۔۔۔

اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں سب چاہتے ہیں کہ میاں بیوی کے اس رشتے میں کوئی بھی خامی نہ ہو، ہر چیز پرفیکٹ ہو، خوبصورتی، دولت، خاندان، صلاحیتیں سب ایک ہی انسان میں جمع ہو کر بندے کو مل جائیں ۔۔۔تو بھئی یہ جنت تھوڑی ہے ۔۔یہ دنیا ہے یہاں سب کچھ نہیں ملتا۔ یہاں سمجھوتہ کرنا سیکھیں ،حکمت و صبر سے کام لیں۔ اپنے زوج کی خوبیوں کی طرف دیکھیں ان میں سب نہیں تو تین ،چار یا ایک دو ہی سہی ایسی خوبیاں ہونگی جو آپ کو پسند ہوں گی۔ انہی کو قبول کر لیں ۔اسں طرح دو دو مل کر چار یا تین تین مل کر چھ خوبیاں بن جائیں گی۔ اس طرح ایک دوسرے کی خوبیاں اپناتے جائیں اور خامیاں بھلاتے جائیں تو زندگی کا سفر سہانہ ہو جائے گا۔

ایک تحریر پڑھی تھی جس میں اس رشتے کی مثال جوتوں سے دی گئی تھی۔ کہ اگر میاں بیوی خود کو دایاں جوتا ہی سمجھیں گے تو اندازہ لگائیں انہیں پہن کر چلنا کتنا مشکل ہو جائے گا۔ تو ہم نے اپنی سہیلی سے پوچھا کہ آپ کے اور دلہا بھائی کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے آپ لوگوں نے زندگی کے 35,36 سال کیسے ساتھ گزارے تو اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا وہ خود کو دایاں (صحیح) اور مجھے بایاں(غلط)سمجھتے ہیں اور یہی حال میرا ہے میں اسے بایاں خود کو دایاں سمجھتی ہوں۔ اس طرح کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔بھئی جوڑی جوڑی ہوتی ہے دایاں ہو یا بایان اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
اسی طرح یہ سوال سامنے رکھتے ہوئے میں نے ایک بیٹی سے پوچھا (کیونکہ اسے بھی اسی کے مزاج کا زوج اگر ملتا ہے تو ہاں کرے گی ورنہ خود کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتی) کہ بیٹا تم ہر چیز کو اپنے مزاج کے جیسا چاہتی ہو یہ نہیں ہو سکتا ۔ایک تو تم خود کو دایاں ہی سمجھتی ہو تو تمہارے لیے کسی’ بایاں ‘ ہی کو ڈھونڈھنا پڑے گا اس نے کہا “میرے جیون ساتھی کو خود کو دایاں ہی رکھنا ہو گا ویسے بھی مجھے ایک دوسرے سے ذیادہ مطابقت رکھنے کی وجہ سے کھسوں کی جوڑی پسند ہے ۔۔۔جنھیں پہن کر میں آسانی سے چل سکتی ہوں بس مزاج میری طرح دایاں ہی ہونا چاہیے۔

یہی سوال کسی نے مجھ سے بھی کیا کہ آپ دونوں میاں بیوی کے مزاج میں بھی تضاد ہے تو آپ نے زندگی کی گاڑی کو کیسے آگے چلایا؟ تو میرا جواب یہی تھا کہ میرا معاملہ الگ نکلا۔۔ مجھے میرے سرکار نے ہمیشہ دایاں سمجھا اور دایاں رکھا۔ پہلے میں بھی چاہتی تھی کہ وہ دایاں بن جائے اور مجھے بایاں رکھے۔ لیکن وہ پہلے ہی دستبردار ہوگئے اور کہا کہ میں جذباتی ہوں ،غصہ بھی جلد آجاتا ہے لہٰذا سب کچھ آپ ہی نے سنبھالنا ہے ،میری خامیوں کو صبر سے اور خوبیوں کو شکر سے اپنا لیں ۔تو ان کی یہ نصیحت میں نے پلو سے باندھ لی۔ کیونکہ ہمیں بتایا اور سمجھایا گیا تھا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کو خامیوں ،خوبیوں سمیت قبول کر لینا چاہیئے۔ اس کے بعد مجھے یاد نہیں ہڑتا کہ انہوں نے مجھے کوئی نصیحت کی ہو اور الحمدلله آج تک ساتھ نبھا رہے ہیں ۔ایسا نہیں کہ ہماری زندگی میں کوئی پریشانیاں نہیں آئیں۔۔ بہت آئیں لیکن ہمیشہ درگزر سے کام لیا۔(اور اس میں پہل ہمیشہ انھی کی طرف سے ہوا) ۔کیونکہ اس رشتے کو الله تعالیٰ نے اتنا دلچسپ بنایا ہے کہ اس میں کئی بار ایک دوسرے سے نفرت تو بار بار محبت ہو جاتی ہے۔۔ اسی طرح یہ گاڑی چلتی ہوئی امن کی وادی تک پہنچی۔ الحمدلله

چھوٹی موٹی رنجشوں کو بھلا کر میاں بیوی کو ایک دوسرے سے بار بار محبت کرتے ہوے زندگی کے سفر میں گامزن رہنا چاہیے۔۔
میاں صاحبان کو چاہیے خود کو دایاں رکھنے کی کوشش کریں اگر بیوی دایاں ہے تو کھسے پہن کر آسانی سے چلا جا سکتا ہے۔اور تھوڑی سے فراخ دلی کا مظاہرہ کر کے بیوی کی تعریف کر لیا کریں کسی بھی کام کی،قسم لے لیں پھر اسے کوئی بھی مشکل وقت تھکا نہیں سکتی۔اور بیویاں خود کو دایاں ہوتے ہوئے بھی بایاں تسلیم کرلیں اور اپنے میاں کے امدن کے مطابق اپنی خواہشات رکھیں ،چھوٹی موٹی کوئی بھی چیز وہ لا کر دے اس کی قدر کریں۔اگر آگے چلنا ہے تو۔۔۔

بعض میاں حضرات کو شکایت ہوتی ہے کہ اسکی بیوی میں فلاں فلاں کی بیوی کی جیسی قابلیت یا صلاحیت نہیں ہے۔۔ اور بیویوں کو شکایات ہوتی ہیں کہ ان کے میاں فلاں فلاں کے میاں جیسے محبت اور قدر کرنے والے نہیں ہیں۔ تو اس کا آسان سا حل یہ ہے کہ آپ نے خود کو اس مثالی کردار (جس کی مثال آپ کے زوج دیتے ہیں) کی طرف بنائیں پھر دیکھیں شکایتیں کیسے دور ہوتی ہیں۔

یہ سب کہنے اور لکھنے کا مطلب ہے کہ اپنی سوچ بدلیں ،زوج نہیں ۔جب سوچ کا معیار بدل جائے گا تو زوج خود بخود آپ کے معیار پر پوری اترے گی ان شاءالله


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
85254