Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 دوائے دل – 8فروری کے انتخابات – نتائج اور مضمرات – از: مولانا محمد شفیع چترالی 

Posted on
شیئر کریں:

 دوائے دل – 8فروری کے انتخابات – نتائج اور مضمرات – از: مولانا محمد شفیع چترالی

تمام تر اندیشوں، خدشات، تحفظات اور مشکلات کے باوجود ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کا مرحلہ گزر گیا اور اللہ کا شکر ہے کہ الیکشن کے دن ملک کے کسی حصہ میں دہشت و گردی و تخریب کاری یا سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم کا کوئی بڑ ا واقعہ پیش نہیں آیا۔ نگران حکومت، سیکورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کو اس بات کا بہرحال کریڈٹ دیا جانا چاہیے کہ مشکل اور نا موافق حالات میں بھی ملک بھر میں کسی بڑی افراتفری کے بغیر الیکشن کا انعقاد ممکن بنایا گیا اور مجموعی اعتبار سے پر امن ماحول میں انتخابات منعقد ہوئے۔

جہاں تک انتخابات کے نتائج اور ملک کے سیاسی مستقبل پر ان کے اثرات کا تعلق ہے تویہ امر بالکل واضح ہے کہ8فروری کے الیکشن کے بعد ملک کے سیاسی افق پر گزشتہ کئی برسوں سے چھائے بے یقینی کے بادل چھٹ جانے کی بجائے مزید گہرے اور دبیز ہوگئے ہیں۔ انتخابات سے پہلے بہت سے قومی حلقے یہ توقع ظاہر کر رہے تھے کہ الیکشن کے بعد ملک میں واضح مینڈیٹ والی ایسی مضبوط حکومت بن جائے گی جو ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر انداز میں کام کرسکے گی، ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے اقتصادی ترقی اور معاشی نظم و نسق کی بہتری کے لیے جو ایک روڈ میپ بنایا گیا ہے، اس کو آگے بڑھاکر مہنگائی میں کمی لائے جائے گی اور عوام کو ریلیف دیاجائے گا مگر انتخابی نتائج کی روشنی میں جو منظر نامہ تشکیل پارہا ہے، اس میں ایک منقسم اور پیچیدہ مینڈیٹ سامنے آیاہے اورشاید ابھی اس بات کا تعین ہونے میں کئی روز لگ جائیں کہ ملک کا مستقبل کس جماعت یا اتحاد کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس بات کا قوی خدشہ موجود ہے کہ مقتدرہ اور پی ٹی آئی کے درمیان کشاکش بڑھے گی، پی ٹی آئی حکومت تو شاید نہیں بناسکے گی تاہم قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں بھر پور مزاحمت اور ہنگامہ خیزی کے لیے موجود رہے گی اور پی ڈی ایم پلس کی حکومت بننے کی صورت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زور کی معرکہ آرائی دیکھنے کو ملے گی جو ظاہر ہے کہ اچھے نتائج نہیں دے گی۔

8فروری سے پہلے عام خیال یہ تھا اور بہت سے سیاسی مبصرین اس پر متفق تھے کہ مقتدرہ کی واضح حمایت کے تاثر کی بنا پر مسلم لیگ ن اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئے گی اور ایک دو چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملاکر اقتدار سنبھال لے گی لیکن 8فروری کو رات گئے جب ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے تو ایسا لگا کہ 2018 ء کی طرح اس بار بھی ”سونامی“ کی لہر آگئی ہے اور سب کچھ اس لہر کی زد میں آنے والا ہے، تاہم اگلے روز جب افق سے ”دھند“ چھٹنے اور پارٹی پوزیشن واضح ہونے لگی تو یہ بات سامنے آگئی کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کرلی ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی بھی قابل ذکر تعداد میں سیٹیں آئی ہیں اور اگر وہ چاہیں تو بآسانی مل کر حکومت بنا سکتی ہیں۔ اس طرح انتخابات کے بعد روایتی سیاسی جوڑ جوڑ اور خرید وفروخت کا دورازہ ایک بار پھر کھل گیا ہے۔ میاں صاحب لاہور میں اور زرداری صاحب اسلام آباد میں ڈیرہ جمائے ہوئے آزاد ارکان کی ”وصولی“ یقینی بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بادیئ النظرمیں چونکہ انتخابی نتائج پاکستانی سیاست کے ”کارکنان قضا و قدر“ کے ”بندوبست“ کے بر خلاف آئے ہیں، اس لیے اب ان کو بھی نئی حکومت کا ناک نقشہ تراشنے میں قدرے دقت کا سامنا ہے تاہم معاملات ان کے قابو سے باہر نہیں ہیں اور وہ بدستور اپنے ”کام“ میں لگے ہوئے ہیں۔

انتخابی نتائج میں پی ٹی آئی کے حق میں جو ایک واضح رجحان سامنے آیا، اس کی بیشتر مبصرین بلکہ شاید خود پی ٹی آئی کے حامی تجزیہ نگاروں کو بھی توقع نہیں تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کے لیے ”خلائی مخلوق“ کی ضرورت سے زائد پھرتیوں، عجلت میں سنائے جانے والے بعض عدالتی فیصلوں اور 9مئی کے واقعات کی آڑ میں پکڑ دھکڑ کی منتقمانہ نوعیت کی کارروائیوں نے عوام میں اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں منفی ردعمل کو جنم دیا ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں نے اس کا غصہ ووٹ کے ذریعے اتارا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق پی ڈی ایم پلس کی سولہ ماہ کی حکومت کی ناقص کارکردگی اور ناقابل برداشت حد تک بڑھتی ہوئی مہنگائی نے بھی عام آدمی کو ووٹ کی صورت میں دل کی بھڑاس نکالنے پر مجبور کیا۔

راقم الیکشن سے ایک ہفتہ قبل پشاور میں تھا، وہاں عام لوگوں سے گفتگو کے دوران یہ محسوس ہوا کہ لوگوں میں عمران خان کے ساتھ اچھی خاصی ہمدردی موجود ہے، اس کی ایک وجہ تو عمران خان کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں ہیں اور دوسری وجہ یہ سامنے آئی کہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے صحت کارڈسہولت سے بہت سے غریب لوگوں کو فائدہ ہو رہا تھا اور نگران حکومت کی جانب سے اس سہولت کی بندش سے لوگ سخت ناراض تھے۔ اب ظاہر ہے کہ ایک عام آدمی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ صحت کارڈ جیسے منصوبوں سے صوبے کا قرضہ کس انتہا تک پہنچ گیا ہے اور کس طرح خود پی ٹی آئی حکومت آخری دنوں میں ملازمین کو تنخواہیں دینے سے قاصر نظر آنے لگی تھی۔

بہرحال وجہ جو بھی ہو، یہ حقیقت ہے کہ 8فروری کے انتخابات میں پڑنے والے ووٹ پر شعور اور اجتماعی دانش کی جگہ غصے اور بھڑاس نکالنے کا عنصر غالب نظر آتا ہے اور اسے بد قسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارا سماج حکمت و بصیرت اور دور اندیشی کی بجائے ردعمل کی نفسیات کے تحت ہی فیصلے کرنے کا عادی ہوگیا ہے جس کے اثرات ہماری معیشت، سیاست سے لے کر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک اس خبر میں دیکھی جاسکتی ہے کہ غیر متوقع انتخابی نتائج سامنے آنے پر پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی اورسرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔ عالمی ادارے حکومت سازی میں تاخیر اور سیاسی تعطل کی صورت میں ملکی معیشت پر شدید منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ اب یہ ہمارے مقتدرین اور سیاسی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ ملک کو کسی سیاسی بحران کا شکار ہونے سے بچانے اور ملک میں سیاسی افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو پاتے ہیں۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک وقوم کی قیمت پر ذاتی اناؤں کی جنگ لڑنے سے گریز کیا جائے، زمینی حقائق اور رائے عامہ کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے حتی الامکان مفاہمت پر مبنی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت سازی کے عمل کے دوران خریدوفرخت اور وزارتوں کے لیے بھاؤتاؤ کے تاثر کو سختی سے روکا جائے اور سیاسی استحکام لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔

8 فروری کے انتخابات میں ملک کی دینی جماعتوں کو مجموعی طور پر اور پارلیمانی قوت کے حصول کے اعتبار سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے جو ملک کے محب وطن دینی حلقوں کے لیے سخت افسوس اور تشویش کا باعث ہے۔ یہ امر تو اپنی جگہ قابل لحاظ ہے کہ اس الیکشن میں دینی جماعتوں کے مجموعی ووٹ بینک میں لاکھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے پی کے اور بلوچستان کی بیشتر قومی اور صوبائی نشستوں پر دوسرے نمبر پر رہی اور پی پی، مسلم لیگ اور اے این پی جیسی بڑی جماعتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، متعدد حلقوں میں جے یو آئی کو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں دوگنے ووٹ ملے ہیں۔ اس دفعہ جے یو آئی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ سندھ میں بھی خاصی پیش قدمی کی ہے، لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد، شکار پور، کشمور سمیت متعدد قومی اور صوبائی حلقوں میں پیپلز پارٹی کوٹف ٹائم دیا ہے اور کم از کم پانچ حلقوں میں دوتین ہزار کے مارجن سے ہاری ہے جہاں جے یو آئی رہنماؤں کے مطابق انہیں ہروایا گیا ہے۔ کے پی کے اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں جے یو آئی بہر حال دوسرے نمبر کی پارلیمانی قوت بن گئی ہے۔ اسی طرح کراچی میں جماعت اسلامی نے بھی متعدد حلقوں میں اچھا مقابلہ کیا ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ کراچی کے حقوق کے لیے دبنگ انداز میں آواز بلند کرنے والے ہمارے کرم فرما حافظ نعیم الرحمن پی پی پر گرجنے برسنے کے لیے صوبائی اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں تاہم اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دینی جماعتوں کو جتنی پارلیمانی قوت ملنی چاہیے تھی، وہ نہیں مل سکی۔

اس امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دینی قوتوں کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت اسمبلیوں سے باہر رکھنے کی سازش کی گئی ہو، جمعیت علماء اسلام پر انتخابات سے پہلے پے در پے حملے دینی جماعتوں کے ووٹروں کو خوفزدہ کرنے کی سازش کا حصہ ہوسکتے ہیں، ایک خیال یہ بھی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے حماس کے طوفان اقصیٰ آپریشن کی کھل کر حمایت اور قطر جاکر حماس قیادت سے ملاقات کے بعد شاید ان کی سیاست کے گرد سرخ لکیر کھینچ لی گئی تھی۔ بعض حلقوں بالخصوص اندون سندھ اور کراچی میں پی پی اور ایم کیو ایم کی جانب سے خاص طور پر دینی جماعتوں کے خلاف دھاندلی کے بھی بہت سے شواہد سامنے آئے ہیں جن کی تحقیقات ہونی چاہئیں تاہم بہت سے مبصرین کے مطابق دینی جماعتوں میں اتحاد کا فقدان، ایک دوسرے کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کی روش بھی اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کے پی کے، جھنگ، بلوچستان اور کراچی میں متعدد ایسے حلقے تھے جہاں دینی جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں آنے کی وجہ سے ہار گئیں، کئی حلقوں میں ایک ہی جماعت کے کئی دھڑے ایک دوسرے سے نبردآزما رہے، کئی حلقوں میں ٹکٹوں کی غلط تقسیم اور ناقص انتخابی مہم کی وجہ سے شکست ان کا مقدر بنی۔ اس لیے دینی جماعتوں کو مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کا کڑوا گھونٹ بھی پی لینا چاہیے اور8 فروری کی ناکامی سے آیندہ کے لیے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

 


شیئر کریں: