Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جماعت اسلامی کا سیاسی المیہ – خاطرات: امیرجان حقانی

Posted on
شیئر کریں:

جماعت اسلامی کا سیاسی المیہ – خاطرات: امیرجان حقانی

ہمارے جماعت اسلامی کے دوستوں کا ایک خطرناک المیہ ہے. جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے الخدمت فاؤنڈیشن اور ریڈ فاونڈیشن سکولز چلتے ہیں.
ریڈ فاؤنڈیشن سکولز ایک بہترین بزنس ہے. دوسرے پرائیویٹ سکولوں سے ریڈ فاؤنڈیشن سکولز کی فیسیں زیادہ ہیں. مثلاً ریڈ فاؤنڈیشن سکول گلگت اور پبلک سکول اینڈ کالج گلگت اور اقراء روضۃ الاطفال سکول گلگت کے فیسوں کا تقابل کیا جائے تو ریڈ فاؤنڈیشن سکول کی فیس زیادہ ہے جبکہ پبلک سکول اینڈ کالج اور اقراء روضۃ الاطفال کی فیسیں کم ہونے کے ساتھ معیار بہتر ہے. تاہم ریڈفاؤڈیشن سکولوں میں یتیم بچوں کی ٹیوشن فیس نہیں لی جاتی اور کتابیں اور یونیفارم بھی فری میں دی جاتی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ فنڈ رائزنگ کی محفلیں منعقد کی جاتیں ہیں اور لوگ کفالت کی پوری سکیم لیتے ہیں اور بچے کی تعلیم اور دیگر اخراجات ذمے لیتے ہیں.
اسی طرح الخدمت فاؤنڈیشن رفاہی کاموں میں بہت آگے ہے. اس کا اعتراف ہر ذی شعور اور باخبر کرتا ہے اور دنیا جہاں سے فنڈ رائز کیا جاتا ہے. لوگ اعتماد کرتے ہیں اور الخدمت والے بھی ہمہ وقت ایکٹیو رہتے ہیں.
ان کا سیاسی المیہ یہ ہے کہ یہ حضرات ریڈفاؤڈیشن سکولز اور الخدمت کی کاوشوں  اور دیگر رفاہی کاموں کو سیاست اور ووٹ سے جوڑ لیتے ہیں.
یہ آپ ذہن میں رکھے کہ پاکستان کی کوئی پارٹی یا فرد آپ کے رفاہی کاموں سے انکاری نہیں.
اگر رفاہی کاموں سے ووٹ ملنا ہے تو پھر الخدمت سے زیادہ آغا خان فاؤنڈیشن، ایدھی ویلفیئر، سیلانی ٹرسٹ، وغیرہ کو ملنا چاہیے. اگر تعلیمی اداروں کے نام پر ووٹ ملنا چاہیے تو پھر اقراء روضۃ الاطفال، AKES، وفاق المدارس وغیرہ کو ملنا چاہیے.
آپ ایک کام کیجئے. اگر آپ نے پاکستان کی مروجہ جمہوری پارلیمانی سیاست کرنی ہے. اور بہرحال اقتدار حاصل کرنا ہے تو آپ پاورپالٹیکس بیٹھ کر سیکھ لیں. آپ سیاسی طور پر ہر بار کسی نہ کسی کے پیٹ و پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں اور کسی کی گود میں گرتے ہیں
یہ تاریخ بہت لمبی ہے. اور اتفاق سے اس کو سیاست بھی کہتے ہو اور عبادت بھی.
او میرے پیارے جمیعتیو!
آپ کا یہ والا اسٹائل نہ سیاست ہے نہ عبادت. انتہائی پارلیمانی الفاظ میں آپ کے طریق واردات کو ڈھکوسلہ کہا جاسکتا ہے. آپ ہمیشہ ایک ایکسٹریم پر کھڑے ہوتے ہیں. آپ ساتھ دیں تو پیپلز پارٹی کی حمایت اور دشمنی پر آئیں تو بھٹو کی پھانسی میں فریق بنتے ہو.
آپ ماننے پر آئیں تو مولانا فضل الرحمن کو سیاسی لیڈر مانتے ہیں اور مخالفت میں آیے تو مولانا اور اس کی جماعت کی آڑ میں دیگر اکابر علماء تک کی بھی توہین کرتے ہو. اور سیاسی اتحاد کرنا ہوتو نواز شریف کے دروازے پر دستک دیتے ہو اور مخالفت پر آئے تو اس کو عدالت سے ڈس کوالیفائی کروانے میں “مرد مجاہد” کا کردار ادا کرتے ہو.
آپ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ کیمپ میں جانا چاہو تو ضیاء الحق کو امیرالمومنین مانتے ہو اور پھر دور ہوجاؤ تو اسی اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیتے. آپ کی عجیب و غریب سیاسی یتیمی پر مشتمل تاریخ بہت طویل ہے.
غرض آپ کا ہر سیاسی جماعت کے ساتھ یہی رویہ ہوتا ہے.
آپ ہی بتاؤ! آپ نے کس کے ساتھ جوڑ رکھا ہے؟ اور کس کو زک نہیں پہنچایا؟
اگر آپ نے پارلیمانی سیاست میں بہترین انٹری دینی ہے تو کچھ کام کیجئے اور کچھ سے مستقل گریز کیجئے.
اپنا سیاسی مائنڈ سیٹ چینج کیجئے. شوری کے نام پر غیر جمہوری اور زمینی حقائق سے نظریں نہ چرائیں.اور سیاسی نرگسیت سے باہر آجائیں. زمینی حقائق کو بہر حال فوکس کریں . پاور پالیٹکس سیکھیں. قومی ریاستی نظم کے اندر اپنے خوامخواہ کے گلوبل ایجنڈے سے باہر آجائیں. جے یو آئی کے نہیں تو انڈونیشیا کی نہضۃ العلماء کے منہج ہی کو دیکھ لیں اس باب میں.
افغان و کشمیر جہاد، الخدمت کے رفاہی کاموں، ریڈ فاؤنڈیشن سکولز اور دیگر خدمات کو پارلیمانی سیاست اور پاور پالیٹکس کے درمیان نہ لائیں اور نہ ہی ان کے نام پر ووٹ مانگیں. اور نہ ہی ان کو کاموں کو برتری کے لئے بطور پروپیگنڈہ پیش کریں.
نامور علماء اور دینی طبقات کی مخالفت سے گریز کریں. اور سیاست میں عقائد کو درمیان میں کھبی نہ لائیں.
سیاست میں مذاکرات اور اتحاد کے لئے ایک کھڑکی ہمیشہ کھلی رکھیں. ہر ایک سے خدا واسطے کی دشمنی سے سیاست نہیں ہوتی اور نہ ہی دوستی کے جھال میں لیٹا لیٹی شروع کریں. بلکہ اعتدال کیساتھ حدود میں رہیں.
اور نہ ہی اتحاد میں اتنا آگے جائیں کہ نزع کے عالم میں بھی عمران خان کے در پر سیاسی یتیم بن کر حاضری دیں.
اسٹیبلشمنٹ کے نہ اتنا قریب جائیں کہ ضیاء اور مشرف کی بی ٹیم بن جائے اور نہ ہی طاقتور اداروں سے اعلان جنگ کیجئے.
 یاد رہیں!
اگر آپ بطور سیاسی جماعت مستقبل میں یہی کچھ کرتے رہے تو مزید 82 سال میں بھی  کسی صوبہ یا مرکز میں حکومت نہیں بنا سکیں گے. آپ زیادہ سے زیادہ رونا دھونا، احتجاج کرنا اور پریشر گروپ ہی زندہ رہ سکتے ہیں.
فیصلہ آپ خود کیجئے.

شیئر کریں: