Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ خیبر پختونخوا کے وسا ئل ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

داد بیداد ۔ خیبر پختونخوا کے وسا ئل ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

وسائل کا ذکر جہاں آتا ہے سب کا خیال قیمتی پتھروں کی طرف جا تا ہے، تیل اور گیس کی طرف جا تا ہے، لو ہے، تانبے، یو رینیم، سونے اور سنگ مرمر سمیت 63معدنیات کی طرف جا تا ہے انسانی وسائل کا ذکر کوئی نہیں کر تا عالمی سطح کے پختون انجینر اور میٹریل انجینیئر نگ میں نا م پیدا کرنے والے پرو فیسر ڈاکٹر یا سین اقبال یو سفزی کے خیال میں سب سے اہم وسیلہ پتھر، تیل اور گیس نہیں بلکہ انسانی، دما غ، انسانی مہارت، انسانی عقل سے کام لینے والے نو جوانوں کا وسیلہ ہے ڈاکٹر یا سین اقبال کہتے ہیں کہ اگر پتھر، تیل اور گیس کی دولت سے کوئی ملک ترقی کر سکتا تو افریقی مما لک دنیا کے سب سے دولت مند ملک ہو تے، جی۔7اور جی۔ 8کے سربراہی کر نے والے یہی ہوتے مگر افریقی مما لک کا برا حال ہے، حا لا نکہ دنیا کی قیمتی معدنیات کا دو تہائی ان کے پا س ہے آج طاقت ور مما لک کون ہیں؟ وہ مما لک طاقتور ہیں جنہوں نے انسا نی وسائل اور افرادی قوت کو ترقی دے کر ٹیکنا لو جی حا صل کی دوسری جنگ عظیم میں جا پا ن تباہ ہوا تھا،

 

جنرل ڈوگلس میک آرتھر نے جا پا ن کو انسا نی وسائل کی ترقی، سائنس، انجینئر نگ اور ٹیکنا لو جی کا راستہ دکھا یا اور 10سالوں میں جا پان دنیا کی بڑی طاقتوں میں شامل ہوا معدنیات کی وجہ سے یہ کامیا بی نہیں ملی، ٹیکنا لو جی کی وجہ سے یہ کامیا بی نصیب ہوئی اور ٹیکنا لو جی انسانی وسائل کی بر کت سے ہا تھ آگئی ڈاکٹر یا سین اقبال یو سفزئی پختونوں کے معا شرے سے ایک مثا ل دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کسی گاوں میں دو بھا ئی تھے ایک حا دثے میں دونوں کی وفات ہوئی بڑے بھا ئی کے بیٹے نے باپ کی زمین فروخت کر کے شہر میں گھر لیا موٹر خریدی جب وہ بڑھا پے میں بیمار ہوا تو اس کے بچوں نے گھر بیچ دیا اب ان کے پا س کچھ بھی نہیں، چھوٹے بھا ئی کے بیٹے نے زمین پر سخت محنت کی، فصل اگائی، سبزیوں کی کا شت میں نا م پیدا کیا اور پھلدار درخت لگا کر پھل بیچنے لگا اس کی اولا د نے مزید زمین خرید کر جا ئیدا د میں اضا فہ کیا آج اس کی اولا د کا شمار کامیاب زمینداروں میں ہوتا ہے، بنیا دی فرق دونوں بھائیوں کی اولاد میں عقل اور دما غ سے کا م لینے یا عقل اور دما غ سے فارغ ہونے کا تھا بڑے بھائی کا بیٹا عقل اور دما غ سے فارغ تھا اس نے کوئی محنت نہیں کی زمین بیچ کر کھا نے کا آسان راستہ اختیار کیا اور افریقی مما لک کی طرح خوار ہوا،

 

چھوٹے بھائی کے بیٹے نے عقل، دما غ اور ہاتھ پاؤ ں سے کا م لیا، باپ کی جا ئیداد سے فائدہ اٹھا یا اس پر مزید اضا فہ کیا اور خو شحا ل ہوا خیبر پختونخوا کے وسائل کا کوئی حساب اور اندازہ نہیں، اس پر ما ہرین کی بڑی کتا بیں مار کیٹ میں مو جود ہیں ایمیزون میں بھی ملتی ہیں شمس مہمند کی کتاب حا ل ہی میں منظر عام پر آئی ہے، ڈاکٹر یا سین اقبال یو سفزئی کی کتاب ایمیزوں پر دستاب ہے خلا صہ کلا م یہ ہے کہ خیبر پختونخوا سے نا تراشیدہ پتھر، لکڑی، زمرد، یا قوت اور سنگ مر مر یا دیگر معدنیات با ہر نہیں جا نی چاہئیں بلکہ اپنے انسا نی وسائل کے ذریعے کا رخا نے لگا کر تیار مال ما رکیٹ کو دینی چاہئیے اگر مہمند اور بو نیر کا سنگ مر مر باہر بھیجا گیا ہے تو یہ ہمارا نقصان اور تاوان ہے اس کے مقا بلے میں دیر کوہستان اور چترال کی معدنیات اگر اب تک کا نوں اور پہا ڑوں میں محفوظ ہیں تو یہ ہمارا فائدہ ہے جب مقا می نو جواں انجینیروں کا گروپ میداں میں آئے گا توا ن معدنیات سے اپنے کا رخا نوں کا تیار مال بنا کر ما ر کیٹ میں لا ئے گا روز گار بھی مقا می لو گوں کو ملے گا منا فع بھی مقا می ابادی کا ہو گا خیبر پختونخوا ہ کے وسائل پر اس نقطہء نطر سے بات ہونی چاہئیے انسا نی وسائل اور افر دی قوت کو ہر معا ملے میں اولیت ملنی چاہئیے اس کے بغیر دیگر وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا یا جا سکتا ہے۔

 


شیئر کریں: