Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عمران خان کی سزا اور بلّے کا نشان نہ ملنے پر امریکا کا ردعمل سامنے آگیا

Posted on
شیئر کریں:

عمران خان کی سزا اور بلّے کا نشان نہ ملنے پر امریکا کا ردعمل سامنے آگیا

واشنگٹن( چترال ٹائمزرپورٹ) امریکا کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے جنرل الیکشن کے دوران تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونے اور ان کا انتخابی نشان بلّا نہ ملنے پر حکومتی موقف سامنے آگیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل سے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایک صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان میں دو دن بعد الیکشن ہیں لیکن سابق وزیراعظم اور مقبول رہنما عمران خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور انھیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔صحافی نے مزید کہا کہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے نشان کرکٹ بیٹ پر بھی پابندی ہے۔ امریکا جو ہمیشہ جمہوری اقدار اور آزادیء اظہارِ رائے کے لیے کھڑا رہا ہے پاکستان کے اس منظر نامے پر کیا موقف رکھتا ہے؟جس پر ترجمان امریکی وزارت خارجہ ویدانت پٹیل نے کہا کہ پاکستان کے انتخابی عمل کا کافی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمیں وہاں تشدد کے تمام واقعات اور پْرامن مظاہروں سمیت میڈیا بشمول انٹرنیٹ پر پابندیوں پر تشویش ہے۔امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ آزادیئاظہارِ رائے کی یہ خلاف ورزیاں پریشان کن ہیں۔ پاکستانی عوام بغیر کسی خوف، تشدد یا دھمکی کے اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے اپنی مستقبل کی قیادت کے انتخاب کے بنیادی حق کے استعمال کے حق دار ہیں۔ترجمان ویدانت پٹیل نے مزید کہا کہ امریکا ہمیشہ ایسا جمہوری عمل دیکھنا چاہتا ہے جو آزادیء اظہارِ رائے کے ساتھ تمام جماعتوں کو مکمل طور پر انتخابی عمل میں حصہ لینے کی سہولت فراہم کرتا ہو۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی امیدواروں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد(سی ایم لنکس)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی امیدواروں اور کارکنوں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دے دیا۔پی ٹی آئی نامزد امیدواروں کی انتخابی مہم کی اجازت اور ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست پر اسلام ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔شعیب شاہین اور علی بخاری ایڈووکیٹ کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے سماعت کی۔شعیب شاہین اورعلی بخاری کی درخواست پر چیف جسٹس عامرفاروق نے احکامات جاری کیے۔دوران سماعت وکیل شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ پولیس ہمارے سپورٹرز کو اٹھا کر کہتی ہے کہ پی ٹی آئی سے الگ ہوجاؤ، ہمارے لوگوں کو کہا جارہا ہے کہ کسی اورجماعت میں شامل ہوجاؤ۔شعیب شاہین نے کہا کہ فون کالز کر کے کہتے ہیں کہ اگرجلسہ کیا تو آپ کے خلاف پرچہ ہوجائیگا۔وکیل علی بخاری نے عدالت کو بتایا کہ جو الیکشن مہم اورجلسے ہونے تھے وہ تو ہوگئے، آج آخری دن ہے، ہمارے پولنگ ایجنٹس کو کالز کرکے ڈرایا جارہا ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ اگر اسلام آباد کی ماڈل پولیس یہ طرزعمل اختیار کرے گی تو پھر کیا امیج جائیگا؟الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس جتنی درخواستیں آئیں اْسی دن کارروائی ہوئی، الیکشن کمیشن نے آئی جی اسلام آباد کو معاملہ دیکھنے کا حکم دیا۔ایس ایس پی آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ 112 امیدواروں میں سے صرف دوکی جانب سے ایسے الزامات لگائیگئے ہیں جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تو ان کی ہی شکایات آنی ہیں ناں!ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ہم نے تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی ہے جس پر چیف جسٹس عامرفاروق نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا واقعی؟چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ یقینی بنائیں کہ کسی کارکن کو ہراساں نہ کیا جائے، آپ ذمہ داری لے رہے ہیں تو آپ کو اس بات کو یقینی بھی بنانا ہے، عوام کا اعتماد ہی سب سے اہم ہے، دانستہ طورپرلوگوں کو اٹھانا بالکل بھی مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ ذمہ دار افسر ہیں اس لیے آپ کو طلب کیا ہے، دوسری صورت میں ہم آئی جی اورسیکرٹری داخلہ کوطلب کریں گے، الیکشن کمیشن کو صاف، شفاف انتخابات کرانے ہیں۔عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ آپ تمام چیزوں کو اپنے اختیارات کے تحت کیوں نہیں دیکھ رہے؟ رات ٹی وی پر دیکھا ہے الیکشن کمیشن نے لاہور کی پریس کانفرنس کا نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ چھوٹا سا اسلام آباد ہے، یہاں آپ کارروائی کیوں نہیں کرسکتے؟ اب انتخابی مہم تو آج ختم ہوجائے گی۔وکیل علی بخاری نے کہا کہ پھر پولنگ ایجنٹس اٹھانے کا نیا مرحلہ شروع ہوگا۔عدالت نے ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

 


شیئر کریں: