Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ کا اجلاس،  صحت کی سہولیات کو منظم کرنے کے منصوبے اور متعدد بلوں کی منظٔوری دیدی، 

Posted on
شیئر کریں:

خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ کا اجلاس،  صحت کی سہولیات کو منظم کرنے کے منصوبے اور متعدد بلوں کی منظٔوری دیدی،

پشاور ( چترال ٹائمز رپوٹ ) خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ کا اجلاس منگل کی سہ پہر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری اور صوبے کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ کابینہ نے مختلف اداروں کے ساتھ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے معاہدوں پر مذاکرات کے لیے ٹرانزیکشنل ایڈوائزر/ لیگل کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی اور اس سلسلے میں صوبے کے ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو اختیار دے دیا۔کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2012 کے سیکشن 22-A سے استثنیٰ کی منظوری دی جس سے صوبائی محکمہ ثقافت اور سیاحت پی ٹی ڈی سی کی سترہ (17)جائیدادوں کو آؤٹ سورس کر سکے گا۔

 

کابینہ نے مسکان انسٹی ٹیوٹ سوات کے یتیم بچوں کے لئے 10 ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دے دی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیف سیکرٹری کی ہدایت پر ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نے مذکورہ ادارے کا دورہ کیا تھا اور اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ادارہ مہنگائی بالخصوص اشیائے خوردونوش کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہے اور انہوں نے یک وقتی گرانٹ کی تجویز دی تھی۔کابینہ نے امید سپیشل ایجوکیشن سکول پشاور کے لیے سالانہ سسپنس فنڈ/گرانٹ ان ایڈ کی فراہمی کے لیے 10 ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی۔ 2015-16سے صوبائی حکومت انسٹی ٹیوٹ کو گرانٹ ان ایڈ فراہم کر رہی ہے۔کابینہ نے پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ کے سیکشن 14(1) اور خیبر پختونخوا پروبیشن اینڈ پیرول رولز 2023 کے رول 11(2) کے تحت درے شہوار اور عمران ٹکر کو صوبائی پیرول کمیٹی کے ممبران بنانے کی منظوری دی۔ کابینہ نے مالاکنڈ ڈویژن میں معاونین قاضی کا اعزازیہ 1200 روپے فی ورکنگ ڈے سے بڑھا کر 2000 روپے کر دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کے نظام عدل ریگولیشن 2009 کے تحت مئی 2019 میں 104 قاضیوں کو 3 سال کی مدت کے لیے تعینات کیا گیا تھا،ان میں سے 74 کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد مزید 3 سال کی توسیع کر دی گئی تھی۔

 

کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ٹیسٹ/امتحانات میں باڈی سرچ ڈیوٹی کے لیے 600 روپے معاوضے کی منظوری دی۔ کابینہ نے تحصیل مالیاتی ٹرانسفر رولز 2023 کے رول 23 میں ترمیم کی منظوری دی، ترمیم سے خیبرپختونخوا مالیاتی ٹرانسفر رولز 2023 مزید مستحکم اوربجٹ اور آڈٹ کو قانونی تحفظ فراہم ہو گا۔کابینہ نے بورڈ آف ڈائریکٹرز آف واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی (WSSC) مردان کیلئے سید محمد جاوید، دلاور فرحان شمس، ظاہر شاہ اور انجینئر قیصر زمان کے ناموں کی منظوری دی۔ کابینہ نے محمد ایوب کی بطور چیف ایگزیکٹو آفس ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی (KPT&GSE) تقرری کی منظوری دی۔ نگراں کابینہ نے کمشنر پشاور زبیر خان کو چیف ایگزیکٹو پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) کے عہدے کا اضافی چارج دے دیا اور متعلقہ حکام کو مذکورہ تنظیم کے مستقل سی ای او کی تقرری کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ کابینہ نے زرعی یونیورسٹی کی طرف سے امیر محمد خان کیمپس مردان کے لیے 7.87 بلین روپے (20.07.2022 تک) کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے بڑھے ہوئے معاوضے کی ادائیگی کے معاملے کو موثر انداز میں دیکھنے پر سیکریٹری زراعت کی کارکردگی کو سراہا۔کابینہ نے ڈائریکٹوریٹ جنرل لاء اینڈ ہیومن رائٹس کے عملے کے ساتھ سالیسٹر آفس کو قانون پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کے امور کے دفتر میں منتقل کرنے کی منظوری دی۔ شفٹنگ سے عدالتی معاملات اور قانونی چارہ جوئی کو بروقت نمٹایا جائے گا۔

کابینہ نے بورڈ آف ڈائریکٹرز سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ (SIDB) کی تشکیل نو کی منظوری دی۔ بورڈ کی میعاد SIDB ایکٹ 1972 کے مطابق تین سالہ مدت پوری ہونے پر ختم ہو گئی تھی، اس لیے اس کی تشکیل نو کی گئی۔کابینہ نے صحت کی سہولیات کو منظم کرنے منصوبے کی منظوری دی۔کابینہ نے پابندی میں نرمی کرتے ہوئے فاٹا ٹریبونل کے چیئرمین اور ممبران کے نئے اخراجات کے شیڈول کی منظوری دی۔ پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر ٹربیونل کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جبکہ اس کے چیئرمین اور ممبران کا بھی تقرر کیا گیا تھا لیکن نئی آسامیاں بنانے پر پابندی کے پیش نظر اس میں خصوصی نرمی کی ضرورت تھی۔

کابینہ نے خیبر پختونخواہ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کیلئے 26.22 ملین گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی۔ کابینہ نے خیبر ضلع کی راجگال وادی تیراہ میں نان اے ڈی پی سکیم کے طور پر پولیس چوکی کے قیام کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کو نوٹری پبلک کا ریکارڈ رکھنے اور چیک کرنے کی اجازت دی۔ کابینہ نے ذیشان پرویز کی بطور چیف ایگزیکٹو اور محمد طارق، محمد خلیق، سعید الرحمٰن اور رحم بی بی کی بطور ممبربورڈ آف ڈائریکٹرز ڈبلیو ایس ایس سی سوات کی منظوری دی۔ کابینہ نے محکمہ زراعت کی رسائی کو بڑھانے کے لیے کسانوں کی رجسٹریشن کو ڈیجیٹل کرنے کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے خیبر اور کرم کے نئے ضم شدہ اضلاع میں دو نئے منظور شدہ ایکسائز پولیس اسٹیشنز کو فعال بنانے کے لیے آسامیاں بنانے کی منظوری دی۔

 

کابینہ نے لا آفیسرز کی تنخواہوں میں 1000 روپے کے حساب سے اضافے کی اجازت دے دی۔ کابینہ نے میاں گل عبدالحق جہانزیب کڈنی ہسپتال سوات کے لیے پہلے سے خریدی گئی اراضی کی مد میں نان اے ڈی پی اسکیم کے لیے اضافی لاگت اور کیڈٹ کالج سراروغہ اور کیڈٹ کالج وانا جنوبی وزیرستان کے لیے نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری دی۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2022 کے سیکشن 3 کے تحت انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی شرح میں اضافے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، خیبرپختونخوا میں ڈیپوٹیشن پر سرپلس ڈائریکٹر (BPS-19) اجمل خان کی خدمات کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے ضلع ہنگو تھل کے رئیسان میں پل کا نام کیپٹن فہیم عباس شہید پل (جو 5 مئی 2021 کو جنوبی وزیرستان میں شہید ہوئے تھے) اور کٹوزئی روڈ شبقدر (ضلع چارسدہ) کا نام شہید ڈی ایس پی علامہ اقبال( جو صوابی میں ڈیوٹی کے دوران شہید ہوئے تھے)رکھنے کی منظوری دی۔


شیئر کریں: