Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے انتخابی مہم میں ہلچل- تحریر محمد عبدالباری 

شیئر کریں:

چترال کے انتخابی مہم میں ہلچل- تحریر محمد عبدالباری

خدا کرے میری عرض پاک پر اترے
وہ فضل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو..

 

الیکشن عین قریب ہے اور انتخابی مہم بھی عروج پر ہے ہر کوئی اپنی من پسند نمایندے کو جتانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
چترال کی ترقی کی صدائیں ہر سمت سے گونج رہے ہیں عام عوام تشویش میں مبتلا ہے کہ کس کے حق میں ووٹ ڈالیں کون اچھا اور کون برا۔۔۔۔۔ یہ سچ ہے کہ یہ بات خالق حقیقی ہی بہتر جانتا ہے اور اس میں کوئ شک نہیں کہ وہی ذات ہے جو دلوں کا مالک ہے اور زمین و آسمان میں چھپی ہوئی ہر چیز سے وہی ذات اقدس باخبر ہے۔

 

ووٹ ایک قومی فریضہ ہے اور ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنا ووٹ بہتر سے بہتر طریقے سے استعمال کرے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہر نمایندے کو یہ حق حاصل ہے اپنی کامیابی کے لیے ہر ممکن کو شش کرے مگر دستور پاکستان کے حدود میں رہتے ہوئے اور جہاں کی نمائندگی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو تو وہاں کی رسم و رواج اور روایات کی پاسداری کرتے ہوئے انتخابی مہم کو جاری رکھنا چاہیے۔

 

انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے گزشتہ چند دنوں سے چترال کے اندر جے یو ائی کی طرف سے انتخابی مہم انتہائی نامناسب طریقے سے چلایا جا رہا ہے جو کہ چترالی ثقافت اور روایات کو انتہائی حد تک متاثر کر رہا ہے۔

کیا جے یو ائی چترال میں کوئی ایسا بندہ نہیں ملا کہ جس کو ٹکٹ دیا جاتا؟
کیا کسی اور علاقے سے ایا ہوا بندہ چترال کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ہو پائے گا؟
کیا پیسے کا اس طریقے بے دریغ استعمال کرنا کئی اور سوالات کو جنم نہیں دے رہا ہے؟
جے یو آئی کا مخفف ہر خاصو عام کو معلوم ہے تو کیا اسلامی جمعیت علمائے اسلام کے نمائندے رشوت کے معاملے میں شرعی احکامات بھول گئے؟
رشوت کی تعریف یوں اچانک تبدیل کیوں کیا گیا؟
گذشتہ کئی دنوں میں جاری کئے جانے والے فتوے اور ماضی کے فتووں کے مابیں تضاد کا ذمہ دار کون ہو گا؟
عام عوام کے دلوں میں علمائے کرام کی عزت و احترام میں کمی کا ذمہ دار کون ہو گا؟
چترالیوں کے ساتھ یوں بھکاریوں والا سلوک کرنے میں چترال کے نمائندوں کو کبھی شرم محسوس کیوں نہیں ہوا؟
چند پیسوں کی غرض سے ضمیر بیچنے والے کیا کبھی ممبر نبوی میں بیٹھ کر عوام کی اصلاح کے لئے درس دے پائیں گے؟
یہی وہ تمام سوالات ہیں جن کے جوابات آج نہیں تو مستقبل میں انہی پیسہ کھانے والے جمیعت علمائے اسلام کے نمائندوں اور ان کے حمایتیوں سے طلب کیا جائے گا۔۔۔۔۔
لہٰذا آج عوام سے پرزور اپیل ہے کہ اپنے اور اپنی مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے اور اپنی مٹی سے محبت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ووٹ اس نمایندے کے حق میں استعمال کریں جس نے چترال کی خدمت کی ہو اور اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ وہ نمائندہ چترالی ہو تاکہ کل کو اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو آپ اس کا گریباں بھی پکڑ سکیں۔

شہزادہ افتخار الدین فرزند چترال ہیں اور ان کی خدمات بھی چترال کے لئے نا قابل فراموش ہیں تو لہٰذا ووٹ کا حقدار شہزادہ افتخار الدین ہی ہیں۔۔۔

 

 


شیئر کریں: