Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مزاحمتی نہیں اصلاحی تحریک – خاطرات: امیرجان حقانی

Posted on
شیئر کریں:

مزاحمتی نہیں اصلاحی تحریک – خاطرات: امیرجان حقانی

ضلع دیامر ایک طویل عرصے سے متنوع مشکلات کا شکار ہے. دیامر کے بعض علاقے بالخصوص داریل اور گوہرآباد قدیم زمانے سے مدنی زندگی گزار رہے تھے. لوگ بھی مدنی الطبع ہیں.انیسویں اور بیسویں صدی تک پورا جی بی اندھیرے میں تھا بالخصوص گلگت ریجن کے علاقے ہنزہ، نگر، گلگت اور غذر اور دیگر مقامات کے لوگ، راجاؤں، مہا راجاؤں اور دیگر  ظالم حکمرانوں کے شکنجے میں پھنسے ہوئے تھے. انہیں مڈل سکول تک کی سہولت نہیں تھی یا تعلیم کی ہی اجازت نہیں تھی ایسے میں داریل میں روحانی اور تعلیمی درسگاہیں ہوا کرتی اور چلاس اور گوہرآباد کے درجنوں لوگ ہندوستان کے بڑے تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ تھے.
پھر شہری زندگی نے پلٹا کھایا اور سماجی و ریاستی زندگی کا ڈھانچہ ہی بدل کر رہ گیا.
ہنزہ، غذر وغیرہ کے علاقوں میں پرنس کریم آغا خان کی تعلیمی شروعات اور ریفارمز کی وجہ سے ان کے پیروں اور معتقدین میں تعلیمی انقلاب آیا بشمول مرو و خواتین میں.
ان علاقوں کے، آج کے، 50، 60 سال کے تعلیم یافتہ اور بڑی نوکریوں اور عہدوں والے لوگوں کے والدین اور اجداد وغیرہ کھیتی باڑی اور چھوٹے چھوٹے ٹیکنیکل پیشوں سے منسلک تھے. اور راجاؤں کے رحم و کرم پر تھے.
پرنس کریم آغا خان نے ان علاقوں میں بالخصوص تعلیم اور خواتین امپاورمنٹ پر فوکس کیا اور سماجی تبدیلی کا یہ سفر ساٹھ ستر سالوں میں مکمل ہوا اور کل تک جو لوگ بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہا کرتے تھے ان کا لائف اسٹائل بدل گیا اور کل تک جن کے والدین سکول نہیں جاسکتے تھے آج وہ تعلیم اور جدید لائف اسٹائل کے رہنما کہلائے. اور مدنی الطبع اور عرف عام میں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوئے . ان علاقوں میں اگر پرنس کریم آغا خان کی ریفاہی اور تعلیمی تحریک نہ پہنچتی تو یہ لوگ آج بھی دنیا سے سو سال پیچھے ہوتے. وہاں کچھ مزاحمتی گروپس ضرور پیدا ہوئے مگر سماجی تبدیلی ان کی وجہ سے قطعاً نہیں آئی.
عمومی طور پر مزاحمتی اور مسلح تحریکیں وہاں اٹھتی ہیں جہاں ریاستی جبر ہو یا فیوڈلز اور سرمایہ داروں کی اجارہ داری اور استحصال و استیصال ہو.
دنیا میں ابھرنے والی اکثر مزاحمتی، مسلح اور خونی انقلابی تحریکیں ناکامی سے دو چار ہوئی ہیں، چند ایک کامیاب بھی ہوئی ہیں. تاہم ان کے سماج پر دو رس اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں.
 مزاحمتی تحریکوں میں اکثریت ریاستی ظلم و استحصال کے خاتمہ کے لئے وجود میں آئی ہیں، جبکہ دیامر میں ایسی کوئی صورت حال نہیں.
عموماً یہ تحریکیں  پورے سماجی نظام کو تبدیل کرکے متبادل نظام لانا چاہتی ہیں. اور اس کے لیے آخری حد یعنی خون خرابے تک جانا ہوتا ہے. ایسی کوئی سنگین صورتحال کا سامنا بھی نہیں ہے دیامر میں. ریاست کے تمام جمہوری و آئینی ادارے فعال ہیں جن کی گنجائش جی بی میں ہے. 1974 سے اب تک کی تمام لولی لنگڑی ہی سہی جمہوری و پارلیمانی امور و ایکٹیویٹز اور اسمبلیوں میں دیامر برابر شامل ہے.
بہت سی  مزاحمتی تحریکیں اشرافیہ اور جاگیردار اور نظریاتی آمریتوں کے خلاف ہوتی ہیں. اسکا بھی کوئی وجود نہیں دیامر میں. قبائل پر مشتمل متوسط طبقے کے لوگ ہیں اکثر.
 دیامر میں ایک مثالی معاشرے کے قیام کی ضرورت ہے جس کے لئے مزاحمتی، خونی انقلابی یا مسلح نہیں اصلاحی و فکری تحریک کی اشد ضرورت ہے.
عموماً یہ تحریکیں مسلح جدوجہد اور تشدد  و تعصب کے ذریعہ اپنے اہداف  حاصل کرنا چاہتی ہیں. یہ عموماً بادشاہت یا آمریت میں ہوتا ہے.یہ وہاں ہوتا جہاں ڈائیلاگ کے تمام دروازے بند ہوں. اور مکالمہ کی گنجائش ہی نہ ہو. کچھ تحریکیں جمہوری اور دستوری انداز میں اپنے اہداف و مطالبات کا حصول  چاہتی ہیں.
دیامر میں نہ بادشاہت و آمریت ہے اور نہ ہی جمہوری ایکٹیویٹز پر پابندی ہے.
دیامر میں ریاست پاکستان اور گلگت بلتستان کے تمام قوانین لاگو ہیں. ریاست بظاہر جبر  و استحصال نہیں قانون کی عملداری کی بات کررہی ہے. ریاستی ادارے بھی کسی قسم کا تشدد نہیں چاہتے. عدالتی نظام موجود ہے اور سرکار کے دیگر ادارے بھی. پھر کوئی  مسلح گروہ یا قبیلہ بھی موجود نہیں جو ریاستی رٹ کو چیلنج کریں اور نہ ایسا کرنے والوں کے حامی ہیں، بظاہر اگر دو چار بندوق بردار ہیں بھی تو ان کی حقیقت کیا ہے ہم سب جانتے ہیں. ان کو انتہائی پارلیمانی الفاظ میں اداروں کے “پروردہ” ہی کہا جاسکتا ہے . ان کے خلاف مزاحمتی تحریک کا سوال ہی نہیں ہوتا. ان کی نہ کوئی فکر ہے. نہ ان کے پاس دلیل ہے اور نہ ہی طاقت.
دیامر و کوہستان میں ریفارمز انتہائی آسان ہے. ایک مکتبہ فکر کے لوگ موجود ہیں جو بظاہر دین دار بھی لگتے ہیں. بدقسمتی سے ان کی دینداری چند عبادات پر منحصر ہے. تبلیغی جماعت نے لوگوں کو نماز کی حد تک پابند بنایا ہے. باقی کوئی اصلاح نہیں.
گلگت بلتستان کے تناظر میں اگر مثال سے تبدیلی کی بات سمجھایا جائے تو دیامر  اور کوہستان میں پرنس کریم آغا خان کی طرح کسی اہل سنت ریفارمر کی ضرورت ہے جو ان لوگوں کو ان کے مسلک و فقہ کی روشنی میں اصل دینی تعلیمات اور جمہوری اقدار سے روشناس کرائیں.
انہیں جدید تعلیم اور خواتین ایجوکیشن پر گامزن کرے اور غیر ضروری روایات و اقدار کو دلیل و برہان کی روشنی میں رد کرے. لوگوں کو میڈیا کے جملہ ٹولز کے استعمال سے ان فرسودہ روایات و مضر اقدار اور رواجات کی نفی کریں اور نقصانات بتلائیں اور انہیں یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جدید دور میں اسلامی و جمہوری اقدار ہی کے ذریعے کامیاب معاشرے تشکیل پاتے ہیں نہ کہ علاقائی اور قبائلی رسم و رواج اور بےکار اور لایعنی روایات سے.
اس کے لیے ایک کامیاب سماجی و اصلاحی رہنما کی ضرورت ہے جو پرنسپل کریم آغاخان کی طرح تعلیم اور فکر و نظر کے ذریعے ہی اپنے پیروں کاروں میں دھیرے دھیرے تبدیلی لائے نہ کی مزاحمت اور تشدد اور خونی انقلاب کے ذریعے.
اور تبدیلی لانے کے لئے ریاستی جبر بھی انتہائی نقصان دہ اور فساد پر مبنی ہے. اصلاح کا مطلب دینی و ریاستی نظم و باقاعدگی پیدا کرنا ہے. جس کے لئے سب سے بہترین طریقہ اصلاحی و فکری انقلاب ہی ہے.
دیامر و کوہستان کی سماجی بُنت اور ساخت ایسی ہے کہ ان میں تبدیلی لانے والا شخص بہترین دینی اور عصری تعلیم اور سالم فکر و نظر کا حامل ہو. روایتی علماء کے بس کی بات نہیں، اور یونیورسٹیوں کا جدید طبقہ بھی اپنی مخصوص ساخت و دانش کی بنا پر دیامر کوہستان میں سماجی تبدیلی نہیں لاسکتا. کیونکہ دیامر و کوہستان کا سماج آسانی سے اسکو قبول نہیں کرسکتا.
دیامر کے مولویوں اور اکثریتی عوام نے اپنے کلچر، روایات اور فرسودہ روایات کو ہی اسلام سمجھا ہوا ہے جس کی بنا پر وہ فکری اور اصلاحی ریفارمز نہیں کرسکتے.
دیامر میں اعمال میں اصلاح کے ساتھ افکار نو اور احیائی فکر کی تشکیل کی ضرورت ہے. طرز کہن پر اڑے ہوئے لوگوں کو آئین نو سے روشناس کرانا ہے. اس سے دیامر اور کوہستان میں سماجی و اسلامی پستی کا سبب  بننے والی آئیڈیالوجی ہی ختم نہیں ہوگی، بلکہ علم الکلام، فقہ اوراعمال و عبادات کے حوالے سے ایک نیا سانچہ وجود میں آجائے گا. اگر ایسا ہوا تو مادیت، قبائل پرستی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہوجائے گا.
دیامر کوہستان میں ریفارمز کے لئے ریاست، ریاستی کارپرداز اور سنجیدہ علمی و سماجی حلقوں کو اس منہج پر کام کرنے کی ضرورت ہے. اس فکر و عمل کے نفاذ و ترویج کے لئے ادارے اور تنظیمیں اور این جی اوز وجود میں لائے جاسکتے ہیں. جن کا دو ٹوک اور واضح ضابطہ اخلاق اور اہداف ہوں . اس کی تفہیم مثال کے ذریعے یوں ہوسکتی ہے کہ جیسے امام غزالی نے آسیب زدہ اسلامی افکار و خیالات کی اپنی فکری تحریک کے ذریعے تطہیر کی اور احیاء علوم الدین لکھی.اور اصلاح کا بیڑہ اٹھایا.
دیامر و کوہستان کے سماجی ڈھانچے کا جائزہ لینے کا بھی یہی کہا  جاسکتا ہے کہ ضلع دیامر و کوہستان میں اسلامی افکار و خیالات اور امور میں قبائلی کلچر، سوچ اور عمل کا جن سوار ہوا ہے اور خطرناک قسم کا آسیب نے حملہ کیا ہوا ہے. اس آسیب کے خلاف ایک شاندار فکری و اصلاحی تحریک بپا کی جانی چاہیے. ہندوستان کے تناظر میں ایسی اصلاح پسند عملی و فکری تحریک کو سرسید اور علیگڑھ تحریک سے تعبیر کیا جاسکتا اور گلگت بلتستان کے تناظر میں پرنس کریم آغا خان کی تحریک کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے. دیامر اور کوہستان میں تحریک بپا کرنے والا شخص اسی علاقے اور انہیں کا ہم خیال و مشرب ہوتو یہ اصلاحی تحریک کامیاب سے ہمکنار ہوگی.
بہر حال دیامر و کوہستان میں سماجی تبدیلی کے لئے کسی مزاحمتی، خونی انقلابی یا مُسلح تحریک کی ضرورت نہیں. صرف اور صرف فکری واصلاحی تحریک ہی کے ذریعے پرامن اور بہترین سماجی اصلاح اور تبدیلی ممکن ہے. اسی کے ذریعے ہی دیامر و کوہستان کی تعمیر و ترقی ممکن ہے.

شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
83052