Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گندم سبسڈی عوام اور حکومت – تحریر اقبال بجاڑ ۔ جی۔بی۔

شیئر کریں:

گندم سبسڈی عوام اور حکومت – تحریر اقبال بجاڑ ۔  جی۔بی۔

گلگت بلتستان میں قابل کاشت اتنی زمین نہیں جس سے یہاں گندم کی طلب پوری ہوسکے۔ تقریباً کی پوری گندم وفاق کی طرف سے مہیا کی جاتیہ ے۔ بھٹو نے اپنے دورہ گلگت بلتستان کے دوران یہاں کے عوام کے مطالبے اور اس وقت موجود حالات کے پیش نظر گندم کی ترسیل یعنی ٹرانسپورٹیشن پر سبسڈی دی تھی اس کے بعد ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت یہاں کے عوام کے لیے نہایت سستی قیمت پر گندم مہیا کی جاتی رہی۔ وفاق کی طرف اختیارات یہاں مشکل ہونے لگے تو یہاں بننے والی حکومتوں نے گندم سبسڈی کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کردی اور ان کے پاس گندم سبسڈی میں کمی کا کوئی معقول وجہ بھی نہیں ہوتی اور نہ اب ہے۔

گندم سبسڈی کو لیکر عوام اور صوبائی حکومتوں کی الگ الگ رائے ہے صوبائی حکومتوں کا کہنا ہے کہ گندم سبسڈی میں یہاں کے بجٹ پر بوجھ ہے۔ حالانکہ سبسڈی وفاق کی طرف ہے اور اس پر آنے والے اخراجات وفاقی حکومت ادا کرتی ہے دوسری طرف عوامی اکثریتی رائے ہے کہ گندم سبسڈی اس خطے کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے مل رہی اور حکومت یا وفاق ہم پر کوئی احسان نہیں کررہا ہے۔ گندم سبسڈی کو لے کر گلگ ت بلتستان میں شدید اور کامیاب احتجاج ہوئے ہیں شاید کہ کسی اور ایشو پر عوام اس طرح متحد ہوکر احتجاج کیا ہو۔

2013؁ء کے آخر میں گندم سبسڈی کے حوالے سے بننے والی کمیٹی نے 2014 میں عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے عوام کو متحد کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم میسر آیا ایسی پلیٹ فارم سے عوام کو متحد کرنے میں جس کا بہت اہم کردار رہا ہے وہ مولانا سلطان رئیس ہے۔ سلطان رئیس دھیمے لہجے کے شیف النفس اور ذہین انسان ہیں۔ کسی بھی موضوع پر مضبوط گرفت اور تقاریر میں ثانی رکھتے ہیں ان کی زیر سرپرستی عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت بلتستان میں حکومت کو اسمبلی سے باہر اپوزیشن کا ٹف ٹائم دیا اور اسی پلیٹ فارم سے سلطان رئیس نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا آپ نے حلقہ ایک سے صوبائی اسمبلی کے لیے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور دس ہزار سے زائد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ حالیہ صوبائی حکومت کی گندم سبسڈی کو ختم کرنے کے فیصلے نے اس ایشو کو دوبارہ زندہ کیا اور صوبائی کابینہ کے اس فیصلے نے گویا عوام پر بجلیاں گرادی۔ اس ایشو پر بات کرنے کے لیے مولانا سلطان رئیس سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا میں نے ان سے پہلے یہ سوال پوچھا کہ کیا گندم سبسڈی کو ہم اپنا حق سمجھتے ہیں کیا واقعی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے یہ ہمارا حق بنتا ہے اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گندم سبسڈی کے حوالے سے وفاق سے ہمارا کوئی تحریری فیصلہ نہیں ہاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے پاکستان یہاں کے عوام کو سبسڈی دینے کا پابند ہے اور انہی قوانین کی وجہ سے ہم گندم سبسڈی کو اپنا حق سمجھتے ہیں ان کا کہنا تھا ملک کی دیگر صوبائی حکومتیں اپنے صوبے کے عوام کے لیے وفاق سے سبسڈی مانگتے ہیں اور خود بھی سبسڈی دیتے ہیں لیکن ہماری حکومتوں کی نااہلی دیکھئے یہ عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ان کی لاعلمی کو دیکھ کر بندہ سر پکڑتا ہے۔ بقول ان کے عوامی ایکشن کمیٹی کے اندر انتشار اور دھڑا بندی کی ہر صوبائی حکومت نے کوشش کی لیکن ناکام رہے خریدنے کی کوشش کی ناکام رہے آخر ی Cridet سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو جاتا ہے جس نے عوامی ایکشن کمیٹی کو دھڑا بندی میں تقسیم کیا لیکن اس صوبائی حکومت نے گندم سبسڈی کو ختم کرکے عوامی ایکشن کمیٹی کو پھر متحد کیا اور انشاء اللہ ہم اس حوالے سے شدید قسم کا احتجاج کرینگے اور حکومت کو اس فیصلے کو واپس کرنے پر مجبور کرینگے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاق ہمیں ابن ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور واٹر اینڈ پاور محکمے کے ریونیو، دریا سندھ کی روانی اور سوسٹ پورٹ سے ہونے والی انکم کے ساتھ دیگر انکم کے ذرائع میں ہمیں حصہ دیں تو گندم سبسڈی کو شوق سے ختم کرے لیکن ان حقوق کے بغیر گندم سبسڈی کا خاتمہ یہاں کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی جو ہم ہر گز نہ ہونے دینگے۔

قارئین کرام مولانا سلطان رئیس صاحب سے اس گفتگو کے بعد یہ بات تو کسی حد تک سامنے آئی کہ گندم سبسڈی کے حوالے سے ہمارا کوئی تحریری فیصلہ نہ وفاق سے ہے اور نہ وفاق کا کسی عالمی ادارے سے ذوالفقار علی بھٹو نے بھی گندم کی ترسیل پر اٹھنے والے اخراجات پر سبسڈی دی تھی نہ کہ گندم پر۔ مووجدہ صوبائی حکومت کا گندم کی قیمت پر یکمشت اتنا اضافہ غیر دانشمندی ہے اور اپنے ہی عوام کے ساتھ ناانصافی ہمیں حقائق کو سامنے رکھ کر اس مسلہ وک حل کرنا ہوگا اگر صوبائی حکومت اپنے فیصلے کو انا کا فیصلہ بناتی ہے تو پھر پورے گلگت بلتستان میں نہ ختم ہونے والے احتجاجی مظاہرے ہونگے جس کو سنبھالنا صوبائی حکومت کے لیے مشکل ہوگا عوام اور حکومت دونوں کے حق میں اچھا نہیں اس لیے حکومت کو چاہئے اپنے فیصلہ کو نظرثانی کریں اور عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
82137