Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تمام سیاسی جماعتیں جلسے کررہیں، ایک پارٹی پر پابندی ہے: پشاور ہائیکورٹ

شیئر کریں:

تمام سیاسی جماعتیں جلسے کررہیں، ایک پارٹی پر پابندی ہے: پشاور ہائیکورٹ،

پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن غیرشفاف قرار

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں جلسے کررہی ہیں لیکن ایک پارٹی پر پابندی ہے، سیاسی جماعتوں کے جلسے پر ڈپٹی کمشنرز کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن ایک پارٹی درخواست دیتی ہے تو دفعہ 144 لگ جاتی ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کو کنونشن اجازت نہ ملنے پر توہین عدالت کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، ایڈووکیٹ جنرل اور درخواست گزار وکیل پیش ہوئے، ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز کا اجلاس ہوا ہے، اجلاس میں کنونشن اور جلسوں کے لئے ایس او پیز تیار کئے گئے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پہلے درخواست دینی ہوگی اور اس کے بعد ایس او پیز کے مطابق جلسے یا کنونشن کئے جاسکتے ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اب الیکشن ہورہے ہیں سب کو یکساں مواقع دینے چاہئیں۔وکیل درخواست گزار علی زمان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے متعدد بار درخواست دی لیکن اجازت نہیں دی جارہی جبکہ پشاور میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بڑا جلسہ کیا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ رپورٹ ہے کہ امن و امان کے سیریس تھریٹس ہیں، کچھ سیاسی پارٹیز اور رہنماؤں کو سیریس تھریٹس ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن پْرامن طریقے سے ہوجائیں، آپ اگر اس طرح ان رپورٹس کے پیچھے لگے رہیں گے تو پھر الیکشن نہیں ہوں گے۔وکیل درخواست گزار شاہ فیصل ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم درخواست دیں گے یہ ہمیں کل جلسے کی اجازت دیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ حکومت نے ایس او پیز بنائے ہیں اس کے مطابق آپ درخواست دیں، سڑک پر جلسے کی اجازت نہیں، کسی بھی سیاسی پارٹی کو سڑک پر جلسے کی اجازت دی گئی تو اس ڈپٹی کمشنر کے خلاف کارروائی کریں گے۔جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ جلسے کریں لیکن سڑکیں بند نہ ہوں، سیاسی پارٹیاں اپنا منشور پیش کریں، جسے ووٹ دینا ہے وہ ان کو ووٹ دیں، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ ایس او پیز کے مطابق حلف دیں کہ اداروں کے خلاف تقریر نہیں کریں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ ہمیں پھر بھی اجازت نہیں دیں گے۔عدالت نے کہا کہ ایس او پیز آگئے ہیں اور اب یہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، دفعہ 144 کی مدت ختم ہونے کے بعد آپ درخواست دیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جس وکیل نے کنونشن کے لئے درخواست دی اسے ہراساں کیا جارہا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس میں متعلقہ پولیس افسر کو آئندہ سماعت پر بلالیتے ہیں، آپ ایس او پیز کے مطابق درخواست دیں اور اداروں پر تنقید نہ کریں، عدالت نے سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی۔

 

پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن غیرشفاف قرار، 20 دن میں دوبارہ کرانے کا حکم

اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف دائر انٹراپارٹی کیس کا فیصلہ سنادیا۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کو غیرشفاف قرار دیتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے دیا۔کمیشن نے ہدایت کی کہ الیکشن کرانے کے بعد 7 دن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کی رپورٹ کمیشن میں جمع کرائی جائے۔20 دن کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں جائیں تب تک بلے کا نشان پی ٹی آئی کے پاس رہے گا، ورنہ واپس لے لیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے بہت افسوس ہوا، اس نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے یہ نہیں کہا تھا کہ پارٹی الیکشن آئین کے مطابق نہیں ہوئیبلکہ کہا تھا کہ دستاویزات پورے نہیں ہیں، ہم?الیکشن کمیشن کے انٹرا پارٹی الیکشن کیس کے فیصلے کوچیلنج کریں گے۔الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات متنازعہ تھے، وہ پارٹی آئین کے مطابق صاف شفاف الیکشن کرانے میں ناکام رہی، 22 جون کے پارٹی انتخابات کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔کمیشن نے کہا کہ ایک سال کا وقت دینے کے باوجود پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات منعقد نہیں کرائے، سیکشن 215 کے تحت 20 روز میں پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشنز کرائے، پی ٹی آئی 20روز میں الیکشن نہ کرانے پر انتخابی نشان کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے انتخابات کیلئے اہل نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ الیکشن کمیشن میں 2022 سے زیر التوا ہے، کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔ الیکشن ایکٹ کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی انتخابات کرانا لازم ہے۔

 

خاتون مسافر کی طبعیت خراب ہونے پر بھارتی طیارے کو کراچی میں لینڈنگ کی اجازت

کراچی(چترال ٹائمزرپورٹ)بھارتی ایئرلائن انڈیگو ائیر کی جدہ سے بھارت جانے والی پروازمیں ایک خاتون مسافر کی طبعیت خراب ہونے کے باعث طیارے کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر میڈیکل لینڈنگ کی اجازت دی گئی۔پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق طیارینے صبح 4 بجکر 15 منٹ پر کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔جدہ سے بھارت جانے والی پرواز میں سوار بھارتی خاتون مسافر جوہرہ بی کا طبی معائنہ کیا گیا تاہم وہ مردہ پائی گئی۔ طیارہ خاتون کی میت کو لے کر 6 بجکر 15 منٹ پر بھارت میں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

 

 


شیئر کریں: